Categories
منتخب کالم

اپنے اپنے ممالک کے عوام کے جذبات سے کھیلنے کا الزام،شعیب اور ثانیہ مرزا بڑی مشکل میں پھنس گئے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان اور بھارت کی مقبول جوڑی سابق کپتان شعیب ملک اور بھارتی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا پر اپنے اپنے ممالک کے عوام کے جذبات سے کھیلنے کا الزام عائد ہو گیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دونوں نے پچھلے دنوں اپنی علیحدگی کی گمراہ کن خبریں چلوائیں،

دونوں ممالک میں ان کی علیحدگی کی خبروں کو خوب مصالحے کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے لیکن دونوں میاں بیوی اپنی علیحدگی پر بات کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔تاہم بعد میں یہ معلوم ہوا کہ دونوں اپنے ایک ٹی وی شو کو کامیاب بنانے کے لیے عوام کو ماموں بنا رہے تھے۔ اس شو کی ریکارڈنگ دبئی میں شروع ہوچکی ہے جس کو مرزا ملک شو کا نام دیا گیا ہے۔ شعیب ملک کی اہلیہ ثانیہ مرزا نے انسٹاگرام پر نئی پوسٹ کی ہے جس میں انہوں نے بیٹے کے ہمراہ ایک تصویر مداحوں کے ساتھ شیئر کی ہے۔ کچھ دنوں قبل خلیجی اخبار نے اپنی رپورٹ میں شعیب ملک اور ثانیہ مرزاکی طلاق کی خبر دی تھی لیکن دونوں اسٹارز میں سے کسی نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی تھی۔ ثانیہ مرزا علیحدگی کی خبروں کے درمیان مسلسل سوشل میڈیا پر پوسٹس کر رہی ہیں۔ ثانیہ نے اپنے بیٹے ازہان کے ہمراہ انسٹاگرام پر ایک تصویر شیئر کی جس میں انہیں بیٹے کو سر پر بوسہ دیتے ہوئے دیکھا گیا۔ثانیہ نے پوسٹ کے کیپشن میں ایموجی کا استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ میری دنیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں شعیب ملک کی جانب سے اہلیہ ثانیہ مرزا کو سوشل میڈیا پر سالگرہ کی مبارکباد دی گئی تھی لیکن ثانیہ مرزا نے کوئی جواب نہ دیا، تھینک یو کہنا تو دور کی بات، پیغام کو لائیک بھی نہیں کیا جس سے مداحوں کی تشویش میں اضافہ ہوگیا تھا، تاہم بعدازاں دونوں دبئی میں مرزا ملک نامی شو کی ریکارڈنگ کرتے ہوئے پائے گئے جس پر عوام نے سکھ کا سانس لیا۔ یاد رہے کہ دونوں کی شادی اپریل 2010 میں ہوئی تھی اور ان کا ایک 4 سالہ بیٹا بھی ہے۔

دونوں کھلاڑیوں کے دل آسٹریلیا میں ملے تھے، رشتہ دبئی میں طے ہوا، نکاح بھارت میں ہوا جبکہ ولیمہ پاکستان میں ہوا۔ جوڑے نے رہائش دبئی میں رکھی، پاک بھارت میڈيا نے شادی کی بھرپور کوریج کی۔سیالکوٹ سے بارات لے کر شعیب ملک حیدرآباد دکن پہنچے تھے، شعیب ملک دلہن بیاہ کر پاکستان آئے تو اسٹار جوڑی کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا گيا تھا۔ شادی کے بعد بھی شعیب ملک کرکٹ اور ثانیہ مرزا ٹینس کے میدان میں پرفارم کرتے نظر آئے، 12 سال کے سفر میں دونوں کھلاڑیوں نے ایک ساتھ بھی خوب نام کمایا، انٹرنیشنل جوڑے کی علیحدگی کی خبریں بھی اس وقت انٹرنیشنل نیوز بنی ہوئی ہیں۔

Categories
پاکستان منتخب کالم

خواہش کے باوجود فوج سیاست سے الگ کیوں نہیں ہو سکتی؟؟ جانئے معروف تجزیہ کاروں کی رائے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) فوجی قیادت کی جانب سے سیاست سے لاتعلقی اختیار کرنے کے بار بار کے اعلانات کے باوجود تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کے سیاسی مفادات اتنے زیادہ ہیں کہ اسکا سیاست سے لاتعلق ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک روز پہلے جنرل باجوہ نے یو اے ای کے اخبار گلف نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ فوج کا

یہ عزم ہے کہ وہ مستقبل میں غیر سیاسی رہے گی۔ انکا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے عوام اور فوج کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے اور سیاسی استحکام بھی آئے گا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ انہیں فوج، عوام اور پاکستان کے فائدے کی یہ بات اپنے چھ سالہ دور اقتدار میں سمجھ کیوں نہیں آئی خصوصاً جب وہ پاکستانی سیاست کو گھما رہے تھے۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے لے کر اب تک فوج قریب 30 برس تک ملک پر براہ راست حکمرانی کرتی رہی ہے جبکہ جمہوری ادوار میں بھی بالواسطہ سیاسی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے۔ خارجہ، سلامتی سمیت کئی امور جی ایچ کیو نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جب کہ معاشی معاملات میں بھی مداخلت جاری ہے۔ ایسے میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ پاکستانی فوج سیاست کی دلدل میں گھٹنوں گھٹنوں گھسی ہوئی ہے۔ پاکستانی سیاست میں فوج کے کردار پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی مبصر ڈاکٹر عمار علی جان کا کہنا ہے کہ فوج کی جانب سے غیر سیاسی ہونے کے تمام اعلانات کے باوجود فوج کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ سیاست سے لاتعلق ہو۔ انہوں نے بتایا کہ فوج پاکستان کی سیاست میں سب سے بڑی سٹیک ہولڈر ہے اور اس کا سیاست سے لا تعلق ہونا بالکل ممکن نہیں۔ پاکستان کا یہ ساختی مسئلہ ہے۔ فوج کو شروع سے ہی اختیارات زیادہ حاصل ہیں، جس کی وجہ سے سے فوج نے اندرونی وبیرونی اور علاقائی طور پر اتنے مراسم قائم کر لیے ہیں کہ اب وہ سیاست کیے بغیر رہ نہیں سکتی۔ عمار جان کے مطابق عالمی طاقتیں بھی اسی لیے سویلین حکومت کی بجائے جرنیلوں سے ڈیل کرنا چاہتی ہیں۔ اور اب تو ان کا معاشی معاملات میں بھی عمل دخل ہے، جس کی ایک مثال جنرل باجوہ کی طرف سے

آئی ایم ایف کی قسط کے لیے فون کرنا تھا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملکی سیاست تب گڑبڑ ہوتی ہے جب فوج سیاست میں مداخلت کرتی ہے اور سیاسی پارٹیوں کی توڑ پھوڑ کرتی ہے۔ لیکن اس مداخلت کے خلاف اب کچھ فوجی افسران بھی بات کرتے ہیں۔ میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان کا کہنا ہے کہ فوج کو اپنا آئینی کردار ادا کرنا چاہیے اور اس کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر فوج سیاست میں آئی ہے تو اس میں سیاست دانوں اور عدلیہ کا بھی قصور ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک میں مارشل لاء لگا، تو وہ کون لوگ تھے جنہوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ یہ سیاستدان ہی تھے جو چیف آف آرمی سٹاف کے دروازے پر جا کر ایک دوسرے کی برائیاں کرتے تھے۔ اعجاز اعوان کے مطابق اس حوالے سے عدلیہ کا رویہ بھی منفی رہا۔ ججوں نے عبوری آئین اور لیگل فریم ورک کے تحت حلف لیا اور نظریہ ضرورت کے تحت مارشل لا کو جائز قرار دیا۔ لہذا صرف جرنیلوں پر تنقید کرنا مناسب نہیں ہے۔ کئی ناقدین کا خیال ہے کہ پاکستان کا آرمی چیف اور اسٹیبلشمنٹ حکومتیں بناتے اور گراتے بھی ہیں۔ اس کے علاوہ اہم ملکی معاملات کو چلاتے بھی ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوج صرف اپنا آئینی کردار ادا کرے۔ سلامتی کے امور پر آرمی چیف وزیر اعظم کا مشیر اعلیٰ ہے اور اس کا یہی کردار ہونا چاہیے نہ کہ وہ حکومت کو ڈکٹیشن دیتا پھرے۔ نامور صحافی اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق سیکریٹری جنرل ناصر زیدی مطلق العنان فوجی آمروں کے خلاف ہمیشہ لڑتے رہے،

جس کی وجہ سےانہیں قیدو بند کی صعوبتیں بھی جھیلنی پڑیں۔ جنرل ضیاء کے دور میں انہیں آزادی اظہار رائے کے لیے جدوجہد کرنے پر کوڑوں کی سزا دی گئی۔ ناصر زیدی کا کہنا ہے کہ فوجی جرنیلوں نے ہمیشہ سیاسی معاملات میں مداخلت کی۔ اس کا تاریخی تناظر بتاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے میجر جنرل سکندر مرزا نے ریپبلکن پارٹی بنوائی۔ اس کے بعد ایوب خان نے جب بنیادی جمہوریتوں کے الیکشن کرائے، تو اس کو سیاسی جماعت کی ضرورت پڑی، جس کے لیے اس نے کنونشن لیگ بنوائی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کنونشن لیگ کے ذوالفقار علی بھٹو بھی عہدے دار رہے۔ جنرل یحییٰ کے دور میں راؤ فرمان علی اور جنرل پیرزادہ سمیت کچھ فوجی افسران سیاست میں ملوث رہے جبکہ جنرل ضیاء نے اپنے دور میں جونیجو لیگ بنوائی۔ جنرل حمید گل اور انیس سو اٹھاسی میں فوج کے سربراہ اسلم بیگ نے اسلامی جمہوری اتحاد بنوایا۔ ناصر زیدی کے مطابق ٹاپ جرنیلوں کے علاوہ میجر اور نچلے درجے کے کچھ اور فوجی افسران بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں سیاسی طور پر متحرک رہے اور ان کی حکومت کو گرانے کی کوشش بھی کی۔ بعد میں نواز شریف اور غلام اسحاق خان دونوں کو مسند اقتدار سے جنرل وحید کاکڑ نے نکالا۔ جنرل مشرف کے دور میں ایک طرح سے آئی ایس آئی کے ڈپٹی چیف جنرل احتشام ضمیر نے پیٹریاٹ اور ق لیگ بنوانے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ سابق آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا، سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف بنوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ناصر زیدی کا کہنا ہے کہ فوج صرف عسکری یا سیاسی طاقت نہیں بلکہ وہ ایک معاشی طاقت بھی ہے اور معیشت کے ایک بڑے حصے پر اس کا قبضہ ہے۔ لہذا پاکستانی سیاست سے اس کی مداخلت ختم ہونا نا ممکن نظر آتا ہے۔

Categories
منتخب کالم

پرویز الٰہی کی دوسری شادی نے چوہدری خاندان کو کیسے تقسیم کیا؟ خاندان کے اندرونی راز سامنے آگئے

لاہور(ویب ڈیسک) معلوم ہوا ہے کہ گجرات کے چوہدری خاندان میں پڑنے والی دراڑ کی بنیادی وجہ سیاسی اختلافات کے علاوہ خاندانی اختلافات بھی ہیں جو پرویز الٰہی کی دوسری شادی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں کیونکہ ان کی پہلی اہلیہ چوہدری شجاعت حسین کی بہن اور چوہدری ظہور الٰہی کی بیٹی ہیں۔
یاد رہے کہ چوہدری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی دو سگے بھائیوں چوہدری ظہور الٰہی اور چوہدری منظور الٰہی کے صاحبزادے ہیں۔ باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے 72 برس کی عمر میں ایک 28 سالہ مطلقہ سے دوسری شادی کرلی ہے جس کے پہلے سے سے دو بچے ہیں۔ چنانچہ اب چوہدری خاندان میں سیاسی اختلافات کے علاوہ ذاتی اختلافات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے یہ شادی کچھ عرصہ پہلے خفیہ طور پر کی تھی جس کا اب خاندان والوں کو بھی پتہ لگ چکا ہے اور شجاعت حسین اس معاملے پر شدید برہم ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کے سیاسی اختلافات کی بنا پر مسلم لیگ ق پارلیمنٹ کے ایوانوں میں پہلے ہی تقسیم ہو چکی ہے اور شجاعت کا دھڑا شہباز شریف حکومت کا کا اتحادی بن چکا ہے۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ق کے بیشتر ارکان کی حمایت چوہدری شجاعت حسین کو اور پنجاب اسمبلی میں چوہدری پرویز الٰہی کو حاصل ہے۔ شجاعت کے صاحب زادے چوہدری سالک حسین اور قاف لیگ کے سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ شہباز کی وفاقی کابینہ میں وزیر بن چکے ہیں جبکہ پرویز الٰہی اور ان کے صاحبزادے مونس الٰہی عمران خان کے اتحادی ہیں۔ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کے درمیان سیاسی فاصلے سامنے آنے کے بعد اُن کے ہم خیال بھی تقسیم ہوگئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ قاف کے پانچ اراکین اسمبلی موجود ہیں ان میں چودھری سالک، طارق بشیر چیمہ اور بیگم فرخ خان چودھری شجاعت حسین کے ساتھ جبکہ چودھری مونس اور چودھری حسین الٰہی، چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ ہیں۔

یہ تقسیم صوبائی اسمبلی پنجاب میں بھی ہے مگر یہاں چودھری پرویز الٰہی کا پلڑا بھاری ہے کیونکہ انہیں باؤ رضوان، عبداللہ وڑائچ، سعادت نواز، ساجد بھٹی اور خدیجہ عمر فاروقی کی حمایت حاصل ہے۔ طارق بشیر چیمہ گروپ کے ڈاکٹر افضل چودھری شجاعت حسین کی حمایت کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر چودھری خاندان میں سیاسی اختلافات کا آغاز ہوا تھا جو پرویزالٰہی کی دوسری شادی کے انکشاف پر ذاتی اختلاف کی شکل اختیار کر گیا۔ چوہدری خاندان کے اندرونی اختلافات اب کھل کر سامنے آگئے ہیں اور ان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین واقعہ اگلے روز ہوا جب چوہدری خاندان کے نوجوان ایم این اے چوہدری حسین الٰہی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے ق لیگ سے اپنی راہیں جدا کرنے کا اعلان کیا۔ چوہدری حسین الٰہی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ میرا ملک میرے لیے سب سے پہلے ہے۔ اور یہی بات ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے مسلم لیگ ق سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں اپنا سیاسی مستقبل مونس الٰہی کے ساتھ منسلک کر رہا ہوں۔ لیکن ایسی پارٹی کے ساتھ نہیں رہ سکتا جو شہباز شریف کی سربراہی میں بننے والی امپورٹڈ حکومت کو سپورٹ کرتی ہے۔

Categories
منتخب کالم

پرویز الٰہی اور شجاعت حسین کے اختلافات کی اندرونی کہانی،چوہدری مونس الہیٰ کی زبانی

لاہور(ویب ڈیسک) وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی نے کہا ہے کہ ان کے اورچوہدری شجاعت حسین کے خاندان کے مابین اختلافات کا آغاز دراصل جائیداد کے معاملے پرہوا تھا۔مونس الٰہی کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کی کہانی بیان کرتے ہوئے جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ مونس الٰہی سے ملاقات ان کی اپنی خواہش پر ہوئی۔

ان کا کہنا تھا آپ مجھ سے جو بھی پوچھیں گے میں آپ کو سچ سچ بتاؤں گا اورفیصلہ آپ پر چھوڑ دوں گا۔ چنانچہ میں نے پہلا سوال کیا کہ ’’آپ جب عمران خان سے ملاقات کے لیے بنی گالا گئے تھے تو کیا چوہدری شجاعت کو ڈیل کا علم تھا؟‘‘ مونس ہنس کر بولے’’ماموں کو سو فیصد معلوم تھا اورہم ان کی مرضی سے گئے تھے۔ آپ جانتے ہیں دوسری منزل پر چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی کے کمرے آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں لاؤنج ہے۔ میرا کمرہ بھی وہیں ہے، ملاقات سے پچھلی رات چوہدری شجاعت صوفے پر لیٹے ہوئے تھے۔ ہم سب ان کے سامنے بیٹھے تھے، ماموں نے کہا‘ ہم نے بس سی ایم بننا ہے خواہ ہمیں کالا چور بنائے۔ میں نے ماموں سے پوچھا اگر ن لیگ اور پی ٹی آئی کی چیف منسٹری میں سے کسی ایک کا فیصلہ کرنا ہو تو کون سی بہتر ہوگی؟ ماموں کا جواب تھا، عمران خان۔ اس پر میں نے انھیں بتایا کہ کل صبح پی ٹی آئی کا وفد گھر آ رہا ہے۔ میں نے انکو بتایا کہ پی ٹی آئی والوں کو میں نے کہہ دیا ہے آپ کے پاس اگر ٹھوس آفر ہے تو آپ آئیں ورنہ ہماری طرف سے انکار ہے۔ ماموں نے کہا‘ ٹھیک ہے آپ بات کرو۔ اگلے دن پرویز خٹک‘ شاہ محمود قریشی اوراسد عمرآ گئے‘ یہ واپس گئے تو مجھے وزیراعظم کے ایم ایس کا فون آگیا۔جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ اتنی بات کرکے مونس الٰہی رکے اور مجھ سے پوچھا ’’کیا آپ پرویز خٹک فارمولے سے واقف ہیں؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’جی ہاں پرویز خٹک جب عمران خان سے فائنل اپروول لیتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں آپ اگر اس بات سے پیچھے ہٹے تو

میں میڈیا میں جا کر کہہ دوں گا عمران نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور یہ بات سے پھر گیا ہے۔ عمران خان اگر اوکے کر دیں تو پرویز خٹک پھر بات آگے بڑھاتے ہیں ورنہ سائیڈ پر ہو جاتے ہیں۔ یہ تکنیک پرویز خٹک فارمولا کہلاتی ہے‘‘۔ مونس الٰہی ہنس کر بولے ’’بالکل صحیح‘ ہم نے فیصلہ کیا تھا ہمیں جب تک پرویز خٹک نہیں کہیں گے ہم اس وقت تک وزیراعظم سے نہیں ملیں گے چنانچہ جب ایم ایس کا فون آیا تو میں نے احمد بھائی سے کہا‘ میں پرویز خٹک سے بات کر کے بتاتا ہوں‘ ایم ایس نے جواب دیا‘ آپ خٹک صاحب سے خود بات کر لیجیے اور فون خٹک صاحب کو پکڑا دیا‘ انہوں نے مجھ سے کہا‘ میری خان سے بات ہو گئی ہے۔آپ لوگ آ جائیں اور یوں ہم بنی گالا روانہ ہو گئے‘‘۔ بقول جاوید چودھری، میں نے پوچھا ’’کیا چوہدری شجاعت اور سالک حسین اس بیک گراؤنڈ سے واقف تھے؟‘‘ مونس ہنس کر بولے ’’سالک نے ہمارے ساتھ بنی گالا جانا تھا‘ ان کا نام گیٹ اور مہمانوں کی فہرست میں شامل تھا لیکن جب جانے کی باری آئی تو وہ فون کان سے لگا کر باہر نکل گئے‘‘۔ میں نے پوچھا ’’آپ نے جب عمران خان کے ساتھ ڈیل کی تو کیا چوہدری شجاعت فیملی نے آپ سے مکمل طور پر قطع تعلق کر لیا؟‘‘ وہ بولے ’’ہرگز نہیں‘ ہم ایک ہی گھر میں رہتے رہے۔ سالک حسین 16 اپریل 2022 کے وزیراعلیٰ کے الیکشن کے لیے میرے ساتھ ووٹ مانگتے رہے‘ یہ ابا کے ساتھ میٹنگز میں بھی جاتے رہے اور میرے ساتھ پی ٹی آئی

کے منحرف ایم پی ایز سے بھی ملتے رہے‘‘۔جاوید چوہدری کے بقول میں نے مونس الٰہی سے پوچھا کہ ’’آپ لوگ اگر اتنے قریب تھے تو پھر چوہدری شجاعت کا حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کے لیے خط لکھنا سمجھ نہیں آتا؟‘‘ مونس ہنس کر بولے ’’ہم جب تک ہار رہے تھے ان لوگوں کو کوئی ایشو نہیں تھا لیکن جوں ہی پی ٹی آئی نے ضمنی الیکشنز میں 15 سیٹیں حاصل کر لیں اور ابا سی ایم بنتے نظر آئے تو یہ ہم سے ناراض ہو گئے‘‘۔ میں نے مونس سے پوچھا ’’ چوہدری شجاعت سے 22جولائی کا خط کس نے لکھوایا تھا؟‘‘ مونس بولے ’’یہ محسن کا کارنامہ تھا جو کہ ایک ویل کنیکٹڈ شخص ہے۔ 21 جولائی کو زرداری صاحب کو چودھری شجاعت کے گھر بھی یہ لے کر آیا تھا اور خط بھی اسی نے لکھوایا تھا‘‘۔ میں نے پوچھا ’’کیا 22 جولائی کے الیکشن سے قبل آپ کی چوہدری شجاعت اور سالک حسین سے ملاقات ہوئی تھی؟‘‘ وہ بولے ’’میں 20 جولائی کو لاہور میں ان سے ملا تھا‘ اس ملاقات کے گواہ میرے چچا ثبات الٰہی اور ان کی بیگم بھی ہیں۔ میں نے ماموں سے کہا‘ آپ ابا کو چیف منسٹر دیکھنا چاہتے تھے‘ اللہ ہمیں موقع دے رہا ہے‘ ہمیں اب اختلافات ختم کر دینے چاہئیں‘ ماموں نے کہا‘ ٹھیک ہے‘ آپ چیف منسٹر بنیں‘ ہم اس کے بعد ملیں گے‘ انھوں نے یہ بھی کہا‘ تم سالک کو بھی بتا دو‘ میں نے اسی وقت سالک کو میسج کر دیا اور

اس کا اوکے کا جواب بھی آگیا‘‘۔بقول جاوید چوہدری، میں نے مونس سے پوچھا ’’کیا اس ملاقات میں شجاعت صاحب نے کوئی شکوہ کیا تھا؟‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’ہاں کیا تھا‘ ان کا کہنا تھا میں نے پرویز کو دو مرتبہ فون کیا لیکن اس نے فون نہیں سنا۔ میں نے ماموں کو بتایا کہ ابا اس وقت 15 نئے ایم پی ایز کا حلف لے رہے تھے۔ بہرحال قصہ مختصر گلہ شکوہ ختم ہوگیا‘‘۔ میں نے مونس سے پوچھا ’’کیا اس کے بعد آپ کی ان سے کوئی ملاقات ہوئی؟‘‘ مونس بولے ’’میں 22 جولائی کی صبح ایک بار پھر ان کے پاس گیا تھا‘ یہ لاؤنج میں ویل چیئر پر بیٹھے تھے‘ میں نے ان سے پوچھا‘ ماموں کیا آپ نے ڈپٹی اسپیکر کو خط لکھا ہے۔ انھوں نے جواب دیا ہاں میں نے لکھا ہے۔ میں نے کہا‘ اس کا مطلب یہ ہے آپ ابا کو سی ایم نہیں دیکھنا چاہتے۔ ماموں نے مجھے اشارہ کیا‘ آپ مجھے سائیڈ پر لے جاؤ۔ میں نے ان کی ویل چیئر کو پش کیا اور انھیں دوسروں سے دور دروازے کے قریب لے گیا۔ لیکن سالک بھی ساتھ ہی آ گیا۔ میں نے دوبارہ خط کا پوچھا‘ وہ بولے‘ مجھے عمران خان کا سی ایم قبول نہیں۔ پرویز صرف میرا سی ایم بنے گا۔ وہ ہمارے ساتھ آ جائے۔ میں دو دن میں اسے سی ایم کی کرسی پر بٹھا دوں گا۔ میں نے کہا‘ ماموں ہم عمران خان کے امیدوار ہیں۔ ہم آج کیسے پیچھے ہٹ سکتے ہیں؟ آپ سے اس طرح ہمارا تعلق ختم ہو جائے گا‘ سالک فوراً بولا‘

تعلق رہ کہاں گیا ہے اور یوں یہ ملاقات ختم ہو گئی‘‘۔ میں نے پوچھا ’’کیا آپ نے ان کی ویل چیئر کو پش کر کے انھیں پنجاب اسمبلی لے جانے کی کوشش کی تھی؟‘‘ وہ بولے ’’ہاں میں انھیں پنجاب اسمبلی لے جانے کے لیے گیا تھا۔ میں نے انھیں سب سے پہلے یہی کہا تھا۔ ماموں چلیں آج ابا کا الیکشن ہے۔ میں آپ کو لے جانے آیا ہوں‘‘۔ میں نے پوچھا ’’کیا وہ خط چوہدری شجاعت نے خود لکھا تھا؟‘‘ وہ بولے ’’دستخط واقعی ان کے تھے لیکن ٹائپ ان کے بیٹوں نے کیا تھا‘ ماموں نے مجھے بتایا تھا میں نے ایم پی ایز کو خط لکھا ہے‘ یہ ووٹنگ کے دوران کسی کو بھی ووٹ نہ دیں لیکن جب خط باہر آیا تو اس میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کا حکم تھا‘ یہ لائین کس نے لکھی اللہ بہتر جانتا ہے‘‘۔بقول جاوید چوہدری، میں نے مونس سے پوچھا ’’کیا فیملی میں پہلے سے اختلافات موجود تھے‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’ماموں اور میرے درمیان کبھی نہیں تھے‘ میں پورے خاندان میں ماموں کے سب سے زیادہ قریب تھا‘ یہ میرے سیاسی استاد تھے‘ انھوں نے میری ہر جگہ گرومنگ کی‘ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ میٹنگ ہو یا جنرل کیانی‘ زرداری صاحب‘ عمران خان یا پی ڈی ایم کے ساتھ ڈیل ہو وہ مجھے ہمیشہ ساتھ لے کر گئے‘ ابا مجھے ساتھ نہیں لے جانا چاہتے تھے‘ وہ کہتے تھے یہ لڑکا ہے اسے ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت ہے لیکن ماموں مجھے لے کر جاتے تھے۔ وہ میرے ساتھ دل کی ہر بات بھی کرتے تھے۔ ہم دونوں نے مل کر پرویز صاحب کے ساتھ بھی کئی بار گیمز کیں‘ ماموں کمال انسان ہیں‘ وہ جب چاہتے ہیں بیمار بن جاتے ہیں‘ وہ چپ چاپ لیٹ جائیں گے‘ آپ بلاتے رہیں لیکن وہ آنکھیں نہیں کھولیں گے‘ ان کی بات

بھی کسی کو سمجھ نہیں آئے گی اور وہ بھول جانے کا تاثر بھی دیں گے۔ لیکن وہ جب چاہیں گے تو ٹھیک ٹھاک ایکٹو ہو جائیں گے‘ میں ان کی اس عادت سے واقف ہوں، چنانچہ وہ میرے ساتھ مل کر اپنے بچوں تک سے گیم کر جاتے تھے‘ میں نے زندگی میں اپنے والد سے بڑھ کر ان کی عزت کی‘ مجھے اب بھی انھوں نے دو مرتبہ فون کیا لیکن میں نے انھیں کال بیک نہیں کی اور مجھے اس کی بہت تکلیف ہے‘‘۔ جب جاوید چوہدری نے پوچھا کہ دونوں خاندانوں میں اختلاف کہاں سے شروع ہوا تو مونس الٰہی نے بتایا کہ اختلافات کا آغاز خاندانی جائیداد پر ہوا تھا۔

Categories
منتخب کالم

اوریا مقبول جان کی ایک معلوماتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ریڈلائٹ علاقہ اس بازار یا رہائشی احاطے کو کہتے ہیں جہاں طوائفیں دھندہ کرتی ہیں۔ یہ اصطلاح پہلی دفعہ عیسائیت میں خواتین کے حقوق کی علمبردار تنظیم “Women Christian Temperance Union” نے 1882ء میں استعمال کی اور اب دنیا بھر کے شہروں میں وہ علاقے جہاں یہ دھندہ ہوتا

ہے، انہیں ریڈ لائٹ علاقہ یا ایریا کہا جاتا ہے۔ یورپ کا سب سے بڑا ریڈ لائٹ ڈسٹرکٹ ایمسٹرڈیم میں ہے، جہاں دنیا بھر سے ہر رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی لڑکی لا کر اس بازار میں سجائی گئی ہے تاکہ ہر طرح کے گاہک کی تسکین کا سامان ہو سکے۔ اس بازار میں مئی 2014ء کو ایک اڈے کے باہر یہ بورڈ آویزاں تھا ’’حلال طوائفیں (Halal Hookers) دستیاب ہیں۔ اس باریا اڈے کا نام “Hot Crescent” یعنی ’’گرم ہلال‘‘ رکھا گیا تھا۔ بار کے پمفلٹ میں ان طوائفوں کی خصوصیات میں لکھا گیا تھا کہ یہ طوائفیں مے نوشی سمیت کوئی غلط کام نہیں کرتیں، سؤر سمیت کوئی حرام نہیں کھاتیں، پانچ وقت نماز پڑھتی اور روزے رکھتی ہیں اور جنسی فعل میں بھی ممنوعہ حرکات نہیں کرتیں۔ پمفلٹ میں لکھا تھا کہ ہم نے اس سلسلہ میں تین علماء کی رائے بھی لی ہے جن کے مطابق اگر آپ ایک عارضی نکاح کے بندھن میں بندھنا چاہیں تو اس کا بھی بندوبست کیا گیا ہے، اگر آپ اس سہولت سے فائدہ نہیں اُٹھانا چاہتے تو پھر آپ خاتون سے معاوضہ کے عوض چند لمحوں کے لئے بیوی بننے کا ازخود معاہدہ بھی کر سکتے ہیں۔ یہی وہ تصور ہے جس کی کوکھ سے ہر ناجائز چیز کو اسلامی کرنے کا راستہ نکالا جاتا ہے۔ ایک اسلامی ثقافتی مرکز جس میں رقص و سرود سب کچھ ہوتا ہے اور اسلامی مرکزِ نشاط جس میں بغیر الکحل کے مشروبات کے نام پر سب کچھ بیچا جاتا ہے۔ اس حرام کو حلال بنانے کی شاندار اور قابل ِ قبول صورت ’’اسلامی جمہوریت‘‘ ہے۔ وہ مغربی جمہوریت جس کی بنیاد ہی عوام کی حاکمیت پر ہے، اسے اللہ کی حاکمیت کا متبادل بنا دیا جائے۔ اسلامی جمہوریت کا تصور دراصل عالمی مالیاتی سودی نظام کے سرمائے سے قائم عالمی جمہوری نظام کی حرام بوتل پر اسلام کا لیبل لگانا ہے۔

Categories
منتخب کالم

ایک بار عمران خان باقاعدہ طور پر (ن) لیگ میں شمولیت اختیار کرنے والے تھے ، مگر انکی ایک شرط کو شریف برادران نے ماننے سے انکار کردیا تھا ۔۔۔عطاالحق قاسمی نے حیران کن واقعہ بیان کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عطاالحق قاسمی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔جیسا کہ سب دوست اور میرے قارئین بھی جانتے ہیں کہ میں جنم جنم کا آوارہ گرد ہوں، پچیس تیس ملکوں کی خاک چھان چکا ہوں، انڈیا اور پاکستان کا کوئی شہر میری ’’تشریف آوری‘‘ سے محروم نہیں رہا اور اس میں خوش کن

بات یہ ہے کہ دنیا کےگردیہ پھیرے میں نے کانفرنسوں اور مشاعروں کے حوالے سے لگائے، سیر بھی کی، اعزاز یےبھی وصول کئے اور اس کے علاوہ بہت سے امور جنہیں آپ ’’الا بلا‘‘ کہہ سکتے ہیں، ان دوروں کا حاصل تھے۔ اسی حوالے سے ایک دفعہ لندن جانا ہوا تو میاں نواز شریف صاحب سے ملاقات کیلئے ان کی طرف چلا گیا۔ پتہ چلا کہ اندر کوئی بہت اہم میٹنگ ہو رہی ہے۔ میں واپس جانے ہی کو تھا کہ ایک صاحب نے آ کر کہا میاں صاحب آپ کو یاد کر رہے ہیں، انہوں نے غالباً میرے نام کی چٹ اندر بھجوائی تھی۔ بہرحال میں کمرے میں داخل ہوا تو پارٹی کی پوری قیادت اندر موجود تھی۔ میاں صاحب بے پناہ محبت کے آدمی ہیں، غرور ان کے قریب سے بھی نہیں گزرا، عجز و انکساراتنا کہ مقابل شرمندگی سی محسوس کرنے لگتا ہے۔ چوہدری نثار بھی شامل اجلاس تھے۔ میرے لئے یہ بات بہت اعزاز کی ہونے کے علاوہ حیران کن بھی تھی کہ میاں صاحب نے مجھے مخاطب کیا اور کہا ہم کچھ اہم امور پر مشاورت کر رہے ہیں، میری خواہش ہے کہ آپ بھی اس میں شریک ہوں۔ میں اپنے کالم میں سیاسی ’’چُنجیں‘‘ تو مار سکتا ہوں مگر سنجیدہ امور سے میرا تعلق اتنا ہی ہے جتنا چوہدری پرویز الٰہی کا شاعری سے ہے چنانچہ میاں صاحب کی طرف سے ’’دعوت خطاب‘‘ کے باوجود میں خاموشی سے حاضرین کی گفتگو سنتا رہا۔ کچھ دیر بعد میں نے سوچا کہ یوں ’’گھگھو‘‘ بن کر بیٹھنا اچھا نہیں لگتا، چنانچہ میں نے حوصلہ کر کے عرض کی کہ عمران

خان ان دنوں خاصے مقبول ہو رہے ہیں۔ میرے خیال میں ان کے ساتھ بھی سیاسی علیک سلیک ہونی چاہئے۔ مجھے حیرت ہوئی جب سب حاضرین میری اس تجویز پر چونکے، شاید وہ میری آمد سے پہلے اسی تجویز پر غور کر رہے تھے۔ میاں صاحب نے کہا یہ بہت اچھی تجویز ہے، یوں کرتے ہیں کہ یہاں بیٹھنے کی بجائے نیچے ایک کافی ہائوس ہے وہاں تفصیل سے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔چنانچہ ہم سب نیچے واقع کافی ہائوس میں آ کر بیٹھ گئے اور وہاں کافی دیر اس موضوع پر گفتگو کے بعد طے پایا کہ اس کیلئے کوئی راستہ نکالتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب سے عہد لیا گیا کہ اس تجویز کی تکمیل سے پہلے ہم میں سے کوئی اسے ’’لیک‘‘ نہیں کرے گا۔ سچی بات پوچھیں تو در حقیقت یہ عہد صرف مجھ سے لینا مقصود تھا کہ کہیں یہ ’’بڑبولا‘‘ وقت سے پہلے ہی ’’پھڑیں‘‘ مارنی شروع نہ کر دے، ورنہ باقی سب شرکاء تو ’’سیزنڈ‘‘ سیاست دان تھے۔ ان سے اس بے صبری کی توقع ہی نہیں کی جا سکتی تھی۔ بہرحال یہ طے پا گیا اور مجھے بعد میں پتہ چلا کہ عمران خان اس کے عوض آنے والے انتخابات میں اپنے حجم سے زیادہ نشستیں طلب کر رہے تھے اور یوں یہ بیل منڈے نہ چڑھ سکی۔اور آپ اندازہ لگائیں کہ 2018 کے انتخابات سے پہلے فوج کے چند جرنیلوں کی معاونت سے اسلام آباد کے ڈی چوک میں تمام لیڈروں اور تمام اداروں کو روزانہ کی بنیاد پر جو وارننگز دی جاتی تھیں، ایک دن میں نے ٹی وی پر خان صاحب کو پورے جاہ و جلال کے ساتھ یہ کہتے سنا ’’عطا الحق قاسمی میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا‘‘ تب میں نے دل ہی دل میں خود کو بہت کوسا کہ تو خواہ مخواہ خود کو ایک حقیر پرتقصیر انسان سمجھتا ہے، تو تو بہت اہم ہے۔ تھنک یو، خان صاحب!

Categories
منتخب کالم

باجوہ ڈاکٹرائن کے پیچھے اصل مقصد کیا تھا ؟ قمر جاوید باجوہ کے رخصت ہونے کے بعد سینئر پاکستانی صحافی کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد نواز رضا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔29نومبر 2022ء کا سورج طلوع ہواتو پاکستان میں عسکری قیادت تبدیل ہو گئی ۔ اس کے ساتھ ہی بہت کچھ تبدیل ہو گیا۔ دوست اور دشمن بے نقاب ہو گئے۔’’دشمن ‘‘ میان سے تلواریں نکا ل کے سامنے آگئے،اگرچہ 10اپریل

2022ء کو عدم اعتماد کے ووٹ نے’’ ہائبرڈ رجیم‘‘ کا خاتمہ کر دیا لیکن جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی جہاں ’’باجوہ ڈاکٹرائن ‘‘ کا خاتمہ ہوا وہاں ’’پروجیکٹ عمران‘‘ بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔ یہ سیاسی اصطلاحات جنرل باجوہ کی’’ عسکری حکمرانی‘‘ کے دوران رائج ہوئیں جبکہ عمران خان نے وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹائے جانے کے بعد پی ڈی ایم کو ’’امپورٹڈ حکومت ‘‘ کا نام دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ پچھلے 6سال کے دوران اگرچہ فوج بظاہر کہیں نظر نہ آئی لیکن ہر جگہ’’ باجوہ ڈاکٹرائن‘‘ کا عمل دخل ہی نظر آیا ۔ راولپنڈی سے عمران خان کی انگلی پکڑ کر چلانے کی ہر ممکن کو شش کی جاتی رہی لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا کہ راولپنڈی والوں نے عمران خان سے مایوس ہو کر ہاتھ جھٹک دیا اور ان کو منتشر اپوزیشن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ، اس کمزور لیکن دانا اپوزیشن نے دنوں میں عمران خان کی حکومت کو گھر بھیج دیا بعض لوگ اس تبدیلی کا کریڈٹ آصف علی زرداری کو دیتے ہیں لیکن میں عمران خان کو اس بات کا کریڈٹ دیتا ہوں جنہوں نے جہاں نواز شریف ، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کو متحد کر دیا وہاں2018ء کو آر ٹی ایس بند ہونے کے نتیجے میںوجود میں آنے والے کم و بیش تمام چھوٹے چھوٹے گروپوں کو پی ڈی ایم کی جھولی میں ڈال دیا۔ عمران خان پچھلے7ماہ سے اقتدار میں واپسی کیلئے دیواروں سے ٹکریں مار رہے ہیں بظاہر پورے

ملک میں ان کی مقبولیت کا ڈھول بج رہا ہے مگر وہ مختلف سیاسی محاذوں پر شکست کے باوجود اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے پر تیار نہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی نے انکشاف کیا ہے کہ’’ جنرل باجوہ نے نہ صرف پی ٹی آئی کو سپورٹ کیا بلکہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد کے وقت مجھ سے کہا کہ عمران خان کے ساتھ جائیں ،ان کے کہنے ہی پر ہم نے پی ٹی آئی کی حمایت کی، اگر جنرل باجوہ عدم اعتماد کا حصہ ہو تے تو ہمیں کیوں اس طرف جانے کا کہتے؟ جنرل باجوہ نے پی ٹی آئی کے لئے بہت کچھ کیا اب وہ چلے گئے ہیں تویہ ان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں، جنرل باجوہ نےتو عمران خان کے لئے دریائوں کا رخ موڑ دیا تھا ‘‘ ۔مونس الٰہی کے بیان پر تبصرہ کی گنجائش نہیں کہ گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھا دی ہے ۔تاحال عمران خان نے باجوہ ڈاکٹرائن، جس نے انکا مسند اقتدار پر بیٹھنا یقینی بنا یا،ان کی ریٹائرمنٹ پر کوئی بیان جاری نہیں کیا تاہم ان کی بی ٹیم نے جنرل باجوہ پر طعن و تشنیع کی بارش کر دی ہے۔ہائبرڈ رجیم سے مراد ملک میں عملاً دو حکومتیں تھیں، ایک حکومت اسلام آباد سے چلائی جا رہی تھی جب کہ دوسری راولپنڈی سے اسلام آباد کی حکومت کو کنٹرول کر رہی تھی ،پوری دنیا کو اس بات کا علم تھا کہ اسلام آباد میں بیٹھے حکمراں کے پاس کوئی بڑا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دنیا بھر سے

فنڈز اکھٹے کرنے کیلئے جنرل باجوہ بہ نفس نفیس خود دورے کرتے رہے ویسے تو کافی عرصہ سے بیرون ملک سے آنے والے وفود راولپنڈی کا دورہ ضرور کرتے تھے لیکن جنرل باجوہ کے دور میں اس تاثر کو تقویت ملی کہ اسلام آباد کی حکومت کی حیثیت ایک ’’کٹھ پتلی ‘‘ سے زیادہ نہیں۔باجوہ ڈاکٹرائن ایک متنازعہ فلسفہ حکمرانی تھا جس کا مقصد ’’ مارشل لا لگائے بغیر پورے جمہوری نظام کو اپنی گرفت میں رکھنا تھا بظاہر آئین اور جمہوریت کی حکمرانی کا ڈھنڈورا پیٹا جا تا رہا لیکن دراصل یہ ملفوف آمریت تھی ،جب عمران نے وزیر اعظم بننے کی کوشش کی تو اس کی بیساکھیاں کھینچ لی گئیں ۔2018ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) مائنس ون کے فارمولے کو قبول کر لیتی تو پھر عمران خان کے سر پر وزارت عظمیٰ کا تاج نہ سجتا بلکہ عمران خان کی جگہ شہباز شریف نے لے لینی تھی لیکن شہباز شریف نے نواز شریف سے بے وفائی کر کے اقتدار حاصل کرنے کی بجائے قیدو بند کی صعوبتوں کو قبول کر لیا ۔میں یہ بات دھڑلے سے کہہ رہا ہوں کہ عمران خان جنرل باجوہ کی کبھی چوائس نہیں رہے ،عمران خان کو اقتدار کے منصب پر بٹھانے کے لئے ہر جائز ناجائز حربہ اس لئے استعمال کیا گیا کہ نواز شریف اپنی جگہ شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کے لئے تیار نہیں تھے اگر نواز شریف مان جاتے تو پی ٹی آئی کی بجائے مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوتی ،جب نواز شریف مان گئے تو دنوں میں شہباز شریف وزیر اعظم بن گئے

Categories
منتخب کالم

ترپ کا پتہ عمران خان کے ہاتھ میں آگیا : اگلے انتخابات میں تحریک انصاف کی کلین سویپ یقینی ہو گئی

لاہور (ویب ڈٰیسک) نامور کالم نگار اسد اللہ خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب سیاسی ترپ کا پتہ پی ڈی ایم کی جماعتوں اور حکومتی اتحاد کے ہاتھ میں نہیں ، اب یہ کارڈ عمران خان کے ہاتھ میں ہے۔ الیکشن کب چاہییں، مارچ اور مئی میں سے انہیں کیا سوٹ کرتا ہے ، یہ فیصلہ عمران خان نے کرنا

ہے۔یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی اب عمران خان کی جانب سے اسمبلیاں توڑنے کے حتمی اعلان کے منتظر ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا توامکان ہی دکھائی نہیں دیتا۔ یہ بحث اپنی جگہ کہ رواں سیشن میں تحریک عدم اعتماد پیش ہو سکتی ہے یا نہیں ،اہم یہ ہے کہ پیش ہو بھی گئی تو کیا فرق پڑتا ہے۔ اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ ہو گیا تو تحریک عدم اعتماد اس عمل کو زیادہ سے زیادہ سات دن تک تاخیر کا شکار کر سکتی ہے، روک نہیں سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو پنجاب کی اپوزیشن کے پاس نمبر ہی پورا نہیں۔ دوسرا یہ کہ ن لیگ کے اٹھارہ ممبران اسپیکر پنجاب اسمبلی نے معطل کر رکھے ہیں ۔یوں اپوزیشن کی جماعتوں کے پاس اٹھائیس ووٹ کم ہیں ۔ تحریک عدم اعتماد کی حجت تمام ہو بھی گئی تو اسمبلیاں ٹوٹنے کا عمل رک نہیں سکتا ۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ عمران خان کچھ اور وجوہات کی بنا پر اس فیصلے کو موخر کرتے چلے جائیں۔ امکان یہ ہے کہ عمران خان اسمبلیاں توڑنے کے عمل کو کچھ نہ کچھ تاخیر کا شکار ضرور کریں گے اور چاہیں گے کہ اسمبلیاں اس طرح سے توڑی جائیں کہ مئی میں الیکشن ہو جائیں۔عمران خان دو مہینوں کے لیے مشاورت کر رہے ہیں ، مارچ اور مئی۔ فیصلہ انہیں اپنی جماعت اوراتحادیوں کے مشورے سے یہ کرنا ہے کہ کونسا مہینہ صحیح رہے گا۔ خبر یہ بھی ہے کہ مئی کے لیے تو ن لیگ بھی راضی ہوتی نظر آتی ہے۔

کئی لیگی رہنمائوں نے قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ مئی جون شروع ہوتے ہی لوڈ شیڈنگ اور بجلی کے بل عوام پر ستم ڈھانے لگیں گے اور یہ سلسلہ تین چار مہینے تک چلے گا۔لہذا ستمبر اکتوبر میں الیکشن لڑنا ہر گز دانشمندانہ فیصلہ نہ ہوگا۔ پچھلے سال جولائی اور اکتوبرکے ضمنی الیکشن کا نتیجہ حکومتی اتحاد بھگت چکا ہے۔ لہذا انتخابی سیاست میں حصہ لینے والی شخصیات کا خیال ہے کہ مئی نسبتا بہتر رہے گا۔ یوں اس بات کا امکان پیدا ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف اور باقی جماعتوں میں انتخابات کے لیے مئی پر اتفاق ہو جائے۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان دو اسمبلیاں توڑ دیتے ہیں تو کیا صرف دو صوبوں میں انتخابات ہوں گے یا پورے ملک میں دوبارہ انتخابات ہوں گے۔ میری رائے میں دو صوبوں میں الگ انتخابات اور باقی دو صوبوں میں قومی اسمبلی کے ساتھ انتخابات کی روایت ڈالنا بہت مشکل ہو گا۔ اس سے پورا شیڈول بھی خراب ہو جائے گا ۔ پانچ سال بعد بھی دو صوبوں کی مدت پانچ ماہ پہلے پوری ہو جائے گی تو کیا آئندہ بھی دو صوبوں کے انتخابات الگ وقت پر ہوتے رہیں گے۔ اس نکتے کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت دو بار انتخابات پر تقریبا ایک جتنے پیسے خرچ کرنے کی سکت رکھتی ہے۔اور تیسرا یہ کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے کاروباری صورتحال میں بے یقینی کا پورا سال برقرار رکھنا ممکن ہے۔ لہذا قوی امکان یہی ہے کہ جیسے ہی دو صوبوں کی اسمبلیاں توڑی جائیں گی

باقی اسمبلیاں بھی گھر کی راہ لیں گی اور پورے ملک میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے گا۔ عمران خان اس بات پر تو بہت پر اعتماد دکھائی دیتے ہیں کہ الیکشن جب بھی ہوں وہ دو تہائی اکثریت سے جیت جائیں گے۔انہیں لگتا ہے کہ وہ ایسی عوامی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جو دیر پا ہے ۔ مارچ ، مئی یا اکتوبر سے انہیں فرق نہیںپڑتا۔ عمران خان کے مقابل سیاسی قوتوں کی مقبولیت میں اضافہ ایک ہی صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہ پرفارم کرنا شروع کر دیں ۔ روپیہ مستحکم ہو جائے، کاروبار چل نکلے، مہنگائی میں کمی دکھائی دینے لگے اور روزگار کاپہیہ چلنے لگے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیاں اس خوشخبری سناتی دکھائی نہیں دیتیں ۔ اسحاق ڈار کے پاس کچھ ایسانہیں کہ وہ کوئی جادو دکھا سکیں۔ لہذا یہی صورتحال رہی تو لوگ بدستور ناراض رہیں گے اور لوگ ناراض رہے تو انتخابی میدان میں بدترین شکست حکومتی اتحاد کا مقدر رہے گی۔ یہی وجہ ہے عمران خان کو لگتا ہے کہ مارچ یا مئی میں الیکشن ہوئے تو اچھا ہے اور اگر اکتوبر میں ہوئے تو اور بھی اچھاہے۔ یعنی موجودہ حکومت کی خراب معاشی کارکردگی جتنا عرصہ جاری رہے گی لوگوں کا غم و غصہ اتنا ہی بڑھتارہے گا اور لوگوں کے پاس اپنے غصے کا اظہار کرنے کا اور کوئی راستہ تو ہے نہیں وہ سارا غصہ بیلیٹ باکس پہ نکال دیتے ہیں ۔ پرویز الٰہی اگرچہ چاہتے ہیں کہ ان کی وزارت اعلی زیادہ دیر تک برقرار رہے ۔ مونس الٰہی کو مگر لگتا ہے جتنا جلد انتخابات میں جائیں گے،کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ رہیں گے۔ایک ملاقات کے دوران میں نے مونس الٰہی سے سوال کیا تھا کہ کیا ق لیگ اگلا الیکشن بلے کے نشان سے لڑ سکتی ہے، بلاجھجک انہوں نے بہت سادہ جواب دیا تھا کہ کچھ بھی خارج از امکان نہیں ۔ گویا مونس الٰہی اس آپشن پہ بھی غور کر رہے ہوں گے کہ اگر تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا جائے تو دوبارہ بھی وزارت اعلی کا امیدوار بنا جا سکتا ہے۔ مگر عمران خان کو اس میں تامل ہو گا یا نہیں یہ ایک الگ سوال ہے۔ فی الحال توعمران خان کے سارے رستے اقتدار کی طرف جا رہے ہیں کوئی فاش غلطی انہوں نے نہ کی تو مارچ ہو یا مئی ،حکومت انہیں ہی ملے گی۔اہم بات یہ ہے کہ ماضی کی غلطیاں نہ دہرانے کی عمران خان نے کیا حکمت عملی تیار کی ہے۔

Categories
منتخب کالم

چوہدری پرویز الٰہی کی حکومت کا خاتمہ قریب : سینئر صحافی نے اندرون خانہ چلنے والی گیم بے نقاب کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔واضح ہے کہ عمران خان ملک کے ستر فیصد سے زائد پر اپنی پارٹی کی حکومت کو حکومت نہیں سمجھتے، وہ اور ان کے مرکزی ساتھی بہرصورت وفاق کی حکومت چاہتے ہیں جہاں وہ خود وزیراعظم اور وفاقی وزیر ہوں۔

عمران خان کو غلط مشورے دینے والوں نے انہیں یہاں لاکھڑا کیا ہے کہ وہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں توڑنے پر آ گئے ہیں۔ جواز یہ دے رہے ہیں کہ وہ ان کی پارٹی اس بدعنوان نظام کاحصہ نہیں رہے گی مگر اس سوال کا جواب نہیں ملا کہ کیا ان کے صدر علوی اس بدعنوان نظام میں ایک علامتی باپ اور سربراہ کی حیثیت میں موجود رہیں گے؟بطو ر سیاسی تجزیہ کار، میں کمان کی تبدیلی کے ساتھ ہونے والی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے بعد، سمجھتا ہوں کہ پنجاب حکومت کا مستقبل مخدوش ہوچکا ہے۔ ایک معتبر انگریزی اخبار کے ایڈیٹر کی اطلاع کے بعد کہ جناب پرویز الٰہی نے ساڑھے چارماہ پہلے عہدہ چھوڑنے والی شخصیت کے ٹیلی فون پر ہی عمران خان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا مگر اب عمران خان اس راستے پر بگٹٹ دوڑے چلے جارہے ہیں جو پرویز الٰہی کے راستے سے ایک سو اسی ڈگری پر ہے۔ پرویز الٰہی ، نواز لیگ میں اپنے لئے ہمدردی رکھنے والے سیاسی ذہن کے لوگوں کو شرمندہ کروا کے یہ دروازہ ایک طویل مدت کے لئے بند کر چکے ہیں۔ مونس الٰہی ( اور ان کی فیملی) کے بارے میں واضح ہے کہ وہ شریف فیملی کے حوالے سے بہت زیادہ تلخی رکھتے ہیں، اتنی ہی تلخی جتنی کہ عمران خان کی اقوال اور افعال میں محسوس کی جاسکتی ہے لہذا اب یہ بہت دور کی کوڑی ہو گی اگر کہا جائے کہ پرویز الٰہی ، نواز لیگ کے وزیراعلی بھی ہوسکتے ہیں۔ پرویز الٰہی

نے بطور وزیراعلیٰ ، اپنی ہی حکومتی ترجمان مسرت جمشید چیمہ کو اداروں کے خلاف بولنے پر جو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے وہ محض فیس سیونگ ہے، گونگلووں سے مٹی جھاڑنے کے مترادف ہے۔ میں نے پی ٹی آئی کے بہت سارے دوستوں سے گپ شپ کی ہے اور وہ سب یقین رکھتے ہیں کہ انہوں نے فوج کو جس جگہ لا کھڑا کیا ہے وہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے جس کے تحت عمران خان اعظم سواتی کو ایک ہیرو کی طرح پیش کر رہے ہیں یا شہباز گل جس قسم کے بیانات دے رہے ہیں۔ یوں لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی نے مقتدر حلقوں سے دوری کا جو سفر شروع کیا تھا وہ انتیس مئی کو ہونے والی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے بعد زیادہ تیز ہو گا۔میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ فوج کو غیر جانبدار ہی رہنا چاہئے مگر سوال یہ ہے کہ اگر مخالف فریق آپ پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہو تو آپ کب تک اپنے ہاتھ باندھ کے ، اپنا چہرہ چھپا کے رکھ سکتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ نواز لیگ نے اسٹیبلشمنٹ کی غلطی کا بوجھ اٹھانے کی بہت بڑی سیاسی قیمت ادا کی ہے۔ عمران خان ملک کو سفارتی سطح پر تنہا اورمعاشی سطح پر دیوالیہ کر کے جا رہے تھے۔ اب ہونا تو یہ چاہئے کہ جس کی غلطی تھی اور جس نے اس زہریلی بیل کو دیوار اور چھت تک پہنچایا تھا وہی اسے کاٹے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ خود پیچھے ہوجائیں اور کہیں کہ نئے ’ کرائے دار‘گھر میں پالے گئے بھوت سے خود ہی بچیں۔ مالک مکان جب نئے کرائے دار کو گھر دیتا ہے

تو اس کی ذمے داری ہے کہ اسے رہائش کے قابل بنا کے دے،بہرحال، بات اس وقت پنجاب حکومت کی ہو رہی ہے اور میری اطلاع کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی چومکھی لڑائی لڑتے ہوئے اس حکومت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مقابلہ ان سے بھی ہے جن سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے والوں کا مقابلہ تھا اور اب چوہدری صاحب کو نئے لوگوں کے ساتھ اپنی وفاداری ثابت کرنی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ یہ وفاداری عمران خان اور ان کے شہباز گل، اعظم سواتی ، فواد چوہدری اورمسرت جمشید چیمہ جیسے ساتھیوں کی موجودگی میں ثابت کر سکتے ہیں۔ عمران خان پنجاب اسمبلی توڑنے پر تلے بیٹھے ہوئے ہیں ، دروغ بہ گردن راوی اور یہ لطیفہ ہی سہی مگر سچ کے بہت قریب ہے کہ اگر پنجاب اسمبلی ٹوٹ گئی تو وہی پولیس جو اس وقت کینال روڈ پر لاہوریوں کی زندگی اجیرن کر کے عمران خان کو سیکورٹی فراہم کر رہی ہے، وہی پولیس ان کی گرفتاری کے لئے ہلہ بھی بول سکتی ہے، انہیں پنجاب پولیس پر ہرگز ہرگز اعتماد نہیں کرنا چاہئے۔اب سوال تحریک عدم اعتمادکا ہے۔ سچ تویہ ہے کہ سپریم کورٹ آئین سے باہر ایک فیصلے میں عملی طور پر تحریک عدم اعتماد کی آئینی شق کو ہی بے اثر کرچکی ہے لہذا پی ڈی ایم ، پی ٹی آئی کے ان لوگوں کو اتنا ہی استعمال کرسکتی ہے کہ اگر گورنر پنجاب، وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے کہیں تو ضمیر جاگنے کا نعرہ لگانے والے ’ ایبسٹین‘ کر جائیں ( اگرچہ اس پر

بھی قانونی کارروائی ہوسکتی ہے مگر اس سے پہلے وزارت اعلیٰ بھی جائے گی)۔ پی ٹی آئی کے ارکان، نواز لیگ کے ساتھ جاتے ہوئے اس لئے بھی ڈر سکتے ہیں کہ انہوں نے اس سے پہلے بیس ارکان کا حشر دیکھا ہے جو وفاداری تبدیل کرنے کے بعد ہار گئے تھے۔ جہاں تک قاف لیگ کے ارکان کا سوال ہے تو نوے فیصد یقین ہے کہ وہ چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ جائیں گے کہ گجرات اور منڈی جیسے اضلاع سے تعلق رکھنے والے ارکان نے وہاں ترقیاتی فنڈز کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد صرف ان دو اضلاع میں ایک سو سولہ ارب روپوں کے ترقیاتی منصوبے منظور کئے گئے ہیں اور ان کے لئے تادم تحریر تیس ارب روپے جاری بھی ہوچکے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نوٹوں کی یہ بوریاں ہی اب ووٹوں کی بوریاں ہیں جو چوہدری شجاعت حسین اور ان کے گروپ کے پاس نہیں۔اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے یا پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکام ہوتے ہیں جس کا امکان ففٹی ففٹی ہے تو پرویز الٰہی وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے اور پنجاب میں گھڑمس مچ سکتا ہے کیونکہ نیا وزیراعلیٰ بھی ( سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کی روشنی میں) آسانی سے تعداد پوری نہیں کرسکے گا بلکہ شائد پوری ہی نہ کرسکے دوسری طرف اگر گورنر راج لگانا بھی فی الوقت آسان نہیں ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی اپنے سپیکر شپ کے قانونی اور پارلیمانی تجربے کو کام میں لاتے ہوئے جون سے پنجاب اسمبلی کا اجلاس چلا رہے ہیں۔اس کی غرض و غایت یہ ہے کہ جیسے چلتی ہوئی مشین میں ہاتھ نہیں دیا جاسکتا بالکل اسی طرح چلتے ہوئے اجلاس میں وزیراعلیٰ کو سیٹ سے اسی طرح نہیں اتارا جا سکتا جیسے چلتی ہوئی گاڑی میں ڈرائیور کو ،اور کچھ ایسے ہی حالات گورنر راج بارے ہیں۔ آئین میں گورنر راج کا لفظ نہیں ہے تاہم ایمرجنسی لگانے کی دفعہ ہے مگراس کے لئے ضروری ہے کہ جس صوبے میں لگایا جا رہا ہے اس کی اسمبلی کی اکثریت اس کے لئے قراردادمنظور کرے تو چوہدری پرویز الٰہی کی اسمبلی کیوں کرے گی۔ دوسرے ایمرجنسی ، وزیراعظم کی سفارش پر صدر لگائیں گے توعمران خان سے وفاداری ثابت کرنے والے موجودہ صدر اسے کیوں لگائیں گے، وہ کم از کم اسے پچیس دن کے لئے ملتوی کر سکتے ہیں جو کسی بھی دوسرے فریق کے کھیل کا پانسہ بدلنے کے لئے کافی ہیں ۔ اس کے بعد وفاقی حکومت قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری تو لے سکتی ہے مگر وہ اعلیٰ عدالتوں کا کیا کرے گی جس کے اکثریتی فیصلے اس کے حق میں نہیں ہیں ۔ کھیل ایک اوردلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔

Categories
منتخب کالم

عمران کی فیس سیونگ کے عوض اسمبلیاں نہ توڑنے کی آفر،سینئر صحافی جاوید چوہدری نے نیا انکشاف کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی جانب سے عمران خان کے ساتھ فون پر بات کرنے کی صدر عارف علوی کی تجویز ٹھکرانے کے بعد سابق صدر آصف زرداری نے بھی عمران خان کو صوبائی اسمبلیاں نہ توڑنے کے عوض فیس سیونگ فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سینئر صحافی جاوید چوہدری نےانکشاف کیا ہے کہ

عمران خان نے آصف زرداری کو پیغام بھجوایا تھا کہ اگر پی ڈی ایم والے مجھے “فیس سیونگ” دینے کے لیے میری عیادت کریں تو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں نہیں توڑی جائیں گی۔ جاوید چوہدری نے اپنے یوٹیوب چینل پر بتایا کہ عمران خان اور آصف زرداری کے مابین بالواسطہ رابطے ہوئے ہیں اور خان صاحب نے “فیس سیونگ” فراہم کرنے کا پیغام بھیجا ہے۔ جاوید چودھری نے “فیس سیونگ” کے منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کا ایک وفد ان کی عیادت کے لئے آئے اور ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہے کہ ان کے ساتھ جو زیادتی ہوئی ہے اس کا ازالہ ہونا چاہیے۔ یہ بھی کہا جائے کہ میں اگر کوئی ایف آئی آر درج کروانا چاہتا ہوں اور حملے کی آزاد تحقیقات کروانا چاہتے ہوں تو اس کے لئے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جانا چاہیے۔ سینئر صحافی نے عمران خان کی ایک اور خواہش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری اور پی ڈی ایم کی طرف سے ان سے اسمبلیاں نہ توڑنے کی درخواست کی جائے اور قومی اسمبلی میں واپسی کے لیے ان کا راستہ بھی ہموار کیا جائے۔ اگر ایسا ہو جائے تو پی ٹی آئی چیئرمین اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ واپس لے لیں گے۔ اس طرح حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان برف پگھلے گی اور مذاکراتی عمل کے ذریعے آئندہ عام انتخابات کا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ عمران خان نے تجویز دی ہے کہ اگلے عام انتخابات کے لیے دونوں فریقین اپنے موقف سے ہٹ جائیں تو درمیانی راستہ نکال کر رمضان کے بعد مئی میں نئے الیکشن کروائے جا سکتے ہیں۔

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ آصف زرداری یہ پیشکش لے کر وزیراعظم شہباز شریف کے پاس گئے اور تفصیلی بحث ہوئی۔ لیکن جب وزیراعظم نے اس پیشکش کے بارے میں نواز شریف کو بتایا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران کو پیغام بھجوا دیں کی ان سے جو بن پڑتا ہے وہ کر لیں، میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا اور اگلے انتخابات موجودہ حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد ہی ہوں گے۔ تاہم پیپلز پارٹی کے ذرائع اس خبر کے حوالے سے خاموش ہیں۔ دوسری جانب آصف زرداری نے عمران کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ بھونکنا تو بند کرو پھر آپ سے بات کرنے کا سوچیں گے۔ آصف زرداری نے سینئر صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے تحریک انصاف سے مفاہمت کے سوال پر غصے کا اظہار کیا اور عمران خان کا نام لئے بغیر کہا کہ بات کرنے کے لئے پہلے انسان کو اپنا کردار ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔ ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ آپ بھونکتے رہیں اور یہ امید بھی رکھیں کہ کوئی آکر مجھ سے بات کرے گا۔ پہلے آپ بھونکنا تو بند کرو پھر دوسروں سے بات ہو سکتی ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ عمران خان کی سوچ سیاسی نہیں ہے۔ وہ غلط فیصلہ کر لیتے تو قوم کو مشکل ہوتی۔ وہ جو کرنے جارہے تھے اسے ہم نے کامیابی سے روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن پر میں بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ کچھ چیزیں نہ بتانا ہی بہتر ہے۔سابق صدر نے

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں عدم اعتماد لانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم خیبر پختونخوا میں بھی تحریک عدم اعتماد لائیں گے۔ ہمارے کچھ دوست گمراہ ہیں، انہیں واپس لانا ہے۔ ایک سوال پر انکا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی ہمارا انتخاب نہیں ہوں گے کیونکہ ہمارے پاس اور بھی آپشنز ہیں۔ آصف زرداری نے قبل از وقت انتخابات کے بارے میں کہا کہ جلد انتخابات ہمارے اور جمہوریت دونوں کے لئے مناسب نہیں۔ اگر پی ٹی آئی اسمبلیاں تحلیل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر ہم ان اسمبلیوں کے دوبارہ الیکشن کروائیں گے۔ ہم بھی دیکھتے ہیں کہ عمران کتنے ایم پی اے واپس اسمبلی میں لاتے ہیں۔ نئے آرمی چیف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر آصف زرداری نے کہا کہ وہ انہیں جانتے ہیں اور انہیں صرف اور صرف سنیارٹی کی بنیاد پر نیا فوجی سربراہ بنایا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فوجی کمان سنبھالنے کے بعد آرمی چیف عاصم منیر نے صدر عارف علوی سے ملاقات کی تو انہیں عمران خان کا یہ پیغام پہنچایا گیا کہ ہمارا اختلاف آپ سے یا فوج سے نہیں بلکہ ایک فرد واحد سے تھا جو اب جا چکا ہے۔ لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ سب مل کر کام کریں۔ صدر نے آرمی چیف کو پیشکش کی کہ عمران ان سے ٹیلی فون پر بات کرنا چاہتے ہیں لیکن آرمی چیف عاصم منیر نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے غیر سیاسی ہونے کا فیصلہ کیا ہے لہٰذا ہمیں غیرسیاسی ہی رہنے دیں۔

Categories
منتخب کالم

مونس الٰہی نے جنرل باجوہ کی ڈبل گیم کیسے بے نقاب کی؟

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چودھری پرویزالٰہی کے بیٹے چوہدری مونس الٰہی کی جانب سے اس انکشاف کے بعد کہ انہیں تحریک عدم اعتماد میں پی ڈی ایم کی بجائے عمران خان کا ساتھ دینے کا مشورہ جنرل قمر باجوہ نے دیا تھا، اس الزام کی تصدیق ہو گئی ہے کہ سابق آرمی چیف آخری وقت تک ڈبل گیم کھیل رہے تھے اور ان کی ہمدردیاں اصل میں

عمران کے ساتھ تھیں جس کا بنیادی مقصد اپنے عہدے میں توسیع حاصل کرنا تھا۔ اسی لیے چھ مہینے تک عمران اور انکے ٹرول بریگیڈ سے گالیاں کھانے کے باوجود جنرل باجوہ نے اکتوبر 2022 میں ایوان صدر میں عمران سے ایک خفیہ ملاقات کی جسکے بعد انہوں نے باجوہ کو نئے الیکشن کے بعد نئی حکومت بننے تک برقرار رکھنے کی تجویز دے دی تھی۔ تاہم حکومت نے اس تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا تھا جس کے بعد جنرل باجوہ نے عمران کے حمایتی فیض دھڑے کے ساتھ مل کر لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو نیا آرمی چیف بنانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں، لیکن بالآخر یہ تمام کوششیں ناکام ہوئیں اور جنرل عاصم منیر نئے فوجی سربراہ بن گئے۔ یاد رہے کہ مہر بخاری کو انٹرویو دیتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور عمران خان کے ساتھی مونس الٰہی نے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ جنرل باجوہ عمران خان حکومت کو بچانا چاہتے تھے اور اسی لیے آخری لمحات میں انہوں نے قاف لیگ کو پی ڈی ایم کا ساتھ دینے کی بجائے عمران کے ساتھ کھڑے رہنے کا مشورہ دیا۔ مونس الٰہی نے کہا کہ پی ٹی آئی کئی ماہ سے جنرل باجوہ کو ‘غدار’، ‘میر جعفر’، ‘جانور’ اور نجانے کیا کچھ قرار دیتی آئی ہے، حالانکہ عمران کی پنجاب حکومت انہی کے مرہون منت تھی۔ ایک سوال پر مونس نے کہا کہ میں پہلے دن سے تحریک انصاف کے ساتھ جانا چاہتا تھا۔ ہمیں دونوں طرف سے وزارت اعلیٰ کی پیشکش آ چکی تھی۔ پی ڈی ایم کی طرف سے بھی آفر تھی اور پی ٹی آئی کی طرف سے بھی۔ میں نے جنرل باجوہ سے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ عمران کے ساتھ جائیں۔

تب ہی میں نے والد صاحب اور شجاعت صاحب کو کہا کہ ہمیں پی ڈی ایم کی بجائے عمران کے ساتھ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ جنرل باجوہ کے آرمی چیف کے عہدے سے ہٹتے ہی ایسی اطلاعات سامنے آنا شروع ہو گئی تھیں کہ وہ آخر وقت تک حکومت پر توسیع کے لئے دباؤ ڈالتے رہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس دلوانے کے لیے پی ڈی ایم کی قیادت پر دباؤ ڈالا تھا لیکن آصف علی زرداری نہ مانے۔ پنجاب کی حکومت بھی پی ڈی ایم سے اس لیے چھینی تھی کہ جنرل باجوہ بارگیننگ پوزیشن میں رہیں اور عمران کا دباؤ اپنی توسیع کے لیے استعمال کرتے رہیں۔ حکومتی ذرائع تو یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ جنرل باجوہ نے عمران کی جانب سے قومی اسمبلی توڑے جانے کے بعد پوری کوشش کی کہ سپریم کورٹ اسے بحال نہ کرے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے سسر جنرل اعجاز امجد کے گھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بندیال سے ملاقات کی اور انہیں حکومت بحال نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن پانچ رکنی بینچ کے چار ججوں نے حکومت بحال کرنے کا ذہن بنا لیا تھا چنانچہ بندیال کو بھی ان کا ساتھ دینا پڑا۔ اب مسلم لیگ ق کے رہنما اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے صاحب زادے مونس الٰہی نے اس تاثر کی تصدیق کردی ہے کہ جنرل باجوہ درپردہ عمران خان کے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک طبقہ باجوہ صاحب پر تنقید کر رہا ہے، لیکن یاد رہے کہ یہ وہی باجوہ ہیں جنھوں نے سمندر کا رخ پی ٹی آئی کے حق میں موڑا تھا،

تب وہ بالکل ٹھیک تھے لیکن آج وہ ٹھیک نہیں رہے، میں اس نکتے پر پی ٹی آئی سے اتفاق نہیں کرتا۔ جب تک وہ آپ کی سپورٹ میں سب کچھ کر رہا تھا تب تک وہ بالکل ٹھیک تھا، اب وہ غدار ہو گیا ہے۔ مونس نے کہا کہ میں نے پی ٹی آئی والوں سے کہا ہے کہ آپ ٹی وی پر آ کر بتاؤ کہ وہ غدار کیسے ہے اور میں یہ بتاؤں گا کہ اس بندے نے تمہارے لیے کیا کیا کچھ کیا ہے۔ مونس کا کہنا تھا کہ ’میری نظر میں تو باجوہ صاحب کا کردار بالکل برا نہیں تھا، اگر برا ہوتا تو وہ کبھی مجھے یہ نہ کہتا کہ آپ عمران خان کے ساتھ جائیں۔‘ انھوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’جس وقت تحریکِ عدم اعتماد کا وقت قریب تھا تو دونوں طرف سے آفر آ گئی تھی میاں صاحبان سے بھی اور پی ٹی آئی سے بھی۔’میرا جھکاؤ پی ٹی آئی کی طرف تھا، یہ سب کو پتا ہے، والد صاحب سے بھی اس بارے میں بحث ہوئی اور انھوں نے جنرل باجوہ سے بھی یہی کہا کہ میری خواہش یہی ہے کہ آپ پی ٹی آئی کی طرف جائیں۔‘ مونس الٰہی نے کہا کہ انھوں نے تو اشارہ ہی کرنا تھا، یہاں بھی کہانی بنی ہوئی تھی، وہاں بھی بنی ہوئی تھی انھوں نے ایک اشارہ کرنا تھا۔‘ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مونس الٰہی کی جانب سے اس مرحلے پر جنرل باجوہ کی حمایت کرنا جب عمران خان پرویز الٰہی کو پنجاب اسمبلی توڑنے کا مشورہ دے رہے ہیں ایک سیاسی چال ہے۔ اس چال کا مقصد عمران کے ساتھ جھگڑا ڈالنا ہے تاکہ اسمبلی نہ توڑنے کا بہانہ تراشا جا سکے۔ یاد رہے کہ

عمران خان سے ملاقات کے بعد پرویز الٰہی نے یہ بیان تو دیا ہے کہ پنجاب حکومت عمران خان کی امانت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اسمبلی توڑنے کے موڈ میں نہیں۔ اس حوالے سے مونس الٰہی نے بھی کہا ہے کہ عمران اگر کل اسمبلیاں تحلیل کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں لیکن اگر ہمیں فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے تو ہم اگلا بجٹ پیش کر کے ہی اسمبلی تحلیل کرنا چاہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت بہت سارے ایم پی ایز کو فنڈ تقسیم کیے جانے ہیں تاکہ بزدار حکومت میں شروع ہونے والے پراجیکٹس پر کام کم از کم شروع ہو سکے۔

Categories
منتخب کالم

صدر کو بتا دیا ہے کہ عمران خان سے مذکرات ہو سکتےہیں لیکن ۔۔۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پس پردہ ملاقات کا احوال بتا دیا

کراچی(ویب ڈیسک) حکومت نے کسی پیشگی شرط کے ساتھ پی ٹی آئی سے مذاکرات سے انکار کر دیا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ صدر عارف علوی کو بتا دیا کہ اپوزیشن سے تمام معاملات پر بات ہو سکتی ہے مگر کسی پیشگی شرط کے بغیر، الیکشن کے حوالے سے فیصلہ سارے حکومتی اتحاد کو مل کر کرنا ہے،

اس سلسلے میں کسی فردِ واحد کو مینڈیٹ حاصل نہیں۔ جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خان زادہ کے ساتھ میں بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت تبدیلی سے پہلے لندن میں پی ٹی آئی کے ایم این ایز کی لائنیں لگی رہتی تھیں جو الیکشن میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ لینا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا بوجھ ہمیں اٹھانا پڑا ، عمران خان کو گرنے دینا چاہیے تھا، عمران نے آئی ایم ایف سے کیے وعدے پورے نہ کر کے گھٹیا چال چلی، ملک کو اس چال کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑی ۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اپنی ہی پارٹی کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل پر برس پڑے۔ پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کوئی ایسی ادائیگی نہیں ہے جو وقت پر نہ ہوئی ہو، عمران خان ریاست کے اوپر سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں، عمران خان الیکشن کا انتظار کریں آئین میں لکھا ہے کہ الیکشن کب ہوں گے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا، تحریک انصاف 9 ارب ڈالر کے قریب چھوڑ کر گئی تھی لیکن 3ارب ایک ملک کے تھے باقی دیگر ممالک کے۔ اپنی ہی جماعت کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مفتاح اسماعیل سے پوچھا جائے کہ کیا ارینج کرکے گئے ؟ مفتاح اسماعیل کو کیا 32 ملین ڈالر کی ارینجمنٹ نہیں کرکے جانا چاہیے تھا؟ مفاح اسماعیل کوجواب نہیں دینا چاہتا ، باتیں کرنا آسان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام پر لامحدود بوجھ نہیں ڈال سکتے،

میں آئی ایم ایف کو کہہ چکا ہوں کہ آپ کا برتاؤ درست نہیں، مجھے پاکستان اور عوام کا مفاد دیکھنا ہے، میں پی ٹی آئی دور اور اپنے چھ ماہ کی چیزیں بھی پوری کر رہا ہوں، یہ تباہی گزشتہ چار سال کی ہے ہم اس کو ٹھیک کررہے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ گروتھ 2 فیصد ہے منفی نہیں، تحریک انصاف کی نااہلی تھی کورونا کو انھوں نے بہانہ بنایا، آئی ایم ایف کی تمام ریکوائرمنٹس پوری ہوچکی ہیں، ملک سے ڈالر اسمگل روکنے پر متعلقہ لوگوں سے بات ہوچکی ہے، کرنسی اسمگلنگ کو کنٹرول کرنا بہت ہی ضروری ہے، ہم نے سیاست پر ریاست کو ترجیح دی ، عدم اعتماد سے پہلے ٹکٹ کیلئے پی ٹی آئی ارکان کی لائن لگی تھی، ہم نے ملک کیلئے اپنا سیاسی سرمایہ لگایا، انہوں نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ سے متعلق فیصلہ اتحادی حکومت نے کرنا ہے، ان کے حق میں بھی یہ بہتر ہے کہ نظام کو آگے چلنے دیں، پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ روپے کی قدر کم کرنا مسئلے کا حل نہیں۔

Categories
اسپیشل سٹوریز منتخب کالم

گجرات کے چوہدری سیاست میں منقسم لیکن جنرل باجوہ کے پیچھے متحد،آخر وجہ کیا ہے؟؟

اسلام آباد(ویب ڈیسک) جس وقت پی ڈی ایم والوں نے پی ٹی آئی حکومت کیخلاف عدم اعتماد تحریک لانے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس وقت کے آرمی چیف جنرل باجوہ وزیراعظم عمران خان کے پاس گئے اور انہیں مشورہ دیا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو تبدیل کر دیا جائے اور ساتھ ہی یہ دلیل دی کہ اس اقدام کے نتیجے میں پی ڈی ایم کی

عمران خان کی حکومت کو ہٹانے کی کوشش رُک جائے گی۔ پہلے تو عمران خان اس خیال پر آمادہ نہیں تھے لیکن بعد میں وفاقی حکومت کو بچانے کیلئے اس رائے کو قبول کرنے پر راضی ہوئے۔ انہوں نے بزدار کی جگہ وزیراعلیٰ کسی اور کو وزیراعلیٰ بنانے کیلئے دو نام مانگ لیے جس پر باجوہ نے علیم خان اور پرویز الہٰی کا نام پیش کیا۔ عمران خان نے علیم خان کے نام پر اتفاق کیا لیکن جس وقت وہ لاہور سے اسلام آباد پہنچے تو عمران خان نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ جنرل باجوہ نے یہ کہانی ایک ملاقاتی کو سنائی۔ اس معاملے پر غور و خوص رواں سال جنوری میں عدم اعتماد کی تحریک لائے جانے سے تین ماہ قبل ہوئے تھے۔ اُس وقت اخبار میں خبر شائع ہوئی تھی جس میں پی ڈی ایم کے ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اتحاد کے اقدام سے حکومت چوکنا ہوگئی ہے جس کے بعد ہی یہ مشاورت ہوئی تھی۔ یہ واضح نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ جس دن گجرات کے چوہدریوں نے عمران خان کو وزارت اعلیٰ کے عہدے کیلئے ’’ہاں‘‘ کہا اس کے ایک دن پہلے تک وہ خود بھی فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے۔ اُس وقت گجرات کے چوہدری پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی والوں کی پیشکشوں کو تول مول رہے تھے۔ اتحادی حکومت بننے کی صورت میں نون لیگ والے پنجاب میں بڑی جماعت بن جاتے اور نون لیگ کے ساتھ ماضی کے اختلافات کو دیکھتے ہوئے ق لیگ والوں کو مستقبل میں ان کے ساتھ پارٹنرشپ کے حوالے سے تحفظات تھے۔

دوسری جانب ق لیگ والے عمران خان کے ساتھ بھی مطمئن نہیں تھے کیونکہ عمران خان نے ہچکچاتے ہوئے مونس الٰہی کو وفاقی کابینہ میں شامل کیا تھا لیکن شامل کرنے کے بعد ان کیخلاف اپنے احتساب کے معاون شہزاد اکبر کے ذریعے تحقیقات شروع کرا دیں۔ پس منظر میں گجرات کے چوہدری فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ کس کا ساتھ دیں۔ اُس وقت مونس نے ایک صحافی کو بتایا کہ وہ فیصلہ اسلئے نہیں کر پا رہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ سے واضح اشارہ نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ جب انہیں رہنمائی کیلئے فون کالز کر رہے ہیں تو یہ لوگ فون نہیں اٹھا رہے۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ وہ کس کو فون کر رہے تھے تو انہوں نے اس شخص کا نام نہیں بتایا۔ یہ بات چیت صبح میں ہوئی اور شام میں انہوں نے عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ اگلے دن مونس کی اسی صحافی سے ملاقات ہوئی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے عمران خان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیسے کیا تو ان کے پاس کوئی ٹھوس جواب نہیں تھا۔ تاہم، اس وقت زیر گردش اطلاعات سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ ایک ریٹائرڈ جرنیل کی فون کال کے بعد کیا تھا۔ اس جرنیل کا لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ساتھ تعلق تھا لیکن یہ بات ٹھوس نہیں تھی کیونکہ فیض حمید کے جنرل باجوہ کے ساتھ تعلقات میں گرمجوشی نہیں رہی تھی جبکہ پرویز الہٰی نے بھی فیض کے حوالے سے ایک انٹرویو میں کچھ طنزیہ باتیں کہی تھیں۔ اب مونس الہٰی کے واضح بیان سے ساری گرد چھٹ گئی ہے کہ فیصلے میں رہنمائی جنرل باجوہ نے کی تھی۔

اگرچہ ان کی طرف سے کوئی رد عمل نہیں آیا لیکن یہ واضح ہے کہ باجوہ گجرات کے چوہدریوں کو قابل بھروسہ سیاست دان سمجھتے تھے۔ یہ بات ان کی بات چیت سے بھی عیاں تھی۔ تین ماہ قبل انہوں نے ایک ملاقاتی سے کہا کہ وہ پی ڈی ایم کی حکومت کو غیر مستحکم نہیں کرنا چاہتے۔ اگر وہ ایسا چاہتے تو چوہدری شجاعت سے کہہ دیتے کہ آپ نکل جائیں۔ اس وقت چوہدری پرویز الٰہی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں جبکہ چوہدری شجاعت اپنے تین ارکان قومی اسمبلی کے ساتھ پی ڈی ایم کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اگرچہ سیاسی طور پر منتقسم ہیں لیکن چوہدری جنرل باجوہ کے پیچھے متحد ہیں۔

Categories
پاکستان منتخب کالم

اپریل تک فوج غیر سیاسی نہیں تھی۔۔مونس الہیٰ کے انٹرویو نے نئی بحث چھیڑ دی،جنرل قمر جاوید باجوہ کا بھی موقف آگیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ق لیگ کے رہنما مونس الٰہی کا یہ تازہ ترین انکشاف سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کے اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ فوج کا ادارہ فروری 2021 سے غیر سیاسی ہو چکا تھا۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مونس الہٰی کا کہنا تھا کہ مارچ اور اپریل کے درمیان سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف

عدم اعتماد کی تحریک کے موقع پر انہیں (پرویز الہٰی کی زیر قیادت ق لیگ والوں کو) جنرل باجوہ نے مشورہ دیا تھا کہ پی ٹی آئی کی حمایت کریں۔ اگرچہ مونس الہٰی نے یہ بیان جنرل باجوہ کو پی ٹی آئی والوں کی تنقید سے بچانے کے لیے دیا ہے لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے نے جو کچھ کہا اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ رواں سال اپریل تک غیر سیاسی نہیں تھی۔ مونس الہٰی کا اصرار تھا کہ جس وقت پی ٹی آئی والے جنرل باجوہ پر سخت تنقید کر رہے تھے اس وقت یہ جنرل باجوہ ہی تھے جنہوں نے اُس دریا کا رخ موڑنے کی کوشش کی جو پی ٹی آئی والوں کو بہا لے جا رہا تھا۔ تاہم جنرل (ر) باجوہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مونس الٰہی نے سابق آرمی چیف کے حوالے سے جو کہا ہے وہ ان کے درمیان ہونے والی بات چیت کی ’’سیاق و سباق سے ہٹ کر‘‘ تشریح ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سابق آرمی چیف کا اصرار ہے کہ ادارے نے فروری 2012 میں غیر سیاسی ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے بعد وہ کبھی کسی سیاست میں شامل نہیں ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت مونس یہ بتا رہے تھے کہ انہوں نے کس طرح عمران خان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، اس وقت کچھ مخفی قوتیں بھی تھیں جنہوں نے اپوزیشن (پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم) کی حوصلہ افزائی کی کہ عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائیں۔ دی نیوز نے 15 فروری 2022ء کو خبر شائع کی تھی کہ پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں کو توقع ہے کہ پی ٹی آئی کے 30؍ ارکان پارلیمنٹ بغاوت کریں گے، اس خبر میں عمران خان کو

نکال باہر کرنے کیلئے اس وقت کی اپوزیشن کے خفیہ پلان کا ذکر کیا گیا تھا۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ اپوزیشن نے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی چکر ہے، کیونکہ اہم رہنماؤں نے بڑی امیدیں وابستہ کر لی ہیں کہ معاملات پلان کے مطابق آگے بڑھیں گے اور یہ معاملہ خفیہ رکھا جا رہا ہے، صرف چند ہی لوگ اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ خبر میں کہا گیا تھا کہ ایک باخبر ذریعے کے مطابق 20 سے 30 پی ٹی آئی ارکان اپوزیشن کا ساتھ دیں گے جبکہ ق لیگ اور ایم کیو ایم جیسی حکومتی اتحادی جماعتوں کے ساتھ بھی رابطہ بھی پلان کا حصہ ہے۔ ذریعے کا کہنا تھا کہ اپوزیشن میں پر امید لوگ چند ہفتوں میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ ذریعے کا کہنا تھا کہ جو امیدیں اپوزیشن والوں نے وابستہ کر رکھی ہیں وہ قابل بھروسہ ہیں بھی یا نہیں۔ ذریعے کے مطابق، اپوزیشن کے کچھ ارکان اس قدر پر امید ہیں کہ انہیں پلان اپنی امیدوں کے مطابق آگے بڑھتا نظر آ رہا ہے حتیٰ کہ ان میں سے ایک نے عمران خان کی جگہ پر نئے وزیراعظم کے لیے ایک نام تک پیش کر دیا ہے۔ پُرامید رہنماؤں کو ق لیگ اور ایم کیو ایم والوں کے ساتھ اپنی حالیہ بات چیت سے مایوسی نہیں ہے۔ انہیں امید ہے کہ پی ٹی آئی کے اتحادی درست وقت پر ان کا ساتھ دیں گے۔ اگرچہ یہ مشکل نظر آ رہا ہے لیکن پر امید رہنماؤں کو یقین تھا کہ پی ٹی آئی کے کچھ ارکان وزیراعظم کیخلاف مہینے کے آخر میں عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے پر ان کا ساتھ دیں گے۔

Categories
منتخب کالم

صرف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ قصور وار نہیں ، کئی ایسی وارداتیں ہیں جو عمران خان نے بطور وزیراعظم لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کے ساتھ ملکر ڈالیں ۔۔۔۔ حامد میر کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔آرمی بینڈ کی خوبصورت دھنیں بج رہی تھیں۔پاکستان آرمی کی کمان میں تبدیلی کی تقریب شروع ہو چکی تھی ۔صحافیوں کے انکلوژر میں ڈاکٹر شاہد مسعود کو دیکھ کر مجھے بہت سے واقعات یاد آنے لگے۔یہ وہ واقعات ہیں جو

ان چھ برسوں میں پیش آئے جب جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستانی فوج کے سربراہ تھے ۔یہ واقعات باجوہ صاحب بھول سکتے ہیں لیکن ہم نہیں بھول سکتے ۔2018ء کے دھاندلی سے بھرپور الیکشن کے بعد عمران خان کو وزیر اعظم بنوایا گیا تو کچھ عرصے کے بعد معروف ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کو پی ٹی وی کے فنڈز میں گڑبڑ کے ایک کیس میں گرفتار کرکے اڈیالہ قید خانے بھجوا دیا گیا۔ایک دن میں انہیں ملنے اڈیالہ گیا تو پتہ چلا کہ انہیں ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے ۔اگلے ہی دن میں وزیر اعظم عمران خان کے پاس پہنچ گیا۔میں نے گزارش کی کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو ایف آئی اے ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرتی ہے ان کے خلاف مقدمے کا فیصلہ عدالت کریگی لیکن آپ انہیں ہتھکڑیاں تو نہ لگایا کریں۔خان صاحب نے پہلے تو حیرانی سے پوچھا ’’شاہد مسعود کب پکڑا گیا ؟مجھے تو پتہ ہی نہیں ‘‘ پھر فوراً ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن سے فون پر بات کی اور کہا کہ حامد میر پہلی دفعہ کوئی کام لیکر آیا ہے آپ ڈاکٹر شاہد مسعود کو ہتھکڑیاں نہ لگایا کریں ۔میں مطمئن ہو کر واپس آگیا دو دن بعد ڈاکٹر صاحب کو پھر عدالت میں پیش کیا گیا تو جانتے ہیں کیا ہوا؟پہلے تو ڈاکٹر صاحب کے ایک ہاتھ میں زنجیریں ڈالی جاتی تھیں میری سفارش کے بعد دونوں ہاتھوں میں زنجیریں ڈال دی گئیں۔ ظاہر ہے مجھے بہت شرمندگی ہوئی میں نے معلوم کیا کہ وزیر اعظم

کے احکامات کو اتنے رعونت آمیز طریقے سے نظر اندازکیوں کیا گیا؟ مجھے بتایا گیا کہ آپ نےغلط آدمی سے سفارش کردی آپ کو وزیراعظم سے نہیں آرمی چیف سے بات کرنی چاہئے تھی۔چند دن کے بعد افغانستان کی صورتحال کے بارے میں ایک بریفنگ تھی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی موجود تھے۔ میں نے ڈاکٹر شاہد مسعود کیلئے بات کی تو ارشد شریف نے بھی میری تائید کردی۔ باجوہ صاحب نے پہلے تو ناگواری کا اظہار کیا اور ڈاکٹر شاہد مسعود پر خوب غصہ جھاڑا اور پھر کچھ دیر بعد نرم پڑگئے۔چند دن بعد ڈاکٹر صاحب کو رہا کردیا گیا۔ اس کے بعد بھی ایسے کئی واقعات پیش آئے جن کے بارے میں عمران خان لاعلمی کا اظہار کرتے۔ عرفان صدیقی گرفتار ہوئے تو عمران خان نے مجھے پیغام بھیجا کہ میرا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں مطیع اللہ جان کو اٹھا لیا گیا تو کہا گیا کہ وزیراعظم نے کبھی کسی صحافی کو اٹھا لینے یا نوکری سے نکالنے کا حکم نہیں دیا۔ 29 نومبر کو پاکستان آرمی کی کمان میں تبدیلی کے بعد تحریک انصاف کی قیادت نے سوشل میڈیا پر جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف طوفان بدتمیزی برپا کردیا اور یہ تاثر دیا کہ پاکستان کے تمام مسائل کے ذمہ دار باجوہ صاحب تھے۔یہ درست نہیں ہے کچھ معاملات میں عمران خان براہ راست باجوہ صاحب کے ساتھ شریک گناہ ہوتے تھے اور ایسا بھی ہوتا کہ خان صاحب اپنے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ذریعہ کوئی واردات کراتے

اور ہم اس کا ذمہ دار جنرل باجوہ کو سمجھتے۔ سب سے پہلے تو یہ جان لیجئے کہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر جنرل باجوہ نے نہیں شہباز شریف نے بٹھایا۔اگر شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کے خلاف بغاوت کردیتے تو 2018ء میں انہیں وزیراعظم بننا تھا۔ شہباز شریف کے انکار کے بعد جنرل باجوہ کے پاس کوئی چوائس نہ رہی، انہوں نے عمران خان کو جیسے تیسے اکثریت تو دلوا دی لیکن حکومت سازی کیلئے نمبرز پھر بھی پورے نہ تھے۔ عمران خان کو مرکز اور پنجاب میں سارے نمبرز جنرل باجوہ اور فیض نے پورے کرکے دیئے۔ یہی وجہ تھی کہ عمران خان کو جنرل باجوہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے اچھے آرمی چیف لگتے تھے عمران خان اور جنرل باجوہ نے مل کر کرتار پور راہداری کھولی ۔کشمیری حریت پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی نے بار بار خبردار کیا کہ مودی سرکار پر اندھا دھند اعتماد مت کرو لیکن گیلانی صاحب کی کسی نے نہ سنی ۔کوئی مانے نہ مانے لیکن تاریخ میں یہ لکھا جا چکا ہے کہ جب 5اگست 2019ء کو مودی سرکار نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر آئینی قبضہ کیا تو عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم اور جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف تھے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور معاہدہ عمران خان اور جنرل باجوہ نے مل کر کیا ۔عدالتوں سے سزا یافتہ مجرم مسلم خان کو صدر عارف علوی سے معافی بھی عمران خان نے دلوائی لیکن جب امن قائم نہ ہوا تو ذمہ داری فوج

پر ڈال دی گئی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ جو بھی ہوا اس میں جنرل باجوہ، جنرل فیض اور عمران خان ساتھ ساتھ تھے ۔علی وزیر اور گلالئی اسماعیل کے خلاف تمام کارروائی عمران خان کی مرضی سے ہوئی ۔آج جو لوگ کینیا میں ارشد شریف کے کیس کا الزام جنرل باجوہ پر لگاتے ہیں وہ سویڈن میں ساجد بلوچ اور کینیڈا میں کریمہ بلوچ کے پراسرار زندگی سے محروم کیے جانے کے واقعات پر خاموش نہ رہتے تو شاید آج پاکستان میں صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ وہ کچھ نہ ہو رہا ہوتا جس کے باعث تحریک انصاف نے 29نومبر کو یوم نجات قرار دیا۔اگر تحریک انصاف ابصار عالم اور اسد طور کے زخموں کا مذاق نہ اڑاتی تو آج اعظم سواتی اور شہباز گل کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر واویلے کی نوبت نہ آتی۔یہ عجیب بات ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کا کریڈٹ تو تحریک انصاف والے خود لیتے ہیں اور فوج کو بدنام کرنے کا ذمہ دار جنرل باجوہ کو قرار دیتے ہیں ۔یہ مت سمجھیں کہ اچھے کاموں کا کریڈٹ آپ لے جائیں گے اور بدنامی صرف باجوہ صاحب کو ملے گی۔آپ کو اچھائی اور برائی دونوں میں حصہ دار بننا پڑے گا۔آپ نے جو نفرتوں کی آگ بھڑکائی ہے اس میں صرف دوسروں کے گھر نہیں جلیں گے بلکہ اس آگ کا مزا آپ کو بھی چکھنا پڑے گا ابھی وقت ہے مزید آگ مت لگائیے ورنہ زیادہ نقصان آپ ہی اٹھائیں گے۔

Categories
منتخب کالم

ایک سال قبل جب ارشاد بھٹی اپنی اہلیہ کو قبر میں اتارنے لگے تو انکے ساتھ کیا حیران کن واقعہ پیش آیا تھا ؟ خود احوال بیان کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اپنی زندگی مین آخری بار بیگم آئی سی یو میں داخل ہوئی ہم دوبارہ اذیت ناک لمحوں میں ،زندگی دوبارہ بیگم کے جسم سے جڑی ٹی وی ا سکرینوں پر ٹھہری ہوئی ، مت پوچھیے یہ وقت کیسا، میں چاہوں تو بھی ان شب وروز کی

تکلیف ،بے بسی ،بے چینی بیان نہیں کر سکتا، کبھی آئی سی یو کے اندر کبھی باہر ،دن ہے یا رات ،ورکنگ ڈے ہے یا چھٹی ، گرمی ہے یا سردی،کچھ کھا لیا یا پیٹ خالی ،کپڑے بدلے یا پچھلے تین دنوں سے ایک ہی لباس پہنا ہوا، نہ پتا نہ احساس ، ، کتنی بار ہمت جواب دے گئی،کتنی بار آس ٹوٹی ،کتنی بار ضبط کے بندھن ٹوٹے، کتنی دعائیں مانگیں ، اللہ سے شکوے کتنے ،اللہ سے معافیاں کتنی ، ، کیسے کیسے مشکل لمحے ،کیسے کیسے دل چیر دینے والے منظر ، ،آہستہ آہستہ حالت یہ ہوئی ،یوں لگنے لگا ، میں ذہنی مریض ، ذہنی سکون کی دوائیاں کھانا شروع کردیں ، اینٹی ڈیپریشن دوائیاں لینے لگا، سونے کیلئے میں سنگل ڈوز دوائی کی بجائے ڈبل نہیں ٹرپل ڈوز دوائی کھا نے لگا، مگر نہ ذہنی سکون نہ نیند نہ اطمینان ،10دن گزرے ،گیارہواں دن ڈھلا، رات آئی اور وہ بدنصیب گھڑی آگئی ،جب سب کچھ لُٹ گیا ، جب کچھ پلے نہ رہا، جب دعائیں ،خواہشیں ہارگئیں، جب تقدیر جیت گئی، حضورؐ سے کسی نے پوچھا ،دنیا کی 3بڑی نعمتیں کون سی ،آپ ؐ نے فرمایا ،ایمان ،صحت ،نیک سیر ت بیوی، وہ بدنصیب گھڑی آگئی ، جب مجھ سے اک بڑی نعمت نیک سیرت بیوی چھن گئی۔مجھے اچھی طرح یاد، میں رات گئے اسپتال سے واپس گھر پہنچا ، ابھی نیند کی گولی کھا کر لیٹنے ہی لگا، چھوٹے بھائی کا اسپتال سے فون آگیا، بھابھی کے دل کی دھڑکن بند ہوگئی، سانس رُک گیا، سب ڈاکٹر آچکے ،سب کوشش کررہے،

آپ فوراً آجائیں، اس کے بعد کیاہوا، مجھے نہیں معلوم ،کیسے میں نے ہڑ بڑا کر ،گھبرا کر بلند آواز میں کہا، کیا دھڑکن بند ہوگئی، سانس رُک گئی، کیسے پاس بیٹھی بیٹی روتے ہوئے میرے گلے لگی، ہم دونوں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے ، میں نے خود کو سنبھالا، بیٹی کو دلاسا دیا، اس کے آنسو پونچھے اسے سینے سے الگ کیا، گاڑی میں بیٹھا، کیسے اسپتال پہنچا، کیسے آئی سی یو کے اندر گیا،کیسے دل کی دھڑکنوں، سانسوں، بلڈ پریشر کنڑول کرتی ٹیم کا انچارج ڈاکٹر آخر کار فجر کے قریب ہم سب کو ویٹنگ روم میں بٹھاکربولا ، ہم معذرت خواہ،ہم نے بہت کوشش کی، ہم کامیاب نہیں ہوسکے، میں نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط کئے ، پیچھے پیچھے ایمبولینس میں بیگم، ایمبولینس کے آگے آگے گاڑی چلاتا میں گھر پہنچا، دیکھتے ہی دیکھتے بیگم کی سینکڑوںا سٹوڈنٹس آگئیں ، بیگم کو آخری غسل دیا گیا ، کیسے ظہر تک لوگ ہی لوگ آگئے ، مسجد میں جنازہ ہوا ، بیگم کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر مسلسل آنسو بہاتے ایمبولینس میں ،میں اسے قبرستان لایا، قبر میں پہلے میں نے خود لیٹ کر یہ دیکھا کہ کیا بیگم یہاں آرام سے لیٹ پائے گی ، میں نے بیگم کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا ، کفن کی گرہیں کھول کر آخری بار اسے دیکھا ، آخری بار اسکا ماتھا چوما، قبر میں لیٹ کر آخری بار اسے جپھی ڈالی ، اپنے ہاتھوں سے اسے سپردِ خاک کیا، دفنانے کے بعد بھی میں وہاں بیٹھا رہا،نہیں معلوم کب گھر واپس آیا،

آج بیگم کو گئے ایک سال ہونے کو آیا، وہ جا چکی ،ابھی تک یقین نہیں آرہا، وہ اکثر کہا کرتی ،میں نے تم سے پہلے چلے جانا ، جب میں چلی جاؤں گی تمہیں لگ پتا جائے گا، واقعی مجھے لگ پتا گیا، بلکہ ہر روز پتا لگ رہا، میں بچے ،گھر ،زندگی ،اس کے بنا سب کچھ ادھورا، باقی چھوڑیں ،بیگم کو نئے گھر چھوڑ کر جب ہم پہلی بار گھر آئے لگ پتا گیا ،پہلے ہم زندگی گزار رہے تھے، آج زندگی ہمیں گزار رہی،بیگم جا چکی مگر گھر کی سیٹنگ آج بھی وہی ، جو بیگم کر کے گئی تھی، بیگم کا کمرہ آج بھی ویسا ہی ،جیسا وہ چھوڑ کر گئی، ابھی تک بیڈ پروہی چادر جس پر وہ آخری بار سوئی، تکیے وہیں پڑے ہوئے ،جہاں اس نے رکھے تھے، الماری میں اس کے کپڑے، ڈریسنگ ٹیبل پر اس کا سامان ، بیڈ کے ساتھ ٹیبل پر پڑا اس کا قرآن ، الماری کے درازوں میں رکھی اس کی چیزیں ، سب کچھ وہاں ہی ،جہاں وہ رکھ کر اسپتال گئی ، ہم بس کمرہ کھولتے ہیں ،صفائی کرتے ہیں ، کمرہ بند کر دیتے ہیں ، وہ گھر میں روزانہ صبح سورۃ بقرہ لگاتی ، اب بھی روزانہ سورۃ بقرہ لگ رہی ، اسے گلاب کے پھول پسند تھے، اسکے کمرے ،آخری آرام گاہ پر گلاب کے پھول ابھی تک مرجھائے نہیں، اس کا اسکول ،مدرسہ ،مسجدیں، سب کچھ ویسا ہی چل رہا، جن گھر وں میں وہ ماہانہ راشن بھجوایا کرتی ، وہاں راشن بھی پہنچ رہا، سب ہورہا، بس وہ نہیں ۔

Categories
منتخب کالم

جنرل باجوہ، فیض حمید اور عمران خان شریک مجرم کیوں ہیں؟سینئر صحاٖفی حامد میر کا بے لاگ تجزیہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) معروف ٹی وی اینکر اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ آرمی کمان میں تبدیلی کے بعد تحریک انصاف نے سوشل میڈیا پر جنرل قمر باجوہ کے خلاف طوفان بدتمیزی برپا کرتے ہوئے یہ تاثر دیا ہے کہ تمام مسائل کے ذمہ دار باجوہ صاحب تھے حالانکہ بہت سارے معاملات میں عمران خان براہ راست جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کے

ساتھ شریک گناہ ہوتے تھے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ آرمی بینڈ کی خوبصورت دھنیں بج رہی تھیں۔ بالآخر آرمی کمان میں تبدیلی کی تقریب شروع ہو چکی تھی۔ صحافیوں کے انکلوژر میں ڈاکٹر شاہد مسعود کو دیکھ کر مجھے بہت سے واقعات یاد آنے لگے۔یہ وہ واقعات ہیں جو ان چھ برسوں میں پیش آئے جب جنرل قمر باجوہ فوج کے سربراہ تھے۔ یہ واقعات باجوہ صاحب بھول سکتے ہیں لیکن ہم نہیں بھول سکتے۔ 2018 کے دھاندلی زدہ الیکشن کے بعد عمران خان کو وزیر اعظم بنوایا گیا تو کچھ عرصے کے بعد ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کو پی ٹی وی کے فنڈز میں گڑبڑ کرنے کے الزام میں گرفتار کر کے اڈیالہ جیل پنڈی بھجوا دیا گیا۔ ایک رو ز میں انہیں ملنے اڈیالہ جیل گیا تو پتہ چلا کہ انہیں ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔ اگلے ہی دن میں وزیر اعظم عمران خان کے پاس پہنچ گیا اور گزارش کی کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو ایف آئی اے ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرتی ہے، ان کے خلاف مقدمے کا فیصلہ عدالت کریگی لیکن آپ انہیں ہتھکڑیاں تو نہ لگوایا کریں۔خان صاحب نے پہلے تو حیرانی سے پوچھا ’’شاہد مسعود کب پکڑا گیا؟ مجھے تو پتہ ہی نہیں، پھر فوراً ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن سے فون پر بات کی اور کہا کہ حامد میر پہلی دفعہ کوئی کام لیکر آیا ہے آپ شاہد مسعود کو ہتھکڑیاں نہ لگایا کریں۔ حامد میر بتاتے ہیں کہ میں خان صاحب کے فون سے مطمئن ہو کر واپس آگیا۔

دو دن بعد ڈاکٹر صاحب کو پھر عدالت میں پیش کیا گیا تو جانتے ہیں کیا ہوا؟ پہلے تو ڈاکٹر صاحب کے ایک ہاتھ میں زنجیریں ڈالی جاتی تھیں لیکن میری سفارش کے بعد انکے دونوں ہاتھوں میں زنجیریں ڈال دی گئیں۔ ظاہر ہے مجھے بہت شرمندگی ہوئی، میں نے معلوم کیا کہ وزیر اعظم کے احکامات کو اتنے رعونت آمیز طریقے سے کیوں نظر انداز کیا گیا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ نے غلط آدمی سے سفارش کردی، آپ کو وزیراعظم سے نہیں آرمی چیف سے بات کرنی چاہئے تھی۔ چند روز بعد افغانستان کی صورتحال پر ایک بریفنگ تھی جس میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ بھی موجود تھے۔ میں نے شاہد مسعود کیلئے ان سے بات کی تو ارشد شریف نے بھی میری تائید کر دی۔ باجوہ صاحب نے پہلے تو ناگواری کا اظہار کیا اور شاہد مسعود پر خوب غصہ نکالا اور پھر کچھ دیر بعد نرم پڑ گئے۔ چند دن بعد ڈاکٹر صاحب کو رہا کردیا گیا۔ اس کے بعد بھی ایسے کئی واقعات پیش آئے جن کے بارے میں عمران خان لاعلمی کا اظہار کرتے۔ حامد میر بتاتے ہیں کہ عرفان صدیقی گرفتار ہوئے تو عمران خان نے مجھے پیغام بھیجا کہ میرا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ مطیع اللہ جان کو اغوا کیا گیا تو کہا گیا کہ وزیر اعظم نے کبھی کسی صحافی کو اغوا کرنے یا نوکری سے نکالنے کا حکم نہیں دیا۔ 29 نومبر کو پاکستان آرمی کی کمان میں تبدیلی کے بعد تحریک انصاف کی قیادت نے سوشل میڈیا پر جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف طوفان بدتمیزی برپا کر دیا اور یہ تاثر دیا کہ

پاکستان کے تمام مسائل کے ذمہ دار باجوہ صاحب تھے حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔ بہت سارے معاملات میں عمران خان براہ راست باجوہ صاحب کے ساتھ شریک گناہ ہوتے تھے اور ایسا بھی ہوتا کہ خان صاحب اپنے چہیتے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ذریعہ کوئی واردات ڈلواتے اور ہم اسکا ذمہ دار جنرل باجوہ کو سمجھتے۔ سب سے پہلے تو یہ جان لیجئے کہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر جنرل باجوہ نے نہیں بلکہ شہباز شریف نے بٹھایا۔ اگر شہباز اپنے بھائی نواز شریف کے خلاف بغاوت کر دیتے تو 2018ء میں انہیں وزیراعظم بننا تھا۔ شہباز کے انکار کے بعد جنرل باجوہ کے پاس کوئی چوائس نہ رہی، انہوں نے عمران کو جیسے تیسے اکثریت تو دلوا دی لیکن حکومت سازی کیلئے نمبرز پھر بھی پورے نہ تھے۔ عمران کو مرکز اور پنجاب میں سارے نمبرز جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے پورے کرکے دیئے۔ یہی وجہ تھی کہ عمران خان کو جنرل باجوہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے اچھے آرمی چیف لگتے تھے جن کی تعریف میں خان صاحب زمین اور آسمان ایک کر دیا کرتے تھے۔ حامد میر بتاتے ہیں کہ عمران خان اور جنرل باجوہ نے مل کر کرتار پور راہداری کھولی۔کشمیری حریت پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی نے بار بار خبردار کیا کہ مودی سرکار پر اندھا دھند اعتماد مت کرو لیکن گیلانی صاحب کی کسی نے نہ سنی۔ کوئی مانے نہ مانے لیکن تاریخ میں یہ لکھا جا چکا ہے کہ

پچھلے دور حکومت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ جو سلوک ہوا اس میں جنرل باجوہ، جنرل فیض اور عمران خان ساتھ ساتھ تھے۔علی وزیر اور گلالئی اسماعیل کے خلاف کارروائیاں عمران خان کی مرضی سے ہوئیں۔ آج جو لوگ کینیا میں ارشد شریف کے قتل کا الزام جنرل قمر باجوہ پر لگاتے ہیں وہ سویڈن میں ساجد بلوچ اور کینیڈا میں کریمہ بلوچ کے پراسرار قتل پر خاموش نہ رہتے تو شاید آج پاکستان میں صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ وہ کچھ نہ ہو رہا ہوتا جس کے باعث تحریک انصاف نے 29 نومبر کو یوم نجات قرار دیا۔ اگر تحریک انصاف ابصار عالم اور اسد طور کے زخموں کا مذاق نہ اڑاتی تو آج اعظم سواتی اور شہباز گل کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر واویلے کی نوبت نہ آتی۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کا کریڈٹ تو تحریک انصاف والے خود لیتے ہیں اور فوج کو بدنام کرنے کا ذمہ دار جنرل باجوہ کو قرار دیتے ہیں۔ یہ مت سمجھیں کہ اچھے کاموں کا کریڈٹ آپ لے جائیں گے اور بدنامی صرف باجوہ صاحب کو ملے گی۔آپ کو اچھائی اور برائی دونوں میں حصہ دار بننا پڑے گا۔آپ نے جو نفرتوں کی آگ بھڑکائی ہے اس میں صرف دوسروں کے گھر نہیں جلیں گے بلکہ اس آگ کا مزہ آپ کو بھی چکھنا پڑے گا اب بھی وقت ہے، مزید آگ مت لگائیے، ورنہ زیادہ نقصان آپ ہی اٹھائیں گے۔

Categories
منتخب کالم

شہباز حکومت اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ سے باہر نکلنے لگی؟ مگر کیسے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) 29 نومبر کو جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد فوج واقعی اپنے اعلان کے مطابق غیر سیاسی ہوتی ہے یا نہیں، یہ تو ابھی دیکھنا ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ اب شہباز حکومت اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ سے باہر نکلتی ہوئی نظر آتی ہے جس کا واضح ثبوت اعظم نذیر تارڑ کی بطور وفاقی وزیر قانون کابینہ میں واپسی ہے۔

یاد رہے کہ کچھ ہفتے پہلے اعظم تارڑ کو جنرل باجوہ کی جانب سے اظہار ناراضی کے بعد استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا تھا، تاہم اسے قبول نہیں کیا گیا تھا اور باجوہ کے جاتے ہی تارڑ کو دوبارہ کابینہ کا حصہ بنا لیا گیا ہے اور انہوں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے 24 اکتوبر کو وزیر قانون کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، جس کے بعد وفاقی وزیر سردار ایاز صادق کو وزیر قانون کی اضافی ذمہ داریاں سونپ دی گئی تھیں اور نوٹیفکیشن بھی جاری ہو گیا تھا۔ خیال رہے کہ تارڑ نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس کے چند گھنٹوں بعد ہی اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر بطور وفاقی وزیر اپنی ذمہ داریاں جاری نہیں رکھ سکتا۔ تب میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اعظم تارڑ نے لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران ’ فوج اور جنرل باجوہ مخالف نعروں‘ کی وجہ سے استعفیٰ دیا کیونکہ فوجی قیادت نے وزیر اعظم کے ساتھ سخت اظہار ناراضی کیا تھا۔ فوج کو گلہ تھا کہ وفاقی وزیر قانون کی موجودگی میں جنرل باجوہ کے خلاف نعرے لگے تو انہوں نے روکا کیوں نہیں؟ یہ بھی کہا گیا تھا کہ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کے مطالبے پر حکومت کی جانب سے تین ’جونیئر ججز‘ کے حق میں اپنا ووٹ ڈالنے پر بطور اظہار ندامت استعفیٰ دیا۔ لیکن یہ بات غلط ہے اور

اعظم تارڑ کو ایسی کوئی ندامت نہیں تھی ورنہ وہ سپریم کورٹ میں تین جونیئر ججز گھسانے کے لیے ووٹ دینے سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیتے۔ اعظم تارڑ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر ججز کی جانب سے جونیئر ججوں کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی مخالفت کے باوجود اپنا منہ کالا کرتے ہوئے ان ججوں کو سپریم کورٹ میں گھسا دیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اعظم تارڑ کا یہ جرم ناقابل معافی ہے چونکہ ان کی اس حرکت کا خمیازہ پاکستانی قوم اگلے دس سے پندرہ برس تک اسٹیبلشمنٹ کے گھسائے ہوئے پالتو ججوں کے فیصلوں کی صورت میں بھگتتی رہے گی۔ اعظم تارڑ کی وفاقی کابینہ میں واپسی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ موصوف کو منانے کے لئے وزیراعظم شہبازشریف نے ایک حکومتی وفد ان کے گھر بھیجا تھا جس کیساتھ مذاکرات کامیاب رہے اور انہوں نے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا۔ وزرا کے وفد میں وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، اقتصادی امور کے وزیر ایاز صادق اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق شامل تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے مطابق وفاقی وزرا کے وفد نے اعظم نذیر تارڑ کو بتایا کہ وزیراعظم نے استعفیٰ نامنظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر قانون کے منصب پر ذمہ داریاں جاری رکھیں۔ تاہم کچھ مسلم لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ اعظم نذیر تارڑ کو شہباز شریف کی مرضی سے اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر کابینہ سے نکالا گیا تھا اور اب جنرل باجوہ کے جانے کے بعد انہیں نوازشریف کی خواہش پر وفاقی کابینہ میں دوبارہ شامل کیا گیا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اب شہباز حکومت کھل کر کھیلے گی کیونکہ ایک تو مستقبل میں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ویسا دباؤ آنے کا امکان نہیں جیسا کہ باجوہ دور میں آتا تھا اور دوسرا اگر کسی معاملے پر دباؤ آیا بھی تو حکومت اسے تسلیم نہیں کرے گی۔

Categories
منتخب کالم

اسمبلیاں تحلیل کرنا بھول جائے۔۔عمران کو پنجاب اور کے پی کے میں بھی سرپرائز دیں گے،آصف علی زرداری کا اعلان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب میں صوبائی حکومت تبدیل کرنے کے لیے ان کے پاس نمبرز ہیں اور اگر اسمبلیاں نہ توڑی گئیں تو ہر جگہ عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے، عمران خان کو پنجاب اور کے پی کے میں بھی سرپرائز دیں گے۔نجی ٹی وی کو انٹرویو میں ایک سوال پر سابق صدر آصف علی زرداری

نے کہا کہ پنجاب میں حکومت تبدیل ہونی چاہیے، میرے پاس نمبرز ہیں اور نمبرز بھی بڑھاسکتا ہوں، چوہدری پرویز الہٰی سے کیا بات کریں گے اور بڑی چوائسز ہیں،چوہدری پرویز الہٰی سے ناراضی نہیں بلکہ دوریاں ہیں جن کو ختم کیا جاسکتا ہے، پہلے بھی ختم کیا تھا اور ان کو ڈپٹی وزیراعظم بنایا تھا جو پوسٹ ہی نہیں تھی اور ان کو 17 وزارتیں دی تھیں اب انہوں نے خود دوری اختیار کی ہے تو دیکھیں گے، پنجاب میں بہت چوائسز ہیں ان سے بہتر چوائسز ہیں کیونکہ اب وہ دوریوں میں ہیں۔انہوں نےقبل از انتخابات کے حوالے سے سوال پر کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ پہلے انتخابات ہمیں یا جمہوریت کے لیے سودمند ہوں گے، عمران خان اگر پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کر دیتے ہیں تو انتخابات ہوں گے جس کے جواب انکا کہناتھاتھا کہ پھر انتخابات ہوں گے لیکن دیکھتا ہوں وہ کتنے اراکین بناتا ہے، اگر وہ اسمبلیاں توڑیں گے تو ہم انتخابات لڑیں گے اور اگر نہیں توڑیں گے تو اپوزیشن کریں گے،اگر اسمبلیاں نہیں توڑی گئیں تو ہر جگہ عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی لائیں گے۔انٹرویو کے دوران آصف زرداری سے سوال کیا گیاکہ وہاں تو آپ کے پاس اتنی سیٹیں نہیں ہیں تو ان کا جواب تھا کہ سیٹیں ہیں، تھوڑے دوست گمراہ ہیں، ان کو واپس لانا ہے، کوئی ایسا طریقہ کریں گے جس میں ان کو استعفیٰ بھی نہ دینا پڑے اور اسمبلی بھی چلے اور حکومتیں بھی چلیں، ہم نے پہلے کون سے اراکین خریدے ہیں بلکہ گفتگو ہوتی ہے کہ اگلے انتخابات میں ساتھ چلیں گے، ایسا نہیں ہوتا کہ 50 کروڑ لے لیں اور اسمبلیاں گرادیں،میں نے کوئی بندہ نہیں خریدا اور ضرورت ہی نہیں پڑتی اور ہی فارمولا دوبارہ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں بھی انتخابات سے پہلے ہوگا، انتخابات اپنے وقت پر ہونے چاہیئں،

نئی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی دباؤ نہیں آئے گا اور میرے خیال میں انہوں نے بات کی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست سے الگ ہوگئے تو میں اس کو سراہتا ہوں۔سابق صدر نے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے سوال پر کہا کہ میں ان کو نہیں جانتا، میں صرف جنرل عامر کو جانتا ہوں لیکن وہ چھٹے نمبر پر تھے اگر دوسرے نمبر پر بھی ہوتے تو کچھ کرتا، میں چاہتا تھا لیکن وہ بہت نچلے نمبر پر تھے، آرمی چیف کی تعیناتی ادارے کی طرف سے ہوئی ہے اور سینئر ترین جنرل کو آرمی چیف بنایا گیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف سے کہا کہ آئینی حق استعمال کریں، ہم آپ کے اتحادی ہیں اور ہم آپ کو آئینی حق استعمال کرنے کی اتھارٹی دیتے ہیں،جنرل قمر جاوید باجوہ نے توسیع کے لیے مجھ سے کبھی بات نہیں کی، اگر وزیراعظم سے کی ہو تو پتا نہیں۔

Categories
منتخب کالم

خان صاحب :الیکشن جب بھی ہوں فتح آپ کی ہونی ہے ، مگر جلد بازی میں فتح کی بجائے شکست ہوگئی تو ذمہ دار آپ ہونگے ۔۔۔۔ کپتان کو زبردست مشورہ دے دیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی احمد ڈھلوں اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خان صاحب نے اپنی وہ بات درست ثابت کر دی کہ اقتدار سے نکل کر وہ خطرناک ہو جائیں گے۔ وہ واقعی موجودہ حکومت کے لیے خطرناک ہوئے ہیں ،ان چھ ماہ میں حکومت نے بہت کچھ

کھویا ہے اور خان نے بہت کچھ پایا ہے۔ لیکن اس کے برعکس اہم عہدوں پر اس وقت وہ لوگ تعینات ہیں جن سے خان صاحب کو ذاتی پرخاش ہے۔ لیکن میں پھر بھی یہی کہتا ہوں کہ اگر ان تمام مسائل کے باوجودآج الیکشن کا اعلان ہو جاتا ہے تو جیت یقینی طور پر عمران خان کے حصے میںآئے گی۔ لہٰذاخان صاحب کو چاہیے کہ وہ حکومت (پی ڈی ایم) کی مذاکرات کی پیشکش کو نہ ٹھکرائیں اور اسمبلیوں میں واپس جائیں تاکہ الیکشن اصلاحات ہوسکیں اور بہترین قیادت اس ملک کے استحکام کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اس وقت دنیا بھر میں پاکستان کا مذاق بنایا جا رہا ہے ، بھارتی میڈیا نے جس بھونڈے انداز میں ہمارے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کو موضوع بنائے رکھا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، پھر غیر ملکی مصنّفین اور مورخین کتابوں کے نام بھی ایسے رکھے رہے ہیں۔ The Warrior State، یا یہ بھی دیکھ لیں کہ Pakistan A Garrison State، یا مزید یہ کہ A Hard Country، یا Poor Pakistan۔ مطلب! شرم تو ہمیں آنی چاہیے جنہوں نے اس ملک میں رہنا ہے ، ان حکمرانوں کو شرم اس لیے بھی شاید نہیں آتی کیوں کہ انہوں نے کونسا اس ملک میں رہنا ہے۔ بہرکیف سیاسی استحکام کے لیے عمران خان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا .انہیں یہ ذمہ داری دوسروں پر ڈالتے رہنے کے بجائے اپنا حصہ بھی ڈالنا ہو گا۔ صرف دوسروں کو للکارنے، روزانہ برا بھلا کہنے سے لوگوں کو ذہنی مریض تو بنا سکتے ہیں تعمیر کی طرف نہیں جا سکتے۔ سیاسی استحکام کے لیے سب کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ اگر پاکستان تحریک انصاف کو قبل از وقت انتخابات نظر نہیں آ رہے جیسا کہ ان کی طرف سے یہ سننے کو بھی مل رہا ہے کہ انتخابات اکتوبر تک جا سکتے ہیں جب یہ واضح ہو رہا ہے تو پھرفی الوقت عمران خان کو اگلے الیکشن کی بھرپور تیاری کرنی چاہیے، اُنہیں پارٹی کو اندرونی طور پر مضبوط کرنا چاہیے، اُن کی پارٹی کے اندر سینکڑوں قسم کے اختلافات ختم ہونے چاہئیں۔ اس دوران پی ڈی ایم جو پہلے ہی اپنی پالیسیوں کی وجہ سے ایکسپوز ہو چکی ہے ، عوام کے سامنے مزید آشکار ہوجائے گی۔ لہٰذاخان صاحب فوری طور پر پارلیمنٹ میں جائیں لوگوں کے ساتھ بیٹھیں، خود کو سب سے بہتر، افضل سمجھنا بند کریں۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد آپ کے ساتھ ہے اس کی درست سمت رہنمائی کریں۔ نوجوانوں میں نفرت کے بیج نہ بوئیں ۔انہیں ملک اور اداروں سے محبت کا سبق دیں۔ آپ کا ہونا اس ملک کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا پاکستان ہمارے لیے۔ آپ لوگوں کی اُمید ہیں ، اگر خدانخواستہ یہ اُمید ٹوٹی تو ملک بڑی تباہی کی طرف چلا جائے گااور ہمارے حصے میں ایک بار پھر بدعنوانی آجائے گی!