Categories
اہم خبریں

برلن میں پاکستانی مشن نے کتنی گاڑیاں خرید لیں ؟ تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) برلن میں پاکستانی مشن کی جانب سے بلا اجازت 33 گاڑیاں خریدنے کا انکشاف ہوا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر مشاہد حسین سید کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں

وزارت خارجہ کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزارت خارجہ ہیڈ کوارٹر اور بیرون ملک مشنز میں 79 افسران کو الاؤنس کی مد میں ایک کروڑ 73 لاکھ روپے اضافی ادا کرنے کا انکشاف ہوا۔ پی اے سی نے اضافی ادائیگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ قائم مقام سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ مذکورہ افسران سے ریکوری کی جا رہی ہے۔ اجلاس کے دوران برلن میں پاکستانی مشن کی جانب سے بلا اجازت 33 گاڑیاں خریدنے کا انکشاف ہوا، آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی پابندی کے باوجود ایک ارب 46 کروڑ روپے کی گاڑیاں خریدی گئیں۔ دوسری جانب ملک میں توانائی کے بحران کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ بینکوں نے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے اور اس کی توثیق سے انکار کر دیا ہے۔ آئل ایڈوائزری کونسل نے سیکریٹری فنانس اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی توجہ اس گھمیر صورت حال کی جانب مبذول کرائی ہے۔ آئل ایڈوائزی کونسل کی جانب سے لکھے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ تیل کمپنیوں کے ممبران اور ریفائنریز کی جانب سے اس امر کی نشاندہی کرنا چاہتی ہے کہ بینک تیل درآمدات کے لیے لیٹر آف کریڈٹ فراہم نہیں کر رہے اور ایل سیز وقت پر فراہم نہیں کیے گئے تو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید کمی واقع ہوگی اور اگر طلب اور رسد میں فرق پیدا ہوا تو صورت حال کو قابو کرنے کے لیے چھ سے آٹھ ہفتے مزید لگ سکتے ہیں۔ اپنے مراسلے میں آئل ایڈوائزی کونسل کا مزید کہنا تھا کہ بینکوں کی جانب سے ایل سیز وقت پر نہ کھولنے کے باعث متعدد درآمدی شپمنٹ تاخیر کا شکار ہیں اور بہت سے کیسنل کرنا پڑی ہیں۔ تیل کی درآمد میں رکاوٹ اور تاخیر سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ وزارت پیٹرولیم اور مرکزی بینک مداخلت کرتے ہوئے تیل کے درآمدی عمل کے تسلسل کو یقینی بنائیں۔ اس حوالے سے ہیسکول پیٹرولیم لمیٹڈ نے بھی گورنر اسٹیٹ بینک کو ایک خط لکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی کو تیل کی درآمد کے سلسلے میں بینکوں میں لیٹر آف کریڈٹ کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس مسئلے کو بروقت حل نہ کیا گیا تو ملک میں تیل کی سپلائی میں کمی واقع ہوگء جس سے مسائل میں اضافہ ہوگا۔

Categories
اہم خبریں

پاکستان کے ڈیفالٹ کا خطرہ ؟ عالمی ادارے کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف

جنیوا: (ویب ڈیسک) عالمی اقتصادی ادارے ورلڈ اکنامک فورم نے 2025 تک پاکستان کو درپیش 10 بڑے خطرات کی نشاندہی کر دی۔ عالمی اقتصادی ادارے ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل رسک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے کا سامنا ہے۔ اگلے دو سال تک پاکستان کو خوراک کی کمی، سائبر سیکیورٹی

مہنگائی اور معاشی بحران کے خطرات درپیش ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو عدم استحکام کے ساتھ خوارک،قرضوں کے بحران کا سامنا ہے،خطے کے ممالک آبی وسائل کو علاقائی تنازعات میں بطور ہتھیار بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان میں سیلاب سے آٹھ لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی زمین تباہ ہوئی، جس سے اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ دوسری جانب ملک میں توانائی کے بحران کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ بینکوں نے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے اور اس کی توثیق سے انکار کر دیا ہے۔ آئل ایڈوائزری کونسل نے سیکریٹری فنانس اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی توجہ اس گھمیر صورت حال کی جانب مبذول کرائی ہے۔ آئل ایڈوائزی کونسل کی جانب سے لکھے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ تیل کمپنیوں کے ممبران اور ریفائنریز کی جانب سے اس امر کی نشاندہی کرنا چاہتی ہے کہ بینک تیل درآمدات کے لیے لیٹر آف کریڈٹ فراہم نہیں کر رہے اور ایل سیز وقت پر فراہم نہیں کیے گئے تو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید کمی واقع ہوگی اور اگر طلب اور رسد میں فرق پیدا ہوا تو صورت حال کو قابو کرنے کے لیے چھ سے آٹھ ہفتے مزید لگ سکتے ہیں۔ اپنے مراسلے میں آئل ایڈوائزی کونسل کا مزید کہنا تھا کہ بینکوں کی جانب سے ایل سیز وقت پر نہ کھولنے کے باعث متعدد درآمدی شپمنٹ تاخیر کا شکار ہیں اور بہت سے کیسنل کرنا پڑی ہیں۔ تیل کی درآمد میں رکاوٹ اور تاخیر سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ وزارت پیٹرولیم اور مرکزی بینک مداخلت کرتے ہوئے تیل کے درآمدی عمل کے تسلسل کو یقینی بنائیں۔ اس حوالے سے ہیسکول پیٹرولیم لمیٹڈ نے بھی گورنر اسٹیٹ بینک کو ایک خط لکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی کو تیل کی درآمد کے سلسلے میں بینکوں میں لیٹر آف کریڈٹ کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس مسئلے کو بروقت حل نہ کیا گیا تو ملک میں تیل کی سپلائی میں کمی واقع ہوگء جس سے مسائل میں اضافہ ہوگا۔

Categories
اہم خبریں

خبردار: پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے بُری خبر آگئی

لاہور: (ویب ڈیسک) ملک میں توانائی کے بحران کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ بینکوں نے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے اور اس کی توثیق سے انکار کر دیا ہے۔ آئل ایڈوائزری کونسل نے سیکریٹری فنانس اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی توجہ اس گھمیر صورت حال
کی جانب مبذول کرائی ہے۔ آئل ایڈوائزی کونسل کی جانب سے لکھے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ تیل کمپنیوں کے ممبران اور ریفائنریز کی جانب سے اس امر کی نشاندہی کرنا چاہتی ہے کہ بینک تیل درآمدات کے لیے لیٹر آف کریڈٹ فراہم نہیں کر رہے اور ایل سیز وقت پر فراہم نہیں کیے گئے تو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید کمی واقع ہوگی اور اگر طلب اور رسد میں فرق پیدا ہوا تو صورت حال کو قابو کرنے کے لیے چھ سے آٹھ ہفتے مزید لگ سکتے ہیں۔ اپنے مراسلے میں آئل ایڈوائزی کونسل کا مزید کہنا تھا کہ بینکوں کی جانب سے ایل سیز وقت پر نہ کھولنے کے باعث متعدد درآمدی شپمنٹ تاخیر کا شکار ہیں اور بہت سے کیسنل کرنا پڑی ہیں۔ تیل کی درآمد میں رکاوٹ اور تاخیر سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ وزارت پیٹرولیم اور مرکزی بینک مداخلت کرتے ہوئے تیل کے درآمدی عمل کے تسلسل کو یقینی بنائیں۔ اس حوالے سے ہیسکول پیٹرولیم لمیٹڈ نے بھی گورنر اسٹیٹ بینک کو ایک خط لکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی کو تیل کی درآمد کے سلسلے میں بینکوں میں لیٹر آف کریڈٹ کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس مسئلے کو بروقت حل نہ کیا گیا تو ملک میں تیل کی سپلائی میں کمی واقع ہوگء جس سے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب عالمی اقتصادی ادارے ورلڈ اکنامک فورم نے 2025 تک پاکستان کو درپیش 10 بڑے خطرات کی نشاندہی کر دی۔ عالمی اقتصادی ادارے ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل رسک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے کا سامنا ہے۔ اگلے دو سال تک پاکستان کو خوراک کی کمی، سائبر سیکیورٹی مہنگائی اور معاشی بحران کے خطرات درپیش ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو عدم استحکام کے ساتھ خوارک،قرضوں کے بحران کا سامنا ہے،خطے کے ممالک آبی وسائل کو علاقائی تنازعات میں بطور ہتھیار بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان میں سیلاب سے آٹھ لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی زمین تباہ ہوئی، جس سے اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

Categories
اہم خبریں

سعودی عرب نے عازمین حج کو خوشخبری سنا دی

ریاض: (ویب ڈیسک) سعودی عرب نے کہا ہے کہ جبل نور، غار ثور اور غار حرا کو جلد زائرین کے لیے کھول دیا جائے گا۔ ہیریٹیج اتھارٹی کے مشیر اور سعودی ضیوف الرحمٰن پروگرم کی خدمت کے اقدامات کے جنرل نگران عبدالرحمن بن جصاص نے کہا کہ غار ثور، جبل النور اور غار حرا کو ضروری اقدامات مکمل

کرنے کے بعد جلد زائرین کے لیے کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر تاریخی مقامات کے لیے بھی ڈیزائن طلب کر لیے گئے ہیں ۔ان مقامات کو بھی زائرین کے لیے تیار کیا جائے گا۔ حدیبیہ امن معاہدہ، مسجد بیعہ اور بئر طویٰ کو بھی نئے انداز سے تیار کیا جائے گا۔ تقریبا 7500 سے زائد مقامات کا سروے مکمل ہو چکا ہے جن میں زیادہ تر شہری علاقوں میں ہیں۔ سعودی عرب اور اقوام متحدہ کی تعلیمی و ثقافتی علوم کی تنظیم ’’یونیسکو‘‘ نے 12 غیر محسوس ورثہ کے علاقوں کو رجسٹرڈ کیا ہے۔ عرفات کے علاقے میں ایسے تاریخی مقامات ہیں جو مستقل نمائش کے لیے موزوں ہیں۔ حج کے موقع پر ہرسال حجاج کی بہت بڑی تعداد عرفات آتی ہے۔

Categories
اہم خبریں

عدلیہ نوٹس لے!!! وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے خبردار کر دیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر تصادم کا خدشہ ہے۔ وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کراچی اورحیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پرکشیدگی پرگہری تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے 15 جنوری کوانعقاد پرسیاسی

تفصیلات کے مطابق وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر تصادم کا خدشہ ہے۔ وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کراچی اورحیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پرکشیدگی پرگہری تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے 15 جنوری کوانعقاد پرسیاسی جماعتوں کےدرمیان اختلافات نےتشویشناک صورتحال اختیارکرلی ہے۔موجودہ صورتحال میں کراچی اورحیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کےمعاملے پرتصادم کا خدشہ ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بعض شرپسندعناصر صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، تصادم اورامن وامان کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔کوئی ایک چھوٹا سا واقعہ کراچی اورحیدرآباد میں کسی بڑے حادثے کا سبب بھی بن سکتاہے۔سیاسی جماعتوں اورالیکشن سےمتعلقہ دیگر فریقین کومعاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی کی فضاکو ڈی فیوزکرنےکی ضرورت ہے۔الیکشن کمیشن اور عدلیہ حالات کی سنگینی کا نوٹس لیں، آئین اور قانون کی روشنی میں مناسب حل نکالا جائے۔ دوسری جانب وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عوام کے جان ومال کی حفاظت اور صوبے میں امن وامان وزیراعلی خیبر پختونخواہ کی ترجیح نہیں ہے۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا کی ساری توانائیاں صوبائی اسمبلیاں توڑنے پر مرکوز ہیں۔حالیہ واقعے سے لگتا ہے کہ خیبر پختونخواہ حکومت نے بنوں سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرزپر حملے سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کو صوبہ خیبرپختونخواہ میں مسلسل بگڑتی ہوئی امن امان کی صورتحال پرسخت تشویش ہے۔دہشتگردوں کے حملوں میں کے پی پولیس بھی محفوظ نہیں تو عوام کے تحفظ کا کیا ہوگا۔ وزیر داخلہ نے پشاور میں تھانہ سربند پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہدا کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔

Categories
اہم خبریں

عمران خان کو آخری وارننگ

لاہور: (ویب ڈیسک) بینکنگ کورٹ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان کی ایک دن کی حاضری سے استثنی کی درخواست وارننگ کے ساتھ منظور کرلی۔ عدالت نے عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کے لیے آخری موقع دے دیا۔ عمران خان کی درخواست پر بینکنگ کورٹ کی جج رخشدہ شاہین نے تحریری حکم

نامہ جاری کر دیا۔ بینکنگ کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو 31 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ عمران خان آئندہ سماعت پر ہر صورت عدالت کے سامنے پیش ہوں۔ عدالت نے 31 جنوری کو فریقین سے دلائل طلب کرلیے۔ عمران خان نے بینکنگ کورٹ میں ضمانت کے لیے رجوع کررکھا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارٹی کے سینئر رہنماوں کے اجلاس میں پنجاب اسمبلی کی تحلیل میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا فیصلہ کرلیا۔ شہباز شریف کی 2 روزہ بیرون ملک مصروفیات کے بعد وطن واپسی کے بعد رہائشگاہ ماڈل ٹاؤں سیاسی مصروفیات کا مرکز بن گیا جہاں وفاقی وزرا اور معاونین خصوصی حاضر ہوئے اور پنجاب کی حالیہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔ اس حوالے ذرائع نے بتایا کہ اسمبلی کی تحلیل کے بعد پارٹی کا بھر پور تیاری کے ساتھ انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات آئین میں دئیے گئے وقت کے مطابق کرانے کی تجویز الیکشن کمیشن کو دینے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی واپسی نگران سیٹ اپ کے قیام سے مشروط ہے جبکہ نگران سیٹ کے لئے ناموں کی حتمی منظوری نواز شریف دیں گے۔ علاوہ ازیں پارٹی کے اندر کالی بھیڑوں کو بھی نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، وزیراعظم کے معاونین خصوصی ملک احمد خان اور عطا اللہ تارڑ شہباز شریف کی رہائشگاہ ماڈل ٹاون پہنچے اور پنجاب اسمبلی کی تحلیل سمیت سیاسی امور پر مشاورت کی۔ بعدازاں وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی سمری پر وہی ہو گا جو آئین و قانون کہتا ہے، ہم الیکشن سے گھبرانے والے نہیں، آخر میں جو عمران خان کے ساتھ ہونا ہے پھر پتہ لگے گا۔

Categories
اہم خبریں

پی ٹی آئی کی پنجاب اسمبلی کو بچانے کےلئے ن لیگ کو آفر

لاہور: (ویب ڈیسک) اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان پنجاب اسمبلی کو اب بھی بچانے کے لیے تجویز سامنے لے آئے۔ ایک پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا اگر اپوزیشن عام انتخابات کی تاریخ پر ہم سے بات کرے تو اسمبلی اب بھی بچ سکتی ہے۔ سبطین خان نے کہا کہ اس صورت میں وزیراعلیٰ

اسمبلی توڑنے کی سمری واپس لے سکتے ہیں یا پھر گورنر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم الیکشن کی تاریخ دے رہے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارٹی کے سینئر رہنماوں کے اجلاس میں پنجاب اسمبلی کی تحلیل میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا فیصلہ کرلیا۔ شہباز شریف کی 2 روزہ بیرون ملک مصروفیات کے بعد وطن واپسی کے بعد رہائشگاہ ماڈل ٹاؤں سیاسی مصروفیات کا مرکز بن گیا جہاں وفاقی وزرا اور معاونین خصوصی حاضر ہوئے اور پنجاب کی حالیہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔ اس حوالے ذرائع نے بتایا کہ اسمبلی کی تحلیل کے بعد پارٹی کا بھر پور تیاری کے ساتھ انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات آئین میں دئیے گئے وقت کے مطابق کرانے کی تجویز الیکشن کمیشن کو دینے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی واپسی نگران سیٹ اپ کے قیام سے مشروط ہے جبکہ نگران سیٹ کے لئے ناموں کی حتمی منظوری نواز شریف دیں گے۔ علاوہ ازیں پارٹی کے اندر کالی بھیڑوں کو بھی نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، وزیراعظم کے معاونین خصوصی ملک احمد خان اور عطا اللہ تارڑ شہباز شریف کی رہائشگاہ ماڈل ٹاون پہنچے اور پنجاب اسمبلی کی تحلیل سمیت سیاسی امور پر مشاورت کی۔ بعدازاں وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی سمری پر وہی ہو گا جو آئین و قانون کہتا ہے، ہم الیکشن سے گھبرانے والے نہیں، آخر میں جو عمران خان کے ساتھ ہونا ہے پھر پتہ لگے گا۔

Categories
اہم خبریں

ٹیکنوکریٹ حکومت کی بازگشت!!!! انتخابات سے قبل عمران خان نااہل ہوجائیں گے؟ بڑی خبر آگئی

لاہور: (ویب ڈیسک) ایم جے گوہر اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” قوم کے رہنما جب ملت کے مسائل کا حل ڈھونڈنے نکلتے ہیں تو انھیں زمینی حقائق، ماضی کے تجربات، مستقبل کے خطرات اور ملک و قوم کی امکانی امیدوں و توقعات کا کماحقہ ادراک ہونا چاہیے۔ حقیقت بہرحال حقیقت ہوتی ہے اسے خیالوں کے رنگوں سے بدلا نہیں جاسکتا۔ اسباب کی اس دنیا میں صرف حقیقت کو بدلنے ہی سے نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

ایک ایسا سماج جہاں امتیاز اور لیاقت کی بنیاد پر لوگوں کو درجات اور مناصب ملتے ہیں وہاں ہم مراعات اور تحفظات کے عنوان پر بحث کر رہے ہیں۔ ایک ایسا نظام جہاں علمی و اقتصادی طاقت کے بل بوتے پر قوموں کے مستقبل کے فیصلے ہوتے ہیں وہاں ہم احتجاج اور مطالبات کے پوسٹر دیواروں پر چسپاں کرکے کامیابی کے خیالی پلاؤ پکا رہے ہیں۔ ایک ایسا زمانہ جہاں عالمی ذہن نے سیاست کو سیکولر بنیادوں پر قائم کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے وہاں ہم عوام کا ذہن بدلے بغیر ہی بیلٹ باکس کے ذریعے اسلامی نظام برآمد کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ایک ایسی آبادی جہاں اختلاف اور شکایت کے گہرے مادی اسباب موجود ہیں، وہاں لفظی جوشیلی تقریروں اور رٹے رٹائے روایتی بیانات کے ذریعے حالات کو درست سمت میں لانے کے دعوے اور وعدے کر رہے ہوں، ایک ایسا معاشرہ جہاں ہم تعلیم، معاشی ترقی، اقتصادی استحکام، انصاف کی فراہمی، باہمی اتحاد و اخوت غرض ہر شعبہ ہائے زندگی میں ہر لحاظ سے اپنے ہم عصروں میں سب سے پیچھے ہیں وہاں ہم جلسوں، سیمیناروں اور مذاکروں میں سینے چوڑے کرکے ملک کی قسمت بدلنے کے کھوکھلے نعرے لگا رہے ہیں۔ ایک ایسا ماحول جہاں ہمارے پاس خود اپنے تحفظ کی طاقت نہیں ہے وہاں ہم حریف پر قابو پانے اور اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے دعوے کر رہے ہیں۔ اس قسم کی بے سر و پا باتیں سن سن کر عوام الناس سخت مشکل اور شش و پنج میں ہیں کہ وہ کہاں جائیں، کس کی بات پر اعتبار کریں، کس پر یقین کریں، کس کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مستقبل کی منصوبہ بندی کریں تاکہ ان کا بھروسہ قائم رہے۔

آج ہم سات دہائیوں کا سفر طے کرنے کے بعد بھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ ملک کو آج بھی تختہ مشق بنایا ہوا ہے۔ معیشت سے لے کر سیاست تک ملک کے دو اہم ترین شعبے اور ان سے جڑے ادارے اور افراد سب کی کارکردگی کے آگے بڑے سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ معیشت کی زبوں حالی کا یہ عالم ہے کہ ملک ’’ڈی فالٹ‘‘ کی طرف جا رہا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، ڈالر کی عدم دستیابی زبان زد عام ہے۔ سرمایہ کار، تاجر، صنعت کار ہر شعبے کے لوگ متفکر ہیں کہ ان کا اور معیشت کا مستقبل کیا ہوگا، اگر ملک ڈیفالٹ کر گیا تو ان کا سرمایہ ڈوب جائے گا۔ کیوں کہ عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف اپنی کڑی شرائط کی تکمیل کے بغیر قرض کی اگلی قسط جاری کرنے پر تیار نہیں۔ باوجود اس کے کہ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر آئی ایم ایف کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ اس کی تمام شرائط پوری کرنے کو تیار ہیں۔ عالمی ادارے کی طرف سے کوئی واضح دو ٹوک جواب سامنے نہیں آیا۔ دیرینہ دوست چین نے بھی آئی ایم ایف سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی مشکلات کا احساس کرے اور اس کے ساتھ مالی تعاون میں سنجیدہ طرز عمل اختیار کرے۔ المیہ یہ ہے کہ جب تک آئی ایم ایف کی قسط جاری نہیں ہوگی دوست ممالک بھی پاکستان کو مالی تعاون فراہم کرنے پر تیار نظر نہیں آتے۔ شہباز حکومت مسلسل یہ دعوے کر رہی ہے کہ اگرچہ معیشت مشکل صورت حال میں گھر گئی ہے لیکن ہم جلد حالات پر قابو پالیں گے، ملک ڈیفالٹ نہیں کرے گا اور معیشت جلد مستحکم ہو جائے گی، لیکن ایسا ہوگا کیسے؟

اس حوالے سے شہباز حکومت کے پاس کوئی واضح پروگرام نہیں ہے۔ معیشت کی بحالی و استحکام کی ساری امیدیں اور توقعات دوست ممالک کی مالی امداد اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرض کے حصول سے وابستہ ہیں، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے لیے وزیر اعظم ٹیکسوں میں اضافے، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی آئی ایم ایف کو جو یقین دہانیاں کرا رہے ہیں۔ کیا حکمرانوں نے یہ سوچا کہ ان اشیا کی قیمتیں بڑھانے سے قرض تو مل جائے گا لیکن عوام پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ گرانی و مہنگائی اور بے روزگاری و غربت کا جو طوفان آئے گا اس سے کیسے نمٹا جائے گا؟ آج حالت یہ ہے کہ عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے آٹا خریدنے کے قابل نہیں۔ آٹے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر اس میں اضافہ ہو رہا ہے، آلو، پیاز، ٹماٹر، گوشت، دودھ، دالیں غرض اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں برق رفتاری سے ہونے والا اضافہ عوام کی زندگی اجیرن کر رہا ہے اور شہباز حکومت بیرونی دنیا کے آگے دست سوال دراز کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ اس ضمن میں گزشتہ برس آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں سے بجا طور پر معیشت کو بھی جھٹکے لگے جس سے اربوں ڈالر کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے اس حوالے سے چار روز پیش تر جنیوا میں بین الاقوامی کانفرنس کے دوران عالمی برادری نے اپنے دست تعاون کو بڑھاتے ہوئے تقریباً ساڑھے دس ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے جو ابھی صرف اعلان ہے، لیکن امید کے دیے ضرور روشن ہوئے ہیں۔جملہ امدادی رقم پاکستان کو ملنے سے معیشت کو کچھ سہارا ملے گا لیکن لازم ہے کہ اس رقم کو سیلاب زدگان پر ہی خرچ کیا جائے وہ آج جس مشکل صورت حال میں زندگی گزار رہے ہیں وہ قابل رحم ہے۔ ان سب کی بحالی ازبس ضروری ہے۔ جہاں تک سیاسی بحران کا تعلق ہے تو پی ڈی ایم کی حکومت اور واحد اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے درمیان نئے الیکشن کے حوالے سے رسہ کشی جاری ہے۔ پی ٹی آئی میں دھڑے بندی کرکے نئی سیاسی جماعت بنانے تک ایک کشمکش جاری ہے۔ عمران خان کی نااہلی اور نواز شریف کی واپسی سے لے کر ٹیکنوکریٹ کی حکومت بنانے تک ایک نیا کھیل کھیلنے کے تانے بانے بننے کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ نہیں معلوم کہ معاشی و سیاسی محاذ پر جنگ کا ’’آخری نتیجہ‘‘ کیا ہوگا۔ کیا ملک ڈیفالٹ سے بچ جائے گا؟ کیا وطن میں 2023 میں سیاسی استحکام آ جائے گا؟

Categories
اہم خبریں

یہ بچہ پیدا ہوا ہے ،نیا پیدا ہوا ہے ؟ وزیر اعظم آزاد کشمیر کے جملے کے سوشل میڈیا پر چرچے

مظفر آباد: (ویب ڈیسک) وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کا ایک جملہ اس وقت سوشل میڈیا پر کافی مشہور ہو رہا ہے ، جو انہوں نے حال ہی میں ایک ہسپتال کے وزٹ کے دوران کہا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سردار تنویر الیاس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائر ل ہو رہی ہے

جس میں ممکنہ طور پر کسی ہسپتال کا دورہ کر رہے ہیں اور وہاں موجود خاتون سے پوچھتے ہیں کہ یہ بچہ پیدا ہوا ہے ، نیا پیدا ہوا ہے ؟ آپ کو کیا لگ رہا ہے؟

Categories
اہم خبریں

دعا زہرا کس کے پاس رہے گی؟ عدالت نے بڑا حکم سنا دیا

کراچی: (ویب ڈیسک) سندھ ہائی کورٹ نے کراچی سے لاہور جاکر شادی کرنے والی لڑکی کو والدین کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ لڑکی کی حوالگی سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے شیلٹر ہوم کو بچی والدین کے حوالے کرنے کا حکم دیتے ہوئے شوہر ظہیر احمد کی درخواست مسترد کردی۔

جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے روبرو کراچی سے لاہور جا کر پسند کی شادی کرنے کے معاملے پر والدین اور شوہر کی لڑکی کی حوالگی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی، جس میں لڑکی کا شوہر ظہیر احمد بھی عدالت کے سامنے پیش ہوا۔ دوران سماعت ملزم ظہیر احمد کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ لڑکی کے والد کی درخواست قابل سماعت ہی نہیں ہے۔ یہی درخواست ابھی ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ لڑکی زیر حراست کیسے ہوسکتی ہے؟ لڑکی کو عدالت نے شیلٹر ہوم منتقل کیا، زیر حراست کیسے تصور ہوگی؟۔ لڑکی مرکزی گواہ ہے، والدین کے حوالے کیسے کی جاسکتی ہیں؟۔ عدالت نے لڑکی سے استفسار کیا کہ آپ کہاں جانا چاہتی ہیں؟ لڑکی نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔ عدالت نے پوچھا کہ کوئی تحفظات تو نہیں آپ کو؟۔ عدالت نے کہا کہ لڑکی والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے، عدالت کیا کر سکتی ہے؟۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ بچی آپ کے پاس جانا چاہتی ہے، آپ لوگ ضمانت دیں۔ ظہیر کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ بچی کو بیرون ملک جانے سے روکا جائے۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کہا کہ آپ کی بات ٹھیک ہے کہ نکاح اب بھی موجود ہے۔ اندرون سندھ میں تو لڑکی چلی جائے تو اسے مار دیا جاتا ہے۔ عدالت نے والد سے استفسار کیا کہ آپ کیا ضمانت دیتے ہیں۔ عدالت نے والد سے مکالمے میں کہا کہ بچی دے رہے ہیں، آپ پر بھی بہت ذمے داری ہے۔ مدعی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بچی کو زیارت کے لیے لے جانا ہے، اس کی اجازت چاہیے ہوگی۔ جس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ یہی ہمارے خدشات ہیں کہ بچی کو بیرون ملک منتقل کیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے والد کو بجی کو بیرون ملک نہ لے جانے کا حکم دیتے ہوئے شیلٹر ہوم کو بچی والدین کے حوالے کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لڑکی والدین کے حوالے کی جائے۔ ساتھ ہی عدالت نے ظہیر احمد کی اہلیہ حوالے کرنے کی درخواست مسترد کردی۔ فیصلے کے مطابق عدالت نے لڑکی کی عبوری کسٹڈی والدین کے حوالے کی۔عدالت نے قرار دیا کہ مستقل کسٹڈی کا فیصلہ ٹرائل کورٹ کرے گی۔ عدالت نے والد کو ضمانت کے لیے 10 لاکھ کا بانڈ جمع کرانے کی ہدایت کی اور ریمارکس دیے کہ ہر ہفتے چائلڈ پروٹیکشن افسر لڑکی کی خیریت معلوم کرنے کا پابند ہوگا۔ لیڈی پولیس انسپکٹر بھی لڑکی سے ملاقات کے وقت موجود رہے گی۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست نمٹا دی۔

Categories
اہم خبریں

’’وینا ملک کا ٹویٹ عمران خان کے کردار پر بھی ۔۔۔۔۔‘‘ اقرار الحسن نے کیا بات کر دی؟

کراچی(نیوزڈیسک)معروف صحافی و اینکر پرسن اقرار الحسن نے اپنے خلاف وینا ملک کی غیر اخلاقی ٹویٹ کو عمران خان کے کردار پر حملہ قرار دیدیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اقرار الحسن اور وینا ملک کے درمیان لفظی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب پی ٹی آئی کارکنان کی تنقید کے بعد اقرار الحسن نے ایک ٹویٹ کی

اور کہا کہ میں سیاسی نہیں بلکہ سماجی پروگرامز کرتا ہوں، اسی لیے اپنے کیریئر کے دوران کسی سیاسی لیڈر سے ملاقات نہیں کی۔اقرار الحسن نے عمران خان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ میری دعا ہے کہ خان صاحب اگلے انٹرویو کیلئے کہیں وینا ملک کا انتخاب نا کرلیں۔پی ٹی آئی کیلئے نرم گوشہ رکھنے اور مخالفین کیلئے سخت موقف رکھنے والی وینا ملک کو اقرار الحسن کی جانب سے عمران خان پر طنز اور اپنےذکر گراں گزرا اور انہوں نے اقرار الحسن کو جواب دیتے ہوئے کہا ” چل بھائی تیری خاطر میں خان کا انٹرویو نہیں کرتی، تو ایسا کر اپنی گھر والی بھیج دے اور ایک سے کام نا چلے تو دونوں اکھٹی بھیج دے، تیرا کام بن جائے گا”۔اقرار الحسن نے اس نامناسب ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے وقت مرنی ایک اہلہل سماء میں اینکر تھںی جن سے مں نے سماء چھوڑنے کی درخواست کی تھی۔ آج آپ سب مر ے اس فصلےو کی لاج رکھی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وینا ملک کی نامناسب اور بیہودہ ٹویٹ اصل مںی خان صاحب کے کردار پر بھی ایک حملہ تھا یین مر۔ی اہلہ یا کوئی بھی خاتون صحافی اگر خان صاحب کا انٹرویو کرنے جائے تو کای یہ ایک طعنہ ہے؟

Categories
اہم خبریں

جماعت اسلامی کے اہم رہنما گرفتار

ڈھاکہ(نیوز ڈیسک)بنگلا دیش میں جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمن کو گرفتار کر لیا گیا،غیر ملکی میڈیاکے مطابق جماعتِ اسلامی بنگلا دیش کے امیر کو ڈھاکا میں انسدادِ دہشت گردی پولیس نے گرفتار کیا ہے، پولیس نے جماعتِ اسلامی کے امیر پر عائد الزامات کی وضاحت نہیں کی،ترجمان جماعتِ اسلامی بنگلا دیش کا

کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی کے امیر کی گرفتاری کا مقصد مخالفین کو کچلنا ہے،پارٹی ترجمان کے مطابق یہ پارٹی کے خلاف 15سال سے جاری غیر منصفانہ جبر کی ایک اور کڑی ہے۔

Categories
اہم خبریں

پاکستانیوں کے لیے بڑی خبر! جاپان نے پاکستان بارے بڑا اعلان کر دیا

اسلام آباد (نیوزڈیسک)حکومت جاپان نے اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انسانی ہمدردی کی خدمات اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پناہ گزین بستیوں اور میزبان برادریوں کے لیے پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت (واش) کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لئے 4.196 ملین امریکی ڈالر فراہم

کردیے ہیں۔یونیسف نے پاکستان میں بچوں کے لیے مسلسل اور فراخدلانہ امداد کی فراہمی پر ِ جاپان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اسلام آباد میں ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)،لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، پاکستان میں جاپان کے سفیر عزت مآب واڈا مٹسوہیرو، یونیسف پاکستان کے سربراہ، عبداللہ فادل اور حکومت پاکستان کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا کہ حکومت پاکستان بین الاقوامی برادری کی مسلسل شمولیت کے ساتھ سیلاب سے متاثرہ افراد کی زیادہ سے زیادہ مدد کے لئے پرعزمہے۔انہوں نے کہا کہ جاپان پاکستان کی امداد میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہا ہے اور اس کے لیے عوامی سطح پر بھی گہر ا احساسِ تشکر پایا جاتا ہے۔ یونیسف پاکستان بھی اس طرح کے اقدامات میں پیش پیش ہے اور اس نے مصیبت زدہ لوگوں کو ضروری امدادی سامان کی تیزی سے فراہمی کو ممکن بنایا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی،تمام ہنگامی صورتحال کے اثرات میں کمی لانے اور کنٹرول کرنے کی ذمہ دار قومی کوآرڈینیشن اتھارٹی ہے، جو تمام اسٹیک ہولڈرز اور ڈونرایجنسیوں کی اس عمل میں شمولیت کو یقینی بنانے کے علاوہ صلاحیت سازی میں سرمایہ کاری میں مدد کرنے اور آفات سے نمٹنے کی قومی سطح پر بھرپور تیاری کے نظام کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے۔ہم یونیسف کی عطیات کی قدر کرتیہیں اور پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے اثرات کو کم سے کم کرنے میں مدد کرنے پر جاپان کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے

ہیں۔ یونیسف قومی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور دیگر متعلقہ محکموں کے تعاون سے جاپانی فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے گا کہ دونوں صوبوں میں میزبان اور پناہ گزین برادریوں کو واش کی بہتر خدمات تک رسائی حاصل ہو۔ان خدمات میں پانی کے معیار اور فراہمی میں بہتری، نالوں کی باقاعدگی سے صفائی، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی بہتری اور صحت کے مراکز اور اسکولوں میں ہنگامی واش خدمات کی فراہمی شامل ہیں۔ اب اقدامات سے غیر محفوظ پانی اور ناقص حفظان صحت کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جاپان کے سفیر عزت مآب مٹسوہیرو واڈا نے کہا کہ جاپان نے یونیسف کے ساتھ شراکت داری میں افغان مہاجرین اور ان کی میزبان برادریوں کو واش اور خوارک کی فراہمی کوممکن بنایااور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ شدید خطرات سے دوچار افراد کو صاف پانی، حفظان صحت کی سہولیات اور غذائی سپلیمنٹس تک رسائی حاصل ہو۔ اب بڑے پیمانے پر سیلاب متاثرین کی بحالی کے اقدامات کے طور پر، جاپان صاف پانی اور حفظان صحت کی اشیاء فراہم کرکے متاثرہ افراد کو ہنگامی مدد فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔جاپان کی جانب سے یونیسف کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انسانی بنیادوں پر خدمات کے لیے فراہم کردہ فنڈز کیمپوں اور برادریوں میں پینے کے صاف پانی، مناسب صفائی ستھرائی، ذاتی اور اجتماعی حفظان صحت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے،حفظان صحت کی کٹس کی فراہمی اور بچوں اور خواتین کی غذائی کمی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔پاکستان میں یونیسف کے نمائندے عبداللہ فادل نے کہا کہ ہم اس نازک موڑ پر بچوں اور خاندانوں کے لیے فراخدلانہ امداد پر حکومت ِ جاپان کے انتہائی شکر گزار ہیں۔”یہ شدید خطرات کے شکار بچے اور خاندان ہیں جو تباہ کن سیلاب کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور انہیں زندہ رہنے کے لئے مدد کی ضرورت ہے۔ ہماری امداد کے بغیرآنے والے ہفتوں میں مزید بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی، حفظان صحت اور طبی اور غذا کی فراہمی کی خدمات کی دستیابی کو یقینی بنانا مزید اموات کو روکنے کے لئے ضروری ہے۔“

Categories
اہم خبریں

لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کی ریٹائرمنٹ کے پیچھے چھپی ایک اور کہانی سامنے آگئی ، بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔کئی حلقوں میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے کیریئر سے جڑے تنازعات کے حوالے سے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت کو بھی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔چند ماہرین کے مطابق وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے

کارکنوں نے جنرل فیض حمید کے کردار کی غیر معمولی حد تک تشہیر کی جس کے باعث اُن کا نام ایک جماعت سے منسلک ہو کر رہ گیا۔’خصوصاً سوشل میڈیا پر ان کا تاثر پاکستان آرمی کے پسندیدہ جنرل کی بجائے ایک جماعت کے محبوب جنرل کا بن کر رہ گیا۔ جنرل حمید گل کی طرح جنرل فیض حمید کو بھی حد سے زیادہ شہرت کا نقصان ہوا۔‘عسکری روایات میں ایک غیر تحریر شدہ روایت یہ بھی ہے کہ اگر کسی افسر کو کوئی ہدف یا اسائنمنٹ دی جائے تو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صرف اور صرف پیشہ ورانہ طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرے گا۔ملکی تاریخ کے اہم واقعات اور ماضی کی مثالوں کو سامنے رکھیں تو ایک سے زائد مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ فوجی افسران اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے کرتے بنیادی اصولوں سے آگے نکل گئے۔روس کے خلاف افغان لڑائی میں اور اس کے بعد کئی افسران عسکریت پسندوں میں مقبول ہوئے۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل ملازمت کے دوران اور بعد میں بھی ایک مختلف شخصیت بن کر سامنے آئے۔ انھیں بھی وقت سے پہلے فوج سے رخصت ہونا پڑا۔سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل جاوید ناصر کو بھی ایسی صورتحال کا سامنا ہوا اور وہ بھی مدت ملازمت مکمل نہ کر سکے۔نائن الیون کے بعد جنرل مشرف کی ٹیم کے اہم ممبر اور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل محمود احمد بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور اپنے خیالات میں توازن نہ رکھ سکے اور انھیں فوج سے علیحدہ ہونا پڑا۔اور اب جنرل فیض حمید کا نام بھی اسی ضمن میں لیا جا رہا ہے۔سیکریٹری دفاع رہنے والے سابق لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی کے مطابق ’ڈی جی آئی ایس آئی کا عہدہ طاقتور ترین عہدوں میں سے ہے۔

اختیارات، طاقت، اہمیت، وسائل سب اس تقرری کا بنیادی اور لازمی حصہ ہیں۔ اس لیے کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ڈی جی کی اپنی سوچ اور ادارے کے نقطہ نظر میں مطابقت نہیں رہتی۔ اختیارات کی وجہ سے ادارے سے ہم آہنگی کے بغیر بھی افسر اپنے مرضی کر لیتے ہیں۔‘ماضی میں بھی فوج میں اعلی عہدوں تک پہنچنے والے کئی جنرل اپنے آبائی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے بارے میں عمومی رائے یہ رہی کہ وہ اپنے آبائی ضلع چکوال کی ترقی میں بھی دلچسپی لیتے ہیں۔چکوال میں ایک سڑک کی بحالی و کشادگی کے سرکاری منصوبے کی افتتاحی تختی پر ’زیر سرپرستی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید‘ بھی درج کیا گیا۔ان کے بھائی نجف حمید طویل عرصہ تک پٹواری کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے اور سرکاری ملازمت سے الگ ہونے کے بعد علاقے کے سماجی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا شمار تحریک انصاف کےمقامی رہنمائوں میں بھی ہوتا ہے۔مسلم لیگ ن کی جانب سے سینیٹر رہنے والے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم کا تعلق بھی جنرل فیض حمید کے آبائی ضلع چکوال سے ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ چکوال میں جنرل فیض حمید نے عوامی نوعیت کے بہت سارے ترقیاتی کام کروائے۔ علاقے کی فلاح و بہبود، سڑکوں کی تعمیر وغیرہ میں انھوں نے اپنا مثبت کردار ادا کیا۔‘لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقیوم کے مطابق جنرل فیض حمید ’ایک متحرک انسان ہیں، اگر وہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ لیتے ہیں تو وہ اپنی لائن آف ایکشن ضرور بنائیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ سیاست میں قدم رکھ کر ملک کی خدمت کریں۔‘دو مرتبہ کور کمانڈ کرنے والے جنرل عتیق الرحمان، جنرل ٹکا خان، جنرل سوار خان اور جنرل عبدالقادر بلوچ ریٹائرمنٹ کے بعد گورنر کے عہدے پر فائز ہوئے۔دوسری طرف آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی جنرل حمید گل نے ایک متحرک سیاسی و سماجی زندگی گزاری۔ اس کے علاوہ آئی ایس آئی کے سربراہ رہنے والے جنرل اسد درانی بعد ازاں سفیر رہے۔ جبکہ جنرل محمود احمد اور جنرل جاوید ناصر نے گمنامی کو ترجیح دی۔

Categories
اہم خبریں

دنیا کی 25 بااثر خواتین کی فہرست میں کس پاکستانی خاتون کا نام شامل؟

لندن (ویب ڈیسک)برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی جانب سے 2022ء کی 25 بااثر خواتین کی فہرست جاری کردی گئی۔فنانشل ٹائمز کی 25 بااثر خواتین کی فہرست میں وفاقی وزیر سینیٹر شیری رحمٰن کا نام بھی شامل ہے۔فنانشل ٹائمز نے شیری رحمٰن کو ’تحمل سے گفت و شنید کرنے والی خاتون‘ کا لقب دیا ہے۔فہرست میں فن

لینڈ کی وزیراعظم، نائب صدر کولمبیا، وزیراعظم بارباڈوس، میگھن مارکل اور دیگرخواتین کا نام شامل ہے۔شیری رحمٰن کے لیے اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا اسٹرجن کی جانب سے تعریفی کلمات بھی کہے گئے ہیں۔گزشتہ ماہ کوپ27 میں شیری رحمٰن نے پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کی تباہ کاریوں پر طاقتور بیان دیا۔نکولا اسٹرجن نے کہا کہ شیری رحمٰن نے ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ناانصافی کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ شیری رحمٰن نے بتایا کہ عالمی شمال اور عالمی جنوب کے درمیان ڈائیلاگ کامیاب نہیں ہورہا۔نکولا اسٹرجن نے کہا کہ شیری رحمٰن نے اپنی دلیل کی طاقت سے ترقی یافتہ ممالک کو اپنی بات سننے پر مجبور کیا۔نکولا اسٹرجن نے مزید کہا کہ شیری رحمٰن نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا شکار کمیونٹیز اور ممالک کی نمائندگی کی، امید ہے وہ ماحولیاتی انصاف اور عالمی مالیاتی اصلاحات کیلیے اپنی مہم جاری رکھیں گی۔

Categories
اہم خبریں

روس کا موجودہ حکومت کیساتھ کسی بھی قسم کی ڈیل نہ کرنے کا فیصلہ!!! تہلکہ خیز دعویٰ

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے بھی موجودہ حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کی ڈیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ایک انٹرویومیں سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ روس نے بھی کہہ دیا ہے کہ موجودہ حکومت سے ہم ڈیل نہیں کرینگے کیونکہ ہمیں

اس حکومت پر اعتماد نہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس کے مطابق آئندہ الیکشن میں عمران خان آئیں گے گو ڈیل کریں گے، روس نے بھی عمران خان پراعتماد کا اظہارکیاہے کیونکہ ان کی مقبولیت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے آٹھ ماہ میں جو اقدامات اٹھائے وہ معیشت کیلئے نہیں تھے، حکومت نے معیشت کے بجائے نیب قوانین میں ترامیم کو ترجیح دی، اپنے کیسزختم کرانے کے علاوہ حکومت نے معیشت پر کوئی توجہ نہیں دی۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف نے قدغن لگادی کہ پیٹرول کی قیمت کم نہیں کرسکتے کیونکہ آئی ایم ایف کے مطابق پی ڈی ایل کی مد میں850ارب جمع ہونے ہیں اور اس مقصد کیلئے پیٹرول،ڈیزل کی مد میں50،50روپے کی پی ڈی ایل شامل کرنا ہے۔شوکت ترین نے کہا کہ حکومت نے جلدبازی میں ایسے فیصلے کیے جونقصان دہ ثابت ہوئے،آئی ایم ایف سے قرض لیاگیا تو سخت شرائط قبول کرلی گئیں، آئی ایم ایف سے معاملات بھی جلدبازی میں طے کیے گئے۔انہوں نے بتایا کہ پا کستان میں ڈالرکی حقیقی شرح مبادلہ100فیصد سے بھی زائد بڑھ چکی، اسٹیٹ بینک نے بھی کہہ دیا ہے کہ حقیقی شرح مبادلہ بہت زیادہ ہوگئی، اب حقیقی شرح مبادلہ225روپے فی ڈالرہے جو کہ ایکویٹی،منی مارکیٹ میں بہت زیادہ سمجھی جاتی ہے۔

Categories
اہم خبریں

سابق صدر طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے سابق صدر جیانگ زی من 96 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سابق صدر جیانگ زی من کا انتقال شنگھائی میں ہوا، سابق صدر جیانگ زی من کو لیوکیمیا کا مرض لاحق تھا، چین کے سابق صدر جیانگ زی من کے انتقال کے باعث چینی پرچم سرنگوں کر دیا

گیا۔واضح رہے کہ جیانگ زی من 1989 کے ٹیامن اسکوائر واقعے کے بعد برسر اقتدار آئے اور ان کا شمار جدید چین کے اہم ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے، جیانگ زی من نے 1997 میں ہانگ کانگ کے پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی کا معاملہ دیکھا اور پھر 2001 میں چین کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شامل کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

Categories
اہم خبریں

اگلا آرمی چیف کون ہو گا ؟ سینیارٹی لسٹ میں لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کس نمبر پر ہیں ؟ افواج پاکستان میں فیض حمید خاص طور پر کس بات پر مشہور ہیں ؟ چند حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے۔ وہ اُس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کے چیف آف سٹاف تھے جب جنرل باجوہ ٹین کور کمانڈ کر رہے تھے۔بطور میجر جنرل انھوں نے پنوں عاقل کی ڈویژن کی کمانڈ کی۔ وہ آئی ایس آئی میں

ہی ‘سی آئی’ یعنی کاؤنٹر انٹیلیجنس سیکشن کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں اور آئی ایس آئی کی سربراہی سے قبل کچھ ہفتوں کے لیے ایجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے تھے۔لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید آئی ایس آئی میں اپنے کریئر کے دوران میڈیا میں مختلف تنازعات کا بھی شکار رہے۔اس سے قبل ان کا نام نومبر 2017 میں اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر مذہبی تنظیم کے دھرنے کے دوران بھی سامنے آیا تھا۔اس تنظیم اور حکومت کے درمیان چھ نکات پر مشتمل معاہدے کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ معاہدہ کرنے میں اس وقت میجر جنرل کے عہدے پر کام کرنے والے فوجی افسر فیض حمید کی مدد شامل رہی۔بعدازاں سپریم کورٹ کے فیصلے میں وزارت دفاع کے توسط سے آرمی چیف سمیت افواج پاکستان کے سربراہان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے ان ماتحت اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں جنھوں نے ‘اپنے حلف کی خلافورزی کرتے ہوئے سیاسی امور میں مداخلت کی ہے۔’آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت وہ سینیارٹی میں چوتھے نمبر پر ہوں گے۔ اُن کے بارے میں فوج میں ایک یہ رائے پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے کام کو تکمیل تک پہنچا کر دم لیتے ہیں۔

Categories
اہم خبریں

پاک فوج کے نئے آرمی چیف کے لیے سینئر ترین جنرلز میں میرٹ لسٹ میں کون سا نام کس نمبر پر ہے ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔اگلے آرمی چیف کی اہم تعیناتی میں کون کون امیدوار ہیں اور ان کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟ اس رپورٹ میں فوج کے سینیئر ترین جنرلز، جن میں سے ایک کو آرمی چیف تعینات کیا جا سکتا ہے، کی پیشہ ورانہ زندگی کا احاطہ کیا گیا ہے۔

لیفٹینٹ جنرل عاصم منیر: لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کا تعلق او ٹی ایس کے اس کورس سے ہے جو 75ویں لانگ کورس سے جونیئر اور 76ویں لانگ کورس سے سینیئر ہے۔ اُن کی ترقی موجود کور کمانڈر لاہور، منگلا، ڈی جی ایس پی ڈی اور آئی جی ٹی اینڈ ای کے ساتھ اکتوبر 2018 میں ہوئی تھی۔ تاہم انھوں نے رینک تقریباً ڈیڑھ مہینے کی تاخیر سے لگایا جس کی وجہ سے ان کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ اپنے جونیئرز کے بھی بعد ہے۔موجود آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے دو روز پہلے ہی ان کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ ہے۔ اس کی بنیاد وہ قواعد و ضوابط ہیں جن کا ذکر آگے چل کر ہو گا یعنی مدت ملازمت یا رینک کے لیے متعین مدت میں سے جو پہلے آ جائے، اسی تاریخ پر افسر کی سروس ختم ہو جاتی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر پاکستان ملٹری اکیڈمی کے فارغ التحصیل نہیں بلکہ انھوں نے آفیسرز ٹریننگ سکول سے فوج کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ایک سابق فوجی اہلکار کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے کے لیے منتخب ہونے کے اہل ہو سکتے ہیں کیونکہ اُن کی ریٹائرمنٹ کے دن جنرل عاصم حاضر سروس ہوں گے۔ آرمی چیف کے عہدے کے لیے انھیں دو دن کی توسیع یا موجودہ آرمی چیف کی دو روز قبل ریٹائرمنٹ کرنا ہو گی۔لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کے بعد 75ویں لانگ کورس میں سب سے پہلا نام لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا ہے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر چھٹے نمبر پر ہیں۔

ماضی میں بننے والے فوجی سربراہان کا ریکارڈ اور ان جنرلز کی اسائنمنٹس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس کورس کے تقریبا تمام ہی افسران مضبوط پروفائل رکھتے ہیں۔لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا: سندھ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے ساحر شمشاد مرزا اس وقت ٹین کور، جسے راولپنڈی کور بھی کہا جاتا ہے، کمان کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ اس سے قبل خود آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بھی یہی کور کمان کی تھی۔ یہ علاقے کے لحاظ سے فوج کی سب سے بڑی کور ہے جو کشمیر اور سیاچن جیسے علاقوں کی نگرانی کرتی ہے۔اس سے پہلے وہ فوج کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک یعنی بطور چیف آف جنرل سٹاف تعینات رہے۔وہ اپنے کیریئر میں تین بار یعنی بطور لیفٹیننٹ کرنل، بریگیڈیئر اور پھر بطور میجر جنرل ملٹری یعنی ایم او ڈائریکٹوریٹ میں تعینات رہے۔وہ وائس چیف آف جنرل سٹاف رہے جو ملٹری اور ملٹری انٹیلی جنس کی نگرانی کرتا ہے۔اس کے بعد وہ چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر بھی رہے۔ بطور میجر جنرل انھوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کی اس ڈویژن کی کمان کی جو اس وقت جنوبی وزیرستان میں ہونے والے ایکشنز کی نگرانی کر رہی تھی۔لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس: بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے اظہر عباس سینیارٹی میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ اس وقت فوج کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک یعنی چیف آف جنرل سٹاف کے طور پر تعینات ہیں۔اس سے قبل انھوں نے بطور کور کمانڈر ٹین کور کمان کی ہے۔ ان دو عہدوں کی حد تک جنرل اظہر عباس اور ساحر شمشاد مرزا کی پروفائل ملتی جلتی ہے۔

اظہر عباس بطور میجر جنرل کمانڈنٹ انفنٹری سکول تعینات رہے جبکہ سابق فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرح وہ مری کے جی او سی بھی رہے۔جنرل (ر) راحیل شریف کے پی ایس سی یعنی پرنسپل سیکرٹری بھی رہے ہیں۔ بطور لیفٹیننٹ جنرل وہ ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ سٹاف رہے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود: اگرچہ نعمان محمود سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر ہیں مگر ایک مضبوط کیریئر کے حامل ہیں۔ فوج میں انھیں خاص طور پر پاکستان کی مغربی سرحد کا ماہر مانا جاتا ہے۔ان کے والد کرنل راجہ سلطان نے 1971 کی لڑائی میں شامل تھے تاہم وہ مسنگ ان ایکشن افسر ہیں یعنی ان کے لاپتہ ہونے کے باعث ان کے زندہ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق علم نہیں۔ بعد میں نعمان محمود نے اپنے والد کی یونٹ 22 بلوچ کی کمانڈ بھی کی۔بلوچ رجمنٹ کے لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود اس وقت نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ ہیں۔ جبکہ اس سے قبل وہ پشاور کے کور کمانڈر تعینات رہے ہیں۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عام طور پر دفتر میں نہیں پائے جاتے اور ان کا زیادہ وقت فارورڈ ایریاز میں گزرتا ہے۔ انھیں سابق فاٹا کی لڑائی کا ماہر سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ ان کی اسائنمنٹس ہیں۔وہ بریگیڈئیر کے طور پر الیون کور میں ہی چیف آف سٹاف رہے، بطور میجر جنرل انھوں نے شمالی وزیرستان میں ڈویژن کی کمان سنبھالی اور افغان سرحد کے ساتھ باڑ لگانے کے منصوبے کی نگرانی کی۔خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں بھی تجزیاتی ونگ کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ جبکہ لیفٹیننٹ جنرل کے طور آئی جی سی اینڈ آئی ٹی رہے۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید: پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے۔ وہ اُس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کے چیف آف سٹاف تھے جب جنرل باجوہ ٹین کور کمانڈ کر رہے تھے۔بطور میجر جنرل انھوں نے پنوں عاقل کی ڈویژن کی کمانڈ کی۔ وہ آئی ایس آئی میں ہی ‘سی آئی’ یعنی کاؤنٹر انٹیلیجنس سیکشن کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں اور آئی ایس آئی کی سربراہی سے قبل کچھ ہفتوں کے لیے ایجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے تھے۔لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید آئی ایس آئی میں اپنے کریئر کے دوران میڈیا میں مختلف تنازعات کا بھی شکار رہے۔اس سے قبل ان کا نام نومبر 2017 میں اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر مذہبی تنظیم کے دھرنے کے دوران بھی سامنے آیا تھا۔اس تنظیم اور حکومت کے درمیان چھ نکات پر مشتمل معاہدے کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ معاہدہ کرنے میں اس وقت میجر جنرل کے عہدے پر کام کرنے والے فوجی افسر فیض حمید کی مدد شامل رہی۔بعدازاں سپریم کورٹ کے فیصلے میں وزارت دفاع کے توسط سے آرمی چیف سمیت افواج پاکستان کے سربراہان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے ان ماتحت اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں جنھوں نے ‘اپنے حلف کی خلافورزی کرتے ہوئے سیاسی امور میں مداخلت کی ہے۔’آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت وہ سینیارٹی میں چوتھے نمبر پر ہوں گے۔ اُن کے بارے میں فوج میں ایک یہ رائے پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے کام کو تکمیل تک پہنچا کر دم لیتے ہیں۔لیفٹننٹ جنرل محمد عامر: یہ اس فہرست میں غالبا خاموش ترین طبیعت کے افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آرٹلری سے تعلق رکھتے ہیں اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ملٹری سیکرٹری بھی رہے ہیں۔وہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ڈائریکٹر جنرل سٹاف ڈیوٹیز تھے اور آرمی چیف سیکرٹریٹ کے امور کی نگراتی کرتے تھے۔ بطور میجر جنرل انھوں نے لاہور ڈویژن کمانڈ کی۔اس وقت اس وقت وہ گجرانوالہ کور کی کمان کر رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ جی ایچ کیو میں ایجوٹنٹ جنرل تھے.لیفٹننٹ جنرل چراغ حیدر: لیفٹینٹ جنرل چراغ حیدر کا تعلق فرنٹئیر فورس رجمنٹ سے ہے۔ وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے فارغ التحصیل نہیں ہیں بلکہ انھوں نے آفیسر ٹریننگ سکول سے فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا۔بطور بریگیڈیئر وہ ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ میں تعینات رہے ۔ انڈیا کی جانب سے ستمبر 2019 میں لائن آف کنٹرول کے پاس سرجیکل سٹرائیک کے وقت وہ جہلم کا ڈویژن کمانڈ کر رہے تھے۔لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر ڈائریکٹر جنرل ملٹری ٹریننگ رہے جبکہ ڈی جی جوائنٹ سٹاف کے عہدے پر بھی تعینات رہے ہیں۔ اس وقت وہ کور کمانڈر ملتان ہیں

Categories
اہم خبریں

توشہ خانہ کیس اور گھڑی کی فروخت کا معاملہ : شاہزیب خانزادہ نے مزید ثبوت قوم کے سامنے رکھ دیے

کراچی (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان شاہ زیب خانزادہ نے نئے انکشافات کئے ہیں کہ رسیدیں سامنے آگئی ہیں کہ عمران خان نے مارکیٹ میں گھڑی کی فروخت اور توشہ خانہ سے خریداری ایک ہی تاریخ میں کی تحریک انصاف کی جانب سے پیش ہاتھ سے لکھی رسید اور سرکاری

ریکارڈ پر 22جنوری 2019ء درج ہے جس سے 2ممکنہ چیزیں ہوسکتی ہیں کہ تحفہ خریدنے سےپہلے بیچ دیا گیا یا کسی ذریعے سے پہلے رقم جمع پھر جواز کیلئے جعلی رسید بنوائی گئیں۔غیر معمولی طور پر توشہ خانہ کو نقد ادائیگی کی گئی ، 50؍ فیصد کا قانون بننے کے 35 روز بعدبھی عمران خان نے 20فیصد رقم دی، 10؍ کروڑ کی ویلیو کے باوجود 50فیصد کم پر تحفہ بیچاگیا۔تفصیلات کے مطابق جیو نیوز پر ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں بتایا گیا کہ سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان کی طرف سے عمران خان کوملنے والے تحائف نے ایک الگ اسکینڈل کی شکل اختیار کر لی ہے.دبئی میں مقیم پاکستانی بزنس مین عمر فاروق ظہور الگ دعویٰ کر رہے ہیں لیکن تحریک انصاف ان دعوؤں کی نفی کر رہی ہے،اپنا دفاع پیش کر رہی ہے لیکن اپنے دفاع میں تحریک انصاف نے جو دستاویزات پیش کی ہیں،وہ عمران خان کیلیے مزید مشکلات کا باعث بن گئی ہیں۔کیونکہ جو دستاویزات ہم نے حاصل کی ہیں۔اُس نے تحریک انصاف کے دفاع کو ہی مشکوک بنا دیا ہے ۔ اور اس اسکینڈل سے متعلق چار اہم نکات اٹھادیے ہیں۔ پہلا نکتہ یہ ہے تحریک انصاف گھڑی کا سیٹ فروخت کرنے سے متعلق ہاتھ سے لکھی ہوئی جس دکان کی رسید کا سہارا لے رہی ہے اور توشہ خانہ سے صرف 20فیصد ادائیگی کرکے گھڑی خریدنے کا جو سرکاری ریکارڈ ہے اُن دونوں دستاویز میں ایک ہی تاریخ درج ہےیعنی گھڑی کا سیٹ توشہ خانہ سے خریدنے کی اور مارکیٹ میں فروخت کرنے کی تاریخ ایک ہی ہےاور وہ تاریخ 22 جنوری 2019 کی ہے جس سے صرف دو چیزیں ہی ثابت ہوسکتی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ یا تو

عمران خان نے توشہ خانہ سے2 کروڑ میں تحفہ خریدنے سے پہلے ہی مارکیٹ میں اسے 5 کروڑ 10 لاکھ میں فروخت کردیا تھا اور یا پھر ۔ توشہ خانہ میں پہلے ہی کیش کی صورت میں کسی کے ذریعے 2 کروڑ روپے کی رقم جمع کرائی اور پھر اِس رقم کو جواز فراہم کرنے کیلیے مارکیٹ سے5 کروڑ 10لاکھ کی ایک جعلی رسید بنوائی گئی تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ کارروائی سے بچا جاسکے. سامنے آنے والی تفصیلات میں جو دوسرا نکتہ ہے وہ یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت نے جو دسمبر 2018ء میں توشہ خانہ سے تحائف خرید نے کیلئے 50؍ فیصد کی ادائیگی کا قانون بنایا تھا اور جس کا کریڈٹ تحریک انصاف کے رہنما لیتے رہے ہیں، خود عمران خان دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے توشہ خانہ سے تحائف 50؍فیصد ادائیگی کے بعد لیے ہیں مگر حقیقت مختلف ہے عمران خان نے خود اُس قانون کی خلاف ورزی کرکے ایک قیمتی تحفے کیلیے صرف 20 فیصد ادائیگی کی ہے ۔ کیونکہ 50فیصد ادائیگی کا قانون دسمبر 2018 کو بنایا گیا تھا اور عمران خان نے 22 جنوری 2019 کو توشہ خانہ میں 20 فیصد رقم ادا کرکے تحائف خرید لیے تھے جبکہ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ عمران خان کو ملنے والے گراف سیٹ کی جو مارکیٹ ویلیو توشہ خانہ کی انتظامیہ نے طے کی تھی دستاویزات کے مطابق وہ 10؍ کروڑ روپے تھی ۔یعنی یہ عمران خان کو بتا دیا گیا تھا کہ آپ یہ سیٹ مارکیٹ میں فروخت کرنے جائیں تو آپ اسے 10؍ کروڑ میں فروخت

کرسکتے ہیں، مگر عمران خان کے اپنے دعوے کے مطابق انہوں نے طے شدہ مارکیٹ ویلیو سے 50 فیصد کم میں یعنی 5؍ کروڑ 10لاکھ میں یہ سیٹ فروخت کردیا۔چوتھا نکتہ یہ ہے کہ عمران خان نے جو توشہ خانہ کو دو کروڑ روپے کی رقم ادا کی تھی وہ دستاویزات کے مطابق کیش کی صورت میں ادا کی تھی لیکن عمران خان یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ انہوں نے یہ رقم کیش کی صورت میں کیوں جمع کرائی ؟ کیا وہ پیسے عمران خان نے اپنے اکاؤنٹس سے نکالے ہیں اگر ہاں تو اُس کی منی ٹریل کہاں ہے ؟ اگر نہیں تو دو کروڑ روپے عمران خان کے بدلے کس نے ادا کئے ہیں؟ نمائندہ دی نیوز قاسم عباسی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہزیب خانزادہ نے سوال کیا کہ آپ ہی نے سب سے پہلے یہ معاملہ اٹھایا تھا کہ خان صاحب نے پہلے گھڑی بیچی اس کے بعد توشہ خانہ میں ادائیگی کی، کیا یہ ایسے ہی ہوتا ہے یا جو خان صاحب نے کیا ہے وہ سوالات اٹھارہا ہے؟قاسم عباسی (نمائندہ دی نیوز): رولز کہتے ہیں کہ توشہ خانہ میں جب بھی کوئی گفٹ آتا ہے تو سب سے پہلے جس کو ملتا ہے اگر اس کیس میں عمران خان ہیں تو وہ liable ہیں کہ وہ پہلے توشہ خانہ میں گفٹ جمع کروائیں پھر اس کی جو ویلیو ہے وہ توشہ خانہ طے کرتا ہے پھر خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ اسے وہ تحفہ چاہئے تو پھر وہ ایک درخواست دیتا ہے جس کے ذریعہ توشہ خانہ والے اسے اجازت دیتے ہیں پھر وہ ادائیگی کرتا ہے لیکن جب موجودہ حکومت آئی تھی تو شہباز شریف کی کابینہ

نے توشہ خانہ کا ریکارڈ نکالا تھا جو کہ maintain کیا ہوا تھا عمران خان کی کابینہ نے۔توشہ خانہ کے اس ریکارڈ کے مطابق حکومت کی فائنڈنگز تھیں کہ خان صاحب نے پہلے اوپن مارکیٹ میں، بجائے اس کے کہ عمران خان پہلے اپنی جیب سے اس کی ادائیگی کر کے حاصل کرتے انہوں نے وہ گھڑیاں توشہ خانہ میں ڈیپازٹ کرنے کے بجائے انہیں پہلے اوپن مارکیٹ میں بیچا اور اس کے بعد انہوں نے جو ان کو cost تھی وہ انہوں نے توشہ خانہ میں ادا کی، اس میں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت نے پہلے بیس فیصد کی کاسٹ تھی جو انہوں نے پچاس فیصد کردی تھی، اس گھڑی کی assest value دس کروڑ روپے تھی جو توشہ خانہ نے کی تھی، عمران خان نے ادائیگی دو کروڑ سترہ لاکھ روپے کی ہے جو بیس فیصد بنتی ہے، بالکل ایسا ہی ہے انہوں نے پہلے گھڑی کو بیچا ہے اس کے بعد رقم ڈپازٹ کروائی ہے۔ شاہزیب خانزادہ: آج جو آپ کی اسٹوری ہے آپ اس میں بتارہے ہیں کہ جو اسسمنٹ ہوتی ہے کہ تحفہ کی ویلیو کتنی ہے، آپ بتارہے ہیں کہ جب اسسمنٹ کرنی ہوتی ہے تو ایک بندہ مالیت سے بھی لیا جاتا ہے جو تحفہ کے حوالے سے ایکسپرٹ ہوتا ہے جو بتاتا ہے کہ آپ آج اسے مارکیٹ میں بیچنے جائیں گے تو اس کی مارکیٹ ویلیو کیا ہے، اس کے بعد جب دس کروڑ کی ویلیو لگی ہے اور عمران خان نے دو کروڑ کی لے کر پانچ کروڑ کی بیچ دی ہے، یہ جو

آپ کی تحقیق ہے وہ بھی یہ بتاتی ہے کہ عجیب سی بات ہے کہ جب مارکیٹ ویلیو دس کروڑ لگائی گئی تو آدھی میں کیوں خان صاحب نے بیچ دی بقول ان کے؟قاسم عباسی (نمائندہ دی نیوز): بالکل ایسا ہی ہے، پراسس یہ ہوتا ہے کہ جب توشہ خانہ value assess کرتا ہے تو دو لوگ پہلے مرحلہ میں شامل ہوتے ہیں، پہلا ہوتا ہے ایف بی آر کا ایک آفیسر ہوتا ہے گریڈ 16کا ہوتا ہے. دوسرا جو ٹائپ ہوتی ہے گفٹ کی مثلاً کارپٹ ہے تو کارپٹ کا کوئی انڈیپینڈنٹ ڈیلر یا بزنس مین جس کو اس تحفے کے اوپر مہارت ہو ، وہ دونوں اس کی ویلیو کا اندازہ لگاتے ہیں، اگر ویلیو پانچ لاکھ روپے سے زیادہ ہے تو توشہ خانہ میں ایک کمیٹی بیٹھی ہے جو اس کی ویلیو کا اندازہ لگاتی ہے. عمران خان نے دس کروڑ کی گھڑی پانچ کروڑ میں گھڑی کیوں بیچی اس کا جواب وہی دے سکتے ہیں، اس کی ویلیو دس کروڑ روپے بھی اس لیے سمجھ نہیں آتی کیونکہ اس گھڑی میں 4ہزار سے زائد، گراف دنیا کے بڑے ڈائمنڈ ڈویلپرز میں سے ہے، اس کو پوری دنیا مانتی ہے، ایسا نہیں ہے کہ یہ ڈائمنڈ کا کوئی عام سا ڈویلپر ہے ایم ڈی ایس نے یہ سیٹ جو ہے خان صاحب کو گفٹ کیا تھا اس پر انہوں نے پورا کیٹلاگ تیار کیا تھا جو I guess چالیس صفحات کا ہے، اس کیٹلاگ کے مطابق اس میں چار ہزار سے زیادہ ڈائمنڈز استعمال ہوئے ہیں، اس کا جو ویٹ ہے جو قیراط ہوتا ہے وہ 41 قیراط سے بھی زیادہ ہے. اس حساب سے آپ دیکھیں کس طرح اتنی کم ویلیو لگائی گئی، یہ توشہ خانہ پر بڑا سوال کھڑا ہوتا ہے کہ انہوں نے اتنی مہنگی گھڑی کی اتنی کم ویلیو کیوں لگائی، کہیں یہ اس وجہ سے تو نہیں کیا گیا کہ خان صاحب کو وہ گھڑ ی حاصل کرنی تھی تو اس وجہ سے انہوں نے اس کی ویلیو دس کروڑ لگائی ہو، اس کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ عمران خان کو خود بھی معلوم نہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں، ایسا لگتا ہے عمران خان کو ابھی بھی توقع ہے کہ ان کی شنوائی ہوجائے گی. عمران خان پر فرسٹریشن بھی طاری ہے، عمران خان کے بغیر لانگ مارچ میں ہجوم کم ہوتا جارہا ہے، لانگ مارچ راولپنڈی میں خود لانگ مارچ میں شریک ہوں گے تو شاید کچھ زور پکڑلے، عمران خان کو پتا ہے طاقت کا مرکز پنڈی میں ہے وہ اسی پر دباؤ بڑھانے کیلئے لانگ مارچ راولپنڈی لے جانا چاہتے ہیں، افواہیں ہیں کہ الیکشن قبل از وقت ہوسکتے ہیں۔