Categories
شوبز

’عمران خان دو تہائی اکثریت کے ساتھ واپس آئیں گے‘بڑا دعویٰ کر دیا گیا

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے معروف اداکار شہروز سبزواری کا کہنا ہے کہ عمران خان ایک سچے لیڈر ہیں وہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ واپس آئیں گے۔ معروف اداکار شہروز سبزواری نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہت لوگ جو عمران خان کے

مخالف ہیں وہ بھی مان گئے ہیں کہ اب عمران خان مزید خطرناک ہیں کیونکہ اب وہ بہتر سیاست کریں گے۔ شہروز سبزواری نے کہا کہ عمران خان اقتدار میں واپس نہ آئے ایسا ہو نہیں سکتا، وہ دوبارہ اقتدار میں آئیں گے کیونکہ وہ سچے آدمی ہیں۔ اداکار نے مزید کہا کہ اگر انسان میں تھوڑی بھی غیرت ہے تو وہ عمران خان کو ہی فالو کرے گا۔ اس سے قبل شہروز کے والد اور سینئر اداکار بہروز سبزواری نے عمران خان کی کھل کر تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اگلی بار بھی انہیں ہی وزیراعظم دیکھ رہے ہیں۔ بہروز سبزواری کا کہنا تھا کہ میں عمران خان کو ذاتی طور پر جانتا ہوں وہ ایماندار ہیں۔

Categories
شوبز

سلمان خان اور شہناز گِل کی ویڈیو وائرل!!! سوشل میڈیا پر تہلکہ مچ گیا

ممبئی(ویب ڈیسک)بھارتی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار سلمان خان عرف سلو بھائی کی اداکارہ شہناز گِل کے ساتھ جوڑی کو خوبصورت قرار دے دیا گیا ہے۔گزشتہ شب سلمان خان کی بہن ارپیتا خان شرما کے ہاں شوبز انڈسٹری کے لیے عید الفطر کی خوشی میں پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔اس دوران سب سے زیادہ سلمان خان اور شہناز گِل نے میڈیا کی توجہ حاصل کی،

جَلد ہی فلم ’کبھی عید کبھی دیوالی ‘ میں مدِ مقابل نظر آنےوالی یہ جوڑی اس وقت نہ صرف بھارت بلکہ پاکستانی میڈیا پر بھی چھائی ہوئی ہے۔ سلمان خان اور پنجاب کی کترینہ کیف، اداکارہ شہناز گِل کا نام اس وقت پاکستانی ٹوئٹر پر بھی ٹاپ ٹرینڈ میں شامل ہیں۔سوشل میڈیا پر اس جوڑی کو مداحوں و انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے بے حد پسند کیا جا رہا ہے اور شہناز گِل کی سلمان خان کے ساتھ بھی چلبلی، بے باک حرکتوں کو خوب سراہا جا رہا ہے۔وائرل ہوتی ایک ویڈیو میں سلمان خان شہناز گِل سے کہہ رہے ہیں کہ ’ جاو پنجاب کی کترینہ کیف،‘ جس پر شہناز گِل کا ان کا ہاتھ تھامے کہنا ہے کہ ’چھوڑ کر آؤ مجھے۔‘ شہناز گِل اس ویڈیو میں میڈیا سے کہہ رہی ہیں کہ ’ابھی سلمان خان مجھے میرے گھر چھوڑنے جا رہے ہیں۔‘

Categories
شوبز

عامر خان کی بیٹی ایرا کونسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوگئیں؟؟

ممبئی: (ویب ڈیسک) بھارتی فلم انڈسٹری کے ”مسٹر پرفیکشنسٹ“ عامر خان کی بیٹی اور سماجی کارکن ایرا خان انزائٹی (بے چینی یا اضطراب) کی بیمار میں مبتلا ہوگئی ہیں۔فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹا گرام پر ایرا خان نے اپنی تصویر پوسٹ کی اور اس کے ساتھ طویل نوٹ بھی تحریر کیا۔ ایرا خان نے لکھا کہ مجھے انزائٹی (بے چینی یا اضطراب) کے دورے پڑنے لگے ہیں، مجھے انزائٹی ہے اور میں مغلوب ہو جاتی ہوں اور رونے لگتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ لیکن مجھے پہلے کبھی بھی انزائٹی کے دورے نہیں پڑے، گھبراہٹ اور خوف و ہراس کے دوروں میں فرق ہے، انزائٹی بامقابلہ انزائٹی کے دورے ہیں۔ایرا خان نے کہا کہ جہاں تک میں انزائٹی کے دوروں کو سمجھتی ہوں ان میں جسمانی علامات ہوتی ہیں جن میں دھڑکن تیز اور سانس کا پھولنا، رونا اور آہستہ آہستہ آنے والے عذاب کی طرح محسوس کرنا ہے، یہ ہیں وہ چیزیں جو میں محسوس کرتی ہوں لیکن مجھے نہیں معلوم یہ انزائٹی کے دورے کیا ہوتے ہیں۔عامر خان کی بیٹی نے لکھا کہ یہ واقعی ایک گھٹیا احساس ہے، میرے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اگر یہ باقاعدہ ہوگیا ہے مجھے اپنے ڈاکٹر یا کسی نفسیاتی ماہر کو بتانے کی ضرورت پڑے گی، یہ کافی بے بس محسوس ہوتا ہے کیوں کہ میں واقعی میں سونا چاہتی ہوں لیکن میں نہیں سو پاتی، میں اپنے خوف کو پہچاننے کی کوشش کر رہی ہوں، خود سے بات کرتی ہوں، مجھے اسے روکنے کا کوئی طریقہ نہیں ملا۔

Categories
شوبز

انسان میں تھوڑی بھی غیرت ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہروز سبزواری نے عمران خان کی حمایت میں بڑی بات کہہ ڈالی

کراچی: (ویب ڈیسک) معروف اداکار شہروز سبزواری کا کہنا ہے کہ عمران خان ایک سچے لیڈر ہیں، اگر انسان میں تھوڑی بھی غیرت ہے تو وہ عمران خان کو ہی فالو کرے گا۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام میں گفتگو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر میرے والد نے میرے پیٹ میں حلال رزق ڈالا ہے تو ایسا ہو نہیں سکتا کہ میں عمران خان کو فالو نہ کروں اگر انسان میں غیرت نہیں تو وہ عمران خان کے علاوہ کسی کو بھی فالو کرلے، مدینہ کی ریاست کا قیام عمران خان کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’بہت لوگ جو عمران خان کے مخالف ہیں وہ بھی مان گئے ہیں کہ اب عمران خان اب مزید خطرناک ہیں کیونکہ اب وہ بہتر سیاست کریں گے‘۔انہوں نے کہا کہ ’عمران خان اقتدار میں واپس نہ آئے ایسا ہو نہیں سکتا، وہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئیں گے، وہ سچے آدمی ہیں‘۔

Categories
شوبز

یہ ہوتی ہے اصل نیکی!!!! والد کی یاد میں منشا پاشا نے بہنوں کے ساتھ ملکر اہم کام سرانجام دے دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستانی اداکارہ منشا پاشا نے بہنوں کے ساتھ مل کر اپنے والد ڈاکٹر طارق پاشا میمن کی یاد میں مسجد تعمیر کروائی ہے۔انسٹاگرام پر مسجد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اداکارہ نے مداحوں کو اس خوبصورت عمل کی اطلاع دی اور ایک پوسٹ شیئر کی۔شیئر کی گئی تصویر میں ’ مسجد طارق‘ کے نام سے تعمیر کروائی گئی خوبصورت مسجد کو دیکھا جاسکتا ہے، ایک تصویر مسجد میں محمد طارق پاشا کی یاد میں لگائی گئی تختی کی ہے جس میں منشا پاشا اور ان کی بہنوں کے نام درج ہیں۔اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’رمضان کے مقدس مہینے میں ہم کراچی سے 4 گھنٹے کی دوری پر ایک مسجد کی تعمیر مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں مسجد کی تعمیر کرنے والے مزدوروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ہم بطور خاندان خاص طور پر ان تمام مزدوروں کے مشکور ہیں جنہوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اس مبارک مہینے میں اسے مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے، آپ کے تعاون، دعاؤں اور مہربان جملوں کے لیے آپ سب کا شکریہ۔ منشا پاشا نے یہ بھی لکھا کہ ہم ہمیشہ اللہ کے شکر گزار ہوں گے کہ اس نے ہمیں اس کام کو انجام دینے کا موقع اور اسباب عطا کیا۔ اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں مداحوں سے والد کے لیے دعاؤں کی درخواست تے ہوئے لکھا کہ برائے مہربانی میرے والد کے لیے دعا کریں کہ اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

Categories
شوبز

شاہ رخ خان کی بالی ووڈ کے بعد کرکٹ میں انٹری!! بڑا اعلان کر دیا

ممبئی: (ویب ڈیسک) بالی ووڈ کے کنگ اور انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز ٹیم کے مالک شاہ رخ خان نے امریکا میں ورلڈ کلاس کرکٹ اسٹیڈیم بنانے کا اعلان کیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کولکتہ نائٹ رائیڈرز گروپ نے امریکی کرکٹ کمپنی میجر لیگ کرکٹ (ایم ایل سی) کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت مشترکہ تعاون سے ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس میں عالمی طرز کا کرکٹ اسٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ میٹروپولیٹن علاقے میں تعمیر ہونے والے اسٹیڈیم میں اربوں ڈالر کی خطیر رقم خرچ ہوگی، اس پروجیکٹ کا ڈیزائن تیار کرنے کے لیے ماہرین کی مدد لی جائے گی۔بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ کا کہنا ہے کہ امریکا میں سرمایہ کاری کا مقصد کرکٹر کا فروغ اور اپنی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز(کے کے آر) کو عالمی برانڈ بنانا ہے، میجر لیگ کرکٹ کے ساتھ مل کر اس میگا پروجیکٹ پر کام کررہے ہیں۔خیال رہے کہ کنگ خان نے سنہ 2008 میں کے کے آر کو خریدا، یہ ٹیم اب تک آئی پی ایل کی دو ٹرافی اپنے نام کرچکی ہے۔

Categories
شوبز

ہالی وڈ والے سلطان راہی مرحوم کے بارے میں کیا خیالات رکھتے تھے ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) معروف ہدایتکار حسن عسکری لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔سلطان راہی کی امریکہ میں نیل آرم اسٹرانگ اور محمد علی کلے کے ساتھ قریبی ملاقاتیں ہوئیں۔ ڈاکٹر آصف ریاض قدیر، سلطان راہی کے بہت قریبی دوست تھے۔ وہ پاکستان میں ایک ڈاکٹر فیملی کے چشم و چراغ ہیں۔ میرا اور ڈاکٹر آصف ریاض قدیر کا بچپن

اور جوانی اکٹھے گزرے ہیں۔ سلطان راہی کو ایک دور میں ہرنیا کی بیماری ہو گئی تھی اور ڈاکٹر آصف ریاض قدیر نے ان کا آپریشن کیا تھا۔ اس آپریشن کے بعد سلطان راہی اور ڈاکٹر آصف ریاض کی دوستی بڑھتی رہی۔ ڈاکٹر آصف ریاض قدیر ہارٹ اسپیشلسٹ بننے کیلئے امریکہ چلے گئے۔ مجھے سلطان راہی اور آصف ریاض قدیر کو ساتھ دیکھ کر تعجب ہوا کرتا تھا۔ آصف ریاض قدیر نے امریکہ میں سلطان راہی کو بہت سے مشہور لوگوں سے ملوایا تھا۔ راہی صاحب نے اپنی فلموں کے کچھ حصے پرنٹ کروا کر دو تین ہزار فٹ فلم بنا لی تھی۔ انہوں نے اپنی ہٹ فلموں کے ہٹ سین ریکارڈ کر کے فلم بنائی جس کو وہ ہالی وڈ میں دکھانا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر آصف قدیر نے سلطان راہی کی ہالی وڈ کے پروموٹر جان بیک سے ملاقات کرائی۔ امریکی صدر ریگن صدارت کے عہدے سے پہلے ویسٹرن فلموں کے بہت بڑے ہیرو تھے۔ ان کے پروموٹر بھی جان بیک تھے۔ ڈاکٹر آصف ریاض قدیر کی بدولت سلطان راہی کی بنائی ہوئی فلم ہالی وڈ میں پروجیکٹر کے ذریعے چلائی گئی۔ وہ مختلف پاکستانی ڈائریکٹرز کی فلموں کے ٹکڑے تھے۔ ان فلموں میں ایک ٹکڑا میری فلم ’’طوفان‘‘ کا بھی تھا۔ آصف ریاض قدیر نے مجھے بتایا کہ جب وہ فلم چلائی جا رہی تھی تو جب میری فلم کا ٹکڑا چلا تو جان بیک نے کہا کہ اسٹاپ، اس فلم کے ٹکڑے کو دوبارہ چلائو۔ بقول آصف ریاض قدیر اس فلم کے ٹکڑے کو تین چار مرتبہ چلایا تو اس نے کہا کہ ہم ایسی پرفارمنس پر اکیڈمی ایوارڈ دیا کرتے ہیں۔

Categories
شوبز

اندر کی کہانیاں : اسٹیج ڈراموں کے بعد وہ بزنس جس نے نرگس کو مالا مال کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) آٓج کا ہمارا کالم تو ہے اسٹیج کی ایک ایکٹرس کے بارے میں جس نے اپنے دور میں بہت،، کمائی،، کی، بڑا نام بنایا، بڑے اسکینڈلز جنم دیے پھر اچانک،،، حاجن ،،، بن گئی ، عبایہ پہن لیا، لیکن وہ عبایہ کا وزن زیادہ دیر برداشت نہ کرسکی، ماضی میں لوٹنا چاہا،

نامور کالم نگار خاور نعیم ہاشمی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ آج اس نرگس کے بعض واقعات لکھ رہا ہوں ، جس کے بولڈ ڈانسز نے اسٹیج ڈرامے کو سلا دیا تھا، اس ’’نیک کام‘‘ میں وہ اکیلی نہیں تھی، اس کی تقلید میں بہت ساریوں نے اس جیسے مکالمے بولنا شروع کر دیے تھے اور اس جیسا لباس اوڑھنا شروع کر دیا تھا ، اس واردات میں اس کی بہن دیدار نے بھی خوب ہاتھ بٹایا،،،،، نرگس کو عالمی شہرت ملی۔ ایک تھانیدار کے ہاتھوں اتنی دھنائی ہوئی کہ اس کی بہن دیدار نے پیش گوئی کردی کہ نرگس زندگی میں کبھی ماں نہ بن سکے گی،بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ نرگس کی پٹائی اس وقت کے حاکم کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کا نتیجہ تھی،،،، ہوا کچھ یوں تھا کہ ڈرامے جب کہانی سے آزاد ہوگئے اور اسٹیج پر بیہودگی براجمان ہو گئی تو ’’حاکم وقت‘‘ کے حکم پر انتظامیہ حرکت میں آ گئی ، ناز تھیٹر پر چھاپہ مارا گیا، نرگس تو کسی کی موٹر سائیکل پر فرار ہو گئی اور پکڑے گئے ، کچھ نئی ڈانسرز کے ساتھ مستانہ اور ببو برال جیسے معصوم ایکٹر ، میں اس بات پر کلی طور پر متفق ہوں کہ اس چھاپے کے بعد مستانہ اور ببو برال کی تھانے میں جو تذلیل اور ٹھکائی ہوئی تھی آرٹسٹ سے اس کی عزت چھین لی جائے تو وہ زندہ درگور ہو جاتا ہے ،نرگس کا انہی دنوں ایک تقریب میں’’حاکم وقت‘‘ سے ٹاکرا ہوا تو اس نے بڑی بے باکی دکھائی ، نرگس کا کہنا تھا کہ جب بڑے بڑے حکومتی لوگ اور سرکاری افسر اس جیسی رقاصاؤں کو ناچنے کے لئے اپنے گھروں یا اڈوں پر بلواتے ہیں تو اس وقت ہم آرٹسٹ ہوتی ہیں ، لیکن جب یہی ،،، رقص،، ہم روٹی، روزی کے لئے کرتی ہیں تو الزام لگ جاتا ہے۔ نرگس کی ماں اور باپ دونوں کا تعلق فلم انڈسٹری سے رہا ہے، باپ ساؤنڈ ریکارڈسٹ اور ماں چھوٹی موٹی ایکٹرس تھی، میرے خیال میں نرگس بہت ٹیلنٹڈ تھی، وہ جسمانی اعضاء کی بجائے اپنے فن پر بھروسہ کرتی تو بھی بہت آگے جا سکتی تھی۔

پہلی بار ان دونوں بہنوں نرگس اور دیدار کو میں نے لاہور پریس کلب میں دیکھا۔ آزادی صحافت کے حق میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگا ہوا تھا، یہ دونوں بہنیں وہاں پھول لے کر آئی تھیں، کلب میں موجود ایک رپورٹر نے ان دونوں بہنوں کے تاثرات لینے کی کوشش کی تو دیدار جھٹ سے بولی،،،، ہمیں کیا پتہ کہ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ صحافیوں کی بھوک ہڑتال کیوں ہے ؟ ہمیں تو فوٹو گرافر نجمی نے کہا تھا کہ پھول لے کر آنا ہے ، اور ہم گلدستے لے کر یہاں پہنچ گئیں۔۔۔ پھر نرگس سے ایک ملاقات ہوئی ایک سماجی تقریب میں ، وہ اپنی ماں کے ساتھ وہاں آئی تھی ، نرگس نے مجھے بتایا کہ وہ ایک فلم پروڈیوس کرنا چاہتی ہے۔ میں نے پروڈکشن میں آنے کی وجہ جاننا چاہی تو اس نے ماں کی جانب تکتے ہوئے جواب دیا،، میں اس فلم میں بتاؤں گی کہ ہم جیسی لڑکیوں کی مائیں اپنی ہی بیٹیوں کے ساتھ کیا کیا کرتی ہیں ؟نرگس نے کئی سال بعد ’’بلو 302‘‘ کے نام سے فلم بنائی۔ بلو اس کی ماں کا نک نیم تھا ،باکس آفس پر یہ فلم کامیاب رہی تھی۔ اس کے بعد بھی اس نے کئی فلموں کو فنانس کیا ، جن کی ہیروئن وہ خود تھی۔۔۔ نرگس نے اپنے عروج کے دور میں شمع سینما ٹھیکے پر لیا اور سٹیج ڈرامے پروڈیوس کرنے لگی ، جب بھی ملتی تھیٹر دیکھنے کی دعوت دیتی ، ایک رات گیارہ بجے کے قریب سینما والی سڑک سے گزر ہوا تو

یہ سوچ کر گاڑی روک لی کہ چلو آج تھوڑا سا ڈرامہ ہی دیکھ لیتے ہیں۔۔۔۔ اس وقت وہاں کوئی آدمی موجود نہ تھا ، تمام لائٹس بند تھیں ، داخلی دروازے پر ایک دربان کھڑا تھا، میں نے دربان سے سوال کیا کہ کیا آج ڈرامہ نہیں ہو رہا ،؟ اس نے بتایاکہ ڈرامہ تو آدھا ختم بھی ہو چکا ، میرے تعارف کرانے پر وہ اندر گیا اور داخلے کی اجازت لے آیا۔ سینما ہال کے تمام دروازوں پر بڑے بڑے تالے لگے تھے۔ مجھے چور دروازے سے ایک چھوٹے سے کیبن میں لیجایا گیا ، جہاں سے اسٹیج اور ہال کو دیکھا جا سکتا تھا ، اس وقت نرگس کسی گانے پر پرفارم کر رہی تھی، کیبن میں نرگس کی ماں اور باپ اسٹیج پر نظریں جمائے بیٹھے تھے، ہال تماش بینوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔گانا ختم ہوا اور نرگس اسٹیج سے آؤٹ ہو گئی ، چند ہی لمحوں بعد وہ تیزی سے ہمارے والے کیبن میں داخل ہوئی اور واش روم میں گھس گئی،،، اس کے پیچھے تیزی سے ایک آدمی بھی کیبن میں داخل ہوا اور سانس لئے بغیر نرگس کے باپ سے مخاطب ہوا۔۔۔،،،،،۔ ابا جی ، ابا جی ، دیکھیں ، اب تو لوگوں کا موڈ بنا ہے اور یہ کہہ رہی ہے اور ڈانس نہیں کرے گی، مجھے بعد میں بتایا گیا کہ وہ نرگس کا خاوند ہے اور کینیڈا کا گرین کارڈ ہولڈر ہے۔ پھر نرگس اس کے ساتھ کینیڈا میں ہی شفٹ ہو گئی تھی، لیکن اب کئی سال بعد وہ پھر اپنے شہر لاہور میں ہے اور بڑا کامیاب بیوٹی پارلر چلا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ شاید وہ جان گئی ہے کہ محنت میں ہی عظمت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Categories
شوبز

مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ : فیض احمد فیض نے یہ مشہور زمانہ غزل دراصل کس کے لیے لکھی تھی ؟ ایسے حقائق جن سے آپ لاعلم ہونگے

لاہور (ویب ڈیسک) اردو کے ممتاز نقاد محمد حسن عسکری نے اردو شعرا کی منتخب نظموں کا ایک مجموعہ ’میری بہترین نظم‘ کے عنوان سے شائع کیا تھا جس میں اس زمانے میں شاعری کے افق پر چھائے ہوئے تمام ممتاز تخلیق کاروں کی منتخب نظمیں اور ان کے خود تحریر کردہ حالات زندگی شامل تھے۔

فیض احمد فیض نے اس مجموعے کے لیے اپنی جس نظم کا انتخاب کیا وہ وہی نظم تھی جس کا پہلا مصرعہ اس تحریر کا عنوان ہے، ’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘۔فیض احمد فیض نے اپنے حالات زندگی میں تحریر کیا کہ ’میری شاعری پر جن حالات اور شخصیات کا اثر پڑا ان میں سرفہرست نام ’م۔پ‘ کا ہے جس سے کالج کے زمانے میں محبت تھی‘۔ڈاکٹر ایوب مرزا اپنی کتاب ’ہم کہ ٹھہرے اجنبی‘ میں لکھتے ہیں کہ ’پنڈی کلب کے لان میں ایک خاموش شام میں ہم اور فیض بیٹھے تھے۔ میں نے پوچھا فیض صاحب آپ نے کبھی محبت کی ہے؟ بولے ’ہاں کی ہے اور کئی بار کی ہے۔‘’یہ کہہ کر پھر چپ ہو گئے۔ ’سیرئس لو‘ میں نے پوچھا، بولے ’ہاں ہاں تمہارا مطلب پہلی محبت سے ہے نا، محبت پہلی ہی ہوتی ہے، اس کے بعد سب کچھ ہیرا پھیری ہے۔‘ایوب مرزا لکھتے ہیں کہ ’پہلی محبت میں دونوں جہان ہارنے کے بعد فیض ایم اے او کالج امرتسر پہنچے۔ ان کی عجب کیفیت تھی۔ محبت کے میدان میں پہلے تجربے کا اہم ترین پہلو تحیر ہوتا ہے۔ اس تحیر کے عالم گومگو میں فیض امرتسر کے شہر میں گواچ گئے۔‘آغا ناصر نے لکھا ہے کہ ’امرتسر میں ان کی ملاقات ایک دانشور جوڑے سے ہوئی، ان کے نام تھے صاحبزادہ محمودالظفر اور ڈاکٹر رشید جہاں۔ صاحبزادہ صاحب ایم اے او کالج کے وائس پرنسپل تھے اور ان کی بیگم پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھیں۔ دونوں میاں بیوی مارکسسٹ تھے۔ ان دنوں یورپ میں ترقی پسند تحریک ابھرنا شروع ہو گئی تھی۔

ادھر فیض صاحب کا یہ عاشقی کا زمانہ تھا، فیض صاحب کا ان دونوں سے رابطہ ہوا، پھر یہ تعلق قرب اور چاہت میں بدل گیا۔‘ایوب مرزا لکھتے ہیں کہ ’غور فرمائیں فیض صاحب کبھی بیڈمنٹن کھیل رہے ہیں اور تو کبھی کرکٹ ٹیم کی تشکیل کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر رشید جہاں کی نگاہ دوررس نے اس تنہا لیکچرار کو بھانپ لیا، پوچھا معاملہ کیا ہے۔ کسی کام کاج میں تیرا جی نہیں لگتا۔‘’جب فیض نے جواب میں تکلف کیا تو بلاتکلف بولیں: محبت میں ناکامی اور فیض نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے مشورہ دیا، یہ حادثہ تمہاری ذات واحد کا بہت بڑا حادثہ ہوسکتا ہے مگر یہ اتنا بڑا بھی نہیں کہ زندگی بےمعنی ہو جائے۔‘’انھوں نے فیض کو ایک کتاب مطالعے کے لیے دی اور پھر ملنے کے لیے کہا۔ بقول فیض انھوں نے اس کتاب کو پڑھا اور ان پر چودہ طبق روشن ہو چکے تھے، یہ کتاب کارل مارکس اور اینگلز کی کمیونسٹ مینیفیسٹو تھی۔‘آغا ناصر کے بقول ’یہ واقعہ فیض کی زندگی کا ایک اہم موڑ بن گیا اور ان کی شاعری اور ان کا ذہنی رجحان بدل گیا۔ وہ غریبوں، مفلسوں، ضرورت مندوں، مجبور اور مفلوک الحال عوام کے شاعر بن گئے۔ اپنے ان جذبات کے اظہار کے لیے یہ ان کی پہلی نظم تھی جسے ان کی شاعری کا اہم ترین سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔‘’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘ ایک ابھرتے ہوئے عظیم شاعر کا اعلان تھا کہ اب اس کے شعر اور اس کے خیال عوام کی امانت ہیں۔

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ۔۔۔۔میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات۔۔۔۔تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے۔۔۔تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات۔۔۔۔تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے۔۔۔تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے۔۔۔۔یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے۔۔۔اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔۔۔۔راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا۔۔۔۔ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم۔۔۔۔ریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئے۔۔۔۔لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے۔۔۔اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے۔۔۔اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔۔۔۔راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا۔۔۔مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ۔۔۔۔فیض کی یہ پہلی محبت کس شہر میں پروان چڑھی تھی اس بارے میں مختلف لوگوں نے مختلف شہروں کا نام لیا ہے۔حمید نسیم نے افکار کے فیض نمبر میں شائع ہونے والے اپنے مضمون ’کچھ فیض صاحب کے بارے میں‘ میں لکھا ہے کہ ’فیض صاحب سے میرا تعارف میرے بڑے بھائی رشید بھائی نے کروایا اور ان کے بارے میں بتایا کہ گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے میں پڑھتے ہیں اور ملتان میں مقیم ایک لڑکی سے عشق کرتے ہیں۔‘’فیض صاحب کی اس دور کی تمام نظموں کا محرک اور محبوب یہی خاتون تھیں جو اپنے نیم خواب شبستان میں فیض صاحب کا انتظار کرتی تھیں، مخملی بانہوں والی محبوب۔‘آغا ناصر نے اپنی کتاب ’ہم جیتے جی مصروف رہے‘

میں فیض کی نظم ’رقیب سے‘ کا پس منظر لکھتے ہوئے لکھا کہ ’اس نظم کے شان نزول کے بارے میں مجھے کچھ مدد امرتاپریتم کے ساتھ فیض صاحب کی گفتگو سے ملی، جس کے دوران فیض صاحب نے بڑی بےتکلفی سے امرتا پریتم سے کہا تھا ’لے ہن تینوں دساں میں پہلا عشق اٹھارہ ورہیاں دی عمروچ کیتا سی۔‘سوال ہوا کہ ’اسے زندگی میں حاصل کیوں نہ کیا‘ تو جواب تھا کہ ’ہمت کب ہوتی تھی اس وقت زبان کھولنے کی، پھر اس کا بیاہ کسی ڈوگرے جاگیردار کے ساتھ ہو گیا۔‘پھر پوچھا گیا کہ ’ایک تمہاری نظم ہے جس میں تم رقیب سے مخاطب ہو، تم نے دیکھی ہے وہ پیشانی، وہ رخسار، وہ ہونٹ۔ زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے۔‘ یہ نظم کس کے بارے میں تھی تو فیض صاحب نے جواب دیا کہ ’یہ بھی اسی کے بارے میں ہے جس کی خاطر نقش فریادی کی نظمیں لکھیں۔‘آغا ناصر لکھتے ہیں کہ ’یہ فیض صاحب کا پہلا عشق تھا۔ ان کی محبوبہ کا تعلق ایک افغان گھرانے سے تھا۔ یہ نوعمر لڑکی سیالکوٹ میں ان کے ہمسائے میں رہتی تھی اور فیض صاحب کمرے کی کھڑکی سے اس کو آتے جاتے دیکھا کرتے تھے۔ چونکہ طبعاً بہت شرمیلے تھے اس لیے بات کرنے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔‘’یہ باتیں خود فیض صاحب نے زہرہ نگاہ کو بتائیں جن سے ان کے بڑے قریبی روابط تھے۔ زہرہ آپا نے مجھ سے کہا ‘فیض صاحب اس لڑکی سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ انھوں نے اپنی اس دیوانگی میں اس کے لیے خوبصورت شعروں کے ڈھیر لگا دیے۔

ان کا عشق اپنے شباب پر تھا جب تعلیم کے لیے انھیں سیالکوٹ سے لاہور جانا پڑا۔‘فیض صاحب نے بتایا کہ ’پھر ہوا یوں کہ ہم ایک بار چھٹیوں میں لاہور سے واپس آئے تو کھلی کھڑکی کی دوسری جانب وہ چہرہ نظر نہ آیا۔ ہم نے کسی سے دریافت کیا تو پتا چلا کہ اس کی شادی ہو گئی۔‘فیض صاحب کے لیے یہ خبر بڑی اندوہناک تھی۔ وہ ٹوٹے دل سے واپس لاہور چلے گئے اور مدتوں اس غم کو بھلانے کی کوشش کرتے رہے۔ پھر خاصا عرصہ گزر جانے کے بعد وہ ایک بار پھر سیالکوٹ آئے تو ان کی محبوبہ بھی آئی ہوئی تھیں۔وہ فیض صاحب سے اپنے شوہر کو ملانے کے لیے لائی۔ اس کا شوہر بہت حسین و جمیل انسان تھا۔ دراز قد، شہابی رنگت، تیکھے خدوخال، مردانہ وجاہت کا نمونہ۔فیض صاحب سے مل کر وہ دونوں رخصت ہو گئے مگر تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر واپس آئی۔ اس بار اکیلی تھی صرف یہ کہنے کے لیے ’تم نے دیکھا میرا شوہر کس قدر خوبصورت ہے۔‘فیض صاحب کہتے ہیں کہ ’بس اس کا یہی فقرہ نظم ’رقیب سے‘ کی تخلیق کا سبب بنا۔‘فیض صاحب کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی نے اپنے مضمون ’فیض اینڈ پرفارمنگ آرٹس‘ میں فیض صاحب کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’میں رفتہ رفتہ شاعر بنتا گیا۔ دو تین عناصر نے یہ راہ طے کی۔ پہلا جذبہ جس نے یہ اضطرار پیدا کیا کہ ہم اپنی اذیتوں کا اظہار شاعری میں کریں یہ تھا کہ ہمیں عشق ہو گیا جیسا کہ اس عمر میں سب کو ہوتا ہے۔

‘’17، 18 سال کی عمر میں ہمیں ایک افغان لڑکی سے عشق ہوا جو بچپن میں ہمارے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔ اس کے گھر والے افغانستان سے اسی وقت آئے تھے جب والد صاحب آئے۔‘’وہ فیصل آباد (لائل پور) کے ایک گاؤں میں آباد ہوئے تھے۔ میری بہن کی شادی بھی اسی گاؤں میں ہوئی چنانچہ ہم بہن سے ملنے کے لیے وہاں جاتے تھے۔ ایک صبح ہم جاگے تو ایک حسین لڑکی اپنے طوطے کو دانہ کھلا رہی تھی، اس نے ہمیں دیکھا، ہم نے اسے دیکھا اور دونوں میں محبت ہو گئی بلکہ ہمیں ہو گئی۔‘’روایت کے مطابق ہم رازداری سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیتے تھے لیکن ہم اس سے آگے نہ جا سکے۔ اس کی شادی کسی امیر زمیندار سے ہو گئی اور ہم ہمیشہ کے لیے دکھی دکھی رہنے لگے۔۔۔ آٹھ سال تک۔‘اب آئیے اشفاق بخاری کی تحقیق کی طرف۔ وہ اپنی کتاب ’فیض احمد فیض، چند نئی دریافتیں‘ میں اسی روایت کی تصدیق کرتے ہیں۔انھوں نے لکھا کہ ’فیض احمد فیض کی ہمشیرہ بلقیس بانو سنہ 1922 میں شادی کے بعد لائل پور میں آباد ہوئیں، ان کے شوہر چوہدری نجیب اللہ پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے۔ سنہ 1923 میں جب ان کے ہاں پہلی ولادت ہوئی تو بلقیس بانو کی والدہ سلطان فاطمہ اپنے تینوں بیٹوں طفیل احمد، فیض احمد اور عنایت احمد کے ساتھ سیالکوٹ سے لائل پور آئی تھیں۔‘1929 میں فیض صاحب دوسری مرتبہ لائل پور آئے۔ اس وقت ان کی عمر 18 برس تھی۔ فیض صاحب نے امرتا پریتم کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں بھی یہی بتایا تھا

کہ جب وہ پہلی مرتبہ عشق میں مبتلا ہوئے تو اس وقت ان کی عمر 18 سال تھی۔ یہی بات سلیمہ ہاشمی نے بھی لکھی۔ فیض احمد فیض اس وقت گورنمنٹ کالج لاہور میں تھرڈ ایئر کے طالب علم تھے۔فیض کی ایک عزیزہ شفقت سلطان نے اشفاق بخاری کو بتایا کہ ’(چنیوٹ بازار میں واقع) ہماری حویلی کے دروازے اور کھڑکیاں بازار اور گلی دونوں جانب کھلتے تھے، نیچے بہت بڑے بڑے کمرے تھے۔ ان کے آگے بہت وسیع صحن تھا۔ ان کمروں میں کابل سے آتے جاتے مہمان ٹھہرا کرتے۔‘’ان کمروں کے اوپر کی چھت انھی مہمانوں کے لیے مخصوص تھی کیونکہ حویلی تین منزلہ تھی ہمارے اپنے خاندان کے لوگ تیسری منزل پر سویا کرتے تھے۔ ہمارے ساتھ کی حویلی کی بناوٹ بھی ایسے ہی تھی۔ دونوں کے درمیان دیوار تو تھی مگر ایک چھت پر کھڑے ہوں تو دوسری جانب کے لوگ صاف دکھائی دیتے تھے۔‘’میں عموماً دیوار پھلانگ کر ان کی چھت پر دھرے کابکوں میں بند کبوتر اور دوسرے کئی پالتو پرندے دیکھنے چلی جایا کرتی تھی، اس حویلی میں کئی سید خاندان آباد تھے، حسن و دلکشی میں ان کا جواب نہ تھا۔ مجھے خاندان میں ہونے والی سرگوشیوں کی بعد میں سمجھ آنے لگی کہ ماموں فیض کو ان میں سے کسی سے محبت ہو گئی ہے۔‘سلیمہ ہاشمی نے ’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘ کے بارے میں لکھا ہے کہ ’شاید یہ فیض کی بہترین نظم نہ ہو لیکن یہ سب سے زیادہ مقبول اور بلاشبہ ان کی پہچان مانی جاتی ہے۔‘فیض صاحب کی یہ نظم اس وقت مقبول ہوئی جب ملکہ ترنم نور جہاں نے اسے اپنی آواز دی۔ پھر سنہ 1962 میں فلمساز آغا جی اے گل نے اسے اپنی فلم قیدی میں شامل کیا۔ قیدی کے موسیقار رشید عطرے تھے۔نور جہاں کی آواز میں یہ نظم اتنی مقبول ہوئی کہ فیض صاحب کہا کرتے تھے کہ ’بھئی اب یہ نظم ہماری نہیں، ہم نے تو یہ مادام نور جہاں کو دے دی۔‘(بشکریہ : بی بی سی )

Categories
پاکستان شوبز

دنیا مریخ پر پیر جمانے کو ہم لڑائیوں سے باز نہیں آرہے ،اداکار و گلوکار علی ظفر سیاستدانوں پر برہم،مگر کیوں؟؟

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان کے معروف گلوکار و اداکار علی ظفر نے موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں سیاستدانوں سے اپیل کردی۔ علی ظفر نے سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے لکھا کہ’خدا کا واسطہ مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کرنا چھوڑ دیں اور ایک دوسرے کی ذاتی کردار کشی کی

بجائے لوگوں کی فلاح و بہبود پر تمام تر قوت کا استعمال کریں’۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘بچپن سے یہی دیکھتے آئے ہیں۔ دنیا مریخ پر پیر جمانے کے منصوبے بنا رہی ہے اور ہم زمین پر فساد۔ اپنے دلوں میں رحم پیدا کریں’۔ واضح رہے کہ مسجد نبوی ﷺ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر سابق وزیراعظم عمران خان، فواد چوہدری، شہباز گل اور شیخ رشید سمیت 150 افراد کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ فیصل آباد پولیس کے مطابق مقدمہ محمد نعیم نامی شہری کی درخواست پر تھانہ مدینہ ٹاؤن میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، رکن قومی اسمبلی راشد شفیق اور انیل مسرت بھی نامزد ہیں۔

Categories
شوبز

کیا عمر شریف مرحوم واقعی گووندا کے استاد تھے ؟ ناقابل یقین حقیقت

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے نامور فنکار اور کامیڈی کے بے تاج بادشاہ عمر شریف نے اپنے کام سے سرحد پار بهی نام کمایا، کئی بالی ووڈ ستاروں نے عمر شریف کی نقل کرکے عروج حاصل کیا۔بالی ووڈ اداکار گووندا نے بھی عمر شریف کی اداکاری کی نقل کرکے اپنے گرتے کیرئر کو سنبهالا۔

اداکار عمر شریف کی کامیڈی ٹائمنگ کے سرحد پار اداکار بھی مداح تھے، کئی اداکاروں نے عمر شریف کی نقل کرکے شہرت حاصل کی۔ہدایت کار ڈیوڈ دهون کی فلموں میں عمر شریف کے ڈراموں کی ہو بہو نقل کی گئی، امیتابھ بچن بھی عمر شریف کے ڈائیلاگ بولتے دکھائی دیے لیکن اصل تو ہمیشہ اصل ہی رہتا ہے۔کئی ستاروں کی طرح بالی ووڈ اداکار عامر خان بھی عمر شریف کے مداح تھے، دورہ پاکستان کے دوران ایک تقریب میں عمر شریف سے کہا کہ انہیں ان کی والدہ نے “بکرا قسطوں پہ”دیکھنے کا کہا تھا، ڈرامہ دیکھ کر وہ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گئے اور عمر شریف کے فین بن گئے۔بالی ووڈ اداکار اکشے کمار اور جانی لیور بھی عمر شریف کے مداح تھے۔

Categories
شوبز

’’ یہ آخر چاہتی کیا ہے؟‘‘ماڈل نادیہ حسین نے ایسا لباس پہن لیا کہ سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) ماڈل و اداکارائیں اپنے لباس کے انتخاب کی بدولت گاہے سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کی زد میں آتی رہتی ہیں۔ اب کی بار اس تنقید کا نشانہ سپر ماڈل نادیہ حسین بن گئی ہیں جنہوں نے گزشتہ دنوں اپنے انسٹاگرام اکاﺅنٹ پر انتہائی چست لباس میں ایک ویڈیو پوسٹ کر دی تھی۔

تفصیلات کے مطابق 43سالہ نادیہ حسین نے لمبے گاﺅن نما لباس کے نیچے جلد کی رنگت کا چست پاجامہ پہن رکھا ہوتا ہے، جس پر لوگوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ انشرح خان نامی صارف نے اس ویڈیو پر کمنٹس میں لکھا کہ ”یہ کیا کرنا چاہتی ہے آخر۔“انعم نادی نامی لڑکی نے اپنے کمنٹ میں لکھا کہ ”بہت ہی بری ڈریسنگ ہے۔“رپورٹ کے مطابق چند روز قبل نادیہ حسین نئی ماڈلز کے بارے میں اپنے بیان کی وجہ سے تنقید کی زد میں آئی تھیں۔انہوں نے کہا تھا کہ ”نئی ماڈلز تعلیم یافتہ نہیں ہیں اور ان میں ہماری جنریشن کی ماڈلز کی طرح ’کلاس‘ اور ’پرسنیلٹی‘ نہیں ہے۔“

Categories
شوبز

مشہور اداکارہ نورا فتیحی ادکارہ بننے سے پہلے گزر اوقات کے لیے کیا کام کرتی تھیں ؟ ایسی بات جس سے اکثر لوگ ناواقف ہیں

ممبئی (ویب ڈیسک )بالی وڈ میں اپنے بے مثال ڈانس کی وجہ سے مشہور اداکارہ نورا فتیحی نے حال ہی میں انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنی نوجوانی میں ‘ویٹرس’ کے طور پر کام کیا۔اداکارہ نے بھارتی ٹیلی ویڑن کے پروگرام Star vs Food میں شرکت کی جس میں انہوں نے اپنی جوانی کے دنوں کی یاد تازہ کی۔

نورا نے بتایا کہ 16 سے 18 سال تک میں نے اضافی آمدنی کیلئے کینیڈا میں ایک ریسٹورینٹ میں بطور ویٹرس کام کیا، یہ ملازمت انتہائی مشکل تھی، اس کیلئے آپ کی شخصیت اچھی ہونی چاہیے اور ساتھ ہی گفتگو کی بھی بہترین صلاحیت ہونی چاہیے۔اداکارہ نے مزید کہا کہ اس کیلئے ضروری ہے کہ آپ کا حافظہ بھی اچھا ہو،کسٹمر کے موڈ کا پتا نہیں ہوتا لہٰذا ہر صورتحال کیلئے آپ کو ہمیشہ تیار رہنا پڑتا ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل اداکارہ نورا اس بات کا انکشاف کرچکی ہیں کہ انہوں نے اپنی سب سے پہلی نوکری ایک شاپنگ مال میں بطور ریٹیل سیلز ایسوسی ایٹ کی تھی جس وقت ان کی عمر 16 برس تھی اور یہ سکول میں زیر تعلیم تھیں۔

Categories
شوبز

کیا آپ جانتے ہیں : ریکھا اور عامر خان نے ایک فلم میں بھی ایک ساتھ کام نہیں کیا ، مگر کیوں ؟ وجہ حیران کن

لاہور (ویب ڈیسک) بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان کی لیجنڈری اداکارہ ریکھا کے ساتھ فلم نہ کرنے کی ایک حیران کُن وجہ سامنے آگئی۔ریکھا کا شمار بالی ووڈ کی معروف اداکاراؤں میں ہوتا ہے اور وہ اپنے کیریئر میں بالی ووڈ کے تقریباَ تمام بڑے اداکاروں کے ساتھ نظر آئی ہیں

لیکن یہاں حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ریکھا نے عامر خان کے ساتھ اب تک کوئی فلم نہیں کی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عامر خان نے اداکارہ ریکھا کے ساتھ کام نہ کرنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اُنہیں ریکھا کا رویہ پسند نہیں ہے جس طرح سے ریکھا شوٹنگ کے دوران اپنے ساتھی اداکاروں اور دیگر عملے کے ساتھ رویہ اختیار کرتی ہیں، وہ عامر خان کو بالکل پسند نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے آج تک ریکھا کے ساتھ کسی فلم میں کام نہیں کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ریکھا نے اداکار عامر خان کے والد طاہر حسین کے ساتھ کام کیا تھا اور اُس فلم کی عکسبندی کے دوران عامر خان اکثر سیٹ پر جایا کرتے تھے اور شاید اُسی وقت اُنہوں نے ریکھا کا رویہ دیکھ لیا تھا جس کے بعد اُنہوں نے ریکھا کے ساتھ کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔بھارتی میڈیا نے یہ بھی بتایا کہ ریکھا اکثر اپنی فلم کے سیٹ پر تاخیر سے پہنچتی تھیں اور وہ فلم پر خاصی توجہ بھی نہیں دیتی تھیں جس کی وجہ سے بہت سے سین ری ٹیک کرنے پڑ جاتے تھے۔ریکھا کی یہی لاپرواہی دیکھ کر عامر خان نے آج تک اُن کے ساتھ کسی فلم میں کام نہیں کیا۔

Categories
شوبز

پٹودی خاندان کی دولت کا اصل مالک میں نہیں بلکہ ۔۔۔۔ سیف علی خان کا حیران کن انکشاف

ممبئی (ویب ڈیسک) بھارتی اداکار سیف علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ صرف نام کے نواب ہیں، ان کی حویلی سے فائدہ ان کی ماں شرمیلا ٹیگور کو پہنچتا ہے۔ انہوں نے اپنے گھر سے متعلق یہ بھارتی ٹیلی وژن شو کپل شرما شو میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ کپل شرما نے سیف

سے سوال کیا کہ کیا آپ بطور اداکار زیادہ کماتے ہیں یا پھر اپنی حویلی کے کرائے سے زیادہ کماتے ہیں۔اس پر سیف علی خان نے جواب دیا کہ فلموں کی عکسبندی کے لیے حویلی کرائے پر دینے کا فائدہ والدہ شرمیلا ٹیگور کو ہوتا ہے، میں تو صرف نام کا نواب ہوں۔واضح رہے کہ ویب سیریز تانڈو کی عکسبندی کے لیے پٹودی خاندان کی آبائی حویلی کرائے پر دی گئی تھی۔

Categories
شوبز

وہ کون ہے۔۔؟؟؟منگنی ٹوٹنے کے بعد ایک بار پھراداکارہ صبا قمر نے زندگی میں کوئی ’’ خاص‘‘ شخص آنے کا اعتراف کرلیا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) اداکارہ صبا قمر نے منگنی ٹوٹنے کے کچھ عرصے بعد ایک بار پھر اپنی زندگی میں محبت کے لوٹ آنے کا اعتراف کر لیا۔ ویب سائٹ’پروپاکستانی‘ کے مطابق حالیہ انٹرویو میں میزبان نے صبا قمر سے پوچھا کہ کیا آپ کی زندگی میں ان دنوں کوئی ’رومانس‘ ہے؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے صبا قمر نے کہا کہ ”میری زندگی

میں کوئی خاص شخص آ چکا ہے لیکن میں یہ نہیں بتانا چاہتی کہ وہ کون ہے۔ “ اپنے اسی انٹرویو میں صبا قمر نے یہ بھی کہا کہ ”میرا کوئی شوگر ڈیڈی نہیں ہے۔ میں اپنے بل خود ادا کرتی ہوں۔“ صبا قمر کی طرف سے اپنی نجی زندگی کی تفصیل نہ بتانے پر کچھ لوگوں نے ان کی تعریف کی مگر کچھ لوگ طنز کے تیر برسانے لگے۔اس ویڈیو پر کمنٹس میں ایک انٹرنیٹ صارف نے لکھا ہے کہ ”مجھے اس ڈرامے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، یہ اپنی ذات میں ایک بہت بڑا ڈرامہ ہے۔“حسن عمران نامی شخص نے لکھا ہے کہ ”شہرت حاصل کرنے کا صحیح طریقہ ہے۔“واضح رہے کہ صبا قمر نے گزشتہ سال عظیم خان نامی شخص کے ساتھ منگنی کی تھی اور وہ شادی کا اعلان بھی کر چکے تھے تاہم عظیم خان پر خواتین کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کر دیا گیا جس کے بعد صبا قمر نے شادی سے انکار کرتے ہوئے اس کے ساتھ منگنی توڑ ڈالی تھی۔

Categories
شوبز

عمران خان ، بلاول بھٹو اور نواز شریف ۔۔۔؟؟ کچھ دنوں کے لیے موقع ملے تو کس کے ساتھ رہنا پسند کریں گی ؟ دلچسپ سوال پر وینا ملک کا دلچسپ جواب

لاہور(ویب ڈیسک ) معروف اداکارہ وینا ملک نے کہا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ورلڈ ٹور پر جائیں۔نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں ان سے میزبان نے سوال کیا کہ اگر آپ کو دنیا گھومنے کا موقع ملے تو آپ عمران خان،

بلاول بھٹو یا نواز شریف میں سے کس کو ساتھ لے کر جائیں گی۔وینا ملک نے سوال کے جواب میں کہا کہ ظاہر میں عمران خان کے ساتھ ورلڈ ٹور پر جاؤں گی۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک دور اندیش شخصیت ہیں لہذا میں ان سے بہت کچھ سیکھوں گی۔اداکارہ نے بتایا کہ وہ جلد ایک نئے شو کے ساتھ ٹی وی کے پردے پر نمودار ہوں گی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں فلموں میں کام کرنا زیادہ پسند ہے۔

Categories
شوبز

ماضی کی مشہور اداکارہ کرشمہ کپور نے بھی دوبارہ شادی کرنے کی ٹھان لی۔لڑکا کون ہے؟؟؟

ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کرشمہ کپور پہلی ازدواجی زندگی کی ناکامی کے بعد دوسری شادی کا ارادہ رکھتی ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کرشمہ نے 2003 میں سنجے کپور نامی تاجر کو اپنا جیون ساتھی چنا تھا بدقسمتی سے دونوں کے درمیان 2016 میں علیحدگی ہوگئی تھی،

اس دوران جوڑے کے ہاں بیٹی سمیرا اور بیٹے کیان کی پیدائش ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ طلاق کے بعد سنجے کپور نے اداکارہ پریا شادیو سے دوسری شادی کی اور اب کرشمہ کپور نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ بھی دوسری ازدواجی زندگی کا آغاز کرسکتی ہیں۔ اداکارہ نے سماجی رابطے کی فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام کی اسٹوری پر سوال جواب کے سیشن کا آغاز کیا جس میں مداحوں کی جانب سے مختلف سوالات پوچھے گئے جن کے کرشمہ نے جواب دیے۔ ایک پرستار نے پوچھا کہ کیا آپ دوبارہ شادی کریں گی جس کا جواب انہوں نے ’’ڈیپینڈ‘ یعنی انحصار لکھ کر دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کرشمہ کپور کو اگر کبھی اچھا انسان ملا جن سے ان کی ذہنی ہم آہنگی ہو تو دوسری شادی کرسکتی ہیں۔

Categories
شوبز

ابھرتی ہوئی اداکارہ عینا آصف اسکول میں کس وجہ سے مشہور ہیں؟

لاہور(ویب ڈیسک) شوبز انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اداکارہ عینا آصف نے اسکول سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دے دیا۔ اداکارہ نے سوال کیا گیا کہ وہ اسکول میں کس ایک خاصیت کی وجہ سے زیادہ مشہور ہیں؟ عینا نے بتایا کہ جس اسکول میں پڑھتی ہوں

اسی اسکول سے بھائی بہن نے بھی تعلیم حاصل کی ہے، بھائی اسکول میں بہت مشہور تھا تو سب کہتے ہیں کہ احمد کی بہن آرہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں قریب ہی کھڑی تھی اور تین لڑکیاں کہہ رہی تھیں کہ ہاں یہ عینا آصف، احمد کی بہن ہے، اداکارہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں نے سوچا کہ آرام سے بولیں تاکہ مجھے آواز تو نہ آئے۔ اداکارہ نے بتایا کہ ساری ٹیچر بھی مجھے اسی وجہ سے جانتی ہیں اور کچھ ہم بہن بھائیوں کی آنکھیں ایک جیسی ہیں اس وجہ سے جانتے ہیں۔ واضح رہے کہ اداکارہ عینا آصف نجی ٹی وی کے ڈرامہ سیریل میں احد رضا میر کی بہن کا کردار نبھا رہی ہیں مداحوں کی جانب سے ان کی اداکاری کو خوب سراہا جارہا ہے۔

Categories
شوبز

اسے کہتے ہیں ’’ قسمت کی دیوی کا مہربان ہونا‘‘ شہناز گل اور سلمان خان بارے بڑی خبر

ممبئی(ویب ڈیسک)بھارتی اداکارہ و گلوکارہ شہناز گل کی سلمان خان نے ہمیشہ تعریف کی ہے جبکہ اداکارہ کو سلمان خان کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل گیا۔تفصیلات کے مطابق شہناز گل کو سلمان خان کے ساتھ بالی ووڈ میں کام کرنے کا موقع مل گیا، وہ سلو میاں کی فلم ’’کبھی عید کبھی دیوالی‘‘ میں جلوہ گر ہوں گی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق شہناز گل وہ خوش قسمت

اداکارہ ہیں جو بالی ووڈ کے سپر اسٹار کے ہمراہ ڈیبیو کرنے جارہی ہیں، سلمان خان نے شہناز کی اداکاری اور معصومیت کی ہمیشہ تعریف کی ہے۔ جبکہ مداحوں کو بھی اداکارہ کی ادائیں بہت پسند ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریئلٹی شو بگ باس سے شہرت کی بلندی پر پہنچنے والی شہناز گل دبنگ خان کی فلم کبھی عید کبھی دیوالی میں اداکاری کے جوہر دکھائیں گی جسے ممکنہ طور پر سلمان خان ہی ڈائریکٹ کریں گے۔ واضح رہے اداکارہ کو سلمان خان کے ساتھ کام کرنے کا بے صبری سے انتظار ہے۔ مذکورہ فلم میں آیوشا شرما، پوجا ہیج اور ظہیر اقبال سمیت دیگر اداکار بھی اپنے جلوے بکھیریں گے۔