Categories
صحت

فٹنس کے لیے ہائی ٹیکنالوجی والا آئینہ جس کا مقصد آپ سے زیادہ ورزش کرانا ہے!! حیران کن ایجاد بارے آپ بھی جانیں

لاہور: (ویب ڈیسک) زیادہ تر لوگوں کے لیے خود کو ورزش کرتے ہوئے دیکھنے کا خیال زیادہ دلکش نہیں۔ ہم ٹریڈ مل پر پسینہ بہاتے ہوئے یا وزن کی مشین پر زور لگاتے ہوئے شکلیں بنانے کے دوران اپنے آپ کو اس ’اچھی‘ حالت میں دیکھنا زیادہ پسند نہیں کرتے۔

پھر بھی کوئی بھی وہ شخص جو ورزش کے لیے جِم جاتا ہے، وہ جانتا ہے کہ ایسے کچھ لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں جو فرش کی لمبائی جتنے بڑے آئینے میں اپنے عکس پر نظریں جمائے رکھتے ہیں اور اپنی ہی تعریف کرنا پسند کرتے ہیں۔ شاید یہ خاص طور پر فٹ رہنے کے شوقین ہیں، جو گھر پر ورزش کے تازہ ترین رجحان کے بارے میں سب سے زیادہ پرجوش ہیں اور یہ رجحان سمارٹ فٹنس آئینے کے استعمال کا ہے۔ سمارٹ فٹنس آئینے 6 فٹ (180 سینٹی میٹر) لمبے، عمودی، ہائی ٹیک آئینے ہیں جن میں کمپیوٹر سسٹم لگا ہوتا ہے، جو کہ انٹرنیٹ سے منسلک ہوتا ہے اور ویڈیو سکرین کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ خیال یہ ہے کہ آپ ایک آن لائن ٹرینر سے رابطے میں ہوتے ہیں، جو پھر آپ کے عکس کے ساتھ آئینے کی سکرین پر ظاہر ہوتا ہے اور ان شیشوں کے زیادہ جدید ماڈلز میں آئینے پر کیمرے اور سپیکر ساتھ لگائے جاتے ہیں اور اس سے آپ کا ٹرینر صرف آپ کی حرکات کا مشاہدہ ہی نہیں بلکہ آپ کی حسبِ ضرورت ورزش کے طریقوں کی تصحیح بھی کر سکتا ہے۔ صارفین کے پاس ویٹ لیفٹنگ، پیلیٹس، کارڈیو اور یوگا سمیت متعدد ورزشوں کے دوران لائیو ون ٹو ون سبق یا گروپ کلاسز میں شامل ہونے کی آپشن ہوتی ہے۔ سادہ قسم کے سمارٹ آئینوں پر ویڈیو اور آواز صرف ایک طرفہ جاتی ہے، آپ ٹرینر کو دیکھ اور سن سکتے ہیں لیکن دوسری طرف وہ آپ کو نہیں سُن سکتا۔ ورزش کے سبق عام طور پر لائیو نہیں ہوتے، اس کے بجائے آپ سٹریم شدہ ورزش کی ویڈیوز کی لائبریری تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔

چاہے آپ ہائی سپیسیفیکیشن والے آئینے کا انتخاب کریں یا بنیادی قسم کا خریدیں، آپ عام طور پر آئینے کے لیے کم از کم ایک ہزار برطانوی پاؤنڈ خرچ کرتے ہیں اور پھر اس کے علاوہ کسی کلب کی رُکنیت کی فیس ادا کرتے ہیں۔ٹچ سکرین آئینے میں بھی عام طور پر متعدد سینسر لگے ہوتے ہیں جو مصنوعی ذہانت (AI) سے جڑے ہوتے ہیں جو آپ کی نقل و حرکت پر رائے دے سکتے ہیں اور آپ کو بہتر ورزش کی تجویز دے سکتے ہیں۔برطانیہ میں فروخت کیے جانے والا پہلا ایسا آئینہ ’واہا‘ تھا۔ اسی نام کی جرمن فرم نے ایسا ہی سمارٹ آئینہ پچھلے برس بنا کر جرمنی کی مارکیٹ میں فروخت کیا تھا۔ اس کے حریف برانڈز میں ’ٹونل، مرر، نورڈک ٹریک، پورٹل اور پروفارم شامل ہیں۔’واہا‘ اپنے آئینے کو جسم، دماغ اور غذائی صحت کے لیے مکمل ذاتی نوعیت کے، تفصیلی سیشن فراہم کرنے کی پیشکش کرتا ہے۔لیکن کیا اپنے آپ کو ورزش کرتے ہوئے دیکھنے کا کوئی حقیقی فائدہ ہے؟مِس کولین لوگن ’آئی فٹ‘ میں تعلقات عامہ کی نائب صدر ہیں، جو ’نورڈِک لاریک‘ اور ’پرو فارم‘ شیشے بناتے ہیں۔کولین کہتی ہیں کہ اپنے آپ کو آئینے پر دیکھنے سے صارف ’اپنی شکل (یا پوزیشن) کو ایڈجسٹ کر سکتا ہے تاکہ وہ ورزش کے دوران اس کے بہترین فوائد حاصل کر سکے۔ سخت قسم کی ورزش کریں اور شکل میں غلطیوں کو کم کریں جو چوٹوں کا باعث بن سکتی ہیں۔‘ برطانیہ کی لاف بورو یونیورسٹی میں کھیلوں اور تندرستی کے ماہر نفسیات ڈاکٹر انتھونی پاپا ٹاماس کا کہنا ہے کہ اس دلیل میں وزن ہے تاہم انھیں اس کے درست ہونے کے بارے میں کچھ خدشات بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’نفسیاتی نقطہ نظر سے آپ کے آئینے کے سامنے ورزش کرنے سے شاید آپ کو کوئی فائدہ ہوسکتا ہے۔مثال کے طور پر دوڑنے کے انداز میں بہتری یا وزن اٹھانے کے انداز میں فائدہ ہو سکتا ہے۔ یہ ورزش کے لیے لوگوں کے جمالیاتی محرکات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ آپ اپنے پٹھوں کو عمل میں دیکھ سکتے ہیں اور اس دیکھنے کا فائدہ ہوسکتا ہے۔‘پاپا ٹاماس مزید کہتے ہیں کہ ’میری تشویش یہ ہو گی کہ جسمانی امیج میں عدم تحفظ کے شکار لوگ اس بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں؟ یہ ان لوگوں کے لیے ایک مسئلہ ہو سکتا ہے جو ورزش کرنا چاہتے ہیں اور طرز زندگی میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔‘

’یہاں تک کہ باقاعدگی سے ورزش کرنے والوں کے لیے بھی ہم جانتے ہیں کہ بہت سے ایسے ہیں جو جسم کی خرابی یا کھانے کی خرابی کا سامنا کرتے ہیں اور ان کے لیے اپنے آپ کو ورزش کے دوران آئینے میں دیکھنا پریشان کن ہوسکتا ہے۔‘ہائی ٹیک آئینے کی ایک ایسی ہی شکل ’سمارٹ ویلنیس‘ آئینے بھی اب مارکیٹ میں متعارف کرائی جارہی ہے، جو صارف کی جلد اور بنیادی صحت کا جائزہ لینے کے لیے سینسر اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہیں۔ایک فرانسیسی فرم ’کیئر او ایس‘ دو ایسی مصنوعات بناتی ہے جو آپ کے باتھ روم میں سنک کے اوپر موجودہ آئینے کی جگہ لگانے کے لیے موزوں ترین ہیں اور اس مقصد کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔اس کے آئینے کسی شخص کی جلد اور درجہ حرارت کا تجزیہ کرنے کے لیے کیمرہ اور انفراریڈ اور الٹرا وائلٹ لائٹ سینسر استعمال کرتے ہیں اور پھر دیکھ بھال کے متعدد معمولات تجویز کرتے ہیں۔ صارف سبسکرپشن پر مبنی سکن کیئر ٹیوٹوریلز تک بھی رسائی حاصل کر سکتا ہے۔دو عورتیں فرانسیسی کمپنی ’کیئر او ایس‘ کی موشن ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیںکیئر او ایس کی شریک بانی وائیلین مون مارشے وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ آئینہ حرکت اور آواز کے کنٹرول دونوں کے ساتھ کام کرتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’باتھ روم ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ کے ہاتھ گیلے ہوتے یا ان پر کریم لگی ہوئی ہے، اس لیے آپ آئینے کو چھو نہیں سکتے، آپ کو صرف اس کے سامنے اشارہ کرنا ہوتا ہے۔‘لندن کے ہارلے سٹریٹ سپیشلسٹ ہسپتال کے طبی جمالیات کے ماہر ڈاکٹر انوب پکر ہل کہتے ہیں کہ ’اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت شاید انگریزی کا مشہور مصرعہ ’میرر میرر آن دی وال ہو از دی فیئریسٹ آف دم آل!‘ ایک حقیقت بن جائے۔‘وہ مزید کہتے ہیں کہ ’مصنوعی ذہانت اور چہرے کی شناخت میں ہونے والی پیشرفت سے بہت سارے مواقع ملتے ہیں جن سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ لوگوں کو گھر سے اپنی صحت کا جائزہ لینے اور ان کا انتظام کرنے کی صلاحیت فراہم کی جا سکے۔‘تاہم ڈاکٹر پاکر ہل کا کہنا ہے کہ انھیں اب بھی ان کی درستگی اور ان سے حقیقی ربط کی کمی کے بارے میں خدشات ہیں۔’بعض طبی مسائل میں نبض دیکھنے کی (ٹچ) کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ حالت کی مناسب تشخیص کی جا سکے۔‘ڈاکٹر انوب پکر ہل کہتے ہیں کہ وہ سمارٹ آئینوں کی صحیح معلومات کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتاماہر نفسیات ڈاکٹر ایلینا ٹورونی کو بھی فٹنس اور تندرستی دونوں کے لیے سمارٹ آئینے کے بارے میں تشویش ہے۔وہ کہتی ہیں کہ کسی ایسے شخص کے لیے جو پہلے سے ہی کمال پر فوکس کیے بیٹھا ہے اور شاید پہلے ہی اپنے جسم میں ہر ’نقص‘ کو دیکھ رہا ہے، یہ آئینے نفسیاتی مشکلات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ایک اور ماہر نفسیات لی چیمبرز اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ لوگوں کے ’پرفیکشن کے لیے کام کرنے‘ کے جنون میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے۔پھر بھی وہ مزید کہتے ہیں کہ سمارٹ آئینے میں ‘صحت کے انتخاب کو بااختیار بنانے اور صحت کے رویوں کو بدلنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔‘وہ مزید کہتے ہیں کہ ورزش کا آئینہ ان لوگوں کے لیے بھی بہت کارآمد ہونا چاہیے جن کے پاس جِم جانے کا وقت نہیں لیکن پھر بھی وہ اس بارے میں کسی کی رائے چاہتے ہیں کہ وہ کیسا کر رہے ہیں۔

Categories
صحت

یہ غلطی ہر کوئی کرتا ہے!!! دودھ کس وقت پینا صحت کیلئے مفید ہے؟

لاہور: (ویب ڈیسک) دودھ ہم سب کی خوراک کا ایک اہم حصہ ہے جسے صحت مند زندگی اور مضبوط ہڈیوں کے لیے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ دودھ پینے کا صحیح وقت کون سا ہے؟ جس طرح ہم وقت پر ناشتہ اور دیگر کام کرتے ہیں بالکل اس ہی طرح اگر ہم دودھ کو بھی صحیح وقت پر پیئیں گے تو ہی یہ ہمیں فائدہ پہنچائے گا۔ ماہرین صحت کے مطابق دودھ پینے کا بہترین وقت شام اور رات ہے، رات کو آپ سونے کے لیے لیٹنے لگیں تو چند منٹ پہلے دودھ پیئیں کیونکہ ایسا کرنے سے آپ کو نیند بھی اچھی آئے گی جب کہ یہ حافظہ تیز کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکے گا۔ دوسری جانب ایسے بچے جن کی عمر 5 سال سے کم ہے ان کے لیے دودھ پینے کا بہترین وقت صبح ہے اور ان کے لیے روزانہ صبح دودھ پینا فائدہ مند ہوگا۔ شام اور رات کو دودھ پینا نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ کیلشیئم جذب کرنے کے عمل کو بھی بہتر بناتا ہے۔

Categories
صحت

طب شعبے سے وابستہ افراد کے لئے خوشخبری!! تنخواہ میں بڑا اضافہ، اہم اعلان ہوگیا

ریاض : (ویب ڈیسک) سعودی وزارت افرادی قوت وسماجی بہبود نے ہیلتھ اسپیشلائزیشن کے شعبوں میں 60 فیصد اور میڈیکل آلات سیکٹر میں 30 فیصد جبکہ مملکت بھر میں طبی لوازمات اور سیلز کے شعبے میں 40 فیصد سعودائزیشن کے فیصلوں پر عمل درآمد کا آغاز کیا گیا ہے۔ سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے ان شعبوں میں سعودائزیشن کے لیے مملکت کے تمام اداروں کو مہلت دی تھی، مہلت ختم ہونے پر فیصلوں پر عمل درآمد شروع کیا گیا ہے۔ وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے بیان میں کہا کہ ہیلتھ اسپیشلائزیشن کے کارکنان کی 60 فیصد تک سعودائزیشن سے پانچ ہزار600 سے زیادہ سعودیوں کو روزگار ملے گا۔ دوسری جانب پرائیویٹ سیکٹر میں سعودائزیشن کے فیصلے پر عمل درآمد کے ساتھ ایک اور فیصلے پر عمل درآمد شروع کردیا گیا۔
اسی کے تحت دانتوں کے ڈاکٹروں اور فارماسسٹ کی کم از کم تنخواہ ساتہزار ریال کردی گئی ہے۔ کسی بھی سعودی ڈینٹسٹ یا فارماسسٹ کی تنخواہ سات ہزار ریال سے کم نہیں ہوگی۔

Categories
صحت

فالج ہوتے ہی اگر یہ کام کرلیا جائے تو انسان معذوری سے بچ سکتا ہے ؟ پاکستان کے مشہور ڈاکٹر نے نایاب نسخہ بتا دیا

ڈاکٹر قیصر شیرازی ڈاکٹر ہیں اور راولپنڈی کے سرکاری اسپتال میں کام کرتے ہیں‘ یہ جمعرات 16 دسمبر کو ڈیوٹی پر تھے‘ ان کے ایک کولیگ ڈاکٹر ملک نعیم ان سے ملاقات کے لیے آئے‘ ڈاکٹر نعیم نے انھیں ایک بج کر 20 منٹ پر فون کیا‘ ڈاکٹر شیرازی نے انھیں آفس میں انتظار کا کہا اور یہ وارڈ سے آفس کی طرف چل پڑے‘

ٹھیک چار منٹ بعد ڈاکٹر شیرازی کو نرس کا فون آگیا۔نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔نرس نے بتایا ’’سر ڈاکٹر نعیم فرش پر گر گئے ہیں‘‘ یہ دوڑ کر پہنچے‘ ڈاکٹر ملک نعیم نیم بے ہوشی کے عالم میں گرے پڑے تھے‘ ڈاکٹر شیرازی نے معائنہ کیا‘ پتا چلا ڈاکٹر نعیم کو فالج کا اٹیک ہوچکا ہے اور ان کے جسم کی بائیں سائیڈ کام نہیں کر رہی‘ ڈاکٹر شیرازی نے فوراً ایمبولینس بلائی‘ ڈاکٹر نعیم کو اٹھا کر ایمبولینس میں رکھا اور راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی طرف دوڑ پڑے‘ ان کے کولیگز انھیں روکتے رہ گئے۔ان کا کہنا تھا ’’یہ فالج کا اٹیک ہے مگر آپ انھیں دل کے اسپتال لے جا رہے ہیں‘‘ لیکن ڈاکٹر شیرازی نے کسی کے مشورے پر توجہ نہ دی اور یہ دس منٹ میں ڈاکٹر نعیم کو لے کر آرآئی سی پہنچ گئے‘ سی ٹی سکین ہوا‘ اگلے دس منٹ میںڈاکٹر نعیم کو انجیکشن لگا دیا گیا اوریہ ایک گھنٹے بعد بالکل صحت مند تھے‘ فالج انھیں چھو کر نکل گیا تھا‘ ڈاکٹر نعیم دو دن مزید اسپتال میں رہ کر گھر چلے جائیں گئے اور یہ عام نارمل زندگی گزاریں گے۔ڈاکٹر قیصر شیرازی نے اس واقعے کے بعد ایک دوست کے

ذریعے مجھ سے رابطہ کیا اور حکم دیا‘ آپ پلیز لوگوں کو فالج کے بارے میں بتائیں‘ ہمارے ملک میں ہر سال ہزاروں لاکھوں لوگ فالج کی وجہ سے معذور ہو جاتے ہیں‘ آپ کا ایک کالم ان لوگوں کی جان بچا سکتا ہے‘ ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا‘ موٹاپے‘ شوگر‘ بلڈ پریشر‘ کولیسٹرول اور تمباکو نوشی کی وجہ سے ہمارے خون میں کلاٹ بن جاتے ہیں‘ یہ کلاٹ اچانک کسی وقت ہمارے دماغ کی کوئی نس بند کر دیتے ہیں اور یوں ہمارے جسم کا دایاں یا بایاں حصہ مفلوج ہو جاتا ہے۔میڈیکل سائنس میں اس اٹیک کو فالج کہتے ہیں اور یہ چند سکینڈز میں کسی بھی شخص کو ہو سکتا ہے اور وہ شخص باقی زندگی بستر تک محدود ہو جاتا ہے‘ وہ کھانے اور واش روم کے لیے بھی دوسروں کا محتاج ہوتا ہے‘ دنیا میں چند سال پہلے تک فالج کا کوئی علاج نہیں تھا لیکن پھر میڈیکل سائنس نے فالج کا علاج دریافت کر لیا‘ اب ایک انجیکشن آ چکا ہے‘مریض کو اگریہ انجیکشن فالج کے اٹیک کے دو گھنٹے کے اندر لگا دیا جائے تو اس کے دماغ کا کلاٹ ختم ہو جاتا ہے اور وہ دوبارہ نارمل زندگی گزارنے کے قابل بن جاتا ہے لیکن یہ انجیکشن فالج کے فوراً بعد لگوانا

ضروری ہے‘ مریض پر جوں ہی فالج کا اٹیک ہو آپ اسے فوراً اٹھائیں اور سیدھا اسپتال لے جائیں۔ڈاکٹر زاس کاسی ٹی سکین کریں اگر دماغ کی نس نہیں پھٹی تو اسے انجیکشن لگایا جائے اور مریض چند گھنٹوں میں صحت یاب ہو جائے گالیکن اگر مریض کو دو اڑھائی گھنٹوں میں یہ انجیکشن نہیں لگایا جاتا تو وہ بے چارہ پوری زندگی کے لیے معذور ہو جائے گا‘ میں اس انجیکشن کے بارے میں جانتا تھا لہٰذا میں نے ڈاکٹر نعیم کو اٹھایا اور سیدھا آر آئی سی لے گیا اور یوں ان کی زندگی اور جسم دونوں بچ گئے‘ میں نے ڈاکٹر شیرازی سے پوچھا‘ کیا یہ انجیکشن ہر اسپتال میں دستیاب ہے؟ ان کا جواب تھا ’’نہیں‘ یہ پورا ٹریٹمنٹ ہوتا ہے اور یہ صرف چند بڑے اسپتالوں میں ممکن ہے۔اسلام آباد میں یہ شفاء اسپتال اور راولپنڈی میں آر آئی سی میں دستیاب ہے‘ شفاء پرائیویٹ اسپتال ہے‘ وہاں یہ علاج مہنگا ہوتا ہے جب کہ آر آئی سی میں مریض کا مفت علاج ہو جاتا ہے‘‘ میں نے پوچھا ’’مریض اگر پرائیویٹ علاج کرائے تو کتنا خرچ آتا ہے‘‘ وہ بولے ’’پندرہ سے بیس لاکھ روپے‘‘ میں نے پوچھا اور ’’آر آئی سی میں‘‘ وہ بولے ’’یہ علاج وہاں

فری ہے‘‘ مریض جائے اور چند لمحوں میں اس کا علاج شروع ہو جائے گا‘‘ میں نے ہنس کر پوچھا ’’اور لوگ اس کے باوجود حنیف عباسی اور میاں شہباز شریف کو برا بھلا کہتے ہیں‘‘۔ڈاکٹر شیرازی نے ہنس کر جواب دیا ’’یہ دونوں راولپنڈی کو آر آئی سی اور یورالوجی اسپتال دو بڑے تحفے دے گئے ہیں‘ مریض روزانہ جھولیاں اٹھا کر انھیں دعائیں دیتے ہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا یہ علاج ملک کے دوسرے حصوں میں بھی موجود ہے؟‘‘ ڈاکٹر صاحب کا جواب تھا ’’یہ تمام بڑے شہروں میں دستیاب ہے‘ آپ لوگوں سے درخواست کریں یہ ان اسپتالوں کا پتا اور فون نمبرز اپنے پاس رکھیں‘ آپ کے سامنے اگرکسی کو فالج کا اٹیک ہو جائے تو آپ گاڑی اور رشتے داروں کے انتظار کے بجائے مریض کو اٹھائیں اور اسے فوری طور پر اسپتال پہنچا کر اس کا علاج شروع کرا دیں‘ یہ بچ جائے گا لیکن آپ اگر جوتے تلاش کرتے رہے تومریض بے چارہ ہمیشہ کے لیے معذور ہو جائے گا کیوں کہ اڑھائی گھنٹے بعد اس کے دماغ کاوہ پورشن ڈیڈ ہو جائے گا جس کے ذریعے اس کا جسم موومنٹ کرتاہے اور دنیا میں ابھی تک اس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا

لہٰذا فالج کے فوراً بعد ابتدائی دو اڑھائی گھنٹے اہم ہوتے ہیں‘ یہ ضایع نہیں ہونے چاہییں‘‘۔یہ ایک واقعہ تھا‘ آپ اب دوسرا واقعہ بھی ملاحظہ کیجیے‘ میرے دوست نعیم قمر کے آفس میں ایاز عباسی کام کرتے ہیں‘ میں انھیں بارہ سال سے جانتا ہوں‘ متحرک‘ خوش اخلاق اور سمجھ دار انسان ہیں‘ نعیم صاحب نے چند دن قبل انھیں فون کیا اور انھیں ایاز عباسی کی آواز میں تھرتھراہٹ اور لکنت سی محسوس ہوئی‘ انھوں نے ان سے کہا‘ آپ فوراً اسپتال جائیں اور اپنا بلڈ پریشر چیک کرائیں‘ ایاز عباسی نے جواب دیا‘ سر مجھے بلڈ پریشر کا کوئی ایشو نہیں‘ میں بالکل ٹھیک ہوں اور دفتر میں بیٹھ کر کام کر رہا ہوں‘ نعیم صاحب نے انھیں سختی سے اسپتال جانے کا حکم دیا‘ فون بند کیا اور دفتر کے دوسرے اسسٹنٹ کو فون کر کے انھیں اسپتال لے جانے کا حکم دیا‘ یہ دونوں اسپتال پہنچے‘ بلڈ پریشر چیک ہوا تو وہ خطرناک حد تک بلند تھا‘ ڈاکٹروں نے فوراً علاج شروع کر دیا‘ ایاز عباسی کی جان بچ گئی لیکن یہ گفتگو کے قابل نہ رہے‘ ان کی آواز مکمل بند ہو گئی‘ یہ مسلسل اسپیچ تھراپی کے بعد اب بولنے چالنے کے قابل ہوئے ہیں لیکن اب دن میں

تین بار اپنا بلڈ پریشر چیک کرتے ہیں‘ میں نے نعیم قمر صاحب سے پوچھا ’’آپ کو آواز سے بلڈ پریشر کا کیسے اندازہ ہوا؟‘‘۔انھوں نے بتایا‘ امریکا میں میرے ایک ڈاکٹر دوست ہیں‘ مجھے انھوں نے بتایا تھا بلڈ پریشر جب خطرناک حد کو چھونے لگتا ہے تو انسان صحیح طریقے سے لفظ ادا نہیں کر پاتا‘ دوسروں کو اس کی بات کی سمجھ نہیں آتی اور مجھے اس دن ایاز عباسی کی کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی لہٰذا میں نے اسے زبردستی اسپتال بھجوا دیا‘‘۔یہ انفارمیشن میرے لیے نئی تھی لہٰذا میری آپ سے بھی درخواست ہے آپ کو بھی جب بولنے میں دقت ہو یا آپ کا کوئی عزیز رشتے دار یا دوست اچانک بولتے بولتے لکنت کا شکار ہو جائے اور آپ کو اس کی بات سمجھ نہ آ رہی ہو تو آپ فوراً اس کا بلڈ پریشر چیک کرادیں اور علاج شروع کرائیں ورنہ اسے ہارٹ اٹیک ہو جائے گا اور وہ اگر ہارٹ اٹیک سے بچ بھی گیا تو بھی اس کی زبان‘ کان اور آنکھوں میں سے کسی نہ کسی عضو کا نقصان ہو جائے گا۔یہ تمام احتیاطیں اپنی جگہ لیکن میرا آپ کو مشورہ ہے آپ ایکسرسائز اور کم کھانے کو عادت بنا لیں‘ آپ جتنا سادہ اور کم کھائیں گے آپ اتنا ہی بیماری سے محفوظ رہیں گے‘ یہ یاد رکھیں انسان بھوک سے انتقال نہیں کرتا ‘ کھا کر کرتا ہے لہٰذا کھانے میں احتیاط کریں‘ دوسرا آپ جتنی ایکسرسائز کریں

گے آپ اتنی ہی صحت مند زندگی گزاریں گے‘ آپ روزانہ صبح شام دو وقت واک کیا کریں‘ بھاگ سکتے ہیں تو جاگنگ کیا کریں‘ اسٹریچنگ ایکسرسائز کریں‘ مسلز کی ایکسرسائز بھی کریں‘ نیند کم از کم سات گھنٹے ضرور لیں‘ آدھ گھنٹے کا قیلولہ بھی کریں‘ سگریٹ‘ مے نوشی اور میٹھا سو فیصد بند کر دیں‘ یہ تینوں آپ کو قبر تک لے جائیں گے‘ کھانا پانچ بار کھائیں لیکن مقدار انتہائی کم رکھیں‘ سبز سالاد روزانہ کھائیں‘ کم از کم پانچ لیٹر پانی ضرور پئیں‘ چائے دو تین کپ سے زیادہ نہ لیں‘ گرین ٹی پیتے رہیں‘ اسٹریس دنیا کی مہلک ترین بیماری ہے‘ آپ اس سے جتنا بچ سکتے ہیں بچ جائیں خواہ آپ کو عزیز سے عزیز ترین دوست اور رشتے دار ہی کیوں نہ چھوڑنا پڑیں‘روزانہ دل صاف کر کے سویا کریں‘ لوگوں سے معافی مانگتے رہا کریںاور لوگوں کو معاف کرتے رہا کریں‘ زندگی اچھی گزرتی ہے۔آپ جو کچھ کما رہے ہیں اسے استعمال کریں‘ آپ اگر اپنی دولت کو خود استعمال نہیں کریں گے تو یہ دوسروں کے کام آئے گی اور دوسرے اسے پرائی سائیکل کی طرح بے دردی سے ذلیل کریں گے‘ دن میں چند لمحوں کے لیے ہی سہی لیکن اکیلے ضرور بیٹھیں‘ تنہائی دنیا کے ہر دکھ کی بہترین دوا ہے اور آخری مشورہ اللہ نے جو دے دیا اس کا شکر ادا کرتے رہا کریں‘ آپ یقین کر لیں آپ جیسے بھی ہیں‘ آپ کروڑوں لوگوں سے بہتر ہیں اور یہ آپ پر اللہ کا خصوصی کرم ہے لہٰذا جو مل گیا اس پر شکر کریں اور جو نہیں مل سکا اس پر دکھی نہ ہوں۔آپ کی زندگی خوش گوار گزرے گی ورنہ دنیا دوزخ سے بدتر ہو جائے گی اور ایک اور بات انسان جتنا بھی بڑا‘ جتنا بھی کام یاب ہو جائے یہ رہتا انسان ہی ہے اور انسان غلطیوں کا پُتلا ہوتاہے لہٰذا خود کو انسان سمجھا کریں خدا نہ بنیں‘ خدا اس کائنات میں صرف ایک ہے اور بس۔