Categories
اہم خبریں

معروف عالم دین کو اتنے سال کی سزا سنا دی گئی کہ پیروکار دنگ رہ گئے

انقرہ (نیوزڈیسک)ترکیہ کے سب سے بڑے شہر استنبول کی اعلیٰ عدالت نے متنازع ٹی وی مبلغ و میزبان کو دوبارہ ٹرائل میں 8 ہزار 658 برس کی سزا سنا دی۔ ترکیہ کے 66 سالہ ٹیلی ویڑن مبلغ عدنان اوکتر ایک پروگرام کے دوران نازیبا لباس پہنی ہوئی خواتین کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے جس میں وہ تخلیقیت اور قدامت پسند اقدار کی

تبلیغ کر رہے تھے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال عدنان اوکتر کو زیادتی، نوعمر بچوں کے ساتھ زیادتی، دھوکا دہی اور سیاسی اور فوجی جاسوسی کی کوشش سمیت مختلف جرائم میں ایک ہزار 75 برس کی سزا سنائی گئی تھی ۔دوبارہ مقدمے کی سماعت کے دوران استنبول کی اعلیٰ فوجداری عدالت نے ملزم کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا سنائی۔

Categories
اہم خبریں

اگلے آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل کب مکمل ہو رہا ہے ؟ انصار عباسی نے تاریخ بتا دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نامور صحافی انصار عباسی اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ معلوم ہوا ہے کہ نئے آرمی چیف کا تقرر 20؍ نومبر کے قریب ہوجائے گا۔ فیصلہ ہوچکا ہے اور ایک قابل بھروسہ ذریعے کے مطابق اس مرتبہ سینیارٹی کو ترجیح دی جائے گی۔ ذریعے نے اُس لیفٹیننٹ جنرل کا نام

بھی بتایا جسے فور اسٹار جرنیل بنایا جائے گا اور آرمی چیف لگایا جائے گا لیکن معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے یہ اخبار یہ نام سامنے نہیں لاسکتا۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے باضابطہ طور پر دفاعی حکام سے ایک دو دن میں رابطہ کیا جائے گا تاکہ آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدوں پر تقرری کیلئے کارروائی کا آغاز کیا جاسکے۔ دفاعی حکام اس کے بعد سینئر ترین تھری اسٹار جرنیلوں کے ناموں کی فہرست (پینل) ایک سمری کے ذریعے مجاز اتھارٹی یعنی وزیراعظم شہباز شریف کو ارسال کریں گے تاکہ مذکورہ عہدوں پر تقرر کیا جا سکے۔ ذریعے نے کہا کہ وزیراعظم آفس کو 18؍ یا 19؍ تاریخ تک سمری موصول ہو جائے گی جس کے بعد چیف ایگزیکٹو دونوں عہدوں پر تقرری کر دیں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ زبانی کلامی معاملات پر متعلقہ حکام کے ساتھ بات چیت ہوگئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حکومت ان تقرریوں کے حوالے سے نومبر کے آخری ہفتے تک کا انتظار نہیں کرے گی، یہ معاملہ سیاست اور میڈیا میں جس غیر معمولی انداز سے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اس سے پہلے اس کی مثال نہیں ملتی جس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کئی ہفتوں سے ان تقرریوں کو ہفتوں سے جاری مہم کے دوران ہدف بنائے ہوئے ہیں۔ عمران خان یہ باتیں پھیلا رہے ہیں کہ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کے پاس اختیار نہیں کہ وہ آرمی چیف کا تقرر کریں کیونکہ اگلے آرمی چیف کا اصل فیصلہ نواز شریف کریں گے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ایک مجرم اور مفرور ملزم کس طرح آرمی چیف کا تقرر کر سکتا ہے۔ عمران خان پہلے یہ کہتے تھے کہ موجودہ آرمی چیف کو عام انتخابات کے بعد نئی حکومت کی جانب سے مقرر کرنا چاہئے۔ عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ موجودہ آرمی چیف کو اس وقت تک کیلئے توسیع دی جائے جب تک عام انتخابات ہونے کے بعد نئی منتخب حکومت نہیں آ جاتی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ساتھ ہی حکمران اتحاد کے دیگر رہنماؤں نے عمران خان کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا تھا کہ آئین اور قانون کے مطابق آرمی چیف کا تقرر وزیراعظم کا استحقاق ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک مشترکہ دوست کے توسط سے عمران خان نے رابطہ کیا تھا اور تجویز دی تھی کہ آرمی چیف کے تقرر کیلئے باہمی مشاورت کی جائے۔ شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کی تجویز مسترد کر دی کیونکہ قانون اور آئین وزیراعظم کو ان عہدوں پر تقرر کا اختیار دیتا ہے۔ عمران خان کی مایوسی میں اس وقت اضافہ ہوا جب موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے واضح اعلان کر دیا۔ اسلام آباد میں حالیہ دنوں میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے اعلان کیا کہ وہ مزید توسیع میں دلچسپی نہیں رکھتے اور وہ نومبر کے آخر تک ریٹائر ہو جائیں گے۔

Categories
اہم خبریں

بریکنگ نیوز: سعودی وزیراعظم محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان ملتوی ، کیا وجہ بنی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ ملتوی کر دیا۔ دورے کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں ہو گا۔شہزادہ محمد بن سلمان کو 21 نومبر کو پاکستان کا مختصر دورہ کرنا تھا۔ذرائع کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا

جائے گا۔اس سے قبل سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد کے دورے کے دوران پاکستان کو 4.2 ارب ڈالرز اضافی بیل آؤٹ پیکیج اور سعودی عرب کی پاکستان میں مضبوط سرمایہ کاری متوقع ہے جبکہ متعدد پاک سعودی پیٹرولیم معاہدوں کو آخری شکل دی جا رہی ہے۔سفارتی ذرائع نے یہ بھی کہا تھا کہ غیر یقینی سیاسی صورتحال میں مزید خرابی سعودی ولی عہد کے دورے میں رکاوٹ پیدا کرسکتی ہے۔

Categories
اہم خبریں

ن لیگی کو دھچکا!!!! اہم شخصیت کو پولیس نے حراست میں لے لیا

لاہور(ویب ڈیسک)وزیرآباد سے ن لیگی رہنما امتیاز اظہر باگڑی کو پولیس نے حراست میں لے لیا،وزیرآباد ن لیگی راہنما کو اشتعال انگیز تقریر کی وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق لانگ مارچ وزیرآباد پہنچنے سے قبل انہوں نے اشتعال انگیز تقریر کی تھی، امتیاز اظہر باگڑی حلقہ پی پی 51 سے آزاد

الیکشن لڑ چکے ہیں ،امتیاز اظہر باگڑی ضلع کونسل کے وائس چیئرمین رہ چکے ہیں ،امتیاز اظہر باگڑی کو عارضی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔

Categories
اہم خبریں

مجھے پکے ذرائع نے خبر دی ہے کہ مارشل لاء تو نہیں لگے گا مگر ۔۔۔۔۔انصار عباسی کا تہلکہ خیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار انصار عباسی اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔دو دن قبل مجھے ذرائع نے اطلاع دی کہ کچھ گڑبڑ ہونے والی ہے۔ میرے پوچھنے پر بتایا گیا کہ ایک دو دن میں تفصیل معلوم ہوجائے گی۔ ملکی حالات کو دیکھ کر سوچا کہ کیا گڑ بڑ ہو سکتی ہے؟

سوچا کہیں مارشل لاء یا ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ تو نہیں کرلیا گیا ؟۔ اسی فکر میں عسکری ذرائع سے رابطہ کیا، اپنے خدشات کا اظہار کیا تو بتایا گیا ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو، تاہم جو سیاسی صورتحال اس وقت ملک میں ہے اُس کے تناظر میں بدقسمتی سے بے شمار لوگ یہ کہنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں کہ اس سے بہتر تو مارشل لاء ہے۔ اس بارے میں ہمارے سیاستدانوں کو غور کرنا چاہئے کہ کیوں اُن کا ایسا رویہ ہوتا ہے کہ لوگ جمہوریت سے ہی متنفر ہوجاتے ہیں۔ اس ملک میں بار بار مارشل لاء بھی لگتے رہے اور اُن کے نتیجے میں ملک کا جو حال ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ ہمارے سیاست دان بھی جمہوریت کے نام پر ووٹ تو لیتے ہیں لیکن عموعی طور پر اُن کے رویے اور طرز حکمرانی انتہائی مایوس کن ہوتا ہے چنانچہ لوگ اُن سے بھی خوش نہیں ہوتے۔ حل تو صرف یہی ہے کہ آئین کی پاسداری کی جائے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف سب ادارے اپنا اپنا کام کریں تو دوسری طرف حکومتیں اور اسمبلیاں آئین کی منشاء کے مطابق پرفارم کریں، لوگوں کے مسائل حل کریں، انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں، حکومتی اداروں میں عوام کے لئے ڈلیوری سسٹم کو فعال بنائیں۔ جمہوریت کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ بس نواز شریف، زرداری اور عمران خان وغیرہ کو ووٹ دے کر ایوان اقتدار میں بٹھا دیا جائے، جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والی حکومت عوام کی زندگیوں کو بہتر بنائے اور ملک و قوم کی ترقی کیلئے دن رات ایک کر دے، وہ قانون کی حکمرانی، خود احتسابی، میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنائے۔ جمہوریت کا مطلب قطعاً یہ نہیں کہ الیکشن جیتنے والوں کو ملک پانچ سال کیلئے ٹھیکے پر دے دیا جائے

کہ جو جی میں آئے کرتے پھریں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں یہی ہوتا رہا ہے۔میں بات کچھ اور کرنا چاہتا تھا لیکن مارشل لاء کے ذکر کی وجہ سے کہیں اور نکل گیا۔ گزشتہ روز مجھے اپنے ذرائع سے اطلاع ملی کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ن لیگ کے رہنما نواز شریف کو کچھ لوگ مشورہ دے رہے ہیں کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو چھ ماہ کیلئے ایکسٹینشن دے دی جائے جبکہ جنرل باجوہ پہلے ہی صاف صاف کہہ چکے ہیں کہ وہ مزید ایکسٹینشن نہیں لیں گے اور اس ماہ کے آخر میں ریٹائر ہو جائیں گے۔مجھے ذاتی طور پر بھی اہم عسکری ذرائع نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ جنرل باجوہ مزید ایکسٹینشن کسی صورت میں نہیں لیں گے۔ اب کچھ افراد اس کوشش میں ہیں کہ وزیراعظم جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن کیلئے راضی کریں۔ ایسا مشورہ دینے والے نہ حکومت کے خیر خواہ ہیں نہ جنرل باجوہ کے۔ مجھے امید ہے کہ وزیراعظم اور ن لیگ کی قیادت کے ساتھ ساتھ جنرل باجوہ بھی ایسے مشورے کو سختی سے رد کریں گے۔ میری تو ہمیشہ سے یہی رائے رہی ہے کہ ایکسٹینشن تو ہونی ہی نہیں چاہئے، کیوں کہ اس سے فوج کے ادارے کو نقصان ہوتا ہے۔ میں تو شروع سے 2019 میں بنائے گئے اُس قانون کے بھی خلاف ہوں جس کے ذریعے افواج پاکستان کے سربراہان کو ایکسٹینشن دینے کیلئے ایک قانونی جواز پیدا کیا گیا، جس میں سپریم کورٹ اور پارلیمینٹ دونوں نے بہت متنازعہ کردار ادا کیا۔ پاکستان، افواج پاکستان اور پاکستان کی سیاست اور جمہوریت سب کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ اس قانون کو ختم کیا جائے اور ایک ایسی پالیسی بنائی جائے کہ آئندہ ایکسٹینشن کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ افواج پاکستان کے سربراہان کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی کی طرح سنیارٹی کے اصول کو مدنظر رکھا جائے۔ یعنی جو سب سے سینئر ہو اُسے آرمی چیف تعینات کر دیا جائے۔اس سے ہر تین سال بعد اس تعیناتی کے گرد گھومتی سیاست، افواہوں اور رسہ کشی سے جان چھوٹ جائے گی جو نہ صرف اداروں کیلئے بہتر ہوگا بلکہ پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کیلئے بھی مفید ہوگا اور بے جا کے سیاسی عدم استحکام سے حکومتوں کی جان چھوٹ جائے گی۔

Categories
اہم خبریں

لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار کے انکشافات

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ ارشد شریف کے واقعے میں تھرڈ پارٹی ملوث ہوسکتی ہے، ہمارے پاس ارشد شریف سے متعلق اطلاعات ہیں لیکن ابھی سامنےنہیں رکھ رہے۔راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا کہ

جو اطلاعات بڑے وثوق سے شیئر کرسکتے تھے وہ شیئر کردیں، تحقیقات کے بغیر کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکتے۔لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا کہ رانا ثناء نے جو بات کی اس پر تبصرہ نہیں کرسکتا، ہم نےکسی بھی اعتراض سے پہلےفیصلہ کرلیاتھا آئی ایس آئی، ایم آئی تحقیقات کا حصہ نہیں ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ارشد شریف مجھ سے اور ادارے کے لوگوں سے رابطے میں تھے، انہوں نے مجھ سے یا ادارے میں کسی سے بھی تھریٹ کی بات نہیں کی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب خیبرپختونخوا حکومت نے تھریٹ الرٹ جاری کیا تو ہماری تحقیق کے مطابق ایسا کچھ نہیں تھا۔پریس کانفرنس میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے کہا ہے کہ ارشد شریف کی زندگی کو پاکستان میں کوئی خطرہ نہیں تھا۔لیفٹینٹ جنرل ندیم انجم نے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کیس کی غیرجانبدار تحقیقات بہت ضروری ہیں۔ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ہم مطمئن نہیں اسی لیے حکومت نے انکوائری ٹیم بنائی ہے۔لیفٹینٹ جنرل ندیم انجم نے مزید کہا کہ ارشد شریف یہاں تھے تو ان کا ادارے سے رابطہ بھی تھا، جب وہ باہر گئے تب بھی انہوں نے رابطہ رکھا۔ ارشد شریف واپس آنے کی خواہش رکھتے تھے۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ اپنے کینیا میں ہم منصب سے رابطے میں ہوں۔

Categories
اہم خبریں

بڑی بریکنگ نیوز:

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بڑی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ باہمی سیاسی تنازعات پر بحث اور انہیں طے کرنے کیلئے موجودہ حکومت کے نمائندوں اور عمران خان کی زیر قیادت پاکستان تحریک انصاف کے درمیان براہِ راست ملاقات ہوئی ہے۔

دونوں فریقین کے درمیان دو روز قبل ملاقات ہوئی اور اجلاس ہوا۔ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ عام انتخابات جلد کرائے جائیں بھلے ہی یہ آئندہ سال مارچ یا اپریل 2023ء میں کرائے جائیں اور اس کے عوض وہ میثاق معیشت اور دیگر ادارہ جاتی اصلاحات کے معاہدے پر اتفاق کرے گی۔ اگر عمران خان جلد الیکشن کیلئے زور دے رہے ہیں تو پی ڈی ایم کی قیادت اپنی حکومت کی مدت مکمل کرنے پر اصرار کر رہی ہے۔ کئی ماہ کے وقفے کے بعد دونوں فریقین کے درمیان کیا کچھ زیر بحث آیا اس پر متعلقہ قیادت باتیں سامنے لا رہی ہے۔دونوں فریقین کے درمیان آئندہ دنوں میں ایک اور ملاقات ہونے والی ہے۔ اگر یہ ملاقاتیں جاری رہیں تو آئندہ ملاقاتوں میں دونوں فریقین میں دونوں طرف سے مزید نمائندے شامل ہوں گے۔پی ٹی آئی گزشتہ کئی ماہ سے کوشش کر رہی ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے اپنے سیاسی اہداف حاصل کرلے، لیکن اسٹیبلشمنٹ صرف دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات میں معاونت کرنے کیلئے آمادہ تھی۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو پی ٹی آئی کی حکومت کے ساتھ بات چیت کی آمادگی کے حوالے سے بیان دیا تھا۔اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے پی ٹی آئی کے ساتھ آئندہ عام انتخابات کے موضوع پر مذاکرات شروع کرنے پر اپنی آمادگی کا اظہار کیا تاکہ موجودہ سیاسی بحران کا حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ پی ٹی آئی نے حکومت سے مذاکرات کی پیشکش کے ساتھ رابطہ کیا ہے. ڈان نے وزیراعظم کے حوالے سے بتایا کہ چار سال تک پی ڈی ایم والوں کیخلاف بیان بازی کے بعد اب عمران ہمارے ساتھ مذاکرات کیلئے بیٹھنا چاہتے ہیں۔ میں نے اپنی سیاسی مخالفت ایک طرف رکھ کر قومی مفاد کیلئے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔آخری مرتبہ دونوں فریقین کے درمیان مئی کے وسط میں بات چیت ہوئی تھی۔ نیوٹرلز کی پس پردہ کوششوں کے نتیجے میں حکمران اتحاد کے نمائندوں اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان اسلام آباد میں 25؍ مئی کو ملاقات ہوئی تھی، یہ وہی دن تھا جب عمران خان نے اسلام آباد کی طرف مارچ کیا تھا۔ تاہم، یہ بات چیت کسی بریک تھرو کے بغیر ہی ختم ہوگئی۔نیوٹرلز نے بھی دونوں فریقین سے 24؍ مئی کو رابطہ کرکے درخواست کی تھی کہ وہ مل بیٹھ کر اپنے سیاسی جھگڑے ختم کریں کیونکہ ان کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام بڑھ رہا ہے اور معاشی بحران پیدا ہو رہا ہے۔ 25؍ مئی کو ہونے والی اس ملاقات میں یوسف رضا گیلانی، ایاز صادق، احسن اقبال، ملک محمد خان، اسد محمود اور فیصل سبزواری نے حکمران اتحاد جبکہ پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے پی ٹی آئی کی نمائندگی کی تھی۔ ملاقات میں نیوٹرلز کا بھی ایک اہم نمائندہ موجود تھا۔ مذاکرات میں شاہ محمود قریشی کے سخت رویے کی وجہ سے بریک تھرو نہیں ہوا تھا۔

Categories
اہم خبریں

’’مجھے اردو میں کچھ کہہ کہ بتائیں‘‘ اینکر کی فرمائش، جمائما نے ایسی لائن بول دی کہ پاکستانیوں کے دل جیت لیے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ خان نے آؤ بچو سیر کرائیں اردو میں سنائیسابق وزیر اعظم عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ خان کی پاکستان سے محبت اور انسیت وقتاً فوقتاً سامنے آجاتی ہے، جمائمہ گولڈ استمھ کسی نہ کسی بہانے پاکستان کے ساتھ جڑی یادیں تازہ کر ہی لیتی ہیں۔اس بار جمائمہ گولڈ اسمتھ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو میں پاکستان سے محبت کا اظہار کیا الگ انداز

میں، میزبان نے جمائمہ سے کہا کہ مجھے اردو میں کچھ کہہ کہ بتائیں۔میزبان کی خواہش پر جمائمہ نے پوچھا کہ کیا میں صرف پاکستان زندہ باد کہہ سکتی ہوں یا آپ کچھ اور سننا چاہتی ہیں،جس پر میزبان نے کہا کہ میں گانا سننا چاہتی ہوں، جمائمہ گولڈ اسمتھ نے بتایا کہ مجھے یاد ہے کہ میں اپنے بچوں کے ساتھ ملی نغمہ ’آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی، جس کی خاطر دی قربانی ہم نے لاکھوں جان کی، پاکستان زندہ باد پاکستان پاکستان زندہ باد۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو میں جمائمہ گولڈ اسمتھ نے پاکستان میں سیلاب کے باعث ہونے والی بتاہ کاریوں اور اپنی فلم پر بھی گفتگو کی۔

Categories
اہم خبریں

مذاق اڑانے پر ملالہ یوسف زئی کا بڑا فیصلہ! حسن منہاج منہ دیکھتے رہ گئے

لندن (نیوز ڈیسک)نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے بھارتی نژاد امریکی کامیڈین حسن منہاج کو مذاق اڑانے کے بعد انسٹاگرام پر ان فالو کردیا جس کے بعد پریانکا چوپڑا نے بھی کامیڈین کو ان فالو کردیا۔حسن منہاج بھارتی والدین کے ہاں امریکا میں پیدا ہوئے اور انہیں نیٹ فلیکس سمیت دیگر اسٹریمنگ ویب سائٹس پر شوز کرنے کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی۔

ان پر ماضی میں اپنے شوز کی شوٹنگ کے دوران خواتین کو تحفظ نہ دینے یا خواتین کے ساتھ ناروا سلوک سے متعلق آواز نہ اٹھائے جانے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ان کا شمار ابھرتے ہوئے کامیڈین میں ہوتا ہے اور انہیں بھارت سمیت پاکستان میں کافی پسند بھی کیا جاتا ہے۔حال ہی میں انہوں نے اپنی ایک مزاحیہ ویڈیو میں ملالہ یوسف زئی سے متعلق مذاق کیا تھا، جس کے بعد نوبیل انعام یافتہ کارکن نے انہیں انسٹاگرام پر ان فالو کردیا۔حسن منہاج نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک مختصر ویڈیو شیئر کی تھی، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے ایک روز قبل کہا تھا کہ ملالہ انہیں انسٹاگرام پر فالو کرتی ہیں مگر وہ انہیں نہیں کرتے۔کامیڈین نے مذاق میں ملالہ یوسف زئی کو اپیل کی کہ وہ مہربانی کرکے وہ انہیں دوبارہ فالو کریں۔حسن منہاج نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ لیکن اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ وہ ملالہ یوسف زئی کے فالو کیے جانے کے بعد انہیں فالو بیک کریں گے یا نہیں؟ملالہ یوسف زئی نے حسن منہاج کو ان فالو کرنے سے متعلق اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں بتایا اور لکھا کہ انہیں متعدد افراد نے کامیڈین کی ویڈیو بھیجی، جس کے بعد انہوں نے انہیں ان فالو کردیا۔ملالہ یوسف زئی کی جانب سے حسن منہاج کو ان فالو کیے جانے کی خوشی میں پریانکا چوپڑا نے بھی کامیڈین کو ان فالو کیا اور نوبیل انعام یافتہ کارکن کے قدم کی تعریفیں کیں۔

Categories
اہم خبریں

عمران خان اپنی گندی ویڈیو کا شور خود کیوں مچا رہے ہیں ؟ تہلکہ خیز حقائق

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اپنے سیاسی کیر یئر کے مشکل دور سے گزر رہے ہیں اور ہر آنے والا دن ان کیلئے مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔ دراصل عمران خان کو مکافات عمل کا سامنا ہے ۔ جب وہ حکومت میں تھے تو

انہوں نے رعونت میں اپنی تمام تر توانائیاں مخالفین پر الزامات لگانے اور ان پر کیسز بنانے پر صرف کردیں۔ سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کو مبینہ طور پر وڈیو کے ذ ریعے ہی پریشرائز کیا گیا۔ اقتدار سے باہر آنے کے بعد وہ شدید مایوسی کی کیفیت میں ہیں۔ پہلے تو آڈیو لیکس نے عمران خان کی سیاسی ساکھ کو دھچکا لگایا اور ان کے اعتماد کو شکستہ کردیا اور اب انہیں ممکنہ وڈیو لیکس کا خوف لاحق ہے۔ عمران خان اپنے سیاسی مستقبل اور مقبولیت کے گرے ہوئے گراف کے حوالے سے انجانے خوف کا شکار ہیں۔ انہیں چونکہ ممکنہ وڈیو کے مضمرات کی سنگینی کا بخوبی احساس ہے اسلئے انہوں نے اب سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت پہلے سے ہی پیش بندی شروع کردی ہے اور کسی وڈیو کے آنے سے پہلے خود ہی واویلا شروع کر دیا ہے تاکہ جب ایسی کوئی وڈیو منظر عام پر آئے تو ان کے پارٹی لوگ یہ کہیں کہ دیکھ لیں عمران خان تو پہلے ہی بتادیا تھا کہ ایسی گندی وڈیو آنے والی ہیں۔ گزشتہ روز ننکانہ صاحب میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سارے چور جمع ہوکر کسی نہ کسی طرح مجھے اور میری پارٹی کو عوام کی نظروں میں گندا کرنا چاہتے ہیں، یہ گندی گندی ویڈیو تیار کررہے ہیں، یہ گھر میں بیٹھ کر نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ویڈیو اور آڈیو ٹیپ تیار کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈیپ فیک ویڈیو عوام کو دکھائیں گے، یہ خود کو بچانے کے لیے گند اچھال رہے ہیں پھر بھی اپنے آپ کو نہیں بچاسکیں

گے۔ سوال یہ ہے کہ جو وڈیو آنے والی ہے اس کے متن ( Content) کا عمران خان کو کیسے پتہ چل گیا ہے۔ دراصل آڈیو لیکس نے ان کے سائفر بیانیہ کو تو دفن کیا ہی ساتھ ہی ان کے بہت سے حامیوں کو ان مایوسی ہوئی کہ کس طرح جھوٹ کی بنیاد پر انہوں نے خود سارے بیانیہ کو ڈیزائن کیا۔ جس مقبولیت پر انہیں زعم تھا بتدریج اس کے قلعہ میں دراڑ یں پڑ نا شروع ہوگئی ہیں۔بند مٹھی سے گرتی ہوئی ریت ان کے اعتماد کو متزلزل کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے 10 اکتوبر کو فائنل کال کا بگل نہیں بجایا۔ انہیں اب یہ خوف ہے کہ اگر اسلام آ باد پر چڑھائی کا انتہائی قدم بھی ناکام ہوگیا اور مطلوبہ تعداد میں لوگ نہ نکلے تو ان کی سیا ست ختم ہوجائے گی۔ ایف آئی اے نے ممنوعہ فنڈ نگ کیس میں جو ایف آئی آر درج کی ہے اس میں عمران خان بھی شامل ہیں اسلئے انہیں اب گرفتاری کا خوف بھی لاحق ہوگیا ہے ۔ ننکانہ صاحب میں عمران خان نے کہا کہ ان سے دشمنوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے جھوٹے کیس بنائے جارہے ہیں۔ مقدمے کیے جارہے ہیں۔ یہ رونا دھونا بھی ان کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ پنجاب کے وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر نے اس موقع پر استعفیٰ دے کر وزیر اعلیٰ پر ویز الہیٰ اور عمران خان کو صدمہ پہنچایا ہے۔ سوات میں ہزاروں افراد کی غیر معمولی احتجاجی ریلی نے صوبائی حکومت کی کا کردگی پر سوالات اٹھادیے ہیں ۔

Categories
اہم خبریں

معروف نیوز اینکر نے شادی سے ایک ماہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا

وسکونسن (نیوز ڈیسک )امریکی نیوز اینکر نینا پیچولکی کی شادی سے ایک ماہ قبل خ ودک ش ی کی خبر سامنے آنے کے بعد امریکی عوامی حلقوں اور ان کے اہل خانہ میں حیرانی کی لہر دوڑ گئی۔ شادی سے قبل خ ود ک ش ی کرنے والی نینا نے اپنے منگیترکے نام ایک پیغام بھی چھوڑا ہے جس میں ان دونوں کے تعلقات کا بھی پتا چلتا ہے۔وسکونسن نیوز اینکر نے خود کو گولی مارنے سے پہلے اپنی منگیتر کو ٹیکسٹ کیا

پیغام بھیجا۔اس سے پہلے کہ وہ ٹریگر کھینچتی 27 سالہ نوجوان خاتون نے اپنے منگیتر کائل ہاس کو ٹیکسٹ کیامیں تم سے محبت کرتی ہوں، اس کے باوجود کہ تم نے میرے ساتھ کیا کیا، مجھے افسوس ہے کہ میں وہی کروں گی جو مجھے کرنا ہے، لیکن میں کر سکتی ہوں۔ اب میں مزید درد برداشت نہیں کروں گی۔امریکی اینکر کی موت اس کے منگیتر کائل ہاس سے شادی سے صرف چھ ہفتے قبل ہوئی، جو اس سے 11 سال بڑے دو بچوں کے طلاق یافتہ باپ ہیں۔ شادی کو چند ہفتے باقی تھے جب نینا کو خبر ملی کہ اس کے منگیترکا کسی اور خاتون کے ساتھ معاشقہ چل رہا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار ہوگئی۔اس کے علاوہ تفصیلات نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے تعلقات دو سالوں میں مسائل سے بھرے رہے ہیں اور شراب نوشی سے جڑے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے نینا کی نفسیاتی حالت بگڑ گئی۔بتایا گیا ہے کہ 38 سالہ ہاس اپنی شادی سے سات ہفتے قبل پچولکی سے علیحدگی اختیار کرگئے تھے۔ وہ مینیسوٹا کا سفر کر رہے تھے کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ اپنے بچوں سے ملنے جا رہے تھے جب انہیں یہ تکلیف دہ ٹیکسٹ میسج موصول ہوا۔

Categories
اہم خبریں

مریم نواز کے ایون فیلڈ ریفرنس میں بری ہونے اور سزا ختم ہونے کا مسلم لیگ (ن) کو کیا فائدہ ہو گا ؟ سہیل وڑائچ کا بی بی سی کے لیے خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی اعظم خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر اعوان کو جمعرات کے روز ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کر دیا ہے۔

مریم نواز اور کیپٹن صفدر نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب کی احتساب عدالت کی جانب سے سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کر رکھی تھی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے دونوں کو بری کیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کا مختصر تحریری فیصلے میں کہنا ہے کہ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلوں کی منظوری اور بریت کی وجوہات بعد میں جاری ہوں گی۔بعض سیاسی اور قانونی ماہرین کے مطابق اب مریم نواز زیادہ پُراعتماد طریقے سے عملی سیاست میں حصہ لے سکیں گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ حکومت میں کوئی عہدہ بھی حاصل کر سکیں۔مبصرین کے مطابق اس فیصلے سے جہاں ایک طرف مریم نواز کو فائدہ پہنچا وہیں ان کے والد اور پاکستان کے تین بار کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی پاکستان واپسی کی بھی راہ ہموار ہوئی ہے۔قانونی طور پر اگر کسی مقدمے سے شریک ملزم بری ہو جائے تو اس کا فائدہ دوسرے ملزمان کو بھی پہنچتا ہے۔یاد رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں جرم ثابت ہونے پر اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سنہ 2018 میں مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں تین افراد کو سزا سنائی تھی، جن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر شامل تھے۔اس کے علاوہ نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دینے کے لیے کارروائی کا آغاز کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سنہ 2018 میں ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کو سات سال قید اور 20 لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی

جبکہ ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی اسی مقدمے میں گیارہ سال قید اور 80 لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ عدالت نے مریم نواز اور ان کے شوہر کا مقدمہ الگ کر دیا تھا۔یہ ریفرنس اس وقت سامنے آیا تھا جب 20 اپریل 2017 کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں چھ رکنی جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔اس کے بعد نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف تین مختلف ریفرنس بنائے جن میں ایون فیلڈ ریفرنس جو لندن میں پراپرٹی سے متعلق تھا، جبکہ العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس شامل تھے۔ان میں سے ایون فیلڈ ریفرنس اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو سزا ہوئی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں ان کو احتساب عدالت نے بری کر دیا تھا۔نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے ان سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی، جس پر مختصر فیصلہ اب سامنے آیا ہے۔صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ظاہر ہے کہ اس فیصلے سے مریم نواز کی پارٹی اور ملک میں پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔ ’وہ اب زیادہ اعتماد سے سیاست کر سکیں گی۔‘ان کے مطابق ’مریم نواز کو اب کارِ حکومت میں بھی شریک کیا جا سکتا ہے اور انھیں کوئی سیاسی پوزیشن بھی مل

سکتی ہے۔‘ادھر سکندر بشیر مہمند قانونی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ سپریم کورٹ میں ن لیگ کے خلاف پانامہ مقدمہ میں وکیل بھی رہ چکے ہیں۔ بی بی بی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’مریم نواز کو میرٹ پر ریلیف ملا ہے۔‘’ابھی تفصیلی وجوہات آنا باقی ہیں کہ عدالت نے کس وجہ سے مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر کو بری کیا ہے۔‘تاہم سکندر مہمند کے مطابق نیب نے ایون فیلڈ ریفرنس کی پراسیکیوشن میں اتنی خامیاں اور خلا چھوڑے کہ جس کے بعد اپیل میں بریت کا فیصلہ آیا۔ ’مریم نواز اور کیپٹن صفدر پر اس مقدمے میں معاونت کا الزام تھا جبکہ نواز شریف اس ریفرنس میں مرکزی ملزم ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کی ٹائمنگ پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے تاہم یہ ضرور ہے کہ ’نیب نے یہ تک ٹرائل میں نہیں بتایا کہ لندن میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کی قیمت کیا ہے اور یہ کیسے آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنتا ہے۔‘صحافی فرح ضیا کے مطابق اس فیصلے سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ پاکستان میں جب کسی جماعت کو پیچھے کرنا ہوتا ہے تو پھر ان کے خلاف کیسز مؤثر ہو جاتے ہیں مگر جب انھیں ریلیف ملتا ہے تو پھر صورتحال یکسر تبدیل ہو جاتی ہے، جیسی اب نظر آ رہی ہے۔ان کے مطابق اسحاق ڈار بھی ملک واپس آ چکے ہیں اور اب وہ بھی اعتماد سے خزانہ کے امور کو دیکھ رہے ہیں۔ فرح ضیا کے مطابق ’یہ ایک میوزیکل چیئر کی طرح دکھائی دیتا ہے،

ایک پُتلی تماشا کی طرح لگ رہا ہے۔‘ تاہم ان کے مطابق ’آج کی تاریخ میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ن لیگ کی جیت ہوئی ہے۔‘ان کے مطابق ’ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ن لیگ پر بھی ہاتھ رکھا ہوا ہے اور اب انھیں ایک ’سپیس‘ ملی ہے۔‘سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’ن لیگ کو بڑے عرصے سے خوشخبریاں نہیں ملی ہیں۔ وہ ایک مشکل سے نکلے ہیں۔ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور اب یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آج کے فیصلے کی روشنی میں نواز شریف کی ملک واپسی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔‘ایک سوال کے جواب میں سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ عمران خان اور تحریک انصاف اب یہ فیصلہ تسلیم کر لیں گے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ کے بیانیے کو اس فیصلے سے تقویت ملے گی۔سکندر مہمند کا کہنا ہے کہ اگر مقدمے میں کوئی ملزم بری ہوجائے تو دوسروں تک بھی اس کا فائدہ پہنچتا ہے مگر یہاں معاملہ یہ ہے کہ مریم نواز اور کیپٹن صفدر پر معاونت کا الزام تھا اور انھیں اس طرح شریک ملزم نہیں کہا جا سکتا ہے۔ان کے مطابق نواز شریف کو اس ریفرنس میں بھی وہی فائدہ ملے گا جو نیب سے پراسیکیوشن میں غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔جبکہ فرح ضیا کے مطابق مریم نواز کی بریت سے ن لیگ کے اندر سیاسی وراثت کا سوال بھی اب سر اٹھائے گا۔ ان کے خیال میں ’اس فیصلے سے ن لیگ کے بیانیے کے لیے بھی ایک جیت ہوئی ہے کہ ہمیں ہدف بنایا گیا، ہم نے عدالتوں کا سامنا کیا ہے اور بریت حاصل کی ہے۔‘واضح رہے کہ مریم نواز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال پر کہا کہ وہ کئی برسوں سے عدالتوں میں دھکے کھا رہی ہیں اور پھر جا کر کہیں انھیں انصاف ملا ہے۔خیال رہے کہ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو اس مقدمے میں قید کی بھی سزا ہوئی ہے۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات میں قید میں تھے اور عدالت سے سزا کے بعد انتخابات میں حصہ لینے کے بھی اہل نہیں تھے۔مریم نواز نے ایک صحافی کے جواب میں کہا کہ ’جس شخص نے یہ مقدمے بنائے اور چلائے وہ اس وقت کہیں سائیڈ پر ہے اور وہاں سے یہ سب دیکھ رہا ہے۔‘

Categories
اہم خبریں

12 ربیع الاول کی چھٹی کا اعلان!!! پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین کو تنخواہ بھی ملے گی

دبئی(نیوز ڈیسک)متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال کے اختتام سے قبل سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین کو مزید چار سرکاری چھٹیاں ملیں گی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یو اے ای حکومت کی جانب سے ہفتہ 8 اکتوبر کو 12 ربیع الاول جشن ولادت رسول ﷺ کے موقع پر امارات کے سرکاری اور نجی اداروں میں عام تعطیل ہوگی، اس روز سرکاری ونجی ادارے، بینک، اسٹاک مارکیٹ، کاروباری

اداروں سمیت تمام تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے۔ جبکہ 2 اور 3 دسمبر کو یوم وطنی کے موقع پر دو روزہ تعطیل ہوگی۔تمام سرکاری اداروں اور پرائیویٹ سیکٹر میں یہ چھٹیاں تمام ملازمین کو بلا تفریق تنخواہ کے ساتھ دی جائیں گی۔

Categories
اہم خبریں

انا للہ وانا الیہ راجعون! مذہبی مبلغ ،نامور عالم دین انتقال کر گئے

قاہرہ(نیوز ڈیسک) معروف مذہبی مبلغ اور اخوان المسلمین سے وابستہ ممتاز عالم دین علامہ یوسف القرضاوی 96 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انھیں گزشتہ برس کورونا ہوا تھا اور وہ صحت یاب ہوگئے تھے تاہم چند ماہ سے کافی علیل تھے۔ یوسف القرضاوی 1926 میں،

پیدا ہوئے اور مصر میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ اخوان المسلمین سے وابستہ ہوئے اور عملی جدوجہد میں حصہ لیا جس کی پاداش میں 1950 میں جمال عبدالناصر کے دور میں گرفتار بھی ہوئے۔علامہ یوسف القرضاوی 1960 کی دہائی کے اوائل میں مصر سے قطر کے لیے روانہ ہوئے اور قطر یونیورسٹی میں فیکلٹی آف شریعہ کے ڈین کے طور پر خدمات انجام دیں جس کی بنیاد پر انھیں 1968 قطری شہریت دی گئی۔فروری 2011 کو قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں لاکھوں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ یوسف القرضاوی نے یہ ہدایات جاری کیں کہ اس انقلاب کو ان منافقوں کے ہاتھوں چوری نہ ہونے دیں جنھوں نے اپنا مکروہ چہرہ چھپایا ہوا ہے۔ ابھی انقلاب کا سفر ختم نہیں ہوا بلکہ ابھی مصر کی تعمیر کا ا?غاز ہوا ہے اس لیے اپنے انقلاب کی حفاظت کرو۔ علامہ یوسف القرضاوی کی زکو?، اسلامی قوانین کی تشریح اور اسلامی نظام کے نفاذ سے متعلق کتابوں نے عالمی شہرت حاصل کی اور اسلامی جدوجہد کرنے والوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئیں۔

Categories
اہم خبریں

تحریک انصاف کے کن لوگوں نے اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات کی ؟ عمران خان خود کو بائی پاس کیے جانے پر برہم ہو گئے

لاہور (ویب ڈیسک) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ معلوم ہے پارٹی کے کچھ لوگ اسٹیبلشمنٹ سے ملے ہیں۔گزشتہ روز عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کے مطابق عمران خان دوران اجلاس کور کمیٹی کے

کچھ اراکین پر برہم ہوگئے اور پارٹی پالیسیز پر عمل درآمد کرنے پر زور دیا۔ذرائع کے مطابق دوران اجلاس پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کچھ لوگ اسٹیبلشمنٹ سے ملے ہیں۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے تنبیہہ کی کہ کوئی انہیں بائی پاس کرنے کی کوشش نہ کرے، کور کمیٹی ارکان پارٹی پالیسی کے مطابق ٹوئٹ کریں۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے پارٹی پالیسی پر عمل درآمد کے لیے شیریں مزاری کو نگراں بنا دیا۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے کورکمیٹی ممبران کو احتجاج کے لیے فنانس کے بندوبست کی ہدایت کی اور کہا کہ جلد احتجاج کی کال دینے جا رہا ہوں، تمام تنظیمیں فعال چاہئیں۔

Categories
اہم خبریں

بریکنگ نیوز: شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس ختم

لاہور(ویب ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) کے قوانین میں ترمیم کے تحت نیب ریفرنسز میں نامور سیاست دانوں کو بڑا ریلیف مل گیا جبکہ نیب ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ عدالتوں سے واپس بھجوائے گئے کیسز کا حتمی فیصلہ ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ میں ہوگا۔خبروں کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران نیب قوانین میں ترمیم کے بعد

وزیراعظم شہباز شریف، حمزہ شہباز، راجا پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف عائد الزامات سمیت 50 بدعنوانی ریفرنسز احتساب عدالتوں نے واپس کر دیے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس ختم ہوگیا جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور کے 6 بدعنوانی ریفرنسز واپس لے لیے گئے ہیں۔اسی طرح پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف یو ایس ایف فنڈ میں بدعنوانی کا ریفرنس واپس لے لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار مہتاب عباسی اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد کے خلاف لوک ورثہ میں مبینہ خرد برد کا ریفرنس بھی واپس لے لیا گیا ہے۔نیب قوانین میں ترمیم کے بعد مضاربہ اسکینڈل اور کمپنیز فراڈ کے ریفرنسز بھی احتساب عدالتوں سے واپس لے لیے گئے ہیں۔دوسری جانب نیب کے ترجمان کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے کسی عدالت سے کوئی ریفرنس واپس نہیں لیا گیا، نئے قوانین کے تحت مختلف عدالتوں سے واپس بھجوائے گئے کیسز پر حتمی فیصلہ ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ میں ہوگا۔ذرائع کے مطابق نیب قانون میں ترمیم کے بعد احتساب عدالتوں کی جانب سے 150 کے قریب کیسز واپس بھجوائے گئے،عدالتوں سے واپس بھجوائے گئے کیسز پر نیب فیصلہ کرے گا کہ ایف آئی اے سمیت کسی تحقیقاتی ایجنسی یا متعلقہ محکموں کو بھجوایا جائے یا نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے کیسز تاحال عدالت نے واپس نہیں بھجوائے نہ ہی نیب نے واپس لینے کی استدعا کی ہے، نئے احتساب قوانین کے تحت پنڈی اسلام آباد سے 68کیسز، لاہور سے 47، کراچی سے 50 سے زائد کیسز عدالتوں نے واپسی کیے۔عدالتوں کی جانب سے دائرہ اختیار کے تحت واپس بھجوائے جانے والے کیسز پر نیب ہیڈکوارٹر نے تمام بیوروز سے فہرستیں طلب کر لی ہیں لیکن تاحال نیب ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ طلب نہیں کی گئی۔ بیوروز کی جانب سے موصول کیسز پر حتمی منظوری ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ میں لی جائے گی۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان کے خلاف نیب ریفرنس واپس نہیں ہوئے،وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا کیس نہ ہی عدالت نے واپس کیا ہے نہ ہی نیب نے کیس واپس لینے کی استدعا کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے چیئرمین نیب نے کوئی کیس واپس لینے کی ہدایات نہیں کی ہے۔

Categories
اہم خبریں

عمران خان جو کچھ سوچ رہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہونے والا ۔۔۔۔!!! انصار عباسی نے حیران کن بات کہہ دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) سوشل میڈیا کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان اضطراب کی کیفیت میں جو کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں حالیہ ملاقاتوں کے باجود وہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے کوئی اعلیٰ کار کردگی نہیں دکھائی بلکہ اپنی پارٹی میں کئی ایک کو مایوس بھی کیا

لیکن عمران خان کی خواہشات کے مطابق فوری عام انتخابات سے ملک کی اقتصادی حالت مزید بد تر ہو جائے گی۔

Categories
اہم خبریں

گھر سےبھاگی معروف یویٹوبر کہاں سے ملی؟ والدین آبدیدہ ہوگئے، ویڈیو وائرل

ممبئی (ویب ڈیسک) سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس نے دیکھنے والوں کو بھی افسردہ کردیا، والدین بھی بیٹی کے لاپتہ ہونے پر شدید پریشان تھے، اس حوالےس ے انہوں لائیوسٹریم پر بتایا کہ ان کی بیٹی کچھ دن سے لاپتہ ہے مگر ان کو خبر ملی کہ ان کی بیٹی مل گئی ہے جس پر وہ اپنے

جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔تفصیلات کےمطابق معروف یویٹوبر کے گھر سے بھاگنے کا واقعہ بھارتی ریاست مہاراشٹر کے علاقہ اورنگ آباد میں پیش آیا، مقامی پولیس کا کہناتھا کہ یوٹیوبر لڑکی نےاپنے والد کے ڈانٹنے کے بعد گھر سے بھاگی تھی جس کو گزشتہ دنوں مدھیہ پردیش کے اٹارسی سٹیشن پر ٹرین کے ڈبے میں دیکھا گیا، بیٹی کی گمشدگی کے بعد والدین نے لائیو سٹریم کرتے اپنی پریشانی کے بارے بتایا مدد کی اپیل کی تھی بعد ازاں انہیں اطلاع ملی کہ ان کی بیٹی ملی گئی ہے۔16 سالہ بھارتی یویٹوبر’ کاویہ یادو ‘کا یوٹیوب چینل ‘بنداس کاویہ’ کے نام سے بنا ہوا ہے، چینل جس کے 44 لاکھ سبسکرائبرز ہیں جو کہ ان کی والدہ کے زیر انتظام ہے۔کاویہ یادو والد کی ڈانٹ سے پریشان ہوکر گھر والوں کو بتائے بغیر چلی گئی تھی۔لڑکی کے والد نے روتے ہوئے کہا کہ”ہم اسے کل رات سے ڈھونڈ رہے ہیں، ہم نے ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ اگر کسی کو ملے تو براہ کرم ہمیں بتائے،”والد نے اپنی بیٹی کے چینل پر ویڈیو شیئر کی جس کو 40 سے زائد لوگوں نے دیکھا۔معروف یویٹوبر کے لاپتہ ہونے پر اورنگ آباد کے تھانے کے جی آر پی نے مہاراشٹر کے ضلع سے تقریباً 500 کلومیٹر دور واقع اٹارسی ریلوے سٹیشن پر آنے والی ٹرینوں کی چیکنگ شروع کردی۔ جس پر ریلوے پولیس نے اسے بھساول سے کشی نگر ایکسپریس میں دیکھا اور اپنے ساتھ تھانے لے، لڑکی کے والدین کو فوراً اطلاع دی جس پر خوشی سے نہال وہ بیٹی کے ملنے پر گلے لگ کر روئے اور پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

Categories
اہم خبریں

وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد: اسلام آباد سے بڑی خبر آگئی

اوکاڑہ( ویب ڈیسک)پنجاب میں سیاسی تبدیلی کے لئے حکمران اتحاد وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر بھی متفق، نواز، زرداری اور چودھری شجاعت کی طرف سے بھی اس آپشن کے استعمال پر آمادگی.رواں ہفتے تحریک عدم اعتماد اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع ہونے کا امکان،ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ ق کے

سربراہ چودھری شجاعت حسین کے ساتھ پنجاب اسمبلی میں ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی کی اکثریت کے روابط کے بعد حکمران اتحاد کے قائدین نے باہمی مشاورت میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ بدلتے سیاسی حالات میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے اسمبلی کو توڑنے کے آئینی آپشن کے استعمال کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا،جس کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی جائے.ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کا ڈرافٹ تیار کر کے حکمران اتحاد کے قائدین کو ارسال کر دیا گیا ہے جبکہ میاں نواز شریف،آصف علی زرداری اور چودھری شجاعت حسین کی طرف سے اس آئینی آپشن کے استعمال پر آمادگی کا اظہار کر دیا گیا ہے۔

Categories
اہم خبریں

’’ میں اور میرے بیٹے ۔۔۔۔‘‘ جمائماہ گولڈ سمتھ نے قومیت کے حوالے سے بڑا بیان دیدیا

لندن (نیوز ڈیسک)چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان کی سابقہ اہلیہ، پروڈیوسر جمائما گولڈ اسمتھ نے گزشتہ دنوں ٹورنٹو میں ہونے والے بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں کہا کہ وہ اور اُن کے دونوں بیٹے، سلیمان خان اور قاسم خان آدھے پاکستانی ہیں۔ تفصیلات کے مطا بق جمائما گولڈ اسمتھ کی فلم ’واٹس لَو گاٹ ٹو ڈو وِد اٹ‘

کاپریمیئر گزشتہ دنوں ٹورنٹو میں ہوا جہاں انہوں نے اپنے انٹرویو کے دوران فلم سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلم پاکستانی عوام اور اس کی ثقافت سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔جمائما کا کہنا تھا کہ میں اور میرے بیٹے ایک عرصہ پاکستان میں بھی گزار چکے ہیں، میں پاکستان میں 10 سال رہی ہوں، ہم آدھے پاکستانی ہیں، اس دوران میں نے جو پاکستان میں دیکھا میں اس سے متاثر ہوئی، پاکستان کی ثقافت کافی دلچسپ ہے۔جمائما گولڈاسمتھ نے مزید کہا کہ اس فلم کے خصوصی شو سے حاصل ہونے والی رقم وہ پاکستان کے سیلاب زدہ لوگوں کے لیے عطیہ کریں گی۔ واضح رہے کہ جمائما گولداسمتھ کی فلم میں پاکستانی اداکارہ سجل علی، للی جیمز، شہزاد لطیف، شبانہ اعظمی، عاصم چوہدری اور ایما تھامسن مرکزی کرداروں میں نظر آئیں گے۔فلم ’واٹس لَو گاٹ ٹو ڈو وِد اٹ‘ آئندہ سال 27 جنوری 2023 کو ریلیز کی جائے گی۔ یاد رہے کہ جمائمہ گولڈ سمتھ سابقہ وزیر اعظم عمران خان کی پہلی سابقہ اہلیہ اور ان کے بچوں کی ماں بھی ہیں۔