Categories
منتخب کالم

’’ہمارا مقصد واضح ہے نواز شریف جائے‘ خواہ اس کی جگہ کھٹومل رام ہی آ جائے‘‘۔۔۔۔کئی برس پرانا واقعہ جان کر آپ کو پتہ چلے گا آج شریف خاندان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ؟ تاریخی سیاسی واقعات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔وفاقی دارالحکومت میں سازشوں کا بسیرا روز اول سے ہے اور قیاس آرائیوں کی فراوانی بھی‘ بے یقینی کی جو فصل مگر گزشتہ ڈیڑھ دو ماہ میں اُگی اورخوب پھلی پھولی وہ ماضی میں شائد و باید۔یہ بے یقینی کا ثمر ہے

کہ جو ڈالر فروری میں 174/175پر بآسانی دستیاب تھا اب دو سو روپے میں بھی جس خوش نصیب کو مل جائے وہ پھولا نہیں سماتا‘غضب خدا کا تالبان کے افغانستان میں ڈالر کی قدرو قیمت نوّے پچانوے افغانی سے زیادہ نہیں مگر پاکستان میں دو گنا زائد‘ اقبالؒ نے بے یقینی کو غلامی سے بدتر بتایا ؎ سن اے تہذیب حاضر کے گرفتار غلامی سے بتر ہے بے یقینی اور یہ بھی کہا ؎ یقیں پیدا کر اے ناداں‘یقیں سے ہاتھ آتی ہے وہ درویشی کہ جس کے سامنے جھکتی ہے فغفوری غلطی ناداں اور دانا دونوں کرتے ہیں‘ جو کام دانا کرتا ہے وہی ناداں بھی کرتا ہے ۔فرق بس اتنا کہ دانا اپنی غلطی سے سبق سیکھتا اور فوری سدھار لیتا ہے ناداں ناقابل برداشت خمیازہ بھگتنے کے بعد دانا کے راستے پرچلتا اور تاعمر پچھتاتا ہے۔ یہی حالت اب ہماری حکمران اشرافیہ کی ہے‘ اندازوں کی غلطی تھی‘ عمران خان کی عوامی مقبولیت بالخصوص نوجوان نسل میں پذیرائی کا کسی نے گوشوارہ تیار کیا نہ بارہ تیرہ جماعتی اتحاد کی اہلیت و صلاحیت اور فیصلہ کرنے کی قوت پر سنجیدگی سے غور ہوا اور نہ کسی نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی کہ عالمی سطح پر مہنگائی اور کساد بازاری سے متاثر پاکستان میں اس عفریت سے نمٹنے کے لئے جن غیر معمولی وسائل کی ضرورت ہے مخلوط حکومت ان کا بندوبست کیسے کریگی؟ بروقت نہ کرپائی تو گلشن کا کاروبار خوش اسلوبی سے چل پائے گا یا نہیں؟ بس ایک ہی دھن سوار تھی کہ عمران خان جائے اور میاں شہباز شریف جناب آصف علی

زرداری و مولانا فضل الرحمن کے جلو میں تخت اسلام آباد پر متمکن ہوں۔ہم خوش ہمارا خدا خوش۔ 1993ء میں میاں نواز شریف اور صدر غلام اسحق خان کے درمیان کشمکش کا آغاز ہوا تو دونوں اطراف سے حکمران پارٹی کے ارکان کو اپنے ساتھ ملانے کے جتن کئے جانے لگے‘ قائد حزب اختلاف محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی اعتماد میں لیا گیا اور میاں صاحب سے بدظن حامد ناصر چٹھہ بھی میدان میں اُترے‘ایک صحافی نے چٹھہ صاحب سے پوچھا آپ کا ایجنڈا کیا ہے ؟اور نواز شریف کا متبادل ‘ مسلم لیگ میں سے کون ہو گا‘ عام سوچ یہی تھی کہ مسلم لیگی ارکان اور غلام اسحق خان بے نظیر بھٹو سے ہاتھ نہیں ملائیں گے اور ان ہائوس تبدیلی کی راہ ہموار کی جائیگی یہ سوال اسی تناظر میں ہوا‘مُنہ پھٹ حامد ناصر چٹھہ نے ترنت جواب دیا ’’ہمارا مقصد واضح ہے نواز شریف جائے‘ خواہ اس کی جگہ کھٹومل رام ہی آ جائے‘‘ کھٹو مل رام سادہ لوحی اور سیاسی بے مائیگی کی شہرت رکھنے والے اقلیتی رکن قومی اسمبلی تھے۔عمران خان حکومت کا خاتمہ کرتے وقت بھی شائد یہی سوچا گیا‘ کسی نے سیاسی نتائج و عواقب پر غور کیا نہ معاشی مضمرات کے بارے میں سوچا‘ نتیجہ معلوم۔ وفاقی دارالحکومت میں اب طرح طرح کی سازشی کہانیاں گشت کر رہی ہیں‘ معاشی ٹیکنو کریٹ کی زیر قیادت چار چھ ماہ کی نگران حکومت‘عمران خان اور تحریک انصاف کو لانگ مارچ اور دھرنے کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی مشاورت اور سخت فیصلوں کے سیاسی

نقصانات کی پروا کئے بغیر موجودہ اتحادی حکومت کو اگلے اگست تک برقرار رکھنے کی ضد۔مسلم لیگ‘ پیپلز پارٹی اور ان کے دیگر اتحادی اپنی جگہ سچے ہیں کہ انہوں نے اپنی سیاسی ساکھ محض ڈیڑھ دو ماہ کے اقتدار کے لئے دائو پر نہیں لگائی تھی‘ اگر نئے انتخابات ہی ان کی کل کمائی ہے تو ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے بعد عمران خان نے اپوزیشن کی جھولی میں ڈال دیے تھے پھر عدالتی لڑائی ‘ لوٹا سازی‘ ایم کیو ایم‘ باپ اور دیگر چھوٹی جماعتوں کی پریشرائزنگ کے علاوہ عمران خان کی تین سالہ کارکردگی کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھانے کی ضرورت کیا تھی؟ یہ تو کوئلوں کی دلاّلی ہوئی جس میں ہاتھ مُنہ کالا۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز حیرت زدہ ہیں کہ مسلم لیگ پر سازش‘ بوٹ پالش اور حکمرانی کا لیبل لگ گیا‘ اختیارات کی تہمت بھی‘ مگر میاں شہباز شریف کے دور حکمرانی میں اب تک دنوں کی سزائیں برقرار ہیں اور مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت۔ شہباز شریف سے پوچھیں تو وہ مجبوریوں کی طویل داستان سنا کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں اور آصف زرداری سے مشورہ کریں تو موصوف صبر کی تلقین پر اکتفا کرتے ہیں۔ ’’وچلی گل‘‘ دونوں کو معلوم ہے ؎ ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی جو چاہو سو آپ کرو ہو‘ ہم کو عبث بدنام کیا مخلوط حکومت میں زرداری سمیت جملہ اتحادیوں کے پوبارہ ہیں‘ وہ اقتدار کا آم بھی چوس رہے ہیں اور گٹھلیوں کے دام بھی وصول کریں گے جبکہ مہنگائی اور ناقص کارگزاری کا سارا خمیازہ مسلم لیگ بھگتے گی کہ وہی ڈرائیونگ سیٹ پر ہے۔

غلطی ہوئی اور ایسی ویسی نہیں پہاڑ سی غلطی‘ ادراک بھی شائد ہر سطح پر ہے‘ سدھارنے کو مگر کوئی تیار نہیں جس سے حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں‘بے یقینی بڑھ رہی ہے اور عوام کی زندگی اجیرن‘ پچھلے سال نومبر دسمبر میں مژدہ سنایا جا رہا تھا کہ مارچ میں عمران خان کی رخصتی اور اتحادیوں کے اقتدارسنبھالنے سے قوم موسم بہار سے لطف اندوز ہو گی مگر 10اپریل کے بعد فیض صاحب کا ایک شعر قوم کے پلے پڑا ہے جسے گنگنا کر وہ بچوں کا پیٹ پال سکتی ہے نہ اپنا معاشی مستقبل سنوارنے کے قابل ؎ نہ گل ہی کھلے ‘ نہ تم سے ملے‘ نہ مے پی ہے عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے فیصلہ ساز تذبذب کا شکار ہیں اور اتحادی میاں شہبازشریف کو ہلّہ شیری دینے میں مشغول کہ چڑھ جا بیٹا سولی پہ رام بھلی کرے گا مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ فوری حل کے سوا بے یقینی کے خاتمے کا کوئی دیرپا نسخہ ہے نہ سیاسی ‘معاشی استحکام کی ضمانت۔ عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کے مطالبات پورے کرنے کے لئے جو جرأت رندانہ‘ یکسوئی اور قوت درکار ہے اپنی سیاسی مجبوریوں کے باعث موجودہ حکومت میں مفقود ہے‘ ایک ماہ سے پوری قوم حکمرانوں کے اور چھور دیکھ رہی ہے ‘اتحادیوں کا اجلاس ہوتا ہے‘ذرائع سے خبریں چلتی ہیں اور پھر ایک اور اجلاس طلب کر لیا جاتا ہے‘ ٹھوس فیصلوں کے بعد دوسرا اجلاس بلانے کا کیا مقصد؟ ؎ ارادے باندھتا ہوں‘ سوچتا ہوں ‘توڑ دیتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو جائے‘ کہیں ایسا نہ ہو جائے سخت معاشی فیصلوں کے لئے نگران حکومت موزوں ہے اور انتخابی اصلاحات بھی وہی مناسب جن پر تمام سٹیک ہولڈرز کا اتفاق ہو‘ ورنہ اگلا الیکشن بھی بے کار کی مشق اور قوم کے لئے سفر رائیگاں‘ فوری فیصلوں اور کم از کم اتفاق رائے سے ہی موجودہ ڈیڈ لاک کا خاتمہ ممکن ہے ۔ مگرآج کا کام کل پر ڈالنے کی عادی اشرافیہ وسوسوں کا شکار! ؎ وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا وہ پڑی ہیں روز قیامتیں‘ کہ خیال روز جزا گیا

Categories
منتخب کالم

عثمان بزدار کے دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے امکانات ۔۔۔۔۔ سینئر کالم نگار کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار منصور آفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کڑکتی بجلیاں، تاریکیاں، طوفان ِ باد وباراں، اس کے باوجود خشک سالی، اس کے باوجودتیز دھوپ، اس کے باوجود تانبے کی طرح تپی زمین۔میرے رحمان و رحیم، رحم ۔ رحم مولا رحم۔ میاں کلپا، میاں کلپا، میاں کلپا، میاں میکسیمم کلپا۔

(میں قصور وارہوں، میں قصوروار ہوں، میں قصور وار ہوں، میں ہی قصور وار ہوں)۔ مولا گناہ معاف کر۔گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اس تیقن سے۔۔۔گنہ جتنے بھی ہوں کم ہیں، تری رحمت زیادہ ہے۔۔۔حفیظ شیخ کی آمد آمد ہے۔معین قریشی بھی کسی زمانے میں امریکہ سے دبئی براہ راست آئے تھے۔ وہاں سے کراچی ایئر پورٹ اترے تھے۔ اس وقت انہیں غیر معمولی پروٹوکول دیا گیا تھا۔یہ پروٹوکول سفید کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے دیا تھا۔ان کی خدمت میں جو سب سے پہلا تحفہ پیش کیا گیا تھا، وہ پاکستانی شناختی کارڈ تھا۔انہیں پاکستانی پاسپورٹ وزیر اعظم بننے کے بعد بنا کردیا گیا تھامگر اب وہ زمانہ نہیں رہا۔ اب امریکہ سے آنے والوں کے پاکستانی شناختی کارڈ بھی ہوتے ہیں اور پاکستانی پاسپورٹ بھی۔بہر حال یہ طے شدہ بات ہے کہ حالات اچھے نہیں ہیں۔ پیشین گوئیاں کرنے والے کئی سال تک حالات مسلسل خراب رہنے کی بات کررہے ہیں۔ وہ جنہیں کوئی خوف کوئی حزن نہیں، ان سے دعا کی درخواست ہے۔اس گھرکےلیے جو ہم سب کا ہے ۔ اس وقت تمام ستارے اسی گھر میں ہیں سوائے شمس کے۔ ایک دوسرے کے اوپر نیچے، آگے پیچھے اور مسلسل رُکے ہوئے۔ ایسا لگتا ہے جیسےساراسسٹم پھنس گیاہے۔ کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ کونسا ستارہ کیا کررہا ہے۔ اہل زائچہ حیران ہیں۔قدوس ِ ذوالجلال کا بےپایاں کرم اکرام کہ دوہزار پندرہ میں پاکستان میں خانہ جنگی کی غیر ملکی سازش ناکام ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق نئی پلاننگ دوہزار بائیس کےلیے کی گئی تھی۔ دست ِ ہائے دعا بلند ہیں کہ رب ِ تقویم یہ سال خیریت

سے گزار ے۔ علم اعداد کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ 47میں پاکستان بناتھا۔ اب اسے بنے ہوئے 74سال ہو گئے ہیں۔ سینتالیس اور چوہتر، علم العداد کے حساب میں ایک ہیں۔ سو اس برس کچھ بھی ہوسکتا ہے۔مہنگائی کا طوفان، معیشت کی تباہی، سیاسی عدم استحکام، سڑکوں پر بہتا ہوا اور فاختائوں کے پروں پر لکھا ہوا سرخ رنگ میری بدبخت آنکھوں میں بار بار جھلملا جاتا ہے۔ ڈالر دوسو روپے سے اوپرجا چکا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل دوسو سے اوپر جانے کی تیاری میں ہیں۔ بی بی سی فرما رہا ہے۔ ’’ پیٹرول اور ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی: ’یہ غریب سے زیادہ امیر کو فائدہ دیتی ہے ‘‘۔ویسے 74 کا عددتخلیقِ پاکستان کی خبر بھی دیتا ہے مگر اس کے ساتھ جڑا ہوا تخلیق کا درد بھی ایک حقیقت ہے۔ کچھ یاد ہے انیس سوسینتالیس میں کیا ہوا تھا۔کیوں لاکھوں بے گناہ افراد قربان ہوگئے تھے؟نئے انتخابات کے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر نئی حکومت کے متعلق بات کی جاسکتی ہے۔ غیر سیاسی لوگ شیروانیاں سلواتے پھرتے ہیں۔ نگران حکومت میں وزیر بننے کےلیے کچھ لوگوں نے اپنے اپنے سوداگروں کوبیعانے جمع کرادئیے ہیں۔ ہر مرتبہ جب نگران حکومت وجود میں آنے لگتی ہے تو اس طرح کے کچھ اصلی اور جعلی کاروباری ایوانوں کے کیفے ٹیریائوں میں بیٹھے ہوئے مل جاتے ہیں۔عقل کا دامن تھامنے کی اشد ضرورت ہے۔ ذرا سی غلطی ملک میں ایسی فضا پیدا کرسکتی ہے جسےبرسوں بھگتنا پڑے گا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے تفتیشی اداروں میں مداخلت کا

ازخود نوٹس بھی لے لیا ہے۔پنجاب اسمبلی میں صورتحال عجیب و غریب ہوگی۔ ممکن ہے حمزہ شہباز کے بعد دوبارعثمان بزدار وزیر اعلیٰ بن جائیں بلکہ پی ٹی آئی کی پنجاب میں ساری کابینہ واپس منسٹروں کے دفتروں میں دکھائی دینے لگے۔ پی ٹی آئی کے سرخیلوں کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ کے پاس جیسے ہی حکومت آئے گی وہ اسمبلیاں توڑ دیں گے۔ دوسری طرف حمزہ شریف کا پختہ ارادہ ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب رہیں گے۔ شہر شہر مریم نواز اور عمران خان کے جلسے کچھ کہہ رہے ہیں۔ ناصر کاظمی نے کہا تھا؛ان بپھرے ہوئے شہروں کی فضا کچھ کہتی ہے۔۔۔کبھی تم بھی سنو یہ دھرتی کیا کچھ کہتی ہے۔۔۔ناصرؔ آشوب زمانہ سے غافل نہ رہو۔۔۔کچھ ہوتا ہے جب خلق خدا کچھ کہتی ہے۔۔۔دوستو! دعا کی اپیل ہے۔ اجتماعی دعا کی۔ پاکستان کےلیے دعا کی کہ اس کا راستہ ہمیشہ روشنیوں اور خوشبوئوں سے بھرا رہے۔ اس کی گلیاں مہکتی رہیں۔ اس کی پھولوں بھری وادیاں اور اس کے رنگ بھرےکوچے ہمیشہ آباد رہیں اور اللّٰہ نہ کرے کہ کبھی کسی کی ایسی پیشین گوئیاں پوری ہوں،تباہی ہے شبِ آئندگاں تباہی ہے ۔۔۔یہ لگ رہا ہے مجھے ناگہاں تباہی ہے۔۔۔۔کوئی معاشرہ ممکن نہیں بجز انصاف۔۔۔جہاں جہاں پہ ستم ہے وہاں تباہی ہے۔۔۔میں ٹال سکتا نہیں آیتوں کی قرآت سے۔۔۔لکھی ہوئی جو سرِ آسماں تباہی ہے۔۔۔بچھے ہوئے کئی بھونچال ہیں مکانوں میں/۔۔۔۔دیارِ جاں میں مسلسل رواں تباہی ہے۔۔۔دعا کرو کہ قیامت میں دیکھتا ہوں قریب۔۔۔۔مرے قریب کوئی بے کراں تباہی ہے۔۔۔۔فراز مند ہے ابلیس کا علم منصورؔ۔۔۔گلی گلی میں عجب بے نشاں تباہی ہے۔۔

Categories
منتخب کالم

پی ڈی ایم جماعتیں قصہ پارینہ بن چکیں!!!! ن لیگ کی ساری جدوجہد پر پانی پھر گیا، عمران خان کا توڑ کیا ہے ؟ اہم راز سامنے آگئے

لاہور: (ویب ڈیسک) عمار مسعود اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” اس بات پر اب بحث کا کوئی فائدہ نہیں کہ پی ڈی ایم نے ان حالات میں حکومت کیوں قبول کی؟ ایک منہ کے بل گرتی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیوں لائے؟ عمران خان کی گرتی پڑتی ساکھ کو کیوں بحال ہونے کا موقع دیا؟

یہ سب اب قصہ پارینہ ہو چکا ہے۔ اب تحریک عدم اعتماد لائی جا چکی ہے۔ اب اتحادی جماعتوں کی بیساکھیوں پر حکومت بنائی جا چکی ہے۔ اب عمران خان رخصت ہو چکے ہیں۔ اب بزدار حکومت جا چکی ہے۔ اب شہباز شریف وزیر اعظم بن چکے ہیں۔ اب حمزہ شہباز پنجاب میں ایک لڑکھڑاتی حکومت کے قائد ایوان منتخب ہو چکے ہیں۔ اب وزارتیں من پسند لوگوں میں تقسیم ہو چکی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ جیسے گذشتہ چار سال میں کچھ ہوا ہی نہیں۔ نہ کوئی انتقامی کارروائی ہوئی۔ نہ کال کوٹھڑیوں میں سیاستدانوں کو رکھا گیا۔ نہ نیب کی طرف سے کارروائیاں ہوئیں۔ نہ نواز شریف پر جوتا پھینکا گیا۔ نہ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی گئی۔ نہ احسن اقبال کو گولی ماری گئی۔ نہ شاہد خاقان عباسی کو قید کیا گیا۔ نہ نواز شریف کو مسلم لیگ ن کے بقول جیل میں قتل کرنے کی سازش کی گئی۔ نہ مریم نواز کو کال کوٹھڑی میں رکھا گیا۔ پہلے اس بات کو تسلیم کریں کہ عمران خان نے عدم اعتماد کے بعد جو مہم جوئی کی اس کا اثر ہوا ہے۔ اس کا اثر ہمیں کچھ مقامات پر محسوس ہو رہا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ عمران خان سچ کہہ رہے ہیں کہ جھوٹ۔ بہتان لگا رہے ہیں یا الزام۔ انہوں نے ایک طبقے کو اپنا زیر اثر بنا لیا ہے۔ وہ کھلے عام لوگوں کے پاس جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر آئین، قانون، عدلیہ، ایوان اور عوامی مینڈیٹ پر تنقید کر رہے ہیں۔

مگر ایک لاڈلا سیاست دان ان سب چیزوں سے مبرا ہے۔ وہ چاہے تو ہر قاعدے قانون کو توڑ دے۔ عمران خان نے ایک بیانہ بہرحال تشکیل دے دیا ہے۔ ایک طبقہ اپنا ہم آواز بنا لیا ہے۔ اسے درست کہیں یا غلط لیکن اسے تسلیم کریں۔ یہ وہ بیانیہ ہے جس کا توڑ اخبار کے اشتہارات نہیں۔ یہ وہ بیانیہ ہے جس کا توڑ ٹھنڈی میٹھی پریس کانفرنسز نہیں۔ یہ وہ بیانیہ ہے جس کا جواب ڈوبتی معیشت کے اعداد و شمار نہیں۔ یہ وہ بیانیہ ہے جس کا جواب اچھی پرفارمنس نہیں۔ مسلم لیگ ن کو اب مصلحت اور مصالحت کی سیاست سے نکلنا ہو گا۔ جھنڈے والی گاڑیوں کے آرام اور تعیش سے نکلنا ہو گا۔ اپنے لہجے کو بلند آہنگ کرنا ہو گا۔ اسی طرز سیاست کو مروج کرنا ہو گا جو نواز شریف نے شروع کی تھی۔ اسی انداز کو اپنانا ہو گا جس نے پنجاب کو شعور دیا۔ اسی بیانیے کو اپنانا ہو گا جس نے ’ووٹ کی عزت‘ کا مطالبہ زباں زد عام کیا۔ عمران خان کے مصنوعی بیانیے کا حل نرمی خوئی نہیں رہی۔ عمران خان کے انتشار پسند بیانیے کا حل مصلحت نہیں رہی۔ اس کے جواب میں اب کھل کر کھیلنا ہو گا۔ اب دبنگ لہجے میں بات کرنی ہو گی۔ اب ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ اب اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہو گا ورنہ ساری محنت اکارت جائے گی۔ ساری جدوجہد پر پانی پھر جائے گا۔ جو ذہنی شعور بیدار کیا ہے اس کو زنگ لگ جائے گا۔ جمہوری جذبے سے شرابور ووٹر مایوس ہو جائے گا۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد مسلم لیگ ن نے جو فرماں بردرانہ رویہ اپنایا ہے اس روش کو ترک کر دینا ہی مناسب ہے۔ اس سے مطلوبہ نتائج نہیں مل سکتے۔ اس وقت حکومت کے ایک جانب کنواں ہے اور ایک جانب کھائی ہے۔ ان دونوں کو ایک جست میں عبور کرکے بات بن سکتی ہے۔ جرات، ہمت، طاقت کا مظاہرہ ہی اس صورت حال کا حل ہے۔ سر جھکا کر چلنے کی قبیح روایت کو توڑنا ہو گا۔ سر اٹھا کر چلنا سیکھنا ہو گا۔ ابھی تک نومنتخب حکومت کوئی مزاحمتی بیانیہ تخلیق کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایک مریم نواز ہیں جو اس دور میں مزاحمت کا علم ہاتھ یں اٹھائے چل رہی ہیں۔ وہ عوام کے پاس جا رہی ہیں۔ تلخ لہجے میں بات کر رہی ہیں۔ بدتمیزوں کو سبق سکھا رہی ہیں۔ لیکن مسلم لیگ ن کے پاس ابھی ایک ترپ کا پتہ ہے۔ نواز شریف اس ساری صورت حال کو خاموشی سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہوتا ہے۔ آنے والے چند دنوں میں نواز شریف کی بہت اہمیت ہے۔ وہ چاہیں گے تو خان صاحب کے مصنوعی بیانیے کی بساط ایک لمحے میں الٹ جائے گی۔ دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔ پھر راج کرے گی خلق خدا۔

Categories
منتخب کالم

پاکستان تحریک انصاف کے جلسے پر کتنا خرچ آتا ہے!!!!! ان جلسوں کے لیے فنڈز کہاں سے آتے ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چُھے راز سامنے آگئے

لاہور: (ویب ڈیسک) اظہار اللہ لکھتے ہیں کہ” پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر ان دنوں غیریقینی کی سی صورت حال ہے، جہاں سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد آنے والی نئی حکومت انتخابات کروانے یا ’سخت‘ معاشی فیصلے لینے کے درمیان الجھی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مسلسل عوامی رابطوں میں مصروف ہے جہاں انہوں نے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان بھی کر رکھا ہے تاہم تاحال تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے جبکہ ان کی جانب سے فوری انتخابات کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک اور پھر ووٹنگ کے نتیجے میں جس دن عمران خان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا، اس کے اگلے ہی روز سے پاکستان تحریک انصاف نے اپنی عوامی رابطہ مہم کا آغاز کر دیا تھا اور اب تک اس سلسلے میں وہ پاکستان کے متعدد شہروں میں جلسے کر چکی ہے۔ صرف پی ٹی آئی ہی نہیں بلکہ ان دنوں دیگر سیاسی جماعتیں بھی جلسے کرنے میں مصروف ہیں، جن میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی بھی پیش پیش دکھائی دے رہی ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی فی الحال اس میدان میں کچھ زیادہ آگے ہے، جو اب تک کراچی، پشاور، سیالکوٹ، لاہور سمیت کئی دیگر شہروں میں جلسے کر چکی ہے۔ اسی سلسلے میں گذشتہ دنوں خیبر پختونخوا کے ضلع مردان، صوابی اور کوہاٹ میں بھی جلسوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی مخالفین کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ ’اب ان کی اے ٹیم بھی نہیں رہی ہے،‘ مگر پی ٹی آئی کے حالیہ جلسوں کو دیکھ کر ایسا بالکل بھی نہیں لگتا کہ انہیں بظاہر ’فنڈز‘ کا کوئی مسئلہ درپیش ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے پی ٹی آئی جلسوں پر اخراجات کا تخینہ لگانے کی کوشش کی ہے اور ساتھ ہی یہ جاننے کی بھی کوشش کی ہے کہ ان جلسوں کے لیے فنڈز کہاں سے آتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ جلسے کہاں منعقد کیے جاتے ہیں۔ صوابی جلسے کی اگر بات کی جائے، تو وہ جلسہ ایک سرکاری گراؤنڈ میں منعقد کیا گیا تھا۔ سرکاری گراؤنڈ میں کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے جلسہ منعقد کرنے کا کوئی کرایہ نہیں لیا جاتا، تاہم مقامی حکومت سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہوتی ہے۔ کسی بھی جلسے کے انعقاد پر سب سے زیادہ اخراجات ساؤنڈ سسٹم کے ہوتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے جلسوں میں ساؤنڈ سسٹم زیادہ تر مواقع پر لاہور سے تعلق رکھنے والی معروف کمپنی ’ڈی جے بٹ‘ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جیسا کہ گذشتہ عام انتخابات سے قبل اسلام آباد میں عمران خان کے 120 سے زائد دنوں پر محیط دھرنے میں بھی یہ ذمہ داری ڈی جے بٹ کی تھی۔ بعد میں ڈی جے کا پیسوں پر جماعت سے تنازع بھی پیدا ہوا تھا۔ ساؤنڈ سسٹم کے علاوہ کرسیاں کسی بھی جلسے کا اہم جز ہوتے ہیں اور اسی پر خرچ بھی سب سے زیادہ آتا ہے۔ 17 مئی کو پی ٹی آئی کی جانب سے کوہاٹ میں جلسہ منعقد کیا گیا۔ ہم اسی جلسے کے ممکنہ اخراجات کا ہی تخمینہ لگانے کی کوشش کر لیتے ہیں۔ کوہاٹ جلسے میں لائٹس اور ساؤنڈ سسٹم کی ذمہ داری خان ڈی جے نامی کمپنی کو سونپی گئی تھی۔

خان ڈے جے کے عہدیدار ندیم خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جلسے میں ساؤنڈ سسٹم اور لائٹیں لگانے کا ٹھیکہ انہیں دیا گیا تھا، جس کے انہوں نے 65 لاکھ روپے لیے ہیں۔ اسی طرح جلسہ گاہ میں لگائی جانے والی ’فوم والی کرسیاں‘ دیگر سٹیل کی کرسیوں سے تھوڑی مہنگی ہوتی ہیں۔ ان پر آنے والے خرچ کے حوالے سے کیٹرنگ کے کاروبار سے وابستہ محمد سلیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کوہاٹ جلسے میں جو کرسیاں لگائی گئی تھیں ان کا فی کرسی کرایہ 25 سے 30 روپے تک ہے۔ اب اگر دس ہزار کرسیوں کا بھی حساب لگایا جائے تو ان کا کرایہ تقریباً تین لاکھ روپے بنتا ہے۔ سلیم نے بتایا کہ ’کرسیوں کے ساتھ اکثر سٹیج کے لیے کارپٹ وغیرہ بھی رکھے جاتے ہیں جس کا کرایہ الگ ہوتا ہے۔ ایک چھوٹے کارپٹ کا کرایہ تقریباً دو سو روپے ہے۔‘ ساؤنڈ اور کرسیوں کی بات تو ہو گئی، لیکن پی ٹی آئی کے جلسوں میں ویڈیو، سوشل میڈیا اور سیٹلائٹ فیڈ کے لیے الگ کمپنی کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ کوہاٹ جلسے کو ویڈیو اور سیٹلائٹ کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کے ایک عہدیدار نے انڈپینڈٹ اردو کو بتایا کہ سیٹلائٹ کیمروں کا ایک دن کا کرایہ ایک لاکھ روپے تک ہے۔ اسی طرح پشاور میں پروڈکشن ہاؤس کے مالک محمد آفتاب نے بتایا کہ ویڈیو سسٹم جس میں اگر پانچ کیمرے شامل ہوں اور ساتھ میں ڈرون کیمرے بھی ہوں تو اس پر تین لاکھ تک خرچ آتا ہے۔

آفتاب نے بتایا کہ ’یہ خرچ جلسے کے چھوٹے بڑے ہونے پر بھی منحصر ہے اور جلسہ انتظامیہ پر بھی، کہ ان کو کتنے کیمروں کی ضرورت ہے اور اسی حساب سے کیمروں کا کرایہ چارج کیا جاتا ہے۔‘ اب مجموعی طور پر اگر ایک جلسے پر خرچے کا تخمینہ لگایا جائے تو ساؤنڈ سسٹم، ویڈیو خدمات، کرسیاں اور دیگر انتظامات پر کوہاٹ کے جلسے میں تقریباً 72 لاکھ روپے کا خرچ آیا۔ اس خرچے میں جلسے کے لیے لائے گئے کنٹینرز جو سٹیج وغیرہ کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ہیلی کاپٹر شامل نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی نے گذشتہ روز ضلع مردان میں جلسہ کیا تھا، جس میں اسلام آباد سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ عمران خان سرکاری ہیلی کاپٹر میں جلسہ گاہ پہنچے تھے۔ اسی طرح ایبٹ آباد میں جلسے کے لیے بھی عمران خان خیبر پختونخوا کے سرکاری ہیلی کاپٹر میں ہی گئے تھے۔ اسی حوالے سے خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر علی محمد سیف نے بتایا تھا کہ وزیراعلیٰ محمود خان سرکاری امور کی ادائیگی کے لیے اسلام آباد میں تھے اور وہ خود مردان جلسے کے لیے جا رہے تھے، تو عمران خان کو بھی ساتھ لے گئے تھے۔ بیرسٹر سیف نے بتایا تھا: ’یہ وزیراعلیٰ کی صوابدید ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہیلی کاپٹر میں کس کو بٹھاتے ہیں۔‘ یاد رہے کہ 2018 میں بھی جب عمران خان وزیراعظم تھے، تو انہیں قومی احتساب بیورو نے سرکاری ہیلی کاپٹر کے ’غیرقانونی‘ استعمال کی وجہ سے طلب تھا۔ اس کیس میں نیب کا موقف تھا کہ عمران خان نے ہیلی کاپٹر کا جو کرایہ ادا کیا وہ بہت کم ہے۔

انگریزی اخبار ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت عمران خان نے ایم آئی 17 اور ایکروئیول ہیلی کاپٹر استعمال کیا تھا جو خیبر پختونخوا حکومت کا تھا اور انہوں نے فی گھنٹے کے حساب سے حکومت کو صرف 28 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ تاہم نیب کا موقف تھا کہ اگر یہی ہیلی کاپٹر عمران خان کسی نجی کمپنی سے ہائر کرتے تو ان کو ایم آئی 17 کے لیے فی گھنٹہ تقریباً دس لاکھ روپے جبکہ ایکروئیول ہیلی کاپٹر کے لیے فی گھنٹہ تقریباً پانچ لاکھ ادا کرنے ہوتے، لیکن انہوں نے حکومت کو صرف 28 ہزار فی گھنٹہ ادا کیا۔ اسی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کے پاس موجود ہیلی کاپٹر کا فی گھنٹہ کرایہ تقریباً دو لاکھ روپے ہے اور یہی ہیلی کاپٹر عمران خان اور وزیراعلیٰ جلسوں میں شرکت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایئرفورس ٹیکنالوجی نامی ویب سائٹ کے مطابق ایم آئی 17 ہیلی کی سپیڈ فی گھنٹہ کے حساب سے 250 کلومیٹر ہے۔ اب اگر اسی حساب سے اسلام آباد اور مردان کے فاصلے کو دیکھا جائے تو اس پر تقریباً ایک لاکھ کا خرچ آئے گا۔ کسی بھی سیاسی جلسے کے لیے سکیورٹی پولیس فراہم کرتی ہے اور بڑے جلسوں کے لیے سینکڑوں کی تعداد میں پولیس تعینات کی جاتی ہے۔ تاہم بعض سیاست دان اپنی نجی سکیورٹی بھی رکھتے ہیں۔ اسی حوالے سے انڈپیندنٹ اردو نے پولیس حکام سے بات کرنے کی کوشش کی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ جلسوں کو سکیورٹی فرہم کرنے پر کتنا خرچہ آتا ہے، لیکن کسی بھی اہلکار نے اس پر آن ریکارڈ بات کرنے سے گریز کیا۔

انڈپینڈنٹ اردو نے عمران خان کے ایک جلسے میں شرکا سے پوچھا کہ آپ کے کھانے پینے کا کیا انتظام ہوتا ہے، تو فیصل آباد سے آنے والے ایک گروپ نے بتایا کہ ہمیں ہمارا ایم این اے لے کر آیا ہے اور اسی کی طرف سے ہمیں کھانے کے پیکٹ مل جاتے ہیں۔ باقی بوتل اور سگریٹ وغیرہ کا خرچ ہم خود پورا کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ صرف چند لوگوں سے گفتگو پر مبنی ہے، اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ جلسے میں شرکت کرنے والے ہر شخص کو کھانا پی ٹی آئی کی طرف سے ملتا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ پی ٹی آئی کے جلسوں کے احاطے سے باہر کھانے پینے کی ریڑھیوں کا ایک بازار اکٹھا ہو جاتا ہے جہاں آئس کریم اور شربت سے لے کر برگر تک دستیاب ہوتے ہیں۔ گویا ان جلسوں کی وجہ سے بہت سے چھوٹے کاروباری حضرات کا بھی بھلا ہو جاتا ہے۔ تقریباً ایک ماہ قبل پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا تھا کہ ان پارٹی نے ’نامنظور ڈاٹ کام‘ کے نام سے ایک ویب سائٹ لانچ کی تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے چندہ اکھٹا کیا جا سکے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کے خلاف مہم چلانے کے لیے فنڈ کی ضرورت ہو گی۔‘ نامنظور ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ پر ان تمام افراد اور ممالک کے نام درج ہیں جو بیرون ملک سے اس فنڈ میں پیسے بھیج رہے ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق اب تک اس فنڈ میں سب سے زیادہ چندہ برطانیہ سے آیا ہے جو مجموعی فنڈ کا تقریباً 30 فیصد ہے۔ اسی طرح دوسرے نمبر پر امریکہ ہے جہاں سے 28 فیصد سے زیادہ چندہ اکھٹا کیا جا چکا ہے جبکہ تیسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات ہے جہاں سے اب تک 11 فیصد سے زائد چندہ اکٹھا ہوا ہے۔ چوتھے اور پانچویں نمبر پر کینیڈا اور سعودی عرب ہیں جہاں سے اب تک 10 اور چھ فیصد سے زائد چندہ اکٹھا ہوا ہے۔ تاہم ویب سائٹ پر چندے کے حوالے سے مزید تفصیلات موجود نہیں ہیں جیسے کہ اب تک مجموعی طور پر کتنا چندہ اکٹھا ہوا ہے۔ اسی فنڈ کے حوالے سے پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گِل نے پورٹل کھلنے کے بعد ٹویٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پورٹل کھولنے کے 24 گھنٹوں میں ہی سات لاکھ ڈالرز جمع ہو گئے ہیں تاہم انڈپیندنٹ اردو نے جب اس ٹویٹ کو چیک کیا تو اسے ڈیلیٹ کیا جا چکا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ پارٹی مجموعی جمع شدہ چندے کے باجرے میں معلومات عام کرنا نہیں چاہتی۔ جلسوں کے لیے فنڈ کہاں سے آتے ہیں؟ اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے شہباز گِل اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما فواد چوہدری سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہ ہو سکی۔ ان رہنماؤں سے وٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ان کا اس حوالے سے موقف موصول ہونے پر اسے اس رپورٹ میں شامل کیا جائے گا۔

Categories
منتخب کالم

پاکستان میں لگژری اشیا اور گاڑیوں کی درآمد پر پابندی کیوں لگائی گئی؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا کیا فائدہ ہو گا ؟ آپ بھی جانیں

لاہور: (ویب ڈیسک) تنویر ملک لکھتے ہیں کہ” پاکستان میں وفاقی حکومت نے ملک میں درآمد ہونے والی مختلف اشیا کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے جن میں لگژری آئٹمز، کھانے پینے کی اشیا، بڑی گاڑیاں اور موبائل فون کے علاوہ بھی چند دوسری چیزیں شامل ہیں۔ یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے گزشتہ روز لیا گیا تھا جس کا باضابطہ اعلا ن وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

حکومت کی جانب سے ان اشیا کی ایک فہرست بھی جاری کی گئی ہے جن کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس فہرست کے مطابق جیم اور جیولری، لیدر، چاکلیٹ اور جوسز، سگریٹ کی درآمد پر پابندی کے ساتھ ساتھ ہی امپورٹڈ کنفیکشنری، کراکری کی امپورٹ فرنیچر، فش اور فروزن فوڈ کی امپورٹ، ڈرائی فروٹ میک اپ کی، ٹشو پیپرز کی امپورٹ پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ پاکستان کی حکومت کی جانب سے یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ملک کا تجارتی خسارہ زیادہ درآمدات کی وجہ سے بڑھتا جا رہا ہے اور شہباز شریف حکومت پر معاشی فیصلوں کا دباو بڑھتا جا رہا تھا۔ اس مالی سال کے پہلے دس ماہ میں تجارتی خسارہ لگ بھگ چالیس ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ پاکستانی روپیہ اس وقت ڈالر کے مقابلے میں ملکی تاریخ کی نچلی سطح پر موجود ہے اور جمعرات کو ایک ڈالر کی قیمت دو سو روپے کی حد کو عبور کر گیا۔ حکومت کی جانب مختلف اشیا کی درآمد پر پابندی سے تجارتی خسارے کو کم کر کے روپیہ کو مستحکم کرنے کی کوشسش کی جا رہی ہے کیونکہ حکومت کے مطابق درآمدات پر پابندی سے چھ ارب ڈالر کی کم درآمدات ملک میں کی جائیں گی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس فیصلے کے بعد کہا کہ اس فیصلے سے ملک کے زرمبادلہ کو بچایا جا سکے گا جو درآمدات پر خرچ ہو رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم خرچ کم کریں گے اور معاشی طور پر مضبوط لوگوں کو اس کوشش میں آگے بڑھنا ہو گا تاکہ معاشرے کے غریب طبقے کو اس بوجھ سے کم نقصان ہو جو گزشتہ حکومت کے فیصلوں کی وجہ سے ملک پر پڑا۔

حکومت کے اس فیصلے پر سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مثبت قدم ہے لیکن اس فیصلے سے غریب عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔ دوسری جانب تحریک انصاف حکومت کے معاشی ترجمان مزمل اسلم نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اعلان مریم اورنگزیب نے کیا جب کہ یہ کام تو وزارت کامرس کا ہے۔ نوید قمر کہاں ہیں؟ سارا بوجھ مسلم لیگ ن پر ڈال دیا۔ بہت اچھا کھیلا پیپلز پارٹی نے۔‘ ایک جانب جہاں اس معاملے کو معاشی اور سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے وہیں اس کا ایک ایسا پہلو بھی سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے جس میں چند لوگ یہ شکایت کرتے نظر آئے کہ ان کی ضرورت کی چند اشیا پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’کم از کم کافی اور زیتون کے تیل کی درآمد پر تو پابندی نا لگائیں۔‘ ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’اس کا مطلب ہے کہ حکومت نے سخت فیصلے کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔‘ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کے اثرات کیا ہوں گے؟ ماہرین معیشت کے مطابق لگژری چیزوں کی درآمد پر پابندی عائد کرنے سے ملک کے تجارتی خسارے میں تھوڑی کمی تو ہوگی لیکن اس سے روپے کو مستحکم کرنے کا تصور ٹھیک نہیں ہے کیونکہ روپے میں کمی کی وجہ درآمدات کے بڑھتے ہوئے بل کے علاوہ بھی ہیں جن پر اب تک کام نہیں کیا گیا۔

معاشی امور کے ماہر اور عارف حبیب لمیٹڈ کے ہیڈ آف ریسرچ طاہر عباس نے کہا کہ اس اقدام سے تجارتی خسارے میں زیادہ کمی آنے والی نہیں۔ انھوں نے کہا اصل مسئلہ تیل کی درآمد ہے جو درآمدی بل کو بڑھانے اور تجارتی خسارے میں اضافے کی وجہ ہے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ ’تجارتی خسارے میں نمایاں کمی لانے کے لیے حکومت کو ملک میں تیل کی کھپت کم کرنا پڑے گی جس کا ایک حل یہ ہے کہ ملک میں کام کرنے کے اوقات میں کمی لائی جائے۔‘ ’ایک دن گھر سے کام کی پالیسی اپنائی جائے۔ ہفتے اور اتوار کو مکمل چھٹی ہو۔‘ ’اسی طرح مہنگی ایل این جی کی خریداری کی وجہ سے صرف مئی کے مہینے میں حکومت کو ساڑھے سات ملین ڈالر خرچ کرنا پڑ رہے ہیں جو بجلی بنانے کے لیے استعمال ہو گی۔ بجلی ڈیمانڈ کو بھی کم کیا جائے اور سورج کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال بڑھایا جائے۔‘ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی میں معیشت کے استاد صائم علی بھی حکومت کی جانب سے مختلف چیزوں کی درآمد پر پابندی سے کوئی خاص فائدہ نہیں دیکھتے۔ انھوں نے کہا کہ اصل مسئلہ تیل اور گیس کی درآمد ہے اور اب پاکستان کو گندم بھی درآمد کرنا پڑے گی۔ انہوں نے حکومتی کے ان اعداد شمار، جن کے مطابق دعوی کیا گیا کہ چھ ارب ڈالر کے درآمدی بل میں کمی ہو گی، سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ اس کا اثر تین ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے۔ درآمدات پر پابندی سے کیا روپے کی قدر میں اضافہ ہو سکتا ہے؟

طاہر عباس نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ حکومت کیجانب سے جن چیزوں کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے اس سے روپے کو مستحکم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ روپے کی قدر میں اضافے کی درآمدی بل کے علاوہ اور بہت ساری وجوہات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ آئی ایم ایف سے پاکستان کے مذاکرات کے سلسلے میں غیر یقینی کا ماحول ہے جو روپے کی قدر کو گھٹا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ نئی حکومت ابھی کوئی معاشی پلان نہیں دے سکی جس کی وجہ سے مارکیٹ میں ایک بے یقینی کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ طاہر نے بتایا کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ پاکستان کی بیرونی قرضے کی ادائیگی بھی ہے اور جون کے مہینے کے اختتام تک پاکستان کو ساڑھے چار ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ ادا کرنا ہے۔ ’اس کے ساتھ اگر دو مہینے میں جاری کھاتوں کے خسارے کے موجودہ رجحان پر دیکھا جائے تو وہ تین ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے جو روپے کی قدر میں کمی لا رہا ہے۔‘ صائم علی نے کہا روپے کی قدر پر پریشر تیل کی قیمتوں اور گیس کی قیمتوں کی وجہ سے آیا ہوا ہے جو بین الاقوامی مارکیٹ میں بہت اوپر جا چکی ہیں۔ ’ان کی درآمد تو جاری رہے گی اس لیے نہیں لگتا کہ روپے کی قدر میں کوئی خاص کمی ہو۔‘ درآمدات پر پابندی سے عام آدمی متاثر ہو سکتا ہے؟ حکومت کیجانب سے مختلف چیزوں کی درآمد پر پابندی کے عام آدمی پڑنے والے اثرات کے بارے میں طاہر عباس نے کہا کہ جن چیزوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان کا ایک عام فرد، جو درمیانے اور کم آمدنی والے طبقات سے تعلق رکھتا ہے، پر اثر نہیں پڑے گا کیونکہ وہ یہ چیزیں استعمال نہیں کرتا۔ انھوں نے کہا کہ امپورٹڈ گاڑیاں اور امپورٹڈ فوڈز عام لوگ استعمال نہیں کرتے۔ صائم علی نے کہا کہ وہ چیزیں جو عام آدمی بھی استعمال کرتا ہے جیسے موبائل فون وغیرہ ان کی قیمت بڑھ جائے گی کیونکہ ان کی ڈیمانڈ تو ہے لیکن مقامی پیداوار اتنی نہیں ہے کہ وہ طلب کو پورا کر سکے۔

Categories
منتخب کالم

شہباز حکومت پریشانی میں مبتلا!!!! عمران خان کی عوامی مقبولیت کا دباؤ کون کون محسوس کر رہا ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناقابل یقین سامنے آگئے

لاہور: (ویب ڈیسک) شہزاد ملک اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد قائم ہونے والی مخلوط حکومت کو اس وقت ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال میں مشکلات کا سامنا دکھائی دے رہا ہے۔

ایک جانب معاشی محاذ پر مہنگائی کی شرح بڑھ رہی ہے، ملک کے کم ہوتے زرِ مبادلہ کے ذخائر کی مشکل ہے اور دوسری جانب وہ کوئی بھی سخت اور مشکل فیصلے لے کر اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے سے گریزاں ہے۔ ادھر سیاسی محاذ پر بھی سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی نے موجودہ حکومت کو آئینی و سیاسی الجھنوں میں الجھا رکھا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت جانے کے بعد سے سابق وزیر اعظم عمران خان عوامی رابطہ مہم کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں جلسے کر رہے ہیں اور ان میں وہ ریاستی اداروں پر الزامات عائد کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومتی اراکین پر قائم مقدمات کا حوالہ دے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ملک کی عدلیہ کی جانب سے پی ٹی آئی اراکین کو ملنے والا ریلیف ہو، 63 اے کے تحت صدارتی ریفرنس پر عدالت عظمیٰ کی تشریح یا حکومت کی جانب سے تحقیقاتی اداروں میں مبینہ مداخلت پر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس، ملک کے سیاسی و سماجی حلقوں اور سوشل میڈیا پر ایک بحث نے جنم لیا ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو عمران خان کی عوامی مقبولیت کا دباؤ محسوس ہو رہا ہے؟ بی بی سی نے اس ضمن میں پارٹی رہنماؤں اور سیاسی تجزیہ کاروں سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا واقعی عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ دباؤ محسوس کر رہی ہیں؟ ’اداروں سے یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کے دباؤ پر آکر اقدامات کیے جا رہے ہیں‘ پاکستان مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو آئینی طریقے سے ہٹایا گیا اور اس وقت ملک کے جو اقتصادی حالات موجودہ حکومت کو ورثے میں ملے ہیں ان کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے ملک کے تمام آئینی ادارے اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ابھی اس مخلوط حکومت کو آئے ہوئے چند ہفتے ہی ہوئے ہیں اور یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جائیں اور یہ امید رکھی جائے کہ ملک کی اقتصادی صورت حال بہتری کی طرف جائی گی۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کسی آئینی ادارے سے آئین سے ہٹ کر حکومت کی مدد کرنے کا نہیں کہہ رہی اور صرف یہ کہا جا رہا ہے کہ ملک کی بقا کے لیے آزادانہ فیصلے کرنے کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ اداروں کی طرف سے یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ وہ کسی دباؤ میں آکر کوئی اقدامات کر رہے ہیں یا وہ انتظامی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت سمیت اس مخلوط حکومت میں شامل دیگر جماعتوں کو بھی علم تھا کہ ملک کے معاشی حالات اتنے اچھے نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ملک کی بقا اور لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے انھیں نے اتنا بڑا سیاسی رسک لیا ہے کیونکہ حکومت میں آنے کے بعد یہ تاثر بھی مل رہا ہے کہ جیسے انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کی تمام تر ناکامیاں اپنے سر لے لی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب ملک میں غیر یقینی کی صورت حال ہو تو ایسے غیر معمولی حالات میں انھیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور ایسے فیصلے کرنے چاہیے جس سے ملک میں استحکام آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت میں ایک سوچ یہ بھی ہے کہ اگر ادارے اپنا کردار ادا نہیں کرتے تو اس سے بہتر ہے کہ ان سیاسی جماعتوں کو حکومت سے الگ ہوکر انتخابات کی طرف ہی جانا چاہیے۔

محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال کا حل نگراں حکومت اور انتخابات نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے جتنی سپورٹ عمران خان کی حکومت کو دی ہے اس سے آدھی سپورٹ بھی اس حکومت کو مل جائے تو وہ حالات پر قابو پالیں گے۔ ’جس طرح سے حکومت کو ہٹایا گیا وہ سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں‘ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی کا کہنا تھا جس طریقے سے ان کی حکومت کو ہٹایا گیا وہ سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں تھی اور یہ سہولت کار کہیں اور سے نہیں بلکہ پاکستان کے اداروں میں سے ہی تھے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت عوام کے علاوہ کسی اور کی طرف نہیں دیکھ رہی۔ انھوں نے کہا کہ جتنا مایوس عدلیہ نے انھیں کیا ہے اتنا کسی اور نے نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’آج بھی ان کی جماعت اور کارکنوں کو شدید تحفظات ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کے وقت رات بارہ بجے عدالتیں کیوں لگائی گئیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’عدلیہ کی موجودہ لاٹ عدالتی نظام میں بہتری نہیں لاسکتی۔‘ اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دے دی تو سب سے بڑا نقصان عدلیہ کا ہو گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے آنے والے حالیہ فیصلوں سے تو ان کی جماعت کو ریلیف ملا ہوگا تو اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ اب معاملہ اس سے بہت آگے نکل چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم یا بلوچستان عوامی پارٹی نے تحریک انصاف کی حکومت کو کسی میجر یا کرنل کے کہنے پر تو نہیں چھوڑا ہوگا بلکہ سب کو معلوم ہے کہ کس نے کیا کردار ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ جب ان کی حکومت ختم کی گئی اور قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا گیا تو ان تمام پارٹی کے تمام لیڈروں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمنٹ سے باہر رہ کر ان کی جماعت اپنا موثر کردار ادا نہیں کرسکے گی لیکن پارٹی کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ جب وہ عوام میں اصل صورت حال کے بارے میں بتائیں گے تو وہ یقینا ان کے ساتھ ہوں گے۔ اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے جلسوں میں ایسے لوگ بھی آرہے ہیں جنھوں نے کبھی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے عدالتی نظام نے ان کی جماعت اور لوگوں کو مکمل طور پر مایوس کیا ہے۔ اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے لے کر اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی تک وہ ایسی بہت سی باتوں سے واقف ہیں جو کہ کبھی مناسب وقت پر منظر عام پر لائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت نہ تو اسٹیلشمنٹ کی طرف دیکھ رہی ہے اور نہ ہی ان کی جماعت کو اب بیساکھیوں کی ضرورت ہے۔ کیا پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد عمران خان کی عوامی مقبولیت کے باعث ملکی ادارے دباؤ محسوس کر رہے ہیں اس پر تجزیہ کاروں نے ملا جلا تبصرہ کیا۔

تجزیہ کار حامد میر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ عدلیہ اور بلخصوص سپریم کورٹ تحریک انصاف کے حالیہ جلسوں کے بعد دباؤ میں آئی ہے اور 63 اے کے تحت صدارتی ریفرنس پر جس طریقے سے رائے دی گئی آئینی ماہرین کے مطابق تو سپریم کورٹ نے آئین میں ترمیم ہی کر دی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے خلاف کرپشن کیسز کا معاملہ عمران حان نے عوامی جلسوں میں اٹھایا تھا اور اس کے بعد سپریم کورٹ نے اس پر از خود نوٹس لیتے ہوئے اس پر کارروائی کا آغاز کر دیا۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ بظاہر از خود نوٹس ایک جج کے نوٹ پر لیا گیا لیکن عوام میں اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ یہ سارا معاملہ عمران خان کے مطالبے کے بعد شروع کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ’بظاہر اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے تحریک انصاف کے جلسوں سے متاثر نہیں ہوئی اور ان کا ابھی تک یہی موقف ہے کہ فوج اس معاملے میں نیوٹرل ہے اور اس کا سیاسی معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘ حامد میر کا کہنا تھا کہ چونکہ فوج آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت حکومت کا ایک ماتحت ادارہ ہے اس لیے انھیں ان کی حمایت کرنی چاہیے۔ تجزیہ کار سہیل ورائچ کا کہنا ہے کہ ججز کی اپنی سوچ ہوتی ہے اور وہ ان چیزوں کو اپنے زاویے سے دیکھتے ہیں جو کہ شاید عام آدمی اس نظر سے نہ دیکھ رہا ہو۔ انھوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ عدالتیں کسی کے دباؤ میں آکر فیصلے دیتی ہیں تاہم یہ ضرور ہے کہ عدالتوں کو فیصلہ دیتے ہوئے اس بات کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے کہ وہ کہیں آئین میں دیے گئے اپنے اختیارات سے تجاوز تو نہیں کر رہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ کسی کی سیاسی لیڈر کے بارے میں فیصلہ دیتے ہوئے اس کو مقبولیت کو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔

Categories
منتخب کالم

آئندہ 2 روز انتہائی اہم !!! شہباز حکومت مدت پوری کرے گی یا نہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سینئر کالم نگار نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) سید مجاہد علی اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” خبر ہے کہ آئندہ دو روز میں طاقت ور حلقوں نے حکومت کو اپنی غیر مشروط حمایت کا یقین نہ دلایا تو موجودہ حکومت کام کرنے سے انکار کردے گی اور قومی اسمبلی تحلیل کردی جائے گی۔ یہ خبر جیو نیوز کے حوالے سے سامنے آئی ہے، اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ اس میں حکومتی ذرائع کی درپردہ فراہم کردہ معلومات شامل ہوں گی۔

اس سے پہلے بھی حکومت کے ہمدرد صحافی یہ خبریں دیتے رہے ہیں کہ اگر اسٹبلشمنٹ نے بے یقینی کی صورت حال برقرار رکھی تو شہباز حکومت کے لئے کام کرنا مشکل ہوجائے گا۔ آج شام سرگودھا میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے حکومت چھوڑنے کا واضح اشارہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام پر عمران حکومت کی غلطیوں کی وجہ سے مہنگائی کا بوجھ لادنے سے بہتر ہے کہ اقتدار چھوڑ دیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ نواز شریف کے لئے آسان تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط مان کر سبسڈی ختم کرنے کا اعلان کرتے اور ملک کے لئے مالی سہولت حاصل کرلی جاتی۔ لیکن ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم یہ عوام دشمنی کیوں کریں۔ اس بیان سے لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) موجودہ حالات میں برسراقتدار رہنے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ اشارہ حکومت میں شامل ان اتحادی جماعتوں کو دیا گیا ہے جو جلد انتخابات کی بجائے انتظار کرنے اور مسائل حل کرنے پر زور دے رہی ہیں یا اسٹبلشمنٹ کو دھمکانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اگر حکومت کی شرائط پر اسے کام نہ کرنے دیا گیا تو مسلم لیگ (ن) ایسی لولی لنگڑی اور بے اختیار حکومت میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ اس سے بہتر ہوگا کہ وہ انتخابات میں مکمل کامیابی حاصل کرکے حکومت سازی کی کوشش کرے۔ مسلم لیگ (ن) کو اندیشہ ہے کہ اگر مارکیٹ تخمینے اور آئی ایم ایف کی شرائط کی بنیاد پر پیٹرول کی قیمتوں میں پچاس ساٹھ روپے اضافہ کا فیصلہ کیا گیا تو اس سے افراط زر میں شدید اضافہ ہوگا اور مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت کو ذبردست دھچکا لگے گا۔

اب ظاہر ہورہا ہے کہ شہباز شریف کو وزیر اعظم رکھنے کے لئے مسلم لیگ (ن) یہ قیمت ادا نہیں کرنا چاہتی۔ کم از کم پارٹی میں جس گروپ کی نمائندگی مریم نواز کرتی ہیں، اب اس کی پوزیشن واضح ہورہی ہے۔ اس دوران تحریک انصاف کی قیادت اور ان کے حامی تجزیہ نگاروں اور صحافیوں نے تسلسل سے یہ تاثر استوار کرنے کی کوشش کی ہے کہ پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری نے چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نواز شریف کو سیاسی جال میں پھنسا لیا ہے۔ موجودہ حکومت کی بے عملی اور غلط فیصلوں کا سارا بوجھ شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کو اٹھانا پڑے گا۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ یہ واضح ہورہا ہے کہ جلد اور فوری مشکل معاشی فیصلے نہ کئے گئے تو پاکستان کے ڈیفالٹر ہونے کا اندیشہ پیدا ہو رہا ہے۔ نادہندگی کی صورت حال سے بچنے کے لئے فوری بیرونی امداد کی ضرورت ہے جو آئی ایم ایف پیکیج سے مشروط ہے۔ شہباز شریف نے اقتدار سنبھالتے ہی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لئے واشنگٹن بھیجا تھا اور فنڈ نے پاکستان کو 6 کی بجائے 8 ارب ڈالر کا پیکیج دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔ لیکن پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنے کی شرط اپنی جگہ پر قائم رکھی تھی۔ اب قطر میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات شروع ہوں گے لیکن پیٹرول کی قیمتوں کے بارے میں ڈرامائی فیصلہ کے بغیر کسی مالی معاونت کا امکان نہیں ہے۔ اس دوران شہباز شریف نے مالی امداد کے لئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ بھی کیا تھا اور چین جانے کا پروگرام بھی طے تھا۔

تاہم ان دونوں ملکوں نے خیرسگالی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود واضح کیا ہے کہ مالی معاونت کا کوئی ٹھوس معاہدہ آئی ایم ایف سے معاملات طے پانے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ بیجنگ سے بھی ایسے ہی اشارے دیے گئے ہیں حالانکہ چین سی پیک منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور ماضی قریب میں پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ چین بھی پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاملات طے ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف بیجنگ جانے کی بجائے لندن چلے گئے تاکہ اپنے بڑے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے حقیقی لیڈر نواز شریف سے ہدایات لے سکیں۔ کسی باقاعدہ اعلان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان ملاقاتوں میں کیا فیصلے کئے گئے ہیں تاہم اتوار کو لندن سے واپسی پر شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے لیڈروں سے ملاقات کرکے انہیں اعتماد میں لیا۔ اس ملاقات کے بعد آئندہ برس اگست تک حکومت کرنے اور ضروری قانونی و معاشی اصلاحات پر اتفاق رائے ہؤا ہے۔ بین السطور یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اگر اسٹبلشمنٹ تہ دل سے موجودہ حکومت کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوگی تو مسلم لیگ مشکل سیاسی فیصلوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ ایسی صورت میں قومی اسمبلی توڑنے اور نئے انتخابات کا انعقاد ہی واحد حل ہوگا لیکن ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس طرح موجودہ معاشی بحران کا حل نہیں نکل سکتا۔ انتخابات کے لئے قائم ہونے والی عبوری حکومت عالمی اداروں سے دیرپا معاہدے کرنے کی اہل نہیں ہوگی۔ اسی لئے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ اسٹبلشمنٹ نے اپنی پوزیشن واضح نہ کی تو چند روز میں مرکزی حکومت ٹوٹ جائے گی۔

حیرت انگیز طور پر جو سیاسی پارٹیاں فوج کے ’نیوٹرل‘ ہونے کا جشن مناتے ہوئے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی تھیں، وہ اب اسی عسکری قیادت سے حمایت کی خواست گار ہیں۔ پاکستان کی سیاسی روایت کے تناظر میں تو یہ طرز عمل قابل فہم ہے کہ ستر برس تک فوجی قیادت ہی نے ملکی عدلیہ کے ساتھ مل کر اس ملک پر اپنے فیصلے مسلط کئے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں کسی نہ کسی مجبوری یا ہوس اقتدار میں ہر قدم پر عسکری قیادت کی معاونت ضروری سمجھتی رہی تھیں۔ گو کہ ایسا ہر تعاون یا تو ماورائے آئین تھا یا جمہوری اخلاقی روایات سے برعکس تھا۔ اس کے باوجود سیاسی جماعتوں نے قومی مفاد کے نام پر فوج کے ساتھ مل کر کام کرنے میں کبھی بھی کسی دقت کا سامنا نہیں کیا۔ سول لیڈروں کو عبرت ناک سزائیں بھی دی گئیں لیکن اس کے باوجود تعاون و اشتراک کا یہ سلسلہ جاری رہا ہے۔ تاہم اپریل میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد لا کر، باقی ماندہ تقریباً سب پارٹیوں پر مشتمل اتحادی حکومت قائم کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ عمران خان کو اب فوج کی سرپرستی حاصل نہیں ہے اور اسٹبلشمنٹ نے حکومتی کارکردگی سے مایوس ہوکر ’غیر جانبدار‘ رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اسی لئے ملک کی دگرگوں حالت کو سنبھالنے کے لئے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر تمام جماعتوں نے طویل غور و خوض کے بعد باہمی سیاسی نظریاتی اختلافات کے باوجود اتحادی حکومت پر اتفاق کیا۔

ظاہر ہو رہا تھا کہ یہ حکومت خودمختارانہ فیصلے کرے گی، ملک و قوم کو درپیش مسائل کا حل سامنے لائے گی اور ملک کی گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لئے فوری اور ٹھوس اقدام کرے گی۔ تاہم حکومت کے قیام کے پانچ ہفتے بعد بالواسطہ طور سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہونے کی یقین دہانی تک کوئی بڑا فیصلہ ممکن نہیں ہے۔ یا شاید حکومت قائم رکھنا بھی سود مند نہیں ہوگا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ عمران خان کا احتجاج اور موجودہ حکومت کے خلاف پرزور منفی مہم جوئی ہے۔ ملک میں اشتعال کی ایک کیفیت پیدا کی گئی ہے۔ یہ تاثر عام کیا گیا ہے کہ فوج کاایک قابل ذکر اور بااثر حلقہ عمران خان کا حامی ہے جس کی وجہ سے عسکری قیادت ’غیر جانبداری ‘ کے اعلان کے باوجود کھل کر حکومت کا ساتھ دینے یا اس کے احکامات کی پابند رہنے کا اقرار کرنے سے گریز کررہی ہے۔ یہ وہی صورت حال ہے جو فوجی قیادت نے 2017 میں فیض آباد دھرنے کے دوران اختیار کی تھی اور حکومت کو انتہائی ہتک آمیز شرائط پر تحریک لبیک سے معاہدہ کرنے اور فیض آباد دھرنا ختم کروانے پر مجبور کیا تھا۔ اب عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے اور بیس لاکھ لوگ جمع کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ وہ آئندہ انتخات کی تاریخ کا اعلان ہونے تک اسلام آباد میں دھرنا دیں گے۔ انتظامی طور سے اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے حکومت کو فوج اور عدلیہ کے غیر مشروط تعاون کی ضرورت ہوگی۔

موجودہ حالات میں ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ دونوں ادارے داخلی تقسیم کی وجہ سے حکومت کا سہارا بننے اور ایک مشکل بحران پر قابو پانے میں معاونت پر آمادہ نہیں ہیں۔ فوجی قیادت نے عمران خان کی مہم جوئی کا مقابلہ سیاسی طریقوں اور مفاہمت سے کرنے کا مشورہ دیا ہے لیکن وہ تحریک انصاف کو حکمران سیاسی قوتوں کے ساتھ بات چیت پر آمادہ کرنے میں کامیاب نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے آئینی شق 63 اے کے بارے میں صدارتی ریفرنس میں آئین سے ماورا اقدام کرتے ہوئے موجودہ سیاسی صورت حال میں پنجاب کے علاوہ مرکز میں سیاسی تبدیلی کو مشکل صورت حال سے دوچار کیا ہے۔ اس کے علاوہ آج ایک سوموٹو نوٹس کے تحت حکم دیا ہے کہ حکومت ہائی پروفائل کیسز میں افسروں کے تبادلے نہیں کرسکتی اور نہ ہی نیب یاایف آئی اے اپنے ہی قائم کئے ہوئے مقدمات واپس لینے کی مجاز ہوں گی۔ یہ فیصلہ بھی حکومتی اختیار کو محدود کرے گا اور سیاسی حکومتی لیڈروں کی قسمت کی ڈور مسلسل عدلیہ کے ہاتھ میں رہے گی۔ چیف جسٹس نے اس معاملہ کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ یہ اقدام کسی حکومت کے خلاف نہیں ہے بلکہ انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی خود مختاری کے لئے کیا گیا ہے۔ لیکن حکومتی ذرائع اس فیصلہ کے سیاسی مضمرات کے بارے میں متنبہ کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے ایک جلسہ میں واشگاف طور سے کہا ہے کہ ’عدلیہ ایسے فیصلوں سے اپنا وقار کم کر رہی ہے، بعد میں ہم سے شکایت نہ کی جائے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت نے جب انتظامی اختیارات کے تحت سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی تھیں تو عدلیہ خاموش رہی لیکن عمران خان کے ایک جلسہ سے گھبرا کر سو موٹو نوٹس لینے پر آمادہ ہوگئی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا یہ رویہ بھی ناقابل فہم ہے کہ وہ اہم سیاسی و آئینی معاملات پر بنچ مقرر کرتے ہوئے عدلیہ کے سینئر ججوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس حوالے سے چیف جسٹس کو خط بھی لکھ چکے ہیں لیکن چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا اصرار ہے کہ بنچ کا تعین کرنا چیف جسٹس کا استصواب ہے۔ یہ بات درست ہونے کے باوجود اعلیٰ عدلیہ میں اصولی تقسیم کا واضح اشارہ ہے۔ چیف جسٹس ایسے ججوں کو ہائی پروفائل کیسز میں بنچ کا حصہ بنانے سے گریز کرتے ہیں جو ان کے برعکس مختلف آئینی و قانونی توجیہ سامنے لاسکیں۔ چیف جسٹس کا یہ رویہ اعلیٰ عدلیہ میں انتشار پیدا کرے گا جس سے انصاف کو یقینی بنانے کی بجائے عدلیہ کا کردار ہی مشکوک ہوجائے گا۔ چیف جسٹس نے اگر فوری طور سے اس طرز عمل پر نظر ثانی نہ کی تو عدالتوں پر شبہات میں اضافہ ہوگا۔اس وسیع تر تناظر میں بظاہر حکومت کی طرف سے اسٹبلشمنٹ کی حمایت کی کوشش قابل فہم ہوسکتی ہے لیکن آئین و جمہوری اصول کے تحت یہ غلط اور ناقابل قبول رویہ ہے۔ شہباز شریف اگرچہ انتہائی کم اکثریت سے منتخب ہوئے ہیں اور قائد ایوان بننے کے لئے انہیں چھوٹی بڑی 10 پارٹیوں کا تعاون حاصل کرنا پڑا ہے لیکن وہ بہر حال ملک کے وزیر اعظم ہیں اور آئین انہیں تمام انتظامی اختیار ات تفویض کرتا ہے۔مسلم لیگ (ن) کو یہ اختیارات استعمال کرتے ہوئے فوج کو سیاسی جوڑ توڑ میں فریق بننے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ یہ کام تب ہی ہوسکتا ہے جب اسٹبلشمنٹ کے اشاروں کا انتظار کرنے کی بجائے اب اس پر واضح کیا جائے کہ جی ایچ کیو وزیر اعظم ہاؤس کے فرمان کا انتظار کرے۔ اس کی طرف سے کوئی سیاسی اشارہ کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہوگا۔ جب تک فوجی قیادت کو اس کی حدود کے بارے میں دوٹوک الفاظ میں بتایا نہیں جائے گا، ملک کی سیاسی حکومتیں مسائل کے بوجھ تلے دبی رہیں گی اور فیصلوں کے لئے غیرمتعلقہ حلقوں کی محتاج رہیں گی۔ کسی سیاسی حکومت کو کبھی یہ اختیار پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ آئین سے حاصل شدہ طاقت کے ذریعے یہ اختیار چھیننا پڑے گا۔ حکومت کی اتحادی جماعتیں اگر اس اصولی فیصلہ پر مسلم لیگ (ن) کا ساتھ نہ دیں تو شہباز شریف تمام حالات سے قوم کو آگاہ کر کے اپنے عہدے سے علیحدہ ہوجائیں تاکہ عوام کو علم ہوجائے کہ کون اسٹبلشنٹ کی کٹھ پتلی ہے اور کون ملک میں ایک آئینی انتظام کے لئے اقدام کرنا چاہتا ہے۔

Categories
منتخب کالم

عمران خان کے بیانیے کی گونج !!! شہباز حکومت کس خوف سے بڑے فیصلے کرنے سے کترا رہی ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اندر کی خبر سامنے آگئی

لاہور: (ویب ڈیسک) نصرت جاوید اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” میرے باقاعدہ قاری جانتے ہیں کہ قومی اسمبلی کے دفتر میں وزیر اعظم عمران خان صاحب کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے سے کئی ہفتے قبل ہی میں فریاد کرنا شروع ہوگیا کہ مذکورہ عمل سے اجتناب برتا جائے۔عمران حکومت کو ”جھٹکا“ دینا ہی درکار تھا تو ان دنوں کے سپیکر اسد قیصر کے خلاف یہ تحریک پیش کردی جاتی۔

خفیہ رائے شماری کی بدولت موصوف کے خلاف آئی تحریک اگر کامیاب ہوجاتی تو عوام کو یہ خبر بھی مل جاتی کہ عمران خان صاحب قومی اسمبلی میں اکثریت کے حامل نہیں رہے۔ وہ ایک بار پھر اس ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کو مجبور نہ بھی ہوتے تو جون کا انتظار کیا جا سکتا تھا جب اگلے مالی سال کا بجٹ قومی اسمبلی سے منظوری کے لئے پیش ہونا تھا۔ ٹی وی سکرینوں کے ناقابل ٹھہرائے جانے کے بعد اخباری کالموں تک محدود ہوئے صحافی کی رائے کو تاہم ان دنوں کوئی وقعت نہیں دی جاتی۔ تحریک عدم اعتماد کا منصوبہ سوچنے والے ویسے بھی بہت قدآور سیاست دان تصور ہوتے تھے۔1988 سے 2018 تک حکومتیں بنانے اور گرانے کے کھیل میں شامل رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے تجربے اور بصیرت پر اعتبار کیا۔اس کے بعد جو ہوا تاریخ ہے۔ اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ عمران خان صاحب کو وزارت عظمیٰ سے فارغ کرنے کے بعد ماضی کی اپوزیشن جماعتوں نے ”بھان متی کے کنبے“ کی طرح نئے انتخاب کا اعلان کرنے کے بجائے شہباز شریف صاحب کی قیادت میں ”حکومت“ چلانا چاہی۔ 5 ہفتے گزرجانے کے باوجود وہ مگر طے نہیں کر پائی کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ناقابل برداشت اضافے کا اعلان کرنا ہے یا نہیں۔آئی ایم ایف مذکورہ اضافے کا تقاضا کر رہی ہے۔ وہ نہ ہوا تو پاکستان کو ”امدادی رقم“ کی قسط بھی نہیں ملے گی۔ یہ قسط اگرچہ 500 ملین ڈالر تک محدود ہے۔ اس کی ادائیگی تاہم عالمی معیشت کے نگہبان ادارے کی جانب سے جاری ہوا ”سر ٹیفکیٹ“ تصور ہوتا ہے۔

وہ مل جائے تو عالمی منڈی کے دیگر ادارے ہمیں قرض دینے سے قبل سو بار نہیں سوچتے۔ عمران حکومت کی جگہ آئے ”سیانے“ اس ضمن میں فوری اقدام مگر لے نہیں پائے۔ انہیں یہ خوف لاحق ہو گیا کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں یکمشت 30 روپے کا اضافہ ہوا تو عوام بلبلااٹھیں گے۔ اس سے مشتعل ہوکر وہ سڑکوں پر نہ بھی آئے تو آئندہ انتخاب کے دوران کم از کم پنجاب میں جو مسلم لیگ (نون) کا گڑھ شمار ہوتا ہے اس جماعت کے نامزد کردہ امیدواروں کی صورت دیکھنے کو بھی کوئی تیار نہیں ہوگا۔ ”ووٹ بینک“ کے خوف سے مفلوج حکومت بروقت کڑے فیصلوں کا اعلان نہ کر پائی تو بازار میں مندی کا رحجان پھیلنے لگا۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر تاریخی حد تک گرنا شروع ہو گئی۔ شہباز حکومت نے کئی دنوں تک پھیلی مشاورت کے بعد عوام کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے عذاب سے بچانے کے لئے اپنے تئیں ایک ”جگاڑ“ سوچی ہے۔ وہ عوام کے روبرو نہیں لائی گئی۔ آئی ایم ایف کا وفد مگر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اس کا جائزہ لینے پہنچ چکا ہے۔ امید باندھی گئی تھی کہ وہ ”جگاڑ“ پر ہمدردانہ غور کو آمادہ ہو جائے گا۔ بدھ کی شام مگر سپریم کورٹ نے طویل وقفے کے بعد ازخود نوٹس لیتا ہوئے شہباز حکومت کے پسینے چھڑوا دئیے ہیں۔ اس پر الزام لگا ہے کہ وہ حکمران اتحاد میں وزیراعظم سمیت دیگر جماعتوں کے سرکردہ رہ نماﺅں کو بدعنوانی کے سنگین مقدمات میں سزا سے بچانے کے لئے مبینہ طورپر تفتیشی اداروں کے متحرک افسروں کو تبدیل کر رہی ہے۔ ان اداروں کے ”ریکارڈ“ میں گڑبڑ کرنے کے ارادے بھی ہیں۔

منگل کی شام کوہاٹ میں ہوئے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان صاحب مذکورہ الزامات کو جارحانہ انداز میں ہمارے روبرو لائے تھے۔ سپریم کورٹ بدھ کی شام ان ہی کی درخواست پر ازخود نوٹس لیتی محسوس ہوئی۔ جمعرات کو اس کی سماعت بھی ہو چکی ہے بالآخر فیصلہ جو بھی آیا اس نے حکومت کو خطاوار نہ بھی ٹھہرایا تو اس مقام تک پہنچنے سے قبل ہی شہباز حکومت کے بارے میں ”صبح گیا یا شام گیا“ والا ماحول بن جائے گا۔ وہ ”افراتفری“ لوٹتی نظر آئے گی جس کا سامنا نواز حکومت کو اپریل 2016 میں پانامہ پیپرز کی وجہ سے لئے ازخود نوٹس کی وجہ سے کرنا پڑا تھا۔ سوال اٹھتا ہے کہ ایسی حکومت کے نمائندوں کو آئی ایم ایف کے نمائندے سنجیدگی سے کیوں لیں۔ پاکستان سے معاملات قطعی انداز میں طے کرنے کے بجائے عالمی معیشت کا نگہبان ادارہ بلکہ انتظار کرنے کو ترجیح دے گا کہ شہباز حکومت برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ وہ اگر مستعفی ہو گئی تو عبوری حکومت سے معاملات طے کرنا بھی دانش مندانہ نہیں ہو گا۔ آئی ایم ایف ہی نہیں دیگر عالمی ادارے اور پاکستان کے دوست یا دشمن ممالک ترجیح دیں گے کہ انتخابات کے نتیجے میں ہمارے ہاں برسرِ اقتدار آنے والوں کا انتظار کیا جائے۔ دریں اثناء محدود آمدنی کا حامل عام پاکستانی ہوتے ہوئے آپ کو اطلاع یہ دینا ہے کہ بدھ کی دوپہر رحیم یار خان اور صادق آباد کی غلہ منڈیوں میں گندم کے ایک من کی قیمت 2,500 روپے ریکارڈ ہوئی ہے۔ اس میں مزید اضافہ یقینی ہے۔

چند روز قبل لکھے ایک کالم میں آپ کو خبردار کیا تھا کہ رواں برس کے مارچ میں غیر معمولی گرمی کی وجہ سے گندم کا دانہ باریک رہ گیا ہے۔ ایک ایکڑ میں اس کی وجہ سے 5 سے 7 من کم گندم پیدا ہوئی۔ ہمیں امید تھی کہ گندم کی کٹائی کے بعد ہم 28.89 ملین ٹن گندم حاصل کرپائیں گے۔ ہماری اجتماعی طلب اگرچہ 30.79 ملین ٹن کی حد تک پہنچ چکی ہے۔ بے رحم موسمی تبدیلی کی وجہ سے اب کی بار ہمارے ہاں گندم کی اجتماعی پیداوار 27 کے ہندسے تک بھی نہیں پہنچ پائی۔ گندم کا ”بحران“ لہٰذا نمودار ہونے کو بے چین ہے۔ ماضی میں ایسے بحرانوں کو ہم یوکرین سے ہنگامی بنیادوں پر گندم درآمد کرتے ہوئے ٹال لیا کرتے تھے۔ رواں برس کے فروری سے یوکرین مگر روس کے جارحانہ حملے کی زد میں ہے۔ اس کے وہ وسیع و عریض علاقے جو گندم کی کاشت کے لئے تاریخی اعتبار سے مختص ہوا کرتے تھے اب مسلسل بمباری اور ٹینکوں کی پیش قدمی کی زد میں ہیں۔روسی فضائیہ نے جان بوجھ کر ان بڑے گوداموں کو بھی تباہ کردیا ہے جہاں فاضل پیداوار ذخیرہ ہوا کرتی تھی۔ بے رحم موسمی تبدیلی اورروس اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے گندم کا جو بحران نمودار ہو رہا ہے اسے ذہن میں رکھتے ہوئے گزشتہ ہفتے بھارتی حکومت نے اپنے ملک سے گندم کی برآمد پر کڑی پابندی لگا دی ہے۔ سرکاری گوداموں میں اجتماعی طلب کو ذہن میں رکھتے ہوئے گندم پیدا کرنے والے اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو چوکس کردیا گیا ہے۔ منافع خوری کی ہوس میں ذخیرہ اندوزی کے عادی سیٹھوں کے گوداموں پر چھاپے بھی مارے جارہے ہیں۔ ہمارے پنجاب میں لیکن حمزہ حکومت ”کہیں ہے اور نہیں ہے“ والے مخمصے سے دوچار ہے۔ اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے اور آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑی صوبے کے سرکاری افسروں کو علم ہی نہیں کہ ”کس کی ماں کو ماسی کہیں“۔ سپریم کورٹ پر نگاہ ٹکائے مقامی انتظامیہ پیش قدمی سے گھبرا رہی ہے۔ تنخواہ دار اور محدود آمدنی والے پاکستانیوں کو مگر آٹے کے بحران سے نبرد آزما ہونے کے لئے آج ہی سے تیاری شروع کر دینا ہو گی۔

Categories
منتخب کالم

شہباز حکومت دباؤ میں !!! عمران خان صدر کے آفس کو کس کام کیلئے استعمال کر رہے ہیں ؟ اہم رازوں سے پردہ اٹھ گیا

لاہور: (ویب ڈیسک) سہیل دانش اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” اس شور میں تو کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ حکومت ہراساں نظروں کے ساتھ سٹپٹاتی نظر آرہی ہے۔ عمران خان مسلسل اور تسلسل سے ایک ہی بات کیے جارہے ہیں کہ ان کے ساتھ ظلم ہوگیا۔ جو مناظر ہیں وہ تو کسی Horror فلم کا روپ دھار رہے ہیں۔

ملک کی اکانومی بدستور ڈھلوان پر لڑھکتی نظر آرہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کسی کو ملک کی فکر نہیں۔ سب اپنا اپنا چورن بیچ رہے ہیں۔ عمران کے دور میں 9 مارچ 2002ء کو ڈگمگاتی معیشت کو کوئی سہارا نہیں مل رہا تھا۔ پھر جو توقعات تھیں پوری نہیں ہورہی تھیں۔ اس سال کے اوائل تک جب عمران خان وزارت عظمیٰ کا عہدہ جلیلہ پر فائز تھے یہی سمجھ آرہا تھا کہ قوم غلط پالیسیوں اور ناتجربہ کاری کی سزا بھگت رہی ہے۔ عمران خود بھی اپنی بہت سی غلطیوں کا اعتراف کرتے جارہے تھے۔ مہنگائی اور بیروزگاری کے ساتھ کرپشن کا گراف بڑھتا جارہا تھا۔ پہلی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ اس وقت کی حکومت اور 9مارچ سے پہلے کی حزب اختلاف عمران خان کو سلیکٹڈ وزیراعظم کہہ رہی تھی ان کی پوزیشن کو چیلنج کررہی تھی۔ اس کا مطلب سیدھا سادا یہ تھا کہ 2018ء کے انتخابات فیئر اور فری نہیں تھے۔ ایک عمومی تاثر بھی یہی تھا کہ اس الیکشن میں گڑبڑ ضرور ہوئی تھی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اس بار عمران خان کو ٹرائی کیا جائے۔ اس وقت کی حزب اختلاف جو آج حکومت میں ہے۔ ظاہر ہے اس الیکشن کو سلیکشن بتارہی تھی۔ اگر عمران خان ان کے خیال میں ڈیفیکٹو پرائم منسٹر تھے تو پھر اتنی جماعتوں کی لغت کے مطابق شہباز شریف بھی ڈیفیکٹو پرائم منسٹر ہوئے۔ یہ صرف ایک سیاسی استدلال کی بات ہے۔ دوسری طرف عمران کے رویئے کو دیکھیں کہ وہ خود اپنے آفس‘ اسپیکر ڈپٹی اسپیکر اور صدر کے آفس کو ایک ایسے کام کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘ جس کی آئین اجازت نہیں دیتا۔

عمران خان خود اندازہ کریں کہ وہ اپنی بات میں کتنے فیئر ہیں۔ آپ اپنی تمام باتوں کو منوانے کی کوشش کو عام لوگوں کے سامنے جہاد کے طور پر پیش کریں تو یہ بالکل غیر منصفانہ بات ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ عمران خان کی یہی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ درست ہے‘ وہ جو جو کہتے جائیں وہ تسلیم کیا جاتا رہے۔ خواہ اس سے آئین و قانون کی خلاف ورزی ہی کیوں نہ ہوتی تو۔ ذرا پیچھے مڑ کر دیکھیں۔ پی ڈی ایم کی قیادت اور پیپلز پارٹی نے اس دشت میں بہت سی صعوبتیں برداشت کیں‘ بڑا مشکل وقت دیکھا‘ لیکن کوئی بھی اداروں کے خلاف اس حد تک نہیں گیا‘ جس کا مظاہرہ وہ کررہے ہیں۔اس کا مطلب تو سیدھا سادا یہ ہے کہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اسے من و عن تسلیم کرلیا جائے۔ وہ اپنی بات کو بار بار دہرارہے ہیں۔ وہ اپنے بیانیے پر کھڑے سوالات کا جواب دینے کی زحمت نہیں کررہے‘ حتیٰ کہ وہ اپنی 4 سالہ کارکردگی کے تذکرے پر ردعمل دینے کا تکلف نہیں کررہے۔ ان کی منطق دیکھیں فواد چوہدری کہہ رہے ہیں کہ آپ آئیں اور الیکشن کرادیں۔اب کوئی ان سے پوچھے کہ الیکشن تو الیکشن کمیشن نے کرانے ہیں‘ جبکہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں یہ بتا چکا ہے کہ ابھی ہم سات ماہ تک انتخابات کے انعقاد کا اہتمام نہیں کرسکتے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ یہ مطالبہ پی ٹی آئی کررہی ہے۔ باقی تمام جماعتیں اس سے متفق نہیں۔

اس میں سندھ میں مقبول جماعت پی پی پی پنجاب میں بار بار برتری لینے والی مسلم لیگ (ن)‘ مذہبی جماعتیں‘ تمام علاقائی جماعتیں شامل ہیں۔ وہ اس مطالبے کے دوسری طرف کھڑی ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عمران خان کے بیانیے کو خواہ وہ سچا ہے یا جھوٹا اسے خود عمران خان کی توقعات سے بھی زیادہ مقبولیت مل رہی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت میں آکر الیکشن کرانے کا فوری اعلان کردیتی ہے تو اس جذباتی کیفیت کا انہیں انتخابات میں فائدہ مل سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ یہ مطالبہ نہ حکومت سے کررہے ہیں نہ پارلیمنٹ سے کررہے ہیں بلکہ وہ یہ مطالبہ اسٹیبلشمنٹ سے کررہے ہیں۔ جب وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نہ ان کے مطالبے کے حوالے سے حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے اور یہ بھی کہ ان کی بات پر سنجیدگی سے کوئی ردعمل دینے کے بجائے خود کو سیاست سے بالکل الگ تھلگ رکھنا چاہتی ہے ۔تو وہ ردعمل کے طور پر اداروں پر دباؤ بڑھاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جھنجھلاہٹ اور مایوسی میں وہ کچھ کہہ جاتے ہیں جو انہیں نہیں کہنا چاہئے۔ وہ جلسوں کے ذریعے دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ان کی بات سنے اور الیکشن کے انعقاد میں اپنا کردار ادا کرے‘ لیکن لگ یہی رہا ہے کہ جوں جوں 20 مئی کی ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے عمران خان کی فرسٹریشن بڑھ رہی ہے۔ ان کی زبان میں تلخی اور لہجے میں کڑواہٹ بڑھتی جارہی ہے اور وہ بعض باتیں کھل کر کہہ رہے ہیں۔ اپنی بڑھتی ہوئی فرسٹریشن کو چھپا نہیں پارہے ہیں اور صاف دکھائی دے رہا ہے کہ وہ ٹکراؤ کی جانب جارہے ہیں۔ شاید انہیں یہ پرواہ نہیں ہے کہ اس کے کیا نتائج ہوسکتے ہیں۔ اس لئے ایسا لگتا ہے کہ وہ جب لانگ مارچ کی کال دیں گے تو یہ بے قابو ہوسکتا ہے۔ اس وقت بظاہر یہ لگتا ہے کہ عمران خان آگے بڑھ رہے ہیں‘ پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں۔ یہ عمران کی اسٹریٹیجی ہوسکتی ہے‘ لیکن یہ لکھ لیں کہ سب کچھ ویسا نہیں ہوگاجیسا عمران چاہتے ہیں۔

Categories
منتخب کالم

عمران خان کا اسلام آباد پلان کیا ہے ؟ کپتان کو اسلام آباد آنے دیا جائے گا یا نہیں؟ شہر اقتدار سے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) اسد اللہ خان اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” ابہام،مخمصہ ،کنفیوژن، بے یقینی اورگھبراہٹ ۔ سب نے جمع ہو کر سوال کی شکل اختیار کر لی ہے۔ سوال قطاریں بنا کر بے چینی سے ایک دوسرے کے پیچھے کھڑے ہیں اور اب رفتہ رفتہ دائروں کی شکل اختیار کرنے لگے ہیں ۔

دائروں میں کھڑے ان سوالوں کا جواب دینے والا شخص دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا ۔ ابہام کنفیوژن میںبدل رہا ہے ، کنفیوژن بے چینی کی شکل اختیار کر رہی ہے ۔ بے چینی عدم استحکام کو جنم دے رہی ہے۔ عدم استحکام سوالوں کا جواب نہ ملنے کی وجہ سے پھیلتا جا رہا ہے ۔ شاید جواب مل جائے تو لوگوں کوکچھ چین ہی آ جائے ۔ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ سوال کیا ہیں جن کے جواب یا تو کسی کے پاس ہیں نہیں یا پھر کوئی دینے کو تیار نہیں ہے ۔آئیے چند نمائندہ سوالوں پہ ایک نظر ڈالتے ہیں ۔ بہت سے سوال تو معیشت ، مہنگائی اور کاروبار سے متعلق لوگوں کے ذہن میں ہیں۔ پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے جا رہی ہیں یا نہیں ؟آن کی آن میں ڈبل سینچری کرنے والا ڈالر کہاں جا کر رکے گا؟آئی ایم ایف سے بیل آئوٹ پیکج ملے گا یا نہیں ؟اسٹاک مارکیٹ کے حالات میں بہتری کی صورت کیا ہے؟مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے یا انتظار؟ کچھ سوال عمران خان کی ممکنہ حکمت عملی سے متعلق ہیں ۔عمران خان کا اسلام آباد پلان کیا ہے ؟ملتان جلسے میں وہ کیا اعلان کرنے والے ہیں؟کیا عمران خان اسلام آباد میں دھرنا دینے جا رہے ہیں ؟ کیا عمران خان کو اسلام آباد آنے دیا جائے گا؟کیا عمران خان کا احتجاج پُرامن ہو گا؟اگر عمران خان کے کارکنوں کو روکا گیا تو کیا ہو گا؟کیا روکے جانے کی صورت میں عمران خان پاکستان کے تمام بڑے شہروں کو جام کر سکتے ہیں؟ ملک جام ہو گیا تو نظام کیسے چلے گا؟ کیا عمران خان فوری انتخابات حاصل کر پائیں گے؟

اگر انتخابات کا اعلان ہو گیا تو وہ جیت جائیں گے کیا انہیں دوبارہ آنے دیا جائے گا؟نہ آ سکے تو کیا نتائج تسلیم کر کے گھر بیٹھ جائیں گے یا سڑکوں پہ نکلیں گے۔سڑکوں پہ نکل آئے تو کیا ملک میں سیاسی استحکام آئے گا یا بے چینی برقرار رہے گی؟ کیا نواز شریف بھی فوری انتخابات کے حق میں ہیں ؟کیا اس سلسلے میں نواز شریف اور شہباز شریف کی رائے مختلف ہے؟فوری انتخابات میں نہیں جاتے تو بگڑتی معیشت کو کیسے سنبھالیں گے۔ پیٹرول کی قیمت بڑھائیں گے تو مہنگائی کو بڑھنے سے کیسے روکیں گے؟مہنگائی آسمان کو پہنچی تو اپنی ساکھ کیسے بچائیں گے اوربے رحم انتخابی میدان میں کیسے اتریں گے؟موجودہ حالات میں الیکشن ہوئے تو عوام کسے منتخب کریں گے؟ پانچ مہینے بعد انتخابات ہوئے تو عوام کا فیصلہ مختلف ہو گا؟ آرٹیکل 63-A کی تشریح کے بعد پنجاب کے حوالے سے بھی کئی سوال اٹھ گئے ہیں ۔ پنجاب میں کس کی حکومت ہے ؟ حمزہ شہباز وزیر اعلی رہے ہیں یا نہیں؟پنجاب میں اب اکثریت کس کے پاس ہے ؟ گورنر کون ہے؟ کیا گورنر حمزہ شہباز کو اعتماد کو ووٹ لینے کا کہہ سکتا ہے؟ اگرگورنر نے حمزہ شہباز کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے نہ کہا تو کیا وہ اقلیت رکھتے ہوئے بھی وزیر اعلی برقرار رہ سکتے ہیں؟ پنجاب میں دوبارہ ووٹنگ ہوئی تو کون وزیر اعلی بنے گا؟ اگر پنجاب تحریک انصاف کے پاس واپس آ گیا تو عمران خان پنجاب اسمبلی توڑنے کا فیصلہ کریں گے؟ پنجاب میں عدم استحکام برقرار رہا تو وفاق میں استحکام آ سکتا ہے؟

کیا پنجاب میں گورنر راج بھی لگ سکتا ہے ؟ سپریم کورٹ کے سوموٹو نوٹس کا شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟کیا سپریم کورٹ ایف آئی اے میں ہونے والی ٹرانسفرز پوسٹنگز روک دے گی۔ سپریم کورٹ نے تمام کیسوں کا ریکارڈ کیوں منگوایا ہے ؟ کیا ایف آئی اے شہباز شریف کے منی لانڈرنگ کیسز کی پراسکیوشن سے انکار کر سکتی ہے ؟ کیا واقعی ریکارڈ میں تیزی سے ردوبدل ہو رہا ہے؟ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے بعد کیا شہبازشریف کے لیے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں؟ کیا شہباز شریف کا مختصر وقت کے لیے حکومت لینے کا مقصد اپنے کیسز ختم یا کمزور کرنا تھا؟ کیا شہباز شریف اب اپنے مقصد میں کامیاب ہو پائیں گے؟ نواز شریف کے ذہن میں کیا چل رہا ہے اور ان کے کیسز کا کیا ہو گا؟کیا وہ جلد واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کیا موجودہ حکومت ان کی سزا ختم یا معطل کرنے پر غور کر رہی ہے؟ کیا سپریم کورٹ حکومت کو ایسا کرنے دے گی؟اگر نواز شریف واپس آ کر انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیتے تو ن لیگ کی مہم پر کتنا اثر پڑے گا؟ عمران خان کی خواہش کیا ہو گی نواز شریف واپس آ کر جیل جائیں یا لندن میں ہی مقیم رہیں ۔تحریک انصاف اور ن لیگ کے لیے کونسی صورت فائدہ مند ہے ؟ مریم نواز کا مستقبل کیا ہے؟ کیا انتخابات سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلنے والی اپیلوں کا فیصلہ آ جائے گا؟ مریم کی سزا ختم ہو گئی تو ن لیگ کا وزیر اعظم کے لیے امیدوار کون ہو گا؟ مریم نواز کیسز سے نکل آئیں تو نواز شریف پھر بھی شہباز شریف کو ہی وزیر اعظم کا امیدوار بنانا چاہیں گے؟ چند اہم سوال اور بھی ہیں ۔اس سارے معاملے کو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور مقتدر حلقے کس طرح دیکھ رہے ہیں ؟یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اس ساری صورتحال کو سیاستدانوں پر چھوڑ کر اطمینان سے بیٹھے ہوں۔پچھلی حکومت کی طرف سے دی گئی نیشنل سیکیورٹی پالیسی میں واضح کیا گیا تھا کہ معیشت اور سیکیورٹی کا آپس میں گہرا تعلق ہے، معاشی صورتحال گھمبیر ہوئی تو ملکی سیکیورٹی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔لہذا اہم سوال یہ ہے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کیا سوچ رہی ہے؟ موجودہ صورتحال نے بے شمار سوالوں کو جنم دیا ہے اور ان سوالوں نے عوام کو گھیر رکھا ہے۔ابہام کنفیوژن میںبدل رہا ہے ، کنفیوژن بے چینی کی شکل اختیار کر رہی ہے ۔ بے چینی عدم استحکام کو جنم دے رہی ہے۔ عدم استحکام سوالوں کا جواب نہ ملنے کی وجہ سے پھیلتا جا رہا ہے ۔ شاید جواب مل جائے تو لوگوں کوکچھ چین ہی آ جائے ۔

Categories
منتخب کالم

پاکستانی ادارے تنقید کی زد میں!!!! ملک میں اندرونی خلفشار پھیلانا کیلئے کون کون سا ملک کام کر رہا ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عالمی مبصرین نے خبردار کر دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) شیخ جواد حسین لکھتے ہیں کہ پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ملک خدا نخواستہ آئینی بحران کی طرف جاتا دیکھا ئی دے رہا ہے کیونکہ پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے بعد سے پیدا ہونے والی صورتحال سیاسی پنڈتوں کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس وقت حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ جس میں ملکی سیاست و عوام بیرونی طاقتوں کی سازش میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔ درحقیقت یہ ایجنڈا بہت پرانا ہے جس کا مقصد پاکستان میں اندرونی خلفشار پھیلانا اور ملک کے اداروں اور عوام کو آمنے سامنے لا کھڑا کرنا ہے بہت سے اندازوں و تجزیوں کے مطابق اس ایجنڈے پر متعدد ممالک کام کر رہے ہیں مگر امریکہ بہادر اس وقت شہ سرخی میں موجود ہے کیونکہ سابق وزیراعظم عمران خان کے مطابق امریکہ کی طرف سے حالیہ مداخلت کے شواہد مراسلے کی شکل میں موجود ہیں بہرحال اس ایجنڈے کا اظہار بہت سے مبصرین بھی کر چکے ہیں جس کے مطابق پاکستان میں خلفشار کے ذریعے ملک کو چھوٹے حصوں میں تقسم کر کے پاکستان کی طاقت کو ختم کیا جا سکتا ہے انڈیا بھی پاکستان کے اندر انار کی پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ سے کوشاں رہتا ہے جس کے لیے وہ پوری تن دہی سے کا م کر رہا ہے۔ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت یقیناً ناقابل قبول عمل ہے مگر پاکستان میں مداخلت ایک خاص ایجنڈے کے تحت کی گئی ہے کہ جس وقت مداخلت کا مطلب پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی کی طرف تیسری کوشش تھی اس سے قبل یہ کوشش خان لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور حال ہی میں عمران خان کی حکومت میں کی گئی جو بلاشبہ پاکستان کی ترقی و خود مختاری میں سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے مگر میری نظر میں آزاد خارجہ پالیسی کی طرف یہ قدم بہت دیر سے اْٹھایا گیا اس پر پاکستان کو روز اوّل سے ہی کام کرنا چاہیے تھے۔

چونکہ پاکستان اس وقت معاشی مشکلات کا شکار ہے اس وقت معیشت کو درست سمت میں ڈالے بغیر اس طرح کے اقدامات سے قبل پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے آزاد کروانا اشد ضروری تھا اپنی معاشی بدحالی پر ملائیشیا و ترکی کی طرح کام کرنے کی ضرورت ہے ملائیشیا نے فری اکنامک زون بنائے پوری دنیا کو اپنے ملک میں امن و سلامتی قائم کرکے ٹیکس فری بزنس ڈیولپمنٹ پلان دیا جہاں زمین و بجلی دس سال کے لیے مفت تھی جس کی وجہ سے دنیا بھر کی انڈسٹری نے ملائشیا کا رْخ کیا جس پلان کو بعد ازاں چین نے اپنا کر بے حد ترقی کی اسی طرح ترکی میں بھی نجم الدین اربغان اور طیب اردوگان کے ادوار سے قبل ترکی پر موجود تمام قرضوں کو اْتارا اور پھر اپنی آزاد خارجہ پالیسی ترتیب دی۔ پاکستان کی سابقہ حکومت نے یقینا باہمی مشورے، نیک نیتی اور ایمانداری سے روس کی طرف ہاتھ بڑھایا پی ٹی آئی بھی مصر کے مرسی اور برادر ھڈ پارٹی کی طرح اقتدار کی چند بہاریں ہی دیکھ سکی ملک نہ تو جذباتی چالوں سے چلتے ہیں اور نہ ہی معاشی عدم استحکام سے کیونکہ ملک کی خارجہ پالیسی کی آزادی و خودمختاری کا انحصار ملک کی اندرونی حالت کی مضبوطی پر ہے تاکہ اغیار کے سامنے کسی قسم کی مشقت کا سامنا نہ ہو۔ درحقیقت پی ٹی آئی ہو یا موجودہ حکومت دونوں حکومتیں ہی کمزور عددی حمائیت کے ساتھ اقتدار پر براجمان ہوئیں اور افسوس یہ ہے کہ دونوں ہی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں ناکام رہیں گی۔

کیونکہ ملکی ترقی، سالمیت اور آزاد خارجہ پالیسی کے لیے کسی بھی ایک پارٹی کا سادہ اکثریت سے کامیاب ہو کر حکومت بننا ہی مسلے کا واحد حل ہے دوسری طرف للکار سے بہتر حکمت و تدبر اور فہم و فراست ہے جو کسی طور بھی بزدلی نہیں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ خوامخواہ ہی جنگ اپنے اوپر مسلط کرنے کی بجائے اپنے قدم مظبوط کر کے درست وقت میں درست قدم اْٹھانا ہے کیونکہ اللہ رب العزت بھی قرآن میں فرماتا ہے جس کامفہوم ہے کہ“ تم ان کے مقابلے کے لئے بھرپور قوت اور اپنے گھوڑوں کو تیار رکھو کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی، جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انھیں خوب جان رہا ہے“ پاکستان کو ابھی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے جس میں سب سے بڑا چیلنج ملکی سالمیت اور معاشی بحران ہے پاکستانی عوام کو سابق وزیر اعظم کے حق میں ریلیاں نکالنے، احتجاج کرنے، سڑکوں پر آنے اور جلد الیکشن کروانے کے مطالبات پوری طرح حکومت کے سامنے رکھنے چاہئیں مگر ملک کی سالمیت و دفاع کو کسی صورت نشانہ نہیں بنانا چاہیے جو ماضی میں بھی ہوا اور سراسر غلط ہوا کیونکہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن تو ہے جو بھرپور انداز میں کرنا چاہیے جس کا عوام پورا حق رکھتے ہیں اس سے بھی بڑھ کر حق کو حق کہنا اور غلط کو غلط کہنا بھی بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے۔مگر اداروں کو کارنر کرنے کی کوشش پاکستان کو کارنر کرنے کی کوشش ہے اس پر تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے پر بے جا تنقید اور الزام تراشی کی سیاست قطعی طور پر ملکی مفاد میں نہیں ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا۔

Categories
منتخب کالم

شہباز حکومت کتنے دنوں کی مہمان ؟؟؟ اتحادی حکومت کسی بھی وقت گھر جاسکتی ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اعدادوشمار نے سب کچھ واضح کر دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) فضل حسین اعوان لکھتے ہیں کہ” سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پررائے کو کوئی جو بھی معانی پہنائے، جس پیرائے میں بھی دیکھے یہ طے ہو گیا کہ منحرف رکن وزیراعظم، وزیر اعلیٰ کو پارٹی کی پالیسی کے بر عکس اعتماد کا ووٹ دے سکتا ہے نہ عدم اعتماد کی تحریک میں شامل ہو سکتا اور نہ ہی بجٹ میں پارٹی کی رائے کے خلاف جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے فلورکراس کرنے والوں کی نا اہلی کی مدت کا تعین نہیں کیاگیا۔ یہ معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے20لوگ قومی اسمبلی سے منحرف ہوئے ہیں جبکہ پنجاب اسمبلی میں مخرفین کی تعداد25ہے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے قومی اسمبلی کے مخرف پی ٹی آئی ارکان کی رکنیت ختم نہیں کی گئی۔ ان لوگوں نے پارٹی سربراہ عمران کی ہدایت پر استعفے بھی نہیں دیئے۔ جن123 نے استعفے دیئے وہ بھی نئے سپیکر راجہ پرویز اشرف نے قانونی پراسس کے لیے واپس منگوالئے ہیں۔ صدارتی ریفرنس پر حکومتی اتحاد اور اپوزیشن اپنے اپنے نکتہ نظر سے فیصلے کی امید لگائے ہوئے تھیں۔ تحریک انصاف منحرف ارکان کو تاحیات نااہل کرانا چاہتی تھی۔ اس کے وکلا کی طرف سے تو انحراف کو صادق اور امین کی بحث بھی بنا دیا گیاتھا۔ آج کا حکومتی اتحاد انحراف کو ضمیر کی آواز قرار دے رہا ہے۔ مگر اب نوشتہ دیوار یہ ہے کہ منحرف ارکان ووٹ کاسٹ کرتے ہیں تو وہ شمار نہیں ہوگا، گِنا نہیں جائے گا۔ تحریک انصاف منحرف ارکان کے کنڈکٹ سے شدید غصے میں دکھائی دیتی ہے۔ ایسا ہی اشتعال اور غصہ ن لیگ اور پی پی کی لیڈر شپ اور حامیوں میں اُن دنوں دیکھنے میں آتاتھا جب(خصوصی طور پر نوے کی دہائی میں) ”ضمیر کی آواز“پر ان کے ارکان فلورکراسنگ کرتے تھے۔ مشرف دور میں پیپلز پارٹی کے دس بارہ جید ارکان پیٹریاٹ بنا کر مشرف کے ہاتھ پر بیعت کر گئے تھے۔ عمران خان اقتدار سے رخصت ہوئے، منحرف ارکان کی عدم اعتماد کی تحریک میں کوئی براہِ راست انوالومنٹ نہیں تھی۔ عمران حکومت کے اتحادیوں نے شہباز شریف، زرداری اتحاد میں شامل ہو کر منحرف ارکان کو قانونی قدغن میں آنے سے محفوظ کر دیا۔

حکومت آج دو ووٹوں کی اکثریت سے برقرار ہے۔ منحرف ارکان کی حیثیت سیفٹی والوکی سی تھی۔ اعتماد کے ووٹ کی نوبت آتی تو جتنے لوگ کم ہوتے وہ ان ارکان میں سے لے لئے جاتے۔ ان کو جیسے بھی ہپنا ٹائز کیا گیا وہ کشتیاں جلا کرحکومتی اتحاد کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر رائے سے سیفٹی والو بند ہو چکا ہے۔اب حکومت کو دو ارکان کی اکثریت حاصل ہے۔ حکومت نے اہم قانون سازی کرنی ہے۔ جس میں پی ٹی آئی کے یہ منحرف ارکان ووٹ دے سکیں گے۔منحرف ارکان کے حوالے سے آج حکومت اور مخالفین کے موقف میں بعدُالمشرقین ہے مگر یہ عارضی ہے۔اگلی حکومت جس بھی پارٹی یا اتحاد کی ہوگی وہ سب سے پہلا کام آئندہ منحرف ہونے والوں کی نااہلیت کی مدت کے تعین کا کرے گی جو تاحیات بھی ہو سکتی ہے اور یہ ایسا بل ہوگاجس کی اپوزیشن بھی حامی ہوگی۔یہ ایک موقع ہوگا کہ شدید اختلافات کے باوجود اس نکتے پر حکومت اور اپوزیشن ایک صف میں کھڑی نظر آئیں گی۔آج بوجوہ منحرف ارکان کو سلامیاں دی جارہی ہیں ورنہ تو ہر پارٹی کسی نہ کسی دور میں فلوکراسنگ کی شدید مخالف رہی ہیں۔ انتخابات کب ہوں گے؟ تحریک انصاف فوری طور پر انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ حکومتی اتحاد آئینی مدت پوری کرنے کیلئے پُر عزم اور مصر ہے۔ ایک دو ووٹوں کی برتری سے ڈیڑھ سال تک حکومت کرنا مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔ حکومتی اتحاد کو 274ووٹ ملے تھے ایک رکن فوت ہو گیا اب حکومت کو دودونوں کی اکثریت ہے۔ دو لوگ کسی بھی وقت کھسک سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ یہ بھی ذہن میں رہے کہ قومی اسمبلی میں ق لیگ کے دو اور جی ڈی اور بی اے پی کے کچھ ارکان بھی موجود ہیں جو تحریک انصاف کے ساتھ تھے۔ان میں سے کچھ یا سب کے سب حکومت کا ساتھ دینے پر آمادہ ہو سکتے ہیں لہٰذا حکومتی اتحاد اگرسخت فیصلے کرنے پر تیار ہو جاتا ہے تو یہ باقی مدت پوری کر سکتے ہیں مگر ملکی معیشت کا استوار ہونا مشکل نظر نہیں آتا۔ شہباز شریف کولوگ بڑا تجربہ کار اور سخت منتظم سمجھتے ہیں۔ ان کوچین کی طرف سے پنجاب سپیڈ کا نام دیا گیا مگر ان کی وہ کارکردگی مرکز میں نظر نہیں آ رہی جو ان کی وجہ شہرت ہے۔ ڈالر کی چڑھاوٹ اور سٹاک مارکیٹ کی گراوٹ رُکنے میں نہیں آرہی۔ اس کی ایک ہی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ عمران خان اقتدار سے جانے کے بعد اپوزیشن لیڈر بن جاتے۔ پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرتے تو سیاسی استحکام معیشت کی مضبوطی کا باعث بنتا مگر عمران خان سڑکوں پر نکل آئے۔ خان صاحب جلسے کر رہے ہیں فوری طور پر انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس سیاسی غیر یقینی کی فضا میں سرمایہ کاری مشکل ہے۔ شہباز شریف کسی بھی طرح سیاسی استحکام قائم کر لیتے ہیں تو معیشت مضبوطی کی طرف گامزن ہو سکتی ہے۔ڈالر دو سو کی حد عبور کرگیا۔حکومت نے فوری طور پر کئی درآمدات بند کردی ہیں جس سے معیشت میں کسی حد تک بہتری تو آئے گی مگر مضبوطی سیاسی استحکام ہی سے ہوگی۔

فوری انتخابات کی حمایت یا مخالفت میں خود حکومتی اتحاد بھی یکسو نہیں ہے۔ مریم نواز فوری انتخابات کی بات یہ کہتے ہوئے کرتی ہیں کہ ہم عمران خان کے جرائم کا ٹوکرا کیوں اُٹھائیں اور پارٹی کا ایک حصہ ان کی ہاں میں ہاں ملا رہا ہے۔ آج کی حکومت کثیر الاتحادی حکومت ہے۔ 174میں سے صرف84ووٹ مسلم لیگ ن کے ہیں۔ پٹرولیم کی قیمتیں بڑھانے سمیت سخت فیصلے کئے جاتے ہیں تو اس کا زیادہ بار مسلم لیگ ن پر آنا ہے۔ فیصلے ڈیڑھ سال کی مدت کو سامنے رکھ کر کئے جائیں گے مگر کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ انتخابات واقعی ڈیڑھ سال بعد ہی ہونگے۔ کل حفیظ شیخ امریکہ سے امپورٹ کئے گئے ہیں۔ٹیکنو کریٹ حکومت کے قیام کی باتیں ہو رہی ہیں۔ جو بندہ حکومتی مشینری کے زور لگانے کے باوجود سینٹ کا الیکشن ہار گیا، وہ پاکستان کا وزیر اعظم بنے گا۔ایساشعبدہ پاکستان میں ہی ہو سکتا ہے۔ ان کی گرفتاری کا خدشہ تھاتوحفاظتی ضمانت دے دی گئی اور ایئر پورٹ سے ان کو تمام تر پروٹوکول میں لے جایا گیا ہے۔ ایسے میں شہباز حکومت باقی اپنی مدت پوری کر لے تو یہ کرشمہ ہوگا۔ عمران خان نے اپنی زندگی کو لاحق خطرے کی بات کی وہ کہتے ہیں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اس پرہر مسلمان کا ایمان ہے اس کے باوجود اپنی زندگی کی ممکنہ حفاظت ضروری ہے۔ وہ جلسوں میں احتیاط ملحوظ نہیں رکھتے۔ لاہور بار کی دعوت پر ایوان اقبال میں بدترین ہُلڑبازی تھی۔ خان صاحب کو بہر حال خود بھی احتیاط کرنی ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے لکھا ہوتا ہے سواری اپنے سامان کی خود حفاظت کرے۔

Categories
منتخب کالم

لیگی قیادت اسٹیبلشمنٹ کے رویے سے نالاں !! ملک میں جلد انتخابات کے لئے کہاں سے دباؤ سے ڈالا جا رہا ہے ؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناقابل یقین حقائق منظر عام پر

لاہور: (ویب ڈیسک) حامد ولید اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” لوگ چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف کامیاب ہوں، ملکی معیشت کو سنبھالا دیں، گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں جس نااہلی اور نالائقی کے سبب ان کے جن مسائل میں گونا گوں اضافہ ہوا، اس کا خاتمہ ہو۔ اس کی ایک مثال حکومت کی جانب سے اس اعلان کا خیرمقدم ہے جس میں پر تعیش اشیاء کی ملک میں درآمد پر پابندی کی خبر کے بعد خاص و عام میں دیکھنے میں آیا ہے۔

ہر کوئی اس فیصلے سے خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک صائب فیصلہ کیا گیا ہے۔ لوگوں کی باتوں سے تو لگتا ہے کہ اگر وزیر اعظم شہباز شریف کل کو یہ اعلان کریں کہ ملکی معیشت کو بھنور سے نکالنے کیلئے اس وقت تیل کی قیمتوں میں اضافہ کئے بغیر چارہ نہیں ہے تو عوام اس کو بھی قبول کرلیں گے اور یہ قربانی دینے کیلئے بھی تیار ہوں گے۔یہی نہیں بلکہ وہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز کے حوالے سے بھی بجلی کے بے دریغ استعمال سے احترا ز کریں گے اور کفائت شعاری اختیار کرکے ملک جس مصیبت میں پھنسا ہوا ہے اس سے نکالنے میں حکومت کی بھرپور مدد کریں گے۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ عوام کسی صورت نہیں چاہتے کہ ایک طرف وہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ مل کر اپنی ضروریات کی قربانی دیں، اپنے بچوں پر خرچ کرنے کی بجائے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کا بوجھ سہیں اور اپنی سواریوں میں مہنگا تیل ڈلوائیں اور دوسری جانب جو لوگ اس معاشی غنڈہ گردی کے ذمہ دار ہیں، وہ کھلے بندوں جلسے جلوس کرتے پھریں اور کبھی امریکی سازش کا بیانیہ بنائیں تو کبھی کسی کو میر جعفر اور میر صادق کے القابات سے نواز کر نوجوان نسل کو گمراہ کرکے اپنے لئے اگلے انتخابات کی راہ ہموار کرتے رہیں اور حکومت کی ملک کو موجودہ معاشی بدنظمی سے نکالنے کے لئے وزیر اعظم شہباز شریف کی ہر کاوش میں کیڑے نکالتے رہیں۔

تھوڑا سا غور کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ لندن میں مسلم لیگ نون کی بیٹھک کا ایجنڈا بھی یہی بات ہوگی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اقتدار سے نکال باہر کرنے کے بعد نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے لئے تو جیل کی کال کوٹھڑیاں ہوں اور عمران خان باہر ہوں تو فرح گوگی کو بھی کوئی ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ لوگ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ حلف سے ختم نبوت کا تذکرہ نکالنے کا ڈھونگ رچا کر کبھی نواز شریف پر جوتی، احسن اقبال پر گولی چلائی جائے اور جاوید لطیف پر لاٹھیاں برسائی جائیں اور مسجد نبوی کے تقدس کو پامال کرنے پر اعلیٰ عدلیہ حکم جاری کرتی نظر آئے کہ کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ ایفی ڈرین کے مقدمے پر حنیف عباسی کو سزا دینے کے لئے رات بارہ بجے عدالت لگائی جائے اور آج جب وہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی لگیں توشیخ رشیدکی درخواست پرانہیں کام کرنے سے روک دیا جائے۔ نون لیگی قیادت کے پیش نظر یہ امتیازی سلوک ایک سوالیہ نشان بن کر پنڈولم کی طرح جھول رہا ہے اوروہ اسٹیبلشمنٹ کے اس رویے سے نالاں ہے۔ دوسری جانب ایک غیر محسوس طریقے سے نگران سیٹ اپ کے قیام کے لئے ایک خاموش پراپیگنڈہ مہم کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ نئے انتخابات کے سوا اب ملک کو آگے لے جانے کا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ اگرچہ یہ بات غیر آئینی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف سے کہا جائے کہ وہ ملک کومعاشی بھنور سے نکالنے پر پوری توجہ مرکوز کردیں، خواہ اس کے لئے اگلے عام انتخابات میں ایک دو سال کی تاخیر ہی کیوں نہ کرنی پڑے لیکن موجودہ ملکی خراب صورت حال اسی بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ان کے ہاتھ مضبوط کئے جائیں تاکہ ملک کے عوام کومعاشی پریشانیوں سے بچایا جا سکے، ملکی معیشت کو سنبھالا دیا جا سکے اور حکومتی نظم و نسق کو کسی قاعدے قانون کا پابندکیا جا سکے۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ کچھ ایسی قوتیں متحرک ہیں جو چاہتی ہیں کہ اگلے آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل ملک میں انتخابات کا ڈھونگ رچا کر اپنی مرضی کا نتیجہ لے کرمن مرضی کی جا سکے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس وقت ہماری اسٹیبلشمنٹ مبینہ طور پر تقسیم کا شکا ر ہوچکی ہے، مشرف کی باقیات ابھی بھی اس قدر مضبوط ہیں کہ موجودہ فوجی قیادت کواپنی ہی کمانڈ میں چیلنجوں کا سامنا ہے۔ یہ محض ایک مفروضہ ہے لیکن اگر ایسی صورت حال کو فرض کر لیا جائے تو ملک میں موجود سیاسی افراتفری کا منظر نامہ کھل کر سامنے آجاتا ہے جوبالآخر معاشی افراتفری پر منتج ہوتا نظر آتا ہے۔ چنانچہ نون لیگی قیادت کو بہت سوچ سمجھ کر آگے چلنا پڑرہا ہے، وہ جانتی ہے کہ اس میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ نہ صرف آئی ایم ایف کے پروگرام کو پورا کرسکتی ہے بلکہ دوست ممالک کے ساتھ مل کر ملک میں تعمیر و ترقی کے نئے سوتوں کے پھوٹنے کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے لیکن کیا نون لیگ کا کام صرف دیگ تیار کرنا رہ گیا ہے کہ جسے بعد میں پی ٹی آئی یا پیپلز پارٹی کی نااہل قیادت آکر چٹ کرے۔ 2013 سے 2018کے درمیان جس جانفشانی کے ساتھ نون لیگ نے پیپلز پارٹی کے ہاتھوں 2008سے 2013کے درمیان ملکی معیشت کابگڑا ہواچہرہ درست کیا تھا اس کو 2018سے 2022کے درمیان پی ٹی آئی نے دوربارہ سے بدصورت بنادیا ہے اور آج جب ہماری اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ نون لیگ آگے بڑھ کر اپنی ساکھ کے بل پر اسے درستگی پر ڈال دے تو اس کے ساتھ ساتھ اس کا یہ اصرار ہے کہ اس کے لاڈلے کو کچھ نہ کہا جائے۔یہ کیسے ہوسکتا ہے؟

Categories
منتخب کالم

عمران خان کو اقتدار سے نکالنے کا فائدہ عمران خان کو ہی ہوا ، مگر مستقبل قریب میں حالات کس کے حق میں جارہے ہیں ؟ سینئر صحافی کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل دانش اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔غیر یقینی‘ تقسیم در تقسیم‘ الزامات کی بوچھاڑ‘ تمام حدود کو پھلانگ کر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے کی تیاری۔ عمران خان کا ایک ہی استدلال۔ الیکشن کراؤ۔ الیکشن ہوجاتے ہیں۔ اور وہ ہار جاتے ہیں تو وہ نتائج نہیں

مانیں گے۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ 2018ء کے الیکشن سے پہلے عمران بہت پاپولر تھے۔ ان کے کندھے پر کوئی بوجھ نہیں تھا۔ کوئی الزام نہیں تھا۔ وہ ’’مسٹر کلین‘‘ کے طور پر میدان میں تھے۔ پھر بھی انکے سارے جوڑ توڑ کیے گئے۔ انہی اقتدار میں لایا گیا،اس وقت انہوں نے مجموعی پڑنے والے ووٹوں کے 32 فیصد ووٹ لئے‘ جبکہ ان کے صف آرا تمام سیاسی جماعتوں کے ووٹ گن لیں تو یہ 68 فیصد تھے۔ اب دوسرا منظر دیکھیں۔ عمران الیکشن جیت جاتے ہیں تو کیا ان کے خلاف صف آرا اپوزیشن انہیں چین سے بیٹھنے دے گی‘ ہرگز نہیں۔ معاملہ وہی دوریوں کا ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف اختلاف کا نہیں دشمنی کا ہے۔ معاملات ذاتیات تک آن پہنچے ہیں۔ سابق وزیراعظم تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ ان کو منظر سے ہٹانے کیلئے سازش ہورہی ہے۔ کم و پیش اسی قسم کی بات کررہے ہیں، اسی طرح کے خدشات کا اظہار کررہے ہیں، جو بینظیر بھٹو نے پاکستان آنے پر کئے تھے۔ انہوں نے تو ان چار شخصیات کے نام بھی افشا کردیئے تھے ،جن کے متعلق انہیں خدشہ تھا کہ وہ انہیں راستے سے ہٹانے کیلئے سازش کے کردار ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کی 74 سالہ تاریخ ایسے نازک‘ حساس اور غیر معمولی اہمیت کے سوال ہمیشہ ذہنوں میں رینگتے رہے ہیں۔ جن کے جوابات کا کھوج نہیں لگایا جاسکا۔ عمران خان ان خطرات کیلئے کوئی باقاعدہ ثبوت تونہیں دے رہے۔ نہ کسی کڑی سے کڑی کو ملارہے ہیں‘ بلکہ اپنے اقتدار سے علیحدگی کیلئے امریکیوں کو ذمہ دار قرار

دینے کے بیانیے کی طرح اس کے لئے بھی بس بات سے بات کررہے ہیں‘ وہاں تو ان کے پاس ایک خط ہے جسے وہ اپنے موقف کی دلیل بنارہے ہیں، یہاں انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ مکن ہے وہ ایسے خطرات منڈلاتے دیکھ رہے ہوں۔ یہ ان کے اندازے بھی ہوسکتے ہیں اور وسوسے بھی۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ وہ سابق وزیراعظم ہی نہیں عوام کی ایک پسندیدہ شخصیت ہیں۔ اس لئے بہرطور پر حکومت کو ان کی حفاظت پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ وہ ملک کے چند سرکردہ لیڈروں میں سے ایک ہیں۔ وہ خود کو اتنا غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں کہ کھانے کچھ ملا دینے کے خوف کا بھی اظہار کررہے ہیں ۔ یہ اندیشہ خطرات کی یہ علامتیں خوفناک ہیں۔ عمران خان بلاشبہ ہمارا اثاثہ ہیں۔ اس لئے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کو فول پروف حفاظت فراہم کرے۔ صورتحال اب اس موڑ پر آگئی ہے کہ حکومت بھی یا تو مشکل معاشی فیصلے کرے اور ڈوبتی معیشت کو کنوئیں سے نکالنے کیلئے اقدامات کرے‘ لیکن اگر وہ یہ سمجھتی ہے کہ یہ مشکل فیصلے اس کو کسی سیاسی طور پر غیر یقینی کے اندھیرے غار میں دھکیل دیں گے تو پھر اس کے سامنے یہی آپشن رہ جاتا ہے کہ وزیراعظم اسمبلیاں تحلیل کردیں اور نئے انتخابات کا اعلان کردیں۔ ان کے اس اقدام سے مسلم لیگ (ن) اس مشکل صورتحال سے باہر نکل آئے گی۔ مسلم لیگ (ن) اب پنجاب اور سرحد میں جلسے شروع کررہی ہے۔ اس کے پیچھے تو

ان کی یہ حکمت عملی تو صاف دکھائی دے رہی ہے کہ عمران خان جس طوفانی انداز سے موبلائز کرتے جارہے ہیں۔ اس کے لئے میدان خالی نہ چھوڑا جائے۔ ان کے ہر سوال کا جواب دیا جائے اور یہ بھی جلسوں کا جواب جلسوں سے دیں۔ تاکہ اس طرح وہ سپورٹرز کو متحرک اور سرگرم رکھ سکتے ہیں۔ عمران خان دوسری طرف جہاں اینٹی امریکن بیانیے کو تقویت دینے کیلئے تمام ممکنہ کوششیں کررہے تھے وہاں انہوں نے ایک اور جذباتی بات کہہ ڈالی ہے اور وہ یہ کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ وہ برملا کہہ رہے ہیں کہ ان کو منظر سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سنجیدہ بات تو یہ ہے کہ اگر عمران خان کو واقعتاً ایسی اطلاعات یا شواہد و ثبوت موجود ہیں جن کی وجہ سے وہ ان خطرات کی بو سونگھ رہے ہیں تو انہیں فی الفور شیئر کرنے چاہئیں تاکہ تمام حکومتی مشنری مل کر اس بات کا سدباب کرے اور انہیں فول پروف حفاظت فراہم کرے۔ اب شہباز شریف کیلئے بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپشن کم ہوتے جارہے ہیں۔ اگر انہیں فیصلے نہیں کرنے تھے تو یہ ذمہ داری کیوں سنبھالی اور پھر عمران کو ہٹاکر انہیں کیا ملا۔ اگر عمران کو اقتدار سے ہٹانے کا کسی کو فائدہ پہنچا ہے تو وہ عمران خان ہی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ایک ایک دن انتہائی اہم اور ہر لمحے پیچھے کی طرف جارہے ہیں‘ بلکہ معیشت کمزور ہوتی جارہی ہے۔ یہ صورتحال بالآخر ہمیں ڈیفالٹ کی طرف لے جائے گی جس کے نتائج بہت خطرناک ہوں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ شہباز شریف

وزیراعظم تو بن گئے لیکن حقیقی فیصلے یا تو لندن میں نواز شریف کے ہاتھ میں ہیں یا پھر آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے مرہون منت ہیں۔ شہباز شریف کو وزیراعظم اس لئے بنایا گیا تھا کہ وہ کچھ کر دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ لیکن وہ کیا کریں کہ ان کے ہاتھ اور پاؤں باندھ کر رکھ دیئے گئے ہیں اور توقع یہ کی جارہی ہے کہ وہ فیصلہ بھی نہ کریں اور کسی جادوئی چراغ سے ملک کو مشکل سے نکال لیں۔ اب عمران خان کی طرح یہ نہ کہیں کہ عمران نے کیا ٹھیک کیا اور کیا غلط‘ بلکہ اب جبکہ ذمہ داری لی ہے تو پھر فیصلہ کریں۔ دو ٹوک انداز میں فیصلہ کریں۔ اس وقت جو بھی صورتحال ہے اس سے تمام حکومتی جماعتیں بالعموم اور مسلم لیگ (ن) بالخصوص اس صورتحال کی ذمہ دار ہیں اور اگر پاکستان ڈیفالٹ کرتا ہے تو تمام سیاسی جماعتیں اس سے بری الذمہ نہیں ہوسکتیں۔ ایک ایک دن اور لمحہ قیمتی ہے‘ اگر فیصلے نہیں کرنے تھے تو پھر عمران کی حکومت کیوں ختم کی۔ یہ باتیں تو کوئی ڈھکی چھپی نہیں تھیں کہ ملک معاشی بحران کی دلدل میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ اور خود حکومت میں آن بیٹھے اب معاملہ ن لیگ‘ پیپلز پارٹی یا مولانا فضل الرحمن کانہیں اور نہ ہی یہ مسئلہ تن تنہا پی ٹی آئی کا ہے‘ بلکہ یہ من حیث القوم پاکستان کا ہے۔ ایسا نہیں ہو کہ اپنے اپنے سیاسی فائدے اور مفادات کے چکر میں سب مل کر پاکستان کا نقصان کر بیٹھیں۔ افسوس یہ ہے کہ ایسا ہی ہوتا نظر آرہا ہے۔ لندن میں کئی دن کی مشاورت کے بعد بھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ اگر فیصلے نہیں کرنے تو حکومت چھوڑ دیں۔ وقت ضائع نہ کریں۔ یہ دو دو وزرائے اعظم اور دو دو وزرائے خزانہ والا کھیل نہیں چل سکتا۔ یہ بات تو صاف نظر آرہی تھی کہ عمران کو نکالنے کے بعد صورتحال بہت گھمبیر ملے گی اور بہت ہی قلیل مدت میں اتنا کثیر الجماعتی اتحاد معاملات کو نہیں سنبھال سکے گا۔ یہ بات صاف نظر آرہی ہے کہ یہ حکومت ایسا نہیں کرسکے گی۔ کیونکہ بڑے فیصلے کرنے کیلئے نہ نواز شریف‘ نہ زرداری اور نہ مولانا فضل الرحمن تیار ہیں۔ اگر شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا تھا تو انہیں وہی شہباز شریف ہی رہنے دیتے جو کم وقت میں بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Categories
منتخب کالم

نون ، جنون اور اسٹیبلشمنٹ سبھی پریشان : جلد کیا ہونیوالا ہے ؟ اندر کے حالات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ناصر خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔بات اگر صرف ’’جب آئے گا عمران ‘‘ یا ’’میاں دے نعرے وجنے ہی وجنے نیں‘‘ تک ہوتی تو شاید پاکستان ان اوکھے ویلوں سے آسانی سے باہر نکل آتا۔مگر سپریم کورٹ کے فیصلے نے بات کو اور بھی الجھا دیا ہے۔

دنیا بھر میں اربن مڈل کلاس کسی بھی ملک میں سیاست میں جو رجحانات Trends لاتی ہے وہ کبھی بھی آئین ۔جمہوریت اور ریاست سے بڑے نہیں ہوتے۔ ابھی ایک فارن کوالی فائیڈ ڈاکٹر صاحب کا پیغام آیا Whatsapp پر ۔ جی ہمارا لیڈر انقلاب لا رہا ہے۔ اس وقت نون۔۔ جنون اور اسٹیبلشمنٹ سبھی پریشان ہیں۔ میاں نواز شریف عدم اعتماد کے خلاف تھے جب اداروں نے سابق حکومت کی بغل سے بیساکھیاں نکال لینے کا فیصلہ کیا۔ کس طرح اتحادی ملتے گئے۔۔کھیل آگے بڑھتا گیا۔ جنرل ضیاء نے جونیجو کی حکومت کو 88 میں صرف 3 سال کے بعد فارغ کردیا۔ ایک حادثے نے جنرل صاحب کو منظر سے ہٹا دیا۔ مگر تب سے اب تک ہر وزیر اعظم اپنے فیصلوں میں اتنا آزاد نہیں ہوتا۔۔۔ جتنا آئین انہیں آزاد دکھاتا ہے۔ بے نظیر سے نوازشریف تک اور پھر شریفس سے خان تک۔پنڈتوں کی ایک بہت بڑی تعداد پی ڈی ایم کو سمجھا رہی تھی کہ خان گورننس اپنے ہی بوجھ تلے دب جائے گی۔ عصر کے وقت کیوں روزہ توڑ رہے ہو؟ مگر آصف زرداری ۔۔۔ چھوٹے میاں صاحب اور مولانا۔۔۔ پروین شاکر کے اس شعر کی تفسیر بنے ہوئے تھے۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا۔۔۔ میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا۔ بادباں کھل گیا ۔۔ ۔ بڑی مشکل سے ۔ مگر خان کا اندازِ سیاست ؟ وزیر اعظم ہائوس سے نکلنے کے بعد اور نکلنے سے پہلے ۔ایک ایسا بیانیہ بنانا۔۔۔ جس سے امریکہ اور فوج ہر دو قسم کی اسٹیبلشمنٹ حیران بھی ہے اور پریشان بھی ۔ بات صرف یہاں تک ہی نہیں

رکی ۔ پنجاب کا ذکر پھر کبھی سہی مگر اپنے عہد میں تاریخی قرضے لے کر ۔۔۔ وزیر اعظم نے گورننس کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ سنجیدہ پنڈتوں اور اکیڈیمکس کی بات الگ رکھیں۔ یہاں اچھا خاصا پڑھا لکھا مڈل کلاسیا۔۔ ۔ صرف عمران کی وجہ سے ریاست کے ان تضادات کی بات کرنے لگا ہے جو 75 سال سے ہیں۔ ان گرہوں کو کھولنے میں شاید ہماری عمریں بیت جائیں۔مثلاً ہم امریکہ کے غلام کیوں ہیں؟ میں آپ کو غلامی سے آزاد کروا کر دم لوں گا۔پنڈت تو جانتے ہیں کہ یہ صرف بڑھک ہے مگر غلام ابن غلام عوام کے لیے میلوڈی میوزک ہے۔ ہمارے ہاں فوج یا اسٹیبلشمنٹ کا کردار سیاسی اور سول گورننس میں ہوتا ہوگا۔مگر اسکی بھی ایک تاریخ ہے اور ایک پس منظر ہے۔ یہ سوال بڑا پرانا ہے کہ بھارت اور پاکستان اکٹھے آزاد ہوئے۔۔۔دونوں کی تقدیر اور تدبیر اتنی جدا کیوں ہے؟ ایک نیا سوال بھی ہے کہ بنگلہ دیش ہم سے 1971 میں جدا ہوا۔۔۔ وہ ہم سے اتنا آگے کیوں اور کیسے نکل گیا؟ وہ سب جو تحریک عدم اعتماد لائے اُن کا ماضی اور گورننس بہت تابناک نہیں مگر اس سے یہ کہاں طے ہوتا ہے کہ آپ آئین کی خلاف ورزی کریں۔ آپ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آجائے تو آپ آئین توڑ کر اسمبلیاں بھی توڑ دیں۔ جب عدالت آپ کو درست کرے تو آپ اس پر بھی الزام دھر دیں۔ میر جعفر اور سراج الدولہ کی مثالیں دیکر ریاست اور اداروں کے خلاف بیانیہ کیا رنگ لائے گا؟

سنجیدہ پنڈتوں کو پتہ ہے۔ ادارے جانتے ہیں۔۔ مگر وہ مڈل کلاس اور سوشل میڈیا پر رہنے والی کلاس کو تلخ زمینی حقائق کا اندازہ نہیں۔ عمران کو اپنی فین فالونگ کا اندازہ ہے ۔ اس لیے وہ ہر صورت نومبر میں ایک اہم تعیناتی خود کرنے کے لیے مسلسل ہر طرف فائرنگ کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ (نون) اور پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی بجائے قدم اٹھانے سے بھی ڈر رہی ہے وہاں عمران خان کو جلدی ہے۔ بہت جلدی۔ کیوں؟ اسے کہنا نومبر آرہا ہے۔ الیکشن کمیشن عمران کے مطابق جانبدار، امریکہ سازشی ، مخالف سیاستدان ، چور اور عدلیہ ان کے خلاف، ادارے چلانے والے میر جعفر اور میر صادق ۔ بات سیاسی تقسیم سے دور بہت دور نکل گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا خیال ہے کہ اگر ہم نامقبول فیصلے کر لیتے ہیں ۔ آئی ایم ایف کی بات مان لیتے ہیں ۔ اگلی قسط مل جاتی ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے اس کا ووٹ بنک سکڑ جاتا ہے اور ایسے میں اسٹیبلشمنٹ عمران کی جارحانہ بائولنگ کی تاب نہیں لا پاتی۔ 2022 ختم ہونے سے پہلے حکومت کو الیکشن کروانے پڑ جاتے ہیں تو حکومت کی سیاسی موت واقع ہو جائے گی۔ اس ساری صورتحال کو حکومت ،عمران اور اسٹیبلشمنٹ تینوں جانتے ہیں ۔ حکومت کے اندر اس پر شدید اختلاف ہے کہ یہ سب فیصلے ہم کریں یا نگران حکومت سے کروائیں۔ نومبر تعیناتی بھی نگرانوں کو کرنے دیں۔ حکومت ہی کا ایک حصہ اس خیال کا حامی ہے کہ مشکل فیصلے کر لیں۔ آئی ایم ایف سے اگلی قسط لے لیں اور دسمبر تک عوام کو کچھ ریلیف کسی اور طرح دیکر یہ مشکل وقت گزار لیں اور الیکشن 2023 میں کروائیں۔ اسٹیبلشمنٹ اس وقت پریشان ہے، کنفیوز ہے اور اگر میں غلط نہیں تو قدرے تقسیم بھی ہے۔ مگر ایک معتبر پنڈت نے اسٹیبلشمنٹ کی ایک طاقتور شخصیت کو مشورہ دیا کہ اس طرح کی غیر جانبداری آپ کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے اور مزید نقصان پہنچائے گی۔ فرض کریں آپ فوری الیکشن کروا لیتے ہیں ، ایک منقسم مینڈٹ آتا ہے عوام کی طرف سے تو آپ کیا کریں گے؟ عمران کو جن وجوہات پر اقتدار سے باہر کیا گیا (امریکی سازش نہیں) وہ پھر آگیا تو ؟ مسلم لیگ (نون) اور اتحادی جیت کر حکومت بنا لیتے ہیں۔ عمران خان دھرنے اور احتجاج کے لیے پھر نکل پڑتے ہیں تو کیا آپشن ہوگا؟ پنڈت اور مین فرام اسٹیبلشمنٹ میں جو گفتگو ہوئی اس میں سارے آپشن ڈسکس ہوئے۔ وہ لوگ جنہیں انقلاب کی اے بی اور سی کا بھی نہیں پتہ پاکستان میں انقلاب کے نعرے لگا رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت شدید خطرات کی زد میں ہے۔ یہ خطرے باہر سے نہیں اندر سے ہیں۔ پاکستان کی مستقل کیمسٹری کیا صرف نعروں اور جلسوں سے بدلی جا سکتی ہے؟ عوام میں تالی بج رہی ہے اور کہیں خطرے کی گھنٹیاں ۔ کاش کوئی عمران کو سمجھا پاتا۔

Categories
منتخب کالم

پاکستان میں ٹک ٹاکرز کا خوفناک سیلاب کیسے معاشرے کا بیڑہ غرق کررہا ہے ؟ اصل حالات بتا دیے گئے

لاہور (ویب ڈیسک ) نامور کالم نگار آصف محمود اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ملک ماحولیات کے خطرے سے دوچار ہے ، درجہ حرارت 47 کو چھو رہا ہے اور مارگلہ میں جنگل کو جلا کر ٹک ٹاک ویڈیوز تیار کی جا رہی ہیں۔کیا اس سے بڑی بد بختی بھی ہو سکتی ہے

کہ جنگل کو آگ لگا کر مٹک مٹک کر ویڈیوز بنائی جائیں؟ سی ڈی اے نے تھانہ کہسار میں درخواست جمع کرائی ہے کہ اس ٹک ٹاکر کے خلاف لینڈ سکیپ ایکٹ ، فارسٹ ایکٹ ، وائلڈ لائف ایکٹ اور انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے لیکن اس سے کیا ہو گا؟ یہ قوانین نہیں ، یہ تو آثار قدیمہ کا فضلہ ہے جو تعفن دے رہا ہے۔ فرض کریں ان تمام قوانین کے تحت مقدمہ درج ہو جاتا ہے تو کون سا طوفان آ جائے گا؟ قانون کے اس کاسے میں اس جرم کی کل سزا یہ ہے کہ چند ہزار جرمانہ کر دیا جائے یا چند ماہ قید کی سزا سنا دی جائے۔یعنی ملزمان گرفتار بھی ہو جائے تو اسی طرح مٹکتے ہوئے ضمانت پر گھر چلے جائیں جیسے وہ آگ کے سامنے مٹک کر ٹک ٹاک بنا رہے تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس حرکت پرشرمندہ ہونے کی بجائے ڈولی صاحبہ فرما رہی ہیں کہ انہوں نے یہ و یڈیو بنا کر کچھ غلط نہیں کیا۔ یہ وطن عزیز کا قانون ہے ، جو لکھنے والوں نے برائے وزن بیت لکھ رکھا ہے۔یہ آسٹریلیا کا قانون تھوڑی ہے جہاں ایسے جرم کے لیے عمر قید کی سزا ہو۔امریکہ کی ریاستوں میں بھی اس سلسلے میں سخت قانون ہے اور ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ کسی سے غلطی سے آگ لگ گئی تو اسے بھی سزا دی گئی ۔ وطن عزیز میں البتہ معاملہ دوسرا ہے ۔عا م سا کوئی جنگل تو دور کی بات ہے ہمارے پاس اپنے

نیشنل پارکس کو بچانے کے لیے بھی ڈھنگ کا کوئی قانون نہیں۔حالت یہ ہے کہ جنگل جلا کر راکھ کر دینے والے کے لیے معمولی سی سزائیں ہیں البتہ ریلوے پر ایک انچ کا کنکر پھینکنے کے سزا یہاں آج بھی عمر قید ہے۔ یہ معاملہ قانونی نہیں ، یہ سماجی المیہ بھی ہے۔ اخلاقی بحران ہمارے معاشرے پر بیت چکا ہے اور ہمیں اس کی خبر ہی نہیں۔اہل علم سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک کو فتنہ قرار دے رہے ہیں کہ اپنی بعض خوبیوں کے باوجود اس میں شر اور فتنے کا پہلو زیادہ غالب ہے۔ لیکن دیکھا جائے توبحران اخلاقی ہے اور سوشل میڈیا صرف اس بحران کی ایک عملی تصویرہے۔ جہاںنوجوان ہمیں اپنی حرکتوں سے بتا رہے ہیں کہ اس اخلاقی المیے کی نوعیت کتنی شدید ہے۔ خرابی سوشل میڈیا میں نہیں ، معاشرے میں ہے اور سوشل میڈیا اس خرابی کا صرف ایک ابلاغی عامل ہے ۔ یہاں سیاست زیر بحث آئے تو بد زبانی اور جہالت پکار پکار کر کہہ رہی ہوتی ہے کہ جسے شعور سمجھا جا رہا ہے یہ بد تمیزی اور جہالت کا کشتہ زمرد ہے اور یہاں فنون لطیفہ تک بات پہنچے تو یہ ذوق اور اخلاق کے بحران کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔یہاں سیاسی ٹرینڈز چلیں یا ٹک ٹاک پر تفنن طبع ہو رہی ہو، یہ سب اسی اخلاقی بحران کی عملی شکل ہیں اس کے سوا کچھ نہیں۔ ٹک ٹاکرز کو ریٹنگ چاہیے،اس کے لیے وہ کسی بھی حد سے گزر سکتے ہیں۔ یہ المیہ سوشل میڈیا کا نہیں ، معاشرے کا ہے جس کی کوئی سمت ہی نہیں۔

یہ خرابی صرف سوشل میڈیا کی ہوتی تو مین سٹریم میڈیا بھی اسی ریٹنگ کے لیے مجنوں نہ ہوا پھرتا۔ ریٹنگ کی خاطر جس ہمارے میڈیا میں جس بد ترین قسم کا پاپولزم در آیا ہے اور جس احمقانہ طریقے سے سماج کی تہذیب کی بجائے سماج میں موجود تعصبات کی فالٹ لائن کو نمایاں کیا جاتا ہے ، یہ ہمیں بتاتا ہے کہ بحران صرف سوشل میڈیا کا نہیں ، یہ بحران اخلاقی ہے اور ہمہ گیر ہے۔ایک ٹک ٹاکر اور کسی سینیئر تجزیہ کار میں فرق واردات کا نہیں طریق واردات کا ہے۔مقصود دونوں کا ایک ہے: ریٹنگ۔ہر حال میں اور ہر قیمت پر۔ چنانچہ کوئی مارگلہ میں آگ لگاتا ہے تو کوئی معاشرے میں۔ یہ المیہ صرف نا خواندہ یا نیم خواندہ لوگوں کا نہیں ہے ۔ آپ بظاہر اعلی تعلیم یافتہ لوگوں سے بات کر کے دیکھ لیجیے ، معلوم ہو گا ڈگریوں کے بوجھ کے علاوہ کچھ ایسا نہیں جس کے نام علم کی تہمت دھری جا سکے۔عصری سیاست کا کچھ علم ہے نہ سماجیات کا۔بس کمر دہری ہے اور اوپرڈگریاں لدی ہیں۔ چنانچہ بحران شدید تر ہوتا جا رہے ۔ معاشرے میں تربیت کا کوئی ادارہ باقی نہیں رہا۔ پہلی درس گاہ والدین ہوتے ہیں ، ان کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ دوسری درسگاہ مسجد کا منبر تھا ، نوجوان اس درس گاہ سے اور داعی ان نوجوانوں سے دور ہو چکا ۔ صاحب منبر اب کشمکش اقتدار کا بھی حریف ہے اور تعصبات کا بھی، خیر خواہی کہاں سے آئے؟ سماجی رویے تو بننے اور بگڑنے میں وقت لگتا ہے ۔ اصلاح کا عمل اب صبر طلب ہے ۔

اس ضمن میں پہلے قدم کے طور پر ریاست کو نصاب پر توجہ دینا ہوگی۔ ہمیں سماجیات کو بطور مضمون نصاب میں شامل کرنا ہو گا تا کہ بچوں کو بتایا جائے کہ معاشرے میں رہنے کے آداب کیا ہوتے ہیں ، اختلاف رائے ہو جائے تو اس کا اظہار کس شائستہ پیرائے میں کرنا ہے،ایک دوسرے سے ہمارا برتائو کیسا ہونا چاہیے ، سڑک پر چلنے کے آداب کیا ہیں ، گاڑی کیسے پارک کی جاتی ہے ، بڑوں سے بات کیسے کی جائے گی ، حفظ مراتب کیا ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ایک سماج میں رہنے کے یہ آداب جب تک بچوں کے لاشعور میں نہیں ڈالے جائیں گے ، یہ المیہ ہماری جان نہیں چھوڑے گا۔ ہمیں انسانوں کا مہذب سماج بننے کے لیے کم از کم ایسی تین نسلیں چاہییں جنہیں صرف پیدا نہ کیا گیا ہو بلکہ ان کی تربیت بھی کی گئی ہو۔اس کے بعد جا کر شاید ایک ایسامعاشرہ تشکیل پا سکے گا جسے ایک مہذب سماج کہا جا سکتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو سیرت النبی ﷺ بطور مضمون نصاب میں شامل کر کے مرحلہ وار اگر اس انداز سے پڑھا دیں جیسے پڑھانے کا حق ہے اور بچوں کو بتائیں کہ رسول اللہ ﷺ کا لوگوں سے رویہ کیسا ہوتا تھا ، وہ بچوں اور عورتوں سے کیسے پیش آتے تھے ، لین دین میں کیسے تھے ، کاروبار کیسے کرتے تھے ، غیر مسلموںسے وہ کس حسن سلوک سے پیش آتے تھے ، پرندوں اور جانوروں سے ان کی شفقت کا عالم کیا تھا ، درختوں اور پودوں سے انہیں کتنی محبت تھی ، تو یہ سماج تبدیل ہو جائے گا۔ ورنہ سامنے کا سچ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ تباہ ہو چکا ہے۔ بس یہ ہے کہ مارگلہ میں لگی آگ ہمیں دکھائی دے رہی ہے لیکن جو آگ سماج ا ور اس کی قدروں کو لگی ہے وہ نظر نہیں آ رہی۔

Categories
منتخب کالم

ترقی یافتہ ممالک میں ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری میں شامل ہونے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ؟ اوریا مقبول جان کا مختصر مگر زبردست تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔دُنیا کے کسی بھی جمہوری ملک میں ایک پارٹی کو چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شامل ہونا انتہائی ناپسندیدہ حرکت ہے، اور یہ حرکت تو ناقابلِ برداشت ہے کہ آپ اسی پارٹی میں رہ کر اس کے مفادات کے خلاف کام کریں۔

ایسے افراد کو عالمی سیاست میں “Turn Coat” یعنی بے اُصول، نمک حرام، غدار اور زمانہ ساز جیسے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا موجودہ فیصلہ اس معاملے میں اس لئے تاریخی ہے کہ اس نے ایسے بے اُصول ممبرانِ اسمبلی کی رائے کو بھی اس قابل نہیں سمجھا، کہ اُسے گِنا جائے۔ لیکن دُکھ کی بات یہ ہے کہ گذشتہ چند مہینوں سے میرے ملک کے لاتعداد دانشور، صحافی اس بے وفائی کو ’’ضمیر کی آواز‘‘ کہہ کر اس کا دفاع کرتے رہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ یوں تو وفاداریاں بدلنے والے سیاستدانوں کے خلاف ہے لیکن ایک زوردار طمانچہ ان دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کے منہ پر بھی ہے جو اس جرم کی وکالت کرتے تھے۔

Categories
منتخب کالم

سعودی عرب میں کوئی تحریری آئین نہیں اسکے باوجود وہاں بہترین طریقے سے نظام کیسے چلایا جارہا ہے ؟ایک زبردست معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ڈاکٹر توصیف احمد خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔شیخ عبد الوہاب نے 1811 میں حجاز کے علاقہ میں وہابی تحریک کا آغاز کیا۔ شاہ ابن سعود نے 1882 میں سعودی امارات کی بنیاد رکھی ، یوں خلافت عثمانیہ تاریخ کی کتابوں میں کھو گئی۔ شاہ سعود نے 1953ء تک حکومت کی۔

گزشتہ صدی کے وسط میں سعودی عرب میں تیل نکل آیا ، یوں ترقی کا سفر شروع ہوا۔ موجودہ حکمراں شاہ سلمان نے اپنی بیماری کے دوران اپنے صاحبزادہ شہزادہ محمد بن سلمان کو جانشین مقررکیا۔ اس صدی کے آغاز سے ہی سعودی معیشت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، تیل کی پیداوار کم ہوگئی۔ امریکا کے سائنسدانوں نے تیل کا متبادل محلول تیار کرنے پر توجہ دینا شروع کی۔ سعودی عرب میں کوئی تحریری آئین نہیں ہے۔ بادشاہِ وقت کے احکامات روایات کا کام دیتے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی ترقی کے لیے بہت بنیادی اقدامات کیے۔سعودی عرب کی آبادی 31.7 ملین افراد پر مشتمل ہے جن میں سے 11.5 ملین افراد دیگر ممالک سے سعودی عرب آئے ہیں۔ موجودہ حکومت نے تعلیم پر خاطر خواہ توجہ دی ہے۔ سعودی عرب کا تعلیمی بجٹ 53.4 بلین ڈالر ہے جو مسلمان ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔اس وقت سعودی عرب میں خواندگی کا تناسب 99 فیصد ہے جس میں مردوں کا تناسب 96 فیصد اور خواتین کا تناسب 91.73 فیصد ہے۔ سعودی عرب کے شعبہ تعلیم کے بارے میں دستیاب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرائمری اسکول میں جانے والے بچوں کی تعداد 3.8 ملین، سیکنڈری اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد 1.8 ملین اور اعلیٰ تعلیم کے مختلف شعبوں میں زیر ِ تعلیم طلبہ کی تعداد 3.6 ملین بتائی گئی ہے۔اگرچہ شہزادہ محمد سلمان سیاسی اصلاحات خاص طور پر ذرائع ابلاغ کی آزادی کے تصورکے حق میں نہیں ہیں مگر درمیانہ طبقہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کی

خواہشات کی تعمیل کے لیے اصلاحات کی ہیں۔ سعودی خواتین تعلیم حاصل کرنے اور زندگی کی دوڑ میں مردوں کے شانہ بشانہ شامل ہونے کے لیے کوشاں ہیں۔سعودی حکومت نے پہلے تو خواتین کے تنہا گھر سے نکلنے کے حق کو تسلیم کیا اور خواتین کو تنہا گاڑیاں چلانے کی آزادی دیدی۔ سعودی حکومت نے خواتین کو بغیر محرم کے عمرہ اور حج کرنے کی بھی اجازت دیدی ، یوں خواتین کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ختم ہوئی۔ تعلیم اور معیشت میں ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجہ میں متوسط طبقہ کا حجم بڑھنے لگا۔جنرل آرگنائزیشن آف سوشل انشورنس(General Organization of Social Insurance) کے تخمینہ کے مطابق سعودی عرب میں درمیانہ طبقہ کا سائزکل آبادی کا 30فیصد تک ہوگیا ہے۔ اب سعودی عرب صرف تیل برآمد نہیں کرتا بلکہ اشیائے صرف، ادویات اور دیگر مصنوعات بھی برآمد کی جاتی ہیں۔شہزادہ محمد نے بیرونی سیاحوں کی کشش کے لیے بنیادی اقدامات کیے۔ دارالحکومت ریاض اور جدہ میں سینما اور کیسینو قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔ بھارت کے معروف اداکاروں کے شو وہاں منعقد ہوئے۔ ان شو میں ہال کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔ مردوں سے زیادہ خواتین نے ان ہیروز کی پرفارمنس کو دیکھا۔ سعودی حکومت ملک میں فلمی صنعت کے قیام کے لیے

کوشش کر رہی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع اور نشر ہونے والے مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور بھارت کے درمیان کئی شعبوں میں تعاون کے لیے نئی راہیں کھل رہی ہیں اور اسٹرٹیجک شراکت داری کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔سعودی عرب میں سینما گھروں کو کھلے چار سال ہوچکے ہیں اور بالی وڈ (بمبئی کی فلمی صنعت) سے تعلق رکھنے والی بڑی شخصیات کو سعودی عرب کے دوروں کی دعوت دی جارہی ہے۔ سعودی حکومت کا منصوبہ ہے کہ یہ ملک فلم کا ایک بین الاقوامی مرکز بن جائے۔ سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداﷲ بن فرمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے سماجی و اقتصادی حالات کے ویژن 2030ء کے مطابق سعودی خاندانوں کی ثقافتی اور تفریحی مقاصد پر اپنی خرچ ہونے والی آمدنی 2.9 فیصد سے بڑھا کر 6 فیصد تک لانے کا ہدف طے ہوا ہے۔سعودی حکومت مقامی فلم انڈسٹری کی ترقی کے لیے فراخدلانہ انداز میں رقم خرچ کررہی ہے اور اس کے ساتھ نئے سینما ، کنسرٹ ہال ، کھیلوں کے میدان اور تفریحی مقامات کے قیام میں مصروف ہے۔ سعودی وزارت ثقافت نے 2020ء میں فلم کمیشن قائم کیا تھا تاکہ فلم انڈسٹری کو معیشت کا بڑا حصہ بنایا جائے۔ سعودی عرب میں وڈیو مارکیٹ میں 2015ء سے اضافہ ہورہا ہے۔ اس میں سالانہ 2.4 فیصد اضافہ ہورہا ہے۔توقع ہے کہ 2025تک یہ بڑھ کر 318.2 ارب ڈالرز جب کہ 2030تک 410.6 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ ماہرین کا تخمینہ ہے کہ بھارت کے ساتھ فلم انڈسٹری میں تعاون

کے ذریعہ دنیا بھر میں فلم کا ورلڈ کلاس سینٹر بن جائے گا۔ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی 2030 تک سعودی عرب کی جی ڈی پی میں 6.9 ارب ڈالر کا حصہ بن جانے کی توقع ہے۔سعودی عرب میں گزشتہ صدی کے اختتام تک قدامت پرست بادشاہت کا دور تھا مگرگلوبلائزیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کے ساتھ سعودی عرب میں سوچ کے نئے زاویے ابھرنے لگے۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے سعودی معیشت بھی متاثر ہوئی۔ ماضی میں برسر اقتدار آنے والے حکمرانوں نے تعلیم ، صحت اور مواصلات کے شعبوں کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا تھا۔ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے بجٹ میں خسارہ پیدا ہونے لگا تھا اور اس بات کو محسوس کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کو اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ شہزادہ محمد نے ولی عہد کا عہدہ سنبھالتے ہی بنیادی اقدامات کیے۔سعودی عرب میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے لبرل رویہ اختیار کیا اور سیاحت اور تفریح کے شعبوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی ، یوں ثقافتی شعبہ میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ شہزادہ محمد کے ان اقدامات کے بارے میں دنیا بھر میں مختلف قسم کی رائے پائی جاتی ہے۔ پاکستان میں وہ گروہ جن کا گزارہ 50ء ، 60ء اور 70ء کی دہائیوں میں سعودی عرب سے ملنے والی امداد پر ہوتا تھا وہ ان پالیسیوں سے زیادہ خفا ہیں۔ ان گروہوں کا رویہ ہمیشہ ہی رجعت پسندانہ رہا ہے اور یہ معاشرہ کی تبدیلی کی تحریک کو اسلام دشمن جانتے ہیں۔ ان میں سے بعض نے ابلاغ عامہ کے جدید ادارے فلم، تھیٹر اور اسپورٹس وغیرہ کی اہمیت سے انکارکیا۔ ایک رجعت پسندانہ بیانیہ کی بناء پر پاکستانی ریاست نے فلمی صنعت کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا۔

Categories
منتخب کالم

وزیراعظم ہاؤس سے رخصت ہوتے وقت عمران خان کے ہاتھ میں جو ڈائری تھی اس میں دراصل کیا حساب کتاب درج تھا ؟ بڑا دعویٰ کر دیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار خالد منہاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔63 اے کی تشریح کے لیے صدر کی جانب سے جو ریفرنس دائر کیا گیا تھا اس کا فیصلہ آ گیا جس پر عمران خان نے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ شکریہ ادا کرتے ہوئے وہ یہ بھول گئے کہ اسی سپریم کورٹ پر

وہ بھری مجلس میں تنقید کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے کون سا جرم کیا تھا کہ عدالت رات کے بارہ بجے کھول دی گئی۔ اس روز عدالت کے دروازے صرف کھلے تھے اور قومی اسمبلی کے باہر پریزن وین کھڑی ہوئی تھی کہ شلوار گیلی ہو گئی اور حضرت صاحب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بنی گالہ بھاگ گئے۔ ان کے وہ فالوورز جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں وہ شادیانے بجانے لگے کہ بس ڈائری لے کر چلا گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس ڈائری میں سارا حساب کتاب تھا کہ کہاں کہاں سے پیسہ کمایا گیا، کس کس کو کیا کچھ دیا گیا کس کس اکاؤنٹ میں پیسہ رکھا گیا ہے۔ گوگی کی کہانیاں سامنے آئیں لیکن اس طبقے کو ذرا بھی شرم نہیں آئی۔ شرم ہوتی تو وہ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو آج عمران خان دے جلسے وچ نچنے نوں جی کردا اے والے گانے سنتے نہ ڈانس دیکھتے۔ ملک میں الگ قسم کی تہذیب نے جنم لیا ہے۔ اس شخص نے چار برس میں معیشت کا جو بیڑا غرق کیا ہے وہ تو شائد ٹھیک ہو جائے مگر اخلاق کا جنازہ جس طریقے سے نکالا گیا ہے وہ کیسے ٹھیک ہو گا؟ سپریم کورٹ نے آئین کی تشریح کا جو فیصلہ کیا ہے وہ متفقہ نہیں ہے بلکہ 2 کے مقابلے میں3 کی اکثریت سے ہوا۔ آئین کی تشریح کا معاملہ اتنا غیر اہم نہیں ہوتا کہ اس پر ایک بنچ بنایا جاتا بلکہ ضروری تھا کہ فل کورٹ ریفرنس ہوتا تاکہ کوئی ابہام نہ رہتا۔ تفصیلی فیصلہ آئے گا

تو پتہ چلے گا کہ اصل بات کیا ہے مگر اب تک جو باتیں سامنے آئی ہیں اس کے تحت اس پر اعتراض کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ دوسرا یہ کوئی مقدمہ نہیں ہے کہ اس کا فیصلہ ہوا بلکہ آئین کی تشریح کی گئی ہے۔ اب جو فریق اس سے متاثر ہوا ہے وہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ سے رجوع کرے گا اور اس فیصلے کی روشنی میں اپنی داد رسی کی درخواست دے گا۔ اس تشریح کی روشنی میں فیصلہ ہو گا۔ بادی النظر میں اس کا اطلاق صرف پنجاب میں ہو گا کہ یہاں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین اسمبلی نے حمزہ شہباز کو ووٹ دیے تھے۔ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اراکین نے ووٹ نہیں کیا تھا بلکہ اتحادیوں نے شہبازشریف کے حق میں ووٹ دیے تھے۔سپریم کورٹ نے ایک نیا پنڈورہ باکس کھول دیا ہے اور ہر کوئی اپنے اپنے حساب سے اس کی تشریح کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہیجان برپا ہے اور وہ لوگ یہ بحث کر رہے ہیں جنہیں سیاسیات کی الف ب کا بھی علم نہیں۔میری دانست میں جو فیصلہ ہوا ہے اس سے سیاسی جماعتوں کی آمریت قائم ہو جائے گی۔ آئین میں انحراف کی سزا دی گئی ہے اور بڑی واضح لکھی گئی ہے۔ دوسرا پارلیمانی جمہوریت کا تجربہ پہلی بار پاکستان میں نہیں ہو رہا بلکہ یہ ایک نظام ہے جس کا تجربہ کئی ممالک میں کیا جا چکا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے حقوق کی بات ہوئی ہے لیکن اراکین اسمبلی کے حق کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اگر اس استدلال کو مان لیا جائے

تو پھر ان انتخابات کے لیے امیدواروں کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی بلکہ پھر لوگ صرف پارٹی کو ہی ووٹ دیں گے اور پارٹی اپنی مرضی سے اس حلقے کے لیے اپنا رکن اسمبلی منتخب کر سکے گی یا پھر مخصوص نشستوں کی طرح اپنے امیدواروں کی فہرست جمع کرا دی جائے اور لوگ پارٹی کو ووٹ کریں۔ کیا سپریم کورٹ کی اس تشریح سے صدارتی نظام کی بو نہیں آ رہی۔انتہائی ادب کے ساتھ یہ عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ سپریم کورٹ نے ایک طرف یہ فیصلہ کر دیا کہ پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہو گا اور دوسری طرف یہ کہا گیا کہ اس رکن کی نااہلیت اسی مدت کے لیے ہو گی یا عمر بھر کے لیے اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے۔ کیا یہ فیصلہ آدھا تیتر آدھا بٹیر والا معاملہ نہیں ہے۔ جب بال آپ کے کورٹ میں ڈال دیا گیا تھا تو آپ اس پر بھی فیصلہ کرتے، یہ معاملہ آپ نے پارلیمنٹ کو بھیج دیا اور ووٹ شمار نہیں ہو گا والا معاملہ سنا دیا۔ یوں سپریم کورٹ نے آئین کی تشریح نہیں کی بلکہ آئین میں گنجائش پیدا کرنے کی بات کی ہے۔ یہ فیصلہ آئین سازوں کی منشا کے خلاف ہے۔ آئین کی تشریح کے حوالے سے جس طرح معاملات سپریم کورٹ میں جا رہے ہیں اس سے یوں لگتا ہے کہ آئین میں بہت سے سقم موجود ہیں۔ اصل میں ایسا ہے نہیں بلکہ برطانیہ جو پارلیمانی جمہوریت کا بانی ہے وہاں تو تحریری آئین تک موجود نہیں لیکن اس کے باوجود اس طرح کی تشریحات وہاں نہیں کی جا رہیں۔

وہ اپنا نظام بہترین طریقے سے چلا رہے ہیں۔سپریم کورٹ کے پاس آئین کی تشریح کے لیے ریفرنس دائر کرنے والا صدر ہے جو خود ہی پارلیمانی جمہوریت کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ اس کی ذہنی کیفیت مستحکم نہ ہونے کے بہت سے شواہد موجود ہیں اس کے باوجود اس کی طرف سے دائر ہونے والے ریفرنس کو سنا گیا اور حکومت نے اس میں مداخلت نہیں کی۔ یہ سلسلہ ایک نہ ختم ہونے والی محاذ آرائی کو جنم دے رہا ہے۔ اسمبلی کو توڑنے اور گورنر کی تقرری اور اسے ہٹانے کے معاملے پر صدر نے جو کچھ کیا وہ ایک جمہوری شخص سوچ بھی نہیں سکتا۔صدر عارف علوی کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 63- اے سے متعلق سپریم کورٹ سے 4 اہم سوالات پوچھے گئے تھے۔کیا آرٹیکل 63- اے محدود یا وسیع ہونا چاہیے، تشریح کیا ہے؟کیا منحرف رکن کا ووٹ شمار ہوگا؟کیا منحرف اراکین تاحیات نااہل ہوں گے؟انحراف، فلور کراسنگ اور ووٹ کی خریداری روکنے کے لیے کیا اقدامات ہوسکتے ہیں؟پہلے سوال کے جواب میں سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر مجموعی طور پر اور ایک رکن کے انفرادی بنیادی حقوق کے درمیان کوئی تنازع ہو تو اول الذکر کو فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔آرٹیکل 63-اے آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعت کے بنیادی حق کا نفاذ کرتا ہے، اس لیے اس کی تشریح اور اطلاق وسیع بنیاد پر بنیادی حقوق کے ساتھ کرنا چاہیے۔ووٹ شمار کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ نے کہا کہ ایوان میں ایک پارلیمانی پارٹی کا کسی بھی رکن کا ووٹ آرٹیکل 63-اے کی ذیلی شق ایک کے پیرا بی کے تحت اول الذکر کی جاری

کردہ کسی ہدایت کے خلاف دیا جائے تو شمار نہیں کیا جاسکتا اور اس بات سے قطع نظر کہ پارٹی سربراہ انحراف کی وجہ بننے والے ووٹ کے بعد کارروائی کرے یا نہ کرے۔تیسرے سوال کے جواب میں سپریم کورٹ نے کہا کہ انحراف کے تعین پر آرٹیکل 63 اے کے تحت نااہلی اگر پارلیمان مناسب قانون بنائے تو ہوسکتی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ اس طرح کی قانون سازی پارلیمان کا کام ہے ، یہ کہنا چاہیے کہ اس طرح کا قانون بنانے کے لیے یہ بہترین وقت ہے، اگر اس طرح کی قانون سازی کی جاتی ہے تو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ غلط کاموں کی روک تھام کے لیے مضبوط اور مناسب ہونی چاہیے تاکہ اس کا خاتمہ ہو۔ سپریم کورٹ نے چوتھے سوال کا جواب نہیں دیا۔سپریم کورٹ سے انتہائی ادب کے ساتھ گذارش ہے کہ آئین کی مختلف شقوں میں موجود ابہام کو ایک ہی بار دور کرنے کے لیے تمام شقوں کی تشریح کی جائے تاکہ اسے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی روایت کا خاتمہ ہو سکے۔ آئین کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کو دیا گیا ہے تو ضروری ہے کہ ایک ہی بار ان تمام امور کا جائزہ لیا جائے اور جہاں پر سقم موجود ہے اس کو ختم کیا جائے یا پھر سیاسی جماعتوں اور حکومتی ذمہ داران کے لیے ریفریشر کورس کا انتظام کیا جائے۔ اس سے سپریم کورٹ پر غیر ضروری مقدمات کا دباؤ ختم ہو گا اور وہ یکسوئی کے ساتھ دوسرے مقدمات کو سن سکے گی۔ اس نظرثانی کے عمل کے بعد سپریم کورٹ پر بھی انگلیاں اٹھنا بند ہو جائیں گی اور سپریم کورٹ کو متنازع بنانے کی روش کا خاتمہ ہو سکے گا۔

Categories
منتخب کالم

عمران خان کی روزانہ ایک جیسی باتیں سن کر لوگ اکتاتے کیوں نہیں ؟ توفیق بٹ نے دلچسپ وجہ بتا دی

لاہور (ویب ڈٰیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آج کل حکومت پاکستان کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور اقتدار کی کچھ معاشی تباہیوں کا رونا ٹیلی وژن پر بار بار چلنے والے ایک اشتہار کے ذریعے خوب رویا جا رہا ہے۔ میں ’’حساب‘‘ کا آدمی نہیں

میں کتاب کا آدمی ہوں۔ سو مجھے نہیں معلوم حکومت پاکستان اپنے اس اشتہار میں خان صاحب کے دور کی معاشی تباہی کے جو اعداد و شمار پیش کر رہی ہے وہ کتنے درست ہیں؟ دوسری طرف خان صاحب اپنے ہر جلسے میں لوگوں کو یہ بتا رہے ہوتے ہیں۔ جب انہیں اقتدار ملا معاشی لحاظ سے ملک مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا۔ اسے پائوں پر کھڑا کرنے کے لئے انہوں نے بڑی محنت کی جس کے نتیجے میں ملک میں معاشی استحکام آیا۔ ہمیں کم از کم اس حوالے سے ان کی ’’محنت‘‘ کا اعتراف ضرور کرنا چاہئے کہ انہوں نے بڑی محنت سے تین وزرائے خزانہ بدلے۔ اگر وہ مزید اقتدار میں رہتے تین وزرائے خزانہ انہیں شاید مزید بدلنا پڑ جاتے۔ میں کوئی ماہر معاشیات نہیں مگر ایک عام آدمی کے طور پر میں یہ محسوس کرتا ہوں ان کے تینوں وزرائے خزانہ کسی ایسی کارکردگی یا اہلیت کا مظاہرہ نہیں کر سکے جس کے بدلے میں عوام کو کوئی ایسا بڑا ریلیف ملا ہو جس کا ذکر آج خان صاحب اپنے ہر جلسے میں کر کے لوگوں سے خراج تحسین وصول کرتے۔ ہم تو اسے بھی خان صاحب کی بہت بڑی مہربانی اور قربانی ہی سمجھتے ہیں کہ وزارت خزانہ کہیں انہوں نے اپنے پاس نہیں رکھ لی ورنہ ’’روٹی‘‘ چوکوں میں لٹکا دی جاتی اور عوام سے کہا جاتا دن میں دو دو مرتبہ آ کر اسے چاٹ لیا کریں۔ وہ اپنے جلسوں میں بس ادھر ادھر کی مارتے ہیں۔ روزانہ ایک ہی طرح کی باتیں سن سن کر لوگ اس لئے نہیں اکتاتے کہ

لوگوں کے پاس اب سوائے پی ٹی آئی کے جلسوں میں شرکت کے کوئی اور ’’تفریح‘‘ رہ ہی نہیں گئی۔ ایک طرف کوئی سنجیدہ فلم چل رہی ہو، جس میں اخلاقیات کا کوئی سبق ہو ، معاشرے کے حقیقی مسائل کو فلمایا گیا ہو۔ اس کے مقابلے میں کوئی ’’کامیڈی شو‘‘ یا گند شند چل رہا ہو تو ظاہر ہے جس طرح کا ہمارے لوگوں کا مزاج ہے وہ کامیڈی شو یا گند ہی دیکھیں گے۔ مجھے یاد ہے بہت سال پہلے بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کی زندگی پر ایک فلم بنی تھی۔ وہ لاہور کے میٹروپول سینما میں لگی۔ اس سینما کے قریب ہی ایک ڈرامہ تھیٹر تھا جس میں نرگس ، امان اللہ اور ببوبرال کا کوئی ڈرامہ چل رہا تھا۔ قائداعظمؒ کی زندگی پر بننے والی فلم دیکھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ دس بارہ افراد ہی آتے تھے اور ان کی حالت بھی ایسی ہوتی تھی جیسے فلم ساز نے خود انہیں ٹکٹوں کے پیسے دیئے ہوں۔ اس کے مقابلے میں کامیڈی شو کا بہت بڑا تھیٹر فل ہوتا تھا۔ اس کی ٹکٹیں ایک ایک ہفتہ پہلے بک کروانا پڑتی تھیں۔ قریب ہی مون لائٹ سینما تھا جہاں بلیو فلمیں چلتی تھیں وہ بھی ’’ہائوس فل‘‘ ہوتا تھا۔ اس کی ٹکٹوں کی بکنگ بھی ایک ایک ہفتہ پہلے کروانی پڑتی تھی۔ خان صاحب کے جلسوں میں ہر طرح کی ’’رنگینیاں‘‘ اگر نکال دی جائیں۔ ناچ گانے وغیرہ ختم کر دیئے جائیں۔ خواتین اور لڑکیوں پر پابندی لگا دی جائے کہ وہ بغیر میک اپ شرکت کریں گی۔ خان صاحب اپنی تقریروں میں سنسنی پیدا کرنے کے بجائے صرف سچ بولنا شروع کر دیں،

تو ان کے جلسے بھی آہستہ آہستہ ناکام ہونے لگیں گے۔ ممکن ہے اس کے بعد انہیں بھی بریانی اور قیمے والے نانوں کا سہارا لینا پڑ جائے جس کے لئے ایک بار پھر جہانگیر ترین اور علیم خان کی ضرورت پڑ جائے۔ لوگ خان صاحب کی باتوں کو بڑا انجوائے کرتے ہیں۔ وہ خان صاحب کو اپنے جیسا ہی سمجھتے ہیں۔ خان صاحب جب ریاست مدینہ کی بات کر رہے ہوتے ہیں درمیان میں اچانک کوئی گانا وانا چل جاتا ہے خان صاحب کو ریاست مدینہ کی بات روکنا پڑ جاتی ہے لوگ ان کے اس عمل پر بڑا خوش ہوتے ہیں، جھومتے ہیں ، خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں۔ وہ جب ڈٹ کر جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں تب بھی وہاں موجود لوگوں کو یہی محسوس ہوتا ہے وہ ان ہی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ جلسوں کی شان بڑھانا خان صاحب کو خوب آتا ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ ہر چوتھے روز کوئی نہ کوئی ایسا ’’دلچسپ بیانیہ‘‘ اپنا لیتے ہیں جو اگلے دو چار روز خوب بکتا ہے۔ اقتدار ختم ہونے کے فوراً بعد انہوں نے امریکی مراسلے کا ’’چورن‘‘ بیچنا شروع کیا۔ کچھ عرصے بعد انہیں اندازہ ہوا یہ چورن اب مزید نہیں بکے گا۔ اگر ان کی حکومت واقعی امریکہ نے ختم کی انہیں چاہئے ایک جلسہ یا جلسی امریکی سفارتخانے کے باہر جا کر بھی کر لیں۔ یا کم از کم اتنا ہی کر لیں امریکہ شہریت کے حامل کچھ خواتین و حضرات جو ہر وقت ان کے اردگرد رہتے ہیں انہیں حکم دیں احتجاجاً امریکی شہریت فوری طور پر وہ ترک کر دیں۔

حکومت ان کی امریکہ نے ختم کی اور غصہ وہ اپنے کچھ اداروں پر نکال کر سیدھا سیدھا یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں پاکستان کا ہر ادارہ امریکی غلامی میں ہے۔ اب انہوں نے ایک نیا چورن مارکیٹ میں خود کو زندگی سےمحروم کرنے کی سازش کا متعارف کروا دیا ہے۔ کچھ روز بعد وہ کوئی اور شوشا چھوڑ دیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں وہ پاکستان کا ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ اللہ ہمیشہ انہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ وہ برطانیہ میں مقیم اپنے بچوں اور پاکستان میں مقیم اپنے ’’کیڑوں مکوڑوں‘‘ کے سر پر ہمیشہ سلامت رہیں۔ مگر جو ’’بیانیہ‘‘ اپنی جان کو خطرے کا اب انہوں نے اپنا لیا ہے میرے خیال میں اب ان کی حفاظت کا انتظام وزیر اعظم اور آرمی چیف سے زیادہ ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ جن جن اہم شخصیات کو یہ خدشہ ہے خان صاحب کی اپنی جان کو خطرے کے حوالے سے ریکارڈ کروائی جانے والی وڈیو میں ان کا نام بھی ہو سکتا ہے ان سب کو بھی خان صاحب کی حفاظت کا الگ سے بندوبست کرنا چاہئے۔ حکومت کو کم از کم آئی جی رینک کا ایک پولیس افسر ان کی حفاظت کے لئے وقف کرنا چاہئے۔ دوسری طرف افواج پاکستان کو بھی چاہئے پوری ایک ’’کور‘‘ مع ان کے پسندیدہ ’’کمانڈر‘‘ ان کی حفاظت پر مامور کر دے۔اللہ نہ کرے اب وہ اگر طبعی موت کا شکار بھی ہو گئے اس کا الزام بھی حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ پر ہی لگنا ہے لہٰذا حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو فوری طور پر موت کے فرشتے سے رابطہ کر کے اس کی منت سماجت کرنی چاہئے کہ خان صاحب کو تاقیامت زندہ رہنے دیا جائے۔ خان صاحب کو بھی چاہئے وہ بار بار یہ مت کہیں ’’جو رات قبر میں آنی ہے وہ باہر نہیں آ سکتی‘‘۔ کہیں یہ نہ ہو حکومت ان کی اس بات یا اس قول کو سنجیدگی سے لے کر بیٹھ جائے اور ان کہ حفاظت میں کسی سستی کا مظاہرہ کر دے۔ ہمارے ایٹمی ہتھیار کی حفاظت کے لئے جو عملہ مقرر ہے اس کا آدھا عملہ بھی اب خان صاحب کی حفاظت کے لئے وقف کیا جانا چاہئے۔ خان صاحب کسی ہتھیار ‘‘ سے کم ہیں؟ بس ایک خدشہ ہے وہ کہیں اپنے ہی ملک پر نہ چل جائیں!!!