Categories
منتخب کالم

بڑھتی نفرت کی سیاست کو کیسے ختم کیا جائے؟؟؟معروف کالم نگار انصار عباسی نے چند پر اثر تجاویز پیش کر دیں

اسلام آباد(ویب ڈیسک) کسی سیاسی رہنما سے یہ کیسی محبت ہے کہ اگر وہ سیاسی رہنما ٹھیک یا غلط یہ سمجھتا ہے کہ اُس کے ساتھ زیادتی ہوئی تو اُس کے ووٹرز سپورٹرز پاکستانی پاسپورٹ جلا دیں، پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کی بے حرمتی کریں اور فوج اور فوج کے

سربراہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائیں اور مطالبہ کریں کہ جو کچھ اُن کا رہنما مانگ رہا ہے وہ دیں ورنہ یہی کچھ ہو گا۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور اُن کی حکومت کی رخصتی کے بعد جو حالت اُن کے ووٹرز، سپورٹرز کی ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ پرامن احتجاج ضرور کریں، وہ جو کچھ غلط سمجھتے ہیں، اُس کے بارے میں تہذیب کے دائرے میں رہ کر بات بھی ضرور کریں لیکن یہ کیسی سیاست اور سیاسی وابستگی ہے کہ غصہ پاکستان پر نکالا جا رہا ہے۔ پاسپورٹ اور قومی پرچم کی بے حرمتی جیسی حرکت بے شرمی اور بے غیرتی کے زمرے میں آتی ہے جس کی سب کو مذمت کرنی چاہیے۔ ایسی حرکتوں پر عمران خان کو خود اور اُن کے پارٹی رہنماؤں کو فوری اور سخت نوٹس لینا چاہیے تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کی طرف سے فوج اور فوج کے سربراہ کے خلاف انتہائی غلیظ مہم اس لیے چلائی گئی کہ فوج نیوٹرل کیوں تھی؟ فوج نے عدم اعتماد کی تحریک میں عمران خان کا ساتھ کیوں نہ دیا اور یہ بھی کہ افواج پاکستان کے سربراہان نے نئے وزیر اعظم شہباز شریف کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کیوں کی؟ فوج اور جنرل باجوہ کے خلاف پی ٹی آئی کے مظاہروں میں نعرے بازی بھی کی گئی۔ یہ کھیل کتنا خطرناک ہے، اس کا پاکستان کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے؟ اس بارے میں عمران خان بھی جانتے ہیں اور تحریک انصاف کے دوسرے رہنما بھی۔

فوج نے گزشتہ روز اپنے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس فوج مخالف مہم کی مذمت کی۔ ایک اعلیٰ عسکری ذرائع نے مجھے بتایا کہ اُن کے پاس سب ثبوت موجود ہیں کہ یہ مہم کیسے شروع ہوئی کس کس نے کیا کردار ادا کیا لیکن اس موقع پر وہ اس بارے میں حقائق عوام کے سامنے نہیں لانا چاہتے۔ ان معاملات پر عمران خان صاحب اور تحریک انصاف کی لیڈرشپ کو بیٹھ کر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے۔ ایسی سیاست پاکستان کے لیے بہت خطرناک ہے۔ پہلے ہی سیاست میں بدزبانی، بدتمیزی اور بداخلاقی بہت زیادہ ہو چکی ہے، اب نئی حدیں پار کی جا رہی ہیں۔ سیاسی رہنما کوئی بھی ہو، عمران خان، نواز شریف، آصف علی زرداری یا کوئی اور، سیاسی جماعت کوئی بھی ہو تحریک انصاف، ن لیگ، پی پی پی یا کوئی اور، اندھی تقلید بہت خطرناک ہوتی ہے۔ نہ تو یہ سیاسی جماعتیں ہمارے ایمان کا حصہ ہیں اور نہ ہی یہ سیاسی رہنما ایسے کردار کے مالک ہیں کہ اُن سے کوئی غلطی نہیں ہو سکتی یا اُن کا ہر کہا اُس پارٹی کے ووٹروں سپوٹروں کے لیے قابلِ تقلید ہے۔ نجانے اس سیاست میں اتنی نفرت کیوں پیدا ہوگئی؟ اس کو کم کرنے کی بجائے اس کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ سیاسی بنیادوں پر معاشرے کی تقسیم گہری سے گہری ہوتی جارہی ہے جو چند سیاسی رہنماؤں کے ذاتی مفاد اور اُن کی Ego کی تسکین کا سبب تو بن سکتی ہے لیکن پاکستان، ریاست، اداروں اور عوام کے حق میں نہیں بلکہ ان سب کے لیے بہت خطرناک ہے۔

نفرت کی اس سیاست کو کیسے ختم کیا جائے، یہ وہ معاملہ ہے جس کے لیے سیاسی جماعتوں اور اُن کے رہنماؤں کو اپنے ماضی اور اپنے حال پر غور کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں پہل عمران خان اور تحریک انصاف کو کرنی چاہیے، ن لیگ اور پی پی پی بھی اپنے رویوں پر غور کریں۔ پی ٹی آئی اور ن لیگ کی سوشل میڈیا ٹیمیں گالم گلوچ، بدتمیزی، بدتہذیبی اور مخالفین یا تنقید کرنے والوں پر کیچڑ اچھالنے، جھوٹے الزامات لگانے کا بڑا ذریعہ ہیں۔ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو تواپنی اپنی سوشل میڈیا ٹیمز کو معاشرہ کی بہتری اور تربیت کے لیے استعمال کرنا چاہیے لیکن یہ تو اخلاقیات کو تباہ کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا میں کچھ وجوہات کی وجہ سے مخالف تھا جس کی بنیاد پر ن لیگ کی سوشل میڈیا ٹیم نے میرے خلاف قابلِ اعتراض مہم چلائی۔ جن اکاؤنٹس سے مجھے بُرا بھلا کہا گیا اُن میں سے بہت سوں کو مریم نواز صاحبہ خود فالو کرتی ہیں۔ جب میں نے واٹس ایپ، جے آئی ٹی اور رانا شمیم کے حلفیہ بیان پر خبریں دیں تو پی ٹی آئی سوشل میڈیا والے مجھے بُرا بھلا کہتے رہے۔ اگر یہ سیاست ہے تو ایسی سیاست عمران خان اور مریم صاحبہ کو ہی مبارک!

Categories
منتخب کالم

عمران خان کی ہائی برڈ حکومت بھی ناکام ، جانئے وہ وجوہات جو ہر بار پاکستانی نظام حکومت کے زوال کا سبب بنیں

لاہور(ویب ڈیسک)حماد غزنوی اپنے کالم میں لکھتے ہیں چوہوں پر بھی وہ تجربات نہیں کئے جاتے جو ہمارا مقسوم ٹھہرے ہیں۔کبھی بنیادی جمہوریت، کبھی محدود جمہوریت، کبھی اسلامی جمہوریت اور پھر ہائی برڈ نظام، حماقتوں کا ایک لامحدود سلسلہ، سب کا انجام ندامت، سب کا اختتام رسوائی، رائیگانی سی رائیگانی ہے، 75 سال بعد بھی ہم حیران کھڑے ہیں

کہ جانا کدھر کو ہے۔ عباقرۃ العالم کا کیا خیال ہے ایک مرتبہ ہر نوع کی گوٹا کناری سے بچ کر، کسی سابقے اور لاحقے کے بغیر،، سیدھی سادی۔ جمہوریت کو بھی آزما کر نہ دیکھ لیں؟ ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے۔ پچھلا ہفتہ بہت ہی طویل تھا۔عدم اعتماد کی تحریک کے آغاز ہی سے عمران خان کی ’خوش نیتی‘ اور آئین ’دوستی‘ عیاں تھی، پہلے تو انہوں نے چودہ دن کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے والی ایک واضح اور سادہ آئینی شق سے سرکشی کی، اور پھر اجلاس بلایا تو اسے آخری دن تک لٹکایا اور پھر آخری دن عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ تحریک ایک بیرونی سازش کا شاخسانہ ہے، جس میں اپوزیشن میر جعفر کا کردار ادا کر رہی ہے، یعنی ستّر فی صد عوام اور ان کے نمائندے غدار قرار دے دیے گئے۔ یہ آئین سے صریحاً انحراف تھا، اور پھر سپریم کورٹ نے بھی اسے آئین شکنی قرار دیا۔عدالتِ عظمیٰ کے اس واضح فیصلے کے باوجودکپتان آئین شکنی کے رستے پر ڈٹ کے کھڑا رہا۔ نو اپریل کو تقریباً 12گھنٹے تک ووٹنگ سے انکار کے نتیجے میں ریاست کی طاقت حرکت میں آئی، عدالتوں کے دروازے کھل گئے، پرزن وین پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گئی، رینجرز نے پوزیشن سنبھال لی، اور عمران خان کو مبینہ طور پر طاقت ور اداروں کی لیڈرشپ نے مشورہ دیا کہ آئین کے سامنے سرنگوں ہونے میں ہی ہم سب کی بھلائی ہے،تب کہیں جا کر عمران خان کو بات سمجھ آئی، جون بھائی نے کہا تھا ’علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جائوں، وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے‘۔

پروجیکٹ عمران خان کا آغاز 2011 میں ہوا، یہ بُت بہت محنت سے تراشا گیا، پھر برہنہ بیساکھیوں کے سہارے 2018 میں اسےقصرِ اقتدار میں نصب کر دیا گیا، بتانے والوں نے بتایا کہ سیاست دان برے لوگ ہوتے ہیں، عمران خان سیاست دان نہیں ہیں لہٰذا جملہ برائیوں سے پاک ہیں، اور اب وہ سیاست میں حصہ لیں گے ( ڈونلڈ ٹرمپ سمیت بہت سے سیاست دانوں نے یہی لبادہ اوڑھ کرسیاست کی ہے)۔ روزِ اول سے عمران خان کی سیاست کا تعلق دماغ سے نہیں بلکہ جذبات سے رہا ہے، یعنی ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر، نوے دن میں کرپشن ختم اور قوم کے لوٹے ہوئے اربوں روپے دنوں میں واپس (داتا دربار کے سامنے والے باغ میں کچھ سریع الاثر مقویات بیچنے والوں کے دعوے یاد آ گئے)۔ یہ دعوے پورے نہیں ہو سکتے تھے، سو نہیں ہوئے۔ اپنے اکثر سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈالنے کے باوجود نہ تو عدالت میں ایک کیس ثابت ہو سکا، نہ مبینہ لوٹی ہوئی دولت کا ایک روپیہ بازیاب ہو سکا، معیشت تباہ ہو گئی، افراطِ زر اور بے روزگاری نے عوام کو دبوچ لیا، ریکارڈ قرضہ لیا گیا، اورکرپشن کے درجنوں اسکینڈلز سے صرفِ نظر کیا گیا۔ عمران خان کے دور میں پاکستان بین الاقوامی کرپشن پریسپشن انڈیکس میں سولہ درجے گر کے 140ویں نمبر پر یونہی تو نہیں آ گیا تھا۔ اس صورتِ حال میں حکومت کی بے ڈھب کارکردگی کا بوجھ ’سیم پیج‘ کے سب دستخط کنندگان محسوس کرنے لگے۔ مطلق العنانیت غالباً عمران حکومت کاسب سے افسوسناک پہلو تھا، وہ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھتے تھے،

لہٰذا آزاد میڈیا کا گلا گھونٹا گیا، آزاد ججوں کے خلاف ریفرنس بنائے گئے، الیکشن کمیشن پر چڑھائی کی گئی اور سیاسی مخالفین کا ناطقہ بند کیا گیا۔ یہ مبالغہ نہیں ہے کہ عمران خان اپنی انا و عشوہ و انداز کے شہید تھے، ایک دیوتا، حکومت کرنا جس کا پیدائشی حق تھا، اور جس کے سامنے سر جھکا کر دوزانو بیٹھنا بلا امتیاز ہر کسی کا فرض تھا، اور آخر ایک دن اسی نفسیاتی کیفیت میں انہوں نے اپنے محسنین کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیا۔ جب انہوں نے اپنے اقتدار کے دوام کی خاطر سکیورٹی اداروں کی اہم تعیناتیوں میںبے جا مداخلت شروع کی تو ادارے میں انتہائی بے چینی محسوس کی گئی، اور ادارے کے بہترین مفاد میں ’نیوٹرل‘ ہونے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ عمران خان کی لیے یہ ایک مشکل صورتِ حال تھی کیوں کہ انہیں اپنے پائوں پر کھڑے ہو کر حکومت کرنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا، اب تک ان کے تمام سیاسی اور غیر سیاسی مسائل کا حل کوئی اور نکالتا رہا تھا۔حکومت کی عدم توجہی کا شکار، اس کے ناراض اتحادی بھی یہ سارا منظر بہ غور دیکھ رہے تھے، اور جب انہیں آزادی کا احساس ہوا تو وہ حکومتی بنچ چھوڑ کر اپوزیشن سے جا ملے اور حکومت زمیں بوس ہو گئی۔ اب ایک بار پھر عمران خان عوام کے پاس جا رہے ہیں، اس دفعہ ان کے نعرے پہلے سے بھی زیادہ خلافِ عقل، بے بنیاد اور بے سروپا ہیں، یعنی ان کے خلاف عالمی سازش ہوئی ہے اور پاکستان کے تمام سیاست دان اس سازش میں شریک ہیں۔

نئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس قضیے کا موزوں حل نکالا ہے کہ پارلیمان کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی تمام عسکری قیادت کو ساتھ بٹھا کر اس خط کا معاملہ دیکھے گی۔لگ کچھ یوں رہا ہے کہ ’گروہِ عاشقاں پکڑا گیا ہے، جو نامہ بر رہے ہیں ڈر رہے ہیں‘۔یہ بہترین موقع ہے کہ آئین کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہونے پر عدلیہ اور عسکری قیادت کو بغیر لگی لپٹی کے بھرپور داد دی جائے، اس لمحے کا تو ہر جمہوریت اور آئین پسند کو دیر سے انتظار تھا۔ جی، ہمیں معلوم ہے کہ ماضی میں ان سے کوتاہیاں بھی ہوئی ہیں، جی، ہم نے کچھ اور بھی سرگوشیاں سنی ہیں لیکن لمحۂ موجود میں ان کی بالغ نظری کا اقرار نہ کرنا ناانصافی ہو گی۔ آپ بس ان کی ثابت قدمی کی دعا کیجیے اور نعرہ لگائے پاک فوج زندہ باد!

Categories
منتخب کالم

وقت سے پہلے انتخابات!!!!! 90 دن میں انتخابات کروانے کا الیکشن کمیشن کے پاس کیا راستہ ہو سکتا ہے؟ چشم کشا حقائق منظر عام پر

لاہور: (ویب ڈیسک) عمر دراز ننگیانہ لکھتے ہیں کہ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی اور نئے وزیر اعظم کے حلف اٹھانے کے بعد بھی عام انتخابات کی باز گشت جاری ہے جس کی ایک بڑی وجہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف کا یہ مطالبہ ہے کہ فوری طور پر الیکشن کروائے جائیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے تین اپریل کو اعلان کیا تھا کہ انھوں نے صدر عارف علوی کو اسمبلیاں تحلیل کرنے اور عام انتخابات کروانے کی تجویز دے دی ہے جس سے پہلے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو ڈپٹی سپیکر نے مسترد کر دیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس رولنگ کو کالعدم قرار دیا جس کے نتیجے میں اسمبلی توڑنے کا عمل بھی غیر آئینی قرار پایا۔ 11 اپریل کو جب ایک طرف نئے وزیر اعظم شہباز شریف منتخب ہو چکے تھے تو تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ ’ہم فوری انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں کیونکہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے عوام کو فیصلے کا موقع دیا جائے کہ وہ کسے اپنا وزیراعظم منتخب کرنا چاہتے ہیں۔‘ مسلم لیگ ن کا البتہ موقف ہے کہ اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کرے گے۔ دوسری طرف تحریک انصاف چیئرمین اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کر چکے ہیں اور عوامی اجتماعات کے ذریعے حکومت پر دباو ڈال سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو یہ بیان دے چکے ہیں کہ عام انتخابات سے قبل الیکشن اصلاحات بھی ضروری ہیں لیکن اب تک اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی اور نہ ہی ان مجوزہ اصلاحات کا کوئی خد و خال سامنے آیا ہے۔

الیکشن کمیشن کتنی جلدی الیکشن کروا پائے گا؟ ایسے میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر کسی صورت عام انتخابات کروانے کا فیصلہ ہو بھی جائے تو الیکشن کمیشن کتنی جلدی الیکشن کروا پائے گا کیوں کہ حال ہی میں پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ ملک میں عام انتخابات کم از کم سات ماہ سے قبل نہیں ہو سکتے کیوں کہ صرف انتخابی حد بندیوں کے لیے اضافی چار ماہ درکار ہیں۔ پاکستان میں انتخابات کے لیے ذمہ دار ادارے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس سے پہلے ایک خط کے جواب میں صدرِ پاکستان کو اس بات سے آگاہ کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ جب تک نئی حلقہ بندیاں نہ ہوں، انتخابات صاف اور شفاف نہیں ہو سکتے۔ صدرِ پاکستان عارف علوی کی طرف سے حال ہی میں الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھا گیا تھا جس میں صدر نے کمیشن سے 90 دن کے اندر انتخابات کروانے کے لیے تاریخ تجویز کرنے کو کہا تھا۔ صدر کی طرف سے یہ خط قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے چند روز بعد لکھا گیا تھا۔ تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جوابی خط کے ذریعے صدر کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت صاف اور شفاف انتخابات کروانے کے لیے اسے رواں برس اکتوبر تک کا وقت چاہیے۔ سات ماہ کا وقت مانگنے کی بڑی وجہ الیکشن کمیشن نے یہ بتائی ہے کہ اسے آبادی کے نئے تخمینے کے حساب سے نئے انتخابی حلقوں کے لیے حلقہ بندیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ ’آئین اور الیکشن کے قوانین کے مطابق نئے حلقے کی حد بندی الیکشن کروانے کے لیے بنیادی قدم ہے۔‘ تاہم انتخابی امور کے ماہر اور سابق سکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی تجویز میں صدارتی ریفرنس کے ذریعے الیکشن کمیشن کو پرانی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر ‘ایمرجنسی’ انتخابات کروانے کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس ایک مسئلے کے علاوہ قومی اسمبلی کی نشستوں میں کمی کے بعد صوبہ خیبرپختونخوا میں نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت اور انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کا معاملہ بھی جلد انتخابات منعقد کرانے کی راہ میں حائل ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا ان تمام قانونی، آئینی اور تکنیکی مسائل کے باوجود الیکشن کمیشن کے پاس کوئی ایسا راستہ ہے کہ وہ 90 دن میں الیکشن کروا پائے؟

نئی حلقہ بندیاں کیوں نہیں ہو پائیں؟ ایڈیشنل سکریٹری الیکشن کمیشن منظور اختر کی طرف سے صدر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 51(5) اور الیکشن قوانین 2017 کے سیکشن 17 کے مطابق نئی حلقہ بندیاں آبادی کی اس آخری مردم شماری کی بنیاد پر کی جاتی ہیں جو سرکاری طور پر شائع کی جا چکی ہو۔ الیکشن کمیشن نے صدر کو بتایا ہے کہ سنہ 2017 میں ہونے والی چھٹی مردم شماری کے عبوری نتائج جنوری 2018 میں شائع کیے گئے تھے۔ ان عبوری تنائج کے مطابق الیکشن کمیشن نے اُس سال ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات کے لیے حلقہ بندیاں کی تھیں لیکن یہ ایک وقت کے لیے دی گئی رعایت تھی جو آئین کے آرٹیکل 51(5) میں ترمیم کے ذریعے ملی تھی۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے حتمی نتائج کی اشاعت قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں کے لیے آئینی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن نے خط میں لکھا کہ کمیشن نے اپنی طرف سے مردم شماری کی حتمی فہرستوں کی سرکاری طور پر اشاعت کے لیے کوششیں کیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ‘اس کے لیے چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے مئی 2020 میں وزیرِ اعظم کو خط لکھا گیا۔ اسی طرح مئی 2020 سے لے کر جنوری 2021 تک قانون اور پارلیمانی امور کی وزارتوں کو پانچ مرتبہ علیحدہ علیحدہ خطوط لکھے گئے۔’ الیکشن کمیشن کے مطابق اس کے علاوہ دو خطوط ادارۂ شماریات اور ایک خط قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سکریٹریز کو بھی لکھے گئے لیکن یہ اشاعت وقت پر نہیں ہو پائی۔ ‘صدارتی ریفرنس کے ذریعے پرانی حلقہ بندیوں پر الیکشن ممکن ہے‘ تاہم انتخابی امور کے ماہر اور سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں وہ یہ تجویز دیں گے کہ اگر انتخابات کروانا پڑ جائیں تو اس کے لیے ایک صدارتی ریفرنس کے ذریعے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ ‘اگر صدر ایک آرڈیننس جاری کر دیں کہ انتخابات سنہ 2018 کے انتخابات والی پرانی حلقہ بندیوں کے مطابق کروا لیے جائیں تو قانونی طور پر الیکشن کمیشن کو اختیار مل جائے گا اور وہ الیکشن کروا سکتے ہیں۔’
فاٹا کے خاتمے پر قومی اسمبلی کی چھ نشستوں میں کمی: صدر کو لکھے گئے خط میں الیکشن کمیشن نے ایک اور آئینی مسئلے کی طرف ان کی توجہ مبذول کروائی ہے۔ یہ مسئلہ سابقہ فاٹا یعنی قبائلی علاقوں کا 25ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کا ہے۔ ان علاقوں کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں چھ نشتیں کم ہو گئی ہیں یعنی قومی اسمبلی کی کل نشستیں 272 سے کم ہو کر 266 رہ گئی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اس کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں نئی حلقہ بندیاں کرنے کی ضرورت تھی تاہم یہ حلقہ بندیاں اس لیے نہیں کی جا سکیں کیونکہ ادارۂ شماریات نے مردم شماری کے سرکاری نتائج شائع نہیں کیے تھے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ نئے انتخابات کے لیے اسے کم سے کم سات ماہ درکار ہوں گے کیا الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں استعمال ہو پائیں گی؟ نئے انتخابات کے لیے الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے استعمال کے حوالے سے ابہام تاحال موجود ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے نہ تو کوئی بیان جاری کیا ہے اور نہ ہی صدر کو لکھے خط میں اس کا کوئی ذکر ہے۔ سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے پارلیمان کے ذریعے الیکشن قوانین 2017 میں ترامیم کے ذریعے ای وی ایم اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا قانون منظور کروا لیا تھا۔ تاہم اس قانون سازی میں اپوزیشن کی جماعتیں شریک نہیں ہوئی تھیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت اس بات کی طرف اشارہ کر چکی ہے کہ آئندہ انتخابات ای وی ایم کے ذریعے ہوں گے۔ تاہم کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے لیے اس موقع پر ای وی ایم پر الیکشن کروانا ممکن نہیں ہو گا۔ ‘ایمرجنسی صورتحال میں الیکشن کروانے میں الیکشن کمیشن کے لیے ممکن نہیں ہو گا کہ وہ اتنی جلدی ای وی ایم پر انتخابات کروا سکے۔ اس کے لیے لاکھوں میں مشینیں خریدنا ہوں گی، اس کے بعد لاکھوں کے عملے کو ٹریننگ دینا ہو گی اور پھر نتائج کو مرتب کرنے کا طریقہ کار بنانا ہو گا۔’ ان کے مطابق اس تمام عمل کے لیے وقت درکار ہو گا جو کہ تین مہینے میں مکمل نہیں کیا جا سکتا۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانی شہریوں کو ووٹنگ کا حق دینے کے حوالے سے کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ وہ بھی الیکشن کمیشن کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔ اپوزیشن کی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتیں پہلے ہی ان دو معاملات پر خاص طور پر اعتراضات کر چکی ہیں۔ حزبِ اختلاف کی جماعتیں نئے انتخابات سے پہلے انتخابی اصلاحات چاہتی ہیں جن میں ان دونوں معملات کو بھی دیکھا جانا تھا۔ الیکشن کمیشن نے تاحال اس حوالے سے کوئی وضاحت جاری نہیں کی کہ کیا بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ووٹ ڈال سکیں گے یا نہیں۔ بی بی سی نے اس حوالے سے جاننے کے لیے الیکشن کمیشن کے ترجمان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو پایا۔ ‘صرف الیکشن کمیشن کو تاخیر کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا’ الیکشن کمیشن نے صدر کو لکھے خط میں بتایا کہ کونسل آف کامن انٹرسٹس کی طرف سے مردم شماری کے نتائج شائع کیے جانے کے بعد الیکشن کمیش نے نئی حلقہ بندیوں کا کام شروع کیا ہی تھا کہ حکومت نے اعلان کر دیا کہ وہ نئی ڈیجیٹل مردم شماری کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے بعد کمیشن کو نئی حلقہ بندیوں کا کام روکنا پڑا تھا۔ خط میں کہا گیا کہ کمیشن نے اس حوالے سے پارلیمانی امور کی وزارت کو دو خط لکھے جن میں رواں سال کے آخر تک ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج شائع کرنے کا کہا گیا تھا تاکہ نئی حلقہ بندیوں کا کام وقت پر مکمل کیا جا سکے۔ تاہم کمیشن کے مطابق ‘انھیں وزارت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا جس کی وجہ سے حلقہ بندیوں کے کام میں تاخیر ہوئی۔’ الیکشن کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتخابات کروانے کی ذمہ داری صرف کمیشن کی نہیں ہے اور اس کے لیے وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے ملنے والی آرا پر انحصار کرتا ہے۔ اس لیے صرف کمیشن کو کسی تاخیر کا واحد ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ الیکشن کمیشن کے خط میں کہا گیا ہے کہ تین ماہ کی مدت کے علاوہ انھیں حلقہ بندیوں کے لیے مزید چار ماہ درکار ہوں گے۔

Categories
منتخب کالم

وزارت اعلیٰ کا انتخاب!!!!! لاہور میں کس نے 150 کمرے بک کروائے؟ وہاں کسے ٹھہرایا گیا؟ چشم کشا حقائق منظر عام پر

لاہور: (ویب ڈیسک) ارشد چوہدری لکھتے ہیں کہ” پنجاب میں 16 اپریل کو ہونے والے وزارت اعلیٰ کے انتخابات کے لیے اراکین اسمبلی لاہور میں رہنے پر مجبور ہیں اپوزیشن کی جانب سے لاہور کے دو ہوٹلوں میں 150 کمرے بک کرائے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے مطابق اپوزیشن نے اراکین کو ہوٹلوں میں بند کر رکھا ہے ان سے رابطوں میں بھی مشکلات ہیں لیکن متحدہ اپوزیشن کو انتخاب میں سرپرائز دیں گے۔

پی ٹی آئی اور ق لیگ کے اراکین اپنے گھروں میں رہائش پذیر ہیں مگر انہیں لاہور میں ہی رہنے کی ہدایت ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن نے لاہور کے دو نجی ہوٹلوں میں 150 کمرے کرائے پر لیے ہیں اور اراکین کو وہیں رکھا گیا ہے۔ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے مقامی ہوٹل میں چھ اپریل کو ہونے والے علامتی اجلاس میں شرکت کے لیے بھی ان اراکین کو بسوں اور گاڑیوں میں مریم نواز اور حمزہ شہباز کی قیادت میں ایک ہوٹل سے دوسرے میں لے جایا گیا تھا۔ پی ٹی آئی رہنما یاور بخاری کے مطابق، ’مسلم لیگ ن نے چھانگا مانگا کی سیاست دوہرائی ہے اراکین کی بھیڑ بکریوں کی طرح بولیاں لگائی گئیں اب اراکین کو محصور کر رکھا ہے جو ایک غیر جمہوری عمل ہے لیکن پھر بھی چوہدری پرویز الٰہی ہی کامیاب ہوں گے۔‘ اراکین کو لاہور میں کیوں روکا گیا؟ متحدہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے منحرف رکن صوبائی اسمبلی فیصل جبوانہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کے تمام اراکین کو لاہور میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی دو اپریل سے ان کے لیے لاہور کے دو ہوٹلوں میں 150 کمرے بک کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اراکین کو ہوٹل میں رہنے کی ہدایت ضرور کی گئی ہے لیکن یہ تاثر غلط ہے کہ انہیں بند رکھا گیا ہے۔ فیصل کے بقول جن اراکین کے گھر لاہور میں ہیں وہ وہاں رہ سکتے ہیں جو ہوٹل رہنا چاہیں رہ سکتے ہیں تاہم اجلاس کے وقت سب کو ہوٹل پہنچنے کا پابند ضرور کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے تمام اراکین جن کی تعداد 200 ہے ووٹ ڈالنے کے لیے تین اپریل کو بلائے گئے اجلاس میں پنجاب اسمبلی پہنچے لیکن اجلاس ملتوی کردیا گیا۔

اس کے بعد چھ اپریل پھر 16 اپریل تک ملتوی کیا گیا یہ ایم پی ایز کے لیے پریشان کن ہے ہم اپنے علاقوں میں نہیں جا پارہے حلقوں کے کام متاثر ہورہے ہیں اور حلقوں میں افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر پنجاب حسن مرتضیٰ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت غیر جمہوری حربے استعمال کر رہی ہے اجلاس کو بار بار ملتوی کر کے ہمارے اراکین کو دھمکیاں دے کر ساتھ ملانے کی کوشش کی گئی ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگایا جارہا ہے۔ ’ہم پوچھتے ہیں کہ اراکین اسمبلی بچے ہیں جو انہیں کوئی زبردستی کہیں رہنے پر مجبور کر سکتا ہے ہاں البتہ سپیکر کے حربے دیکھ کر ہم نے اراکین کو لاہور میں موجود رہنے کا بندو بست کیا ہے۔‘ کیونکہ جس طرح سپیکر نے ڈپٹی سپیکر کے خلاف کارروائی کی اور توڑ پھوڑ کا بہانہ بنا کر اوچھے ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں کسی بھی وقت کوئی فیصلہ کیا جاسکتا ہے اسی لیے اراکین کو لاہور میں رکھا گیا ہے۔ لاہور کے جس نجی ہوٹل(رائل سوئس) میں اراکین اسمبلی کو ٹھہرایا گیا ہے اس کے ایک ملازم نے بتایا کہ ہوٹل میں اراکین اسمبلی کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے ایک کمرے کا کرایہ 16ہزار روپے یومیہ ہے، جو مختلف ناموں سے بک کرائے گئے ہیں تاہم کھانے اور ناشتہ کا انتظام الگ سے کیا جاتا ہے۔ ’ہمیں پابند کیا گیا ہے کہ کمرے غیر معینہ مدت تک بک رکھیں جب خالی کریں گے تو حساب ہوجائے گا۔‘
پی ٹی آئی کے انتظامات کیا ہیں؟ سابق صوبائی وزیر یاور بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے چوہدری پرویز الٰہی کی کامیابی کا پورا بندوبست کررکھا ہے لیکن قبل از وقت نہیں بتا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ جو 200اراکین کی حمایت کا دعویٰ کر رہی ہے وہ کسی بڑی غلط فہمی کا شکار ہے ہمیں اپنے اراکین کی مکمل حمایت حاصل ہے ہم حمزہ شہباز کو شکست دے کر سرپرائز دیں گے۔ انہوں نے کہا، ’ہم نے اراکین کو ٹھہرانے کا کوئی انتظام نہیں کیا وہ سب اپنے گھروں میں رہ رہے ہیں کیونکہ ہمیں اپنے اراکین پر اعتماد ہے لیکن جنہوں نے ضمیر کے سودے کیے ہوتے ہیں انہیں لوگوں کے بدلنے کا خوف ہوتا ہے۔‘ یاور بخاری نے کہا الیکشن میں سب دیکھ لیں گے کہ پنجاب میں ہم کامیاب ہوں گے۔ ان سے پوچھا گیا کہ علیم خان نے الزام لگایا کہ مونس الٰہی تین تین کروڑ کی آفرز کر رہے ہیں کیا یہ سچ ہے؟ انہوں نے کہا، ’ہم اگر آفرز کراتے تو ہمیں بھی اراکین اسمبلی کو محصور رکھنا پڑتا اور لوگ ہمارے ساتھ شامل ہوتے نظر آتے تاہم ضمیر کی آواز پر کئی ن لیگی اراکین ہمارے ساتھ رابطوں میں ہیں جو انتخاب کے موقع پر سب کے سامنے آجائیں گے۔‘ واضح رہے جہانگیر ترین ،علیم خان اور اسد کھوکھر گروپ حمزہ شہباز کی حمایت پر قائم ہیں ابھی تک ان کی جانب سے چوہدری پرویز الٰہی کی حمایت سے متعلق حامی نہیں بھری گئی۔