Categories
اہم خبریں

وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے عمران خان کا امیدوار، خان کہیں گے اسمبلی توڑ دیں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چودھری پرویز الٰہی نے بڑا بیان دے دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے عمران خان کا امیدوار ہوں، عمران خان کہیں گے اسمبلی توڑ دیں تو آدھے گھنٹے میں اسمبلی توڑ دوں گا، مںحرف ارکان اسمبلی عبرت کا نشان بن گئے ان کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں، جہانگیر ترین اور حمزہ شہباز نے بہت پیسہ پھینکا لیکن پیسہ ان کے کوئی کام نہیں آیا۔

ایکسپریس نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں بعدازاں الیکشن کمیشن کو مبارک باد کہ انہوں ںے جمہوریت کی بنیادیں مضبوط کیں۔ انہوں نے کہا کہ مںحرف ارکان اسمبلی اپنی سوسائٹی اور گھروں میں عبرت کا نشان بن چکے ان کا اب کوئی سیاسی مستقبل نہیں، جہانگیر ترین اور حمزہ شہباز نے بہت پیسہ پھینکا لیکن پیسہ ان کے کوئی کام نہیں آیا۔ حمزہ شہباز شریف کے وزیراعلیٰ بننے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ جس کام کی بنیاد ہی غلط ہو جو ریت پر گھر بنایا گیا ہو ان کا یہی حال ہوتا ہے اس میں یہ خود ہی دفن ہوجاتے ہیں اور ان کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اول روز سے کہہ رہا ہوں کہ یہ الیکشن ہی غلط تھا اور یہ حلف بھی غلط تھا اور اب یہ ثابت ہوگیا، آئندہ کا لائحہ عمل یہ ہے کہ اب انہیں اٹھا کر باہر پھینکیں گے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے مںحرف ہونے والے پنجاب اسمبلی کے 25 ارکان اسمبلی کو ان کی نشستوں سے برطرف کر دیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے 25 منحرف ارکان کے خلاف فیصلہ سامنے آگیا، الیکشن کمیشن نے مںحرف ہونے والے پنجاب اسمبلی کے 25 ارکان کے خلاف ریفرنس مںظور کرتے ہوئے انہیں اسمبلی کی نشستوں سے برطرف کردیا۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے تین رکن بنچ نے متفقہ فیصلہ سنایا جس نے منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر فیصلہ سنایا۔

Categories
اہم خبریں

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وفاق اور پنجاب کی حکومتوں کو واقعی کوئی خطرہ ہے یا نہیں ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی ترہب اصغر کی بی بی سی کے لیے ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں ہو گا اور پارلیمان ایسے اراکین کی نااہلی کی

مدت کے تعین کے لیے قانون سازی کر سکتی ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ کیا ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں منحرف اراکین سے ووٹوں کی مدد سے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے والے حمزہ شہباز کام جاری رکھ سکیں یا پھر انھیں دوبارہ ایوان میں اکثریت ثابت کرنا ہو گی۔خیال رہے کہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ایسے 25 اراکین نے حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ کے لیے ووٹ دیے تھے جن کی نااہلی کے لیے اب ان کی جماعت نے الیکشن کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹا رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اپنی جیت قرار دے رہے ہیں اور گذشتہ روز خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان نے اس فیصلے پر اعلیٰ عدلیہ کا ’شکریہ‘ بھی ادا کیا۔بظاہر وفاقی حکومت اس فیصلے سے کسی بھی طور پر متاثر نہیں ہوتی کیونکہ شہباز شریف جب وزیراعظم منتحب ہوئے تھے اس وقت ووٹنگ کے عمل میں کسی تحریک انصاف کے ناراض یا منحرف رکن نے حصہ نہیں لیا تھا۔بی بی سی نے اس فیصلے کے بعد حکومت پر اس کے ممکنہ اثرات سے متعلق قانونی ماہرین سے بات کی ہے۔ ان ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ 25 منحرف اراکین سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ اب اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق یہ اراکین اسمبلی پارلیمانی پارٹی کی ہدایت کے خلاف ووٹ نہیں دے سکتے اور اگر وہ ایسا کریں گے تو پھر

ان کا ووٹ شمار نہیں ہو گا اور کمیشن انھیں ڈی سیٹ کر سکتا ہے۔یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ان اراکین نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ انھیں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بلایا گیا اور نہ ہی ایسی کوئی ہدایات دی گئیں کہ ووٹ کسے دینا ہے۔یاد رہے کہ حمزہ شہباز 197 ووٹ حاصل کر کے وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے تھے، جس میں تحریک انصاف کے 25 منحرف اراکین کے ووٹ بھی شامل تھے۔قانونی ماہرین کا یہ خیال ہے کہ اس معاملے میں یہ دیکھنا بھی اہم ہے کہ کیا سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا اطلاق سابقہ کیسز پر بھی ہو گا یا پھر اس فیصلے پر عملدرآمد مستقبل کے معاملات سے متعلق ہے۔سپریم کورٹ کے وکیل فیصل نقوی نے بی بی سی کو بتایا کہ فیصلے میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ اس کا اطلاق ماضی پر بھی ہو گا۔ ان کے مطابق اٹارنی جنرل نے تو عدالت پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ صدارتی ریفرنس پر کی جانے والی اس تشریح کا اطلاق مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات پر ہو گا۔ان کے مطابق جب عدالت کے کسی فیصلے سے ماضی کے کسی عمل کو ختم کرنا مقصود ہو تو پھر اس کے لیے واضح طور پر ہدایات دی جاتی ہیں۔چند آئینی ماہرین یہ تنقید بھی کر رہے ہیں کہ عدالت نے جہاں آئین کی تشریح کرنا تھی وہاں نہیں کی اور جہاں آئین واضح تھا وہاں ابہام پیدا کر دیا ہے۔ ان ماہرین کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ کو اس فیصلے سے فوری طور پر کوئی خطرہ

لاحق نہیں ہے۔فیصل نقوی کے مطابق ابھی عدالت کی تشریح میں کنفیوژن پائی جاتی ہے جبکہ تفصیلی فیصلہ آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ خیال رہے کہ ابھی تک تحریک انصاف سمیت کسی بھی فریق نے حمزہ شہباز کے انتخاب کو کسی عدالت کے سامنے چیلنج نہیں کیا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق اس عدالتی فیصلے کے بعد منحرف اراکین سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ اب انتہائی اہمیت کر گیا ہے۔ پارلیمانی اور آئینی امور کے ماہر احمد محبوب بلال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ مختصر فیصلے میں یہ بات سامنے نہیں آئی ہے کہ کیا اس قانون کی تشریح مستقبل کے کیسز پر لاگو ہو گی یا پھر اس کیس پر بھی اثر انداز ہو گی۔ اس لیے اس سوال کا جواب عدالت کی جانب سے آنا ضروری ہے، جس کے بعد ہی اس کے اثرات سامنے آئیں گے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’دوسری جانب مختصر فیصلے کے مطابق جو منحرف رکن ہو گا اس کے اوپر یہ قانون لاگو ہو گا کہ اس کا ووٹ شمار نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ کسی بھی رکن کو منحرف قرار دینا پارٹی کے سربراہ کا کام ہے، جس کی تصدیق الیکشن کمیشن کرتا ہے۔ اس کے بعد ہی وہ منحرف قرار دیا جاتا ہے اور اگر الیکشن کمیشن یہ کہے کہ یہ رکن منحرف نہیں ہے تو اس رکن پر یہ تشریح بھی لاگو نہیں ہو گی۔‘ایڈووکیٹ رضا علی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں تو یہ فیصلہ

آئندہ آنے والے کیسز پر لاگو ہو گا۔ کیونکہ پاکستانی قانون میں ہونے والی کوئی نئی چیز سابقہ کیسز پر لاگو نہیں ہوتی ہے۔اس لیے میرے خیال میں یہ فیصلہ موجودہ پنجاب حکومت پر اثر انداز نہیں ہو گا۔ اگر عدالت یہ کہتی ہے کہ یہ سابقہ کیسز پر بھی لاگو ہو گا تو یہ ایک یہ منفرد قسم کا فیصلہ تصور کیا جائے گا۔‘عدالت عظمٰی کے اس فیصلے کے بعد اب یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ کیا ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں منحرف اراکین سے ووٹ لے کر وزیر اعلیٰ منتخب ہونے والے حمزہ شہباز کام جاری رکھ سکیں یا پھر انھیں دوبارہ ایوان میں اکثریت ثابت کرنا ہوگی۔اگر الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے منحرف اراکین کے خلاف فیصلہ دے دیتا ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس فیصلے کا اطلاق خود بخود وزیراعلیٰ کے عہدے پر ہو گا یا پھر کسی کو جا کر پہلے وزیر اعلیٰ کا الیکشن چیلنج کرنا ہو گا۔ایڈووکیٹ قاضی مبین کا کہنا تھا کہ ’یہاں مسلم لیگ ق اور پی ٹی آئی کی جانب سے ایک غلطی یہ کی گئی ہے کہ انھوں نے ابھی تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا الیکشن چیلنج نہیں کیا ہے۔‘اس معاملے پر پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ یہ کہہ چکی ہے کہ ہمارے سامنے تو الیکشن چیلنج ہی نہیں ہوا ہے۔ جبکہ ہمارے سامنے یہ بات رکھی گئی ہے کہ وزیر اعلیٰ کا حلف لینا صحیح نہیں ہے۔ ابھی بھی ان کے پاس یہ موقع ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے پہلے

وہ اگر وزیر اعلیٰ کا الیکشن چیلنج کر دیں تو معاملات الگ رُخ اختیار کر سکتے ہیں۔‘فیصل نقوی کے مطابق چونکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے استعفیٰ دے دیا تھا تو دوبارہ وزیراعلیٰ کا انتخاب ایک آئینی طریقہ کار کے تحت ہوا تھا۔ ان کے مطابق اگر الیکشن کمیشن منحرف اراکین کو نااہل قرار بھی دیتی ہے تو پھر بھی یہ بحث رہے گی کہ کیا اب انھوں نے جو ووٹ حمزہ شہباز کو دیا تھا وہ واپس تصور ہوگا یا نہیں۔ان کے مطابق عدالت کے فیصلے سے ابھی تشریح کے بجائے مزید کنفیوژن پیدا ہو چکی ہے۔تحریک انصاف کے لیے اپنے منحرف اراکین کو اسمبلی سے باہر کرنے سے بھی مشکل حل نہیں ہو گی۔ اگر الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے منحرف ارکین کو ڈی سیٹ کر دیتا ہے تو پی ٹی آئی کے 25 ووٹ ختم ہو جائیں گے اور اگر دوبارہ سے وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہوتا ہے تو پھر پنجاب میں پی ٹی آئی کے پاس اکثریت نہیں رہے گی۔واضح رہے کہ اس وقت پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین کی کل تعداد 183 بنتی ہے۔ اس میں 25 منحرف اراکین بھی شامل ہیں جبکہ ق لیگ کے اراکین کی تعداد دس ہے۔ دوسری جانب حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے اراکین کی تعداد 166 بنتی ہے، جن میں پارٹی سے ناراض چار اراکین بھی شامل ہیں۔ن لیگ کی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد سات ہے۔ سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار سمیت آزاد اراکین کی کل تعداد پانچ ہے، جن کے ووٹ بدلتی صورتحال

میں انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں اگر وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہوتا ہے اور کوئی امیدوار 186 ووٹ لینے میں کامیاب نہیں ہوتا ہے تو پھر اسی وقت ’رن آف الیکشن‘ ہو گا، جس میں کسی امیدوار کا ایک بھی ووٹ زیادہ ہو گا تو وہ وزیر اعلیٰ منتخب ہو جائے گا۔یہاں یہ بات بھی زیر غور ہے کہ ابھی تک پنجاب میں باقاعدہ طور پر کوئی گورنر موجود نہیں ہے۔ عمر چیمہ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی قائم مقام گورنر بن گئے مگر انھوں نے ابھی تک گورنر کا حلف نہیں اٹھایا۔ماہرین کے تجزیے کے مطابق انھیں یہ خوف بھی ہے کہ اگر وہ گورنر کا حلف اٹھائیں گے تو ڈپٹی سپیکر، قائم مقام سیپکر مقرر ہو جائیں گے، جس کے بعد پرویز الہیٰ کے خلاف بطور سپیکر پنجاب اسمبلی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروائی جا سکتی ہے۔ جس کے بعد وہ اپنا سپیکر کا عہدہ کھو سکتے ہیں۔دوسری صورت میں اگر الیکشن کمیشن اپنے فیصلے میں منحرف اراکین کو ڈی سیٹ نہیں کرتا تو اس کا فائدہ پی ٹی آئی کو ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اب کوئی شخص اگر فلور کراسنگ کرتا ہے تو اس کے معاملے کو سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کے مطابق دیکھا جائے گا۔ جبکہ یہ امکان ہے کہ الیکشن کے دن منحرف اراکین فلور کراسنگ کے بجائے الیکشن کی کارروائی کے دن غیر حاضر ہو جائیں۔سیاسی حلقوں میں یہ بات بھی زیر بحث ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ کہا گیا ہے کہ ’اگر کوئی رکن پارٹی کی پارلیمان اجلاس میں دی گئی ہدایات کے خلاف کسی کو ووٹ دیتا ہے تو اس کا ووٹ شمار نہیں ہو گا۔‘ جبکہ پنجاب کے منحرف اراکین کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ’ہم تو پارٹی کے ناراض اراکین تھے اور ہم سے پارٹی نے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں پارلیمانی اجلاس میں بلا کر کوئی ہدایت کی گئی۔‘قانونی ماہر کے مطابق ایسی صورت میں فیصلہ الیکشن کمیشن کو دونوں فریقین کے ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے کرنا ہو گا۔

Categories
اہم خبریں

روس سے ہمارا سستے تیل کا معاہدہ ہونے والا تھا ۔۔۔!!عمران خان کے ہر جلسے میں اس دعوےکی حقیقت کیا ہے ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی تنویر ملک بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پاکستان کے سابق وزیر توانائی حماد اظہر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کچھ روز قبل روسی وزیر توانائی کو لکھا گیا ایک سرکاری خط جاری کیا جس میں روس سے رعایتی نرخوں پر خام

تیل، ڈیزل اور پٹرول درآمد کرنے کی تجویز تھی۔حماد اظہر نے سرکاری خط موجودہ وزیر توانائی خرم دستگیر کے اس بیان کے بعد جاری کیا کہ سابقہ حکومت کی جانب سے روس سے کوئی ایسا سرکاری رابطہ نہیں کیا گیا کہ جس میں روس سے رعایتی نرخوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر بات کی گئی ہو۔حماد اظہر کے سرکاری خط جاری کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں عام لوگوں کے علاوہ معاشی امور کے سینیئر صحافی خرم حسین نے بھی حماد اظہر سے سوال کیا کہ کیا اس خط کے بعد روس کی جانب سے حکومتی سطح پر کوئی ایسا جواب آیا کہ جس میں رعایتی نرخوں پر تیل دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہو۔خرم حسین نے حماد اظہر کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ روس کی جانب سے ایسی کسی پیشرفت کا اشارہ نہیں ملا جس میں وہ پاکستان کو رعایتی نرخوں پر تیل دینے جا رہا تھا۔حماد اظہر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ خط روس کی خواہش پر لکھا گیا کیونکہ روس 30 فیصد کم نرخوں پر تیل کی سپلائی کے لیے خریداروں کی تلاش میں ہے اور پاکستان کیونکہ تیل کی مصنوعات کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے اس لیے روس پاکستان کو بھی تیل بیچنا چاہتا ہے۔حماد اظہر کی جانب سے سرکاری خط میں روس سے سستے تیل کی درآمد کے بارے میں پاکستان کی وزارت توانائی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ جب سرکاری خط سابقہ وزیر توانائی نے جاری کر دیا ہے

تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایسا خط لکھا گیا۔تاہم وزارت توانائی کے ترجمان نے بتایا کہ ابھی تک روس کی جانب سے ایسا کوئی جواب موصول نہیں ہوا کہ جس میں پاکستان کی جانب سے سستے تیل کی درآمد کے سلسلے میں کہا گیا ہو۔پاکستان اس وقت تیل کی قیمتوں کے مسئلے سے دوچار ہے۔ سابقہ حکومت نے فروری کے آخر میں پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کو نئے مالی سال کے بجٹ تک منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا جسے نئی مخلوط حکومت کی جانب سے ابھی تک برقرار رکھا گیا ہے تاہم قیمتوں کو نہ بڑھانے کی وجہ سے حکومت کو اربوں روپے کی سبسڈی دینی پڑ رہی ہے جس کا ملک کے خزانے پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔تیل پر دی جانے والی سبسڈی کی وجہ سے پاکستان کے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات بھی کامیاب نہیں ہو رہے جو قرضہ پروگرام کی بحالی سے پہلے اس سبسڈی کا خاتمہ چاہتا ہے۔سابقہ وزیر توانائی حماد اظہر کی جانب سے جاری کیے جانے والا سرکاری خط تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے سے نو دن پہلے لکھا گیا تھا اور اس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے دورہ روس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان روس سے خام تیل، پٹرول اور ڈیزل کی سستے نرخوں پر درآمد کے سلسلے میں دلچسپی رکھتا ہے۔اس خط میں حماد اظہر نے روسی ہم منصب کو لکھا کہ وہ روس کے ان حکام کی تفصیلات فراہم کریں جو روس کے اداروں کی جانب

سے اس سلسلے میں بات کو مزید بڑھائیں۔حماد اظہر نے اگلے مہینے یعنی اپریل میں اس معاملے پر ڈیل طے کرنے کا لکھا۔ حماد اظہر نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ تحریک انصاف کی حکومت اپریل میں پہلے کارگوز کی خریداری کا منصوبہ رکھتی تھی۔حماد اظہر نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ جب سابق وزیر اعظم کے دورۂ روس کے بعد اس سلسلے میں بات بڑھی تو ہم نے تیل اور گیس لینے کی بات کی تو روس نے اس سلسلے میں بہت زیادہ دلچسپی دکھائی۔انھوں نے مزید بتایا کہ کچھ ہفتوں بعد روس میں پاکستان کے سفیر نے لکھا کہ روسی حکام چاہتے ہیں کہ پاکستان اس سلسلے میں بات بڑھائے جس کے بعد میں نے باضابطہ طور پر یہ خط روس کے وزیر توانائی کو لکھا تاہم انھوں نے کہا کہ ان کے خط لکھنے کے چند روز بعد اسمبلیاں تحلیل ہو گئیں اور پھر تحریک انصاف کی حکومت ختم ہو گئی۔وزارت توانائی کے ترجمان زکریا علی شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ خط لکھ کر ڈپلومیٹک بیگ کے ذریعے روس بجھوایا گیا تاہم انھوں نے بتایا کہ ابھی روس کی جانب سے اس خط کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حماد اظہر کے ٹویٹ کے مطابق اپریل میں تیل کے کارگوز لانے کا منصوبہ تھا تو انھوں نے کہا کہ یہ خط مارچ کے آخری دنوں میں لکھا گیا تھا اور اتنی جلدی ممکن نظر نہیں آتا کہ اس ڈیل کے تحت کارگوز پہنچ جاتے۔سابق وزیر توانائی کے

مطابق رعایتی نرخوں پر تیل کی روس سے درآمد کا منصوبہ تھا، اس بارے میں معاشی امور کے سینیئر صحافی خرم حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا روس سے تیل درآمد کرتا ہے تاہم یہ انڈیا کی توانائی کی ضروریات کا دس سے بارہ فیصد ہے اور یہ بہت پہلے سے روس سے درآمد کیا جا رہا ہے۔لیکن اگر پاکستان روس سے تیل درآمد کرے، تو اس منصوبے کے قابل عمل ہونے کے بارے میں کچھ سوالات ہیں جن کے جوابات بہت ضروری ہیں کہ کیا روس سے تیل کا جہاز پاکستان بھیجنا قابل عمل ہے اور اس کے ساتھ کیا بینک اس بات کی لیے تیار ہوں گے کہ وہ روس سے تیل خریداری کے لیے فنانسنگ کریں۔خرم حسین نے کہا کہ عمران خان اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور وہ آزاد خارجہ پالیسی کی بات کرتے ہیں جس کا ایک پہلو ان کا روس سے سستے تیل کی درآمد کا اعلان بھی ہے تاہم خرم کے مطابق ان کا یہ اعلان حقیقت پسندی پر مبنی نہیں۔اس سلسلے میں حماد اظہر نے کہا کہ روس 30 فیصد سستا تیل دے کر بین الاقوامی خریداروں کو اپنی جانب راغب کرنا چاہتا ہے اور پاکستان کیونکہ تیل مصنوعات کا ایک بڑا درآمد کرنے والا ملک ہے اس لیے وہ یہ تیل پاکستان کو بھی رعایتی نرخوں پر بیچنے کا خواہاں تھا۔ حماد نے بتایا کہ منصوبے کے بعد اپریل کے مہینے میں یہ کارگو خریدا جانا تھا۔بہر حال وزارت خزانہ کے ترجمان نے روس سے تیل کی درآمد کے منصوبے کو

قابل عمل قرار دیا اور کہا کہ وزارت توانائی سمیت ہر حکومت کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ وہ ملک و قوم کے مفاد میں کام کرے۔ انھوں نے کہا کہ روس سے تیل کی درآمد کا آپشن بھی دیکھا جا رہا ہے اور نئی حکومت کو بھی اس سلسلے میں بریف کیا گیا ہے۔روس کے خام تیل کو پاکستان درآمد کر کے کیا اسے پاکستانی ریفائنریوں میں مصنوعات تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے جواب میں پاکستان ریفائنری شعبے کے افراد کا کہنا ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے۔تیل شعبے کے ماہر اور پاکستان ریفائنری کے چیف ایگزیکٹو زاہد میر نے بی بی سی کو بتایا کہ روسی خام تیل کو مقامی ریفائنریوں میں کام میں لایا جا سکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ روس میں دو قسم کا خام تیل پیدا ہوتا ہے جن میں ایک سوکول (Sokol) اور دوسرا یورل(Ural) کہلاتا ہے۔انھوں نے کہا دونوں قسم کے تیل استعمال ہو سکتے ہیں اور ان سے تیل کی مصنوعات تیار ہو سکتی ہیں تاہم ان کے مطابق سوکول زیادہ بہتر ہے جس سے کم فرنس آئل پیدا ہوتا ہے۔زاہد میر نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں مختلف ریفائنریوں میں مختلف خام تیل استعمال ہو رہے ہیں، جن میں عرب لائٹ خام تیل کے ساتھ عرب ایکسٹرا، کویت سپر اور ایک آدھ اور خام تیل استعمال ہو رہا ہے۔زاہد میر نے کہا کہ ریفائنریوں میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ جس طرح دوسرے ممالک کے خام تیل کو پراسس کر رہی ہیں اسی طرح روسی خام تیل کو بھی استعمال میں لا سکتی ہیں۔پاکستان میں اس وقت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ملکی معیشت اور

نئی حکومت کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ سابقہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ روس سے سستا تیل حاصل کرنے سے مقامی صارفین کو فائدہ ہوتا۔سابق وزیر اعظم کے 28 فروری 2022 کے اعلان کے مطابق پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کو نئے مالی سال کے بجٹ تک منجمد کر دیا گیا تھا اور عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے آنے والے فرق کو حکومت نے اپنے خزانے سے دینے کا اعلان کیا تھا۔تیل پر دی جانے والی سبسڈی کی مالیت مارچ کے مہینے میں 33 ارب روپے سے زائد تھی جو اپریل کے مہینے میں عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے بڑھنے کی وجہ 60 ارب روپے تک چلی گئی۔وزارت توانائی کی دستاویزات کے مطابق مئی کے مہینے میں اس سبسڈی کا حجم 118ارب روپے تک چلا جائے گا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے نو مہینوں میں پاکستان نے تقریباً پندرہ ارب ڈالر پٹرولیم مصنوعات درآمد کیں جن میں پچھلے سال کے انھی مہینوں میں سو فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اگرچہ درآمدات کے حجم میں کچھ اضافہ دیکھنے میں آیا تاہم تیل کی عالمی قیمتوں کے مہنگا ہونے کی وجہ سے درآمدات کی مالیت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ملک کے بڑھتے ہوئے مالی خسارے کو کم کرنے اور قرضہ پروگرام کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ چاہتا ہے تاہم موجودہ حکومت ابھی تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں لے سکی ہے۔زاہد میر نے روسی خام تیل کی درآمد سے پاکستان میں مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتنا آسان نہیں کیونکہ خام تیل حکومت پاکستان نہیں بلکہ ریفائنریاں عالمی مارکیٹ سے خریدتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ حکومت صرف قیمت کا تعین کرتی ہے اور یہ قیمت پٹرول و ڈیزل کی عالمی قیمتوں کی بنا پر مقامی مارکیٹ میں مقرر ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ جب حکومت قیمت مقرر کرتی ہے تو یہ پٹرول اور ڈیزل کی عالمی قیمتوں پر طے کی جاتی ہے نہ کہ خام تیل کی قیمت پر اس کا تعین ہوتا ہے۔انھوں نے کہا اگر روس سے رعایتی نرخوں پر خام تیل آتا ہے تو اس حکومت کو قیمت مقرر کرنے کا فارمولہ بدلنا پڑے گا۔’روس سے آنے والے خام تیل سے اگر صارفین کو کوئی فائدہ پہنچانا ہے تو اس کے لیے حکومت کو سستا خام تیل خریدنے کی وجہ سے ڈالر میں تو بچت ہو گی لیکن جب اس سے بننے والی ڈیزل اور پٹرول کی مصنوعات کا تعین ان کی عالمی مارکیٹ کیقیمتوں پر ہوگا تو اس کے لیے حکومت کو اس طرح بھی سبسڈی دینی پڑے گی تاہم اس کی مالیت اتنی زیادہ نہیں ہو گی کیونکہ خام تیل رعایتی نرخوں پر مل رہا ہو گا۔‘(بشکریہ : بی بی سی )

Categories
اہم خبریں

عام انتخابات کب ہونگے ؟ فیض حمید آرمی چیف کے امیدوار ہونگے یا نہیں ؟ عمران خان کو دراصل کیوں نکالا گیا ؟ خواجہ آصف کا بی بی سی کو تہلکہ خیز انٹرویو

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی فرحت جاوید کی بی بی سی کے لیے ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ رواں برس پاکستان کی بری فوج کے نئے سربراہ کی تعیناتی سے قبل ہی ملک میں عام انتخابات کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں اُن کا کہنا تھا ’ہو سکتا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی سے پہلے ہم الیکشن ہی کروا دیں۔ نومبر سے پہلے۔ تب نگران حکومت ہو گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے نومبر سے پہلے نگران حکومت چلی جائے اور نئی حکومت آ جائے۔’اس سوال پر کہ نگران حکومت سے پہلے کیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع دی جا سکتی ہے، وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ خود ہی اعلان کر چکے ہیں کہ انھیں مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہیے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ’میں اس اعلان کو خوش آئند سمجھتا ہوں کیونکہ اس سے قیاس آرائیوں کے دروازے بند ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے جنرل راحیل شریف نے بھی کبھی مدت ملازمت میں توسیع کا براہ راست یا بالواسطہ مطالبہ نہیں کیا تھا۔‘خواجہ آصف کا یہ بھی کہنا تھا ملک میں فوجی سربراہ کی تعیناتی کا طریقہ کار اب ’انسٹی ٹیوشنلائز‘ ہونا چاہیے جیسا کہ عدلیہ میں ہوتا ہے۔ ان کا اس بارے میں مزید کہنا تھا کہ ’یہ عمل انسٹی ٹیوشنلائز کرنا چاہیے جیسے عدلیہ میں ہوتا ہے اور اس بارے میں کوئی قیاس آرائی نہیں ہوتی۔ مجھے پتا ہے کہ 2028 میں کس نے چیف جسٹس بننا ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ میری ذاتی رائے ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے کو زیر بحث لانے کی بجائے طریقہ کار سو فیصد میرٹ پر ہو۔ یہ ایک بڑا اور انتہائی اہم معاملہ ہے، اس کو سیاسی بحث کا موضوع ہرگز نہیں بنانا چاہیے۔‘

وفاقی وزیر دفاع نے انٹرویو کے دوران اس تاثر پر بھی بات کی کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی ہی وہ بنیادی معاملہ تھا جو عمران خان کی حکومت کی تبدیلی کی وجہ بنا۔انھوں نے سابق وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اگلے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر عمران خان اپنی ذاتی مرضی کرنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ایسا ہو کہ ان کے سیاسی مفادات اور حکمرانی کے تسلسل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔‘تو کیا یہی ’ذاتی مرضی‘ روکنے کے لیے یہ تمام سرگرمی ہوئی؟ اس پر خواجہ آصف کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ وزیر اعظم کی صوابدید ہے کہ فوج کے بھیجے ناموں میں سے کسی کو منتخب کر لے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ 2013 اور پھر 2016 میں دو آرمی چیفس کی تعیناتی ہوئی۔ اور اس وقت کے وزیر اعظم نے میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کیے اور فوج کی جانب سے ریکمنڈیشن کا مکمل احترام کیا۔نواز شریف، جنرل راحیل شریف کو نہیں جانتے تھے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعیناتی کے وقت انھیں وزیراعظم اس لیے جانتے تھے کہ وہ راولپنڈی کور کمانڈ کر رہے تھے۔ مگر دونوں مرتبہ ادارے کی تجویز کا احترام کیا گیا۔ اور اسی دائرے میں رہتے ہوئے دونوں سربراہان تعینات کیے گئے۔ اب بھی اسی طرح میرٹ پر تعیناتی ہو گی۔‘اس سوال پر کہ مسلم لیگ ن لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر الزامات لگاتی رہی ہے تو کیا انھیں آرمی چیف کے طور پر تعینات کیا جا سکتا ہے، خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ

’اگر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام سینیارٹی لسٹ میں ہوا تو بالکل غور کیا جائے گا۔ ان سب ناموں پر غور ہو گا جو کہ اس فہرست میں موجود ہوں گے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اگر وزیر دفاع پانچ افسران کے نام وزیر اعظم کے پاس لاتا ہے اور ان میں فوج (لیفٹیننٹ) جنرل فیض حمید کا نام بھی تجویز کرتی ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ وزارت دفاع یا وزیر اعظم کے پاس یہ کہنے کی گنجائش ہے کہ پانچ کی بجائے تین یا آٹھ نام بھیجیں۔‘واضح رہے کہ مسلم لیگ نواز کے رہنما، خصوصاً مریم نواز، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر سیاست میں مداخلت اور عمران خان کی حکومت کی حمایت کا الزام لگاتی رہی ہیں۔ یہ الزام انھوں نے گذشتہ ہفتے بھی اپنے ایک جلسے کے دوران دہرایا تھا۔مسلم لیگ ن کے اسی بیانیے سے متعلق جب خواجہ آصف سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ بدقسمتی ہے کہ ہماری سیاست اس چیز میں گھسیٹی گئی یا ہمارے ماضی کے تجربات میں ریڈ لائنز مکس ہو گئیں۔ لیکن گذشتہ ماہ جو ہوا ہے وہ اس بات کا موقع دیتا ہے کہ ہم اب ایک نئے باب کا آغاز کریں اور آئین کی متعین کردہ حدود کی پاسداری کریں، اسی میں پاکستان کی بقا ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’فوج کا ایک تقدس ہے اور یہ پبلک ڈومین میں موضوع بحث نہیں بننا چاہیے اور وہ پارٹی کی سطح پر یہ کہتے ہیں کہ نام نہ لیے جائیں۔‘خیال رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اس وقت الیون کور

کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں، جبکہ اس سے پہلے وہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر تعینات تھے۔ آئی ایس آئی میں اپنی تعیناتی کے دو ادوار کے دوران ان کا نام موضوع بحث رہا اور انھیں خاص طور پر مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی جانب سے ایک متنازع شخصیت سمجھا جاتا رہا۔وہ سابق وزیراعظم عمران خان کے قریب سمجھے جاتے تھے اور ان کے آئی ایس آئی سے تبادلے کے موقع پر عمران خان نے نوٹیفکیشن جاری کرنے سے انکار کیا تھا۔ یہ جی ایچ کیو اور وزیراعظم ہاؤس کے درمیان عمران خان کے دور حکومت کا وہ پہلا تنازع ثابت ہوا جو عوامی سطح پر زیر بحث آیا۔عمران خان نے کچھ ہفتے بعد ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن تو جاری کر دیا مگر فوجی قیادت اور عمران خان کے درمیان خلش اور خلیج بڑھتی چلی گئی۔تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد سابق وزیر اعظم عمران کی مقبولیت میں اضافے اور مسلم لیگ ن کی جانب سے عوامی سطح پر ان کا مقابلہ کرنے میں مشکلات پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بیانیے کی اس لڑائی میں ان کی جماعت کی شکست کا کوئی امکان نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’زیادہ دیر نہیں لگے گی اور صورتحال مستحکم ہو جائے گی۔‘خواجہ آصف کے مطابق وہ تسلیم کرتے ہیں کہ عمران خان ایک ’مقبول عوامی لیڈر‘ ہیں مگر ان کے پاس اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے کچھ موجود نہیں۔انھوں نے کہا کہ ’اسی لیے وہ ان دو تین بیانیوں کے

پیچھے اپنی ناکامی چھپا رہے ہیں جو بدقسمتی سے عوام میں مشہور ہو جاتے ہیں۔ وہ بیک وقت مذہب کی وکٹ پر کھیل رہے ہیں اور اس کے ساتھ امریکہ مخالف بیانیہ بھی دہرا رہے ہیں۔‘مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ روایتی سیاستدانوں کے متبادل کے طور پر ہی سامنے لائی تھی۔عمران خان کو بتدریج بلڈ اپ کیا گیا کہ ایک نیا آدمی لایا جائے جس کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ زیادہ کمفرٹیبل ہو۔ روایتی سیاستدان کے ساتھ کبھی پیار زیادہ ہو جاتا اور کبھی کم ہو جاتا تھا۔ تو انھوں نے سوچا کہ اب یہ نیا آدمی ہے، سیاست میں تازگی لائی جائے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ یہ تجربہ کیا گیا اور اس سے ملک کو نقصان ہوا۔ آج عمران خان کو سوٹ نہیں کرتا کہ ادارے نیوٹرل ہو جائیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اقتدار میں ہوں اور ادارے انھیں بیساکھیاں مہیا کریں۔‘خواجہ آصف کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ ’شرمناک‘ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ چار سالوں میں ہر چیز ایک شخص کی ذات کے گرد گھومتی رہی۔ معیشت، خارجہ پالیسی سے متعلق اقدامات یا اداروں کے درمیان تعلقات، سب انہی کی خواہشات کو سامنے رکھ کر طے پایا گیا۔ یعنی اگر ادارے ماتحت کے طور پر کام کریں تو عمران خان کے لیے ٹھیک ہے۔ لیکن اگر ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں تو عمران خان خوش نہیں ہیں۔ چاہے وہ عدلیہ ہو،

فوج، پارلیمان یا میڈیا ہو۔ میرے خیال میں عمران خان کا فوج مخالف بیانیہ زیادہ عرصہ نہیں چلے گا اور خود ہی ختم ہو جائے گا۔‘عمران خان کی جانب سے فوجی قیادت کا نام لیے بغیر بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ انھیں ’نیوٹرل‘ نہیں ہونا چاہیے اور عمران خان کا ساتھ دینا چاہیے۔ دوسری جانب فوج گذشتہ دو ماہ کے دوران پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کے دوران متعدد بار یہ کہہ چکی ہے کہ افواج کو سیاسی معاملات میں نہ گھسیٹا جائے۔تاہم متعدد فوجی حلقے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت فوج کے خلاف چلنے والی مہم روکنے میں ناکام ہوئی ہے۔اسی بارے میں بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کہتے ہیں کہ وہ فوجی ترجمان کے اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں کہ فوج پبلک پلیٹ فارمز پر اپنا دفاع خود نہیں کر سکتی۔میرے خیال میں یہ بالکل درست ہے کہ فوج عوامی، سیاسی پلیٹ فارمز، پارلیمان اور میڈیا میں اپنا دفاع خود نہیں کر سکتی کیونکہ اس ادارے کا اپنا ایک تقدس ہے۔ اور بار بار اس قسم کے بیانات سے اس تقدس اور احترام میں کچھ سمجھوتہ ہوتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ فوج کے لیے کچھ اسرار و احترام کی فضا ہونی چاہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ وہ خود بطور سیاسی ورکر اور وزیر دفاع موجودہ فوج اور عدلیہ مخالف بیانیے کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کا دفاع کر رہے ہیں اور ان کی حکومت بھی ایسا ہی کرے گی۔انھوں نے کہا کہ ’ہم یقینی طور پر اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل رول کا دفاع کریں گے۔

عدلیہ اور فوج خود نہیں بول سکتے تو ہم لوگ جو قانونی اور آئینی طور پر بول سکتے ہیں، ہم ان اداروں کا دفاع کریں گے۔ کوئی بھی شخص جو آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے، اور آئینی ادارے جو آئین کے مطابق اپنا فرض ادا کر رہے ہیں اور اگر کوئی انھیں یہ کہتا ہے کہ جو نیوٹرل ہیں وہ ’جانور‘ ہیں تو میرا یہ آئینی فرض ہے کہ میں اس کا جواب دوں۔‘اس معاملے پر سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ایسی کارروائی اور ایسے معاملات میں قانون پر عملدرآمد کے حق میں ہیں تاہم ’کسی کو سیاسی شہید بننے کا موقع دینے کے حق میں نہیں ہیں۔‘ عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کے اعلان کے بعد یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ خود مریم نواز بھی اعلٰی فوجی افسران کا نام لیتے ہوئے ان پر سیاسی معاملات میں مداخلت کا الزام لگاتی ہیں۔اس بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ یہ بالکل درست ہے کہ ان کی جماعت کے رہنما ماضی اور حال ہی میں فوجی افسران کا نام لے رہے ہیں تاہم جس طرح عمران خان فوج پر حملے کر رہے ہیں، ایسا پہلے نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان تو واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ جو میں کہہ رہا ہوں تمام ادارے اس پر عمل کریں۔ اس کی اطاعت کریں۔ اور یہ ان کا فرض تھا کہ میری حکومت کی حفاظت کرتے،

وہ کس طرح نیوٹرل رہ سکتے تھے؟ انھیں میری سائیڈ لینی چاہیے تھی۔‘انھوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں عمران خان پیرانوئیڈ ہیں۔ اگر میں سیاسی طور پر اسمبلی میں کمزور ہو جاؤں، میرے حلیف مجھے چھوڑ جائیں، میرے پاس ووٹوں کی طاقت نہ رہے تو اس میں فوج کا کیا قصور ہے؟ یا تو آپ خود یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ 2018 میں یہ سب کچھ فوج نے بنایا تھا۔ اور اب جب وہ پیچھے ہوئے تو سب اتحاد بکھر گیا۔ اب آپ کہتے ہیں کہ وکٹیں دوبارہ لگا دو، اس طرح نہیں ہوتا۔‘وہ کہتے ہیں کہ کسی ایک ادارے کو ہی نہیں بلکہ تمام اداروں کو بھی ماضی کے تمام تجربات اور حادثات سے سیکھنا چاہیے۔اس سوال پر کہ کیا اسٹیبلشمنٹ کو یہ احساس ہوا ہے کہ سیاست میں مداخلت کا تجربہ ناکام ثابت ہوا اور ایسا دوبارہ نہیں ہو گا،خواجہ آصف نے کہا کہ بات اب پچھتاوے سے آگے بڑھنی چاہیے۔میرے خیال میں یہ تجربہ دوبارہ نہیں ہو گا۔ میری خواہش بھی ہے کہ جب ایک دستاویز یعنی آئین بن گیا تو اگر سارے ادارے اس دستاویز پر عمل پیرا ہوں تو میرے خیال میں سب کے لیے اس سے بہتر کوئی حل نہیں۔‘سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد مسلم لیگ ن کو وفاقی حکومت کی کمان سنبھالنے کو ملی ہے۔ ایسے وقت میں جب ملکی معیشت انتہائی کمزور حالت میں کھڑی ہے، نو جماعتوں کی حکومت میں ہر کسی کی اپنی رائے اور ترجیحات ہیں

اور تمام اتحادیوں کو خوش رکھتے ہوئے ملکی حالات میں بہتری کے لیے سخت فیصلے لینا مشکل امر ہے۔تو دوسری جانب عمران خان اور ان کا بیانیہ بھی حکومت کے دردسر بنا ہوا ہے۔اس بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ ان کی جماعت نے ایک بڑا سیاسی رسک لیا ہے۔ ’میرے خیال میں یہ دھکا کسی نے نہیں دیا، ہم نے خود ہی چھلانگ لگائی ہے۔ ملک اس وقت انتہائی مخدوش حالت میں ہے۔ اگر عمران خان مزید چودہ مہینے گزارتے تو تب تک ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔‘وہ کہتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت یقینی طور پر ناکامی کی طرف جا رہی تھی مگر ایسا نہیں کہ عوام ان کا دور اور بدانتظامی بھول گئی ہے۔عمران خان کی سلیٹ صاف نہیں ہوئی۔ ہمارے لیے یہ سیاسی رسک ہے مگر یہ رسک لینا ضروری تھا۔ ایک تو اس حکومت کے رٹ بتدریج کم ہو رہی تھی، عمران خان کے ارد گرد موجود لوگ دولت جمع کر رہے تھے، ان کا اپنا فنانشل بیک گراونڈ خاصا خراب ہے میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا، ان پر کافی سوالات ہیں۔‘وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکز اب علاقائی ممالک ہونے چاہیں اور انڈیا کے علاوہ دیگر تمام ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری آنی چاہیے۔افغانستان کے فوجی اڈوں سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ایسا کوئی مطالبہ ابھی میز پر نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان ایسا مطالبہ قبول کرے گا۔(بشکریہ : بی بی سی )

Categories
اہم خبریں

7بچوں کی ماں 50سالہ خاتون کا 20سالہ لڑکے سے عشق !!! دنوں ہی گھر سے بھاگ گئے

کیرالہ(ویب ڈیسک)7بچوں کی ماں 50سالہ خاتون عشق کے ہاتھوں مجبور ہو کر 20سالہ لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی ۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں یہ واقعہ چھتر پور کے قریب پیش آیا جہاں گندم کی کٹائی کے دوران 50 سالہ خاتون کی 20 برس کے نوجوان سے قربتیں بڑھیں اور اس کے بعد 20 اپریل کو دونوں

گھر سے بھاگ گئے۔ واضح رہے خاتون کے 55 سالہ شوہر کے مطابق ان کی شادی کو 35 برس ہوچکے ہیں اور ان کے سات بچے ہیں۔ ان کی دو بیٹیوں کی شادیاں ہوچکی ہیں ۔ ان کی بیوی کے گھر سے بھاگنے کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ وہ جاتے ہوئے گندم کی کٹائی کی مزدوری کے طور پر ملنے والی رقم بھی ساتھ لے گئی ہے۔

Categories
اہم خبریں

جدید خصوصیات والے نئے پولیمر کرنسی نوٹ جاری

ابو ظہبی(ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں جدید خصوصیات سے آراستہ پانچ اور دس درہم کے نئے پولیمر کرنسی نوٹوں کا اجراء ہو گیا۔سینٹرل بینک آف یو اے ای ( سی بی یو اے ای) کی جانب سے جاری کردہ پانچ اور دس درہم کی مالیت کے نئے کرنسی نوٹ پولیمر سے بنے ہیں جو روایتی سوتی کاغذ کے بینک نوٹوں کے مقابلے میں زیادہ پائیدار اور دیرپا ہیں۔ ان نئے نوٹوں کو رواں ہفتے مارکیٹ میں لایا جائے گا۔نئے پانچ درہم کے نوٹ کو موجودہ نوٹ سے مختلف ڈیزائن دیا گیا

ہے تاکہ پہنچان میں آسانی ہو جبکہ دس درہم کے نوٹ کا رنگ پرانے نوٹ کی طرح ہی برقرار رکھا گیا ہے ، اس کے فرنٹ پر شیخ زید گرینڈ مسجد کی تصویر ہے ۔

Categories
اہم خبریں

خاتون صحافی کی رقص کے ساتھ رپورٹنگ!!! ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا

کیف(نیوز ڈیسک ) بھارتی ٹی وی چینل کی خاتون صحافی کی اچھوتے انداز میں رپورٹنگ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر خاتون صحافی کی خبراچھوتے انداز میں دینے کی ویڈیو تیزی سے مقبول ہورہی ہے جس پر صارفین انک ے انداز پر حیرت کا اظہار کررہے ہیں جبکہ کچھ انہیں تقید

کا نشانہ بھی بنارہے ہیں۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون سنجیدہ معاملے پر رقص کرتے ہوئے مزاحیہ انداز سے رپورٹ کررہی ہیں۔خاتون صحافی کی ٹوئٹر پروفائل پر نظر دوڑائی جائے تو کبھی وہ کسی تباہ شدہ جنگی ٹینک کے اوپر کھڑی نظر آرہی ہیں تو کبھی تباہ شدہ عمارتوں کے ہمراہ تصویر بنوارہی ہیں۔ خاتون رپورٹر کو اپنے منفرد انداز کے سبب سوشل میڈیا پر طنز و مزاح کا سامنا بھی ہے جبکہ کئی صارفین نے انہیں ڈانسنگ رپورٹر کے لقب سے بھی نوازا۔

Categories
اہم خبریں

اس سال کیا رمضان المبارک کے 30 روزے پورے ہونگے ،عید کب ہوگی ؟

لاہور(نیوز ڈیسک ) ماہ رمضان کے آتے ہی یہ خبریں زور پکڑنے لگتی ہیں کہ اس بار ماہ رمضان کے روزے 30 مکمل ہونگے یا نہیں ؟جس کےبعد ہر دوسرا تیسرا بندہ اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ آیا عید کس دن ہو گی ؟ایسے میں متحدہ عرب امارات میں فلکیاتی انجمن کے چیئرمین ابراہیم الجروان نے کہا ہے کہ اس سال رمضان کے 30 روزے ہوں گے اورعید

الفطر پیر دو مئی 2022 کو ہونے کا واضح امکان ہے ۔انہوں نے کہا کہ عید کا چاند ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب 12 بجکر 28 منٹ پر پیدا ہونے کا امکان ہے، اتوار کی شام کو سورج غروب ہونے پر جو چاند نظر آئے گا اس وقت اس کی پیدائش پر ساڑھے 18 گھنٹے گزر چکے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اتوار کی شام کو تمام عرب ملکوں میں چاند اچھی طرح سے نظر آجائے گا۔ اس طرح اتوار کو رمضان کا 30 واں روزہ ہوگا اور پیر کو عید الفطر منائی جائے گی ۔

Categories
اہم خبریں

وہ سال جس میں رمضان المبارک کے 36 روزے ہوں گے ؟ ماہر فلکیات نےتہلکہ خیز دعویٰ کردیا

ریاض (ویب ڈیسک) سعودی ماہر فلکیات نے انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2030 میں رمضان المبارک میں 36 روزے ہوں گے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی ماہر فلکیات خالد الزعاق نے کہا ہے کہ 2030 میں رمضان 2 مرتبہ آئے گا جس کی وجہ عیسوی سال میں 2 ہجری سالوں کی آمد ہے اور عیسوی و ہجری سال میں 11 روز کا فرق ہوتا ہے۔ خالد الزعاق نے کہا

کہ 2030 منفرد سال ہو گا کیوں کہ اس سال مسلمان 36 روزے رکھیں گے۔ 30 روزے جنوری 2030 میں اور 6 روزے دسمبر 2030 میں رکھے جائیں گے۔العربیہ کے مطابق سعودی ماہر فلکیات کا کہنا تھا کہ 1451 ہجری میں رمضان کا آغاز 5 جنوری 2030 کو ہو گا اور 1452 ہجری میں رمضان کی شروعات 26 دسمبر 2030 کو ہو گی۔

Categories
اہم خبریں

لائیو نیوز کانفرنس کے دوران خاتون کو گھسیٹ کر باہر نکال دیا گیا !!! وجہ کیا بنی؟؟

فراس (نیوز ڈیسک)فرانس میں پریس کانفرنس کے دوران ایک خاتون نے وزیر کے سامنے احتجاج کیا تو سیکیورٹی گارڈز اس کو گھسیٹ کر لے گئے،لیکن اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو یہ ہی لوگ خواتین کو آزادی دینے کا درس سب سے زیادہ دیتے ہیں ۔ایسی ایک ویڈیو افغان سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی جس میں دکھا یا گیا کہ ایک پریس کانفرنس کے دوران خاتون کو صرف اس لیے گھسیٹ کر

باہر نکالا گیا کہ اس خاتون نے وزیر کیخلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کی کوشش کی تھی ۔افغان شہری نے ٹوئٹر پر یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے عالمی برادری سے پوچھا اگر ایسا کوئی واقعہ افغانستان میں ہوتا تو اب تک چیخ و پکار مچ چکی ہوتی، یہ ہے مغرب میں عورت کی عزت۔۔۔

Categories
اہم خبریں

ایسے تو ہر کوئی شروع ہوجائیگا۔۔۔!! عامر لیاقت نے کم عمر لڑکیوں سے شادی کیوں کرتے ہیں؟ وجہ بتادی

کراچی(نیوز ڈیسک ) عامر لیاقت نے کم عمر لڑکیوں سے شادی کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان لڑکیوں کو گناہوں سے بچانے کیلئے ان سے شادی کرتا ہوں۔انسٹا گرام سٹوری پر اپنی ایک پوسٹ میں عامر لیاقت نے کم عمر لڑکیوں سے شادی کی وجہ بتاتے ہوئے لکھا کہ آئی بی اے، لمز اوربیکن ہاؤس کی لڑکیاں میرے پیار میں پاگل ہیں، اور ان میں بہت سی لڑکیاں ہیں جو ان سے

شادی کی خواہشمند ہیں کیونکہ وہ ایک حلال رشتہ چاہتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ ایسی لڑکیوں کو گناہوں سے بچانے کے لیے شادی کرتے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں ایک اسلامی اسکالر کی حیثیت سے اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ ایک حلال رشتے کوترجیح دوں۔واضح رہے کہ عامرلیاقت نے سیدہ طوبیٰ سے علیحدگی کے بعد رواں برس فروری میں لودھراں سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ دانیہ سے تیسری شادی کی تھی۔

Categories
اہم خبریں

صارفین کے لئے بڑی خوشخبری!! واٹس ایپ نے اہم فیچر پیش کردیا

لندن: (ویب ڈیسک) سماجی رابطوں کی مقبول ترین ایپ ’’واٹس ایپ‘‘ نے حال ہی میں دو جی بی تک کی میڈیا فائل بھیجنے کی سہولت کا اعلان کیا تھا اور اب اس کےلیے بعض صارفین کو ای ٹی اے یعنی مقررہ وقت کے اندازے کا آپشن پیش کیا ہے۔ اس

 

 

سے قبل ہم صرف 25 ایم بی کے فائل ہی بھیج سکتے تھے جسے اب بڑھایا گیا اور فائل بڑھنے سے اس کا دورانیہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واٹس ایپ صارفین بڑی میڈیا فائل بھیجنے کے لیے ایک ایسی سہولت کی تلاش میں تھے جو فائل ٹرانسفر کے مقررہ وقت کو ظاہر کرسکے۔ اب واٹس ایپ نے بعض صارفین کے لیے اسی سہولت یا ای ٹی اے کی سہولت پیش کردی ہے۔ اس کے علاوہ واٹس ایپ کے نئے فیچرمیں  بڑی فائل مکمل ڈاؤن لوڈ ہونے کے بعد اس کی اطلاع بھی مل جاتی ہے کہ فائل مکمل ڈاؤن لوڈ ہوجاتی ہے۔ یعنی ایسٹمیٹڈ ٹائم آف ارائیول میڈیا کی ڈاؤن لوڈنگ اور اپ لوڈنگ دونوں کا وقت ہی ظاہر کرتا ہے۔ واٹس ایپ کے اس نئے اور اہم فیچر کی خبر خود سب سے مشہور پلیٹ فارم نے پہلے پیش کی ہے جس کا نام ’ویب بی ٹا انفو‘ ہے۔اس کے بعد سافٹ ویئر اور ایپس کی خبر دینے والے دیگر اہم ویب سائٹس نے بھی اس پر روشنی ڈالی ہے۔ فی الحال ارجنٹینا کے بی ٹا ٹیسٹر اس آپشن کی آزمائش کررہے ہیں۔ اس طرح آئی او ایس، ویب، اور ڈیسک ٹاپ کے تمام ورژن پر بھی یہ سہولت موجود ہوگی لیکن فی الحال بی ٹا ٹیسٹ جاری ہے۔ واٹس ایپ نے کہا ہے کہ مختلف نیٹ ورکس پرڈیٹا ٹرانسفر کی رفتار مختلف ہوسکتی ہے۔ فائیو جی رابطے یا بہتر انٹرنیٹ میں اس سے فرق پڑسکتا ہے۔ واٹس ایپ نے یہ بھی کہا ہے کہ بی ٹا ٹیسٹنگ کے بعد اس آپشن کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

Categories
اہم خبریں

شہباز شریف کو ‘ہینڈسم وزیراعظم’ کا خطاب کس نے دیا؟ سن کر آپ حیران رہ جائیں

لاہور: (ویب ڈیسک) سابق وزیر اعظم عمران خان کے بعد اب نو منتخب وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی ’ہینڈ سم وزیر اعظم ‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ شہباز شریف کو یہ خطاب معروف کامیڈین و میزبان شفاعت علی کی جانب سے دیا گیا۔ شفاعت علی نے ٹوئٹر پر نومنتخب وزیراعظم کی قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کی ایک تصویر شیئر کی جس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا کہ  ‘ہینڈسم تو یہ بھی ہے۔‘ شفاعت علی نے جیسے ہی یہ ٹوئٹ کیا ویسے ہی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس ٹوئٹ پر تبصروں کا سلسلہ جاری ہوگیا اور لوگوں نے ملے جلے تاثرات کا اظہار کیا۔ یہاں تک کہ شفاعت علی کی اس ٹوئٹ پر مریم نواز نے ان سے ایک دلچسپ مطالبہ بھی کردیا۔ مریم نواز نے اس پوسٹ کے کمنٹ میں شفاعت علی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’اس خوشی میں آپ سے پر زور مطالبہ ہے کہ اِن کے اعزاز میں ایک ویڈیو بنا کے بھی پوسٹ کی جائے۔‘