You are here
Home > حسن نثار (Page 2)

پاکستان کہاں ہوتا، یہ خود کہاں ہوتے؟

حکمت اور بصیرت کی انتہا ہیں یہ احکامات جن کا تعلق آخرت ہی نہیں زندگی کے ساتھ بھی بہت گہرا ہے۔ حکمرانوں کیلئے ملکی وسائل، پبلک منی اور خزانے سے ’’ذاتی دوری‘‘ میں نہ صرف قوم و ملک کی فلاح و بہبود، ترقی اور مضبوطی ہوتی ہے بلکہ حکمران خود

کیسے ہوا؟ کس نے کیا؟

خاصا جانا پہچانا لیکن بہت ہی ادھورا سا محاورہ ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ ادھورا اس لئے ہے کہ ہماری سیاست کی آنکھ میں تو شرم حیا بھی نہیں ہوتی، اس کے دل میں تو درد بھی نہیں ہوتا، اس کی کھوپڑی میں تو مغز بھی

سیاست اور ’’سلیقہ‘‘

ن لیگیوں کی مت ماری گئی ہے جو بغیر سوچے سمجھے عمران خان کو ناتجربہ کاری کے طعنے دیتے ہوئے اپنی تجربہ کاری کے ڈھول پیٹ رہے ہیں حالانکہ وہ کب کا ان کے جبڑوں اور پنجوں سے تین بار کا تجربہ مع وزارت عظمیٰ چھین چکا اور اب سوائے

بری نثر سے خوبصورت نظم تک

بزرگوں سے سنا کرتے تھے کہ جس حرکت کو چھپانا پڑے وہ جرم ہوتا ہے یا گناہ اور اگر کوئی بچہ یہ حرکت کرے تو وہ شرارت ہوتی ہے۔ ہمارے سیاستدان بھی عجیب قسم کی مسخری مخلوق ہیں جو سو چھتر بھی کھاتے ہیں سو پیاز بھی کھاتے ہیں لیکن

’’FACTS‘‘ یعنی حقائق اور یہ زندگی

سچ تو یہ ہے کہ مجھے ’’حالاتِ حاضرہ‘‘ پر تبصرے، تجزیے سے چڑ بلکہ نفرت ہے کیونکہ مجھے یہ ایکسرسائز کلرکوں اور قصائیوں کے کام جیسی لگتی ہے جسے پنجابی میں کالیاں چٹیاں وکھو وکھ کرنا کہتے ہیں یعنی کالی اور سفید کو علیحدہ علیحدہ کرنا یا قصائیوں کی طرح

Top