You are here
Home > حسن نثار

احتساب….. احتیاط سے (روزنامہ جنگ 19 ستمبر 2018)

چند روز قبل چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن کے پاس سائیکل تھی ان کے پاس دوبئی میں ٹاورز کہاں سے آئے؟ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سوال پوچھنے میں گستاخی کیسے ہوئی اور عزت نفس کیسے مجروح ہوتی

’’اک بار مسکرا دو‘‘ (روزنامہ جنگ 18 ستمبر 2018)

گزشتہ کل کا کالم قارئین کو اچھا تو لگا لیکن بہت سے مہربانوں نے اسے ’’ڈرائونا‘‘ بھی قرار دیا۔ میں اس سے متفق تو ہرگز نہیں لیکن اس رائے کا احترام مجھ پر واجب ہے۔ اسی لئے آج موت سے بالکل برعکس ’’مسکراہٹ‘‘ کو بطور موضوع منتخب کیاہے۔ مسکراہٹ اہل

نجی ہسپتالوں میں موت اور نجی سکولوں میں؟ روزنامہ جنگ (15 ستمبر ‬2018 )

تقریباً چاردن پہلے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے ایک بیان، تبصرہ کی سرخی یہ تھی۔’’نجی ہسپتالوں میں موت کا کاروبار بند کیا جائے‘‘دو ذیلی سرخیاں معاملات کوسمجھنے میں مزید مددگارہوں گی۔’’کوئی نظام نہیں۔ ہمیں حکومت کے کام کرنے پڑ رہے ہیں۔ نجی ہسپتالوں میں کوئی پوچھنے والا

نجی ہسپتالوں میں موت اور نجی سکولوں میں؟ روزنامہ جنگ (14 ستمبر ‬2018 )

تقریباً چاردن پہلے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے ایک بیان، تبصرہ کی سرخی یہ تھی۔’’نجی ہسپتالوں میں موت کا کاروبار بند کیا جائے‘‘دو ذیلی سرخیاں معاملات کوسمجھنے میں مزید مددگارہوں گی۔’’کوئی نظام نہیں۔ ہمیں حکومت کے کام کرنے پڑ رہے ہیں۔ نجی ہسپتالوں میں کوئی پوچھنے والا

منصفانہ معاشرہ کیوں ضروری ہے؟ روزنامہ جنگ (7 ستمبر ‬2018 )

اعلیٰ سے اعلیٰ معالج ان کی دسترس میں ہو، ادارے ان کا استحصال نہ کرسکیں بلکہ قدم قدم پر ان کی معاونت کیلئے موجود ہوں تو انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ معاشرہ کے محروم اور مظلوم، پسماندہ افتادگان خاک کیلئے کسی بھی قسم کی عملی یا فکری جدوجہد کر

Top