Categories
آرٹیکلز

مجید نظامی زندہ ہوتے تو میں ان سے معافی مانگتا : عمران خان کے بارے میں مجید نظامی مرحوم کی وہ پیشگوئی جو سچ ثابت ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔توفیق بٹ کی تازہ ترین تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفییق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔عمران خان کو سابق وزیراعظم کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے، اِس کی وجہ یہ نہیں میرا اُن کے ساتھ چوبیس سالہ دیرینہ تعلق ہے اور یہ چوبیس برس خان صاحب کے ساتھ گزارنے کے بعد اُن ہی کی

تربیت یا صحبت کے نتیجے میں مجھے اب اُن کے حوالے سے لکھنے یا بولنے میں اُن کے ساتھ ذاتی تعلق کالحاظ بھی نہیں رہتا، اِس کی وجہ یہ ہے اپنے اقتدار کے چاربرسوں میں جس طرح کی نااہلیوں ،نالائقیوں ، خصوصاً بداخلاقیوں کا اُنہوں نے مسلسل مظاہرہ کیا ہم یہ چاہتے تھے اب وہ کبھی اقتدار میں نہ آئیں، مگر اصلی حکمرانوں کی خواہش یا حکم پر اپوزیشنی سیاستدانوں نے مبینہ طورپر کچھ اندرونی و بیرونی اشاروں پر جو کھیل اُنہیں اقتدار سے الگ کرنے کے لیے کھیلا اُس کے نتیجے میں ایک تو مستقل قریب میں ملک میں شدید افراتفری کا خدشہ ہے، بلکہ سچ پوچھیں بدامنی کا خدشہ ہے، اور دوسرے اُس سے بھی بڑا خدشہ یہ ہے ایک نااہل شخص کہیں دوبارہ اُسی طرح اقتدار میں واپس نہ آجائے جس طرح اب کچھ چوردوبارہ بلکہ بارہ اقتدار میں واپس آچکے ہیں، …ایک سال خان صاحب کو مزید مِل جاتا، جوکہ اُن کا حق تھا، یقین کریں اگلے الیکشن میں اُن کی جماعت کا تقریباً صفایا ہو جاتا، اِس لیے اُنہیں سابق وزیراعظم کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے، بہتر تھا وہ اب بھی وزیراعظم ہوتے۔ چاربرسوں تک جو نقصان اُنہوں نے ملک کا کیا، مزید ایک برس کرلیتے ملک کو اُس سے کیا فرق پڑنا تھا؟، مگر دوہاتھیوں کی لڑائی میں وہ کچلے گئے، بظاہر تو یہی لگتا ہے کُبڑے کو لات راس آگئی ہے، مگر جو حالات آگے پیدا ہونے کا خدشہ ہے فی الحال پورے یقین سے نہیں کہا جاسکتا کُبڑے کو لات راس آئی ہے یا نہیں ؟

البتہ جو لاتیں پڑی ہیں، اُس کا ہمیں افسوس رہے گا … دوہاتھیوں کی لڑائی میں کچھ لوگ نوازے اور شہبازے بھی گئے ،اُن کے لیے بھی ابھی بہت مشکلات ہیں۔ لہٰذا اُن سے گزارش ہے جتنا ہوسکتا ہے اپنی اوقات میں رہنے کی کوشش کریں، اور ایسی حرکتیں نہ کریں کہ اُن کی ماضی کی مشکلات میں مستقبل میںمزید اضافہ ہوجائے ،…خیر اگلے روز عمران خان نے اپنے ایک انٹرویو میں جہانگیر ترین اور علیم خان کے بارے میں جو کچھ فرمایا فی الحال میں کچھ روشنی اُس پر ڈالنا چاہتا ہوں۔ میں بھی خان صاحب کے بہت قریب رہا ہوں مگر اُتنا نہیں رہا جتنے مراد سعید اور زلفی بخاری تھے۔ سو میں پی ٹی آئی کے اندرونی حالات وواقعات سے بخوبی آگاہ ہوں بلکہ بے شمار واقعات کا چشم دید گواہ ہوں، خان صاحب کے اقتدار کے آخری دوبرسوں میں جورویہ اور کردار اُن کا میں نے دیکھا، اُن سے مجھے کیا گھِن آنی ہے، اپنے آپ سے آتی ہے کسی منافقانہ صلاحیتوں کے مالک ایک جھوٹے شخص کی اتنے برسوں تک میں حمایت کرتا رہا، اب جب اپنے گناہوں کی اللہ سے میں معافی مانگتا ہوں، سب سے پہلے اِس گناہ عظیم کی مانگتا ہوں خان صاحب کی اندھا دھند تقلید میں کرتا رہا۔ 2012ء میں نوائے وقت کے مالک مجید نظامی مرحوم نے مجھ پر یہ پابندی عائدکردی کہ آئندہ نوائے وقت میں شائع ہونے والے اپنے کالموں میں آپ عمران خان کے حق میں نہیں لکھیں گے۔ میں نے یہ پابندی قبول کرنے سے انکار کردیا،

میں نے نوائے وقت سے استعفیٰ دے دیا، اُس موقع پر مجید نظامی مرحوم نے مجھے بُلا کر جوکچھ عمران خان کے بارے میں مجھ سے کہا، اُس وقت تو مجھے سخت بُرا لگا۔ میں احتجاجاً اُن کے دفتر سے اُٹھ کر چلے بھی گیا، مگر خدا کی قسم آج وہ سب حرف بہ حرف درست ثابت ہورہا ہے۔ کاش مجید نظامی زندہ ہوتے میں اُس وقت بولے گئے اپنے سخت الفاظ پہ اُن سے معافی مانگتا… اب جو لوگ خان صاحب کی اندھی تقلید کررہے ہیں اُن بے چاروں کا اصل مسئلہ ہی یہی ہے وہ خان صاحب کو قریب اور اندر سے نہیں جانتے، دُور کے ڈھول ہمیشہ سہانے ہوتے ہیں، سو میرے نزدیک خان صاحب بھی دُور کے ایک ایسے ڈھول ہیں جو بے شمارلوگوں خصوصاً اوورسیز پاکستانیوں کو ابھی تک بڑے سہانے لگ رہے ہیں، یہ الگ بات ہے مستقبل قریب میں جو انکشافات خان صاحب کے بارے میں ہونے والے ہیں ممکن ہے اُس کے بعد بے شمارلوگوں کو میری طرح خان صاحب سے نہیں خود سے گھِن آنے لگے کہ کیسے شخص کی اندھی تقلید وہ کرتے رہے ؟۔ آج کل امریکہ کے بارے میں وہ مسلسل بدزبانی کررہے ہیں، امریکی مراسلے کی ہوا کچھ خارج ہوچکی ہے، کچھ آگے چل کر مزید خارج ہوجائے گی، خان صاحب کا اصل مسئلہ یہ ہے وہ امریکہ کو صرف اِس لیے پاکستان کا دشمن سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر نے اُنہیں کال نہیں کی، بس اِسی روگ کو وہ دِل پر لگاکر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اُن کی جھوٹی اور چھوٹی اناتڑپ اور مچل رہی ہے

کہ امریکی صدر جوبائیڈن ہوتا کون ہے مجھے فون نہ کرنے والا ؟… دوسری طرف ایک خاص پس منظر میں یہ تاثر بھی قائم ہوتا جارہا ہے کہ جنونی انداز میں امریکہ کے خلاف بات وہ کہیں امریکہ کی مرضی سے تو نہیں کررہے؟۔میں تو ہرگز اِس پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں مگر لوگوں کے منہ اور زبانیں بظاہر ہے اُسی طرح بند نہیں کئے جاسکتے جس طرح خان صاحب کا منہ یا زبان بند نہیں کئے جاسکتے …جہاں تک جہانگیر ترین اورعلیم خان کا تعلق ہے، میں اِس پہ زیادہ تفصیل سے بات نہیں کروں گا۔ جہانگیر ترین کے کچھ کیسز عدالت میں ہیں، اور علیم خان نے اگلے روز خان صاحب کی طرف سے خود پر لگنے والے الزام کی بھرپور انداز میں ایسی وضاحت کردی ہے مجھے یقین ہے کم ازکم کل رات عمران خان ایک پل کے لیے بھی چین سے نہیں سوئے ہوں گے۔ اِس خدشے سے کہ علیم خان نے اپنی اخلاقیات سے مجبور ہوکر اُن کے بارے میں جوانکشافات ابھی تک شواہد کے ساتھ نہیں کئے وہ کہیں اب کرنہ دیں۔ جتنا علیم خان کو میں جانتا ہوں، وہ کبھی اُس حدتک نہیں جائیں گے جس سے عمران خان اور اُن کے درمیان فرق مِٹ جائے۔ عمران خان ایک انتہائی بے دید، بدلحاظ، بے مروت اور طوطا چشم انسان ہیں، علیم خان ایک حیادار انسان ہیں، پرانے تعلق کا لحاظ رکھنے کی ہرممکن حدتک کوشش وہ کرتے ہیں،یہ کوشش عمران خان کے حوالے سے بھی وہ مسلسل کررہے ہیں، سو سابق وزیراعظم خان صاحب سے میری عاجزانہ گزارش ہے جتنی ناانصافیاں علیم خان وجہانگیر ترین کے ساتھ اُنہوں نے اپنی محسن کش فطرت کے مطابق کرنی تھیں وہ کرچکے، اُن کے لیے بہتر اب یہی ہے اُن دونوں کے حوالے سے اپنی زبان پر وہ اب قابو پالیں۔ کچھ ’’پانڈے‘‘ علیم خان نے اپنی فطرت کے برعکس بیچ چوراہے پھوڑ دیئے خان صاحب کے لیے ایسے مسائل کھڑے ہو جائیں گے جو جِن بھوت وچڑیلیں وغیرہ بھی شاید نہ حل کرسکیں !!

Categories
آرٹیکلز

چند دلچسپ واقعات

ممبئی (ویب ڈیسک) یہ 90 کی دہائی کی بات ہے۔ افغانستان میں سویت افواج کی افغان لڑاکوں سے لڑائی جاری تھی۔ایسے میں افغانستان کے اُس وقت کے افغان صدر نجیب اللہ کی بیٹی نے اپنے والد سے درخواست کی کہ وہ ’افغان لڑاکوں ‘ سے ایک دن کے لیے لڑائی بند کر دیں۔وہ چاہتی تھیں کہ جب انڈین

فلموں کا ایک بڑا سٹار انڈیا سے افغانستان آئے تو ایسے میں لڑائی بند ہو جائے تاکہ وہ سٹار کابل میں آزادی سے گھوم پھر سکے اور لوگ اسے دیکھ بھی سکیں۔اس سٹار کا نام امیتابھ بچن تھا اور وہ فلم ’خدا گواہ‘ کی عکسبندی کے لیے افغانستان آئے تھے۔یہ واقعہ مجھے افغانستان کے سابق سفیر نے چند سال پہلے اس وقت سنایا جب میں لداخ میں اُن سے ملا۔ 8 مئی 1992 کو ریلیز ہونے والی ہندی فلم ’خدا گواہ‘ کی عکسبندی کابل اور مزار شریف میں کی گئی تھی۔آج سے لگ بھگ 30 سال قبل ریلیز ہونے والی فلم ’خدا گواہ‘ کے بارے میں بات کریں تو یہ مشہور انڈین فلموں میں سے ایک ہے اور اس کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔فلمساز منوج دیسائی نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ اس وقت افغانستان میں لڑائی جاری تھی۔ ’خدا گواہ فلم کے عملے کی حفاظت کے لیے پانچ ٹینکس کا قافلہ آگے اور پانچ کا قافلہ پیچھے ہوتا تھا۔ لیکن افغانستان میں امیتابھ بچن کی مقبولیت ایسی تھی کہ حفاظتی انتظامات کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔‘’ایک بار عکسبندی کے دوران ہمیں اس وقت کے اپوزیشن لیڈر برہان الدین ربانی کا پیغام ملا کہ وہ امیتابھ بچن کے بہت بڑے مداح ہیں اور فلم یونٹ کو باغی گروپوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ وہ پھول دینے بھی آئے تھے۔‘یعنی لڑائی سے متاثرہ ملک میں بظاہر حکومت، لڑاکے اور باغی سب ایک انڈین ستارے کے لیے متحد ہو گئے تھے۔یہ اس وقت کی بات ہے

جب امیتابھ بچن اور انڈین وزیر اعظم راجیو گاندھی کے درمیان گہری دوستی تھی۔منوج دیسائی نے بتایا کہ راجیو گاندھی کی وجہ سے افغانستان کی نجیب اللہ حکومت نے عملے کا بہت خیال رکھا۔ راجیو گاندھی کو سال 1991 میں زندگی سے محروم کر دیا گیا تھا اور یہ فلم 1992 میں ریلیز ہوئی تھی۔مصنف رشید قدوائی نے اپنی کتاب ’نیتا ایکٹر، بالی وڈ سٹار پاور اِن انڈین پولیٹکس‘ میں لکھا ہے کہ ’دلی میں خدا گواہ کی ایک لانچ پارٹی تھی، وہاں امیتابھ بچن اپنے دوست راجیو گاندھی کو یاد کرتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے کہ راجیو گاندھی نے کس طرح اس فلم کی عکسبندی افغانستان میں کروانے میں مدد کی۔ انھوں نے ذاتی طور پر وہاں کے صدر نجیب اللہ سے حفاظتی انتظامات کی ضمانت مانگی تھیں۔‘افغانستان میں اپنے دنوں کو یاد کرتے ہوئے خود امیتابھ بچن نے بھی لکھا ہے کہ ’صدر نجیب اللہ انڈین فلموں کے بہت بڑے مداح تھے۔ وہ مجھ سے ملنا چاہتے تھے اور ہمیں وہاں شاہی انداز میں رکھا گیا۔‘ہمیں ہوٹلوں میں رہنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک خاندان نے ہمارے لیے اپنا گھر خالی کر دیا اور خود ایک چھوٹے گھر میں رہنے کے لیے چلے گئے۔ ہماری فلم یونٹ کو ایک قبیلے کے رہنما نے مدعو کیا تھا۔ میں ڈینی کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں گیا جس کے آگے اور پیچھے پانچ ہیلی کاپٹر تھے۔ اوپر سے پہاڑوں کا نظارہ حیرت انگیز تھا۔‘جب ہم وہاں پہنچے تو قبیلے کے رہنما نے ہمیں گلے لگایا اور اندر لے گئے کیونکہ روایت یہ تھی کہ مہمان کے پاؤں

زمین پر نہیں پڑنے چاہییں۔ کابل میں ہمیں بہت سے تحائف ملے۔۔۔ اس رات افغان صدر کے چچا نے ہمارے لیے ایک راگ گایا۔‘میرے افغان دوست بتاتے ہیں کہ جب امیتابھ بچن نے خدا گواہ میں یہ ڈائیلاگ اپنے انداز اور آواز میں کہا تو تالیوں کی گونج اٹھی۔ ’سرزمین ہندوستانِ، سلام و علیکم۔ میرا نام بادشاہ خان ہے۔ عشق میرا مذہب، محبت میرا ایمان ہے۔ اسی محبت کے لیے کابل کا یہ پٹھان سرزمین ہندوستان سے محبت کی خیر مانگنے آیا ہے۔‘اب خدا گواہ کی ریلیز کے 30 سال بعد کی بات کریں تو افغانستان نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ اتنے برسوں بعد وہ پھر اسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں برسوں پہلے تھا۔ تالبان نے اداکاراؤں کے ٹی وی سیریلز میں آنے پر پابندی لگا دی ہے۔جہاں تک انڈین فلموں اور سیریلز کا تعلق ہے تو وہ افغانستان میں ہمیشہ سے مشہور رہے ہیں۔ انڈین فلم انڈسٹری افغانستان کی بدلتی ہوئی حکومتوں اور حالات کی گواہ رہی ہے، چاہے وہ خدا گواہ ہو یا کوئی اور فلم۔خدا گواہ سے پہلے 1975 میں فیروز خان نے ڈینی اور ہیما مالنی کے ساتھ اپنی فلم دھرماتما کی عکسبندی افغانستان میں کی تھی۔اس سے قبل ایک انٹرویو میں فیروز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں فلم کی عکسبندی کی لوکیشن دیکھنے افغانستان گیا تھا۔ اس وقت ظہیر شاہ بادشاہ تھے۔ انھوں نے اجازت دے دی تھی۔ جب ہم عکسبندی کے لیے وہاں پہنچے تو ان کا تختہ الٹ دیا گیا۔ لیکن افغانستان کی نئی حکومت نے بھی ہمیں بہت عزت دی

اور ہمیں کوئی پریشانی کا سامنا نہیں ہونے دیا۔‘فیروز خان دھرماتما کی عکسبندی کے لیے قندوز گئے اور بامیان بدھا کے مقام کو بھی فلمبند کیا گیا۔ ’کیا خوب لگتی ہو، بڑی سندر دکھتی ہو۔۔۔‘ اس گانے میں افغانستان کے خوبصورت نظارے قید کیے گئے۔ بعد میں اس مقام کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ایک پرانی بلیک اینڈ وائٹ ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے فیروز خان اور ہیما مالنی کا افغانستان میں استقبال کیا جا رہا ہے۔فلم زنجیر کا کردار جو پران نے ادا کیا تھا، افغانستان میں بہت مشہور تھا۔ اس سے قبل 1965 میں فلم ’کابلی والا‘ نے انڈیا اور کابل کے دل کو جوڑنے کا کام کیا تھا۔90 کی دہائی میں تالبان کی آمد کے بعد ایک دور ایسا آیا جب فلموں اور فوٹو گرافی پر پابندی لگا دی گئی۔برسوں بعد ہدایتکار کبیر خان نے فلم ’کابل ایکسپریس‘ کی عکسبندی افغانستان میں کی اور اسے 2006 میں ریلیز کیا۔ کابلی والا اور کابل ایکسپریس کے درمیان افغانستان میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔جب کبیر خان فلم کی عکسبندی کر رہے تھے تو تالبان اقتدار سے چلے گئے لیکن تالبان کی دھاک اب بھی موجود تھی۔جب حالات آہستہ آہستہ بہتر ہوئے تو افغان فلمیں دوبارہ بننے لگیں۔ پہلی بار خواتین نے فلم ڈائریکشن کا کام شروع کیا۔ تاہم اسے اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔گذشتہ سال 2021 میں تالبان کی واپسی کے بعد فلم انڈسٹری اور فنکاروں پر ایک بار پھر گرہن لگ گیا ہے۔ سنہ 2003 میں فلم بنانے والی رویا سادات کا شمار بھی افغانستان کی

پہلی خاتون فلم ڈائریکٹرز میں ہوتا ہے۔وہ افغان خواتین پر فلم بنا رہی تھیں جو تالبان کے ساتھ مذاکرات کار کے طور پر کام کرتی تھیں۔ لیکن 2021 میں تالبان کی واپسی کے بعد انھیں فلم بند کرنا پڑی۔ وہ اپنے ملک واپس نہیں جا سکتیں۔وہ کہتی ہیں کہ ’ہم لڑائی سے تھک چکے ہیں۔ لیکن ہم فنکار بھی لڑ رہے ہیں۔ ہم اپنے فن سے، کاغذ پر لکھے ہوئے الفاظ سے لڑ رہے ہیں۔‘گذشتہ سال فلم ڈائریکٹر ساحرہ کریمی کی مدد کی درخواست کرنے والی ایک پوسٹ وائرل ہوئی تھی۔ وہ افغان فلم ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون چیئرپرسن ہیں، یا تھیں۔۔۔ یہ کہنا مشکل ہے کیونکہ افغان فلم ایسوسی ایشن اس وقت موجود نہیں۔اب سوچ کر افغانستان میں بننے والی ابتدائی انڈین فلمیں دھرماتما یا خدا گواہ ایک خواب لگتی ہیں۔میں جب بھی دھرماتما میں ہیما مالنی اور فیروز خان پر فلمایا گیا گانا ’کیا خوب لگتی ہو، بڑی سندر لگتی ہو‘ دیکھتا ہوں، افغانستان کے خوبصورت نظاروں کو دیکھتے ہوئے آنکھیں جھپک نہیں پاتا۔فلم خدا گواہ کو تیس برس بیت گئے، امیتابھ بچن کو پسند کرنے والے آج بھی افغانستان میں موجود ہیں۔وراثت کی طرح یہ فلم بھی افغان گھروں میں نسل در نسل یادوں کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ لیکن آج یہ سب کچھ پیچھے رہ گیا ہے اور افغانستان میں زندگی نئی جدوجہد کا نام بن گئی ہے۔

Categories
آرٹیکلز

نشانہ تبدیل : عمران خان نے میر جعفر اور میر صادق کے نام پر یوٹرن لے لیا

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اگرچہ خاصی پر زور وضاحت دی ہے کہ انھوں نے دراصل میر جعفر اور میر صادق شہباز شریف اور ان کے بھائی نواز شریف کو کہا ہے لیکن سوشل میڈیا صارفین کے خیال میں یہ ان کا ایک اور

’یو ٹرن‘ ہے۔پیر کو پارٹی رہنماؤں سے خطاب میں عمران خان کا کہنا ہے کہ کہ نواز شریف، مریم نواز فوج پر اٹیکس کرتے ہیں اور ہم پر الزام لگائے جارہے ہیں۔ ‘انھوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف نے ان پر فوج کی توہین کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔انھوں نے پارٹی رہنماؤں سے خطاب میں اس بات کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’میر جعفر اور میر صادق سے متعلق میں نے کوئی نئی بات نہیں کی، شہباز شریف اور اس کا بھائی اصل میں میر جعفر اور میر صادق ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’مسلط حکمران اصل میں میر جعفر اور میر صادق ہیں، یہ غدار ملک کو لوٹنے کے لیے آتے ہیں، بدعنوان ، چور، غدار ہمارے اوپر بیٹھے ہیں۔‘عمران خان کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف کا بڑا بھائی باہر بیٹھ کر فوج کے خلاف بات کرتا ہے، نواز شریف کی بیٹی مریم نواز بھی فوج پر اٹیک کرتی ہے مگر کیونکہ وہ خاتون ہے اس لیے اس کو کچھ نہیں کہا جاتا اور یہ ہمیں کہتے ہیں کہ فوج کے خلاف بات کرتے ہیں۔‘یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے ان کے خلاف مبینہ غیر ملکی سازش کے بیانیے کا جب بھر ذکر آتا ہے وہ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ان کے خلاف پاکستان کے ’میر جعفر اور میر صادق‘ نے امریکہ کا ساتھ دیا اور ان کی حکومت ختم ہوئی۔سوشل میڈیا صارفین اور مریم نواز سمیت حکومت میں شامل جماعتوں کے رہنما یہ کہتے نظر آئے آئے کہ چونکہ برصغیر کی تاریخ میں میر جعفر

اور میر صادق دونوں فوج کے سپہ سالار رہے ہیں اس لیے عمران خان کا اشارہ بھی پاکستانی فوج کے سپہ سالار کی جانب ہے۔عمران خان کا یہ بیان اسی کی وضاحت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسی حوالے سے بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے بھی ٹویٹ کی کہ عمران خان نے میر صادق اور میر جعفر کی تشبیہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے لیے استعمال کی تھی۔سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ ‘عمران خان نے ابھی واضح کیا کہ اصل میر جعفر اور میر صادق نواز شریف اور شہباز شریف ہیں، غیرملکی طاقت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازش کی گئی۔’اس کے بعد مریم نواز نے ایک بار رد عمل دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اور ایک بار پھر عمران خان کو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ان کا کہنا تھا ’عمران خان آئین کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔بدامنی کو ہوا دے رہا ہے۔ کیا سیاست دانوں کی پگڑیاں اچھالنے اور ہر آئینی ادارے کو مغلطات دینے والے شخص کو کھلی چھوٹ ہے کہ افواج پاکستان کو صرف اس لیے تماشہ بنائے کہ وہ آئینی حلف پر قائم ہیں؟یاد رہے کہ ایک روز قبل ہی پاکستانی فوج نے ایک مرتبہ پھر کہا تھا کہ فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے اور اس کے خلاف غیر مصدقہ اشتعال انگیز بیانات دینے کی روش نقصان دہ ہے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘حال ہی میں پاکستان کی افواج کو ملک میں جاری

سیاسی گفتگو میں جان بوجھ کر گھسیٹنے کی کوششیں تیز ہوئی ہیں۔’اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘کچھ سیاست دانوں، چند صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے عوامی فورمز اور متعدد مواصلات کے ذرائع جن میں سوشل میڈیا بھی شامل ہے، براہِ راست، بالواسطہ اور حوالہ جات کے ذریعے افواج اور اس کی سینیئر لیڈرشپ کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔’اعلامیے کے مطابق ‘غیر مصدقہ اشتعال انگیز اور ہتک آمیز بیانات دینے کی روش انتہائی نقصان دہ ہے۔ افواج کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل میں شامل کرنا کی سختی سے مذمت کرتی ہے اور ہمیں توقع ہے کہ سب قانون کی پاسداری کریں گے اور افواج پاکستان کو ملکی مفاد میں سیاسی گفتگو سے دور رکھیں گے۔’پاکستانی سوشل میڈیا پر عمران خان کے اس بیان پر اور پھر فواد چوہدری کی وضاحت پر لوگ اسے ’بوکھلاہٹ‘ میں کی جانے والی وضاحت قرار دے رہے ہیں۔ایک صارف میاں محمد عظیم کا کہنا تھا پھر یوٹرن لے لیا ہے۔ ’یار خدا کا واسطہ ہے کیوں ایسے یوٹرن لیتے ہو جس پر لوگ آپ پر ہنسےجیسے ہی خان نے دیکھا حکومت اور ادارے ایک پیج پر آ کر متحد ہو کر رد عمل دے رہے ہیں اور عوام بھی اداروں اور حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگٸی ہے ویسے ہی ڈرپوک خان نے یوٹرن لے لیا۔‘کچھ سوشل میڈیا صارفین نے عمران خان کو یاد دلانے کی کوشش کی کہ میر صادق اور میر جعفر دراصل ماضی میں فوج کے سپہ سالار رہے ہیں۔ایک اور صارف نے فواد چوہدری پر طنز کرتے ہوئے کہا ’چوھدری صاحب آج کے بعد اس طرح کی کوئی ڈری سہمی تشریح نہ آئے آپ کی طرف سے سب کو پتا ہے سب بات صاف ہونی چاہیے‘۔جبکہ حسین احمد نے صرف اتنا یاد دلایا کہ ’چوہدری صاحب اب دیر ہو چکی ہے۔‘تاہم کچھ لوگوں نے پی ٹی آئی کے ’غیر ملکی سازش‘ کے بیانیے کو دہراتے ہوئے کہا ’جب ملک کی سالمیت کا سودا ہوتا ہے جیسا ہوا ہے تو فواد صاحب صرف دو میر جعفر ،میر صادق نہیں ہوتے ،بہت سارے ہوتے ہیں پھر ہی ایسے منفی عزائم سرانجام ہوتے ہیں‘

Categories
آرٹیکلز

عمران خان نے حکومت کو چلنے دینا ہے اور نہ ہی حالات ٹھیک ہونے دینے ہیں اس لیے ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار عاصمہ شیرازی اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔بس میں سوار ہونے والے شخص کے ہاتھ میں ایک گھٹڑی اور دوسرے ہاتھ میں چند شیشیاں تھیں۔ مسافر نے سوار ہوتے ہی یہاں وہاں دیکھا اور اپنے مطلب کے چند چہرے دیکھ کر مطمئن ہو گیا۔

ان چہروں میں ہچکلولے کھاتی بس میں چکراتے سر کو تھامتے کچھ نوجوان، بچے پیدا کر کر کے کئی طرح کی بیماریوں کا شکار چند خواتین اور باہر نکلی توند والے بعض حضرات شامل تھے جو مال بکنے کی ضمانت تھے۔بھائی جان، قدردان، مہربان، بہنوں، بھائیوں! مترو اور بیلیو۔۔ آپ کے معدے میں تبخیر ہے یا ہوا، ہاضمے کا مسئلہ ہے یا پیٹ درد، خانہ خراب ہے یا قسمت۔ رشتوں کی بندش ہے یا نالائق اولاد، محبوب بے وفا ہے یا رشتے داروں کا جادو ٹونہ۔۔۔ یہ پھکی نہ صرف کارآمد ہے بلکہ آپ کے سارے مسائل کا حل بھی۔ایک ہی سانس میں بس میں بیٹھے کئی لوگ متوجہ ہوئے، جن کے پیٹ میں ہوا تھی یا جن کے ڈکار بند تھے، جن کے معدے میں تبخیر تھی یا درد۔۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اشخاص بھی متوجہ ہوئے جن کے رشتوں کی بندش تھی یا جن کو اس بات کا خدشہ تھا کہ اُن کے رشتہ دار اُن پر جادو ٹونہ کر رہے ہیں۔پھکی یا چورن بیچنے والے سے کسی نے نہ پوچھا کہ بیچ آپ پھکی رہے ہیں اور علاج جادو ٹونے کا بھی کر رہے ہیں۔ مسائل میں گھری عوام نے اُس اعتماد پر یقین کر لیا جو جھوٹ ہی سہی مگر اُن کے مسائل کو دو چُٹکیوں میں حل کر رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ اصل مسائل کو فریب کے پہناوے میں چھپا بھی رہا تھا۔پاکستانی سیاست میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ 27 مارچ سے اب تک قوم ایک سازشی خط کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اب تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی

ہر بات کا الزام امریکی سازش پر دھر رہے ہیں۔ آلو پیاز کی قیمتوں سے لے کر نالہ لئی کے نا بن سکنے تک کا ہر الزام بیرونی سازش پر دھرا جا رہا ہے۔جو چورن اُن کے ہاتھ لگا ہے اُن کے چاہنے والے اُس پر بھر پور یقین کر رہے ہیں۔۔۔ وجہ عمران خان صاحب کا وہ اعتماد ہے جس کو فُل نمبر ملنے چاہئیں۔ یہ چورن کب تک بکے گا کوئی نہیں جانتا۔ یہ کیوں بک رہا ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ریاست اور حکومت کسی ان دیکھے خدشے اور خوف کا شکار ہیں اور طاقت کے استعمال سے گریزاں بھی۔بہر حال اب ‘بیانیہ’ بن چکا ہے اور خان صاحب کی طاقت کا مرکز سوشل میڈیا اُس کی ترویج میں شب و روز مصروف ہے۔ وہ جو کبھی گیٹ نمبر چار سے اٹھتے نہ تھے اب آنکھیں دکھا رہے ہیں اور میڈیائی ساحرجو قومی اداروں کے بل بوتے اپنی جگہ بنا رہے تھے اب اداروں کے صحن میں لُڈیاں ڈال رہے ہیں اور مقتدر حلقے ششدر۔۔۔یہ نُکتہ اپنی جگہ اہم ہے کہ بیانیے میں جان ہے یا نہیں لیکن نئی حکومت کے لائحہ عمل میں فی الحال کوئی دم نظر نہیں آ رہا۔ معاشی محاذ سے لے کر سیاسی محاذ تک شہباز شریف صاحب کی حکومت کے پاس یا تو بیانیے کا کوئی توڑ سر دست موجود نہیں یا پھر عمران خان کے تھکنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب عمران خان جس طرح سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ کارکردگی کے محاذ پر شکست

کے باوجود جس طرح ایک ان دیکھے مراسلے کا واویلا کیا جا رہا ہے اُسے سیاست کہیں یا جہالت یا عوام کا ایک اور استحصال۔۔۔دیکھنا یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کے حامیوں کے علاوہ دیگر جماعتوں کے ووٹر بھی تحریک انصاف کے بیانیے سے متاثر ہو رہے ہیں یا پی ٹی آئی کی کارکردگی سے مایوس لوگ دوبارہ لوٹ کر آ رہے ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ امریکہ مخالف جذبات کو جس طرح اپنی حمایت میں استعمال کیا جا رہا ہے یہ کس قدر دیر پا ہو گا اور کیا یہ حمایت ووٹ کی طاقت میں بدلی جا سکے گی۔۔۔ یہ سوال بے حد اہم ہے۔حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کا نظریاتی ووٹ بینک کم نہیں ہے لیکن گزشتہ ایک ماہ میں ان حکومتی جماعتوں نے اپنے کارکنوں کو مخالف بیانیہ نہیں دیا۔ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والی منفی اور بے بنیاد مہم کی روک تھام کے قانونی پہلو بھی نہیں آزمائے گئے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے اسکینڈلز پر بھی تحقیقات کا آغاز نہیں ہوا۔ایسے میں عمران خان ہر لائحہ عمل میں ایک قدم آگے دکھائی دے رہے ہیں یہاں تک کہ گرفتاری کی صورت میں ملک کو جام کرنے کا فیصلہ بھی کر چُکے ہیں اور اب وہ اپنی سیاسی تحریک کو ‘نیک کام کا نام دے رہے ہیں۔ سیاست اور پھر مذہب کا تڑکہ وہ خطرناک کارڈ ہے جس کا توڑ صرف ریاست کے پاس ہے۔معاشی اور سیاسی اعتبار سے پاکستان جس بحران کا شکار ہے وہ نا صرف عدم استحکام بلکہ تصادم کی صورت اختیار کر سکتا ہے جس کی ایک مثال سری لنکا ہے جو معاشی بحران کے بعد اب سیاسی اور ریاستی بحران کی جانب بڑھ چکا ہے۔۔۔ عوام سڑکوں پر ہیں، ادویات اور اشیائے خورد و نوش کی قلت ہو چکی ہے جبکہ حکومت مخالف مظاہروں اور جھڑپوں میں شریک نوجوانوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیائی کارکنوں کی ہے۔ اس سلسلے میں خان صاحب کو ہلکا لینا قطعی طور پر بے وقوفی ہو گی۔نئی حکومت کے لئے کئی ایک چیلنجز ہیں جہاں آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ایک طرف اور مہنگائی دوسری طرف جبکہ بحران میں پھنسی سیاسی جماعتیں جن کے نازک کندھوں پر معیشت، سیاست اور خان صاحب کی کارکردگی کا بوجھ بھی آن پڑا ہے۔حالات اُس نہج پر آ چکے ہیں جہاں خان صاحب نے حالات سدھرنے نہیں دینے اور نہ ہی نظام چلنے دینا ہے۔ ریاست سوشل میڈیا کے ہوے کا شکار ہو گئی ہے جبکہ اُسے خوف سے نکل کر آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہوں گے۔

Categories
آرٹیکلز

وہ شخص جو فرح گوگی اور کام نکلوانے والوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتا تھا ۔۔۔تہلکہ خیز انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار شکیل انجم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔تمام خفیہ ایجنسیاں فرح گوگی کے تعاقب میں ہیں اور اس کے ذرائع آمدن کے شرکاء کاروبار کا کھوج لگانے میں مصروف عمل ہیں۔۔۔فرح گوگی یا فرح خان کے علاوہ کئی پہچانوں سے جانا جانے والا یہ نام اب کسی شناخت کا

محتاج نہیں۔۔۔اس نام کا شہرہ سرحدوں کو عبور کر چکا ہے۔۔۔اور اقتدار کے ایوانوں سے قرابت داری کی وجہ سے یہ دنیا بھر میں اپنی پہجان آپ ہے۔۔۔ایک طرف تمام انٹیلی جنس ایجنسیاں اور تحقیقاتی ادارے ان تمام پولیس اور انتظامیہ کے افسروں کی فہرستیں مرتب کرنے میں مشغول ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر فرح گوگی کے ذریعے منفعت بخش مراتب اور منصب حاصل کئے ۔۔۔اور دوسری طرف میرٹ کو پیروں تلے روند کر فرح گوگی کا ذریعہ استعمال کرتے ہوئے میرٹ پر تعنیات افسروں کو ان کی پوزیشنوں سے ہٹا کر وہ منصب حاصل کئے۔۔۔اب اپنے نام ان فہرستوں سے نکلوانے یا معاملات رفع دفع کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں…اور دوسری طرف حکومت کے متعلقہ حلقوں میں داخل ہونے کے لئے سرکاری اور ذاتی اثرورسوخ استعمال کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔۔۔تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کیونکہ یہ سارا دھندہ انتہائی رازداری کے ساتھ فرنٹ من کے ذریعے کیا جاتا رہا ہے۔۔.اس لئے ہدف کے حصول دشواریوں کا سامنا ہوا کیونکہ آسان ذریعہ یا تو خود وہ شخص ہو سکتا تھا جس نے فائدہ اٹھایا اور اپنے منصب کے حصول کے لئے مطلوبہ رشوت ادا کی۔۔۔یا وہ شخص جس کے ذریعے ادائیگی ہوئی۔۔۔یا پھر وہ جس تک وہ رقم پہنچی۔۔۔تاہم اب سراغرساں ادارے رفتہ رفتہ بعض فرنٹ مینوں کے ذریعے اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔۔۔ ابتدائی مرحلے میں جو فہرست مرتب کی گئی ہے اس میں شامل پولیس اور انتظامیہ کے افسروں کے تبادلوں کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔۔۔انہی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض فرنٹ مینوں کے

تعاون کی وجہ سے کافی معلومات حاصل ہوئیں جن کی وجہ خفیہ ایجنسیوں کو اہداف حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی۔۔۔ کہتے ہیں ویسے تو فرح گوگی سے رابطہ دشوار نہیں تھا لیکن فرح کا ایک بھائی یا فرسٹ کزن اس اور “درخواست گزار” کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتا تھا، اسے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔۔تحقیقاتی ایجنسیاں اس بارے میں بھی معلومات حاصل کر رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کس کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے ان افسروں کے ٹرانسفر پوسٹنگ کے نوٹیفیکیشنز جاری کرتا تھا۔۔۔اور یہ کہ حکم دینے والی کوئی مقتدر شخصیت تھی یا یہ حکم نامہ کسی پرائیویٹ شخصیت کے ٹیلیفون پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے متعلقہ شعبہ کو بالواسطہ طور پر پہنچایا جاتا تھا۔۔۔ان ایجنسیوں نے یقین ظاہر کیا ہے کہ یہ پیغام وزیر اعظم سیکرٹیریٹ سے دیا جاتا تھا۔۔۔ایجنسیاں جن پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ اور ادنیٰ افسروں کی فہرستیں مرتب کرنے میں لگی ہوئی ہیں ان میں اکثریت سنٹرل پنجاب سے ہے اور پولیس اور انتظامیہ کے افیسرز پنجاب اور خیبر پختون خوا کے تمام بڑے شہروں کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی اعلیٰ منصب پر تعنیات کئے گئے۔۔۔ایسے افسروں کا مستقبل انتہائی خطرے میں ہو سکتا ہے جنہوں اپنی طاقت ثابت کرنے کے لئے اپنے ان ساتھیوں کے حقوق غصب کئے جو مدتوں سے بڑے شہروں میں کسی پوسٹنگ کے انتظار میں تھے۔حکومت وقت نے عندیہ دیا ہے کہ ایسے افیسرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جنہوں نے ملک اور اداروں کے تقدس کو نقصان پہنچایا۔فرح خان کو اپنے عارضی عروج کو ذریعہ بنانے والے پولیس اور انتظامی افیسرز اپنی مرضی اور منشاء کی نوکری کے لئے نہ تو کسی قانون کو خاطر میں لاتے ہیں اور نہ کسی ضابطے کی پرواہ کرتے ہیں۔۔۔ماضی کی عمران حکومت میں جس کا بنیادی نعرہ انصاف اور میرٹ تھا۔۔۔میرٹ کا انتہائی بے دردی خون بہایا گیا۔۔۔فرح گوگی کے نام پر عزت خریدنے والے افیسر نے حکومت کی “روٹیشن پالیسی” کو مسترد کرتے ہوئے نئی پوسٹنگ پر خیبر پختون خوا جانے سے انکار کر دیا اور مہینوں اسی پوسٹ پر رہا ۔۔۔ لیکن جب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے آخری نوٹس دیا تو وہی کام کیا کہ اپنی مرضی کے منصب کے حصول کے لئے ایک انتہائی ایماندار، پروفیشنل اور بھلے مانس افسر کو ہٹا کر اس کی پوسٹ حاصل کر لی۔۔۔کہا جاتا ہے کہ یہ منصب بھی فرح گوگی کی مرہون منت تھا ۔۔۔ توقع تو یہی کہ نئی حکومت ایسے افسروں کی حوصلہ شکنی کرے گی اور انہیں میرٹ اور قانون و ضابطوں کو تاراج کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔۔۔!

Categories
آرٹیکلز

اسحاق ڈار کے پاس ڈالر کو لگام ڈالنے کی کونسی گیدڑ سنگھی ہے ؟ جان کر آپ کو حیرانگی ہو گی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار پیر فاروق بہاؤالحق شاہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔حتمی طور پر یہ بات کہنا مشکل ہے کہ میاں شہباز شریف کو انعام کے طور پر وزیراعظم بنایا گیا یا سزا کے طور پر۔ متحدہ اپوزیشن نے جب سے عنانِ اقتدار سنبھالی ہے، ملکی معیشت کی کشتی مسلسل ڈانواں ڈول ہے،

اشیائے ضروریہ عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں، اسٹاک ایکسچینج کی نبض کبھی ڈوبتی، کبھی ابھرتی ہے۔ڈالر ہے کہ اُس کی اڑان قابو میں نہیں آ رہی۔ روپیہ دن بدن گرتا چلا جا رہا ہے۔ اِس حقیقت کے باوجود کہ میاں شہباز شریف ایک محنتی اور بلند ہمت وزیراعظم ہیں۔ طویل العمری اور بیماریوں کے باوجود جواں عزم ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طور پر قابلِ رشک کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اس لیے وفاق میں بھی اسی اسپیڈ کی توقع کی جا رہی ہے لیکن موجودہ معاشی صورتحال تادمِ تحریر عالم نزع میں ہے۔جناب مفتاح اسماعیل بھی کنفیوژ نظر آرہے ہیں۔ ان کے بیانات کی وجہ سے بےیقینی میں اضافہ ہوا ہے۔ اِن حالات میں معیشت پر نگاہ رکھنے والا ہر شخص کہہ رہا ہے کہ پاکستان کو موجودہ معاشی گرداب سے ایک ہی شخص نکال سکتا ہے جنہیں معاشی ساحر بھی کہا جاتا رہا ہے اور جن کا نام اسحاق ڈار ہے۔ یہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے عملی طور پر پاکستانی معیشت کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچایا.جنہوں نے شیخ رشید کے چیلنج کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈالر سو سے نیچے آئے گا تو انہوں نے لا کر دکھایا، جنہوں نے اپنے بےمثال تجربے کی بدولت پاکستان کی معیشت کو دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل کیا، اِن مشکل حالات میں اسحاق ڈار ہی ایسی شخصیت ہیں جو اندھیرے میں روشنی کی کرن کے طور پر نظر آتے ہیں۔سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، جو ایک جہاندیدہ رہنما ہیں،

نے وفاق کی معاشی ٹیم میں اسحاق ڈار جیسے قابل لوگوں کو شامل کیا۔ 2013میں انہوں نے وزارتِ خزانہ کی کمان سنبھالی اور تمام تر مشکلات کے باوجود ملکی معیشت کے تمام اشاریے درست کر دیے۔ اقتصادی ترقی کی شرح میں اضافہ کیا۔ روپے کی قدر مستحکم ہوئی۔ افراطِ زر کی شرح کم رہی۔ پاکستان اکنامک سروے کی رپورٹ کے مطابق 2017اور 18میں پاکستانی معیشت کا حجم 313بلین ڈالر تک پہنچ چکا تھا جبکہ 2022میں پاکستانی اکانومی کا حجم کم ہوکر 292ملین ڈالر رہ گیا ہے۔یہ اسحاق ڈار ہی تھے جنہوں نے پاکستان کے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ کیا۔ مسلم لیگ نون کی حکومت نے جو آخری بجٹ پیش کیا اس میں 18فیصد اضافہ کے ساتھ دفاعی بجٹ 920بلین روپے سے بڑھا کر 1.1ٹریلین روپے کردیا گیا۔ وہی فوج آج غیرملکی اشارے پر کچھ لوگوں کے نشانے پر ہے۔ اشاروں کنایوں سے فوج کی توہین کی جا رہی ہے۔ اس طرز عمل سے سرحدوں پر جان قربان کرنے والے سپاہیوں میں بےچینی ہے۔ فوج کے دفاعی بجٹ کا خیال رکھنے والے اسحاق ڈار میاں نواز شریف کے قابلِ اعتماد ساتھی ہیں۔ ان کی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں وہ نہ صرف معاشی ٹیم کے کپتان تھے بلکہ ہر سیاسی مذاکراتی عمل کا بھی حصہ تھے۔ اس وقت پاکستانی معیشت وینٹی لیٹر پر ہے۔غذائی بحران ملک کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ آٹے اور چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اِس وقت ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اسحاق ڈار جیسے قابل، جہاندیدہ اور مستند ماہر اقتصادیات کی ضرورت

ہے۔مجھے یقین ہے کہ اسحاق ڈار نہ صرف ملکی معیشت سنبھال سکیں گے بلکہ ملک کی سیاست پر بھی ان کی رائے سے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی طرح شاہد خاقان عباسی بھی میاں نواز شریف کے قریبی ساتھی ہیں۔نو ماہ کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران ان کا عالمی امیج تشکیل پایا۔ وہ ایک درویش صفت، سادہ مزاج انسان ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کے بحران کے دور میں ان کی خدمات حاصل کرنا بھی اشد ضروری ہے۔ انہوں نے اگرچہ کابینہ میں کوئی منصب لینے سے انکار کیا ہے اور وہ کابینہ سے باہر بیٹھ کر کام کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان جیسے اہل شخص کو باہر بیٹھ کر رہنمائی کرنے کے بجائے خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنا چاہیے۔ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے والے شخص کے لیے یہ امر مشکل ہے کہ وہ اس سے نسبتاً کم تر منصب پر کام کرے لیکن اس وقت ملک کی معاشی صورتحال کے تناظر میں اس طرح کے پروٹوکول کو نظر انداز کیا جانا ہی مناسب ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے ایک بڑی جماعت کا سربراہ ہونے کے باوجود وزارتِ خارجہ کا منصب قبول کیا اور امریکی وزیر خارجہ کی فون کال نے ان کے امیج کو مزید بہتر کیا۔ سابق وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف سمیت متعدد سینئر سیاست دانوں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے ماضی میں بلند ترین مناصب پر کام کیا لیکن پھر وقت کی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس سے نسبتاً کم عہدوں پر بھی خدمات

سرانجام دیں۔پی ڈی ایم میں موجود سیاستدانوں خصوصاً مسلم لیگ نون کی قیادت کو سری لنکا کے حشر سے سبق سیکھنا چاہیے کہ کس طرح ایک ہنستا بستا ملک چشم زدن میں دیوالیہ ہو گیا ۔ مسلم لیگی قیادت کو کسی خوش فہمی کا شکار رہنے کے بجائے معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ میاں شہباز شریف کو میاں نواز شریف سے بات کر کے ان کے ترکش کے ان دو بہترین تیروں کو اپنی ٹیم کا حصہ بنانا چاہیے۔ لیکن اگر حالات ان کے قابو میں نہیں آ رہے تو اسحاق ڈار کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے جلد انتخابات کی طرف جانا ہوگا۔ پی ڈی ایم کی قیادت کو عمران خان کے متعلق بھی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ان کی مقبولیت میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہوا ہے۔ وہ اپنے ووٹرز کو اپنے ساتھ رکھنے میں کامیاب ٹھہرے ہیں۔ موجودہ معاشی انارکی انہیں مسلسل آکسیجن فراہم کرتی رہے گی۔ تحریک انصاف کے اسلام آباد کی طرف مارچ کے اعلان کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بدقسمتی سے تمام جماعتیں جلسوں میں اخلاقیات کا دامن چھوڑ رہی ہیں۔ باہمی الزامات کی وجہ سے پوری سیاسی قیادت کا وقار داؤ پر لگ چکا ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف سوقیانہ الفاظ کا استعمال پوری سیاسی برادری کو بےتوقیر کردے گا۔ اب فیصلے کی کنجی میاں شہباز شریف کے ہاتھ میں ہے۔ ان کے فیصلے اور اقدامات ثابت کریں گے کہ آئندہ انتخابات میں عوام میں ان کو کس قدر پذیرائی نصیب ہوگی۔

Categories
آرٹیکلز

چند برسوں بعد پاکستان میں اردو اور انگریزی کے ساتھ ساتھ چینی زبان کا راج ہو گا ۔۔۔۔ بڑے یقین کے ساتھ پیشگوئی کردی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) کچھ واقعات ہمیں حیران، پریشان اور حواس باختہ چھوڑ دیتے ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع ہمیں بھاشن دیتے رہتے ہیں کہ کچھ جاننا، معلوم کرنا اور واقعات کو سمجھنا ہمارا بنیادی حق ہے۔ کوئی مائی کا لال ہمیں ہمارے حق سے محروم نہیں کرسکتا۔ مگر اس کے برعکس ایک نہیں

بلکہ انیک مائی کے لال ہمیں ہمارے حق سے محروم کردیتے ہیں۔ مائی کے لالوں کو ہمیں ہمارے حق سے محروم کرنے سےکوئی روک نہیں سکتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مائی کے لال ٹارزن ہیں اور کوئی ان کو لوگوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھنے سے رو ک نہیں سکتا۔ ایسا نہیں ہے۔ پاکستان میں اینٹ کا جواب پتھر سے دینے و الوں کی کمی نہیں ہے۔ مسئلہ یوں ہے کہ پاکستان میں اینٹ مارنے و الوں کو اینٹ نہیں ملتی اور جواباً اینٹ کا جواب پتھر سے دینے و الوں کو پتھر نہیں ملتے۔ پاکستان میں نہلوں پہ دہلوں کی بھی کمی نہیں ہے مگر کیا کیجئے کہ نہلوں اور دہلوں کا آپس میں ربط نہیں ہوتا۔ لہٰذا مائی کے غائب اور الوپ لالوں کوکوئی روک ٹوک نہیں سکتا۔ وہ پس پردہ ہمیں ہمارے حقوق، خاص طور پر بنیادی حقوق سے محروم کرتے رہتے ہیں۔ آپ حقوق غصب کرنے والے مائی کے لالوں کو دیکھ نہیں سکتے۔ وہ لوگ آپ کے اردگرد ہوتے ہیں مگر دکھائی نہیں دیتے۔اس کتھا سے میری مراد ہے کہ غیر معمولی حقائق کی تہہ تک پہنچنے کے لیے بظاہر مائی کے لال آپ کا راستہ نہیں روکتے۔ آپ جاننے اور سمجھنے کے لیے واقعات میں ملوث قیادت تک پہنچ نہیں سکتے۔ یہ طے ہے کہ بڑے واقعات کسی قیادت کے بغیر سرزد نہیں ہوتے اور قیادت تک پہنچنا آپ کے اور میرے بس کی بات نہیں ہے۔ چند برسوں بعد پاکستان میں آنے والا دور انگریزی کے ساتھ ساتھ چینی زبان کا

دور ہوگا۔ چینی زبان میں مہارت رکھنے والے پاکستانیوں کو چین میں اعلیٰ تعلیم اور ہنرمندی سیکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس کام کے لیے کراچی یونیورسٹی نے چینی عالم اور فلسفی کے نام سے کنفیوشس سینٹر قائم کر رکھا ہے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ بوہرہ پیر کے قریب پرنسیز اسٹریٹ پر مرہٹا اسکول میں قائم کراچی یونیورسٹی کے آرٹس فیکلٹی کے ان طلبا کے پہلےگروپ میں شامل تھا جنہیں زیر تعمیر کراچی یونیورسٹی کے نئے کیمپس میں تعمیر شدہ آرٹس بلاک میں شفٹ کیا گیاتھا۔ ہمارا گروپ طلبا کا پہلا گروپ تھا جنہوں نے شہر سے تب بارہ میل دور کراچی یونیورسٹی کے نئے کیمپس میں قدم رکھا تھا۔ سن تھا انیس سو اٹھاون، انسٹھ۔ تب ایک اخبار میں ایک صاحب ہفتہ وار کالم لکھتے تھے، ’’شہر سے بارہ میل پرے‘‘ مجھے ان کا نام یاد نہیں آرہا۔ مادر علمی سے وابستہ انیک یادیں ہیں میرے پاس۔پچھلے دنوں کراچی یونیورسٹی کے کیمپس پر چائنیز اساتذہ کے بہیمانہ واقعہ کا مجھے بہت دکھ ہے۔ مجھے نہیں یاد پڑتاکہ کراچی یونیورسٹی کی تاریخ میں اساتذہ کو اس طرح زندگی سےمحروم کر دیا ہو۔میں روح تک کانپ گیا ہوں۔ جس معاشرے میں استاد کی عزت نہ ہو، وہ معاشرہ بڑا بدنصیب معاشرہ ہوتاہے، ایسے معاشرے میں پھول بوئیں تو زمین سے کانٹے نکل آتے ہیں۔ ایسا معاشرہ ذہنی طور پر بیمار اور اپاہج بن جاتا ہے۔ لوگ ایسے معاشرے میں نفسا نفسی کے عالم میں جیتے ہیں اور نفسا نفسی کے عالم میں مر جاتے ہیں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ چینی اساتذہ کو زندگی سے محروم کرنے و الوں کا مقصد کیا تھا؟

Categories
آرٹیکلز

ماں نے ان سے بیٹی کے کان میں اذان دینے کو کیوں کہا؟ علی محمد خان کی زندگی سے متعلق چند ایسی باتیں جو آپ بھی جاننا چاہیں گے

لاہور: (ویب ڈیسک) پی ٹی آئی کی حکومت میں وزیر مملکت رہنے والے علی محمد خان کی ایک وڈیو بہت وائرل ہورہی ہے جس میں وہ ایک بچی کے کان میں اذان دے رہے ہیں۔ علی محمد خان کا شمار تحریک انصاف کے ابتدائی کارکنوں میں ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کی سابق وفاقی حکومت میں انہیں پارلیمانی امور کا وزیر مملکت بنایا گیا تھا۔ 3 سال 8 ماہ تک علی ممحمد خان نے قومی اسمبلی اور سینیٹ یں اپنی ذمہ داریاں بہت اچھے طریقے سے نبھائیں۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد علی محمد خان وہ واحد پی ٹی آئی رہنما تھے جنہوں نے اظہار خیال کیا۔ علی محمد خان کی تقریر پر ناصرف پی ٹی آئی بلکہ ان کے مخالف بھی تعریف کررہے ہیں۔ تحریک انصاف سے منسلک ہونے کے علاوہ علی محمد خان بہت نرم دل انسان بھی ہیں۔ وہ کسی بھی انسان کی ایسی خواہش کو نہیں ٹالتے جو وہ پوری کرسکتے ہوں۔ آج کل علی محمد خان کی ایک وڈیو بہت وائرل ہورہی ہے۔ جس میں علی محمد خان ایک 3 سالہ بچی کے کان میں اذژان دے رہے ہیں۔ بچی کے کان میں اذان دینے کا واقعہ بھی بڑا دلچسپ ہے، یہ بچی قوت سماعت سے محروم تھی ، اس کے والدین نے بہت تکلیفیں برداشت کررکے اس بچی کا علاج کرایا ۔ بچی سننے کے قابل ہوئی تو اس کی ماں نے تہیہ کیا اس کے کان میں پہلی آواز اذان کی ہوگی اور وہ اذان کوئی اور نہیں بلکہ علی محمد خان دیں گے۔ علی محمد خان بھلا اتنی بڑی سعادت کو کیسے حاصل نہ کرتے۔ انہوں نے بچی کے کان میں اذان دی۔ یہ وڈیو گو کہ کچھ وقت پرانی ہے لیکن اس کے باوجود ایک مرتبہ پھر وائرل ہورہی ہے۔

Categories
آرٹیکلز

ماں نے ان سے بیٹی کے کان میں اذان دینے کو کیوں کہا؟ علی محمد خان کی زندگی سے متعلق چند ایسی باتیں جو آپ بھی جاننا چاہیں گے

لاہور: (ویب ڈیسک) پی ٹی آئی کی حکومت میں وزیر مملکت رہنے والے علی محمد خان کی ایک وڈیو بہت وائرل ہورہی ہے جس میں وہ ایک بچی کے کان میں اذان دے رہے ہیں۔ علی محمد خان کا شمار تحریک انصاف کے ابتدائی کارکنوں میں ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کی سابق وفاقی حکومت میں انہیں پارلیمانی امور کا وزیر مملکت بنایا گیا تھا۔ 3 سال 8 ماہ تک علی ممحمد خان نے قومی اسمبلی اور سینیٹ یں اپنی ذمہ داریاں بہت اچھے طریقے سے نبھائیں۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد علی محمد خان وہ واحد پی ٹی آئی رہنما تھے جنہوں نے اظہار خیال کیا۔ علی محمد خان کی تقریر پر ناصرف پی ٹی آئی بلکہ ان کے مخالف بھی تعریف کررہے ہیں۔ تحریک انصاف سے منسلک ہونے کے علاوہ علی محمد خان بہت نرم دل انسان بھی ہیں۔ وہ کسی بھی انسان کی ایسی خواہش کو نہیں ٹالتے جو وہ پوری کرسکتے ہوں۔ آج کل علی محمد خان کی ایک وڈیو بہت وائرل ہورہی ہے۔ جس میں علی محمد خان ایک 3 سالہ بچی کے کان میں اذژان دے رہے ہیں۔ بچی کے کان میں اذان دینے کا واقعہ بھی بڑا دلچسپ ہے، یہ بچی قوت سماعت سے محروم تھی ، اس کے والدین نے بہت تکلیفیں برداشت کررکے اس بچی کا علاج کرایا ۔ بچی سننے کے قابل ہوئی تو اس کی ماں نے تہیہ کیا اس کے کان میں پہلی آواز اذان کی ہوگی اور وہ اذان کوئی اور نہیں بلکہ علی محمد خان دیں گے۔ علی محمد خان بھلا اتنی بڑی سعادت کو کیسے حاصل نہ کرتے۔ انہوں نے بچی کے کان میں اذان دی۔ یہ وڈیو گو کہ کچھ وقت پرانی ہے لیکن اس کے باوجود ایک مرتبہ پھر وائرل ہورہی ہے۔

Categories
آرٹیکلز

مسلمانوں کو آج سے قبل معلوم نہیں ہوگا کہ خانہ کعبہ کی جگہ پہلے کیا تھا اور مکہ مکرمہ کیسے وجود میں آیا؟حیران کن تفصیلات

اوند قدوس کے حکم سے آپ نے ایسا کیا ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے ہاجرہ! میں نے جو کچھ کیا ہے وہ اللہ تعالی کے حکم سے کیا ہے۔یہ سن کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا کہ اب آپ جائیے، مجھے یقین کامل اور پورا پورا اطمینان ہے کہ خداوند کریم مجھ کو اور میرے بچے کو ضائع نہیں فرمائےگا۔

حضرت جبرائیل علیہ السلام ۔۔۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک لمبی دعا مانگی اور وہاں سے ملک شام چلے آئے۔چند دنوں میں کھجوریں اور پانی ختم ہو جانے پر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالی عنہا پر بھوک اور پیاس کا غلبہ ہوا اور ان کے سینے میں دودھ خشک ہوگیا اور بچہ بھوک و پیاس سے تڑپنے لگا۔حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے پانی کی تلاش و جستجو میں سات چکر صفا مروہ کی دونوں پہاڑیوں کے لگائے مگر پانی کا کوئی سراغ دور تک نہیں ملا۔یہاں تک کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام پیاس کی شدت سے ایڑیاں پٹک پٹک کر رو رہے تھے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کی ایڑیوں کے پاس زمین پر اپنا پیر مار کر ایک چشمہ جاری کر دیا۔اور اس پانی میں دودھ کی خاصیت تھی کی غذا اور پانی دونوں کا کام کرتا تھا۔چنانچہ یہی زمزم کا پانی پی پی کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام زندہ رہے۔یہاں تک کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام جوان ہو گئے اور شکار کرنے لگے تو شکار کے گوشت اور زمزم کے پانی پر گزر بسر ہونے لگی۔ مکہ آباد ہونے لگا۔۔۔ پھر قبیلہ جرہم کچھ لوگ اپنی بکریوں کو

چراتے ہوئے اس میدان میں آئے اور پانی کا چشمہ دیکھ کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالی عنہا کی اجازت سے یہاں آباد ہو گئے اور اس قبیلے کی ایک لڑکی سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شادی بھی ہوگئی۔اور رفتہ رفتہ یہاں ایک آبادی ہو گئی۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خداوند قدوس کا یہ حکم ہوا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کریں۔ چنانچہ آپ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مدد سے خانہ کعبہ کو تعمیر فرمایا۔اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد اور باشندگان مکہ مکرمہ کے لئے جو ایک طویل دعا مانگی ۔قران مجید کی مختلف سورتوں میں مذکور ہے۔چنانچہ سورہ ابراہیم میں آپ کی اس دعا کا کچھ حصہ اس طرح مذکور ہے ترجمہ ترجمہ اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں ہوتی تیرے حرمت والے گھر کے پاس اے ہمارے رب اس لیے کہ وہ نماز قائم رکھیں تو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں کچھ پھل کھانے کو دے شاید وہ احسان مانیں۔یہ مکہ مکرمہ کی آبادی کی ابتدائی تاریخ ہے جو قرآن مجید سے ثابت ہوئی ہے۔ دعا ابراہیم کا اثر۔۔۔:اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے

خداوند سے دو چیزیں طلب کی ایک تو یہ کہ کچھ لوگوں کے دل اولاد ابراہیم علیہ السلام کی طرف مائل ہوں اور دوسرے ان لوگوں کو پھلوں کی روزی کھانے کو ملے آپ کی یہ دعائیں مقبول ہوئی۔چنانچہ اس طرح لوگوں کے دل اہل مکہ کی طرف مائل ہوئے کہ آج کروڑ ہا کروڑ انسان مکہ مکرمہ کی زیارت کے لئے تڑپ رہے ہیں اور ہر دور میں طرح طرح کے مسلمان خشکی اور سمندر اور ہوائی راستوں سے مکہ مکرمہ جاتے ہیں۔قیامت تک جاتے رہیں گے اور اہل مکہ کی روزی میں پھلوں کی کثرت کا یہ عالم ہے کہ باوجود یکہ شہر مکہ اور اس کے قریب و جوار میں کہیں نہ کوئی کھیتی ہے نہ کوئی باغ باغیچہ ہے۔مگر مکہ کرمہ کی منڈیوں اور بازاروں میں اس کثرت سے قسم قسم کے میوے اور پھل ملتے ہیں کہ فرط تعجب سے دیکھنے والوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے” طائف” کی زمین میں ہر قسم کی پھلوں کی پیداوار کی صلاحیت پیدا فرما دی ہے کہ وہاں سے قسم قسم کے میوے اور پھل اور طرح طرح کی سبزیاں اور ترکاریاں مکہ معظمہ میں آتی رہتی ہیں اور اس کے علاوہ مصر و عراق بلکہ یورپ کے ممالک سے میوے اور

پھل بکثرت مکہ مکرمہ آیا کرتے ہیں۔یہ سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں کی برکت کے اثرات و ثمرات ہیں جو بلاشبہ دنیا کے عجائبات میں سے ہیں۔اس کے بعد آپ نے یہ دعا مانگی جس میں آپ نے اپنی اولاد کے علاوہ تمام مومنین کے لئے بھی دعا مانگی ترجمہاے میرے رب مجھے نماز کا قائم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو بھی اے ہمارے رب اور میری دعا سن لے اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا۔ درس ہدایت۔۔۔ ابراہیم علیہ السلام اپنے رب تعالیٰ کے بہت ہی اطاعت گزار اور فرماں بردار تھے کہ وہ بچہ جس کو بڑی دعاوں کے بعد بڑھاپے میں پایا تھا جو آپ کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور تھا، فطری طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کبھی اپنے سے جدا نہیں کرسکتے تھے مگر جب اللہ تعالی کے حکم ہوگیا کہ ابراہیم تم اپنے پیارے فرزند اور اس کی ماں کو اپنے گھر سے نکال کر وادی بطحا میں اس سنسان جگہ پر لے جا کر چھوڑ آؤ جہاں سر چھپانے کو درخت کا پتہ پیاس بجھانے کو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے،نہ وہاں کوئی یار و مددگار ہے نہ کوئی مونس و غم

خوار ہے۔دوسرا کوئی انسان ہوتا تو شاید اس کے تصور ہی سے اس کے سینے میں دل دھڑکنے لگتا بلکہ شدت غم سے دل پھٹ جاتا۔حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ اصلوٰۃ و السلام خدا کا یہ حکم سن کر نہ فکر مند ہوئے نہ ایک لمحے کیلئے سوچ بچار میں پڑے نہ رنج و غم سے نڈھال ہوئے بلکہ فوراً ہی خدا کا حکم بجا لانے کے لئے بیوی اور بچے کو لے کر ملک شام سے سرزمین مکہ میں چلے گئے اور وہاں بیوی بچے کو چھوڑ کر ملک شام چلے آئے۔اللہ اکبر اس جذبہ اطاعت شعاری اور جوش فرماں برداری پر ہماری جان قربان اس معاملے میں میری ذاتی رائے ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی اولاد کے لیے نہایت ہی محبت بھرے انداز میں ان کی مقبولیت اور رزق کے لئے جو دعائیں مانگیں۔اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اپنی اولاد سے محبت کرنا اور ان کے لیے دعائیں مانگنا یہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا طریقہ ہے جس پر ہم سب مسلمانوں کو عمل کرنا ہماری صلاح و فلاح دارین کا ذریعہ ہے۔