Categories
انٹرنیشنل

فیس بک کی جانب سے صارفین کو 397 ڈالرز کیوں دیے جائیں گے ؟ آپ بھی جانیں

اِلینوائے: (ویب ڈیسک) امریکی ریاست اِلینوائے کے رہائیشیوں کو اس ہفتے زر تلافی کی مد میں فیس بک کی جانب سے 397 ڈالرز دیے جانے متوقع ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سماجی رابطے کے نیٹورک نے گزشتہ برس 2015 میں درج ہونے والے کلاس ایکشن پرائیویسی کے مقدمے کو ختم کرنے کے لیے 65 کروڑ ڈالرز کی خطیر رقم کی ادائیگی کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی۔

مقدمے میں فیس بک پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ یہ صارفین کی اجازت کے بغیر ان کا بائیو میٹرک ڈیٹا اکٹھا کر رہا ہے اور اس ڈیٹا کو ذخیرہ کر رہا ہے۔ 9 کروڑ 75 لاکھ ڈالرز وکلا کی فیس اور دیگر اخراجات کو ہٹا کر بچنے والی رقم کی تقسیم اِلینوائے کے ان فیس بک صارفین کے مابین تقسیم کی جائے گی جنہوں نے دسمبر 2020 تک دعویٰ دائر کیا تھا۔ اِلینوائے کے مقامیوں کو یہ رقم فیس بک کی جانب سے ریاست کے 2008 بائیو میٹرک انفارمیشن پرائیویسی ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر دی جائے گی۔ ایکٹ کے تحت صارفین کمپنیوں کی جانب سے پرائیویسی کی پامالی یعنی انگلیوں کے نشان، ریٹینا اسکین، فیشل جیو میٹری وغیرہ بغیر اجازت حاصل کرنے پر ان کے خلاف مقدمہ دائر کرسکتے ہیں۔ فیس بک کی جانب سے کی جانے والی رقم کی ادائیگی اِلینوائے قانون کے تحت اب تک کا سب سے بڑا تصفیہ ہے۔ امریکی شہری آزادی کی یونین نے بائیو میٹرک انفارمیشن پرائیویسی ایکٹ کواستعمال کرتے ہوئے نگرانی کرنے والی کمپنی کلیئر ویو اے آئی سے تصفیہ کرنے کی کوشش کی۔ مذکورہ کمپنی نے مبینہ طور پر دنیا بھر کی آن لائن پروفائلز سے 10 ارب سے زائد انگلیوں کے نشانات جمع کیے تھے اور ان کو اپنے گاہکوں کو بیچا تھا، جن میں ریاستی اور مقامی پولیس کے محکمے شامل تھے۔ فیس بک چہرے کی شناخت (فیشل ریکاگنیشن) کو 2010 سے استعمال کر رہا ہے جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تصاویر آسانی کے ساتھ کم وقت میں ٹیگ کردی جاتی ہیں۔

Categories
انٹرنیشنل

دنیا بھر میں پرائیویٹ طیاروں کا رجحان بڑھ گیا ، مگر پرائیویٹ طیارہ رکھنے کے لیے کیا کرنا پڑتا ہے ؟ معلوماتی رپورٹ

لندن (ویب ڈیسک ) نامور خاتون صحافی سوزین ہارنگ بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔امریکی کاروباری شخصیت ریک شرمر کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کا خاندان ذاتی طیارے میں سفر کرتے ہوئے ‘محفوظ محسوس کرتے ہیں۔’لاس اینجلس میں مقیم مارکیٹنگ باس کا کہنا ہے کہ ‘ذاتی طیارے

سے پرواز کرنے کا مطلب ہے کہ ہمارا خاندان ہوائی اڈے کے حفاظت کے تجربے، ہوائی اڈے کے ہجوم، پرواز کے غصے سے بچنے کے قابل ہوتا ہے، اور (ايئرپورٹ) ایسے لوگوں سے گھرا ہوتا ہے جو اکثر مناسب طریقے سے ماسک نہیں پہنتے ہیں۔’اگرچہ ہم میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جنھوں نے کبھی بھی پرائیویٹ طیارے کا تجربہ نہیں کیا ہے لیکن ریک شرمر کی اس بات کو سمجھنا آسان ہے۔یہ ایک پرتعیش اور خصوصی دنیا ہے جہاں آپ بڑے ہوائی اڈوں کی گہما گہمی اور دیگر مسافروں سے بچ سکتے ہیں۔ اور آپ کو چیک ان کے لیے وقت کی پابندی کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اس کی جلدی ہوتی ہے۔ کیونکہ جب آپ طیار ہوتے ہیں تو یہ جھوٹا سا طیارہ پرواز کرتا ہے۔اس کے علاوہ بہت سے معاملات میں آپ کو ٹرمینل کی عمارت میں جانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اس کے بجائے لیموزین جیسی کوئی بڑی کار آپ کو ٹرمک پر بالکل طیارے تک لے جاتی ہے۔ جہاں طیارے کا کوئی عملہ مسکراتا ہوا آپ کو شیمپین کا گلاس پیش کرتا ہے جب آپ آرام سے نرم چمڑے کی آرامدہ کرسی پر جلوہ افروز ہو جاتے ہیں۔پرائیویٹ طیاروں کا دوسرا حالیہ فائدہ حال ہی میں عالمی وبائی کووڈ 19 کے دوران نظر آیا جب آپ اسے خریدنے کے بجائے عام طور پر ایک بہت مہنگی فلائنگ ٹیکسی کی طرح اسے کرایہ پر لیتے ہیں۔لہذا جب گذشتہ دو برسوں کے دوران ایئر لائنز نے اپنی خدمات روک دی تھیں اس دوران بھی انتہائی امیر اور کاروباری لیڈرز سفر

کرنے کے قابل تھے ۔اس کے نتیجے میں نجی طیاروں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر سنہ 2021 میں اس میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ چنانچہ شہری ہوا بازی کے اعدادوشمار پر تحقیق کرنے والی کپنی ونگ ایکس کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال دنیا بھر میں ایسی 33 لاکھ پروازیں ہوئیں جو کہ اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔یہ اعداد و شمار سنہ 2019 میں نظر آنے والے پچھلے ریکارڈ کے مقابلے میں سات فیصد زیادہ ہے اور اس میں امریکہ اور یورپ کی زیادہ حصہ ہے۔لیکن اب جبکہ دنیا کو یہ یقین ہو چلا ہے کہ اس نے وبائی بیماری کو پیچھے چھوڑ دیا ہے تو ایسے میں کیا اب نجی طیاروں کا استعمال کم ہو جائے گا؟ اور کیا ان کے استعمال کو ان کی وجہ سے ہونے والے اہم ماحولیاتی اثرات کے پیش نظر جائز قرار دیا جائے؟نجی ہوائی جہاز کے کاروبار والی کمپنی وسٹا جیٹ کے چیف کمرشل آفیسر ایان مور کہتے ہیں: ‘زیادہ سے زیادہ لوگ ایسے سفری حل تلاش کر رہے ہیں جو ایک کنٹرولڈ، لچکدار تجربہ پیش کرتے ہیں جو کہ تجارتی پرواز کے ذریعے فراہم نہیں کیا جا سکتا۔’وسٹا کا صدر دفتر مالٹا میں ہے۔ اس عالمی کمپنی کے پاس 73 طیارے ہیں، اور مسٹر مور کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال یورپ میں صارفین کی جانب سے مانگ میں 26 فیصد اور باقی دنیا میں 21 فیصد اضافہ ہوا۔انھوں نے مزید کہا کہ فرم کو ملنے والی 71 فیصد درخواستیں ان مسافروں کی طرف سے ہیں جو پہلے نجی ہوا بازی کے

باقاعدہ مسافر نہیں تھے۔ انھوں نے کہا: ‘اور ہم توقع کرتے ہیں کہ پہلی بار نجی مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد سنہ 2022 اور اس کے بعد بڑھتی رہے گی۔’پرائیویٹ طیاروں کے لیے ایک نئے آن لائن بکنگ پلیٹ فارم جیٹلی کے پورٹل پر بھی یہی صورت حال ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ دنیا بھر سے اسے 15,000 درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔دریں اثنا سسٹر کمپنویں جیٹ اٹ اور جیٹ کلب کا کہنا ہے کہ انھیں مانگ کو پورا کرنے کے لیے کافی نئے طیارے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کا سامنا ہے۔دونوں برانڈز کے شریک بانی اور جیٹ کلب کے چیف ایگزیکٹو وشال ہیرمتھ کا کہنا ہے کہ ‘ہمیں مزید ہوائی جہازوں کی ضرورت ہے، لیکن ہمارے او ای ایم [اصل سازوسامان بنانے والے] پارٹنرز کافی جیٹ طیار کرنے کے قابل نہیں ہیں۔’بہر حال پرائیویٹ طیاروں کی مانگ کو کم کرنے کے معاملے میں اہم مسئلہ ایندھن کی بڑھتی قیمتیں ہو سکتی ہیں۔ یوکرین میں جاری تنازعہ کے نتیجے میں ہوابازی کے ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا بوجھ مسافروں پر ہو رہا ہے۔ جیٹ فیول کی قیمت فی الحال پچھلے سال اسی مدت کے مقابلے میں دگنا سے زیادہ ہے۔جیٹلی کے چیف ایگزیکٹیو جسٹن کریبی کہتے ہیں: ‘بدقسمتی سے، ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ وہ [قیمتیں] کتنی زیادہ جائیں گی، لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ مارکیٹ پر کافی اثر انداز ہوں گی۔’تاہم اس کے ساتھ یہ بھی درست ہے کہ نجی جیٹ طیارے کبھی سستے نہیں رہے۔ اور اکثر صارفین انھیں اپنی جیب سے ادا کرنے کے بجائے اپنی کمپنی کے اخراجات میں ڈال دیتے ہیں۔فی الحال کرایہ پر

لینے کے لیے کتنا خرچہ آئے گا یہ پوچھنا یہ پوچھنے کے مترادف ہے کہ ‘ایک تار کا ٹکڑا کتنا لمبا ہے؟’۔ پھر بھی آپ کو اتنا بتا دیں کہ رواں ماہ کے اخیر تک ایک چھ افراد کو لندن سے بحیرہ روم کے جزیرے ابیزا تک لے جانے اور لانے والے طیارے کا خرچہ تقریبا 28 ہزار ڈالر آئے گا۔ہوابازی کے شعبے کے تجزیہ کار اور مڈاس ایوی ایشن کے جان گرانٹ توقع کرتے ہیں کہ کچھ لوگ جنھوں نے گزشتہ دو سالوں میں پرائیویٹ ہوائی جہاز استعمال کرنا شروع کیا ہے وہ ایسا کرتے رہیں گے۔وہ کہتے ہیں: ‘شیڈول پروازوں کی بڑھتی ہوئی رینج اور بہت سی ایئر لائنز کے ساتھ پیشکش پر انتہائی مسابقتی کرایوں کی وجہ سے مسافروں کو ہچکچاتے ہوئے ہی سہی کم لچک والی لیکن سستی قیمت والی ایک شیڈول سروس کو قبول کرنا پڑے گا۔’تاہم، گزشتہ دو سالوں میں پہلی بار پرائیویٹ جیٹ طیارے استعمال کرنے والوں کا ایک چھوٹا سا حصہ فوائد کو قدر کے طور پر دیکھے گا اور جہاں ممکن ہو وہاں ایسے آپریٹرز کا استعمال جاری رکھے گا۔’پرائیویٹ طیاروں کی دنیا کو ہمارے جیسے انسانوں کے لیے مزید سستی بنانے کے لیے بہت سے فراہم کنندگان اب ایک آپشن پیش کر رہے ہیں جسے ‘نیم نجی طیارے’ کہا جاتا ہے۔یہ پرائیویٹ طیارے کی خدمات پیش کرنے والے بڑے سائز کے طیارے کا استعمال کرتے ہیں (نجی جیٹ طیاروں میں عام طور پر چھ سے 20 افراد بیٹھتے ہیں)، لیکن آپ کو ان میں ایس مسافروں کے ساتھ سفر کرنا پر سکتا ہے جنھیں آپ نہیں جانتے۔ اور صرف محدود مقامات کے لیے اس کی سروسز پیش کی جاتی ہیں۔ایسی ہی خدمات فراہم کرنے والی

ایک امریکی کمپنی جے ایس ایکس کے ترجمان بینجمن کافمین کا کہنا ہے کہ کمپنی نے ‘ایئر لائن مارکیٹ میں فرق دیکھا’ ہے اور دعویٰ کیا کہ ان کے ہاں ایک طرف کا کم سے کم کرایہ 199 ڈالر سے شروع ہوتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ کمپنی ‘مسافروں کو نجی پرواز کے لیے بہت سے فوائد کے ساتھ اہم بچت بھی دیتی ہے۔’تاہم نجی طیاروں کے ماحولیاتی اثرات کے بارے میں کیا خدشات ہیں۔ کلینر ٹرانسپورٹ مہم گروپ ٹرانسپورٹ اینڈ انوائرنمنٹ کے مطابق فی مسافر کی بنیاد پر کمرشل ایئر لائنز کے مقابلے میں نجی پرواز والے طیارے پانچ سے 14 گنا زیادہ آلودگی پھیلاتے ہیں۔نجی طیارے کی سہولیات فراہم کرنے والے اس کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کاربن آفسیٹ کے لیے مسافروں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، اور کچھ کمپنیاں بایو فیول کے استعمال کی طرف بھی جا رہی ہیں، اور وہ الیکٹرک، ہائیڈروجن اور دوسرے ہائبرڈ ایندھن سے چلنے والے طیاروں کی تلاش میں ہیں۔نجی طیارے پرکشش ہیں لیکن کاربن کے اخراج کی صورت میں کیا یہ قابل عمل ہےوسٹا جیٹ کے مسٹر مور کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی 2025 تک کاربن نیوٹرلیٹی حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ‘اور آج، جب سے ہم نے اپنا قابل عمل اور پائیدار انیشی ایٹو شروع کیا ہے ہمارے پاس 85 فیصد سے زیادہ ممبران ایسے ہیں جنھوں نے اپنی پروازوں کے ایندھن کی کھپت کے مقابلے میں کاربن کے اخراج کو کم کیا ہے۔’تاہم ‘فلائٹ فری یو کے’ کی ڈائریکٹر اینا ہیوز اس دلیل سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کی تنظیم لوگوں کی اس سمت میں حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ پورے سال ہوائی سفر کا استعمال نہ کرنے کا عہد کریں۔ان کا سوال ہے کہ ‘ایک ایسے وقت میں جب ہمیں اخراج کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا نجی جیٹ طیارے نقل و حمل کا ایک مناسب ذریعہ ہیں؟’ان کا کہنا ہے کہ ‘پرائیویٹ فلائٹ سے پیدا ہونے والے بڑے (کاربن) اخراج کا کوئی آف سیٹنگ سکیم متبادل نہیں ہو سکتی۔ درختوں کو اگنے میں کافی وقت لگتا ہے جبکہ پروازوں کا اخراج فوری ہوتا ہے۔ پروازوں سے ہونے والے اخراج کو کم کرنے کا سب سے قابل اعتماد اور سب سے آسان ہے طریقہ یہ ہے کہ پرواز کم کی جائے۔’پرائیویٹ جیٹ میں پرواز کرنا بہت بڑا اعزاز ہے، اور چونکہ انسانیت کو موسمیاتی بحران کا سامنا ہے، اس لیے ہمیں اپنے حاصل نعمت کا استعمال دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں کرنا چاہیے۔’

Categories
انٹرنیشنل

دبئی میں پاکستانیوں کی کتنی مالیت کی جائیدادیں نکل آئیں؟ ایسا انکشاف کہ ہر کوئی حیران رہ گیا

لاہور(ویب ڈیسک )پاکستان کی کمزور ،لڑکھڑاتی معشیت کو لاحق خطرات اپنی جگہ اور درآمدات پروزیراعظم شہبازشریف کی لگائی جانیوالی پابندیاں اپنی جگہ لیکن دبئی میں جائیداد بنانے کا شوق پاکستانی اشرافیہ میں جڑ پکڑ چکا ہے ، دیوالیہ قرار دئیے جانے کے قریب قریب پاکستان کے شہریوں کی دبئی میں 38 ہزار جائدادیں ہیں

جن کی مجموعی مالیت 10.6 ارب ڈالر ( 2.078 کھرب پاکسستانی روپے) ہے۔پاکستانی اسٹاک ایکسچینج شروع سے ہی غیرملکی سرمایہ کاروں کے لئے ڈراؤنا خواب بنا رہا ہے لیکن حال ہی میں” دبئی کا اصل مالک کون? ” کے عنوان سے شائع ہونے والے ریسرچ پیپر جو کہ مصنفین اینی الیسڈیٹر ، گیبرئل زیک مین اور ایینڈریاس آکلینڈ یورپی یونین ٹیکس معشیت دانوں کی جانب سے لکھا گیا ہے دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں۔ ریسرچ پیپر میں کہا گیا ہے کہ دبئی کی نصف سے زائد جائیدادوں کے مالک مقامی عرب باشندے نہیں بلکہ بھارت، برطانیہ ، پاکستان ، سعودی عرب اور ایران کے شہری ہیں ۔ اس کے بعد کینیڈا، روس اور امریکا کے شہری بھی عرب امارات کے دل دبئی میں جائیداد کے مالک ہیں۔اس مقالے میں دبئی میں تقریباً 8 لاکھ جائیدادوں کا تجزیہ کیا گیا اور کئی دلچسپ امر سامنے آئے ہیں ۔ دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں کم از کم 146 بلین ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری ہے۔ 2020 میں کئے گئے سروے کے مطابق دبئی میں جائیدادوں کی کل مارکیٹ ویلیو 533 بلین امریکی ڈالر ہے، جس میں سے تقریباً 27 فیصد غیر ملکی افراد کی ملکیت ہیں۔ریسریچ کے مطابق تقریباً 20 فیصد رئیل اسٹیٹ بھارتی سرمایہ کاروں اور 10 فیصد برطانوی سرمایہ کاروں( یہ برطانوی سرمایہ کار بھی زیادہ تر بھارتی نژاد ہیں) کی ملکیت ہے۔ زیادہ تر جائیدادوں کے مالک متعدد تنازعات کا شکار ممالک اور ان میں برسر اقتدار آمر ہیں جن کی جائدادوں کی مالیت ان ممالک کی معشیت کے حجم کے برابر ہے۔دبئی میں سب سے زیادہ جائیدادیں(35 ہزار) بھارتی شہریوں کی ہیں جس کی مالیت 30 ارب ڈالر ہے یہ کل آف شور دبئی رئیل اسٹیٹ کا 20 فیصد ہے دوسرے نمبر پر(23 ہزار ) برطانوی شہریوں کا نمبر ہے جس کی مالیت 15 بلین ڈالر ہے کل آف شور دبئی رئیل اسٹیٹ کا 10 فیصد ہے جبکہ اس کے بعد پاکستان، سعودی عرب، ایران، اردن، اور روس کے شہریوں کانمبر ہے ۔ مشرق وسطیٰ، یورپ اور وسطی ایشیا کے جائیداد مالکان بھی دبئی کی معشیت کے حصہ دار ہیں۔ دبئی آف شوررئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے حوالے سے جغرافیائی قربت اور تاریخی تعلقات اہم عوامل ہیں ۔ دبئی کی مہنگی ترین علاقوں میں سب سے زیادہ جائیدادیں روسی شہریوں کی ہیں۔ یادرہے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری منی لانڈرنگ اور ٹیکس حکام سے دولت چھپانے ا ہم ذریعہ تصور کیا جاتا ہے تاہم اس کے تدارک کے لئے بہت کم ڈیٹا اشتراک کیا جاتاہے ۔کیونکہ انسداد بدعنوانی حکام کی زیادہ تر توجہ مالیاتی اثاثوں، مہنگی گاڑیوں اور بنک ا کاؤنٹس پرمرکوز رہتی ہے۔

Categories
انٹرنیشنل

بریکنگ نیوز: حکومت کے پاس پٹرول خریدنے کے بھی پیسے نہ رہے ۔۔۔۔سری لنکا کے اصل حالات آپ کو حیران کر دیں گے

کولمبو(ویب ڈیسک) سری لنکا میں معاشی بحران شدید ہو گیا جس کی وجہ سے حکومت کے پاس پٹرول خریدنے کی سکت بھی ختم ہو گئی۔مؤقر اخبار دی اکنامک ٹائمز کے مطابق سری لنکا کے وزیر توانائی نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں اب صرف ایمبولینس سروسز کے لیے ہی پٹرول رہ گیا،

سری لنکا کے وزیر برائے بجلی اور توانائی کنچنا ویجیسیکارا (Kanchana Wijesekera) نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ ملک میں پٹرول کا بہت کم ذخیرہ رہ گیا ہے اس لیے اب صرف ایمبولینس سروس کو جاری رکھنے کے لیے پٹرول دیا جا سکتا ہے۔شدید گرمی،میٹرک کے امتحانات کے اوقات کار میں تبدیلی انہوں نے کہا کہ کولمبو کی بندرگاہ پر پٹرول شپمنٹ 28 مارچ سے موجود ہے لیکن سری لنکا کی حکومت کے پاس پٹرول شپمنٹس کی ادائیگی کے لیے امریکی ڈالرز موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ سری لنکا کی بندرگاہ پر لنگرانداز بحری جہاز نے جنوری میں بھی پٹرول دیا تھا جس کی 53 ملین امریکی ڈالرز کی ادائیگی ہم نے کرنی تھی جو اب تک نہیں ہوسکی ہے، اس لیے جہاز راں کمپنی نے مزید ادھار پٹرول دینے سے انکار کردیا اور اس کا اصرار ہے کہ دونوں ادائیگیاں کیے بنا وہ ہمیں پٹرول نہیں دے گی۔سری لنکا کے وزیر توانائی نے اسی حوالے سے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ پٹرول پمپمس پر قطاریں نہ لگائیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اس ہفتے کے آخر تک پٹرول دستیاب نہیں ہوگا۔وزیر توانائی کنچنا ویجیسیکارا نے کہا ہے کہ پٹرول کی خریداری کے لیے کریڈٹ لیٹرز کھولنا ہے جس کے لیے ڈالرز کی قلت ہے، ہم فنڈز تلاش کرنے کیلئے کام کررہے ہیں، جلد کوئی حل نکل آئے گا۔واضح رہے کہ سری لنکا میں معاشی اور سیاسی بحران نہایت شدت اختیار کرچکا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جھڑپیں معمول بن چکی ہیں اور مظاہرین کے ہاتھوں سرکاری و نجی املاک کو بے پناہ نقصان پہنچ رہا ہے۔

Categories
انٹرنیشنل

نوجوت سنگھ سدھو کوایک سال قید کی سزا: مگر کس جرم میں ؟

ممبئی (ویب ڈیسک) کانگریس رہنما اور سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو 1988 کے روڈ ریج کیس میں ایک سال قید کی سزا سنادی گئی۔ روڈ ریج مقدمے میں یہ الزام شامل ہے کہ 27 دسمبر 1988 کو سدھو نے گرنام سنگھ کے سر پر مکّامارا تھا جس سے ان کی موت ہوئی تھی۔

اس سے قبل بھارتی سپریم کورٹ نے سدھو پر 1000روپے جرمانہ عائد کرکے انہیں رہا کردیا تھا، تاہم اس حوالے سے ہلاک ہونے والے شخص کے خاندان نے نظرثانی درخواست دائر کی تھی، جس میں ان کو سزا سنائی گئی ہے۔سدھو نے بھارتی سپریم کورٹ کے پہلے کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے خلاف روڈ ریج کیس کا دائرہ بڑھانے کی درخواست کی مخالفت کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ گرنام سنگھ کی موت ضرب لگنے سے ہوئی تھی۔

Mandatory Credit: Photo by Sameer Sehgal/Hindustan Times/Shutterstock (9793351b)
Former Cricketer And Punjab Local Bodies Minister Navjot Singh Sidhu arrives to cross the Attari-Wagah Border on August 17, 2018 near Amritsar, India.
Navjot Singh Sidhu attends swearing in ceremony of Imran Khan, Amritsar, India – 17 Aug 2018
He left for Pakistan to be guest in the swearing ceremony of Imran Khan as Prime Minister of Pakistan. The swearing in ceremony of Khan is scheduled at the President’s House in Islamabad tomorrow.
Categories
انٹرنیشنل

ترقی یافتہ اور پسماندہ اقوام کا فرق سامنے آگیا ۔۔۔شدید مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے برطانوی شہری ان دنوں کس فارمولے پر عمل پیرا ہیں ؟ جان کر آپ کو حیرانگی ہو گی

کراچی (ویب ڈیسک) برطانیہ میں معیار زندگی میں مسلسل زوال جاری ہے اور برطانوی شہری اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنے کیلئے مختلف جتن کر رہے ہیں۔ برطانیہ کی جانب سے روس پر عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات اور تیزی سے بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے عوام نے اپنے روزمرہ

کے اخراجات میں کٹوتیاں کرنا شروع کر دی ہیں حتیٰ کہ وہ دن میں ایک وقت کا کھانا کھانے سے بھی گریز کر رہے ہیں تاکہ رقم بچائی جاسکے۔برطانیہ میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق، 52؍ فیصد افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے دوستوں میں جانا (سوشلائز) کرنا بند کر دیا ہے تاکہ بچت کو یقینی بنایا جا سکے، صرف 28؍ فیصد کا کہنا تھا کہ انہوں نے ٹی وی کیبل کی ادائیگیاں بند کر دی ہیں۔ سروے میں حصہ لینے والے پچاس فیصد سے زائد افراد کی رائے تھی کہ مہنگائی آئندہ 6؍ ماہ کے دوران مزید بڑھے گی، بجلی اور یوٹیلیٹی چارجز میں مزید اضافہ ہوگا۔ 65؍ فیصد افراد نے گھروں میں حدت پیدا کرنے والے نظام کو بند کرکے صرف ضرورت کے اوقات میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، 44 فیصد نے گاڑی چلانا کم کر دیا ہے، کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس کے علاوہ، ایسی غریب فیملیز بھی ہیں جو میک ڈونلڈز جا کر وہاں مفت وائی فائی اور مفت ہیٹر کے ساتھ سستی خوراک حاصل کر رہے ہیں۔ ملک میں مہنگائی کا 40؍ برس کا ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے۔فیول بینک فائونڈیشن کے میتھیو کول کا کہنا ہے کہ یہ فیملیز اپنے بچوں کو اپنے ساتھ لیجاتے ہیں، انہیں سستا ہیپی مِیل خرید کر دیتے ہیں اور وہاں بیٹھے بیٹھے مفت ہیٹنگ سسٹم اور مفت وائی فائی کا مزہ لیتے ہیں، ٹی وی دیکھتے ہیں جبکہ ضرورت پڑنے پر ریستوراں کا ہی باتھ روم استعمال کرکے وہاں ٹوتھ برش بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب فیملیز کے اس اقدام کا مقصد گھر پر یوٹیلیٹی اور ہیٹنگ کے اخراجات بچانا ہے۔ ہر چار میں سے ایک خاندان تین میں سے ایک وقت کا کھانا کھانے سے گریز کر رہا ہے تاکہ رقم بچائی جا سکے۔عام فیملی کیلئے توانائی پر خرچ ہونے والی رقم میں 54؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

Categories
انٹرنیشنل

خوبصورت بھارتی اداکارہ کاسمیٹک سرجری کےد وران چل بسی ۔۔جسم کے کس حصے کی سرجری کے دوران یہ واقعہ پیش آیا؟ افسوسناک انکشاف

ممبئی (ویب ڈیسک) معروف بھارتی ٹی وی اسٹار چیتھانہ راج کاسمیٹکس سرجری کے دوران انتقال کر گئیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق 21 سالہ ٹی وی اسٹار چیتھانہ راج ایک نجی اسپتال میں اپنے جسم کی اضافی چربی کم کروانے کے لیے پلاسٹک سرجری کروا رہی تھیں۔اطلاعات کے مطابق، اُنہیں 17 مئی کو سرجری کے

لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور کہا جارہا ہے کہ سرجری کے بعد اداکارہ کے پھیپھڑوں میں گندگی جمع ہوگئی تھی جس کے بعد اُنہیں سانس لینے میں دشواری پیدا ہوئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پھیپھڑوں میں سانس لینے کی دشواری کے بعد اُنہیں دل کا دورہ پڑا جبکہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ سرجری اسپتال کے آئی سی یو میں کی گئی تھی جس میں مطلوبہ سہولیات کا فقدان تھا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چیتھانہ راج نے بظاہر طریقہ کار سے گزرنے سے پہلے اپنے والدین کو مطلع نہیں کیا تھا اور رضامندی کا فارم اداکارہ کے دوست نے بھرا تھا۔ دوسری جانب چیتھانہ کے والدین اس صورت حال کے بارے میں قانونی مشورہ حاصل کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی بیٹی کی اچانک موت واقع ہوئی۔

Categories
انٹرنیشنل

ہمت نسواں کی شاندار مثال : اس تصویر کے پیچھے چھپی کہانی آپ کو حیران کر دے گی

نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارتی ریاست تامل ناڈو کے گاؤں ’کاتونایک کانپی‘ سے تعلق رکھنے والی خاتون نے شوہر کے مرنے کے بعد بیٹی کی پرورش کے لیے مرد کا حلیہ اپنایا ہوا ہے۔غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پیچھامل نامی خاتون 20 سالہ کی تھیں کہ جب ان کے شوہر کا انتقال ہوا بعد ازاں

انہیں اوباش مردوں کی جانب سے تنگ کیا جانے لگا، مذکورہ عورت نے ملازمت کرنے کی کوشش کی تو اکیلے جان کر انہیں وہاں پر بھی نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد انہوں ںے خاتون کے بجائے مرد کا روپ دھارنے کا فیصلہ کیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ شوہر کی موت کے بعد پیچھامل کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی، مرد کا حلیہ اپنے کے بعد انہوں نے مختلف جگہوں پر کام کیا اور بچی کی پرورش کی لیکن کسی کو نہیں پتا چلا سکا کہ وہ ایک خاتون ہیں۔مذکورہ عورت کی عمر اب 57 سال ہوچکی ہے جبکہ بیٹی بھی جوان ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اب وہ اسی حلیے میں پوری زندگی گزارنا چاہتی ہیں کیوں کہ اب اس طرح رہنے کی عادت ہوگئی ہے۔

Categories
انٹرنیشنل

ایلون مسک نے ٹوئٹر خریدنے کی ڈیل سے دستبردار ہونے کا اشارہ دے دیا ، وجہ حیران کن

لندن (ویب ڈیسک) امریکی کمپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے ٹوئٹر ڈیل سے دستبردار ہونے کا عندیہ دے دیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ایلون مسک نے پیر کے روز میامی میں آل ان سمٹ میں بند کمرے کے اجلاس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئےکہا ہے کہ ٹوئٹر ڈیل کو

44 بلین ڈالر سے کم قیمت میں حاصل کرنے کے حوالے سے بات کرسکتے ہیں۔مسک نے کانفرنس میں کہا کہ ان کا خیال ہے کہ ٹوئٹر پر جعلی اکاؤنٹس کا تناسب جتنا اُنہیں بتایا جارہا ہے اصل تناسب اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ایلون مسک نے اپنے اس بیان سے ٹوئٹر ڈیل سے دستبردار ہونے کا واضح عندیہ دے دیا ہے۔یاد رہے کہ ایلون مسک ٹوئٹر پر یہ الزام لگاتے ہوئےکہ اُنہیں ویب سائٹ پر جعلی اکاؤنٹس کی تعداد کے بارے میں ممکنہ طور پر گمراہ کیا جارہا ہے، گزشتہ ہفتے کے آخر میں اس معاہدے کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان تو پہلے ہی کرچکے ہیں۔جبکہ اس حوالے سے قانونی ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر پر لگایا گیا الزام سچ ثابت ہوگیا تو وہ ٹوئٹر ڈیل سے دستبردار ہوجائیں گے۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس معاہدے کی ٹرمینیشن فیس1 بلین ڈالر ہے۔ اس لیے قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ٹوئٹر ڈیل سے دستبردار ہونے پر ایلون مسک کے خلاف ٹوئٹر کی جانب سے مقدمہ دائر کیا جائے گا۔

Categories
انٹرنیشنل

یہ امریکی لڑکی ایسی انوکھی بیماری میں مبتلا ہے کہ جان کر آپ کو بھی افسوس ہو گا

ایری زونا (ویب ڈیسک) ایریزونا کی نوعمر لڑکی دنیا کے 100 مریضوں میں سے ایک ہے جو پانی کی الرجی کی شکار ہے۔ وہ نہانے سے قاصر ہیں اور ان کے اپنے آنسو ہی ان کے لیے تیزاب جیسی شدت رکھتے ہیں۔ایبیگیل بیک 15 سالہ نوعمر لڑکی ہیں جو ’ایکواجینک یورٹیکیریا‘ میں مبتلا ہیں

جو ایک کمیاب کیفیت ہے۔ ان کے بدن پر آبی قطرہ ٹپکتے ہی سوزش اور جلن شروع ہوجاتی ہے کیونکہ پانی ان کے لیے تیزاب کا درجہ رکھتا ہے۔ جب جب وہ پانی پیتی ہیں انہیں شدید قے آجاتی ہے۔یہاں تک کہ آنسو ان ک لیے شدید تکلیف دہ ہوتے ہیں کیونکہ نمکین مائع انہیں بہت تکلیف دیتا ہے۔ ’میری زندگی تباہ ہوچکی ہے، جب بھی پانی پیتی ہوں سینے میں جلن ہوتی ہے اور دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے،‘ ایبی گیل نے کہا۔ایک برس سے انہوں نے ایک گلاس پانی نہیں پیا بلکہ وہ پانی کی کمی پوری کرنے والی ہائیڈریشن پلز کھاتی ہیں۔ کبھی انار ا رس اور انرجی ڈرنک بھی پیتی ہیں۔ایبی گیل کسی بھی طرح پسینہ بہنے والا کام نہیں کرتی اور برسوں ہوئے کہ برسات میں باہر نہیں نکلیں کیونکہ ان کے علاقے میں بارش معمول سے زیادہ ہوتی ہیں۔ انہیں پیاس نہیں لگتی اور پانی کا ذائقہ بھی بدمزہ محسوس ہوتا ہے۔کچھ روز قبل انہوں نے اسپورٹس ڈرنک پی جس میں پانی کی زائد مقدار تھی ۔ اس سے معدے میں ردِ عمل ہوا اور وہ ایک عرصے تک تکلیف کی شکار رہی تھیں۔ ان کی بیماری کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ دنیا کے ماہر ترین ڈاکٹر بھی اس کیفیت سے آگاہ نہیں کیونکہ اب تک چند درجن مریض ہی ایسے ملے ہیں جو اس شدت کی آبی الرجی کے شکار ہوں۔ایبی گیل کہتی ہیں کہ جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے ان کی الرجی مزید شدید اوراذیت ناک ہوتی جارہی ہے۔

Categories
انٹرنیشنل

پاکستان میں ڈرامے ، امریکہ میں یونیورسٹیاں لیکن افغانستان میں گوگل پر سب سے زیادہ کیا سرچ کیا جاتا ہے ؟ حیران کن خبر

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان کے شہری دیگر ممالک کے برعکس گوگل پر سب سے زیادہ ڈرامے سرچ کرتے ہیں جبکہ امریکہ میں یونیورسٹیز کو سرچ کیا جاتا ہے، گوگل پر ہر روز اور ہر وقت کوئی نہ کوئی شخص کچھ نہ کچھ سرچ کر رہا ہوتا ہے، ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر

سیکنڈ میں اوسطاً 63 ہزار، ہر منٹ میں 28لاکھ، ہر گھنٹے میں 22کروڑ 80 لاکھ، ہر دن میں 5ارب 60کروڑ سے زائد بار اور سال بھر میں 2 ہزار ارب سے زائد بار گوگل پر کچھ نہ کچھ سرچ کیا جاتا ہے جس میں سے 16سے 20 فیصد سرچز ایسی ہوتی ہیں، جنہیں پہلے کبھی سرچ نہیں کیا گیا ہوتا ہے ، گوگل کے آٹو سجیسٹ انجن کے ذریعے ایک بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کے شہری دیگر ممالک کے برعکس سب سے زیادہ ڈرامے سرچ کرتے ہیں، اسکے علاوہ بھارتی شہری گوگل پر سب سے زیادہ فلموں اور خوراکوں کی تلاش دیگر ممالک کے برعکس زیادہ کرتے ہیں جبکہ افغانستان میں لڑائی پر مبنی فلمیں زیادہ پسند کی جاتی ہیں

Categories
انٹرنیشنل

بیرون ملک سے موبائل فونز پاکستان لانے والوں کیلئے بڑی خوشخبری

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) بیرون ملک سے موبائل فونز پاکستان لانے والوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی۔ تفصیلات کے مطابق وزارت آئی ٹی نے درآمد شدہ موبائل فونز پر ٹیکس کی کمی کی تجویز دے دی ہے۔سیکرٹری انچارج آئی ٹی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائےآئی ٹی کے اجلاس میں بتایا کہ موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی کی تجویزدی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر سے درآمد شدہ فونز پر ٹیکس کم کرنے کا کہا ہے۔واضح رہے کہ اس وقت 500 ڈالرز کے فون پر 80 ہزار روپے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔سیکرٹری انچارج آئی ٹی نے مزید کہا کہ اب پاکستان میں موبائل فونزکی تیاری شروع ہوگئی ہے اور مقامی سطح پر تیار کردہ فون سستے ہیں۔

Categories
انٹرنیشنل

ایلون مسک نے ٹوئٹر خریدنے کا معاہدہ روک دیا ، مگر کیوں ؟ وجہ حیران کن

لندن (ویب ڈیسک) ایلون مسک نے ٹوئٹر خریدنے کا معاہدہ عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق امریکی کمپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹوئٹر ڈیل عارضی طور پر روکی کئی ہے۔انہوں نے کہا کہ زیر التواء

تفصیلات اس حساب کتاب کی حمایت کرتی ہیں کہ اسپام/جعلی اکاؤنٹس واقعی 5 فیصد سے کم صارفین کی نمائندگی کرتے ہیں۔یاد رہے کہ ایلون مسک نے ٹوئٹر کے لیے 44 بلین ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔انہوں نے اس ڈیل کے لیے 21 بلین ڈالر کی نقد رقم کا وعدہ کیا تھا۔سیکیورٹیز کے مطابق ایلون مسک نے اپنی ٹوئٹر ڈیل کےحصول کے لیے کچھ سرمایہ کاروں سے7.1 بلین ڈالرز اکٹھے کیے جن میں اوریکل کے بانی لیری ایلیسن اور سعودی شہزادہ الولید بن طلال شامل ہیں۔ایلون مسک نے 18 سرمایہ کاروں کی فہرست پیش کی تھی جنہوں نے ان کے ساتھ نقد سرمایہ کاری پر اتفاق کیا ہے۔

Categories
انٹرنیشنل

ہمیشہ مشکل دور میں ملک کو سہارا دینے والا شخص : سری لنکا میں کس شخصیت کو چھٹی بار وزیراعظم مقرر کر دیا گیا ؟ جانیے

کولمبو(ویب ڈیسک) پانچ بار سری لنکا کے وزیر اعظم رہ چکے رانیل وکرم سنگھ کو ملک میں استحکام لانے کیلئے ایک بار پھر وزیر اعظم مقرر کردیا گیا ہے۔الجزیرہ کے مطابق یہ تقرری سیاسی اور معاشی بحران کے درمیان ہوئی ہے جس نے پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

وکرم سنگھ جو کہ 73 سال کے ہیں، نے صدارتی دفتر میں صدر گوٹابایا راجا پاکسے کے سامنے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔صدارتی ترجمان سودیوا ہیٹیارچی نے صحافیوں کو بتایا کہ کل کابینہ کی تقرری کا امکان ہے۔واضح رہے کہ صدر گوٹابایا راجا پاکسے کے بھائی مہندا راجا پاکسے نے پیر کے روز وزیر اعظم کے عہدے سے اس وقت استعفیٰ دیا جب کہ ملک بھر میں مشتعل مظاہرین حکومت سے دستبرداری کا مطالبہ کر رہے تھے۔

Categories
انٹرنیشنل

نومبر میں اہم تعیناتی!!! نوازشریف سے لندن میں کونسی 2 اہم شخصیات نے ملاقات کی؟ تہلکہ خیز انکشاف

لاہور(نیوز ڈیسک) مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے ن لیگ کے رہنماؤں کو 2 اہم شخصیات سے ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کردیا ۔ نومبر میں اہم تعیناتی کےحوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔تفصیلات کے مطابق لندن میں مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف سے نون لیگ کے اہم رہنماؤں کی ملاقات کا احوال سامنے آگیا ،ذرائع ن

لیگ نے بتایا کہ ملاقات میں نوازشریف نے پارٹی رہنماؤں کو لندن میں چند روز قبل اہم شخصیات سے ملاقات سے متعلق تفصیلات بتائیں۔ملاقات میں یہ بھی طے ہوا کہ معاشی معاملات میں بڑے اور اہم فیصلوں پر اسحاق ڈار کی مشاورت لازمی ہوگی جبکہ نومبر میں اہم تعیناتی کےحوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔نوازشریف کی وطن واپسی پر غور کیاگیا کہ کب اور کس طرح واپسی ہوسکتی ہے جس پر طے ہوا کہ بجٹ کےبعد نوازشریف کی وطن واپسی کے آپشنز پر دوبارہ مشاورت کی جائے گی۔نون لیگ کےاہم رہنما نےانکشاف کیا کہ وزیراعظم شہبازشریف لندن سےواپسی پر چین کا دورہ کریں گے۔جس کے بعد ملکی معاشی صورتحال پر وزیر خزانہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ہمیں مشکل حالات سے نکلنے کےلیے تین سو ارب روپے کی فوری ضرورت ہے اور اس سلسلے میں سعودی عرب سے 28فیصد ڈیفر ادائیگیوں پر جلد معاہدہ ہوجائے گا، جس کے تحت 2 ارب ڈالرز جلد ملیں گے جبکہ آئی ایم ایف سے بھی معاملات آخری مراحل میں ہیں۔ذرائع کے مطابق پیپلپزپارٹی سے معاملات پر نون لیگ کی اکثریت نے انتخابی الائنس کی مخالفت کی تاہم میثاق جمہوریت ٹو پر عملدرآمد پر سب کا اتفاق ہے۔ذرائع نے بتایا کہ تحریک انصاف کے رہنماوں کے خلاف مقدمات بھی بنائےجائیں گے، جن میں کرپشن چارجز بھی شامل ہوں گے۔جبکہ رانا ثناء اللہ کیجانب سے بھی واضح اعلان کردیا ہے کہ پی ٹی اآئی کو روکنے کی پالیسی حکومت نے بنانی ہے مگر جب تک میں نہیں چاہوں گا تب تک عمران خان اسلام آباد میں 20 بندے بھی نہیں لا سکیں گے۔

Categories
انٹرنیشنل

بلوچستان کی قسمت چمک اٹھی !!!چینی سرمایہ کاروں نے بڑا اعلان کردیا

اسلام آ باد(نیوز ڈیسک ) چیئرمین چائنا اور سیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی چنگ بائو چنگ نے کہا ہے کہ 14 چینی سرمایہ کار گوادر اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے17 مئی کو گوادر آ ئیں گے ،گوادر میں اقتصادی ترقی کے لیے بجلی کی فوری فراہمی ضرور ی ہے ،ہم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک کہ بجلی

دستیاب نہ ہو۔ ہم جنریٹروں سے مہنگی بجلی پیدا کرتے ہیں،چینی سرمایہ کار اپنی صنعتیں چین سے پاکستان منتقل کرنے کے خواہشمند ہیں، مجھے امید ہے کہ حکومت بجلی کا مسئلہ جلد حل کر لےگی۔ گوادر پرو کے مطابق گوادر بندرگاہ کے ساتھ ساتھ گوادر ریجن میں مضبوط اقتصادی ترقی، کاروباری ایکو سسٹم اور لاجسٹک سرگرمیوں کو یقینی بنانے کے لیے بجلی کی فراہمی کے فوری انتظامات کے لیے آواز اٹھا ئی گئی ۔ گوادر پورٹ کے چائنہ بزنس سینٹر میں منعقدہ پاکستان انرجی ڈویلپمنٹ کانفرنس 2022 میں بجلی کی جلد فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔ جس میں سی او پی ایچ سی کے چیئرمین چنگ بائو چنگ، جی ڈی اے کے چیئرمین منیب قمبرانی، جی پی اے کے چیئرمین نصیر کاشانی، جی آئی ای ڈی اے کے اہلکار وقاص احمد، گوادر کے ڈی سی کیپٹن جمیل احمد اور دیگر نے شرکت کی۔ گوادر پرو کے مطابق چیئرمین سی او پی ایچ سی چنگ بائو چنگ نے کہا کہ ترقی کے حوالے سے کچھ مسائل حل ہونے ہیں اور طاقت سب سے اہم ہے،ہم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک کہ کافی بجلی دستیاب نہ ہو۔ انہوں نے کہا سی او پی ایچ سی میں ہم جنریٹروں سے بجلی پیدا کرتے ہیں جو بہت مہنگی ہے۔ چینی سرمایہ کار اپنی صنعتیں چین سے پاکستان منتقل کرنے کے خواہشمند ہیں۔سرمایہ کاری کے شعبے بہت متنوع ہیں اور ان میں ریفائنری، اسمبلی، پیٹرو کیمیکل اور ٹیکسٹائل شامل ہیں لیکن ان تک محدود نہیں تاہم طاقت کے بغیر تبدیلی ممکن نہیں ہوسکتی ہے۔ گوادر پرو کے مطابق میں یہاں 7 سال سے ہوں اور اس کے بعد سے حکومت سے بجلی کی فراہمی میری اولین درخواست ہے۔ حکومت کا 300 میگاواٹ پاور پلانٹ کا منصوبہ شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔

لیکن اس پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ مجھے اس کانفرنس میں توانائی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ حکومت بجلی کا مسئلہ جلد حل کر لے گی۔ انہوں نے مزید کہا ہمارے پاس بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے لیکن اگر حکومت خریدنے کے لیے تیار ہو۔ لیکن آبادی کی کثافت کم ہونے کی وجہ سے گوادر میں صارفین کی طلب میں کمی کی وجہ سے اس کا جائزہ لینا باقی ہے۔گوادر پرو کے مطابق انہوں نے یاد دلایا کہ گوادر میں ان کے گزشتہ 7 سال کے قیام میں بہت کچھ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے مقامی کمیونٹی کے ساتھ قریبی تعاون کا مشاہدہ کیا۔ ہماری برادر سیکورٹی فورسز نے ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا ہے۔ ان کی مخلصانہ کوششوں کی وجہ سے، میں موجودہ ماحول کے ساتھ آرام دہ ہوں۔ انہوں نے واضح کیاگوادر پر قدم رکھنے سے پہلے میں بہت افسردہ تھا۔ چینیوں کے لیے کوئی مناسب رہائش نہیں تھی اور ہم پی سی ہوٹل میں ٹھہرتے تھے۔ کاروباری سرگرمیاں بہت محدود تھیں۔ کوئی قابل ذکر حرکت نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود، اب گوادر مشہور ہو گیا ہے اور کاروباری سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے 5 نئی کرینیں خریدنے کے لیے 15 ملین ڈالر خرچ کیے۔ پرانی کرینوں کی جگہ بندرگاہ پر بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے ایل پی جی جہاز کو آج آف لوڈ کیا جا رہا ہے اور جمعہ کو پہنچنے والا ایک کنٹینر جہاز بندرگاہ کی

سرگرمیوں میں تیزی لانے کا ثبوت ہے۔ یہ اشارے مستقبل کے لیے اچھی خبریں پیش کرتے ہیں۔ تاہم مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ توانائی کے مسائل سب سے نمایاں ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اب تک گوادر پورٹ اور فری زون میں 300 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔ نیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ایسٹ بے ایکسپریس وے، پاکستان چائنا ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، چائنا پاکستان فرینڈ شپ ہسپتال، اور 1.2?MGD پلانٹ جیسے اہم میگا پراجیکٹس گوادر کے مقامی بھائیوں کے لیے چین کے عوام کی طرف سے چند گرانٹس ہیں۔ 17 مئی کو 14 چینی سرمایہ کار گوادر اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے گوادر آ رہے ہیں۔ چینیوں کے علاوہ، پچھلے سال ہمیں امریکہ، کینیڈا اور یورپی یونین کے ممالک سے 17 سے زیادہ سفیر ملے۔ بلاشبہ، توانائی کی فراہمی ایک شرط کے طور پر رہتی ہے۔ توانائی کے بغیر کوئی ترقی حاصل نہیں کی جا سکتی”۔ انہوں نے بتایا کہ چینی سرمایہ کار گوادر میں آئل ریفائنری کے قیام کے لیے 5 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا پختہ ارادے رکھتے ہیں۔ ایک بار جب منصوبہ مکمل ہو جائے گا، کاروباری سرگرمیوں کو شامل کرنے کے علاوہ مقامی لوگوں کو ملازمت کے مواقع بھی فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ دیگر شعبے جیسے لبریکنٹ اور زراعت بھی زیر غور ہیں۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا چین میں اپنے قیام کے دوران، میں نے پاکستان سے چینی مارکیٹ میں گوشت کی برآمد کے معاملے پر بات کی ہے اور حکومت اس پر غور کرنے کو تیار ہے۔

Categories
انٹرنیشنل

ایک بھارتی میاں بیوی نے اپنے اکلوتے بیٹے پر انسانی تاریخ کا انوکھا ترین مقدمہ درج کروا دیا

نئی دہلی (ویب ڈیسک ) ایک بھارتی جوڑے نے اپنے اکلوتے بیٹے اور اس کی بیوی کے خلاف انوکھا مقدمہ دائر کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایک سال کے اندر بچہ پیدا کریں یا 5 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کریں۔ریٹائرڈ سرکاری ملازم 62 سالہ سنجیو پرساد سنہا اور ان کی اہلیہ سادھنا پرساد سنہا

کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے پر اپنی زندگی بھر کی کمائی خرچ کردی۔ جس میں 65ہزار ڈالر کا پائلٹ ٹریننگ کورس اور تھائی لینڈ کے فائیو اسٹار ہوٹل میں شادی کا انعقاد بھی شامل ہے۔

Categories
انٹرنیشنل

پوری دُنیا کے لیےیقین کرنا مشکل! چینی صدر کے حوالے سے افسوسناک خبر

بیجنگ (نیوز ڈیسک ) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی طبیعت کی ناسازی کے بعد اب چینی صدر شی جن پنگ کی خرابی صحت کے حوالے سے بھی کچھ میڈیا رپورٹس سامنے آئی ہیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، چینی صدر شی جن پنگ دماغی مرض سیریبرل انیوریزم میں مبتلا ہیں اور اسی وجہ سے انہیں گزشتہ سال کے آخر میں

ہسپتال میں داخل بھی ہونا پڑا تھا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ شی جن پنگ نے بیماری کا علاج کرنے کیلئے سرجری کروانے کے بجائے روایتی چینی ادویات سے علاج کروانے کو ترجیح دی ہے۔سرجری کے برعکس چین کی روایتی ادویات خون کی نالیوں کو نرم کرتی ہے اور انیوریزم کو سکیڑتی ہے۔چینی صدر کی صحت کے بارے میں یہ قیاس آرائیاں اس وقت ہونا شروع ہوئیں جب انہوں نے عالمی کورونا وبا کے پھیلائو کے آغاز سے لے کربیجنگ میں منعقد ہونے والے ونٹر اولمپکس تک غیر ملکی رہنمائوں سے ملنے سے گریز کیا تھاجبکہ 2019 میں کورونا وباکے پھیلائو کا آغاز ہونے سے قبل بھی چینی صدر کو ان کے دورہ اٹلی کے دوران تھوڑا لنگڑا کر چلتے ہوئے اور پھر بیٹھنے کیلئے سہارا لیتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔اسی طرح شی جن پنگ کے شینزین میں عوام سے خطاب کیلئے تاخیر سے پہنچنے، آہستہ بولنے اور کھانسنے کی وجہ سے اکتوبر 2020میں بھی ان کی صحت کے خراب ہونے کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی گئیں تھیں۔جانس ہاپکنز میڈیسن سینٹر کے مطابق، یہ دماغ میں ایک شریان کے غیر معمولی پھیلا سے پیدا ہونے والا غبارہ ہے جوکہ دماغ میں خون کی نالی کی دیوار میں اندرونی پٹھوں کی تہہ کے کمزور ہونے سے ہوتا ہے۔ اس بیماری کو برین انیوریزم یا انٹرا کرینیئل انیوریزم بھی کہا جاتا ہے۔سیریبرل انیوریزم یعنی چھالے جیسے پھیلا کو دوبارہ سکیڑا بھی جاسکتا ہے اور یہ اچانک پھٹ بھی سکتا ہے۔جانز ہاپکنز میڈیسن سینٹر کے مطابق، اگر سیریبرل انیوریزم پھیلتا ہے اور خون کی نالیوں کی دیوار بہت پتلی ہو جاتی ہے، تو اس کے پھٹ جانے سے دماغ میں ارد گرد کی جگہ پرخون بہے گا۔ اس واقعے کو سب اریکنوئیڈ ہیمریج کہا جاتا ہے اور یہ ہیمرج فالج کا سبب بھی بن سکتا ہے۔جانز ہاپکنز میڈیسن سینٹر کا کہنا ہے کہ زیادہ تر سیریبرل انیوریزم کی بظاہر کوئی علامات سامنے نہیں آتی ہیں۔تاہم، کچھ کیسزمیں سامنے آنے والی علامات میں سر درد، آنکھوں میں درد، بینائی میں تبدیلی اور آنکھوں کی حرکت میں کمی شامل ہوتی ہے۔

Categories
انٹرنیشنل

دلہن آدھا عروسی جوڑا پہن کر پہنچ گئی !!! شادی کی رسم میں ایسا کام ہوگیا کہ دیکھ کرمہمان بھی دنگ رہ گئے

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) دبئی میں دلہن آدھا عروسی جوڑا پہن کر ہی شادی کی تقریب میں پہنچ گئی اور جب پادری شادی کرانے لگا تو ایسا کام کر دیا کہ شادی میں آئے مہمان قہقہے لگانے لگے۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق اس دلہن کا نام بیکی جیفریز ہے جو پروفیشنل ’ڈیجیٹل کنٹینٹ کری ایٹر‘ہے۔اس نے اپنا سفید رنگ کا آدھا عروسی لباس پہن لیا۔ اس

لباس کا ایک اور حصہ تھا جو کمر پر باندھا جانا تھااور اس کی وجہ سے اس لباس نے لہنگے کی سی شکل اختیار کرنی تھی، تاہم بیکی وہ حصہ پہننا بھول گئی۔ اس واقعے کی ایک ویڈیو بیکی جیفریز نے اپنے انسٹاگرام پر پوسٹ کی ہے جو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب پادری شادی کرانے لگتا ہے تو بیکی کوآدھا لباس نہ پہننے کا احساس ہوتا ہے اور پادری سے کچھ دیر کے لیے تقریب روکنے کی درخواست کرتی ہے۔ وہ اپنا پھولوں کا گلدستہ پادری کو پکڑا کر مائیک اٹھاتی ہے اور مہمانوں کو صورتحال سے آگاہ کرتی ہے جس پر تقریب میں قہقہے گونج اٹھتے ہیں۔اسی اثناءمیں ایک لڑکی باقی ماندہ لباس لے کر آتی ہے اور بیکی اسے پہن کر کہتی ہے کہ ”ہاں، اب ہم تقریب شروع کر سکتے ہیں۔“انسٹاگرام پر اس ویڈیو کے کیپشن میں بیکی لکھتی ہے کہ ”کوئی دلہن سوچ بھی نہیں سکتی کہ وہ اپنا آدھا لباس آلٹر پر پادری اور اپنے دولہا کے سامنے پہنے گی۔ بہرحال، یہ واقعہ ہمیں تمام عمر یاد رہے گا۔“دوسری جانب ہر ملک کی ثقافت کے لحاظ سے دلہنیں اپنی شادی کے روز زرق برق لباس پہنتی ہیں تاہم گزشتہ دنوں نیوزی لینڈ میں ایک دلہن شادی میں ایسا لباس پہن کر آ گئی کہ دولہا اور مہمانوں کے ایک لمحے کے لیے تو خوف سے کلیجے منہ کو آ گئے۔ نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق مقامی خاتون صحافی ایما ہیلیئر نے اس انوکھی دلہن کے متعلق اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر بتایا ہے کہ وہ شادی کی تقریب میں روایتی عروسی جوڑے کی بجائے ’ڈائنو سار‘ کا کاسٹیوم پہن کر آ گئی۔رپورٹ کے مطابق ایما بتاتی ہے کہ ایک لمحے کے لیے دولہا اور مہمان خوفزدہ ہوئے مگر حقیقت کا علم ہوتے ہی دولہا حیرت سے اپنی دلہن کو دیکھنے لگا جبکہ مہمانوں نے قہقہے لگانے شروع کر دیئے۔ ایما اس موقع پر اپنی ہنسی پر بمشکل قابو پاتے ہوئے بتاتی ہے کہ دلہن نے اپنا یہ منصوبہ دولہا سے بھی مخفی رکھا تھا۔ چنانچہ اپنی دلہن کو ڈائنو سار کی شکل میں دیکھ کر دولہا کی جو حالت ہوئی، وہ دیکھنے لائق تھی۔“ایما کی یہ ویڈیو ٹوئٹر پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جسے اب تک 50ہزار سے زائد لوگ دیکھ چکے ہیں۔

Categories
انٹرنیشنل

پوری دنیا حیرت میں مبتلا

نئی دہلی (ویب ڈیسک) اکیس سال کی عمر میں انڈین ایڈ منسٹریٹیو سروس ( آئی اے ایس ) کا امتحان پاس کرنے والی پوجا سنگھل اپنے کیریئر کے بائیسویں سال میں انتہائی مشکل دور سے گزر رہی ہیں۔ انھیں ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر افسر کے طور پر پہچانا جاتا ہے لیکن اِس وقت انھیں بدعنوانی کے الزام کا

سامنا ہے۔انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے گھر سے سترہ کروڑ روپے نقد برآمد ہونے کے بعد پوجا کے گھر، ان کے سسرال اور ان کے شوہر کے ہسپتال پر ریڈ کیا ہے۔اکاؤنٹنٹ سمن سنگھ کا تعلق پوجا کے شوہر ابھیشیک جھا سے بتایا جاتا ہے۔ اس معاملے نے سیاسی تنازع کا رخ اختیار کر لیا ہے۔ جھارکھنڈ میں اپوزیشن کی حکومت ہے۔انفورسمنٹ کے تفتیش کاروں کو شک ہے کہ سمن سنگھ کے گھر سے جو نقدی بر آمد ہوئی ہے وہ پوجا سنگھ کی ہو سکتی ہے۔ تفتیش کاروں نے ابھی تک پوجا کے شوہر اور اور سمن سنگھ سے کئی گھنٹے تک پو چھ گچھ کی ہے۔پوجا سے بھی پوچھ گچھ کی جانے والی ہے۔ تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اتنی بڑی رقم کہاں سے آئی ہے۔اکاؤنٹنٹ سمن سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ نقدی ان کی اپنی ہے اور وہ اس سال کے انکم ٹیکس رٹرن میں اس کی تفصیل جمع کرنے والے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ان پر ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین، پوجا سنگھل اور بعض دیگر آئی اے ایس افسروں کا نام لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ان دعوں کے باوجود انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاری 2008-10 میں کھونٹی ضلع میں بدعنوانی کے ایک دوسرے معاملے میں کی گئی ہے۔ اُس وقت پوجا سنگھل وہاں کی کمشنر تھیں۔ بدعنوانی کا الزام ان پر بھی لگا تھا لیکن محکمہ جاتی تفتیش کے بعد انھیں کلین چٹ دے دی گئی تھی۔اکثر فلورل پرنٹ والی

گہری رنگوں کی ساڑی پہننے والی پوجا اس وقت کان کنی کے محکمے کی سیکرٹری ہیں۔اس سے پہلے وہ کئی ضلعوں میں ڈپٹی کمشنر رہ چکی ہیں۔ وہ کئی اہم عہدوں پر کام کر چکی ہیں۔ اس دوران ان کے سبھی وزرائے اعلیٰ سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔وہ سکول کے دنوں سے ہی تعلیم میں ہمیشہ اوّل رہی ہیں۔ 2000 کے سول سروسز امتحانات میں ان کی پورے ملک میں 26 ویں پوزیشن تھی۔ان کے پہلے شوہر بھی ایک آئی اے آفیسر تھے لیکن ان کے تعلقات بہت دنوں تک اچھے نہیں رہے اور بالآخر طلاق ہوگئی۔ انھوں نے دوسری شادی عمر میں خود سے چھوٹے ابھیشیک جھا سے کی۔ابھیشیک جھا ریاستی دارالحکومت رانچی میں ایک بڑے ہسپتال کےمینیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے اس ہسپتال پر بھی ریڈ کیا ہے اور وہاں سے بعض دستاویزات ضبط کی ہیں۔تفتیش کاروں کو شک ہے کہ شاید اس ہسپتال کی تعمیر میں پوجا نے بھی پیسہ لگایا ہے۔ پوجا کے سُسر سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔