Categories
پاکستان

شہباز شریف کو کام کرنے دیا گیا تو حالات ٹھیک ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔ نامور بزنس مین میاں منشا کا اہم بیان

لاہور (ویب ڈٰسک) نامور پاکستانی بزنس مین میاں منشاء اپنے ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اینکر : کس کے دوست ہیں ؟ میاں منشا: پانچ سال ہوگئے میاں نواز شریف سے ملاقات نہیں ہوئی ، شہباز شریف سے میں ایک دفعہ ان کےInaugrationپر گیا ہوں ، تین چار سال ہو گئے ہیں ،

سب کو پتہ ہو تا ہے کہ میری کسی سے ٹیلیفون پر بات ہو ئی ہے ، ریکارڈ ہے ساراتو وہ کوئی نکال کر دکھا دے۔پانچ سال ہو گئے میاں صاحب سے ملاقات ہوئے اور تین چار سال ہو گئے شہباز صاحب سے نہیں ہوئی ، سوائے وہInaugration, And then he came in opened our hospital recently، وہاں پر بھی ان سے ملاقات ہوئی ہے ۔, But I was with Nawaz Shareef & Shahbaz Shareef and I never found any ہیرا پھیری کچھ سنی ۔ No ، دو نمبر کام ۔ اینکر : دو نمبر کام نہیں کرتے ؟ میاں منشا: No I can swear upon کہ کوئی دو نمبر میرے سے کبھی بھی بات ہی نہیں ہوئی اس کے اوپر۔ایسے ہی لوگ پیچھے ۔ I am also very clear on all that۔ یہ چیزیں ، یہ سارا کچھ بنا یا ہو ا ہے ۔ ہمیشہ شوق ہے سارا دن چوری چوری چوری ،کیوں کہ اس ملک میں Corruption is not a problem, Incompetence is a problem۔ مہر بخاری : You said that Incompetence، نا اہلی ہمارامسئلہ ہے ، واقعی Issue نہیں ہے اس ملک میں ؟ میاں منشا: نہیں ۔ اینکر : Flawed Decision Making ہے؟غلط فیصلہ سازی ؟ میاں منشا: Yes۔ ابھیMarcos has been elected as a President of Philipines۔ اس کی ماں کا یا دہے کہ پانچ ہزار بیگUKسا ری دنیا نے دکھا ئے کہ۔۔چورہے ۔اب وہ بیٹا Landslideسے الیکشن جیتا ہے اور تیسرے دن کس کا فون آیا ہے ؟ جو بائیڈن کا ۔ So you need an economy, you need a country۔ اینکر : آپ کہہ رہے ہیں

کہ ہر جگہ چوری چلتی ہے ۔میاں منشا: Yes۔ اینکر : الیکشن تو چور بھی جیت جاتے ہیں ،یہ مسئلہ نہیں کہ چوری اور لوٹ مار کا نہیں ہے ۔ You are saying چوری کو Chaseنہ کرو ، Growth Raiseکرواور Competenceبڑھا ؤ۔ میاں منشا: آ پ امریکا دیکھ لیں، All kind of real state … ۔ اینکر : عمران خان کا تو پورا بیانیہ اس کاOppositeہے ۔ میاں منشا: , I feel he is not right on that, I think we need to۔ ایک دفعہ کام کو چلائیں ، ایک دفعہ ایک چیز کوLevelپر لے آئیں ، Economyکو بڑھائیں ،لوگوں کو Jobsدیں ، کو ریا میں آ پ دیکھ لیں کہ صدر نے جب دس فیملیز کو کہا کہ آپ نے یہ کام کرنا ہے ، انہوں نے نوکریاں بھی دیں And they created world class companies Samsung, Toyota, Hondai all these big companies have created one day۔اینکر… ہمارے ہاں بھی ساری کمپنیاں ہیں کمیشن ہے سب ادارے موجود ہیں مگر جب وہ مغرب کے انٹرسٹ کو پروٹیکٹ کرتے رہیں گے تو ایک عام آدمی میاں منشاء… نہیں کرتے یہ ہمارا امپریشن ہے کہ یہ، یہ چیزیں کر رہے ہیں بہت سے اچھے لوگ کام کر رہے ہیں اینکر… what about the billion and trillion in taxable sugar industry میاں منشاء… سب غلط جہانگیر ترین بہت اچھے دوست ہیں میرے سب سے بڑا مسئلہ عمران خان کی گورنمنٹ کا ایک یہ تھا جہانگیر ترین بہت ٹیلنڈ ڈ تھے.اینکر… جہانگیر ترین کو کھونا سب سے بڑی غلطی تھی میاں منشاء… جی اور مجھے پتہ ہے

کیا ہوا تھاWe need to change the way we govern اور یہ ساری چیزیں میں نے کرنی ہیں تو وزیراعظم نے کہا کہ اعظم خان کو بلایا ذرا اس کے ساتھ بیٹھو چھ ہفتے لگے رہے بالآخر اعظم خان azam khan well threaten he was a bray required جس نے فرنٹیئرسے باہر کام نہیں کیا ہوا تھا اس نے آکر اس کو کہا کہ یہ جو کہہ رہا ہے اس سے تو ہم سارا نظام نہیں چلے گا۔جہانگیر مجھے بتاتا ہے I have all the books of Jahangir tareen , I am the banker اس کی بینکنگ بھی میں کرتا ہوں صاف ترین شخص ہے کوئی داغ نہیں ہے And a person we must respect یہی تو ہمارے ہیروز ہیں،اینکر… تو کان کے کچے ثابت ہوئے عمران خان میاں منشاء… میرے خیال میں وزیراعظم نے یہ غلطی کی ہے اینکر… اس پر سیاسی قیمت بھی چکانی پڑ گئی پنجاب میں بھی۔ہمارے ریزو ختم ہونے کے درپر ہیں سخت ترین حالات ہیں۔ روپے کو کیسے مستحکم کیسے کریں۔ میاں منشاء… آپ کو چین سے امداد لینا پڑے گی، چائنز بھی شکایت کر رہے تھے مجھے خود چائنز ایمبسڈر نے کہا کہ ہم خوش نہیں ہیں تمام پراجیکٹ نہیں چل رہے ، کہاں ہم پھنسے ہوئے ہیں یہاں پیسے نہیں ملتے اور مجھے پارٹنر شپ آفر کی اینکر… آپ کو پارٹنر شپ آفر کی میاں منشاء… ہاں مجھے چائنز گورنمنٹ نے کہا ہے کہ پراجیکٹ نہیں چل رہے تو آپ یہ جو ہماری تھر میں پراجیکٹ ہیں اس میں یا تو کوئلے کی کنزیکشن خرید لیں یا ہمیں لون دے دیں یا اکیوڈی ڈال دیں اسی طرح جو کراچی میں چائنیز اینکر… ڈالر معیشت ہے اس کو کیسے بہتر کرنا ہے، اکیس ارب کے فارن ڈیڈ اضافہ ہوچکا ہے، میاں منشاء… ایک دفعہ مستحکم کرلیں ناں ، This debt by other countries its not debt much but its debt which is grow in we need to have productive assets, do you need to have productive assets than the perception will become دنیا کو پتہ چلے گا یہ ملک ہے ہم یہاں پر سرمایہ کاری کریں۔

Categories
پاکستان

جہانگیر ترین ایک زبردست اور صاف کاروباری شخصیت ہے، لیکن اسکے ساتھ جو ہوا وہ ۔۔۔۔ میاں منشا نے انٹرویو میں اصل بات بتا دی

لاہور (ویب ڈٰسک) نامور پاکستانی بزنس مین میاں منشاء اپنے ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اینکر : کس کے دوست ہیں ؟ میاں منشا: پانچ سال ہوگئے میاں نواز شریف سے ملاقات نہیں ہوئی ، شہباز شریف سے میں ایک دفعہ ان کےInaugrationپر گیا ہوں ، تین چار سال ہو گئے ہیں ،

سب کو پتہ ہو تا ہے کہ میری کسی سے ٹیلیفون پر بات ہو ئی ہے ، ریکارڈ ہے ساراتو وہ کوئی نکال کر دکھا دے۔پانچ سال ہو گئے میاں صاحب سے ملاقات ہوئے اور تین چار سال ہو گئے شہباز صاحب سے نہیں ہوئی ، سوائے وہInaugration, And then he came in opened our hospital recently، وہاں پر بھی ان سے ملاقات ہوئی ہے ۔, But I was with Nawaz Shareef & Shahbaz Shareef and I never found any ہیرا پھیری کچھ سنی ۔ No ، دو نمبر کام ۔ اینکر : دو نمبر کام نہیں کرتے ؟ میاں منشا: No I can swear upon کہ کوئی دو نمبر میرے سے کبھی بھی بات ہی نہیں ہوئی اس کے اوپر۔ایسے ہی لوگ پیچھے ۔ I am also very clear on all that۔ یہ چیزیں ، یہ سارا کچھ بنا یا ہو ا ہے ۔ ہمیشہ شوق ہے سارا دن چوری چوری چوری ،کیوں کہ اس ملک میں Corruption is not a problem, Incompetence is a problem۔ مہر بخاری : You said that Incompetence، نا اہلی ہمارامسئلہ ہے ، واقعی Issue نہیں ہے اس ملک میں ؟ میاں منشا: نہیں ۔ اینکر : Flawed Decision Making ہے؟غلط فیصلہ سازی ؟ میاں منشا: Yes۔ ابھیMarcos has been elected as a President of Philipines۔ اس کی ماں کا یا دہے کہ پانچ ہزار بیگUKسا ری دنیا نے دکھا ئے کہ۔۔چورہے ۔اب وہ بیٹا Landslideسے الیکشن جیتا ہے اور تیسرے دن کس کا فون آیا ہے ؟ جو بائیڈن کا ۔ So you need an economy, you need a country۔ اینکر : آپ کہہ رہے ہیں

کہ ہر جگہ چوری چلتی ہے ۔میاں منشا: Yes۔ اینکر : الیکشن تو چور بھی جیت جاتے ہیں ،یہ مسئلہ نہیں کہ چوری اور لوٹ مار کا نہیں ہے ۔ You are saying چوری کو Chaseنہ کرو ، Growth Raiseکرواور Competenceبڑھا ؤ۔ میاں منشا: آ پ امریکا دیکھ لیں، All kind of real state … ۔ اینکر : عمران خان کا تو پورا بیانیہ اس کاOppositeہے ۔ میاں منشا: , I feel he is not right on that, I think we need to۔ ایک دفعہ کام کو چلائیں ، ایک دفعہ ایک چیز کوLevelپر لے آئیں ، Economyکو بڑھائیں ،لوگوں کو Jobsدیں ، کو ریا میں آ پ دیکھ لیں کہ صدر نے جب دس فیملیز کو کہا کہ آپ نے یہ کام کرنا ہے ، انہوں نے نوکریاں بھی دیں And they created world class companies Samsung, Toyota, Hondai all these big companies have created one day۔اینکر… ہمارے ہاں بھی ساری کمپنیاں ہیں کمیشن ہے سب ادارے موجود ہیں مگر جب وہ مغرب کے انٹرسٹ کو پروٹیکٹ کرتے رہیں گے تو ایک عام آدمی میاں منشاء… نہیں کرتے یہ ہمارا امپریشن ہے کہ یہ، یہ چیزیں کر رہے ہیں بہت سے اچھے لوگ کام کر رہے ہیں اینکر… what about the billion and trillion in taxable sugar industry میاں منشاء… سب غلط جہانگیر ترین بہت اچھے دوست ہیں میرے سب سے بڑا مسئلہ عمران خان کی گورنمنٹ کا ایک یہ تھا جہانگیر ترین بہت ٹیلنڈ ڈ تھے.اینکر… جہانگیر ترین کو کھونا سب سے بڑی غلطی تھی میاں منشاء… جی اور مجھے پتہ ہے

کیا ہوا تھاWe need to change the way we govern اور یہ ساری چیزیں میں نے کرنی ہیں تو وزیراعظم نے کہا کہ اعظم خان کو بلایا ذرا اس کے ساتھ بیٹھو چھ ہفتے لگے رہے بالآخر اعظم خان azam khan well threaten he was a bray required جس نے فرنٹیئرسے باہر کام نہیں کیا ہوا تھا اس نے آکر اس کو کہا کہ یہ جو کہہ رہا ہے اس سے تو ہم سارا نظام نہیں چلے گا۔جہانگیر مجھے بتاتا ہے I have all the books of Jahangir tareen , I am the banker اس کی بینکنگ بھی میں کرتا ہوں صاف ترین شخص ہے کوئی داغ نہیں ہے And a person we must respect یہی تو ہمارے ہیروز ہیں،اینکر… تو کان کے کچے ثابت ہوئے عمران خان میاں منشاء… میرے خیال میں وزیراعظم نے یہ غلطی کی ہے اینکر… اس پر سیاسی قیمت بھی چکانی پڑ گئی پنجاب میں بھی۔ہمارے ریزو ختم ہونے کے درپر ہیں سخت ترین حالات ہیں۔ روپے کو کیسے مستحکم کیسے کریں۔ میاں منشاء… آپ کو چین سے امداد لینا پڑے گی، چائنز بھی شکایت کر رہے تھے مجھے خود چائنز ایمبسڈر نے کہا کہ ہم خوش نہیں ہیں تمام پراجیکٹ نہیں چل رہے ، کہاں ہم پھنسے ہوئے ہیں یہاں پیسے نہیں ملتے اور مجھے پارٹنر شپ آفر کی اینکر… آپ کو پارٹنر شپ آفر کی میاں منشاء… ہاں مجھے چائنز گورنمنٹ نے کہا ہے کہ پراجیکٹ نہیں چل رہے تو آپ یہ جو ہماری تھر میں پراجیکٹ ہیں اس میں یا تو کوئلے کی کنزیکشن خرید لیں یا ہمیں لون دے دیں یا اکیوڈی ڈال دیں اسی طرح جو کراچی میں چائنیز اینکر… ڈالر معیشت ہے اس کو کیسے بہتر کرنا ہے، اکیس ارب کے فارن ڈیڈ اضافہ ہوچکا ہے، میاں منشاء… ایک دفعہ مستحکم کرلیں ناں ، This debt by other countries its not debt much but its debt which is grow in we need to have productive assets, do you need to have productive assets than the perception will become دنیا کو پتہ چلے گا یہ ملک ہے ہم یہاں پر سرمایہ کاری کریں۔

Categories
پاکستان

جب تک پاکستان میں نیب ہے ، کوئی کام ہو گا نہ ترقی ہوگی ۔۔۔۔ میاں منشا نے حالات کی خرابی کی وجہ بتا دی

لاہور (ویب ڈیسک) مہر بخاری نے نامور پاکستانی بزنس مین میاں منشا سے سوال کیا -یعنی فوج کی طرف سے دھکا لگنا چاہیے ۔ میاں منشا :–مطلب دھکا یہ ہے میرا مطلب کہ ۔اینکر :–سب کو ایک پیج پر لائیں ۔ میاں منشا :they are everybody knows now there a you know in policy making–ان کا inputہوتا ہے

and generallyمیں نے دیکھا ہے یہ والی جو establishmentہے they know everything you know for example i have talked about india۔اینکر:–اور میں آؤں گی trade with indiaپر کیوں کہ یہ establishmentبہرال انڈیا کے ساتھ جو ہمارا تجارت ہے اس کو بحال کرنا چاہتی ہے لیکن آپ لوگوں کی عمران خان صاحب کے پہلے سال میں شروع میں بھی بہت uncertaintyاور بے سمت ہونے کی وجہ سے discussionsہوئیں چیف آف آرمی اسٹاف سے ملاقات ہوئی بزنس مین کی industrialsکی آخری ملاقات کب ہوئی ہے۔ میاں منشا :–یہ ہوتی رہتی ہے ther last one of two months we are in touch and he is always gives good advice and he is veryجس کو کہتے ہیں ناں میرے خیال میں all the peoples that i meetسب سے زیادہ clearedوہی ہے ۔اینکر :–اور ابھی خبر آرہی تھی کہ ابھی پھر بھی ایک ملاقات متوقع ہے in the coming days۔ میاں منشا :–مجھے کوئی انفارمیشن نہیں ہے اس کے اوپر لیکن میں تو یہ کہوں گا کہ ایک حکومت آئی ہے اس کو اب چلائیں اب پھر اس mid cineکوئی اور چیزیں نہیں ہونی چاہئیں تو اب اس کو ذرا چلائیں ہم ۔ اینکر :–آپ نے نیب کا ذکر کیا نیب کے اوپر کام ہو رہا ہے سپریم کورٹ نے بھی از خود نوٹس لے لیا ہے ۔ میاں منشا :–اب اس کا مجھے کوئی پتہ نہیں ہے کہ why butیہ جو نیب ہے یہ جب تک ہے کوئی بندہ کام نہیں کرے گا ۔ اینکر :and you have been the receiving end of it–ہر ادوار میں

سب سے مشکل دور آپ کو honestly speakingکونسالگا کیوں کہ آپ کے کیسز وہ فائل ہو جاتے ہیں جب نکالنا ہوتا ہے نکال لیتے ہیں تنقید کرنے کے لئے andکیوں کہ بہت سے بزنس مین ٹائیکون سے بات ہوئی ہے and they always feel that we have blackmailedہمیں جب دیوار سے لگانا ہوتا ہے تو فائلیں سامنے رکھ دی جاتی ہیں اور لوئر لیول کا اسٹاف بھیج دیا جاتا ہے just to embarrassedبرا کرنے کے لئے یہ سب سے زیادہ کون سے دور میں ہوا ہے ۔ میاں منشا: پچھلے دور میں ہوا ہے ، And I donʼt know whether it is because of the Prime Minister but وہ شہزاد اکبر وغیرہ جو تھے They were crooks اور انہوں نے سارا یہ ایک Money Making Set up تھا کہ لو گوں کو تنگ کرنا اور لوگوں سے یہ سا ری چیزیں کروانی۔بالکل یہ بہت تنگ کیا ،We are .. of all the governments that have come۔ کوئی نہ کوئی بندہ آ کر ہمیں پریشان کر تا ہے ۔We have been on ECL three times۔ پہلی دفعہ میں ای سی ایل میں That was interesting, I was travelling to London، کسی کی شادی تھی ،I was very young، اس وقتBoarding Card اس طرح یہاں رکھا ہوا تھا Coatمیں ۔ کہا بیٹھ جا ؤ، ایک بو ڑھا سا رجسٹر نکالا ،اس میں پھٹا ہوا میر انام نکالا،جس میں My Passport shows that I was born in East Pakistan،اتنا آسان ہے ۔ دوسری دفعہI was put on ECL because CBRمیں کوئی بندہ تھا ، وہ اپنے کسی بھائی کی

Proportion ہمارے بینک میں کرانا چاہتا تھا ، وہ پھر FBRکے چئیرمین کی کوئی کمیٹی ہے ، اس کے نیچے تھا ، اس نے مجھے Tax Evasionمیں ڈال دیا۔ Tax Evasion !یہ بھی تو کوئی پو چھے ۔ تیسری دفعہ پیپلز پارٹی گورنمنٹ میں ، اس میں Somnebody wanted to take ….۔اینکر : پھر آ پ NABکے تحلیل دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر آ پBetter Check & Balances دیکھنا چاہتے ہیں ؟ میاں منشا: میرا یہ خیال ہے کہ یہ ادارہ اب بدنام ہو گیا ہے ،Many people have been employeed here on merit when I go there ، ہم سے جو پو چھ گچھ کرتے ہیں ، ان کو Knowledgeبڑی ہے ،And the are Good People، یہ جو باہر سے اوپر سے لائے جا تے ہیں کہ فلانے کو تنگ کریں ، فلانے کو تنگ کریں ،وہ اپور والے پانچ ، ساتھ بندے ہوں گے ۔ But basically these people should be transferred ۔اینکر : ادارے یا قوانین کا مسئلہ ہے یا مداخلت یاInterventionکا مسئلہ یعنی جب آپ کو کوئی فوجی فو ن کرے گا تو ادھر سے فون آ ئے گا یا اوپر سے سیاسی حکومت کی طرف سے فون آئے گا، آپ فائلیں نکالیں گے ، آپ Harrasment شروع کریں گے جب ان کے سیاسی اہداف حا صل ہوں گے ، آپ فائل نکال لیں گے ، آپ Case Withdrawکریں گے ،This is the interference, the problem۔ میاں منشا: Yes۔ میں تو خیر سیاستدان نہیں ہوں ،But وہ Pervieveکیا جاتا ہے کہ فلانے کا دوست ہے فلانے کا دوست ہے ۔

Categories
پاکستان

تمہارے ملک میں کیا ڈرامہ لگا ہوا ہے ؟ایک آتا ہے تو جانیوالے کو چور چور کہہ کر اپنا وقت گزارتا ہے اور پھر چور قرار دے کر فارغ کردیا جاتا ہے ۔۔۔۔ کچھ عرصہ قبل بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد نے کس پاکستانی کو یہ طعنہ دیا تھا ؟ شرمناک واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور پاکستانی بزنس مین میاں منشا اپنے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں ۔۔۔۔۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ economic advisory councilسے زیادہ لوگ گلہ کرتے ہیں کہ یہ wasted interestکی business councilsہیں آپ دیکھیں اس کے اندر آپ کے پاس بڑے نام ہیں آپ سمیت لیکن لوگ یہ کہتے ہیں

کہ یہ پالیسی بنانے والوں کا حصہ ہیں سب بزنس مین اور جو سبسڈیز بھی لیتے ہیں اپنی انڈسٹریاں چلاتے ہیں یہ خود beneficiariesہیں ان کی رسائی ہو جاتی ہے اعلیٰ ایوانوں کے اندر to the finance minister to the prime minister to theجو اہم ترین باڈیز ہیں تو نمبر ون اس کی افادیت کیا ہے نمبر ٹو کیا یہ آپ کو یہ نہیں لگتا کہ conflict of interestہے کہ جب سارے wasted interestبڑے بڑے ٹیکسٹائل سیمنٹ real estateآپ کا سیمنٹ سیکٹر پاور سیکٹر بینکرز فرٹیلائزرز یہ سارے اندر بیٹھے ہوئے ہیں بزنس مین is it does a make sense is it alright۔ میاں منشا :it does make sense you know people like me for example and i believe in this you know–کہ جی اگر یہ ہمیں کہا جائے کہ کوئی چیز privatizeہو گی so if you any thing to do with the economic council so you cant do any thingاب اس کو کہیں شروع تو کرنا ہے ناں you know we need toیہ تو ساری excusesہیں we have to get on this۔ اینکر :–آپ کو نہیں لگتا کہ EACمیں بیٹھ کر آپ لوگ پالیسی کو اس طرح influenceکرتے ہیں یا کرتے ہیں جو بھی EACsبنتی آئی ہیں ماضی میں بھی in from which you directly benifit۔ میاں منشا :–نہیں میرا خیال میں میں تو اتنی EACsمیں نہیں رہا but i dont think so۔ اینکر :you dont think so–۔ میاں منشا :people are integrity that i have seen–اور یہ ساری چیزیں جو ہیں یہ صرف جو نہ کرنے والے ہیں ناں ۔

اینکر :–کیوں کہ میں جو دنیا کے ماڈلز دیکھ رہی تھی اس میں آپ کی digitalاور virtual economyکے expertsبیٹھے ہوئے ہیں ٹاپ لیول economistبیٹھے ہوئے ہیں آپ کی develop economyکو دیکھنے والے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اس کا مطلب کہ دنیا کہیں اور آگے چلی گئی ہے economyکے پورے ماڈلز پورے فارمولاز تبدیل ہو گئے ہیں اور ہم کہاں بیٹھے ہیں آپ کو پتہ ہے میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں۔ میاں منشا :i have understood what are you saying–اس میں بھی آپ کو پتہ ہے ایک پلاننگ کا ایکسپرٹ ہے اس میں and there are some very serious bureaucrats and some the finance ministers also thereتو یہ اگر ہمارے پاس یہ چیزیں یا یہ لوگ نہیں ہیں جو from different works of lifeآ رہے ہیں اور وہ ہماری acquisitionنہیں ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ناں were we the prime minister should decideیہ جو privatizationپہلے ہوئی ہیں اس میں آپ بتائیں ناں کس میں گھپلا ہوا ہے۔ اینکر :–میں اس لئے پوچھ رہی تھی آپ کو یاد ہوگا شوکت عزیز صاحب کے ٹائم پر جب پہلے آئی پی پیز آئی تھیں تب rupee baseتھا لوکل investorsکے لئے returnاور اس کے بعد شوکت عزیز کے دور میں اس کوdollar baseکیا تو سارے investorsآگئے تو آپ کو پتہ ہے پھر یہ گلہ کیا جاتا ہے کہ کیوں کہ یہ رسائی تھی اور کیوں کہ یہ مدد کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی اور influenceکہ تحت یہ کام کیا گیا تھا تو پھر عوام کو مہنگی بجلی اور اربوں روپے کا ۔

میاں منشا :–دیکھو بی بی وہ وقت بھی جو تھا ہمیں گورنمنٹ نے بلا کر ہماری منتیں کیں کہ ہمارے پاس بجلی نہیں ہے آپ آ کر یہ ۔اینکر :–بی بی کے دور میں ؟ میاں منشا :–نہیں یہ بی بی کے بعد بی بی کے دور میں پہلے تو یہ ڈالر ریٹرن تھا on all these projectsبی بی کے وقت ہوئے ہم نے بھی دو اس میں خریدے بعد میں دس سال بعد AESکو ہم نے خریدا this is the modle all over the worldاب جب یہ exchange rateکا اتنا فرق ہوگیا کہ ساٹھ روپے کا ڈالر تھا اس وقت اور ہم نے جب دوبارہ ان سے بات کر کے کیا 160پر انہوں نے جب ہمیں بلا یا کہ یار یہ آپ ہمیں اتنی چھوٹ دے دیں اور i know even General Bajwa was involved in thatتو ہم نے انہوں نے بڑے اچھے لوگ لگائے i must say baber yaqoob was a Chief secretary inوہاں پر بلوچستان میں and the were technical expert we immediately gave them 500 billionsہم نے کہا چلو یہ ڈالر کا ختم کر دیتے ہیں and come back to 17% returnتو اس میں you can negotiate but then if you keep on changing things nobody will comeمیں آپ کو ایک دو exampleدیتا ہوں کہ شوکت عزیز i gave him he was the best out of the lordآپ جائیں دبئی تو کبھی ان کو ملیں مطلب اب ملو تو اب پوچھو کہ کیا ہوا تو اس میں یہ ہے کہ انہوں نے جب یہ دو چیزیں

مجھے ابھی بھی یاد ہیں ایک تو سیمنٹ پر بی بی جب جاتے ہوئے سیلز ٹیکس ختم کر گئیں فرنٹیر کے لئے اور باقیوں پر رکھا تو میں نے جا کر کہا کہ یہ bataاور servisکی دکان ہے جوتے دونوں بیچ رہے ہیں ایک میں ٹیکس ہے ایک میں نہیں ہے تو اس نے مجھے کہا کہ میاں صاحب یہ گورنمنٹ نے فیصلہ کیا ہے دو سال کے لئےif you like it or not this will not goاس وقت تو میں بڑا ناراض ہوا کہ یہ بڑی غلط چیز ہے اب میں سوچھتا ہوں کہ that was a very wide decision اسی طرح آئی سی آئی کو یہ لوٹے صبح ہو گئی ہے اب اس کو کوئی concessionدی تھی when a government gives concession right or wrong you must go on your commitment۔اینکر :–ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ حکومت فیصلے نہیں کر پا رہی ہے میا ں منشا صاحب ۔ میاں منشا :–دیکھیں میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں میں بنگلادیش کی پرائم منسٹر کو جانتا ہوں ان کے والد صاحب بھی ہمارے گھر آتے ہوتے تھے اور ڈھاکہ میں بھی ہمارا گھر ان کے ساتھ تھا میں نے جب ایک دن حسینہ باجی سے پوچھا وہ شام کو اس نے مجھے بولا مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ میں پتہ نہیں کدھر آگیا ہوں بتیاں وتیاں بند when i went to the study she was sitting there in a sarri i thoughtیہ نہیں ہو سکتی پرائم منسٹرbut she was the prime ministerتو میرے ساتھ اس نے بات چیت

شروع کی تو کہتی ہے تمہارے ملک میں یہ بتاؤ کہ یہ کیا چکر ہے میں نے کہا کیا کہ ایک جو پرائم منسٹر جا تاہے وہ چور ہے اس کا خاندان چور ہے اس کے ڈرائیور سارے چور ہیں اس کے بعد دوسرا آتا ہے وہ اس کو کہتا ہے تم چور ہو ساری چیز سنو تو میں نے کہا آپ کے ہاں بھی تو یہی ہے خالدہ ضیاء کے ساتھ آپ کا جھگڑا ہے اس نے کہا دیکھیں آپ کا اور ہمارا basicفرق ہے ہم ہڑتالیں کرتے ہیں جلسے کرتے ہیں but when Khalda Zia sign on a piece of paper when i come i never change and when she comes that is never change۔اینکر :–اور ادھر بالکل اس کے برعکس ہوتا ہے ۔ میاں منشا :–جی ۔ اینکر :–پالیسیاں چینج ہو جاتی ہیں صرف پھٹے چینج کرنے ہوتے ہیں نام چینج کرنے ہوتے ہیں وہی مسئلہ ہے کہ charter of economyآپ کی میثاق معیشت کہیں ناں کہیں standingہونا ضروری ہے یہ ملٹری establishmentسمجھتی ہے اس کی ضرورت کہ یہ poltical consensusجو ہے وہ ناگزیر ہے ملک میں ۔ میاں منشا :i thing they are smart people–وہاں پر بھی کوئی ایسی چیزیں ہوئی ہیں جو آپ کو پتہ ہے پچھلے ایک آدھ سال میں dont want to go into it you know but i think they also understand thisکہ یہ اب ہمیں کچھ stabilityلانی پڑے گی لیکن اس کے لئے پھر بھی اور بھی دھکا ادھر سے بھی لگنا چاہیے frankly the snap shot finish there is no role۔

Categories
پاکستان

پاکستان کے تمام ائیرپورٹس کی نجکاری کر دی جائے تو اسکا کیا زبردست فائدہ ہو گا ؟ شاندار تجویز دے دی گئی

لاہور (ویب ڈٰسک) اپنے ایک انٹرویو میں میاں منشا نے کہا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ کئی لوگ امریکہ میں بیٹھے ہیں ان کے نام کے وارنٹ نکلے ہیں اس میں امریکن ہیں، رشین ہیںIt is worked is dead ۔ مہاتیر نے کہایہاں پر یہ تو ہمارے یہاں بھی نہیں چلا تو ا س کو آپ کاپی نہ کرےLeak on you came to Pakistan ۔

اس نے ان کو بتایا کہ حکومت کو چھوٹا کرے۔ ان چیزوں کو ختم کرے آپ کامیاب ہوجائے گے اینکر: لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے، چھوٹا کرنے پر تو کوئی اختلاف نہیں کرے گا؟ بطور سرمایہ کار کیا لائحہ عمل ہونا چاہیے میا ں منشا: لائحہ عمل یہ ہونا چاہیے کہ اس سے نکلے کسی بھی قیمت پر ۔ نیشنل بینک ہےItʼs make a 50 billion in a year my bank more than that it is much bigger bank, so their is a mush opportunity cost also ۔نقصان نہیں ہورہا اس پر پر 50 بلین مزید منافع ہوسکتا ہے اینکر : گلے شکوے تو وہی ہونگے کہ آپ اپنے من پسند لوگوں کو نوز رہے ہیں میا ں منشاThese are issue to government need to tackle : آپ یہ دیکھے کہ میں نے جب سے یہ بینک takeover کیا ہے 186 ارب روپے تو میں نے ٹیکس دیا ہے اینکر: Income tax pay the after privatization of MCB bank 186Arb میاں منشا: مگر صرف ایم سی بی بینک نہیں ہے Turn around story ۔You have to give credit to the privatization of habib bank۔ اینکر: How do you make sure یہ میرٹ پر ہوتا ہے میا ں منشا: یہ جو بعد والی it will be very Transparent privatization ۔ مگر اس کا نتیجہ دیکھے کہ کیا ہوا ہے اینکر : ہم پی آئی اے ہوٹل سے آج تک جان نہیں چھڑا سکے میا ں منشا: میں یہ کہہ رہا تھا کہ یہ سارے بینک نجکاری کے بعد حبیب بینک ، ایم سی بی ، الائیڈ بینک ان کے نتیجہ دیکھے اس کے علاوہ آپ نجکاری

دیکھے ۔ اس ملک میں ایک بندے کو ٹیلی فون اگر چاہیے تھا تو دو سے تین سال ٹیلی فون نہیں ملتا تھا ۔ کسی کے گھر فون لگ جاتا تھا تو لوگ مبارک آباد دیتے تھے ۔ آج آپ دیکھے کہ پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے بعد ٹیلی نار، زونگ ، موبی لنک آیا ۔دنیامیں سب سے سستی ٹیلی فون کی سروس پاکستان میں ہے اینکر :–تحریک انصاف پی ایم ایل این پیپلز پارٹی unfortunatelyاتنا controversialہوجا تا ہے ایشو اور ویسے political interestسارے آجاتے ہیں آپ کے بائیکاٹ شروع ہو جائیں گے ریلیاں شروع ہوجائیں گی ایک دو لاشیں گر گئیں تو سارا کام ٹھپ ہو جاتا ہے کہیں ناں کہیں تو ہمیں inflationچاہیے معیشت کے ان بڑے فیصلوں کو politicalتبدیلی سے کہ جو بھی حکومت میں آئے نہ آئے ۔ میاں منشا :– یہ بینک جو privatizedہوئے تھے ایک دن شوکت ترین یوسف رانا حبیب بینک زبیر سومرو یو بی ایل الائیڈ بینک میں رشید صاحب تھے گورنر اسٹیٹ بینک اس وقت ڈاکٹر یعقوب تھا ہم نے بیٹھا اور سوچا کہ اس کا کیا کیا جائے 51ہزار آدمی were laid offوہاں پر وہ کیا اس کو کہتے ہیں یہ فوجی گاڑیاں کھڑی کر ی ہوئی تھی چندری گڑھ روڈ پر کراچی اور کہیں اسٹرائیک نہیں ہوئی becuase we paid our workers every bodyجو ساٹھ سال کی عمر تک اس کی تنخواہ ملتی تھی ہم نے ان کو پہلے ہی دے دی اور وہ دیکھیں نتیجہ میں آپ اپنا ہی بتاتا ہوں کہ میرے پاس اس وقت 13ہزار بندے تھے میں ان

کو سات ہزار پر لے آیا ایک دفعہ اب میرے پاس 22ہزار آدمی کام کر رہے ہیں so the same orginization more people are also employed۔اینکر :–سیاست ہو رہی ہے ناں جناب ۔ میاں منشا :yes–اور یہ سارے پریشر گروپ ہیں جو کہتے ہیں سڑکوں پر آئیں گے کوئی سڑکوں پر نہیں آئے گا we have done it alreadyیہ سارا ڈرامہ ہے اور اس میں آپ نے بالکل صحیح کہا کہ جتنا ہماری فوج کا خرچہ ہے ناں and i am telling you this honestlyیہ اتنا پیسہ ہر سال ڈوب جاتا ہے یہ discosآپ سے ۔اینکر :–ان کوprivatizeکرنے کی بھی بات ہو رہی ہے دس سالوں سے privatizeنہیں ہو سکے میرا مطلب ہے پاور سیکٹر کا پورا ایشو ہے ۔ میاں منشا :–اس کا بھی ہم نے اس وقت فیصل آباد کی بڈ بنائی کافی سال پہلے اس کے لئے ساری تیاری ہو گئی وہاں ملائیشین بھی تھے فلپائینی بھی تھے تو یہ ہم نے بنا یا ۔ اینکر :–میں منشا صاحب پاور سیکٹر پر بھی آؤں گی کیوں کہ ایک تو بہت گلے شکوے کیے جاتے ہیں کہ رینٹ سیکرز ہیں ادھر اس کے اوپر پھر حکومتی چیزیں ہیں لیکن میں آپ سے یہ کہنا چاہتی ہوں کیوں کہ یہ ساری چیزیں کہیں ناں کہیں اس سے جا کر ملتی ہیں اب آپ اس حکومت کی economic advisoryکا بھی حصہ ہیں پہلے تو بتائیں کوئی میٹنگ ہوئی ہے۔ میاں منشا :–نہیں ایک میٹنگ ہوئی ہے وہ زوم پڑی ہوئی ہے ۔ اینکر :–اس کے بعد نہیں ہوئی ۔ میاں منشا :–ابھی نہیں ہوئی lets seeکہ وہ ہوتی ہے there a some very goof people on the councilلیکن councilsتو بہت بنی ہیں آج تک ہمیں فیصلہ کرنا ہے follow upچاہیے یہ ساری میں نے جو کہا آپ کو کہ یہ ایئر پورٹ کو کر دیں ناں privatizeساروں کو لوگوں کو سہولت بھی ہو جائے گی اور اس ٹون سے you can spendدیکھیں دوسرے ملکوں میں duty free shopsہیں کتنی چیزیں بنی ہوئی ہیں ۔ اینکر :–میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ جب یہ بات کی جاتی ہے نمبر ون جس طرح آپ نے کہا کہ بات بھی سنا کریں پھر ایک تو آپ economic advisory councilsبھی بناتے ہیں مشاور ت نہیں ہو تی اگر ہوتی ہے تو بات پر عمل نہیں ہوتا دیکھا جاتا ہے

Categories
پاکستان

ڈالر مہنگا ہونے کا معیشت کو کیا خوفناک نقصان پہنچے گا ؟ نامور کاروباری شخصیت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

کراچی (ویب ڈیسک) معروف بینکار و صنعتکار میاں منشا نے کہا ہے کہ کچھ ایمرجنسی ایکشن تو لینا پڑے گا ۔ایک اںٹرویو میں میاں منشاء نے کہا کہ ہمارے لوگوں کی نفسیات تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کچھ کررہے ہیں۔ امپورٹ کم ہونگی۔ڈالر 200 ہوگیا ایکس چینج ریٹ اگر اتنی تیزی سے تبدیل ہوگاتو

ایکسپورٹ مہنگی ہوگی اور اس پر ٹیکس لگتا ہے 190 کے ڈالرپر 20 فیصد لگتا ہے تو 200 پر ٹیکس خود با خود بڑھ جائے گاThese are issue to government need to tackleمیا ں منشا نے کہا کہ مشرف کے زمانے میں 2008 تک باہر سے سرمایہ آیا۔ آپ ایکسپورٹ بڑھا لیں، امپورٹ کم کردے، یہ کام نہیں کرے گا۔ we have to get foriegn direct investment ۔ سرمایہ کار کو لانا ہے۔میں آپ کو چھوٹی سی مثال دیتا ہو۔ بینک آف ملائیشیا نے 2008 میں ایک بلین ڈالر کی انویسٹمنٹ کی and I am one of the few people ۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک دن میرے اکاؤنٹ میں بلین ڈالر آئے تھے ۔ ہمارے بینک نے they are still 20% ۔ وہ نتائج سے بہت خوش تھے۔ ہم نے درست سمت میں سرمایہ کاری کی۔ ہم ہر طرف سے گھرے ہوئے ہیں انڈیا سے ہمارا جھگڑا ہے ،ا فغانستان سے ہمارا جھگڑا ہے ، ایران سے ہمارا جھگڑا ہے ۔ اس وقت ہمارے ملک میں ائیر لائن آپریٹ کررہی ہے۔قطر یا emirates لے لیں۔ جو ٹکٹ وہ یہاں بیچتی ہیں ان کی فنڈ میں لمبی لمبی تاخیر ہورہی ہے۔ جو سرمایہ کار ہیں جو باہر سے آئے ہیں ان کو پیسہ ٹائم پر نہیں مل رہے ہیں۔ آپ لاہور ائیرپورٹ چلے جائیے آپ کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ جیسے کسی تھانہ میں آگئے۔ تمام ائیر پورٹز کو پرائیویٹ کرنا چاہیے۔ استمبول پرائیویٹ ہے، London is privatize ۔میاں منشانے کہا کہ یہ جو Turn around والی اسٹوری ہے یہ تو کئی مرتبہ ہم گھڑ چکے ہیں، جی ہم آکر ہم ٹھیک کرے گے وہ ہوتی بھی نہیں ہے۔ آپ کو معلوم ہے سیاسی حکومتوں کی زندگی دو سے تین سال رہی ہے ۔ میرا خیال ہے کہ Asad Umar is a very smart guy بہت ایماندار ہیں absolutely withdrawn ۔ ایک ماڈل ہے ملائیشیا میں خزانہ ۔ میں بندے لاؤ گا خزانہ کو ۔ اس کو revaluate کرے گے یہ تو مہاتیر ان کو بتایا مجھے اس لئے پتہ ہے کہ ہمارے مفادات جڑے ہیں ملائیشین سے ۔

Categories
پاکستان

حالات بہت خراب : پاکستانیوں کو قربانی دینا پڑے گی ۔۔۔۔ مریم اورنگزیب نے عوام کو سرپرائز کے لیے تیار کرنا شروع کردیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہاہےکہ پاکستانیوں کوقربانی دینا پڑیگی.ہنگامی معاشی اقدامات سے قیمتی زر مبادلہ کی بچت ہوگی،برآمدات سے متعلق معاشی پالیسی متعارف کروارہے ہیں، مقامی صنعت کاروں کو فائدہ ہوگا، کرنٹ اکاونٹ خسارہ کم ہوگا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ

آج جو سازشی کنٹینر پر کھڑے ہو کر 4 ہفتوں کی حکومت سے سوال کرتے ہیں ان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور تھوڑی شرم کرنی چاہیے کہ ڈالر 189 میں ان کی حکومت میں گیا، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر پچھلی حکومت نے دستخط کیے. عمران خان نے ان شرائط پر دستخط کیے جس کی وجہ سے آج پاکستان میں مہنگائی ہے،اس لئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ تمام غیرضروری لگژری اشیا کی درآمدات پر پابندی لگائی جارہی ہے. ملک ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے،ملک کے اندر ہنگامی صورت حال ہے، اس وقت پاکستانیوں کو ایک معاشی منصوبے کے تحت قربانی دینی پڑے گی اور یہ تمام چیزیں دو مہینوں کے لیے ہیں۔

Categories
پاکستان

ایسا کریں آپ ہی اقتدار سنبھال لیں ۔۔۔۔۔ مولانا فضل الرحمٰن کا عدلیہ سے حیران کن شکوہ

کراچی ( ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ عمران خان کی وجہ سے پاکستان کی سیاست بدنام ہوگئی ہے.عمران خان دنیا تمہیں جانتی ہے، تم پر اعتماد کو تیار نہیں، بیانیہ تبدیل کیا جارہا ہے،کسی ایک بات پر ٹھہر تو جاؤ، عدالت کا احترام کرتا ہوں

لیکن سپریم کورٹ سے ایک ہی شکوہ ہے کہ آپ نے کس کے کہنے پر ازخود نوٹس لیا.چیف ایگزیکٹو نے ایف آئی اے کے افسران کو تبدیل کیا، آپ نے سوموٹو کیوں لیا ؟ کس کے کہنے پر لیا،کیا جلسے میں عمران خان کی گفتگو پر اتنا بڑا اقدام لیا گیا؟ آپ آئیں، آپ حکومت کریں، آپ چیف ایگزیکٹو بن جائیں، عدلیہ کا اپنا کام ہے حکومت کا اپنا کام ہے، آپ ان لوگوں سے ڈرتے ہیں، یہ مخلوق عدالت کے سامنے کھڑی ہوگئی تو کیا کریں گے،عدالت آزادی کے ساتھ فیصلےکرے. پاکستان میں خاص لابی ماضی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا درس دے رہی تھی، جمعیت علمائے اسلام نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرنے والوں کی زبان بند کردی آ ج تک کوئی اسرائیل کی بات نہیں کرسکا ، عمرانی فتنے کوسمندر برد ہونے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کی شب مزار قائد کے سامنے نیو پریڈی اسٹریٹ پر تقدس حرمین نبوی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس سے جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری ، سندھ کے سیکرٹری جنرل مولانا راشد محمود سومرو ، مولانا عبدالکریم عابد ، سابق صدر آصف علی زرداری کے پولیٹکل سیکرٹری ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو ، اسلم غوری ، قاری محمد عثمان ، مولانا محمد غیاث ، مفتی اعجاز مصطفی ، عالمی مجلس ختم نبوت کے رہنما قاضی احسان ، مولانا سمیع الحق سواتی ، مولانا عمر صادق ، مولانا عبداللہ سومرانی ، قاری فیض الرحمن عابد ، مولانا فتح اللہ ضلع شرقی کے رہنما ،ضلع جنوبی کے امیر عبداللہ بلوچ ،نعت خواں حسان احسانی ،تاج محمد نایو،ضلع لاڑکانہ کے امیر علامہ ناصر خالد محمود سومرو ،بابر قمر عالم مولانا رشید نعمانی ، مولانا ڈاکٹر نصیر الدین ، مولانا حما د اللہ شاہ ، مولانا احسان اللہ ٹکروی اور دیگر نے خطاب کیا ۔اس موقع پر سابق صدر آصف علی زرداری کے سابق مشیر اور سابق صوبائی مشیر مذہبی امور ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو نے جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت کا اعلان کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ عمران خان کو ہم نے آئینی اور قانونی طریقہ سے ہٹایا ہے ، اب وہ غیر قانونی طریقہ سے آنے کی کوشش کر رہا ہے ۔

Categories
پاکستان

شیخ رشید کے اندر مینوفیکچرنگ فالٹ ۔۔۔۔۔ کامل علی آغا کا حیران کن بیان سامنے آگیا

کراچی (ویب ڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ معیشت مستحکم اور اصلاحات کر کے انتخابات میں جائیں گے سپریم کورٹ نے پارلیمان کا اور ہم نے سپریم کورٹ کا احترام کرنا ہے. مسلم لیگ ق کے رہنما کامل علی آغانے

کہا کہ شیخ رشید کے اندر کوئی مینوفیکچرنگ فالٹ ہے شیخ رشید کی گفتگو سے ق لیگ اور پی ٹی آئی کو نقصان ہوتا ہے. شیخ رشید جو گفتگو کرتے ہیں وہ کسی سیاسی کارکن کو زیب نہیں دیتی، شیخ رشید کی سو میں سے ایک آدھ بات پوری ہوجاتی ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی حکومت میں آکر تقرریاں اور تبادلے کر کے اپنی مرضی کی تحقیقات کرواکے عدالتوں سے اپنی مرضی کے فیصلے لے. سپریم کورٹ اس حوالے سے جو ازخود نوٹس لیا اس پرا نہیں سراہتا ہوں، وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے معاملہ میں ہم اہل خورشید بن گئے ہیں، ہم بعض معاملات میں سپریم کورٹ سے اتفاق کرتے ہیں بعض معاملات میں اتفاق نہیں کرتے، سپریم کورٹ نے پارلیمان کا اور ہم نے سپریم کورٹ کا احترام کرنا ہے۔

Categories
پاکستان

اے آر وائی اور عمران خان کے درمیان کب کیا ڈیل ہوئی ؟ مریم نواز کے انکشافات

کراچی(ویب ڈیسک)مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے سلمان اقبال کو 40 ارب روپ کا فائدہ پہنچایا. یہ اس کی اور وہ اسکی پشت پناہی اس لئے کر رہے ہیں کہ دونوں چوری میں برابر کے حصہ دار ہیں،

یہ فتنہ اس میڈیا کو بھی مغلطات دیتا ہے جس میڈیا نے اس کو عمران خان بنایا جس میڈیا نے اس کی دن رات خالی کرسیوں کے جلسے دکھائے جس میڈیا نےone side coverage دی آج یہ ایک میڈیا چینل کو چھوڑ کر جس کا نام اے آر وائی ہے . ایک میڈیا چینل کو چھوڑ کر یہ تمام میڈیا چینلز کے پیچھے پڑگیا ہے ان کو غدار کہتاہے ان کو ایجنٹ کہتا ہے ان کو بکاو کہتا ہے جانتے ہو یہ اے آر وائی کو کیوں کچھ نہیں کہتا ذرا سننا اے آر وائی ان سے مل کر ریاستی اداروں پر دھاوے بول رہا ہے. اے آر وائی جو اپنے اینکر ز کی ٹویٹرز میں ریاستی اداروں کومغلطات نکال رہا ہے وہ اور عمران خان یوں ہے جانتے ہو کیوں اس لیے کہ عمران خان کا قریبی دوست اے آروائی کا مالک سلمان اقبال سونے کا غیر قانونی تاجر عمران خان اس کو چالیس ارب روپے کا فائدہ پہنچایا عمران خان نے اس کا 10سے 12ارب کا ٹیکس معاف کیا. عمران خان نے اس کو چار ارب کا وال کال دے ڈالا بغیر کسی کاروائی کے اور یہ اس کی اور وہ اس کی پشت پناہی اس لئے کر رہے ہیں کہ دونوں چوری میں برابر کے حصہ دار ہیں ۔

Categories
پاکستان

ایک مجرمہ کس حیثیت سے سرکاری وسائل کا استعمال کر رہی ہے؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عمران اسماعیل نے مریم نواز کو تنقید کا نشانہ بنا دیا

کراچی: (ویب ڈیسک) سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مجرمہ کس حیثیت میں سرکاری وسائل کا استعمال کررہی ہے۔ سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز پر سرکاری وسائل کے استعمال پر کڑی تنقید کی ہے۔ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ مریم کو سرکاری پروٹوکول، سرکاری ٹی وی دیکر عوام کاپیسہ لٹایا جارہا ہے ایک مجرمہ کس حیثیت میں سرکاری وسائل کا استعمال کررہی ہے۔

Categories
پاکستان

حمزہ شہباز وزیراعلیٰ نہیں رہے!!! پنجاب میں اس وقت کوئی حکومت ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تجزیہ کاروں نے صاف صاف بتا دیا

لاہور: (ویب ڈٰیسک) تجزیہ کار منیب فاروق کا کہنا ہےکہ منحرف ارکان سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کےبعد اب حمزہ شہباز وزیراعلیٰ نہیں رہے اور صوبے میں اس وقت کوئی حکومت نہیں ہے۔ جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پروگرام آپس کی بات کے میزبان منیب فاروق نے کہا کہ پہلے اتنی بڑی تعداد میں لوگ ڈی سیٹ نہیں ہوئے، اب معاملہ واپس 16 اپریل والی صورتحال پر آگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانونی طور پرآرٹیکل 130 کے مطابق اب وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا دوسرا راؤنڈ ہوگا اس میں جو اکثریت لے گا وہی وزیراعلیٰ ہوگا۔ منیب فاروق کا کہنا تھا کہ اس وقت پنجاب میں کوئی حکومت نہیں ہے اور وزیراعلیٰ حمزہ شہباز اپنی اکثریت کھو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب اسمبلی کا اجلاس دوبارہ بلایا جائے گا جب کہ پنجاب میں اس وقت کوئی گورنر بھی نہیں ہے اور گورنر کے لیے نوٹیفکیشن بھی نہیں ہوسکا ہے، اب نیا گورنر آنے کے بعد ہی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے گا اور نئے سرے سے ووٹنگ ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پنجاب میں بہت کنفیوژن ہے کیونکہ اقلیت کی حکومت کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی اس کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے، اب آرٹیکل 130 بہت واضح ہے کہ حکومت کے پاس سے 25 لوگ مائنس ہوگئے ہیں اب ووٹنگ کا دوسرا راؤنڈ ہوگا۔ دوسری جانب جیونیوز کی ہی نشریات میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ حمزہ شہباز اب وزیراعلیٰ نہیں رہے اب وزیراعلیٰ کے لیے ووٹنگ دوبارہ ہوگی، منحرف ارکان کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا فیصلہ درست ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے مںحرف ہونے والے پنجاب اسمبلی کے 25 ارکان اسمبلی کو ان کی نشستوں سے برطرف کر دیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے 25 منحرف ارکان کے خلاف فیصلہ سامنے آگیا، الیکشن کمیشن نے مںحرف ہونے والے پنجاب اسمبلی کے 25 ارکان کے خلاف ریفرنس مںظور کرتے ہوئے انہیں اسمبلی کی نشستوں سے برطرف کردیا۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے تین رکن بنچ نے متفقہ فیصلہ سنایا جس نے منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر فیصلہ سنایا۔

Categories
پاکستان

25 پی ٹی آئی اراکین اسمبلی ڈی سیٹ!!!! مریم نواز کا ردعمل بھی آگیا

لاہور: (ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب کے 25 اراکین اسمبلی کو ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا بھی رد عمل سامنے آ گیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کچھ بھی کرلے، انشاءاللّہ شیر سے پنجاب چھیننے کا خواب چکنا چور ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ پنجابیوں کو اپنے صوبے کو فرح گوگی کی لوٹ مار اور تباہی کے حوالے کر دینے پر شدید غصہ ہے جس کا حساب وہ انتخابات میں چُکتا کر دیں گے۔ مریم نواز نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو دن رات گالیاں دینے والے عمران خان کو آج تھوڑی شرم تو آئی ہو گی مگر کہاں! دوسری جانب الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے مںحرف ہونے والے پنجاب اسمبلی کے 25 ارکان اسمبلی کو ان کی نشستوں سے برطرف کر دیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے 25 منحرف ارکان کے خلاف فیصلہ سامنے آگیا، الیکشن کمیشن نے مںحرف ہونے والے پنجاب اسمبلی کے 25 ارکان کے خلاف ریفرنس مںظور کرتے ہوئے انہیں اسمبلی کی نشستوں سے برطرف کردیا۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے تین رکن بنچ نے متفقہ فیصلہ سنایا جس نے منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر فیصلہ سنایا۔ ادھر اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے عمران خان کا امیدوار ہوں، عمران خان کہیں گے اسمبلی توڑ دیں تو آدھے گھنٹے میں اسمبلی توڑ دوں گا، مںحرف ارکان اسمبلی عبرت کا نشان بن گئے ان کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں، جہانگیر ترین اور حمزہ شہباز نے بہت پیسہ پھینکا لیکن پیسہ ان کے کوئی کام نہیں آیا۔ ۔ حمزہ شہباز شریف کے وزیراعلیٰ بننے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ جس کام کی بنیاد ہی غلط ہو جو ریت پر گھر بنایا گیا ہو ان کا یہی حال ہوتا ہے اس میں یہ خود ہی دفن ہوجاتے ہیں اور ان کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اول روز سے کہہ رہا ہوں کہ یہ الیکشن ہی غلط تھا اور یہ حلف بھی غلط تھا اور اب یہ ثابت ہوگیا، آئندہ کا لائحہ عمل یہ ہے کہ اب انہیں اٹھا کر باہر پھینکیں گے۔

Categories
پاکستان

موصوف وزیر نے کیا ناقابل یقین جواب دیا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) معروف مؤرخ ڈاکٹر عقیل عباس جعفری کی تحقیق کے مطابق پاکستان کے قیام کے فوراً بعد لاہور کے فلم سازوں کے ایک وفد نے اس وقت کے وزیرِ مواصلات سردار عبدالرب نشتر سے ملاقات کی تھی اور اس وفد کے اراکین نے نشتر صاحب کو بتایا تھا کہ

بھارت کے وزیر اعظم پنڈت نہرو خود فلمی صنعت کی ترقی میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ وزیرِ موصوف کا یہ بیانیہ تھا کہ فلم بنانے کا کام کافروں کو ہی کرنا چاہیے۔ریاست کی سرپرستی نہ ہونے اور سماج میں منفی رویوں کی بناء پر پاکستان کی فلمی صنعت ترقی نہ کرسکی ، اگر ریاستی سطح پر فلم کے لیے صنعت کی ترقی ہوتی تو آج سعودی حکام پاکستانی فلم سازوں سے مذاکرات کررہے ہوتے۔ سعودی عرب میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کو محسوس کرنا چاہیے اور اس کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔

Categories
پاکستان

اگر عام انتخابات کا اعلان ہوا تو تحریک انصاف کو اسکا فائدہ ہو گا یا نقصان ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی احمد اعجاز بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اس وقت پاکستان کو دو نوعیت کے شدید مسائل کا سامنا ہے، ایک سیاسی عدم استحکام اور دوسرا معاشی بحران۔ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اتحادی جماعتوں

کی تشکیل پانے والی حکومت اور بعض سیاسی حلقوں کا خیال تھا کہ سیاسی معاملات ہموار طریقے سے آگے کی طرف بڑھیں گے، مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔کچھ سیاسی و سماجی حلقوں کے مطابق عمران خان کا یہ کہنا ’حکومت سے باہر آ کر زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا‘، بظاہر درست ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور اِن کے فوری انتخابات کے مطالبے کی بدولت سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔سیاسی عدم استحکام میں مزید شدت معاشی بحران نے پیدا کر دی ہے۔ اس وقت ڈالر اُونچی اُڑان میں ہے۔ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور میاں شہباز شریف کی حکومت سخت فیصلے لینے سے گھبرا رہی ہے۔حالانکہ میاں شہباز شریف نے حکومت سنبھالتے ہی، لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اظہارکیا تھا کہ ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے، اس کے لیے غیر معمولی فیصلے کرنا ہوں گے مگر وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے اس طرح کے فیصلے تاحال نہیں ہوسکے ہیں۔بعض سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا مسلم لیگ ن کو ہے کیونکہ مسلم لیگ ن کا اسٹیک سب سے زیادہ ہے، اس لیے مسلم لیگ ن گھبراہٹ اور تذبذب کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔سیاسی مبصر پروفیسر ڈاکٹر سید جعفر احمد یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد مسلم لیگ ن زیادہ پریشان ہے۔پریشانی کی ایک وجہ، عمران خان کو ملنے

والی عوامی پذیرائی بھی ہے۔ اگر الیکشن جلدی ہو جاتے ہیں تو اتحادی حکومت میں شامل پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم و دیگر جماعتوں کو زیادہ خطرہ نہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھے گی اور اگر الیکشن شفاف ہوتے ہیں تو ایم کیو ایم بھی کراچی میں آٹھ نو سیٹیں نکال لے گی۔‘جیسے ہی پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کا خاتمہ ہوا اِن کی جانب سے فوری انتخابات کا مطالبہ پوری شدت کے ساتھ آیا۔ عمران خان نے وزیرِ اعظم ہاؤس سے نکلتے ہی عوامی جلسوں کا رُخ کیا اور اب تک کئی شہروں میں جلسے ہوچکے ہیں اور مزید سلسلہ جاری ہے۔مزید براں یہ اپنے کارکنوں کو اسلام آباد آنے کے لیے بھی تیار کر چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف، موجودہ حکومت کو تسلیم نہیں کرتی اور اِن کے اقتدار کو اپنے اقتدار کے خلاف سازش کا شاخسانہ قرار دیتی ہے۔پاکستان تحریکِ انصاف کے فوری انتخابات کے مطالبے کو بھی مختلف انداز سے دیکھا جا رہا ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ عمران خان کی حکومت کا جس انداز سے خاتمہ ہوا، اس سے عوام کے اندر ہمدردی کا عنصر پیدا ہوا اور عمران خان نے حکومت کے خاتمے کو اندرونی و بیرونی سازش قرار دے کر یہ آواز نیچے تک پہنچا دی، لہٰذا اگر اب جلد انتخابات ہوتے ہیں تو اس جماعت کو عوام کی تائید کی صورت سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔جبکہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ عمران خان جلد انتخابات کی صورت مبینہ طور پر ’سلیکشن‘ چاہتے ہیں۔ اس پہلو کا اظہار بلاول بھٹو زرداری کر

چکے ہیں۔15 مئی کو کراچی ایئرپورٹ پر استقبالی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا ’سلیکٹڈ دوبارہ سلیکشن کے لیے فوری انتخابات چاہتا ہے۔‘پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر سے جب یہ سوال پوچھا گیا ’پاکستان تحریکِ انصاف فوری انتخابات کا انعقاد محض اس لیے چاہتی ہے کہ اس کو عوام کی بھرپور تائید کا احساس ہوچکا ہے؟‘، تو اِن کا کہنا ہے ’فوری انتخابات کے انعقاد کا ہمارا مطالبہ محض اس بنیاد پر نہیں کہ ہم جیت جائیں گے، بلکہ ہم فوری انتخابات اس لیے چاہتے ہیں کہ غیر جمہوری طریقے سے آئی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، اس لیے عوام میں جا کر عوامی فیصلہ چاہتے ہیں۔‘جب اِن سے یہ پوچھا گیا کہ سیاسی جماعتیں موجودہ معاشی بحران کا حل نکالے بغیر اگلے انتخابات کی طرف بڑھتی ہیں تو معاشی بحران دوچند نہیں ہوجائے گا؟‘ تو پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ اس وقت ساری فیصلہ سازی منجمد ہے اور حکومت سے پیٹرول کی قیمت کا فیصلہ تک نہیں ہو رہا۔لہٰذا ہمارا خیال ہے کہ نگران حکومت، موجودہ غیر جمہوری حکومت سے زیادہ بہتر فیصلے کرسکے گی۔‘سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر رسول بخش رئیس کہتے ہیں ’اگر فوری انتخابات ہوتے ہیں تو پاکستان تحریکِ انصاف بڑا معرکہ مار سکتی ہے اور میرا خیال ہے کہ دو تہائی اکثریت سے بھی زیادہ جیت کو ممکن بنا سکتی ہے۔‘مسلم لیگ ن کے لیے انتخابات کے انعقاد کا مناسب وقت کون سا ہوسکتا ہے؟مسلم لیگ ن معاشی فیصلوں اور انتخابات کے مناسب وقت کے بیچ میں کہیں پھنسی

ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔اگر یہ کچھ معاشی فیصلے ایسے کرتی ہے، جس سے عوام کی معیشت پر بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں تو سابق حکومت کی معاشی بدحالی کا ملبہ اِن کے اُوپر آجائے گا۔ یہی احساس پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے سے تذبذب کا شکار کیے ہوئے ہے۔ایسے ناگوار فیصلوں سے محفوظ رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ فوری انتخابات کی طرف بڑھا جائے، مگر اس ضمن میں بھی مسلم لیگ ن متذبذب ہے۔گذشتہ دِنوں جب خواجہ آصف نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ کہا تھا ’ممکن ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل ہی انتخابات کرا دیں‘ تو آصف علی زرداری نے پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا تھا ’میاں صاحب کو سمجھا دیا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بعد الیکشن میں جائیں گے۔‘انتخابات کا انعقاد کب ہونا چاہیے،اس ضمن میں مسلم لیگ ن جماعتی سطح پر تقسیم کا شکار دکھائی دیتی ہے۔شہباز شریف کے تاثر سے لگتا ہے کہ وہ معاشی سطح پر قدرے استحکام لا کر سال بھر بعد عوام کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ اِن کی حکومت نے آکر ملک کو معاشی بدحالی سے نکال دیا ہے، اس احساس کے ساتھ جب یہ الیکشن میں اُتریں گے تو عوامی سطح پر اِن کی جماعت کو پذیرائی ملے گی۔جبکہ بعض مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ جلد الیکشن کی طرف جانا چاہیے اور گذشتہ حکومت کا ملبہ اپنے سَر نہیں لینا چاہیے۔سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر سید جعفر احمد کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے مسلم لیگ ن کنفیوز ہو چکی ہے۔

ان ہاؤس چینج پیپلز پارٹی کا فیصلہ تھا، زرداری نے نواز شریف کو اس پر قائل کیا۔ نوازشریف نے اپنی پارٹی کو اِن ہاؤس چینج کی اجازت دی۔ ان جماعتوں کا خیال تھا کہ ابھی انتخابات کو لگ بھگ ڈیڑھ سال کا عرصہ بچا ہوا ہے، عمران خان اپنی پسند کے فوجی آفیسر کو آگے لانا چاہتے ہیں، جو مبینہ طور پر اِن کی الیکشن میں فتح میں کردار ادا کرے گا۔ مگر میرے نزدیک یہ خام خیالی تھی۔ یہاں کل کیا ہوگا، کچھ نہیں کہا جاسکتا۔‘جب مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما پرویز رشید سے یہ سوال کیا گیا کہ مسلم لیگ ن فیصلہ سازی کے ضمن میں تذبذب کا شکار کیوں ہے، تو اِن کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن قطعی طورپر تذبذب کا شکار نہیں، یہ اپنے مؤقف اور سوچ میں بہت واضح ہے۔حکومت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک جس نے مختصر عرصے کے لیے کام کرنا ہوتا ہے جبکہ دوسری طرز کی حکومت نے مختصر عرصے کے لیے کام نہیں کرنا ہوتا بلکہ ایک فریضہ سرانجام دینا ہوتا ہے۔ ہمارا تذبذب نہیں بلکہ پاکستان کے مقتدر اداروں سے، پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے سوال ہے کہ وہ ہمیں نگران حکومت سمجھتے ہیں؟ہم نگران حکومت نہیں، ہم نے انتخابات میں جانا ہے۔ ہم سخت فیصلوں کے بعد 2023 تک کام کرنا چاہتے ہیں۔ سخت فیصلوں سے مقبولیت میں فرق پڑے گا، جس کو بہتر گورننس اور معاملات سنبھال کر واپس لیا جاسکتا ہے۔ ہم یہ تقاضا کرتے ہیں کہ سخت فیصلوں کے بعد وہ تعاون دیں جس سے سیاسی استحکام رہے اور

ہماری حکومت کو 2023 کا وقت مل پائے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ سارا بوجھ مسلم لیگ ن پر نہ رکھا جائے، اپنے اپنے بوجھ کو سب ادارے اور جماعتیں بھی محسوس کریں۔‘وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف، لندن میں اپنے بڑے بھائی میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد پاکستان آکر اتحادیوں سے مشاورت کے سلسلے کو آگے بڑھائے ہوئے ہیں۔ یہ سخت معاشی فیصلوں اور انتخابات کے انعقاد کے ضمن میں آصف علی زرداری، فضل الرحمن، خالد مقبول صدیقی، اختر مینگل سے ملاقاتیں کرچکے ہیں۔وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد لمحہ موجود تک، یہ محسوس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن معاشی میدان میں اتحادی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملا کر فیصلے کرے گی کہ عوامی سطح پر ناپسندیدگی کا سارا ملبہ اکیلے اِن پر نہ گرے۔وزیراعظم شہباز شریف کہہ چکے ہیں کہ اگر ہم آتے ہی تیل کی قیمتیں بڑھا دیتے تو عمران خان عوام سے کہتے کہ دیکھو! تمہارا خون چوسنے والی حکومت آچکی ہے۔تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں ’میاں شہباز شریف کی حکومت کو اس وقت بڑا چیلنج معاشی ہے۔ معاشی بدحالی سے نکلنا ہی اِن کا اصل امتحان ہے۔ اگر یہ اس میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو سیاسی سطح پر بھی کامیاب ہوجائیں گے۔ اس وقت حکومت پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے سے خوف زَدہ ہے، خوف کی وجہ ہے کہ ایسا کرنے سے اِن کی مقبولیت کا گراف نیچے گر جائے گا۔ اس لیے یہ معاشی فیصلوں سے اجتناب کر رہے ہیں۔‘مسلم لیگ ن معاشی فیصلوں اور انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے متذبذب ہے؟

اس ضمن میں ڈاکٹر رسول بخش رئیس کا کہنا ہے ’مسلم لیگ ن عوام کو اور آئی ایم ایف دونوں کو بہ یک وقت خوش کرنا چاہتی ہے، مگر ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ آئی ایم ایف کہتی ہے کہ سبسڈی ختم کردیں۔ اگر یہ سبسڈی ختم نہیں کرتے تو خزانہ خالی ہو جائے گا۔ اِن کی پالیسی یہ ہوسکتی ہے کہ عمران خان کو قید میں ڈالو، مقدمات کرو اور امریکہ سے مدد لو۔‘پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے پاکستان تحریکِ انصاف کو اقتدار سے محروم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یوں نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد دونوں جماعتوں کے لیے چیلنجز بھی بڑے ہیں۔تاہم پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن کی نسبت اپنے سیاسی مؤقف کے اظہار میں کسی نوع کے تذبذب سے پاک دکھائی دیتی ہے۔انتخابات کے انعقاد کے ضمن میں پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ پہلے اصلاحاتی عمل کو مکمل کیا جائے، بعد میں الیکشن کی جانب جایا جائے۔ کیا فوری انتخابات کی بجائے انتخابی اصلاحات و قانون سازی ہی پیپلز پارٹی کے پیش نظر ہے یا وجوہات دیگر ہیں؟اس سوال کے جواب میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید احمد شاہ کہتے ہیں ’پاکستان پیپلز پارٹی کو جلد انتخابات کے انعقاد کا کوئی خوف نہیں۔ عمران خان نے جو ملک کی معاشی و دیگر شعبوں کی تباہی کی ہے، اُس تباہی کا حل انتخابات ہی ہیں،مگر انتخابات سے قبل لوازمات ضروری ہیں۔ انتخابات کے ضمن میں الیکشن کمیشن کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ انتخابی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ پہلے یہ ضروری لوازمات کو

پورا کیا جائے پھر بے شک اکتوبر تک انتخابات کی طرف جایا جائے۔‘پاکستان تحریکِ انصاف کو اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد فی الوقت جو عوامی تائید جلسوں کی صورت حاصل ہو رہی ہے، اس کی بنیاد پر یہ انتخابی معرکہ مارکہ سر انجام دے پائے گی؟اس سوال کے جواب میں سیاسی تجزیہ نگار پروفیسر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں ’پاکستان میں روایت ہے کہ جب تک الیکشن کا اعلان نہ ہوجائے اور انتخابی مہم شروع نہ ہوجائے، اُس وقت تک کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کون آگے ہے اور کون پیچھے؟’اس وقت پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عوامی جلسے کر رہے ہیں۔ اِن کے مقابلے میں دیگر بڑی سیاسی جماعتیں جلسے نہیں کر رہیں، لہٰذا اس وقت جلسوں کی مَد میں ساری تحسین پر مبنیہ بحث عمران خان کے جلسے ہی سمیٹ رہے ہیں۔جس روز فیصل آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کا جلسہ تھا، اُسی روز گجرات میں مسلم لیگ ن نے جلسہ کیا، سماجی سطح پر دونوں جلسوں کو بڑے جلسے قرار دیا گیا اور پہلی بار جلسوں کے حوالے سے بحث بھی تقسیم ہوئی، جہاں عمران خان کے جلسہ کو سراہا گیا، وہاں مریم کے جلسہ کو بھی پذیرائی ملی۔جب مسلم لیگ ن انتخابی مہم میں اُترے گی اور جلسے کرے گی اور دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری اور دیگر جماعتوں کے رہنما بھی جلسے کریں گے تو اُس وقت موجودہ بحث کا رُخ تبدیل ہوچکا ہوگا۔پاکستان تحریکِ انصاف کو پنجاب کی سطح پر جلسے جلوسوں میں مریم نواز شریف کی صورت کتنا بڑا چیلنج ہوسکتا ہے؟اس حوالے سے پروفیسر حسن عسکری رضوی کا کہنا ہے ’عمران خان اور مریم نواز دونوں ہی عوام کے اندر مقبول ہیں۔ دونوں ہی سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ سخت زبان کا استعمال ہمارے ہاں زیادہ مقبولیت کھینچتا ہے۔ پھر یہ کہ مریم نواز شریف، شبہاز شریف کی نسبت زیادہ عوامی جلسے کرسکتی ہیں۔‘پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر کہتے ہیں ’پاکستان تحریکِ انصاف 2013 والی جماعت نہیں ہے۔ اب یہ انتخابات لڑنے اور جیتنے کا تجربہ حاصل کر چکی ہے۔ اب حالات بہت مختلف ہو چکے ہیں۔ ہمارے لوگ تین تین چار چار بار الیکشن لڑ چکے ہیں، علاوہ ازیں تگڑے اُمیدوار بھی ہمارے پاس ہیں۔‘انتخابات جیتنے کی سائنس کو اگر بروئے کار نہیں لایا جاتا اور حلقے کی سیاست میں الیکٹ ایبلز پر انحصار نہیں کیا جاتا تو پاکستان تحریکِ انصاف کیوں کر کامیابی سمیٹ سکتی ہے؟اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر رسول بخش رئیس کہتے ہیں ’حلقے کی سیاست کا رنگ بدل چکا ہے۔ تاریخ ہمیشہ خود کو نہیں دہراتی۔ حلقے میں روایتی سیاست کا طریقہ کار کمزور پڑ چکا ہے۔ غریب سے غریب آدمی کے پاس بھی موبائل فون ہے اور اُس کو معلوم ہے کہ ملکی سیاست میں کیا ہو رہا ہے، نیز سوشل میڈیا کا دور ہے۔ لوگ اپنے تئیں فیصلہ نہیں کرسکتے؟ یہ خیال درست نہیں۔ باقی جماعتوں کو یہی خوف ہے کہ اگر فوری انتخابات کی طرف جاتے ہیں تو پی ٹی آئی کو فائدہ ہوگا۔‘(بشکریہ : بی بی سی )

Categories
پاکستان

منحرف اراکین کے ڈی سیٹ ہونے پر عثمان بزدار بھی میدان میں آ گئے،حیران کن بات کہہ ڈالی

لاہور(ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کا ووٹ دینے والے تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کر دیا۔فیصلہ آنے کے بعد سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزادر کی جانب سے بھی ٹویٹ کیا گیا۔ تفصیلات کےمطابق پاکستان الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا۔ پاکستان تحریک انصاف

کے 25 منحرف ا رکان پنجاب ا سمبلی کے خلاف ریفرنس منظور، ڈی سیٹ قراردیدیا گیا۔پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اسمبلی نے وزیراعلٰی پنجاب کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دیا تھا جس کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے 25 منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس بھیجا گیا تھا۔الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرتے قرآنی آیت شیئر کی، اور کیپشن لکھا کہ’بےشک اللہ الحق ہے!! قرآنی آیت کا ترجمہ’جسے اللہ چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت’۔واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے ارکان اسمبلی کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق مسلم لیگ ق کے رہنماء اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ الیکشن ہوگا تو وفاق کا ہوگا ہماری مدت باقی ہے ، صوبائی اسمبلیاں توڑنے کے معاملے میں سب مل کر بات کریں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی فلم ناکام ہوگئی ہے ، ہم چاروں صوبوں کی اسمبلیاں ایک پیج پر ہیں ، آج ملتان میں عمران خان نے لانگ مارچ کی تاریخ دینی ہے ، کسی جماعت کے ساتھ جو بھی رول ہوگا اس کی عمران خان سے اجازت لیں گے ۔ مسلم لیگ ق کے رہنماء نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ وفاداریاں بدلنے والوں کیلئے عبرت کا نشان ہے، سب سے پہلےاللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ، اپنے وکلاء کی ٹیم اورچیف الیکشن کمشنرکا بھی شکریہ اداکرتاہوں جنہوں نے جمہوریت بچانے کیلئے کردار ادا کیا ۔ خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین صوبائی اسمبلی کے خلاف ریفرنس منظور کرتے ہوئے انہیں ڈی سیٹ کردیا ہے ، الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے 25 اراکین کو ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد حمزہ شہباز بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اکثریت کھو بیٹھے ۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری کی طرف سے بھیجے گئے ریفرنس پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تحت پنجاب اسمبلی کی رکنیت سے فارغ ہونے والوں میں جہانگیر ترین گروپ کے 18 ، علیم خان گروپ کے 5 اور اسد کھوکھر گروپ کے 2 اراکین شامل ہیں ۔

Categories
پاکستان

حمزہ شہباز کے بعد ڈپٹی اسپیکر کی بھی شامت آ گئی۔۔۔ شدید جھٹکا دے دیا گیا

لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکردوست مزاری کی نااہلی کیلئے درخواست دائر کردی گئی ۔ درخواست میں اسپیکر پنجاب اسمبلی کو نااہلی کامعاملہ الیکشن کمیشن بھجوانے کی استدعا کی گئی ہے ۔ارکان اسمبلی محمد رضوان اور شجاعت نواز کی جانب سے اسپیکر کو دی گئی ۔درخواست میں موقف اختیا ر کیا گیا کہ

دوست مزاری وزیراعلیٰ کے الیکشن میں غیر آئینی اقدامات کے مرتکب ہوئے ۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین صوبائی اسمبلی کے خلاف ریفرنس منظور کرتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا یہ فیصلہ تینوں ممبران نے متفقہ طور پراس فیصلے پر پہنچے مختصر فیصلہ چیف الیکشن کمشنر نے پڑھ کر سنایا.الیکشن کمیشن نے نااہلی سے متعلق ریفرنس پر اپنا فیصلہ آج سہ پہر 3 بجے سنانے کا اعلان کیا تھا چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے 25اراکین پنجاب اسمبلی کی خلاف بجھوایاگیا تھا اسے منظور کرلیا گیا ہے.الیکشن کمیشن نے ایک روز قبل اس کیس میں مدعا علیہان کو نوٹس جاری کیے تھے کمیشن نے 17 مئی کو ریفرنس پر اپنا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا اعلان 18مئی کو سنانے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے آرٹیکل63اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفررنس کے فیصلے کے بعد اس اعلان کو ملتوی کردیا گیا تھا جو آج سنایا گیا تھا.الیکشن کمیشن کا فیصلہ خاص طور پر آئین کے آرٹیکل 63 (اے) کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اہم ہے جو رواں ہفتے کے اوائل میں آیا تھا آرٹیکل 63 (اے) قانون سازوں کو وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے سلسلے میں، یا اعتماد کا ووٹ یا عدم اعتماد کا ووٹ، یا منی بل یا آئینی (ترمیمی) بل پرپارٹی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ووٹ دینے (یا پرہیز کرنے) سے روکتا ہے. اس آرٹیکل کی تشریح میں عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ پارٹی کی ہدایت کے خلاف ڈالے گئے ووٹوں کو شمار نہیں کیا جاسکتا اور انہیں نظر انداز کیا جانا چاہیے پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین کے ووٹوں نے حمزہ شہباز کو اکثریت حاصل کرنے میں مدد دی تھی جن کے خلاف عمران خان کے خط پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ان اراکین کو نااہل کرنے کے لیے ریفررنس الیکشن کمیشن کو بجھوایا گیا تھا انہوں نے مجموعی طور پر 197 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ سادہ اکثریت کے لیے 186 ووٹ درکار تھے.

Categories
پاکستان

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی کی تازہ ترین نمبر گیم۔۔۔ اہم خبر آ گئی

لاہور(ویب ڈیسک) وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پنجاب میں مخالفین کی تعداد 172 اور ہماری 177 ہے ، پچیس منحرف ارکان سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ آیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ چار سال دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹا ،

منحرف ارکان نے پی ٹی ائی کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے انحراف کیا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایک ہفتے پہلے تک عمران خان الیکشن کمیشن پر حملہ آور تھے، الیکشن کمیشن کے فیصلے سے پنجاب میں ن لیگ کی حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد ن لیگ اور اتحادیوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔دوسری جانب خبر یہ ہے کہ مسلم لیگ ق کے رہنماء اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ الیکشن ہوگا تو وفاق کا ہوگا ہماری مدت باقی ہے ، صوبائی اسمبلیاں توڑنے کے معاملے میں سب مل کر بات کریں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی فلم ناکام ہوگئی ہے ، ہم چاروں صوبوں کی اسمبلیاں ایک پیج پر ہیں ، آج ملتان میں عمران خان نے لانگ مارچ کی تاریخ دینی ہے ، کسی جماعت کے ساتھ جو بھی رول ہوگا اس کی عمران خان سے اجازت لیں گے ۔ مسلم لیگ ق کے رہنماء نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ وفاداریاں بدلنے والوں کیلئے عبرت کا نشان ہے، سب سے پہلےاللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ، اپنے وکلاء کی ٹیم اورچیف الیکشن کمشنرکا بھی شکریہ اداکرتاہوں جنہوں نے جمہوریت بچانے کیلئے کردار ادا کیا ۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین صوبائی اسمبلی کے خلاف ریفرنس منظور کرتے ہوئے انہیں ڈی سیٹ کردیا ہے ، الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے 25 اراکین کو ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد حمزہ شہباز بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اکثریت کھو بیٹھے ۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری کی طرف سے بھیجے گئے ریفرنس پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تحت پنجاب اسمبلی کی رکنیت سے فارغ ہونے والوں میں جہانگیر ترین گروپ کے 18 ، علیم خان گروپ کے 5 اور اسد کھوکھر گروپ کے 2 اراکین شامل ہیں ۔

Categories
پاکستان

ایک اور شاندار کامیابی:پاک ترک تعلقات نے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا

کراچی (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی این ایس بدر پاکستان اور ترکی کے مابین قریبی تعلقات کی بہترین مثال ہے، دونوں ممالک تاریخٰی اور بہترین تعلقات کی ڈور میں بندھے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے پاک بحریہ کے لیے تعمیر کیے جانے والے ملجم کلاس جہاز پی این ایس بدر

کی لانچنگ کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی، اس موقع پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ کورونا کے دوران جہاز کی تیاری دونوں ممالک کی بڑی کامیابی ہے، پاکستان ترکی کیساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے، مختلف شعبوں میں ترکی اورپاکستان کوبہترین معاونت حاصل ہے، دونوں ممالک بہترین تعلقات کی ڈور میں بندھے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ پی این ایس بدرترکی کےایم ایس اسفات کےتعاون سےکراچی شپ یارڈپرتیارکیاگیا ہے، پاک ترکی اشتراک سے 2 کارویٹ جہازوں کی تعمیرپاکستان اور 2 کی ترکی میں کی جارہی ہے،جہازجدیدہتھیاروں اورسینسرزسےلیس ہوں گے۔ مقامی سطح پر جدید سٹیٹ آف دی آرٹ ملجم کلاس جہازوں کی تعمیر ملکی شپ بلڈنگ اور ڈیزائننگ کی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنے گی۔ وزیراعظم ایک روزہ سرکاری دورے پر کراچی میں موجود ہیں، پی این ایس بدر کی لانچنگ تقریب کے بعد وہ کراچی کی معروف کاروباری شخصیات سے بھی ملاقات کریں گے جس کے دوران ملک کو درپیش معاشی مشکلات پر تجاویز دی جائیں گی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق قرض پروگرام کیلئے پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) سے مذاکرات کل سے دوحہ میں شروع ،25 مئی تک جاری رہیں گے۔ پاکستانی وفد کی سربراہی سیکرٹری خزانہ کریں گے جبکہ پاکستانی وفد میں وزارت خزانہ، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور وزارت توانائی کے نمائندے شریک ہوں گے اور تکنیکی مذاکرات کے بعد پالیسی مذاکرات میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بھی شریک ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پیٹرول، بجلی اور گیس پر سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی 86 روپے 71 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ اگر پاکستان کے مذاکرات کامیاب ہوگئے تو ایک ارب ڈالر کی قسط فوری جاری کرنے کی سفارش کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا اگلے مالی سال ایف بی آر ٹیکس وصولیوں کا ہدف 1100 ارب روپے تک بڑھانے کا مطالبہ ہے، آئی ایم ایف پالیسی ریٹ میں بھی کم ازکم ایک فیصد تک اضافے کا مطالبہ کررہا ہے۔

Categories
پاکستان

بالاآخر شہباز حکومت نے ہار مان لی!! نواز شریف کا حکومت چھوڑنے کا سگنل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قومی اسمبلی تحلیل کرنے پر غور

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے حکومت چھوڑنے کا سگنل دے دیا اور قومی اسمبلی تحلیل کر نے پرغور کیا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کے مستقبل کا فیصلہ ہوگیا ،ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے حکومت چھوڑنے کا سگنل دے دیا ہے۔

ذرائع نے کہا ہے کہ 2 اہم قوانین کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی تحلیل کر نے پرغور کیا جارہا ہے جبکہ نیب قوانین میں ترمیم ، الیکشن اصلاحات رواں اجلاس میں منظور کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ نگراں وزیراعظم اور چیئرمین نیب کے تقرر پر حکومت فوری مشاورت کرے گی ، اس سلسلے میں رات گئے اہم اجلاس میں موجودہ صورتحال پرتفصیلی مشاورت کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ قیادت بڑے فیصلوں کیلئے حمایت نہ ملنے پرمایوس ہے اور سیاسی استحکام اور بڑے فیصلوں کیلئے گارنٹی چاہتی ہے۔ اس سے قبل قومی اسمبلی کےلئے راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر مقرر کردیا گیا ہے، راجہ ریاض کو 16 ممبران کی جانب سے حمایت حاصل تھی، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سےکچھ دیر بعد باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری ہوگا۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے مںحرف ہونے والے پنجاب اسمبلی کے 25 ارکان اسمبلی کو ان کی نشستوں سے برطرف کر دیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے 25 منحرف ارکان کے خلاف فیصلہ سامنے آگیا، الیکشن کمیشن نے مںحرف ہونے والے پنجاب اسمبلی کے 25 ارکان کے خلاف ریفرنس مںظور کرتے ہوئے انہیں اسمبلی کی نشستوں سے برطرف کردیا۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے تین رکن بنچ نے متفقہ فیصلہ سنایا جس نے منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر فیصلہ سنایا۔ ادھر اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے عمران خان کا امیدوار ہوں، عمران خان کہیں گے اسمبلی توڑ دیں تو آدھے گھنٹے میں اسمبلی توڑ دوں گا، مںحرف ارکان اسمبلی عبرت کا نشان بن گئے ان کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں۔