Categories
آرٹیکلز

گیٹ نمبر 4 اب نہیں کھلے گا : عمران خان کو موجودہ عزائم میں مکمل ناکامی ہو گی ، مگر کیسے؟سینیر صحافی نے دلائل پیش کر دیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عرفان اطہر قاضی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔گندم کی کٹائی کے سیزن میں کھیتوں میں باقیات کو نذر آتش کرنا تو عام بات ہے لیکن عید کے ایام میں دوایسے واقعات ہوئے جن کی بظاہر اتنی بھی اہمیت نہیں کہ اخبارات میں نمایاں طور پر شائع کئے جاسکیں

لیکن قارئین کی آگاہی کی خاطر تذکرہ کئے دیتے ہیں کہ جھوٹی شہرت کے رسیا کچھ پاگل نما حرکتیں کرنے والے ٹولے (ٹک ٹاکرز) نے اپنے میک اپ زدہ بھیانک چہرے کو چاند بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی اور انفرادی شہرت کی خاطر مانسہرہ کے جنگل میں آگ لگا دی۔ آناً فاناً لاکھوں روپے مالیت کے درخت جل کر راکھ ہوگئے۔ فضاآلودہ ہوئی، بڑھی اوراِردگرد کا ماحول خراب ہوا۔اس کھیل میں دم گھٹنے سے درختوں پر چہچہاتے پرندے بھی موت کے منہ میں چلے گئے۔ خوشی کے انہی ایام میں مری کے جنگلات میں بھی آگ لگنے کی خبر سامنے آئی۔ وجوہات کا ابھی تک کہیں ذکر دیکھنے یا سننے کو نہیں ملا ممکنہ طور پر ایسی ہی کوئی حرکت مری میں بھی کی گئی ہوگی۔ کسی نے تو اس جنگل کو ماچس کی تیلی دکھائی کہ یہ تباہی آئی۔ یہ ہماری معاشرتی غفلت کا ایک ایسا خوفناک چہرہ ہے جو کسی نہ کسی شکل میں ہمیں انسان سے درندہ بنا دیتا ہے۔ وقتی شہرت کی خاطر ہم کہیں بھی آگ لگانے سے باز نہیں آتے۔ ہمارا یہ جنونی رویہ من حیث الہجوم ہمیں سوشل میڈیا پر روزانہ کی بنیاد پر نظر آنے لگا ہے اور جنگل کی آگ کی طرح پھیلتا ہی جارہا ہے۔ نوجوان نسل تفریح کے نام پر ایک ایسے پاگل پن کا شکار ہو رہی ہے جس کا تدارک مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ اب تو چاند رات جیسی خوشی کی راتیں بھی اس رویے کی زد میں آچکی ہیںکہ قوم یوتھ کے چند سو منچلوں نے

اپنے لیڈر کی ایک کال پر رات سڑکوں پر اپنے تین رنگے جھنڈے لہراتے گزار دی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ خان تمام مخالف قوتوں کے خلاف اب بھی ڈٹ کر کھڑا ہے اور ان قوتوں کو زیر کرنے کی خاطر وہ اسی ماہ اسلام آباد لانگ مارچ، دھرنا دینے کو تیار ہے۔ جلسے، جلوس، احتجاجی ریلیاں، لانگ مارچ اور دھرنے سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ہیں اور یہی جمہوریت کا اصل حسن بھی کہ تمام سیاسی جماعتیں آزادانہ اپنی سوچ، نظریئے اور مقصد کی خاطر پُرامن سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں اور عوام ان جماعتوں کے ساتھ جڑے رہیں۔ آج پاکستانی سیاست میں خان سے زیادہ کوئی سیاست دان اس فن میں ماہر نہیں البتہ بڑے مولانا صاحب ہی وہ واحد مذہبی سیاسی قوت ہیں جنہیں تمام سیاسی اور مقتدر حلقے ہمیشہ خان کا توڑ سمجھتے ہیں ماضی قریب میں ہم سب نے دیکھا کہ جو لوگ یہ کہتے تھے کہ خان کا دور دور تک کوئی متبادل نہیں، اگر ہے تو سامنے لائیں۔ یہی وہ تکبر تھا جو یوتھیوں کو زمین پر آنے نہیں اور خان کو سمجھانے نہیں دیتا تھا۔ اسی تکبر اور سوچ نے آج خان کو یہ دن دکھائے کہ ایوان اقتدار سے پھر سڑکوں پرآ گئے۔ سوال یہ ہے کہ جس سوچ کے ساتھ خان آگے بڑھ رہا ہے اور جس سازشی تھیوری کے نام پر وہ اگلے عام انتخابات کے جلد انعقاد کا مطالبہ کررہا ہے اور جس انداز میں وہ ان مطالبات کو منوانے کے لئے حقیقی آزادی تحریک چلانے کا ارادہ رکھتا ہے کیا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا یا نہیں؟

تو میرا جٹکا سا جواب ہے ابسلوٹلی ناٹ۔ دلیل یہ ہے کہ اگر خان کے مطالبے یا تحریک کے دباؤ میں آکر اس کے سامنے گھٹنے ہی ٹیکنے ہیں تو انہیں نیوٹرل رہنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ وہ خاموشی سے خان کو بچا سکتے تھے مگر تمام تر کوششوں کے باوجود ایسا نہیں ہوا۔ خان جن مطالبات کی بنیاد پر آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینا چاہتا ہے یہ کام تو وہ صرف اقتدار میں رہ کر ہی کرسکتا تھا کہ اپنی مرضی کا آرمی چیف تعینات کرتا، چیف الیکشن کمشنر بھی اسی کے زیر اثر ہوتا، عدلیہ بھی اس کے دباؤ کے تحت من پسند فیصلے کرتی، وہ اپنی مرضی سے نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے مخالفین کو آسانی سے قید کی سلاخوں کے پیچھے کروا سکتا تھا اورمرزا یار بن کر 2028 ءتک اقتدارپر چھایا رہتا۔ اب خان جتنا مرضی زور لگا لے،لانگ مارچ کرے،دھرنے دے، پُورا پاکستان جام کردے وہ کبھی نہیں ہوگا جو خان چاہتا ہے۔ خان کو اپنے دورِ اقتدار میں یہی ایک غلط فہمی تھی کہ اس نے ساڑھے تین سال میں اپنے تمام مخالفین کو نیب، ایف آئی اے، مغلطات بریگیڈ کے ذریعے بُری طرح کچل کر رکھ دیا ہے یا سوشل میڈیا پر انہیں اتنا بدنام کردیا ہے کہ وہ کسی کا سامنا نہ کرسکیں۔ وہ اسی غلط فہمی کا شکار رہا کہ اب کوئی مقتدر ادارہ اپوزیشن جماعتوں خصوصا ً (ن) لیگ کا تو بالکل بھی ساتھ نہیں دے گا۔ یہی ذہنی خلل خان کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا اور اِسی خلل کانتیجہ یہ نکلا کہ وہ انہیں بھی گھورنے لگا جو اسے اپنے ہاتھوں سے پروان چڑھا رہے تھے۔ آپ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ جب کوئی اپنے ہی گھر والوں کو آنکھیں دکھانے لگے تو ایک دن اسے گھر سے نکالنا ہی پڑتا ہے۔ اس قصے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا کہ صرف پیٹ بھر کر اچھا کھانا، پینا، دوڑنا، جان بنانا اور طاقت کے سرور میں خراٹے لے کر سو جانا ہی اقتدار کی طاقت نہیں ہوتی۔ کچھ وفاداری، چوکیداری، راز داری، رت جگا اور کبھی کبھی کان کھڑے کرکے مخالفین پر غرانا اور گھر آئے مہمان پر دھاوا نہ بولنا ہی اچھی تربیت کا اثر ظاہر کرتا ہے۔ اب رونے پیٹنے سے گھر کا، بقول شیخ رشید گیٹ نمبر4 کھلنے والا نہیں کیونکہ اس کے پیچھے کچھ اہم وجوہات ہیں۔

Categories
آرٹیکلز

میر جعفر میر صادق اور سراج الدولہ میں سے ہیرو کون تھا اور غدار کون تھا ؟ تحریک انصاف کے ناراض رکن اسمبلی رمیش کمار وانکوانی کی معلوماتی تحریر

لاہور(ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آجکل ہماری ملکی سیاست میں برصغیر کے دو صدیوں قبل کے ان دو کرداروں کا بہت چرچا ہے جنکی غداری کو برصغیر میں برطانوی سامراج کی فتح کی بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے، پارلیمان کے ایک آئینی عمل

کے نتیجے میں سبکدوش ہونے والے سابق وزیراعظم عمران خان اپنے عوامی جلسوں میں تواتر سے میر جعفر اور میر صادق کا تذکرہ کررہے ہیں، حالیہ ایبٹ آباد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تمام حدیں پار کردیں، سیاسی تجزیہ نگاروں نے خان صاحب کی مذکورہ تقریر کو براہ راست اعلیٰ عسکری قیادت پر اٹیک قراردیا جبکہ خود پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کو دفاع کرنا مشکل ہو گیا، اس حوالے سے آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک اہم بیان سامنے ٓیاکہ فوج کو سیاست میں ملوث نہ کیا جائے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی قومی اسمبلی کے فلور پر عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیا، پی ڈی ایم اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے ردعمل میں عمرا ن خان کو ہی اصل میر جعفر میر صادق قراردیا، تاہم اب سابق وزیراعظم نے وضاحت کی ہے کہ انہوں نے اپنی تقاریر میں میر جعفر اور میر صادق کا استعارہ شریف برادران کیلئے استعمال کیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ خان صاحب کو برصغیر کی تاریخ کے د و کرداروں کے نام استعمال کرنے سے قبل تاریخ کابغورمطالعہ کرنا چاہئے ۔ آج سے ڈھائی سو سال قبل سراج الدولہ بنگال کا خودمختار حکمراں تھا جسے انگریزوں کے دھاوؤں کا سامنا تھا، ایسٹ انڈیا کمپنی تجارت کی آڑ میں پورے ہندوستان میںاپنا غاصبانہ قبضہ جمانا چاہتی تھی، کہا جاتا ہے کہ پلاسی کی لڑائی 1757کے موقع پر انگریزوں کی فوج تین ہزار پر مشتمل تھی جبکہ سراج الدولہ کے پاس پچاس ہزار کی فوج تھی، تاہم سراج الدولہ کے قابل اعتماد ساتھی میر جعفرنے

عین موقع پراپنے حلف سے انحراف کرتے ہوئے انگریزوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، اس دغابازی کے نتیجے میں سراج الدولہ کو شکست ہوئی اور وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ، انگریزوں نے میر جعفر کو بنگال کا حکمراں تسلیم کرلیا جبکہ عملی طور پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا راج قائم ہوگیا۔اسی طرح میسور کا حکمراں ٹیپو سلطان انگریز کے توسیع پسندانہ عزائم کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا، بہادر سلطان مختلف محاذ پر ایسٹ انڈیا کمپنی کوشکست سے دوچار کرچکا تھا،تاہم انگریزوں نے میر صادق کو اپنا ہمنوا بنا لیا اور مئی 1799میں سرنگاپٹم کے محاذ میں میر صادق کی حمایت سے انگریز فوج قلعے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی، ٹیپو سلطان انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے ش ہ ی د ہوگئے جبکہ میر صادق کو زندگی سے محروم کردیا گیا، ٹیپو سلطان کا ش ہ ادت سے قبل ادا کیا جانے والا فقرہ ’ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے‘آج بھی زبانِ زدعام ہے۔ اگر دو صدیوں قبل کی صورتحال کا آج کے پاکستان کے حالات سےموازنہ کیا جائے تو نہ یہاں بادشاہت ہے اور نہ ہی ہمیں کسی غیرملکی سامراجی طاقت کے دھاوے کا خطرہ ہے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کم و بیش آدھی دنیا کو اپنی کالونی بنا چکے تھے، بنگال اور میسور کی ریاستیں اگر غداروں کی وجہ سے شکست سے دوچار ہوئیں تو باقی ہندوستان اور دیگر محاذوں پر انگریز کو کیسے فتح حاصل ہوئی ؟ درحقیقت ہمارا قومی المیہ یہی ہے کہ ہم اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اس بیانیہ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں کہ ہم تو بہت اچھے ہیں لیکن ہمارے اپنے ہمارے خلاف سازشیں کرتے ہیں، حیرت ہےکہ ہمارے حکمراں اپنے دورِ حکومت میں ہرمیدان میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہوتے ہیں توآخر سازشوں کا مقابلہ کرنے سے کیوں قاصر رہتے ہیں؟ میر جعفر اور میر صادق کے زمانے میں شخصی حکمرانی تھی لیکن پاکستان دورِ جدید کا ایک جمہوری ملک ہے جس کے 1973کے متفقہ آئین سے وفاداری ہر شہری پر لازم ہے،اکیسویں صدی میں آئین سے انحراف کرنا ہی اصل غداری ہے۔آج ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں تو اس کی بڑی وجہ ہماری بہادر افواج کی بے مثال قربانیاں ہیں، اعلیٰ عدلیہ نے آئین کی تشریح کرتے ہوئے نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کیلئے دفن کردیا ہے، الیکشن کمیشن سمیت ریاست پاکستان کے دیگر قومی ادارے آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ،ایسے حالات میں قومی اداروں کو تضحیک کا نشانہ بنانا ریاست سے غداری کے مترادف ہے۔ سیاسی حالات میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ میر جعفر اور میر صادق کے ملامتی کردارکون ادا کررہا ہے ، تاہم پھر بھی اگر کسی کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے تو اسے تاریخ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے کیونکہ تاریخ کبھی غداروں کو معاف نہیں کرتی۔

Categories
آرٹیکلز

موجودہ حکومت سے زیادہ ہمت والا تو وہ نکلا جس نے چار ماہ میں تیسری شادی کو عدالت میں پہنچا دیا ۔۔۔۔۔ شہباز اینڈ کمپنی کی کارکردگی پر ایک خاتون صحافی کی انوکھی تنقید

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار کشور ناہید اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔سچ پوچھیں تو موجودہ حکومت نے اس ایک ماہ میں کیا نکالا! ایک عورت کا قصہ! ان سے تو زیادہ ہمت والا وہ نابکار نکلا کہ جس نے تیسری شادی کو چار ماہ میں عدالت تک پہنچا دیا۔

نئی بات جو موجودہ حکومت کررہی ہے۔ وہ آٹے کی قیمت کے حوالے سے، جو کہنے میں دو روپے کی روٹی والا فکاہیہ ہی معلوم ہوتی ہے۔ اب تک احکامات دینے والی قوتوں کے ساتھ ایسی مفاہمت اور انڈر اسٹینڈنگ نہیں ہوئی جو عوام میں مقبولیت حاصل کرتی۔ عام آدمی کی اس ملک میں اتنی تھوڑی ضروریات ہیں کہ دو وقت کی روٹی، پانی اور بجلی میسر ہوتو سرکار کو دعائیں دے۔ آج کل کے وزیر اعظم، نہ پہلے والے نہ اب والے، اپنی اہلیہ کو ہی کام پہ لگا دیتے کہ کم از کم خواتین کی بھلائی کے منصوبے بناتیں۔ بیگم بھٹو اور بیگم لیاقت علی خان کی مثال سامنے ہے۔ کلثوم بی بی نے بھی جب ان کے شوہر پہ وقت پڑا تو کیسی استقامت دکھائی تھی۔ جبکہ اباجی نے بہت پاپندیاں لگائی تھیں۔ اس نے پابندیاں بھی خوش اسلوبی سے نبھائیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے حکومت غائب میڈیا اور اس کے اداروں کے ساتھ کیا کرتی رہی اور اب حکومت موجود کس رنگ میں ہے۔ گزشتہ پونے چار سال شہزاد اکبر کی ہر روز پریس کانفرنسیں اور پھر فواد چوہدری کا ہر روز ایک نئے ساتھی کے ساتھ وہ گفتگو جسے آپ اظہارِ رائے یا غلط بیانی کچھ بھی سمجھیں، پھر سارے میڈیا پر ہونق بنے اینکر جب کبھی اعتراض یا مخالفت کرتے، پھر صلاح کار، ان کی ٹیلیفون اور تحریر میں کھنچائی کرتے ۔ ریڈیو پاکستان کو تو اپنی ستر سالہ سنہری تاریخ کے ساتھ دفن کردیا گیا تھا۔ پھر ایک مطبوعات کا ادارہ تھا، جس میں اردو اور انگریزی کے جریدے شائع ہوتے تھے۔

اس میں ماہ نو اور پاکستان پکٹوریل بھی انگریزی میں شائع ہوتا تھا۔ علاوہ ازیں فلم کا پورا سیکشن تھا، جس میں دستاویزی اور سنجیدہ فلمیں جیسے غالب اور علامہ اقبال کے بارے میں، بہت اچھی فلمیں بنی تھیں۔ یہ سب یاد کرنے کے بعد، واپس آج کے حالات پر آجائیں۔ اب صرف ٹی وی ہی نظر آتا تھا اور اس میں اپنی پسند کی شخصیات اینکر سے لے کر تبصرہ کرنے والے۔ بیشتر ریٹائرڈ افسران ہوتے یا پھر وزارت خارجہ کے بڈھے افسران، کسی کو کبھی اختلاف کرنے کی جرات نہیں تھی۔ اب کچھ چہرے بدلے ہیں۔ مگر وہی زندہ باد، مردہ باد صدائوں کے ہیروز بدل گئے ہیں۔ پی ٹی آئی میں بڑی دبنگ خواتین ہیں۔ اینکر بے چارہ سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ یہ بریک لگائیں تو بات کو آگے بڑھائوں۔ ویسے مشرف اور عاصم باجوہ کے زمانے سے ہی ISPRنے بہت اہمیت اختیار کرلی تھی۔ فلمیں، نغمے، قومی دنوں کے پروگرام سب ان کی پروڈکشن تھے۔اب ذرا معاشی صورتِ حال کا جائزہ لیں۔ کوئی بھی ادارہ، ملک یا بزنس مین، ملک میں بحرانی کیفیت ہوتو، آگے بڑھ کر سرمایہ لگانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس لیے سعودیہ اور ابوظہبی نے ملاقات بھی کی اور وعدے بھی کئے مگر ابھی وعدوں پر جینے کی فضا ہے۔ وہ بھی روز لفظ سازش سن کر، تیل اور تیل کی دھار دیکھ رہے ہیں۔ البتہ آئی ایم ایف کے وفد کا بے چینی سے انتظار ہورہا ہے۔کرنا کیا ہے:’’امت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے‘‘۔ ہم جو گزشتہ برس تک روس کا نام سننے کے سرکاری طور پر روادار نہیں تھے روس کی فیاضی کے گن گا رہے ہیں۔ حکومت موجود، ابھی تک وزارتوں کی چھان پھٹک میں مصروف ہے۔ سی پیک کو یاد کررہی ہے کہ چار سال کے شکوک کیسے دور کریں۔ انڈیا جس طرح کشمیر میں بندر بانٹ کر رہا ہے ا سکی جانب، دنیا کی توجہ مبذول کریں۔ صرف دفتروں کی ٹائمنگ بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ تربیلہ ڈیم اور پانی کے ذخائر کو سنبھالنا ہوگا۔ یہ سب باتیں ریفارمز کے زمرے میں آتی ہیں۔ سارے ملک میں نفرتوں کو ختم کرنے کی نفسیاتی تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔

Categories
آرٹیکلز

عمران خان کا سیاسی مستقبل ایک تعیناتی سے مشروط۔۔۔۔ اگلے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے چند اہم حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حماد غزنوی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آٓئین اور جمہوریت کے منطقے میں رہتے ہوئے فاشزم سے کیسے نپٹا جائے؟ یہ ہے آج کا سوال جس کا جواب ریاست پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر تلاش کرنا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی کوئی ریاست اس دُبِدھا کا آسان حل نہیں ڈھونڈ پائی،

اصول و ضوابط کے اندر رہ کر بے اصولی اور بدامنی کا مقابلہ کرنامشکل کام ہے، بالخصوص اگر ریاست کے ادارے ناتواں ہوں اور انہیں عوام کا غیر مشروط اعتماد حاصل نہ ہو۔پرانے جرمنی میں ادارے کمزور تھے سو فاشزم جیت گیا، نفرت، جھوٹ اور تشدد جیت گئے، ٹرمپ کے امریکا میں ادارے مضبوط تھے، سو آئین و جمہوریت جیت گئے، اکثریت جیت گئی۔کرسی جاتی دیکھ کر عمران خان نے ایک ہفتے کے دوران لگ بھگ چھ مرتبہ آئین توڑا، کرسی چلی گئی تو اب ان کے لبوں پر ایک ہی ترانہ ہے، فوری الیکشن کروائے جائیں، ہجرِ اقتدار کا لمحہ لمحہ ان پر بھاری ہے، ان کی ہدایت پر صبح سرفراز چیمہ آئین سے انحراف کرتے رہے اور شام میں یہ ـ ’ملی فریضہ‘ عارف علوی انجام دیتے ہیں (ویسے منصبِ صدارت کی جو بے توقیری اس وقت ہو رہی ہے اس کی مثال ہماری تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے) عمران خان مسلسل جلسے جلوس اور انٹرویوز میں ایک ہی تکرار کر رہے ہیں الیکشن الیکشن الیکشن۔ریاست کے ہر ادارے کو وارن کر رہے ہیں کہ اگر فوری انتخاب نہ کروائے گئے تو حالات بے قابو ہو جائیں گے، ملک بدامنی کے الائو میں جھلس جائے گا، ان کے حواری خوفناک لانگ مارچ کی وارننگ دے رہے ہیں۔ایسی بے قراری، ایسا اضطراب، آخر یہ معاملہ کیا ہے؟ عمران خان کیوں سمجھتے ہیں کہ اگلے تین ماہ ان کے سیاسی مستقبل کے لیے فیصلہ کُن ہیں؟سیدھی سی بات ہے کہ عمران خان اپنے سیاسی مستقبل کو ایک اہم تعیناتی سے مشروط سمجھتے ہیں،

اس تعیناتی کی شدید خواہش نے ہی ان کے تعلقات فوج کے ادارے سے بگاڑے، اسی تعیناتی کے فیض سے وہ اگلا الیکشن جیتنا چاہتے تھے (جیسے 2018 کا جیتا تھا)، اسی تعیناتی کا ہی رونا ہے۔ عمران خان کا خیال ہے کہ وہ اگرنومبرسے پہلے وزیرِ اعظم بن جائیں تووہ یہ تعیناتی کر سکتے ہیں جس کے بعدراوی چین ہی چین لکھے گا (انوکھا لاڈلا راگ درباری کی ایک معروف استھائی ہے) یہ ہے وہ منظر نامہ جس سے عمران خان کی بے چینی اور حالت اِضطراب کو سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ ـ’ابھی نہیں تو کبھی نہیں‘ والی دماغی حالت کا ہی شاخسانہ ہے کہ عمران خان نے سراج الدولہ کے سپہ سالار میر جعفر کی تشبیہ کا سرعام استعمال کیا، جس کے جواب میں آئی ایس پی آر نے ایک ’بے نامی‘ ہومیوپیتھک قسم کی پریس ریلیز بھی جاری کی، جس سے ایک دفعہ پھر ثابت ہوا کہ ابھی تک ادارہ اور سیاستدان یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آئین اور جمہوریت کے اندر رہتے ہوئے عمران خان سے کیسے نمٹا جائے۔آئین سے دانستہ انحراف کرنے والے پرمقدمہ بننا چاہیے؟ کیا ملک کے ستّر فی صد عوام کے نمائندوں کو غدار قرار دینا سیاست کے کھیل کا حصہ سمجھا جائے گا؟ مسجدِ نبوی کے احاطے میں ایک منظم منصوبے کے تحت ایک خاتون کے لیے غلیظ زبان استعمال کرنے، حرم کی نسبت سے سعودی اور پاکستانی قوانین توڑنے والے کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے؟ فرح گوگی اور اس کے ’ترجمان‘ کو اربوں روپے کی مبینہ بدعنوانی پر عدالتوں میں

جواب دہ ہونا چاہیے؟ حسنِ اتفاق دیکھیے کہ رانا ثنا اللہ اور عبدالحمید عدم بہ یک وقت یاد آگئے ’پہلے بڑی رغبت تھی ترے نام سے مجھ کو، اب سن کے ترا نام میں کچھ سوچ رہا ہوں‘۔رانا صاحب، آپ کی کیفیت قابلِ فہم ہے، یہ مشکل سوالات ہیں، ان کے گھڑے گھڑائے جواب موجود نہیں ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ کچھ شہریوں نے (غالباً آپ کی اجازت سے) توہینِ مسجدِ نبویؐ کے پرچے کٹوائے تو آپ کے بہت سے آئین و جمہوریت پسند حامیوں نے اس کی مخالفت کی، اور سیاسی مخالفین سے سیاست کے میدان میں نمٹنے کا مشورہ دیا۔مسئلہ وہی ہے کہ اعلیٰ جمہوری اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے فسطایت کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟عمران خان جس دن سے لیلائے اقتدار سے جدا ہوئے ہیںانتہائی بے چین ہیں، یعنی ’گھر سے آئے گلی میں سو باری، یار بن دیر اضطراب رہا‘، گویا آسمانوں میں طے شدہ حقِ حکم رانی ان سے چھین لیا گیا ہے، جیسے خدا نخواستہ کوئی خلافت و ملوکیت کا جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا ہے، یعنی حق و باطل کا معرکہ برپا ہو گیا ہے، قصرِ اقتدار سے رخصت ہونے کی دیر تھی کہ انہیں فضا میں خون کی بساند محسوس ہونے لگی ہے، گلیاں لہو رنگ ہوئی جاتی ہیں، آسماں بین کرتا سنائی دیتا ہے۔وہ بار بار بدامنی کی وارننگ دے رہے ہیں، یعنی سادہ لفظوں میں یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت میرا حق ہے اور میرے جاں نثار گلی گلی میرے اس حق کے لئے ’غداروں‘ سے لڑیں گے۔ان کے ساتھی بھی بات بے بات بدامنی کا ورد کر رہے ہیں، حد تو یہ ہے کہ جب گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹایا جا رہا تھا تو سرفراز چیمہ نے فرمایا کہ اگر انہیں ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تو ملک میں بدامنی کا خطرہ ہے۔(شاید رمیز راجہ بھی یہی سمجھتے ہوں)۔ سوال پھر وہی ہے کہ سول وار کی وارننگ دینے والوں سے سیاست کے میدان میں کیسے نمٹا جائے؟ملکی تاریخ میں کئی سیاست دانوں نے سیاست میں مداخلت پر اداروں پہ تنقیدکی ہے، اور انہیں اپنے آئینی کردارمیں لوٹ جانے کا مشورہ دیا ہے، لیکن عمران خان غالباً ہماری تاریخ کے پہلے سیاست دان ہیں جو فوج کوسیاست میں برملامداخلت کی دعوت دے رہے ہیں، انہیں غیر آئینی کردار ادا کرنے پر اکسا رہے ہیں، انہیں ’نیوٹرل‘ ہونے کے طعنے دے رہے ہیں، حق کا ساتھ دینے کی تلقین کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ’انا الحق‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔اب آپ بتائیے، ان صاحب سے آئین و جمہوریت کے دائرے میں کیسے نمٹا جائے؟فیصلہ کرنا پڑے گا، اور جلد از جلد کرنا پڑے گا، میر صاحب نے فرمایا تھا ’ مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا‘۔

Categories
آرٹیکلز

عمران خان کا دباؤ: کپتان کے ڈر سے شہباز شریف حکومت میں ہونے کے باوجود کونسے کام کرنے سے ڈر رہے ہیں ؟ چند دلچسپ اور پول کھول دینے والے حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اسد اللہ خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔وزیر اعظم کے چہرے سے صاف نظر آتا تھا کہ وہ اُتنے پر اعتماد نہیں ہیں جتنے حکومت سنبھالتے ہوئے تھے۔بگڑتی معیشت اور بڑھتی مہنگائی ان کی پریشانی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ دو غیر ملکی ناکام دوروں کے بعد ان

کی تشویش بڑھ گئی ہے۔ دودن میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں اچانک کیوں بڑھ گئیں اور واپس کیوں نہیں آپا رہیں ، ان کے پاس اس کا واضح جواب نہ تھا۔ اسٹاک مارکیٹ مسلسل مندی کا شکار ہے ، ڈالر قابو میں نہیں آ پا رہااور قابو میں رکھنے کی کوئی حکمت عملی بھی ان کے پاس دکھائی نہیں دیتی۔پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کے سوا ان کے پاس چارہ نہیں ، ڈیزل کی قیمتیں بڑھیں تو مہنگائی کو مزید بڑھنے سے روکنا ممکن نہیں ہو پائے گا، عمران خان کا دبائو اتنا ہے کہ حکومت چاہتے ہوئے بھی پیٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھا پا رہی۔کیسے ممکن ہے وزیر اعظم کے ذہن میں یہ بات نہ آتی ہوکہ بے وقت کی حکومت لے کر کہیں غلطی تو نہیں کر دی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی باتوں سے صاف نظر آتا ہے کہ ان کے اوپر واضح طور پر تین دبائو ہیں ۔ پہلا ،اپنے اوپر لگے سازش کے دھبے کو دھونا، دوسرا،معیشت کو سنبھالنا اور مہنگائی میں کمی لانا اور تیسرا عمران خان کے احتجاج اور عوامی دبائو سے نمٹنا۔ فی الحال وزیر اعظم کے پاس ان تینوں مشکلات سے نمٹنے کی کوئی حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔ مختلف طرح کے دبائو کا شکار ہو کر شہباز شریف غلطیاں کر رہے ہیں ۔ مہنگائی کے دبائو کا شکار ہو کر انہوں نے کپڑے بیچ کر سستا آٹا دینے جیسی مضحکہ خیز بات کی اور اپنا مذاق بنوایا۔ عمران خان کے سازش کے بیانیے کے دبائو کا شکار ہو کر انہوں نے اعتراف کر لیا کہ

امریکہ نے وارننگ تو واقعی دی ہے ، مداخلت بھی کی گئی مگر سازش نہیں ہوئی۔اسلام آباد مارچ کے دبائو کا شکار ہو کر وہ اسے روکنے اور گرفتاریاں کرنے جیسی ایک اور غلطی کرنے جا رہے ہیں ۔ لاہور میں اینکر پرسنز سے ہونے والی ملاقات میں شہباز شریف نے اپنی مجبوریوں اور مسائل کا اس دردناک انداز میں ذکر کیا کہ ایک صحافی کو کہنا پڑا کہ آپ کی باتیں سن کر آپ سے ہمدردی کرنے کو جی چاہتا ہے اور لگتا ہے آپ کو حکومت میں لا کر آپ کے خلاف سازش کی گئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اپنی حکومت کے آئینی مدت پورا کرنے کے حوالے سے بھی زیادہ پُراعتماد نہیں ہیں۔ بار بار وہ یہ کہتے رہے کہ کتنا عرصہ حکومت کرنی ہے یہ مشاورت سے فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ عمران خان بڑے بڑے جلسے کر رہے ہیں اور ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے مگر انہیں لگتا تھا کہ بڑے جلسے کرنا الگ بات ہے اور انتخابی کامیابی حاصل کرنا الگ بات۔ 2011 اور 2012 کی انہوں نے مثال دی کہ جب عمران خان نے بڑے بڑے جلسے کیے تھے مگر 2013 کے انتخابات میں ووٹ عوام نے ن لیگ کو دیے ۔ اب بھی انہیں لگتا ہے کہ الیکشن میں صورتحال مختلف ہو گی۔ ایسا لگتا ہے شہباز شریف اس صورتحال پہ غور کر رہے ہیںکہ فوری طور پر الیکشن میں جانا کم نقصان دہ رہے گا یا ایک سال بعد الیکشن میں جانا۔ فوری طور پر وہ یہ کہہ کر عوام کے پاس جا سکتے ہیں

کہ ہم نے حکومت کو گھر تو بھیج دیا لیکن اب اندازہ ہوا کہ حالات بہت گھمبیر ہیں اور ملک کو فوری انتخابات کی ضرورت ہے ۔ اس کے برعکس اگر وہ ایک سال بعد ناکامی سے دوچار ہوکر عوام کے پاس جائیں گے تو ناکامی کا ٹیکہ ان کے ماتھے پہ لگا ہوا ہو گا۔ پنجاب میں بھی آئینی بحران ختم نہیں ہو پا رہا ۔ جیسے تیسے وزیر اعلی کاتو حلف ہو گیا مگر کابینہ کا حلف نہیں ہو پا رہا۔ گورنر کو ہٹانے کے لیے صدر نے سمری منظور نہ کی تو زبردستی وزیر اعلی ہائوس پہ بزور طاقت قبضہ کر لیا گیا ۔ اس وقت پنجاب میں آئینی طور پر دو اشخاص وزیر اعلی ہونے کے دعویدار ہیں ۔ ہٹائے جانے کے باوجود گورنر خود کو آئینی طور پر گورنر کہنے پر بضد ہیں ۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کو ہٹایا گیا تو انہوںنے بھی اپنی معزولی کو غیرآئینی قرار دے دیا۔نئے مقرر کیے گئے قائم مقام گورنر نے ویسے ہی عہدہ سنبھالنے سے معذرت کر لی ہے۔منحرف اراکین کا کیس الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے ۔ انہیں ڈی سیٹ کر دیا گیا تو حمزہ پنجاب اسمبلی میں اکثریت کھو دیں گے۔ پنجاب کے ان حالات نے نئی حکومت کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ انہی حالات کے پیش نظر نواز شریف نے وزیر اعظم سمیت پارٹی کے اہم رہنمائوں اور وزراء کولندن طلب کر لیا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے ۔ ممکنہ طور پر انہی تین مسائل پر گفتگو ہو گی جس نے نئی حکومت کو شدید دبائو میں مبتلا کر

رکھا ہے ۔ کون جانے کہ یہ موضوع بھی زیر بحث آ ہی جائے کہ کہیں انہوں نے اتنی عجلت میں مختصر وقت کے لیے حکومت قبول کر کے غلطی تو نہیں کی اور یہ کہ کیا فوری طور پر اس غلطی کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔ رانا ثنا ء اللہ البتہ پر اعتماد دکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ،فرماتے ہیں نومبر سے پہلے تو کسی صورت انتخابات نہیں کرائے جائیںگے۔لیکن ان کی پارٹی کی اعلی قیادت کو حالات کی سنگینی کا ادراک ہے ۔ عمران خان کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے البتہ ابھی تک کوئی واضح حکمت عملی نہیں بنائی گئی۔ ہاں ذہن کے کسی کونے میں تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنمائوں کی گرفتاری کا آپشن موجود ہے جس کا اظہار وہ اشارے کنایوں میں کرتے نظر آتے ہیں ۔ وزیر اعظم شہاز شریف سے میں نے سوال کیا کہ نوازشریف کی صحت اب کیسی ہے ، وہ کب واپس آ رہے ہیں اور کیا حکومت ان کی سزا ختم یا معطل کرنے پر غور کر رہی ہے؟ جواب میں وزیر اعظم نے صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ کسی کی صحت کا مذاق اڑانا بہت بری بات ہے لیکن یہ انہوں نے نہ بتایا کہ واپس کب آئیں گے اور کیسز کا کیا بنے گا۔ یہ بات درست ہے کہ کسی کی صحت کا مذاق اڑانا بری بات ہے مگر اگر کوئی صحت یاب ہو چکا ہو اور صحت کا بہانہ بنا کر عدالتوں سے بھاگ رہا ہو تو شاید یہ بھی بری بات ہے۔

Categories
آرٹیکلز

اب انکی حکومت آگئی ہے اور مجھے یقین ہے کہ ۔۔۔۔۔ شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے والے ڈاکٹر رضوان نے انتقال سے 2 روز قبل اوریا مقبول جان کو کیا کہا تھا ؟ جان کر آپ کو حیرانگی ہو گی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آج جس شخص ڈاکٹر رضوان کا نوحہ لکھ رہا ہوں وہ اس خوف کی وجہ سے اس دُنیا سے چلا گیا، جو گذشتہ تیس سالوں سے پاکستان میں کام کرنے والے ہر ایماندار اور فرض شناس آفیسر کے سروں پر مسلسل طاری ہے۔

اس خوف کو ایجاد کرنے کا سہرا نواز شریف کے سر جاتا ہے جس نے سب سے پہلے سیف الرحمان کے تحت احتساب بیورو بنایا اور آصف زرداری اور بے نظیر کے خلاف تفتیش کا آغاز کیا۔ اس تفتیش کا ایک کردار سول سروس کا اہم آفیسر مرحوم حسن وسیم افضل تھا، جس نے سوئٹزر لینڈ جا کر تمام حقائق اکٹھے کئے۔ زرداری حکومت نے اسے جس طرح نشانِ عبرت بنایا وہ ایک تاریخ ہے۔ حسن ایک مضبوط اعصاب کا آدمی تھا، سب کچھ سہہ گیا۔ لیکن نواز شریف نے اس شخص کی ساری محنت کو مفادات کی میز پر قربان کرتے ہوئے ’’میثاقِ جمہوریت‘‘ پر دستخط کرتے ہوئے بیچ دیا۔ بے شمار ایسے افسران تھے جو ’’ایماندارانہ احتساب‘‘ کے چکر میں مشرف دَور میں رُسوائی کی علامت بنائے گئے، پوسٹنگ اور پرموشن سے محروم کئے گئے۔ کئی ایسے تھے جو دلبرداشتہ ہو کر پہلے نوکری اور پھر ملک ہی چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ڈاکٹر رضوان کی موت بھی ایک ایسے مسلسل خوف کے عالم کی موت ہے۔ ایک ایماندار آفیسر کے دل میں بہت سے خوف ہوتے ہیں۔ اسے اگر کسی جھوٹے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا، عدالتوں میں گھسیٹا گیا تو کون یقین کرے گا کہ وہ بے گناہ ہے۔ اگر وہ باعزت بری بھی ہو گیا تو اس کے چہرے پر ملی ہوئی کالک کون دھوئے گا۔ وہ اپنی اولاد کا سامنا کیسے کرے گا، جسے وہ رزق ِ حلال کی صعوبتوں میں پالتا رہا ہے۔ میری آنکھوں کے سامنے آج بھی بریگیڈیئر اسد منیر کا معصوم چہرہ گھومتا ہے جس کے خلاف نیب نے تحقیقات کا آغاز کیا

تو اس نے چودہ مارچ 2019ء کو چیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام ایک خط تحریر کیا کہ وہ بے قصور ہے، لیکن ایسی بدنامی برداشت نہیں کر سکتا اور پھر اس نے موت کو سینے سے لگا لیا اپنی موت کے دو سال بعد مارچ 2022ء میں اسے باعزت طور پر بری کرتے ہوئے تمام الزامات کو جھوٹ قرار دے دیا۔ لیکن اس شخص کی قبر ہمارے بدترین نظامِ حکومت اور مفلوج نظامِ عدل کا منہ چڑا رہی ہے۔ ڈاکٹر رضوان نے جن دو باپ بیٹوں کے بارے میں منی لانڈرنگ کی تفتیش مکمل کی ہے، ان میں سے باپ کی وزارتِ اعلیٰ کے دوران مَیں نے بحیثیت ِصوبائی سیکرٹری سات سال کام کیا ہے۔ ڈاکٹر رضوان بھی ان دنوں کا ہمارا ساتھی تھا۔ ایک مرنجاں مرنج، ایماندار، محنتی اور فرض شناس آفیسر۔ ہمیں معلوم تھا کہ کیسے وزیر اعلیٰ ہائوس سے آفیسران کو علیحدہ علیحدہ بلا کر کبھی خوفزدہ کیا جاتا تھا اور میٹنگوں میں بھی سب کے سامنے ذلیل و رُسوا کیا جاتا تھا۔ ڈاکٹر رضوان کی شو مئی قسمت کہ اسے انہی باپ بیٹوں کی منی لانڈرنگ کا کیس تفتیش کیلئے ملا۔ اسے عدالت میں بیٹے نے وارننگ دی، پارٹی کے دو وکیل رہنمائوں نے پریس کانفرنس کر کے کہا کہ ہم تمہیں عبرت کا نشان بنا دیں گے۔ وہ حکومت کے آتے ہی طویل رُخصت پر چلا گیا کہ بوجھ کم ہو۔ لیکن ایسے شریف النفس اور ایماندار آدمی کے دل کا خوف کبھی نہیں جاتا۔ وہ معمولی سی بدنامی کو بھی اپنے لئے ہتک سمجھتا ہے۔ موت سے دو دن پہلے بات ہوئی، سخت پریشان تھا۔ کہنے لگا مقدمے کا چالان میں نے بنایا تھا۔ میری گواہی بہت اہم ہے۔ لیکن مجھے کون گواہی دینے کے قابل چھوڑے گا۔ وہ اس دُنیا سے چلا گیا۔ اس دن کی گواہی کے لئے کہ جس دن کے بارے میں اللہ فرماتا ہے۔ ’’ہم آج کے دن ان کے منہ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پائوں گواہیاں دیں گے‘‘۔ (یٰسین: 65) اگر اس دُنیا میں مکمل انصاف ہونا ہوتا، تو اللہ کبھی روزِ جزا نہ رکھتا۔

Categories
آرٹیکلز

وہ عمران خان اور تھا یہ عمران خان کوئی اور ہے ۔۔۔۔۔!!! عمران خان کے دور میں اعلیٰ سرکاری افسران ایک دوسرے کو کیا کہا کرتے ؟ گھر کے بھیدی نے کئی انکشافات کر ڈالے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اور سابق اعلیٰ پولیس افسر ذوالفقاراحمد چیمہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔پورے پاکستان کی پولیس کو غیر سیاسی بنانے کے دعوے کرنے والے عمران خان نے نیب، ایف آئی اے اور انسداد بدعنوانی کے سربراہوں کو بلا کر اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف(سچے یا جھوٹے) مقدمے بنانے اور انھیں گرفتار کرنے

کی ہدایات دینی شروع کردیں، بہت سے افسران جو میرے ساتھ رہ چکے تھے جب ایسی باتیں بتاتے تو دل دُکھتا تھا، وہ سول سرونٹس جن کا پی ایم آفس کے ساتھ زیادہ رابطہ رہتا اور جو وزیرِاعظم کی میٹنگوں میں بھی شریک ہوتے تھے۔صاف لفظوں میں کہنے لگے کہ’’ ماضی میں دل خوش کن تقریریں کرنے والا اور قانون کی حکمرانی کی باتیں کرنے والا عمران خان کوئی اور تھا، اب جو وزیراعظم بنا ہے یہ عمران خان بالکل مختلف ہے جوعہدہ قائم رکھنے کے لیے ہر حربہ جائز سمجھتا ہے، اور مخالفین کو دبانے کے لیے سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کرنا چاہتا ہے۔‘‘ غیر جانبداری، میرٹ اور قانون کی حکمرانی کے الفاظ چار سال تک کپتان کے منہ سے نہ نکل سکے، ان کی حکومت نے عوام کو بدترین گورننس کا تحفہ دیا جس میں ہر محکمہ بدعنوانی کا گڑھ بن گیا۔عمران خان صاحب کی اصل سوچ کھل کر سامنے آگئی تو ملک کو ترجیح اَوّل سمجھنے والے بے شمار لوگوں کی طرح میں بھی اُن سے بدظن ہوگیا۔ پونے چار سال خلوص نیت سے کیا گیا کوئی ایک بھی ایسا عمل نظر نہ آیا جس سے بدظنی کی کیفیت کم ہوتی اور کپتان صاحب کے بارے میں حُسنِ ظن پیدا ہوتا۔ بلکہ تواتر کے ساتھ ایسے حقائق سامنے آتے رہے جن سے مایوسی اور بدظنی کا تاثر مستحکم ہوتا گیا۔انھوں نے مذہبی اصطلاحات کا بے دریغ استعمال کیا مگر اہم ترین وزارتیں نااہل اور اناڑی افراد کے سپرد کردیں، فنڈریزنگ کے لیے بھارت سے ایکٹر یسوں کو بلاتے رہے

۔ ربِّ کائنات نے فرمایا کہ ’’ کوئی بات سنو تو بغیر تصدیق کے دوسروں تک نہ پہنچاؤ‘‘۔ کسی ثبوت کے بغیر عمران خان صاحب نے جلسوں میں اپنے مخالفین پر (جانتے ہوئے کہ وہ غلط ہیں)چوری کے بے بنیاد الزام لگائے اور پھر انھیں دھراتے رہے۔تین سو ارب کی چوری کا ذکراس قدر تواتر کے ساتھ کیاکہ معصوم نوجوان واقعی یہ سمجھنے لگے کہ وزیراعظم بن کر میاں نوازشریف نوٹوں سے بھرے ہوئے خزانے کا دروازہ کھول کر وہاں سے تین سو ارب روپے بوریوں میں بھر کر ٹرکوں کے ذریعے ملک سے باہر لے گئے ہیں۔خزانے سے کسی قسم کی چوری کا کوئی وجود نہیں تھا مگر عمران خان نے پورے اعتماد کے ساتھ مسلسل جھوٹ بول کر نوجوانوں اور اوورسیز پاکستانیوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھادی کہ اپوزیشن کے قائدین چور ہیں۔ مہذب ملکوں میں اعلانیہ دروغ گوئی پر صدر اور وزرائے اعظم اپنے عہدوں سے محروم ہوجاتے ہیں، مگر کپتان صاحب نے دروغ گوئی کو اپنی فطرتِ ثانیہ بنا لیا،کپتان کی شخصیت کے اس پہلو نے اُن سے مزید بدظن کیا۔خالقِ کائنات نے قرآن میں حکم دیا ہے کہا ’کسی کو برے القاب سے مت پکارو‘ مگر کپتان صاحب جلسوں میں اس قرآنی حکم کی خلاف ورزی کرتے رہے اور جب انھوں نے لندن میئر کے الیکشن میں ایک مسلمان اور پاکستانی صادق محمد کے مقابلے میں پاکستان کے خلاف تقریریں کرنے والے یہودی کو سپورٹ کیا اور اس کے بعد ایک دو چیز اور ہوئیں تو راقم نے فیصلہ کر لیا کہ اب ایک مخلص پاکستانی کی حیثیّت سے یہ فرض بن جاتا ہے کہ عمران خان کے اصل عزائم کو بے نقاب کیا جائے۔

حق گوئی، برداشت، مالی اور اخلاقی دیانتداری، خوش اخلاقی، فراخدلی، وقار، ایثار اور وسیع الظرفی ایک اچھے لیڈر کے لازمی اوصاف سمجھے جاتے ہیں، کپتان کوقریب سے جاننے والے تصدیق کرتے ہیں کہ ان میں سے کسی خوبی کی جھلک کپتان صاحب میں نظر نہیں آتی، اس نے بداخلاقی اور بدتہذیبی کے انجکشن لگا کر معاشرے کو تباہ کردیا ہے۔بدعنوانی کا خاتمہ کپتان صاحب کا سب سے بڑا نعرہ تھا، مگر احتساب کی تلوار نکلی تو وہ انتقام کے زہر میں بجھی ہوئی تھی جس سے تمام بڑے سیاسی مخالفین کے سر قلم کرنے کی کوشش کی گئی۔بدعنوانی میں ملوث ہونے پر اپنے قریبی ساتھیوں کو جس طرح عمران خان نے تحفظ دیا اور ان کی سرپرستی کی، آج تک کوئی وزیرِاعظم نہیں کرسکا۔ فرح گوگی اور بُزدار کی لوٹ مار سے نہ صرف چشم پوشی کی بلکہ اس کی حوصلہ افزائی فرمائی۔بی آرٹی ہو، مالم جبہ ہو یا فارن فنڈنگ کیس، جب بھی احتساب کے ہاتھ اپنے گریبان تک پہنچے توکپتان صاحب نے عُذر ڈھونڈے،حیلے تلاش کیے، تلاشی سے انکار کیا اور امتناعی احکام اور تاخیری حربوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی۔ وزیروں اور مشیروں کے اربوں کے اسکینڈل نکلے مگر کسی ایک کو بھی قانون کے حوالے نہ کیا اور نہ ہونے دیا۔اس سے کپتان کا مسٹرکلین ہونے کا امیج بری طرح مسخ ہوگیا، ہم اچھی طرح سمجھ گئے کہ اگر انھیں بدعنوانی سے نفرت ہوتی تو مشکوک افراد کے بجائے حامد خان، جسٹس وجیہہ الدین اور اکبر ایس بابر جیسے صاف ستھرے اور باکردار لوگ ان کی کچن کیبنٹ کا حصہ ہوتے۔ لیڈر اپنے قریب ترین دوستوں سے پہچانا جاتا ہے،

اسی سے اس کی پسندوناپسند کا اندازہ ہوتا ہے، کپتان کے قریب ترین دوستوں کو دیکھ کر بھی کچھ سمجھدار حمایتی پیچھے ہٹ گئے۔اگر کسی شخص کی محبت اور عقیدت آپ کو اندھا اور بہرا کردے، اس کی ہر بات آپ کے لیے حرفِ آخر ہو، اس کے قول اور فعل میں آپ کو کوئی خامی نظر نہ آئے تو ایسی شحصیّت پرستی، انتشار اور انارکی کو جنم دیتی ہے۔عمران خان کے پیروکار بدقسمتی سے اب اسی طرز کی شخصیت پرستی یاCult کا شکار ہو چکے ہیں، یہ وہ فصل ہے جس کی نشوونما، بدزبانی، دشنام اور الزام کے پانی اور نفرت کی کھاد سے کی گئی ہے۔ کانٹوں کی یہ فصل قوم کو زخم تو لگاسکتی ہے، جسدِملت پر لگے ہوئے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتی، کپتان نے اس گروہ کو ایک destructive force بنادیا ہے جو قوم کو فاش ازم کی دلدل میں اُتار سکتاہے، انار کی کے اندھیروں کے سپرد کر سکتا ہے مگر ملک کی تعمیروترقی اور امن اور خوشحالی میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کرسکتا۔ اسی لیے ملک کا درد رکھنے والے دانشور اب اسے فتنے کا نام دے رہے ہیں۔اسپورٹس مین اسپرٹ کا وصف کھلاڑیوں سے منسوب کیا جاتا ہے حالانکہ ان کی اکثریت اس خوبی سے محروم ہوتی ہے۔ لگتا ہے کپتان صاحب بھی اسی اکثریت کا جزو ہے ، ان کی نشوونما گراؤنڈوں اور گلیمر کی دنیا میں ہوئی ہے اس لیے انھوں نے نہ آئین کا احترام کرنا سیکھا ہے نہ آئینی اداروں کا!۔ عدالت نے حق میں فیصلہ نہ دیا تو عدلیہ پر کیچڑ اچھالنا شروع کردیا، اپنے ہی نامزد کردہ الیکشن کمشنر نے خواہش کی تکمیل نہ کی تو اسے مخالفین کا پٹھو قرار دے دیا۔اقتدار کے آخری مہینے میں تو انھوں نے اپنے بے وقار اور disgraceful طرزِعمل سے اپنے پڑھے لکھے سپورٹرز کو بھی حیران کر دیا۔ خیال تھا کہ جب اتحادی انھیں چھوڑ گئے اور وہ اکثریت سے محروم ہوگئے، تو باوقار طریقے سے مستعفیٰ ہوجائیں گے۔ یورپ(جس کی وہ جا وبے جا مثالیں دیتے رہتے ہیں) میں سیکڑوں مرتبہ وزرائے اعظم مستعفی ہوئے ہیں۔ مگر عمران خان صاحب تو اکثریت کھونے کے باوجود کرسی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے، اس کے لیے وہ خود بھی آئین کو پامال کرتے رہے اور اپنے آئینی عہدیداروں سے بھی آئین شکنی کراتے رہے۔حبِ جاہ ایسی غالب آئی کہ وہ اقتدار کی کرسی سے چمٹ ہی گئے، بڑی مشکل سے انھیں گھسیٹ کر کرسی سے علیحدہ کیا گیا۔ کپتان صاحب نے اپنے اور دوسروں کے درمیان نفرت کی اینٹوں سے دیوار چُن دی ہے۔ کیا ملک و قوم کا درد رکھنے والے کچھ لوگ اس دیوار کو مسمار کرنے کے لیے آگے آئیں گے؟ ملک کی’’ آزادی‘‘ اور ’’سازش‘‘ پر اگلی نشست میں بات ہوگی۔

Categories
آرٹیکلز

پاکستان میں صدر کو اگر کمزور رکھا جائے تو یہ کلرک بن جاتا ہے اور اگر اسے مضبوط کیا جائے تو یہ آمر بن جاتا ہے، اس مسئلے کا حل کیا ہے ؟ سینئیر صحافی کی زبردست تجاویز

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔باتیں تو بڑی بڑی ہوتی ہیں کہ صدر وفاق کی علامت ہے اور گورنر وفاق کے نمائندے، یہ نہ کسی کو جوابدہ ہیں اور نہ ہی انہیں عدالتیں براہ راست کوئی حکم دے سکتی ہیں اورمیرا سوال ہے کہ کیوں، کیا یہ پاکستان کے شہری

اور سیاستدان نہیں، کیا یہ آئین کے تابع نہیں اور ہمارے ٹیکسوں سے بھاری تنخواہیں، مراعات اور پروٹوکول نہیں لیتے۔ یہ بات نہیں کہ عمر سرفراز چیمہ کی ملکی آئین اور صوبے کی انتظامیہ کے ساتھ دھینگا مشتی دیکھ کر میرے ذہن میں یہ سوال آیا ہو بلکہ ایسی باتیں تو خود گفتار کے غازی عمران خان کرتے رہے، گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیاں بنانے کے وعدے کرتے رہے۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ معزز و محترم صدر مملکت ہوں یا صوبوں کے گورنرز ان کی تین ہی مصروفیات ہیں، اول یہ سوتے ہیں، دوم یہ اوتھ کمشنر کے طور پر کام کرتے ہیں اور سوم سازشیں کرتے ہیں۔ تیسرا کام یہ اس وقت کرتے ہیں جب انہوں نے عدم استحکام پھیلانا ہو، صوبے کے مینڈیٹ کے ساتھ کھلواڑ کرنا ہو۔صدرا ور گورنر قوم کو ہر برس مجموعی طور پر کئی ارب روپوں میں پڑتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ صدر وفاق کی علامت ہوتا ہے، بصدا حترام کہنے دیجئے کہ ہم صدر وہ لاتے ہیں جو قوم کے بجائے کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں بلکہ غلامی کرتا ہے، اپنے لیڈر کے احکامات کو آئین سے بھی بالاتر سمجھتا ہے اور اگر کسی کو یقین نہ ہو تو عارف علوی صاحب کا اب تک کا کردار دیکھ لے۔ آپ نے صدر مملکت کے بجائے عمران خان صاحب کے پرسنل اسسٹنٹ یا کلرک کے طور پر ہی کردارادا کیا ہے۔ آپ کا غیر آئینی کردار قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے ساتھ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں بھی محفوظ ہو گیا ہے۔

بات صرف عارف علوی کی ہی کیوں کی جائے کیا میاں نواز شریف نے اس شخصیت کو صدر نہیں بنایا جو کراچی کے قید خانے میں ان کے لئے دہی بھلے لایا کرتے تھے اور بات اگر وفاق کی علامت ہونے کی ہے تو پھر آپ تمام دندان سازوں کو وفاق کی علامت قرار دے دیں، یہ اعزاز کراچی کے ایک دندان ساز کے پاس کیوں رہے۔ صدر کے عہدے کا مخمصہ یہ ہے کہ اگر اسے کمزور رکھا جائے تو یہ کلرک بن جاتا ہے اور اگر اسے مضبوط کیا جائے تو یہ آمر بن جاتا ہے تو ایسے عہدے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ہم نے یہ عہدہ برطانوی پارلیمانی نظام سے لیا ہے مگر برطانیہ کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے بادشاہ ( یا اب ریکارڈ بوڑھی ہوجانے والی ملکہ) کے کردار کو تحفظ دینا تھا تو ہمارے پاس کون سی اکبر بادشاہ کی اولاد چلی آ رہی ہے کہ ہم اس کے لئے یہ عہدے اور ایوان تخلیق کرتے رہیں، الا ماشااللہ ہمارے صدور کی قابلیتیں کیا رہی ہیں وہ بھی آپ کے سامنے ہیں۔موجودہ صورتحال کا جائزہ لیجئے، یہ بات طے شدہ ہے کہ صدر کو وزیراعظم کی سمری پر عمل کرنا ہو تا ہے، وہ پہلے پندرہ دن اور پھر دس دن تک سمری کو روک سکتا ہے مگراس کے بعد اس کا اختیار ختم ہوجاتا ہے۔ جب فیصلہ ہی وزیراعظم کا چلنا ہے تو پھر سوال ہے کہ اس میں صدر کے دفتر کی کیا ضرورت ہے۔ خوا مخواہ کے ہیر پھیر ہیں جن کا حاصل حصول بھی کچھ نہیں ہے۔

مجھے تو یہ لگتا ہے کہ ہم نے یہ عہدہ اصل میں فوجی آمروں کے لئے رکھا ہوا ہے جیسے صدر ایوب، صدر ضیا اور صدر مشرف۔ اب فوج کہہ رہی ہے کہ اس نے نہ تو مداخلت کرنی ہے اور نہ ہی مارشل لا لگانا ہے تو پھر اس عہدے کا ویسے ہی کوئی استعمال نہیں رہ جاتا، اسے ختم کرکے بڑی بچت کرنی چاہئے اوراس کے ساتھ ساتھ گورنروں اور ان کے قلعوں کو بھی ختم کرنا چاہئے۔ سب سے بڑ ی دلیل یہ ہے کہ گورنر صوبے میں وفاق کا نمائند ہ ہوتا ہے اور عملی صورتحال یہ ہے کہ اگر وفاق میں صوبے سے ہٹ کے دوسری پارٹی کی حکومت ہو تو وہ اپنے گورنر کو صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کی نفی کے لئے استعمال کرتی ہے جیسے سلمان تاثیر مرحوم کردارادا کرتے رہے اور جیسے اب عمر سرفراز چیمہ نے وزیراعلیٰ اور کابینہ کی تشکیل میں بھرپور طریقے سے روڑے اٹکائے۔دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ اتنے بڑے گورنر ہاؤس میں ویہلے بیٹھے ہوئے گورنر صاحب کا دل بھی کرتا ہے کہ وہ بھی کوئی اختیار شختیار استعمال کریں، کوئی دبکا شبکا لگائیں۔ مجھے یاد ہے کہ میاں اظہر گورنر پنجاب ہوا کرتے تھے اور انہوں نے امن و امان کے قیام کے حوالے سے اس علاقے میں ایک پولیس ایکشن کروا دیا تھا جہاں انہوں نے اپنا فارم ہاؤس بنایا تھا۔اس پر غلام حیدر وائیں جیسے مرنجان مرنج وزیراعلیٰ کے ساتھ ان کا پھڈا پڑ گیا تھا اور اب ہمارے چوہدری محمد سرور صاحب، ان کے ہاتھ میں نون لیگ کے دور میں بھی خارش ہوتی رہی

اور پی ٹی آئی کے دور میں بھی۔ سچ تو یہ ہے کہ جس انسان نے خوش نہ رہنا ہو وہ گورنر بن کے بھی نہیں رہتا۔ارے ہاں، گورنروں کا ایک بہت ہی اہم کام ہوتا ہے کہ وہ صوبے بھر کی یونیورسٹیوں کے چانسلر ہوتے ہیں اور اس پر مجھے کہنا ہے کہ آپ اپنی تعلیم پر رحم کریں۔ اگر کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر لگانا ہو تو آپ بہت ہی زیادہ پڑھا لکھا بندہ ڈھونڈتے ہیں اور جب ڈھیر ساری یونیورسٹیوں کے چانسلر کی بات ہو تو ایسے لوگ بھی سالہا سال تک سربراہ رہتے ہیں جن کی تعلیم کے بارے وکی پیڈیا تک پر کچھ نہیں ہوتا، جی ہاں، تکلف برطرف میں سندھ کے سابق گورنر عمران اسماعیل ہی کی بات کر رہا ہوں۔وہ گانے بجانے کے شوقین آدمی ہیں اور انہیں گورنر کے طور پر سندھ جیسے باشعور صوبے کی تمام جامعات کا چانسلر لگایا ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایف اے ہیں مگر یہ کوئی نہیں بتاتا کہ وہ ایف اے پاس ہیں یا فیل۔ وہ ایسے شہزادے ہیں انہیں یونیورسٹی کے پورے سپیلنگ بھی نہیں آتے تھے لہٰذا جس بھی ماجھے گامے کو گورنر بنائیں کم از کم اسے تعلیم کے ماتھے کی کالک نہ بنائیں۔ یونیورسٹیوں کی حکومتی شعبے میں سربراہی کے لئے دوسرا نظام ہونا چاہئے۔ اسی طرح گورنر کا کام ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کرتا ہے جبکہ حقیقت میں وہ اجلاس بھی حکومت طلب کرتی ہے گورنر اس پر محض انگوٹھا لگاتا ہے ۔گورنر کا معاملہ یہ ہے کہ وہ براہ راست منتخب شخص بھی نہیں ہوتا کہ اس کی جمہوریت کے نام پر عزت کی جائے، وہ کیا ہوتا ہے اور کیا کرتا ہے، اس بارے سب کو علم ہے کہ بس موج کرتا ہے اور مستی کرتا ہے اور ہم کچھ لوگوں کے کچھ نہ کرنے پر سال بھر کے اربوں روپے خرچ کر دیتے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے گورنر نے سرکاری خرچ پر تین مالشئیے بھی گورنر ہاؤس میں بھرتی کر لئے تھے کیونکہ وہ کچھ نہ کرتے ہوئے اتنے تھک جاتے تھے کہ انہیں مالش کی ضرورت پڑجاتی تھی۔زندہ قومیں تجربات سے سیکھتی ہیں، مفید چیزوں کو چمکاتی اور لشکاتی ہیں اور کچرے سے جان چھڑواتی ہیں، ارے بھائی، سسٹم کو آسان کرو، حقیقی کرو، ان تمام جونکوں سے جان چھڑواؤ جو نہ خود کچھ کرتی ہیںا ور نہ دوسروں کو کرنے دیتی ہیں۔ اسلام آباد کے ایوان صدر میں بھی یونیورسٹی بناؤ یا غیر ملکی مہمانوں کے لئے ریسٹ ہاؤس اور اسی طرح لاہور کے گورنر ہاؤس کو بھی کسی منطقی اورمفید استعمال میں لے کر آؤ۔ مرکزی بلڈنگ کو سلامت رکھو اور بڑے بڑے لانوں کے ساتھ کلاس رومز بنا کے وہاں یونیورسٹی بنا دو۔

Categories
آرٹیکلز

پاکستانی معاشرے میں بڑھاپے کی چند بڑی علامات کیا ہیں ؟ ایک دلچسپ مزاحیہ اور معلوماتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔دوستو،جب صرف پی ٹی وی تھا، تب بھی ہمارے علاوہ پوری دنیا کو معلوم تھا کہ ہمارے ہاں کیا ہورہا ہے۔ ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ بوڑھے افراد نوجوانوں کے مقابلے میں جھوٹی خبروں پر زیادہ یقین کرتے

ہیں۔(اسی لئے ہمیں اپنا بچپن یاد ہے کہ ہمارے بزرگ کیوں ہمیشہ بی بی سی کی خبروں پر یقین کرجاتے تھے، کیوں کہ وہ بزرگ ہوتے تھے، سائنس نے آج ثابت کردیا)۔محققین نے بتایا کہ جھوٹی خبروں کا شکار ہونے کے جسمانی، جذباتی اور مالی نتائج بھی ہوتے ہیں خاص طور پر ان عمر رسیدہ افراد کے لیے جن کے پاس زندگی بھر کی جمع پونجی ہو اور انہیں سنگین طبی مسائل کا سامنا ہو۔یونیورسٹی آف فلوریڈا میں پوسٹ ڈاکٹریٹ نفسیاتی ماہر اور تحقیق کے سرکردہ مصنف، ڈیڈم پیلیوینگلو نے کہا کہ تحقیق کا مقصد سچی اور جھوٹی خبروں کا تعین کرنے میں عمر کے فرق کا پتہ لگانا تھا۔انہوں نے یونیورسٹی کی نیوز ریلیز میں کہا کہ ہم خاص طور پر یہ اس لیے جاننا چاہتے تھے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ زیادہ تر لوگ اپنی علمی صلاحیتوں میں کچھ کمی کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ محصول معلومات پر کارروائی کرنے کی دماغی صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔مذکورہ بالا مطالعہ Experimental Psychology جرنل میں شائع ہوا ہے اور تحقیق مئی اور اکتوبر 2020 کے درمیان کی گئی تھی۔دوستو،بڑھاپا ویسے تو ایک زحمت ہی ہے، بندہ کسی کام کا نہیں رہتا، لیکن لگتا ہے امریکا میں بوڑھا ہونے کا مطلب ’’لکی‘‘ ہونا ہے۔۔اگر آپ بوڑھے ہیں اور امریکی ہیں تو پھر سمجھ جائیں کہ۔۔ بوڑھے تو کام کے ہوتے ہیں۔۔امریکا وقت کی سپر پاور ہے۔وہ دنیا پر حکومت کررہے ہیں۔ان کے سکے کی قدر ہماری معیشت کے اتار چڑھاؤ کو زیروزبر کردیتی ہے۔جو دنیا کی تہذیب بدل رہے ہیں۔

گلوبل ورلڈ کے خوابوں میں رنگ بھر رہے ہیں،لیکن بوڑھوں کی قدرکررہے ہیں۔۔ستتر سالہ جو بائیڈن خوش قسمتی سے وہ ایسے ملک میں رہتا ہے جہاں سماج بوڑھا ہونے نہیں دیتا۔۔جوبائیڈن اگر ہمارے معاشرے میں رہ رہا ہوتا تو کبھی صدارت کے الیکشن کا سوچتا بھی نہیں۔۔بچے اسے سمجھاتے، بابا جانی، آپ کے پہلے جوڑوں کا درد ہے،کن چکروں میں پڑرہے ہیں، گھر میں رہیں، ٹی وی دیکھیں، اخبار پڑھیں۔۔دوائیاں وقت پر کھالیا کریں۔۔ اور ہاں اگلے ہفتے ڈاکٹر کے پاس جاناہے، آپ کے ماہانہ چیک اپ ہے۔۔۔ہم بوڑھوں سے زیادہ ان کے سرہانے رکھی ادویات کا زیادہ خیال رکھتے ہیں کہ ان میں کوئی کمی نہ آجائے۔۔اور یہاں ریٹائرڈ بندہ خود کو دھرتی پہ بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔۔آپ خود سوچیں، امریکا میں صدارت بوڑھے کو مل گئی اور یہاں ہم اپنے خاندان کی چھوٹی سی ریاست میں بزرگوں کو ’’گھس بیٹھیا‘‘اور ان کی رائے کوکنٹرول لائن کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔۔ایک اور تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دفاتر کی آلودہ اور غیرمعیاری فضا سے وہاں کام کرنے والے افراد کی دماغی صلاحیت پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں اور ان کی دماغی اور ذہنی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ان میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پی ایم 2.5 کی غیرمعمولی بڑھی ہوئی مقدار ذہانت اور دماغی ٹیسٹ میں ان کی درستی کو متاثر کرتی ہے اور اس کا اثر دفاتر کی کارکردگی پر بھی ہوتا ہے۔ ہمارے پیارے دوست علیل جبران بڑھاپے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ۔۔بڑھاپا پوچھ کر نہیں آیا اور نہ ہی دھکے دینے سے جاتا ہے۔ہمارے یہاں یہ مرض اور

مغرب میں اسے زندگی انجوائے کرنے کا اصل وقت سمجھا جاتا ہے۔۔بڑھاپے میں دانت جانے اور دانائی آنے لگتی ہے۔اولاد اور اعضا جواب دینے لگتے ہیں۔بیوی اور یادداشت کا ساتھ کم ہونے لگتا ہے۔ بڑھاپے کی پہلی نشانی یہ ہوتی ہے کہ حسین لڑکیاں ،انکل کہہ کر پکارنے لگتی ہیں۔ انسان دو چیزیں مشکل سے قبول کرتا ہے، اپنا جرم اور بڑھاپا۔ جوانی صرف اپنے لئے ہوتی ہے اور بڑھاپا ڈاکٹروں کیلئے۔ جب بار بار اللہ، ڈاکٹر اور بیوی یاد آنے لیں تو سمجھ لیں آپ بوڑھے ہوچکے ہیں۔ بڑھاپے کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے کہ آپ بے ضرر ہوچکے ہیں اپنے سوا کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا ۔۔یہ تو آپ نے سیکڑوں بار سنا ہوگا، لیکن بوڑھا ہونا اور بوڑھا دکھائی دینا دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ ہر بوڑھے میں ایک بچہ چھپاہوتا ہے اور ہر بچے میں ایک بوڑھا چھپا ہوتا ہے بشرطیکہ وہ لمبی عمر پائے۔۔ بوڑھا ہونا آسان کام نہیں، اس کے لئے برسوں ریاضت ہوتی ہے۔بڑھاپے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ بسوں میں بوڑھے کو دیکھ کر سب سیٹ چھوڑ دیتے ہیں ، سوائے سیاست دان کے۔۔ اچھا خاندان اور اچھی حکومت ہمیشہ اپنے بوڑھوں کا خیال رکھتی ہے۔ بوڑھوں کو بندی اورخاندانی منصوبہ بندی دونوں کی ضرورت نہیں ہوتی،مگر نیت اور نظر پھر بھی خراب رہتی ہے۔دنیا میں سب سے آسان کام نانا،نانی، دادا ، دادی بننا ہے، کیوں کہ اس میں آپ کی کوئی کوشش نہیں ہوتی،جو کچھ کرنا ہو، آپ کے بچوں کو کرنا پڑتا ہے۔انسان کو دوبار رشتوں کی اصلیت کا پتہ چلتا ہے، بیوی آنے کے بعد یا پھر بڑھاپاآنے کے بعد۔۔بچپن میں ٹیسٹ دیا کرتے تھے یا ٹیسٹ دیکھا کرتے تھے ،بڑھاپے میں ڈاکٹر ٹیسٹ لکھ کر دیتا ہے۔امریکی سیانوں کا خیال ہے کہ بوڑھے کا شادی کرنا ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی ان پڑھ اخبار خریدنا شروع کردے۔۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔محترم واصف علی واصف فرماتے ہیں۔۔جوانسان حال پر مطمئن نہیں، وہ مستقبل پر بھی نہ ہوگا۔ اطمینان حالات کا نام نہیں، یہ روح کی ایک حالت ہے۔مطمئن آدمی نہ شکایت کرتا ہے نہ تقاضا۔۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Categories
آرٹیکلز

ایسا لگ رہا ہے کہ عمران خان امریکہ کی خواہش پر امریکہ کے خلاف بول رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ توفیق بٹ کی باتیں آپ کو حیران کر ڈالیں گی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اب جو لوگ خان صاحب کی اندھی تقلید کررہے ہیں اُن بے چاروں کا اصل مسئلہ ہی یہی ہے وہ خان صاحب کو قریب اور اندر سے نہیں جانتے، دُور کے ڈھول ہمیشہ سہانے ہوتے ہیں، سو میرے نزدیک خان صاحب بھی

دُور کے ایک ایسے ڈھول ہیں جو بے شمارلوگوں خصوصاً اوورسیز پاکستانیوں کو ابھی تک بڑے سہانے لگ رہے ہیں، یہ الگ بات ہے مستقبل قریب میں جو انکشافات خان صاحب کے بارے میں ہونے والے ہیں ممکن ہے اُس کے بعد بے شمارلوگوں کو میری طرح خان صاحب سے نہیں خود سے گھِن آنے لگے کہ کیسے شخص کی اندھی تقلید وہ کرتے رہے ؟۔ آج کل امریکہ کے بارے میں وہ مسلسل بدزبانی کررہے ہیں، امریکی مراسلے کی ہوا کچھ خارج ہوچکی ہے، کچھ آگے چل کر مزید خارج ہوجائے گی، خان صاحب کا اصل مسئلہ یہ ہے وہ امریکہ کو صرف اِس لیے پاکستان کا دشمن سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر نے اُنہیں کال نہیں کی، بس اِسی روگ کو وہ دِل پر لگاکر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اُن کی جھوٹی اور چھوٹی اناتڑپ اور مچل رہی ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن ہوتا کون ہے مجھے فون نہ کرنے والا ؟… دوسری طرف ایک خاص پس منظر میں یہ تاثر بھی قائم ہوتا جارہا ہے کہ جنونی انداز میں امریکہ کے خلاف بات وہ کہیں امریکہ کی مرضی سے تو نہیں کررہے؟۔میں تو ہرگز اِس پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں مگر لوگوں کے منہ اور زبانیں بظاہر ہے اُسی طرح بند نہیں کئے جاسکتے جس طرح خان صاحب کا منہ یا زبان بند نہیں کئے جاسکتے …جہاں تک جہانگیر ترین اورعلیم خان کا تعلق ہے، میں اِس پہ زیادہ تفصیل سے بات نہیں کروں گا۔ جہانگیر ترین کے کچھ کیسز عدالت میں ہیں، اور علیم خان نے اگلے روز خان صاحب کی طرف

سے خود پر لگنے والے الزام کی بھرپور انداز میں ایسی وضاحت کردی ہے مجھے یقین ہے کم ازکم کل رات عمران خان ایک پل کے لیے بھی چین سے نہیں سوئے ہوں گے۔ اِس خدشے سے کہ علیم خان نے اپنی اخلاقیات سے مجبور ہوکر اُن کے بارے میں جوانکشافات ابھی تک شواہد کے ساتھ نہیں کئے وہ کہیں اب کرنہ دیں۔ جتنا علیم خان کو میں جانتا ہوں، وہ کبھی اُس حدتک نہیں جائیں گے جس سے عمران خان اور اُن کے درمیان فرق مِٹ جائے۔ عمران خان ایک انتہائی بے دید، بدلحاظ، بے مروت اور طوطا چشم انسان ہیں، علیم خان ایک حیادار انسان ہیں، پرانے تعلق کا لحاظ رکھنے کی ہرممکن حدتک کوشش وہ کرتے ہیں،یہ کوشش عمران خان کے حوالے سے بھی وہ مسلسل کررہے ہیں، سو سابق وزیراعظم خان صاحب سے میری عاجزانہ گزارش ہے جتنی ناانصافیاں علیم خان وجہانگیر ترین کے ساتھ اُنہوں نے اپنی محسن کش فطرت کے مطابق کرنی تھیں وہ کرچکے، اُن کے لیے بہتر اب یہی ہے اُن دونوں کے حوالے سے اپنی زبان پر وہ اب قابو پالیں۔ کچھ ’’پانڈے‘‘ علیم خان نے اپنی فطرت کے برعکس بیچ چوراہے پھوڑ دیئے خان صاحب کے لیے ایسے مسائل کھڑے ہو جائیں گے جو جِن بھوت وچڑیلیں وغیرہ بھی شاید نہ حل کرسکیں !!

Categories
آرٹیکلز

ایک بار پھر سب پیچھے رہ گئے :پی ٹی آئی کی رابطہ ایپ نے پورے ملک میں دھوم مچا دی

لاہور(ویب ڈیسک) نامور خاتون صحافی حمیرا کنول بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔رابطہ نامی ایپ پر رجسٹریشن کے باوجود جب میں نے ایپ کو اپنے موبائل پر ڈاؤن لوڈ کر کے اوپن کرنے کی کوشش کی تو کئی گھنٹے کی کوشش کے باوجود میں اس ایپ کے فیچر دیکھنے میں کامیاب نہیں ہو پائی۔

ابھی گزشتہ شام ہی پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے موبائل پر لاگ اِن کو کلک کیا پھر تالیاں بجیں اور عمران خان نے کہا مبارک ہو ساری ٹیم کو بہت مبارک ہو۔یہ پی ٹی آئی کی عوامی ڈیجیٹل رابطہ مہم کے لیے رابطہ نامی ایپ کی لانچنگ کا منظر ہے۔پی ٹی آئی پاکستان کی واحد سیاسی جماعت بن گئی ہے جو اب سوشل میڈیا کے علاوہ آن لائن ایپ کے ذریعے بھی اپنے فالوورز سے منسلک ہو گئی ہے۔سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی سپورٹر گزشتہ کئی گھنٹوں سے اس رابطہ ایپ پر رجسٹرڈ ہونے کے بعد اپنی ٹوئٹس کر رہے ہیں۔گوگل پلے سٹور پر جائیں تو اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد اس ایپ پر رجسٹر ہو چکے ہیں۔یہ ایپ سب کے لیے ہے یعنی اسے سترہ برس کی عمر سے زیادہ کا کوئی بھی صارف ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے۔ شناختی کارڈ اور فون نمبر کی مدد سے آپ اپنی رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔جہاں کچھ سوشل میڈیا صارفین کو رجسٹریشن میں مشکلات کا سامنا ہے وہیں اوورسیز پاکستانی بھی اپنے ہاں اس کی عدم دستیابی پر پریشان دکھائی دے رہے ہیں اور مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔احسن خان نے گوگل پلے پر اپنے کمنٹس میں لکھا میں آپ کو اور آپ کی ٹیم کو سراہتا ہوں لیکن یہ ایپ بہت سست ہے اس پر کام کریں۔حسنین اشفاق نے لکھا برا مت مانیے گا لیکن یہ ایپلیکشن ہمیشہ یہی شو کرتی ہے کہ کچھ غلط ہو گیا ہے، ڈیٹا لاگ ان بھی کام نہیں کر رہا۔شہزاد انور نے لکھا بہت ہی سلو رسپانس ہے

ایپ کو بہتر کریں یہ بہت پریشان کن اور مایوس کن ہے۔ٹوئٹر پر جائیں تو وہاں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ وقار نے سوال کیا اوورسیز پاکستانیوں کا کیا ہو گا؟ کچھ لوگ ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہیں اور کچھ جواب میں صلاح دے رہے ہیں کہ شاید ٹریفک کی وجہ سے کوئی مسئلہ ہو آپ تھوڑی دیر بعد ٹرائی کریں۔عمران خان نے لانچنگ کی تقریب کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ پی ٹی آئی رابطہ ایپ پر آپ سب ممبر بنیں۔ اور جنھوں نے پارٹی جوائن کرنی ہے اور خاص طور پر پاکستان کی جو یوتھ ہے، نوجوان ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ سب اس پارٹی کے ممبر بنیں۔ہم ماڈرن ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ایک دفعہ ہمارے پاس ڈیٹا آ جائے تو ہم اسے بریک ڈاؤن کر کے نیچے حلقوں کے اندر لے جائیں گے۔ جب ہم نے ٹکٹ دینے ہوں اس میں ہمارا بڑا فائدہ ہو گا، ہم چیک کر سکتے ہیں کہ ہمارے ممبر کس کو چاہتے ہیں کہ ٹکٹ ملے۔‘کیونکہ 2018 اور 2013 میں بڑا مشکل تھا کہ ایک دم 700 اور 800 ٹکٹ دیں اور پھر کیسے ویری فائی کریں کہ جن لوگوں کو ٹکٹ دے رہے ہیں وہ میرٹ پر ہے یا نہیں ہے اور ہمیں بہت مشکلات آئیں، مجھے پتہ ہے کہ کئی جگہ بڑے غلط ٹکٹ دے کر اپنا نقصان کروایا بہت بڑا۔‘پی ٹی آئی کے پارٹی مینجمنٹ سیل کے چیئرمین سینئیر رہنما شیر علی ارباب نے بتایا کہ اس پر کام گزشتہ ایک سال سے جاری

تھا۔پہلے پارٹی مینجمنٹ سیل بنایا گیا تھا، جس کی میں سربراہی کر رہا تھا اور اس پر پارٹی میں کافی عرصے تک مختلف امور پر بحث اور گفت و شنید ہوتی رہی۔ ماڈیول لسٹ تیار ہوئی، بزنس ریکوائر منٹ ڈاکومینٹ بنے ہر ماڈیول کی اپنی کمیٹی تھی، اس کے نتیجے میں ہم یہ ایپ بنانے کے کابل ہوئے، ابھی ہم نے صرف تین چیزیں اس اپ ڈیٹ میں ریلیزکی ہیں۔ اب ہم دوسرے ہفتے میں ٹیسٹنگ کریں گے ایک دو اور ماڈیول کو، دو اور اپ ڈیٹس میں پوری ایپ مکمل طور پر لانچ ہو جائے گی۔ کل ملا کر 11 ماڈیول ہیں، اور اس ایپ کو پوری دنیا میں کوئی بھی ڈاؤن لوڈ کر لے گا۔‘وہ کہتے ہیں کہ اس ایپ میں کوئی فنڈ ریزنگ کا پروویژن نہیں ہے، ہاں اگر کل پارٹی فیصلہ کرے کہ وہ اس ایپ کے ذریعے انٹرا پارٹی الیکشن کرے تو کر سکتی ہے، ممبران کو ٹکٹ مل سکتا ہے آن لائن۔وہ کہتے ہیں ایک اور ماڈیول پر کام کیا جا رہا ہے جس کا نام ہے میرا حلقہ۔ اس کے ذریعے حلقہ بھی مینج ہو سکتا ہے اور الیکشن کے دن کے امور کا انتظام بھی دیکھا جا سکتا ہے۔شیر علی ارباب کہتے ہیں یہ پہلے ہو جانا چاہیے تھا لیکن تب پی ٹی آئی حکومت میں تھی اور حکومتی امور کی مصروفیات کی وجہ سے یہ کام مکمل نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ایپ میں پیمنٹ کا ایشو بھی تھا، اگرچہ لوکل پے منٹ کو تو ہم دیکھ رہے ہیں، کچھ ہفتوں میں ہو جائے گا، لیکن بین الاقوامی پے منٹ ایک چیلنج ہے،

کیونکہ جب تک ہمارے پاس وائیبل انٹرنیشنل پے منٹ گیٹ وے نہیں ہو گا ہم پیڈ ممبر نہیں حاصل کر سکیں گے۔ اس ایپ کا سکوپ ممبر شپ کی حد تک ہے اس میں کوئی فنڈ ریزنگ یا ڈونیشن (عطیات) کی پروویژن نہیں ہے۔‘اگر اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو گوگل پلے سٹور کے مطابق تقریباً ایک لاکھ افراد اس میں رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے متعلقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ’تعداد 200 ہزار سے اوپر تک پہنچ گئی ہے۔‘شیر علی ارباب کہتے ہیں کہ اس حوالے سے پی ٹی آئی کے متعلقہ سیل کی ایک اور میٹنگ ہو گی پہلے ہفتے میں، ایپ میں مسائل آ رہے ہیں اور ایک وجہ بہت زیادہ لوگوں کی جانب سے اس کو ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ `گزشتہ روز بہت کریش ہوئی تھی، اگر آپ ای میل کے ذریعے جو بھی مسئلہ آ رہا ہے اسے رپورٹ کریں تو کچھ گھنٹوں میں یہ حل ہو جائے گا۔‘پاکستان میں اس قسم کی ایپ پہلی بار لانچ کی گئی ہے اگر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ورلڈ میں بھی دیگر جماعتوں سے سبقت لیے ہوئے ہے۔پیپلز پارٹی سے منسلک سیاسی کارکن فہمیدہ برچہ اس سے متفق ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پیپلز پارٹی سمیت پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی سے بہت پیچھے ہیں، پی ٹی آئی دس سال پہلے جہاں تھی دیگر جماعتیں ابھی وہاں بھی نہیں پہنچیں۔انھوں نے ڈیجیٹل سطح پر پی ٹی آئی کی ایپ کے حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’میں نے یہ ایپ دیکھی، پی ٹی آئی ہمیشہ پروپیگنڈے میں کمال رکھتی تھی اور اب ایپ بنا کر بھی وہ دیگر جماعتوں سے آگے نکل گئی ہے۔ پی ٹی آئی اس سے فائدہ بھی اٹھائے گی دوسری جماعتیں تو پی ٹی آئی کے دس سال پہلے کی حیثیت تک بھی نہیں پہنچ سکیں۔‘تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ایپ سے لوگوں تک رسائی تو ہو گی لیکن یہ پارٹی جو سوشل میڈیا سے ہی بنی ہے اس کی سیاسی لحاظ سے کوئی فلاسفی نہیں، یہ نظریاتی سیاست نہیں کرتے جہاں پر دماغ ختم ہوتا ہے وہاں سے آگے پی ٹی آئی شروع ہوتی ہے۔‘

Categories
آرٹیکلز

چند تاریخی واقعات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار اور محقق عقیل عباس جعفری بی بی سی کے لیے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اُردو کی متعدد تصانیف ایسی ہیں جن پر مختلف الزامات کے تحت مقدمات چلے، وہ تصانیف ضبط ہوئیں اور بعض مصنفین کو قید و بند یا جرمانے کی صعوبتیں بھی برداشت

کرنی پڑیں۔ان تصانیف میں ڈپٹی نذیر احمد کی ’امہات الامہ‘، منشی پریم چند کی ’سوز وطن‘ اور ترقی پسند افسانہ نگاروں کے مجموعے ’انگارے‘ کے نام سرفہرست ہیں۔ مگر سعادت حسن منٹو تمام مصنفین پر بازی لے گئے۔قیام پاکستان سے قبل منٹو کے تین افسانوں ’کالی شلوار‘، ’دھواں‘ اور ’بُو‘ پرغیر اخلاقی ہونے کے الزام میں مقدمات چلے۔ ان مقدمات میں سزائیں بھی ہوئیں لیکن ہر مرتبہ اپیل کرنے پر عدالت میں منٹو اور ان کے افسانوں کو الزام سے بری کر دیا گیا۔قیام پاکستان کے بعد سعادت حسن منٹو نے جو پہلا افسانہ تحریر کیا اس کا نام ’ٹھنڈا گوشت‘ تھا۔ یہ ناصرف قیام پاکستان کے بعد منٹو کی پہلی تخلیق تھا بلکہ اپنی مخصوص نوعیت کے اعتبار سے بھی اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔منٹو کا یہ شہرہ آفاق افسانہ لاہور کے ادبی ماہنامہ ’جاوید‘ کی مارچ 1949 کی اشاعت میں شائع ہوا تھا۔ روزنامہ ’انقلاب‘ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق 30 مارچ کو رسالے کے دفتر پر ریڈ ہوا اور رسالے کی تمام کاپیاں ضبط کر لی گئیں۔خبر میں بتایا گیا کہ اس ریڈ کا سبب ’ٹھنڈا گوشت‘ کی اشاعت تھی۔ اس خبر میں اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کیا گیا تھا کہ یہ رسالہ ایک دن پہلے ہی مارکیٹ میں آیا تھا۔سات مئی 1949 کو حکومت پنجاب کی پریس برانچ نے سعادت حسن منٹو کے علاوہ ’جاوید‘ کے مدیر عارف عبدالمتین اور ناشر نصیر انور کے خلاف ٹھنڈا گوشت کی اشاعت پر مقدمہ درج کروا دیا۔منٹو نے ٹھنڈا گوشت پر چلنے والے مقدمے کی مکمل روداد اسی

نام سے چھپنے والے افسانوی مجموعے کے پیش لفظ میں ’زحمت مہر درخشاں‘ کے نام سے تحریر کی ہے۔منٹو لکھتے ہیں کہ ’جب میں ہندوستان کی سکونت ترک کر کے جنوری 1948 میں لاہور پہنچا تو تین مہینے تک میرے دماغ کی حالت عجیب و غریب رہی۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کہاں ہوں؟ ہندوستان میں ہوں یا پاکستان میں۔ بار بار دماغ میں الجھن پیدا کرنے والا سوال گونجتا، کیا پاکستان کا ادب علیحدہ ہو گا؟ اگر ہوگا تو کیسے ہو گا؟وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’وہ سب کچھ جو سالم (غیر منقسم) ہندوستان میں لکھا گیا ہے اس کا مالک کون ہے؟ کیا اس کو بھی تقسیم کیا جائے گا؟ کیا ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کے بنیادی مسائل ایک جیسے نہیں؟ کیا ہماری ریاست مذہبی ریاست ہے؟ ریاست کے تو ہم ہر حالت میں وفادار رہیں گے مگر کیا ہمیں حکومت پر نکتہ چینی کی اجازت ہو گی؟ آزاد ہو کر کیا یہاں کے حالات فرنگی عہد حکومت کے حالات سے مختلف ہوں گے؟اس کے بعد منٹو فیض، چراغ حسن حسرت، احمد ندیم قاسمی اور ساحر لدھانوی سے ملے مگر کوئی بھی ان کے سوالات کا جواب نہیں دے سکا۔ اُنھوں نے ہلکے پھلکے مضامین لکھنے شروع کیے جو ’امروز‘ میں شائع ہوئے۔ مضامین کا یہ مجموعہ بعد میں ’تلخ، ترش اور شیریں‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔اسی زمانے میں احمد ندیم قاسمی نے لاہور سے ’نقوش‘ جاری کیا۔ قاسمی صاحب کی فرمائش پر منٹو نے پاکستان میں اپنا پہلا افسانہ ’ٹھنڈا گوشت‘ تحریر کیا۔منٹو لکھتے ہیں کہ قاسمی صاحب

نے یہ افسانہ میرے سامنے پڑھا۔ افسانہ ختم کرنے کے بعد اُنھوں نے مجھ سے معذرت بھرے لہجے میں کہا ’منٹو صاحب، معاف کیجیے، افسانہ بہت اچھا ہے، لیکن نقوش کے لیے بہت گرم ہے۔‘چند دن کے بعد قاسمی صاحب کی فرمائش پر منٹو نے ایک اور افسانہ لکھا جس کا عنوان ’کھول دو‘ تھا۔ یہ افسانہ نقوش میں شائع ہوا مگر حکومت نے نقوش کی اشاعت چھ ماہ کے لیے بند کر دی۔ اخبارات میں حکومت کے اس اقدام کے خلاف احتجاج ہوا مگر حکومتی حکم اپنی جگہ پر قائم رہا۔جگدیش چندر ودھاون نے اپنی کتاب ’منٹو نامہ‘ میں لکھا ہے کہ احمد ندیم قاسمی کی معذرت کے بعد منٹو نے ’ٹھنڈا گوشت‘ ادب لطیف کے مدیر چودھری برکت علی کو دے دیا مگر پریس کے انکار کی وجہ سے یہ افسانہ اس رسالے میں شائع نہ ہو سکا۔ اس کے بعد منٹو نے یہ افسانہ ممتاز شیریں کو روانہ کیا مگر اُنھوں نے بھی اسے پسند کرنے کے باوجود چھاپنے سے معذرت کر لی۔ممتاز شیریں کے بعد عارف عبدالمتین نے اپنے رسالے جاوید کے لیے منٹو سے ’ٹھنڈا گوشت‘ بہت اصرار سے مانگا۔ اس وقت یہ افسانہ ’سویرا‘ کے مالک چودھری نذیر احمد کے پاس تھا چنانچہ منٹو نے ایک رقعہ ان کے نام لکھ دیا ’یہ جاوید والے اپنا پرچہ ضبط کروانا چاہتے ہیں براہ کرم ان کو ٹھنڈا گوشت کا مسودہ دے دیجیے۔‘عارف عبدالمتین نے یہ افسانہ حاصل کر لیا اور اسے اپنے ادبی رسالے جاوید کے مارچ 1949 کے ایڈیشن میں شائع کر دیا۔ منٹو نے لکھا ہے کہ جاوید پر ایک ماہ بعد ریڈ ہواجبکہ انقلاب

میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق یہ چھاپہ جاوید کی اشاعت کے اگلے ہی دن پڑ گیا۔منٹو کا بیان زیادہ درست محسوس ہوتا ہے کیونکہ اس وقت تک جاوید کا شمارہ لاہور اور بیرون لاہور تقسیم ہو چکا تھا۔ جاوید کے دفتر پر یہ چھاپہ پریس برانچ کے انچارج چودھری محمد حسین کی ایما پر مارا گیا تھا اور منٹو لکھتے ہیں کہ ’گو ضعیفی کے باعث چودھری محمد حسین کے ہاتھ کمزور ہو چکے تھے مگر اُنھوں نے زور کا ایک جھٹکا دیا اور پولیس کی مشینری حرکت میں آ گئی۔‘ٹھنڈا گوشت منٹو کے لیے بہت گرم افسانہ ثابت ہوا، اس نے منٹو جیسے سخت جان کے کس بل نکال کر رکھ دیے۔ معاملہ پریس ایڈوائزری بورڈ کے سامنے پیش ہوا جس کے کنوینر پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر فیض احمد فیض تھے اور بورڈ میں سول اینڈ ملٹری گزٹ کے ایف ڈبلیو بسٹن، زمیندار کے مولانا اختر علی، نوائے وقت کے حمید نظامی، سفینہ کے وقار انبالوی اور جدید نظام کے امین الدین صحرائی شامل تھے۔چودھری محمد حسین نے بورڈ کے سامنے پرچے کے دیگر باغیانہ اور اشتعال انگیز مضامین پیش کیے مگر بورڈ نے ان الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا لیکن نزلہ ٹھنڈا گوشت پر گِرا۔ فیض صاحب نے اسے غیر فحش قرار دیا مگر مولانا اختر علی، وقار انبالوی اور حمید نظامی نے اسے ’ملعون‘ قرار دیا۔فیصلہ یہ ہوا کہ اب معاملہ عدالت پر چھوڑ دیا جائے۔چند دن بعد منٹو اور جاوید کے ناشر نصیر انور اور مدیر عارف عبدالمتین گرفتار کر لیے گئے۔ منٹو کی ضمانت ان کے دوست شیخ سلیم نے دی، ممتاز شاعر اور ماہر قانون میاں تصدق حسین خالد نے خود بھی

مقدمے کی پیروی کرنے کی پیشکش کی جو منٹو نے شکریے کے ساتھ منظور کر لی۔مقدمہ مجسٹریٹ اے ایم سعید کی عدالت میں پیش ہوا۔ استغاثے کی جانب سے مسٹر محمد یعقوب، محمد طفیل حلیم، ضیا الدین احمد اور چند دیگر افراد پیش کیے گئے۔ صفائی کے گواہان کے لیے 30 افراد کی فہرست پیش کی گئی تو مجسٹریٹ صاحب نے کہا کہ ’میں اتنا ہجوم نہیں بلا سکتا‘ بہت رد و کد کے بعد وہ 14 گواہ بلانے پر تیار ہوئے جن میں کل سات گواہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ان گواہان میں سید عابد علی عابد، احمد سعید، ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، ڈاکٹر سعید اللہ، فیض احمد فیض، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم اور ڈاکٹر آئی لطیف نے منٹو کے حق میں بیانات قلمبند کروائے۔عدالت کی جانب سے چار گواہ تاجور نجیب آبادی، آغا شورش کاشمیری، ابو سعید بزمی اور محمد دین تاثیر پیش ہوئے۔ پہلے تین گواہان نے افسانے کو ’ذلیل، گندا اور قابل اعتراض‘ قرار دیا جبکہ ڈاکٹر تاثیر کا کہنا یہ تھا کہ یہ افسانہ ادبی لحاظ سے ناقص ہے لیکن ہے ادبی۔کچھ ایسے الفاظ ہیں جن کو ناشائستہ کہا جاسکتا ہے لیکن میں غیر اخلاقی اور گندا اس لیے نہیں کہتا کہ لفظ ف ح ش کی تعریف کے متعلق میں خود واضح نہیں ہوں۔ ان گواہان کے بیانات کے بعد منٹو نے اپنا تحریری بیان داخل کیا۔جگدیش چندر ودھاون لکھتے ہیں آخر 16 جنوری 1950 کی تاریخ آن پہنچی۔ عدالت نے ملزمان کو غیر اخلاقی افسانہ لکھنے اور چھاپنے کے الزام میں 300 روپے فی کس جرمانہ کی سزا سنائی اور منٹو کو تین ماہ قید جبکہ نصیر انور اور عارف عبدالمتین کو 21، 21 یوم کی قید

بامشقت کی سزا سنا دی۔ملزمان نے اس فیصلے کے خلاف سیشن عدالت میں اپیل کی جہاں مجسٹریٹ عنایت اللہ خان نے ملزمان کی اپیل منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا فیصلہ منسوخ کر دیا اور تینوں ملزمان کو باعزت بری کرتے ہوئے ان کا ادا کردہ جرمانہ واپس کرنے کا حکم صادر کر دیا۔مگر حکومت نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد منیر اور جسٹس محمد جان نے اپیل کی سماعت کی۔ اُنھوں نے آٹھ اپریل 1952 کو اپنا فیصلہ سنایا۔ یہ فیصلہ بہت مدلل اور وزنی تھا اور غیر اخلاقی بنیاد پر دیے گئے فیصلوں میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔جسٹس محمد منیر نے اس بارے میں پیش کی جانے والی ہر دلیل کا بہت واضح جواب دیا اور فیصلے میں لکھا کہ ٹھنڈا گوشت کا خاکہ بے ضرر ہے مگر تفصیلات اور پیرایہ بیان غیر اخلاقی ہیں چنانچہ سعادت حسن منٹو اور ان کے ساتھیوں کو 300 روپے فی کس جرمانہ یا عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں ایک ماہ قید سخت کی سزا کا حکم سنایا جاتا ہے۔یوں پاکستان کی ادبی اور عدالتی تاریخ کا یہ منفرد مقدمہ اپنے انجام کو پہنچا۔ٹھنڈا گوشت کا قضیہ ختم ہوا تو چند برس بعد منٹو ایک اور افسانے ’اوپر، نیچے اور درمیان‘ پر چلائے جانے والی بداخلاقی کے ایک اور مقدمے کی زد میں آ گئے۔ یہ افسانہ سب سے پہلے لاہور کے اخبار ’احسان‘ میں شائع ہوا۔ اس وقت تک چودھری محمد حسین وفات پا چکے تھے چنانچہ لاہور میں خیریت رہی مگر بعدازاں جب یہ

افسانہ کراچی کے ایک پرچے ’پیام مشرق‘ میں شائع ہوا تو وہاں کی حکومت حرکت میں آئی اور منٹو کو عدالت میں طلب کر لیا گیا۔یہ مقدمہ مجسٹریٹ مہدی علی صدیقی کی عدالت میں پیش ہوا جنھوں نے صرف چند سماعتوں کے بعد منٹو کو 25 روپے جرمانہ کیا، جرمانہ فوراً ادا کر دیا گیا اور یوں اس آخری مقدمے سے بھی منٹو کی خلاصی ہوئی۔بلراج مین را نے اپنی کتاب ’دستاویز‘ میں لکھا ہے کہ ’مہدی علی صدیقی منٹو کے مداح تھے، اُنھوں نے اگلے روز منٹو کو کافی پینے کی دعوت دی۔ اُنھوں نے کافی کی دعوت کے دوران منٹو سے کہا کہ ’میں آپ کو اس دور کا بہت بڑا افسانہ نگار مانتا ہوں، آپ سے ملنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ یہ خیال دل میں لے کر نہ جائیں کہ میں آپ کا مداح نہیں۔‘منٹو لکھتے ہیں ’میں سخت متحیر ہوا، آپ میرے مداح ہیں تو جناب آپ نے مجھے جرمانہ کیوں کیا؟‘ وہ مسکرائے اور کہا ’اس کا جواب میں آپ کو ایک برس کے بعد دوں گا۔‘ایک برس بعد مہدی علی صدیقی نے اس مقدمے کی روداد ’پانچواں مقدمہ‘ کے عنوان سے ایک ادبی جریدے ’افکار‘ میں شائع کروائی مگر اس وقت تک منٹو وفات پا چکے تھے۔ مہدی علی صدیقی نے مقدمے کی یہ تمام روداد اپنی خود نوشت سوانح عمری ’بلا کم و کاست‘ میں بھی تحریر کی ہے۔مہدی علی صدیقی نے اس مضمون میں لکھا کہ ’1954 کے آخری زمانے میں مجھے معلوم ہوا کہ منٹو نے ایک تازہ مجموعہ مضامین شائع کیا ہے جس کا نام ہے اوپر، نیچے اور درمیان۔‘’مجھے حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی جب لوگوں نے بتایا کہ منٹو نے یہ مجموعہ میرے نام سے معنون کیا ہے۔ ان کی پرخلوص محبت اور بے تکلف اعتبار کا اس سے بہتر ثبوت ملنا مشکل ہے۔ میں ایک غیر معروف سا آدمی خوش ہوں کہ شاید یوں ہی میرا نام ‘نوادر ادبی’ کے روپ میں کچھ دنوں ادبی دنیا میں رہ جائے۔‘

Categories
آرٹیکلز

عمران خان نے ہمارا کام آسان کر دیا ، اب بس اس چیز کی دیر ہے ۔۔۔۔۔پاکستان میں پاک فوج اور عوام کے درمیان فاصلوں پر بھارت میں کیا باتیں ہو رہی ہیں ؟ اصل حقائق جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مرزا اشتیاق بیگ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جب سے تحریکِ عدم اعتماد میں عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا ہے، پاک فوج کے خلاف نہ ختم ہونے والا منفی پروپیگنڈہ شروع ہوگیا ہے جس میں فوج کی اعلیٰ قیادت پر براہ راست واضح اور مختلف

حوالوں سے تنقید کی جارہی ہے اور سوشل میڈیا پر سیاسی شخصیات اور تجزیہ نگار غیر مصدقہ، ہتک آمیز اور اشتعال انگیز ریمارکس دے رہے ہیں جو ادارے کیلئے کسی طور مناسب نہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس کی جاری کردہ پریس ریلیز کی سیاہی ابھی خشک بھی نہ ہونے پائی تھی کہ عمران خان نے ایبٹ آباد کے جلسے میں ایک بار پھر اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے خود کو سراج الدولہ سے تشبیہ دیتے ہوئے میر جعفر اور میر صادق کی جو مثال دی، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ فوج کے خلاف عمران خان کے توہین آمیز بیان پر قومی اسمبلی میں متفقہ طور پرمذمتی قرارداد منظور کی گئی اور وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اگر عمران کو اداروں کے خلاف بیان بازی سے نہ روکا گیا تو پاکستان، شام، لیبیا اور عراق کی بھیانک تصویر بن جائے گا۔حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ ترجمان پاک فوج کو اس معاملے پر بولنا پڑا اور گزشتہ دنوں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے یہ اعلان کیا کہ ملک میں جاری سیاسی گفتگو اور مباحثوں میں پاکستان کی افواج اور اس کی قیادت کو منظم سازش کے تحت دانستہ طور پر گھسیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے جو ملک کے مفاد میں نہیں اور پاک فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار اس سے قبل بھی صاف الفاظ میں یہ یقین دہانی کراچکے ہیں کہ پاک فوج کا حالیہ سیاسی بحران سے کوئی تعلق نہیں اور وہ

نیوٹرل ہے مگر اس کے باوجود پی ٹی آئی کے سربراہ اور سینئر لیڈرشپ عوامی جلسوں میں لوگوں کو گمراہ کررہی ہے کہ فوج پی ٹی آئی حکومت کو گھر بھیجنے کی ذمہ دار ہے اور اسے نیوٹرل نہیں ہونا چاہئے تھا کیونکہ نیوٹرل صرف جانور ہوتا ہے۔پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی پاک فوج کے سربراہ کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف عمل ہے اور اس طرح جو کام ہمیشہ سے ہمارا دشمن سرحد پار بیٹھ کر کرتا آیا ہے، اس بار وہی کام ہم اپنی ناسمجھی کی وجہ سے خود کررہے ہیں اور دشمن اس مہم کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ایسی صورتحال سے دشمن ملک بھارت میں خوشی کا سماں ہے اور بھارتی میڈیا عمران خان کے فوج مخالف بیانات کو مرچ مسالہ لگاکر پیش کررہا ہے اور دشمن ملک کی ایجنسیوں کے لوگ بھی فائدہ اٹھارہے ہیں اور مختلف چینلز پر پاک فوج کے خلاف تجزیے پیش کررہے ہیں۔ اسی طرح کی ایک ویڈیو آج کل سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں ایک بھارتی تجزیہ نگار میجر گورے آریا جو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا ایجنٹ ہے.ایک بھارتی چینل پر عمران خان کو بھارت کا دوست قرار دیتے ہوئے یہ کہہ رہا ہے کہ بھارت کو عمران خان کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ وہ پاکستانی قوم کو فوج کے خلاف اکسا رہا ہے اور اس طرح جو کام بھارتی خفیہ ایجنسیاں لاکھوں ڈالر خرچ کرکے نہ کرسکیں، عمران خان بلا معاوضہ کررہا ہے۔ اسی طرح کی ایک اور ویڈیو میں یہی میجر گورے آریا کہہ رہا ہے کہ پاکستان کی آرمی فوج نہیں

بلکہ ایک گوند (Glue) ہے جس نے پاکستان کے عوام کو جوڑ رکھا ہے اور اگر عمران خان کے فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈے سے فوج کمزور ہوتی ہے تو پاکستانی قوم بھی تتر بتر ہوجائے گی اور پھر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔اس طرح عمران خان بھارت کا مشن پورا کررہا ہے جس پر بھارت کو اس کا احسان مند ہونا چاہئے۔یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایف آئی اے اور دوسری سیکورٹی ایجنسیوں نے پاک فوج کے سربراہ اور ادارے کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم چلانے کے الزام میں پی ٹی آئی کے درجنوں افراد کو گرفتار کیا تھا جو ایک منظم مہم کے تحت پاک فوج اور اس کی قیادت کے خلاف منفی پروپیگنڈے میں مصروف تھے اور عوام میں یہ تاثر پیدا کررہے تھے کہ پاک فوج کی لیڈرشپ تقسیم ہے جو حقیقت پر مبنی نہیں، پاک فوج منظم ادارہ ہے جس کے جنرلز اور سپاہی میں کوئی اختلاف نہیں اور فوج کا ہر فرد ایک تسبیح کے دانوں کی مانند ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا اپنے جوانوں جو سینکڑوں میل دور سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہیں، کے ساتھ عید منانا یہ پیغام دینا تھا کہ وطن کی حفاظت کیلئے وہ ان کی تکلیف کو محسوس کرتے ہیں۔اسی طرح سپاہیوں کا اپنے سربراہ کا پرتپاک استقبال اور عید کے روز اُن کو اپنے درمیان پانا اس بات کا مظہر تھا کہ وہ اپنے سربراہ کے آرڈر پر اپنی جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے جو ان لوگوں کے منہ پر طمانچہ تھا جو یہ تاثر دے رہے تھے کہ فوج کی اعلیٰ قیادت اور سپاہیوں میں اختلافات ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرکے تمام سازشوں کا خاتمہ کردیا ہے کہ پاک فوج کی قیادت میں کوئی دراڑ نہیں اور آرمی چیف اور تمام جنرلز دشمن کے خلاف متحد ہیں جو اپنے سربراہ کے آرڈر پر عمل کرنا اپنا ایمان سمجھتے ہیں۔حکومت اور فوج کو چاہئے کہ فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے تاکہ یہ لوگ بلا (Monsters) نہ بن سکیں اور فوج اور عوام کے درمیان دراڑ نہ پیدا کرسکیں۔

Categories
آرٹیکلز

پاکستانی گیٹ آؤٹ : ترکی میں سوشل میڈیا پر چلنے والے اس ٹرینڈ کی وجہ اور اسکے پیچھے موجود ترکی کے شیخ رشید کا تعارف آپ کو حیران کر ڈالے گا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ڈاکٹر فرقان حمید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔راقم گزشتہ 30 برس سے ترکی میں مقیم ہے اور ایک پاکستانی ہونے کے ناتے جتنی محبت اور چاہت مجھے ملی ہے، میں کبھی اسے فراموش نہیں کرسکتا، یہ محبت اور چاہت مجھے ذاتی حیثیت میں نہیں ملی

بلکہ ترکوں کے دلوں میں پاکستان اور پاکستانیوں سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے جوماضی میں چلی آرہی ہے۔ خلافت موومنٹ ہو یا ترکی کی تحریک آزادی جس طرح برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نےدل کھول کر مدد کی اور خواتین نے اپنے زیورات تک ترکوں پر لٹا دیے، ترک آج بھی اس قربانی کے جذبے کو نہیں بھول سکے لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ ترکوں کی طرف سے اتنی محبت چاہت اور عشق کا اظہار کیے جانے کے باوجود آج کل چند عاقبت نااندیش پاکستانی نوجوانوں نے اپنی بے ہودہ حرکتوں سے پاکستان کے نام کو بدنام کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ان اوباش اور آوارہ قسم کے چند پاکستانیوں نے ترک لڑکیوں کی بلا اجازت غیر اخلاقی وڈیوز بنائیں اور ان میں غیر اخلاقی ریمارکس دیتے ہوئے انہیں ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پراپ لوڈ بھی کیا، جس سے پاکستان اور ترک دوستی کو اپنی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھنے والی قوتوں نے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئےپاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر اپنی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹوئٹر پر ’’پاکستانی گیٹ آئوٹ‘‘ کا ٹرینڈ شروع کیا جو کافی دن تک جاری رہا۔ ان نوجوانوں کی اس حرکت کے نتیجے میں پاکستانی سفارتخانہ فوری طور پر حرکت میں آیا لیکن اسی دوران چند پاکستانیوں کی جانب سے دو نیپالی باشندوں کو یرغمال بنانے کے واقعہ نے جلتی پرتیل کا کام کیا۔ ترکی کے تمام میڈیا نے پاکستانیوں کی جانب سے نیپالی باشندوں کو اٹھا لے جانے کی خبر کو بڑے نمایاں طریقے سے پیش کیا

اور پاکستان کے وہ دشمن جو طویل عرصے سے پاک ترک تعلقات کو خراب کرنے کے درپے تھے اپنے مقاصدمیں اس وقت کچھ حد تک کامیاب دکھائی دیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ترکی کے محکمہ پولیس اور ترک وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پر اس ٹرینڈ کےخلاف فوری طور پر کارروائی بھی کی ہے اور ترکی کے محکمہ پولیس نے ایک سرکلر جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا کہ اس مہم کا مقصد ملک دشمن عناصر کی جانب سے انتشار پیدا کرنا ہے اور ان عناصر کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے جبکہ ترک وزیر داخلہ سیلمان سوئیلو نے گزشتہ ہفتے نمازِ جمعہ کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ’’ ترکی کی تحریک آزادی کے موقع پر پاکستانیوں نے جس طرح ترکی کی مدد کی ہم پاکستان کےاحسانات کابدلہ نہیں چکاسکتے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس وقت جان بوجھ کراس قسم کی مہم چلائی جا رہی ہے، ان کا اصل ہدف معاشرے میں کینہ، نفرت اوراشتعال انگیزی پیدا کرنا اور 2023ء کےانتخابات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ان اکاؤنٹس میں سے 80 فیصد بوٹ اکاؤنٹس ہیں۔ اِکا دُکا واقعات سے کسی قوم یا ملک کو بدنام نہیں کیا جاسکتا، یہاں پر اگر چند ایک پاکستانی اہم ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے ترک قوم کی خدمت کررہے ہیں تو ان کو کام کرنے دیں، ان کے خلاف غلط قسم کا ٹرینڈ مت چلائیں، پاکستان ہمارا دوست اور برادر ملک ہے۔ اس بیان سے حکومتِ ترکی کی پاکستان سے گہری محبت کی ایک بار پھر عکاسی ہوتی ہے۔

تاہم ترکی کی ایک سیاسی جماعت ’’ ظفر پارٹی‘‘ کے چیئرمین ’’اُمیت اؤزداع‘‘( جس کی شیخ رشید کی سیاسی جماعت کی طرح ایک ہی سیٹ ہے ) نے پاکستانی باشندوں کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا ہے جسے پاکستان دشمن میڈیا نے نمایاں کوریج دی۔ دراصل ترکی میں ایردوان کی مقبولیت کو ہضم نہ کرنے والے عناصر کی جانب سےاس قسم کی مہم چلانے کا مقصد صرف اور صرف صدر ایردوان پر دبائو ڈالنا ہے۔ اس سے قبل یہی عناصر شامی پناہ گزینوں کو ان کے ملک واپس بھیجنے کی مہم بھی چلا چکے ہیں۔پاکستان سے محبت ترکوں کے دلوں پر نقش ہے بلکہ کہا جاتا ہے پاکستانی بچہ ترکوں سے محبت اور ترک بچہ پاکستان سے محبت لے کر اس دنیا میں آتا ہے۔ اس محبت سے متاثر ہو کر ترک سیاستدان پاکستان کے بارےمیں ایک ضرب المثل استعمال کرتے ہیں جب پاکستان کا نام لیا جاتا ہے تو بہتا پانی تک رک جاتا ہے۔( یعنی پاکستان کا نام آنے کے بعد باقی سب کچھ بے معنی ہوجاتا ہے )حکومتِ ترکی یا پھر ترک باشندوں کی جانب سے جس قدر بھی محبت اور احترام کیا جائے وہ سر آنکھوں پر لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پاکستان سے گہری محبت کرنے والے ملک ترکی اور ترک باشندوں کے لیے مستقل طور پر ان کی آنکھوں کا تارہ بن کر رہیں اور ایسی کسی بھی کارروائی اور حرکت سے باز رہیں۔ اگر ترکی نےان غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کو ڈی پورٹ نہیں کیا ہے تو یہ صرف اور صرف ترکی کی پاکستان سے گہری محبت ہی کا نتیجہ ہے۔ اور آخر میں یہ بات بھی واضح کرتا چلوں کہ غیر ملکی میڈیا کے چند اداروں کی جانب سے پاکستانیوں کو ویزے دینے پر پابندی لگائی جانے یا پھر اس میں سختی کی جو من گھڑت خبریں پیش کی جا رہی تھیں اس بارے میں بھی انقرہ میں پاکستانی سفارتخانے نے حکومتِ ترکی کی پاکستانیوں کیلئےویزا پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی کی سختی سے تردید کی ہے۔

Categories
آرٹیکلز

پاکستان پر آنے والے ہر مشکل کا سامنا کرنے والی پاک فوج کے خلاف بیان بازی بند نہ ہوئی تو جلد حالات کیا شکل اختیار کر لیں گے ؟ عوام کو آگاہی دے دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حیدر نقوی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں آزادی احتجاج، جلا دو، گھیر لو، ختم کر دو، غلامی نامنظور اور اِس طرح کے بہت سے نعروں کی بازگشت آپ کو خاکروبوں سے لے کر جامعات کے پروفیسرز تک کی تحریکوں میں سنائی دے گی، ان نعروں کا مقصد صرف

سودے بازی ہوتا ہے اور پھر جب سودا ہو جائے تو آزادی پہلے سے بھی زیادہ بڑی غلامی بن جاتی ہے۔ احتجاج دم توڑ بن جاتا ہے اور ایسا صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا میں ہر جگہ ہوتاہے۔ عمران خان کی موجودہ آزادی تحریک کو جاننے کے لیے قوم کو بھٹو نہیں بلکہ بانیٔ متحدہ کے کردارکو جاننے کی زیادہ ضرورت ہے۔ بتانے کا مقصد یہ نہیں کہ عمران خان کے عزائم وہی ہیں جو بانیٔ متحدہ کے تھے یا بانیٔ متحدہ صحیح تھے یا غلط، نہ کسی کی تحریک پر تنقید کرنا مقصد ہے اور نہ ہی کسی کو مسیحا بنا کر پیش کرنا مقصود ہے بلکہ حال کو ماضی کے آئینے میں من و عن دکھانا ہے تاکہ قوم بہت کچھ جان سکے۔ بانیٔ متحدہ نے ایک پُرامن طلبا تحریک کا آغاز کیا جس کا نعرہ تھا کہ مقامی لوگ غلام نہیں ہیں، اُنہیں اُن کا حق دیا جائے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ نعرہ مقبول ہوتا چلا گیا اور لوگ جوق در جوق اِس تحریک کا حصہ بنتے گئے۔ شہرت اور نوجوانوں کی حمایت نے بانیٔ متحدہ کو طاقتور بنا دیا اور انہوں نے غلامی سے آزادی کا نعرہ ببانگ دہل لگانا شروع کردیا، رفتہ رفتہ اُن کا یہ نعرہ احتجاج میں تبدیل ہو گیا، بدامنی ایک معمول بن گئی اور یہ سب کچھ آزادی کے نام پر ہورہا تھا۔ اُن کی یہ لڑائی تو اشرافیہ یا ملکی وسائل پر قابض قوتوں سے تھی مگر عام آدمی اِس میں اپنی جان گنوا رہا تھا۔ بانیٔ متحدہ کی ہر بات پتھر پر لکیر ہوتی تھی،

یہ سلسلہ 30سال چلا، ہزاروں نوجوان اور بےگناہ زندگی سے محروم کر دیےگئے، بیشتر قید کی دیواروں کے پیچھے گئے یا لاپتہ ہوئے، مائیں رُل گئیں، باپ زندہ درگور ہو گئے اور اولادیں بھیک مانگنے لگیں، سکون غارت ہو گیا مگر وہ نعرہ آج بھی وہیں موجود ہے جہاں پر تحریک کے آغاز میں تھا یا شاید اُس سے بھی کہیں پیچھے چلا گیا ہے۔ غلامی مزید بڑھ گئی، مزید حقوق چھن گئے اور محرومی وہیں کی وہیں ہے، بحث یہ نہیں کہ بانیٔ متحدہ غلط تھے یا صحیح بلکہ بحث یہ ہے کہ اس سب کے بعد حاصل کیا ہوا؟ ریاست اور اداروں کے خلاف جو بغاوت کی گئی تھی اُس کے بعد آخر میں فتح یاب کون ہوا، ریاست یا بغاوت؟ جو دوسری جماعتوں کے خلاف نفرت پیدا کی گئی کیا وہ جماعتیں ختم ہو گئیں؟اب دوبارہ ویسے ہی نعروں نے سر اٹھایا ہے، یہ صحیح ہیں یا غلط، یہ بحث نہیں مگر انداز وہی ہے، دوبارہ وہی انقلاب کی، احتجاج کی، آزادی کی، غلامی کی بات ہو رہی ہے۔ کوئی اس کو خطرناک کہتا ہے تو کوئی جنونی۔ اب تو بات ایک علاقے کی نہیں بلکہ پورے ملک کی ہے۔ اب اگر نقصان ہوا تو کئی گنازیادہ ہوگا جس کو روکتے روکتے شاید 30نہیں 60سال لگ جائیں اور تب تک ہم پتا نہیں کیا کیا کھودیں۔ اب پھر وہی کام ہورہا ہے کہ میں اچھا اور باقی سب برے، میں آزاد اور باقی سب غلام، تب اشرافیہ ہمارے وسائل پر قابض تھی اب امریکہ ہے، نوجوانوں کو پھر سے

ریاست کے خلاف کھڑا کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے، بانیٔ متحدہ کا بھی تو کوئی بھائی، بیٹا، باپ عہدیدار نہیں تھا، وہ بھی ساری زندگی ایک چھوٹے سے گھر میں رہے، آج وہی بانیٔ متحدہ اکثریت کیلئے ولن ہیں اور کچھ کیلئے آج بھی ہیرو۔ اگر عمران خان کی تحریک مزید طاقتور ہوئی تو وہ عمران خان جو بطور وزیراعظم اپنی ہی ناک کے نیچے اربوں کی بدعنوانی نہ روک سکے، کیا تحریک کو کنٹرول کر سکیں گے؟ آج عمران خان جس طرح نوجوانوں کو حکم دے رہے ہیں کہ مخالفین کو چھوڑنا نہیں ہے، کیا وہ اپنے ہر کارکن پر نظر رکھ سکیں گے، کہیں بھی پندرہ بیس نوجوانوں کو پی ٹی آئی کا لباس پہناکر غداری کا نعرہ لگواکر اٹیک کروا دیا جائے گا، گروہ اپنا فائدہ اُٹھا لے گا اور بدنام تحریک ہوگی۔ اب اس سارے معاملے کو اگر آپ سمجھ جائیں تو آپ کو سب سے زیادہ مظلوم قانون نافذ کرنے والے ادارے نظر آئیں گے جن میں سرِ فہرست پاک فوج ہے کیونکہ ہر انتشار پر آخر میں منہ فوج نے ہی قابو پانا ہوتا ہے۔ فوج احتجاج کرنے والوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے تو دوسری طرف سے الزامات کا سامنا کرتی ہے، خاموش کھڑی ہوتی ہے تو احتجاج کرنے والے الزامات لگاتے ہیں، دونوں کے خلاف ایکشن لیتی ہے تو بیرونی دنیا الزام لگاتی ہے، اب یہ بات ہر ذی شعور کو سوچنا ہوگی اور فیصلہ کرنا ہوگا۔ امریکہ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو روکنے والی فوج بُزدل اور فرانس کے خلاف احتجاج کرنے والوں

کو پکڑنے والی فوج بہادر، یہ کونسا انصاف ہے؟آپ غلط بھی ہو سکتے ہیں، صحیح بھی ہو سکتے ہیں مگر خدا کے لیے اس کا فیصلہ ایک پُرامن تحریک کے ذریعے ہی کریں اور پورے ملک کو باور کرادیں کہ یہ مغلطات کرنے والے، ڈنڈے، ، بدامنی کے نعرے لگانے والے ہم نہیں اور اگر ایسا کوئی کرے تو وہ اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہوگا، ہماری تحریک کسی صورت ذاتی فائدہ اُٹھانے والی، زمینوں پر قبضہ کرنے والی یا اپنے کاروبار کو بچانے والے گروہوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنے گی۔ اگر آپ نے فوری طور پر اپنے کارکنوں کی تربیت نہ کی تو آپ مانیں یا نہ مانیں، جلد آپ کی تحریک ایک ایسی ہی تحریک بننے والی ہے۔ جلاؤ، گھیراؤ، آگ لگاؤ کا کام اپنے اوورسیز پاکستانیوں کے ذمہ ڈال دیں تاکہ آپ کو اُن کی حقیقی ہمت کا آئیڈیا ہو اور آپ کے خلاف سازش کرنے والے مغرب کی مٹی مزید پلید ہو۔ نہ آپ دودھ کے دھلے ہیں، نہ آپ کے مخالفین، نہ آپ غدار ہیں نہ کوئی اور مگر زندگی نوجوانوں کی برباد ہورہی ہے جسے اب نوجوانوں نے ہی بدلنا ہوگا۔ فیصلہ اُن کے ہاتھ میں ہے کہ کیا آگ اور خون کی تحریک والے دور کا نوجوان بننا ہے یا پُرامن پاکستان کا۔آپ اگر احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں لیکن ریاست یا اداروں کیخلاف عوام کو کھڑا کر کے نہیں۔آپ اگر اپنے بیانیے کو آگے لے کر جانا چاہتے ہیں تو اُسے آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے آگے لے کر جائیں۔

Categories
آرٹیکلز

عظیم مسلمان ہیرو سراج الدولہ کے حوالے سے چند حیران کن حقائق جو آج ہر پاکستانی کے لیے جاننا ضروری ہیں ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک)نامور کالم نگار یاسر پیرزادہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔برصغیر کی تاریخ کے بارے میں ہمارا تاثر یہ ہے کہ انگریز سفارتکار تھامس رو ہندوستان میں تجارت کا اجازت نامہ حاصل کرنے کی غرض سے مغل بادشاہ جہانگیر کے دربار میں پیش ہوا، وہاں اُ س نے جہانگیر کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے رام کیا،

بھولے بھالے جہانگیر نے تجارت کی اجازت دے دی، انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد رکھی اور پھراُس کمپنی نے اطمینان سے پورے بر صغیر پر قبضہ کر لیا۔ حقیقت میں چاہے ایسا ہی ہوا ہو مگر اِس سارے کام میں انگریزوں کو لگ بھگ دو سو سال لگ گئےاور اِس دوران انہیں مقامی حکمرانوں سےکئی لڑائیاں پڑیں۔ ویسے تو اِن تمام لڑائیوں کی کہانیاں کافی سبق آموز ہیں مگر ایک جنگ ایسی ہے جس کے کرداروں کا حوالہ آج کل بہت زور و شور سے دیا جا رہا ہے، تو ذرا دیکھتے ہیں اُس لڑائی کے کردار آخر کون تھے؟سن 1750 تک ایسٹ انڈیا کمپنی بر صغیرمیں اپنے پنجے گاڑ چکی تھی، مدراس میں کمپنی نے رابرٹ کلائیو کو ڈپٹی گورنر مقرر کیا تاکہ وہ کمپنی کے ’دشمنوں‘ کا مقابلہ کرکے کمپنی کی سیاسی طاقت میں اضافہ کرسکے۔نواب سراج الدولہ اُس وقت بنگال کانیا گورنر تھا جس کی شہرت ایک اذیت پسند شخص کی تھی اور جو طاقت اور اقتدار کےلیے پاگل اور جنونی سمجھا جاتا تھا۔اُس کے پاگل پن کا یہ عالم تھا کہ وہ محض اپنی تفریح کی خاطرعام لوگوں کی کشتیوں کو دریا میں ڈبو دیا کرتا تھا اورایسا وہ تب کرتا جب اُن میں سوار اکثرلوگ تیرنا نہیں جانتے تھے۔ عیاشی کا بھی رسیا تھا،وہ نہ صرف اپنے جرنیلوں کے ساتھ توہین آمیز رویہ رکھتا تھا بلکہ اپنے فنانسرز کی بھی بے عزتی کردیتا تھا جن میں اُس وقت کے ایک اہم خاندان’جگت سیٹھ‘ کے لوگ بھی شامل تھے۔سن 1756 میں سراج الدولہ اپنے ستّر ہزار سپاہیوں

کے ساتھ کلکتہ میں داخل ہوا، وہاں کا نالائق گورنر راجر ڈریک اُس کا مقابلہ نہ کرسکا، سراج الدولہ نے کلکتہ میں خوب لوٹ مار کی، انگریز قیدیوں کو اُس نے ایک تنگ سی جگہ پر بند کردیا جسے ’بلیک ہول‘ کہا جاتا ہے، بہت سے لوگ اُس میں دم گھٹنے سے مر گئے۔ اِس واقعے نے کمپنی کی چولیں ہلا دیں، انگریز اشرافیہ نے چونکہ کمپنی کے حصص میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی اِس لیےکمپنی کے افسران کا مستقبل کمپنی کے ساتھ وابستہ تھا، اِن حالات میں کمپنی کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہر انگریز کی اولین ترجیح بن گئی۔ تاریخ کے اِس موڑ پر رابرٹ کلائیو نے اپنی تین رجمنٹس کے ساتھ سراج الدولہ کے خلاف باقاعدہ لڑائی کا اعلان کردیا، یہ پہلا موقع تھا کہ کمپنی نے کسی ہندوستانی نواب کے خلاف با ضابطہ لڑائی چھیڑی ہو۔دریں اثنا جگت سیٹھ کا خاندان، جو سراج الدولہ کے رویے سے اُس سے نالاں تھا، کمپنی سے جا ملا اور سراج الدولہ کے عراقی جرنیل میر جعفر کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دیا تاکہ اسے سراج الدولہ کی جگہ نواب بنایا جا سکے۔ اِس کام کے لیے سیٹھوں نے رابرٹ کلائیو کو رشوتیں بھی دیں جو اُس نے بخوشی قبول کرلیں اور اپنے افسروں کو قائل کیا کہ سراج الدولہ کو ہٹانا کمپنی کے عین مفاد میں ہوگا۔سن 1757 میں پلاسی والی لڑائی ہوئی، پلاسی کے میدان میں اچانک مون سون بارشوں کی وجہ سے لڑائی کا پورا نقشہ ہی بدل گیا، کمپنی کے سپاہیوں کو اِس بات کا اندازہ تھا

سو وہ اپنے ہتھیاروں کو خشک رکھنے میں کامیاب رہے جبکہ سراج الدولہ کی فوج کو نئے ہتھیاروں کا تجربہ نہیں تھا جس کی وجہ سے انہیں کافی نقصان اٹھانا پڑا۔سراج الدولہ 25 برس کی عمر میں زندگی سے محروم کر دیاگیا، اُس کی جگہ غدار میر جعفر نواب بن گیا جبکہ رابرٹ کلائیو کو جگت سیٹھوں نے یورپ کا امیر ترین شخص بنا دیا۔ پلاسی کی لڑائی کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ مغل حکمران کمپنی کی تمام شرائط من و عن ماننے پر مجبور ہو گئے، کمپنی کے اختیارات اور مراعات میں اضافہ ہوگیا اور اسے زمین حاصل کرنے کےلیے حقوق بھی حاصل ہو گئے۔ میر جعفر اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان مفادات کاتعلق تو قائم ہوگیا مگر یہ تعلق زیادہ دیر تک نہ چل سکا، میر جعفر اِس بات کا ادراک نہ کرسکا کہ اب وہ کسی مطلق العنان نواب کے ساتھ نہیں بلکہ ایک کارپوریٹ بورڈ کے ساتھ معاملہ طے کر رہا ہے، اسی وجہ سے رابرٹ کلائیو اپنے خطوط میں میر جعفر کو ’عمر رسیدہ احمق ‘ لکھا کرتا تھا۔ میر جعفر ایک ان پڑھ نواب تھا جو تھوڑی بہت چالاکی تو جانتا تھا مگر مجموعی طور پر وہ ایک اناڑی لیڈر ثابت ہوا۔بنگال میر جعفر کے دور میں مزید انارکی میں چلا گیا۔ کمپنی نے میر جعفر کی جگہ اُس کے داماد میر قاسم کونواب بنا دیا، بعد میں کمپنی اور میر قاسم میں بھی لڑائی ہوئی۔ سن 1764میں بکسر کی لڑائی میں میر قاسم کو انگریزوں کے ہاتھوں شکست ہوئی، میر قاسم میدان لڑائی سے بھاگ گیا

اور بعد ازاں غربت میں انجام کو پہنچا ۔ پلاسی اور بکسر کی لڑائی کے کرداروں کے بارے میں جو کچھ بھی آپ نے اوپر پڑھا ہے وہ میں نے ولیم ڈیرلمپل کی کتاب ’انارکی ‘ سے لیا ہے، اِس میں میرا کوئی تبصرہ شامل نہیں، میں نے صرف تاریخ کے حقائق اکٹھے کرکے آپ کے سامنے رکھ دیے ہیں، اب آپ کا جسے دل کرتا ہے سراج الدولہ بنا دیں اور جسے مناسب سمجھتے ہیں میر جعفر کا لقب دے دیں۔میرا تبصرہ فقط اتنا ہے کہ تاریخی نتائج کو کسی ایک واقعہ یا چندشخصیات تک محدود کرنا درست نہیں، نہ سراج الدولہ کسی قومی مقصد کے حصول کی خاطر لڑ رہا تھا اور نہ ہی میر جعفر یا کلائیو کسی مشنری جذبے کے تحت لڑ رہے تھے۔ یہ سب اقتدار،طاقت اور پیسے کی لڑائی تھی،اس وقت تک مسلمان اقتدار سے محروم ہو چکے تھے جس کی مختلف تاریخی وجوہات تھیں، نہ کلائیو انگریزوں کا ہیرو تھا اور نہ سراج الدولہ مسلمانوں کا۔ کلائیو اس حد تک بدنام ہوا کہ اسے ’لارڈ گدھ ‘ کہا جانے لگا، اِس بدنامی کے ہاتھوں اُس نے موت کو سینے سے لگا لیا میر جعفر مختلف چیزوں کا عادی ہوگیا اور بعد میں جذام کی بیماری کا شکار ہو کر زندگی سے محروم ہوا اور پلاسیکی لڑائی کے چند دن بعدسراج الدولہ کی بے جان حالمیں ایک دریا سے برآمد ہوا ۔ تاریخ تو یہی کچھ بتاتی ہے، باقی آپ اور میں اپنے ہیرو یا ولن کا انتخاب کرنے میں آزاد ہیں، جسے چاہے منتخب کرلیں!

Categories
آرٹیکلز

عمران خان کو نکالا جانا سراسر غلط تھا ، مگر کیسے ؟ مظہر عباس کے ٹھوس دلائل

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔سازش اندرونی تھی یا بیرونی طور پر مداخلت کی گئی،سابق وزیراعظم عمران خان کو اُن کی آئینی مدت پوری ہونے سے پہلے ہٹایا جانا کیوں ضروری سمجھا گیا؟ عدم اعتماد کی تحریک ایک آئینی اور جمہوری عمل سہی

مگر یہ کن لوگوں کی مدد سے لائی گئی اور کیا اس پورے عمل سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہوئی یا ہم ایک بڑے سیاسی تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ شاید آنے والا وقت ثابت کرے گا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں کتنا غلط ’’کارڈ‘‘ کھیل گئی ہیں۔آخر ایسی جلدی کیا تھی۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ عمران خان تقرری کے حوالے سے اپنے تئیں کوئی بڑا فیصلہ کرلیتے۔ چلو مان لیتے ہیں کہ وہ آئندہ الیکشن اپنے پسندیدہ ’’ایمپائر‘‘ کے زیر سایہ کھیلنے کی تیاری کررہے تھے۔ یہ بھی تھیوری ہے کہ وہ ملک میں ریفرنڈم کراکے صدارتی نظام نافذ کر دیتے تو کیا ماضی میں آمرانہ سوچ اور اس طرح کے اقدامات کے خلاف جدوجہد نہیں کی گئی تو اب بھی اُن فیصلوں کے خلاف ایسی ہی مزاحمت کی جاتی۔ لگتا یہ ہے کہ آسان راستہ چُنا گیا یہ دیکھے بغیر کے آگے دلدل ہے۔ وہ اپوزیشن جو اکتوبر 2021ء تک منتشر تھی اچانک متحد ہوگئی اور وہ حکومت جسے حزبِ اختلاف سے زیادہ مہنگائی کا طوفان بہا لے جانے والا تھا، اچانک اُس ’’بھنور‘‘ سے نکل آئی، سیاسی جماعتوں کے غلط فیصلوں کے نتیجے میں اور 9اپریل 2022ء کے بعد سے مقبول نظر آتی ہے، ایک ہمدردی کی لہر اور دوسری بیرونی سازش کے بیانیےسے۔عمران خان کے ساڑھے تین سال میں سیاسی انتقام کا بیانیہ زیادہ مضبوط ہوا اور کئی ایک مقدمات صرف ’’سبق سکھانے‘‘ کے لیے بنائے گئے۔ مگر سب ہی ایسے نہ تھے۔عدالتوں کے فیصلوں میں تاخیر سے مزید منفی پہلو

نکلے۔ مقدمہ ثابت ہو تو سزا دیں نہیں تو بری کریں اور فائل کو بند کریں۔ ہمارے یہاں فائل بند نہیں ہوتی۔ عمران حکومت نے کوئی بھی مستحکم ادارہ نہیں بنایا جس کے پیچھے سیاسی مصلحتیں کارفرما نظر آتی ہیں۔معاشی صورتحال ہو یا IMFکی سخت شرائط، اتحادیوں کے نخرے ہوں یا جائز شکایات حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہورہا تھا کہ اچانک اتنے برسوں سےمنتشر اپوزیشن متحد ہوگئی۔ یہی سوال تو اہم ہے۔غالباً یہ 2020ء کی بات ہے جب پی پی پی اور PDMکے اس بات پر راستے جُدا ہوگئے کہ ایک طرف سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پہلے عمران خان کے ساتھیوں کی ’’مدد‘‘ سے سینیٹر منتخب ہوئے۔ پھر چیئرمین سینیٹ کا الیکشن ہارے اور مسلم لیگ (ن) کو سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف کا عہدہ دینے کے بجائے خود لے اُڑے۔دوسری طرف پی پی پی نے لانگ مارچ سے پہلے استعفوں کی مخالفت کردی تھی جو ایک مناسب رائے تھی مگر میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن اجتماعی استعفوں کے حق میں تھے۔نہ صرف دونوں کی راہیں جُدا ہوئیں بلکہ تلخیاں بھی بڑھ گئیں۔ پُرانے الزامات دوبارہ تازہ ہوگئے۔عمران خان اس پوری صورتحال سے مطمئن تھے کیونکہ اُس وقت کے ’’ایمپائر‘‘ نتائج اُن کے حق میں دےرہے تھے۔ 2018ء کے الیکشن سے پہلے بلوچستان میں تبدیلی اور بلوچستان عوامی پارٹی کا بنایا جانا سب عمران کے مطابق ’’ضمیر کی آواز‘‘ تھا۔ متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ (ق) اُن کی نظر میں اچھی جماعتیں تھیں۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی ناکامی، ہارس ٹریڈنگ کی بدترین مثال تھی۔ میر حاصل بزنجو کے

الفاظ آج بھی یاد ہیں ’’ہم جیت کر بھی ہار گئے اور فیض یاب نہ ہوسکے‘‘۔ مگر خان صاحب کے لیے اُس وقت یہ سب درست تھا۔جب کہانی پلٹی تو کل کے دوست آج کے دشمن ہوگئے۔ یہ بات عمران کے لیے بھی کہی جاسکتی ہے اور شریفوں اور زرداریوں کے لیے بھی۔ خان صاحب کے لیے مشکلات کا عمل اُس وقت شروع ہوا جب پچھلے سال جولائی یا اگست میں لاہور میں سابق صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان ایک طویل ملاقات میں مستقبل کا ’’پاور شیئرنگ‘‘ فارمولا تیار ہوا جس کی اطلاع خان صاحب کو اُن کی انٹلیجنس نے دی۔دوسری طرف حالات نے پلٹا کھایا تو شریف چوہدریوں کے گھر پہنچ گئےچوہدری شجاعت کی صحت یابی کیلئے دُعا کرنے جس کے بعد ترین بھی اچھے ہوگئے اور علیم خان بھی۔ لہٰذا صرف دو سال کے اخبارات اور ٹی وی پر نشر ہونے والے ان سب کے بیانات اُٹھالیں اور جوڑتے چلے جائیں تو بہت سی چیزیں سمجھ آجائیں گی۔ رہ گئی بات امریکہ کی مداخلت کی تو اُس کا بہت گہرا تعلق افغانستان میں امریکہ کی واپسی کے بعد پاکستان اور تالبان کی حکومت کے درمیان معاملات اور اُس وقت کے ISI چیف کے دورۂ افغانستان اور عمران خان کے مسلسل بیانات سے ہے جس میں تالبان حکومت کی مدد کرنے کی اپیل کی گئی۔ ٹیلیفون کال تو امریکی صدر جوبائیڈن نے صدر بننے کے بعد نہیں کی جو ایک غیر معمولی بات تھی، کہتے ہیں کہ وہ عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی قربت سے ناراض تھے۔اب امریکی سازش ہوئی یا صرف سخت پیغام تھا وارننگ تھی مراسلہ تھا جو بھی تھا وہ غلط تھا اور اُس پر کرارا جواب بنتا ہے۔ یہ الگ بات کہ یہ بات خان صاحب اُس وقت تک چھپاتے رہے جب تک کھیل مکمل طور پر اُن کے ہاتھ سے نہیں نکلا اتحادی ہوں یا منحرفین اس میں خان صاحب کے اپنے رویے کا خاصا ہاتھ ہے مگر اب عمران حکومت میں نہیں کل تک مقبولیت کی نچلی سطح تک تیزی سے جاتا ہوا کپتان اچانک توجہ کا مرکز بن گیا اور کل کی حزبِ اختلاف جس کے ہاتھ عمران کے خلاف ایک مضبوط بیانیہ تھا مہنگائی کا، خراب کارکردگی کا۔سیاسی انتظام کا وہ اب دفاعی پوزیشن میں نظر آرہی ہے۔ حکومت کے پاس آپشن کم ہوتے جارہے ہیں۔کل کون جیتے گا کون ہارے گا یا دونوں شکست کھا جائیں گے اور فاتح کوئی تیسرا ہوگا یہ تو پتا نہیں البتہ اِس ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو کھیل بھی اپنا ہونا چاہئے اور کھلاڑی بھی اپنے۔ ’’میثاق سیاست‘‘ پر آنا پڑے گا۔ سازش اندرونی ہو یا مداخلت بیرونی جمہوریت کے لیے دونوں نقصان دہ ہیں۔ الیکشن کا عمل روکنا نہیں چاہئے نہ ہی کسی وزیراعظم کو غیرضروری طور پر ڈیڑھ سال پہلے آئینی راستے سے ہٹانا چاہئے۔

Categories
آرٹیکلز

آڈیو اور ویڈیو لیکس کا سلسلہ : دور جدید میں جعلی اور اصلی آڈیو یا ویڈیو میں فرق کرنا مشکل کیوں ہے ؟ ایک معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی رضوان احمد طارق اپنے ایک آرٹیکلمیں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری سیاسی تاریخ کے کئی پہلو تاریک ہیں۔ کئی مواقعے پر سیاست دانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ جو کچھ کیا وہ شرم ناک تھا۔آج بھی ہماری سیاست میں بہت کچھ ایسا ہورہا ہے جس کے بارے میں جان کر پاکستان

کا درد رکھنے والوں کے دل سخت دُکھی ہوجاتے ہیں۔ پہلے تو صرف الفاظ گھاو لگاتے تھے، لیکن اب آڈیو اور وڈیو بھی دلوں کو زخمی کرنے لگی ہیں۔ یہ فیصلہ تو بعد میں ہوتا ہے کہ وہ اصلی ہیں یا نقلی، لیکن وہ اپنا کام کرجاتی ہیں۔ ان دنوں پی ٹی آئی کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ عمران خان کی کردار کشی کے لیے جعلی آڈیو اور وڈیو سامنے لائی جاسکتی ہیں۔ ان کے یہ تحفظات کیوں ہیں؟ اس بابت معلوم نہیں ،لیکن یہ ضرور معلوم ہے کہ آج کے دور میں کسی کی جعلی آڈیو اور وڈیو بنانا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں۔ پہلے تو فوٹو شاپ کے ذریعے جعلی تصاویر بنائی جاتی تھیں، لیکن اب کسی کے بارے میں معلومات اور تصاویر حاصل کرکے جعلی آڈیو اور وڈیو بنانے والے سافٹ ویئر بھی آچکے ہیں۔ یہ ایک پوری ٹیکنالوجی بن چکی ہے جسے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا نام دیا گیا ہے۔یہ ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کی مدد سے جعلی تصاویر یا وڈیو تیار کی جاتی ہے۔ پہلے جعلی تصاویر تیار کرنے کے لیے فوٹو شاپ سے کام لیا جاتا تھا جن کی جعل سازی کو پکڑنا کافی آسان ہوتا تھا۔اس کے برعکس ڈیپ فیک ٹیکنالوجی سے تیار کی گئیں تصاویر اور وڈیوز کسی انسان کے ہاتھ کی بنائی ہوئی نہیں ہوتی بلکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کمپیوٹر پر تیارکی جاتی ہیں۔ ڈیپ فیک تیار کرنے والے سافٹ ویئرزکو جتنی زیادہ معلومات دی جاتی ہیں بننے والی تصویر اتنی ہی زیادہ حقیقی لگتی ہے۔ کئی کمپنیز اس ٹیکنالوجی کا تجارتی پیمانے پر بھی

استعمال کر رہی ہیں، مثلاً خبریں پڑھنے میں، اپنے ملازمین کو مختلف زبانوں میں تربیت دلوانے کے لیے، وغیرہ۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی میں فیک، یعنی جعلی کا لفظ استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا بہت غلط استعمال بھی ہو رہا ہے، مثلا بعض مشہور شخصیات کو ڈیپ فیک کے ذریعے نازیبا فلموں میں اداکار بنا دیا جاتا ہے یا پھر سیاست دانوں کی جعلی آڈیو اور وڈیو کے ذریعے اشتعال انگیز اور گم راہ کن بیانات پھیلا دیے جاتے ہیں۔ جتنی دیر میں کوئی ان کے جعلی ہونے کا پتا لگاتا ہے تب تک خاصا نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ ڈیپ فیک کا لفظ آرٹیفیشل انٹیلی جینس کے ڈیپ لرننگ پروگرام سے لیا گیا ہے جس سے مراد یہی لی جا سکتی ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی جوپوری طرح سے نقلی ہو، لیکن اتنی گہری ہوکہ پہچانا نہ جا سکے ۔ اس میں جو ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے اسے جنریٹیو ایڈورسیریل نیٹ ورک generative adversarial network کہا جاتا ہے ! جسے مختصر GAN لکھا اوربولا جاتا ہے۔ اس کا استعمال کر کے آپ کسی انسان کے چہرے کے تاثرات تک کی نقل تیار کر سکتے ہیں جسے پکڑنا بہت مشکل کام ہے کیوں کہ یہ آرٹیفیشل انٹیلی جینس کا کارنامہ ہوتا ہے۔ وہ اسے بنا تو سکتی ہے، لیکن اب تک اس کا کوئی توڑ نہیں تلاش کرسکی ہے۔ اسی لیے فیس بک اور مائیکروسافٹ مل کر ایسا نظام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو یہ پتا چلا سکے کہ وڈیو اصلی ہے یا نقلی، تاکہ اس کی روک تھام کی جا

سکے اور اپلوڈنگ سےپہلے ہی اسے خارج کر دیا جائے ۔یہاں یہ بات کسی حدتک باعث اطمینان ہے کہ اس کا استعمال کوئی عام آدمی بالکل نہیں کر سکتا۔ وڈیو میں موجود انسان کو نیا چہرہ ایسا انسان ہی دے سکتا ہے جو آرٹیفیشل انٹیلی جینس کے استعمال کے بارے میں جانتا ہو ۔ کچھ عرصہ پہلے سامنے آنے والی face app نامی ایک ایپ اس چیز کا ایک سادہ سا نمونہ تھی، لیکن یہ ٹیکنالوجی اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ مرحلہ اس لیے آیا ہے کہ آج مشینیں یہ سمجھ چکی ہیں کہ انسان کیسے برتاو کرتا ہے۔اس قسم کی وڈیوز بنانے کے لیے عام طور پر ایک مخصوص سافٹ ویئر استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈیپ فیک میں آسانی یہ ہے کہ آپ کو کمپیوٹر سافٹ ویئر کو بہت سی معلومات فراہم کرنا ہوتی ہیں، مثلاً آپ کا ہدف دکھتا کیسا ہے، بولتا کیسے ہے، بولتے وقت اس کی حرکات و سکنات کیسی ہوتی ہیں، وہ کس طرح کی صورت حال میں کیا ردِ عمل دیتا ہے، وغیرہ، وغیرہ۔یہ ویڈیو میری نہیں …یہ کوئی چھوٹا فتنہ نہیں۔۔۔ڈیپ فیک بنانے والے سافٹ ویئرز کا انحصار مشین لرننگ اور آرٹیفیشل انٹیلی جینس پر ہوتا ہے اور بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں ڈیپ فیک اور حقیقی وڈیو میں فرق کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ڈیپ فیک کمیونٹیز میں سب سے زیادہ مشہور اداکارہ ایما واٹسن اورنتالی پورٹ مین کی جعلی وڈیوز ہیں۔ لیکن مشل اوباما، ایوانکا ٹرمپ اور کیٹ مڈلٹن کی وڈیوز بھی بنائی گئی ہیں۔

اداکارہ گیل گڈوٹ، جنہوں نے ونڈر وومن کا کردار ادا کیا تھا، ان پر اس ٹیکنالوجی کا سب سے پہلے استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم صرف سیاست اورفحش فلموں کا شعبہ ہی نہیں بلکہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی دفاع، مالیات، مذہب غرض زندگی کے ہر شعبے میں مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ ان ہی مسائل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیس بک اور گوگل نے حال ہی میں اپنے اپنے پلیٹ فارمز پر ڈیپ فیک کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے پلیٹ فارم پر ڈیپ فیک وڈیوز پر پابندی عاید کر دی ہے اور ایسی وڈیوز ہٹا دی جائیں گی۔انسان نے تہذیب و تمدّن کی موجودہ منزل تک تک پہنچنے کے لیے بہت طویل سفر کیا ہے۔ وہ پتھر اور دھات کے زمانے سے نکل کر سائنس اور ٹیکنالوجی کی خیرہ کُن دنیا تک پہنچا ہے۔ اس دوران اس نے وحشی پن ، قبائلیت، جدل اور عدم احساس کے چولے اتارے اورپُرامن بقائے باہمی اورجیو اور جینے دوکے فلسفے اپنائے۔ لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ بیسویں صدی کے اوائل سے اس نے پھر پیچھے کی جانب پلٹنا شروع کیا، انسانی تاریخ کی دو بہت خوفناک لڑائیاں شروع کیں ،مزید نو آبادیاں بنائیں، مزید اقوام کے گلوں میں غلامی کا طوق ڈالا، عالمی طاقتوں کو مزید استحکام ملا اور مزید زمینی وسائل پر قبضے کیے گئے۔ اور نہ جانے کیا کیا ہوا۔پھر تاریخ کا دھارا آگے بڑھا تو آزادی کی تحریکوں نے سر اٹھایا، شورشیں برپا ہوئیں، متعدد اقوام نے آزادی حاصل کی اور سکون کے کچھ وقفے آئے۔

لیکن پھر ایک نئی اصطلاح سامنے آئی، یعنی’’ کولڈ وار ‘‘۔ یوں لڑائی کے نئے میدان سجے۔ پھر کولڈ وار ختم ہوئی تو ایک بار پھر ملکوں پر فوج کشی کا سلسلہ چلا۔ وہ ختم ہوا تو اقتصادی لڑائی اور اقتصادی غلامی کے حربے سامنے آئے۔آج دنیا عالم گیریت کے ماحول میں سانس لے رہی ہے، لیکن بدامنی کا عفریت اس کے سامنے بے لباس ہو کر رقض کر رہاہے اور علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے چند اقوام اور ادارے اقوامِ عالم کے ذہن اور ان کی اقتصادیات پر قابض ہیں۔یہ سب کچھ تو ہوتا رہا ،لیکن عام تاثر یہ رہا کہ انسان حیوانی جبلّت ترک کرتا جارہا ہے۔مگر بالخصوص بیس ،پچّیس برسوں میں دنیا بھر میں جو کچھ ہوا ہے اسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ تہذیب اور تمدّن کی بہت سی سیڑھیاں چڑھ جانے کے باوجود انسان جب چاہتا ہے اپنے اصلی چولے میں سامنے آجاتا ہے۔ خصوصا سیاست کے شعبے میں آج دنیا بھر میں جو مظاہر سامنے آرہے ہیں وہ بعض اوقات انسان کی جبلّتوں کا پھر سے مطالعہ کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ خود اپنے ملک میں دیکھ لیں کہ دس بارہ برسوں سے یہاں الفاظ کی کیسی لڑائی جاری ہے۔ جلسے جلوس ہوں یا پارلیمان، ایسی زبان استعما ل کی جارہی ہے کہ خود اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئر مین سینیٹ کو اراکین کو متنبہ کرنا اور ان جملوں کو کارروائی سے حذف کروانا پڑتا ہے۔ ذرا دیکھیں تو یہاں کیا کیا ہوتا رہا ہے:اپریل 2012کے ابتدائی ایّام میں انتخابی مہم جاری تھی۔اس دوران پاکستان

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اوراس وقت کے صدرمملکت، آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ مقبولیت کے دعوےدار شریف برادران کے پاس اتنے بھی لوگ نہیں تھے کہ اپنے والد کا جنازہ پڑھوا لیتے۔ ان کا جنازہ بھی داتا دربار لے جانا پڑا۔ شریف برادران کو دی گئی چمک میری ہے۔ جب چاہوں اسے چھین سکتا ہوں۔ لاہور پیپلز پارٹی کا ہے، شریف برادران تو خود مہاجر ہیں۔ اتحادیوں کے ساتھ مل کر الیکشن لڑیں گے اور آنے والی وفاقی اور صوبائی حکومتیں پیپلز پارٹی اور ان کے اتحادیوں کی ہوں گی۔افسوس کی بات یہ ہےکہ آج کی طرح ان دنوں بھی بڑی جماعتوں کے درمیان قوم کو درپیش سنگین مسائل پر کوئی بحث نہیں ہو رہی تھی۔ آصف علی زرداری نے جس انداز میں اپنے حریف میاں نواز شریف پر اٹیک کیا اس کا جواب ترکی بہ ترکی آیا۔ الفاظ کی سیاسی لڑائی سے ظاہر ہوتا تھا اور ہے کہ پاکستان کی سیاست میں مقابلہ سیاسی جماعتوں، ان کے منشور اور پروگرام کے درمیان نہیں بلکہ شخصیات یا خاندانوں کے درمیان ہے۔ آصف علی زرداری نے گورنر ہاوس لاہور میں جو انداز تخاطب اختیار کیا تھا وہ یقیناً کسی صدر مملکت کے شایان شان نہیں تھا، بلکہ وہ جذبات کی رو میں بہہ کر ایسی بات بھی کہہ گئے جس کی بعد میں ان کے ترجمان کو تردید کرنی پڑی تھی۔تلخ حقیقت اور عام خیال یہ ہے کہ پاکستان میں سیاست کا مقصد اقتدار میں آکر بدعنوانی کرنے اور فوائد سمیٹنے کے سوا کچھ نہیں۔ ہماری سیاست کا کوئی اصول نہیں اور

جو لوگ اپنی جماعتوں میں اصولوں کی بات کرتے ہیں ان پر زمین تنگ کر دی جاتی ہے۔میاں نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کے ادوارِ حکومت میں دونوں نے ڈٹ کر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچیں اور ذاتیات تک کو سیاست کے میدان میں لایا گیا۔پھر سیز فائر ہوا۔ پھر زرداری صاحب اور میاں صاحب کا ہنی مون پیریڈ آیا۔جب وہ ختم ہوا اور انتخابی دنگل کے لیے میدان سجا تو عوام نے میاں شہباز شریف کو آصف علی زرداری کے بارے میں یہ کہتے سنا کہ پھاڑ کر لوٹی ہوئی دولت نکالوں گا، سڑکوں پر گھسیٹوں گا، وغیرہ وغیرہ ۔ جواب میں وہ یوں گویا ہوئے :’’مجھے شریفوں کی گردن سے سریا نکالنا آتا ہے‘‘۔ اسی دوران عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی تیزی سے آگے آنے لگی۔پچھلے اور اس سے پچھلے انتخابات میں عمران خان نے بہت جارحانہ انداز میں انتخابی مہم چلائی اور پھر مسلم لیگ نون کی حکومت کے خلاف طویل دھرنا بھی دیا۔ انہوں نے متعدد مواقعے پر بڑے میاں صاحب کو اوئے ،نواز شریف، کہہ کر مخاطب کیا اور غالبا الیکشن کمیشن نے شکایت ہونے پر انہیں اس طرح مخاطب کرنے سے روکا بھی۔ ان کی جماعت کے لوگوں نے میاں صاحب کو مودی کے یار کہہ کر بھی مخاطب کیا۔ جواب میں مسلم لیگ نون کے لوگوں نے انہیں امپائر کے اشارے پر ناچنے والے، نیازی کا خطاب دیا۔ پھر موجودہ پارلیمان میں اپوزیشن نے ان کے لیے ایک خاص اصطلاح ’’سلیکٹیڈ‘‘ کی بنائی تھی جس پر وہاں کافی تلخ کلامی ہوتی تھی۔چند برسوں

سے ملک کی سیاست میں خفیہ طور پر ریکارڈ کیے گئے آڈیو اور وڈیو کلپس کا کافی زور ہےجو وقتا فوقتا ایک کے بعد ایک کرکے منظرِ عام پر لائے گئے۔ کچھ عرصہ قبل سابق چیف جسٹس ،ثاقب نثار کی اور پھر مریم نواز کی آڈیو ریکارڈنگز سامنے آئیں۔ اگلے مرحلے میں لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر133 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں ووٹوں کی مبینہ خرید و فروخت کے بارے میں سامنے آنے والی وڈیوز نے سیاسی میدان کو گرمایا۔اس سے قبل،نیب کے چیئرمین ، جاوید اقبال کی مبینہ طورپر ایک نجی نوعیت کی آڈیو، وڈیو ریکارڈنگ منظرِ عام پر آئی تھی۔ پھر میاں نواز شریف کو سزا سنانے والی احتساب کی عدالت کے منصف ،ارشد ملک کی مبینہ وڈیو نے سیاست میں کافی ہلچل پیدا کی تھی۔ یہ آڈیو، وڈیو ریکارڈنگز منظرِ عام پر لائی گئیں تو ہر محفل اور ہر ٹی وی چینل پر اس بارے میں گفتگو کی جانے لگی۔پھر اس بارے میں تحقیق کیے جانے کا شور اُٹھا۔ چیئرمین نیب سے متعلق مبینہ ریکارڈنگ منظرِ عام پر آنے کے فوری بعد حکومت کی ترجمان نے اس کا فورینزک ٹیسٹ کرانے کا عندیہ دیا، لیکن بعد میں یہ معاملہ عدلیہ پر چھوڑ دیا گیا تھا ۔ دیگر حلقے بھی اس ریکارڈنگ کا فورینزک ٹیسٹ کرانے کی باتیں کررہےتھے۔ان حالات میں عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال ابھرتاہے کہ فورینزک ٹیسٹ کس بلا کا نام ہے اور یہ کس طرح کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب بہت سے افراد فورینزک سائنس کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات تو رکھتے ہیں، لیکن وہ جرائم کی تفتیش اور تحقیق کے لیے استعمال ہونے والی اس جدید

سائنس کے بارے میں مزید جاننے کے خواہش مندد کھائی دیتے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ سائنس کیا ہے، کس طرح کام کرتی ہے اور آڈیو، وڈیو ریکارڈنگ کی فورینزک جانچ کس طرح کی جاتی ہے۔پاکستان کی سیاست میں جس آڈیو ریکارڈنگ نے غالبا سب سے زیادہ ہلچل پیدا کی وہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج اور سابق اٹارنی جنرل ،ملک محمدقیوم کی تھی۔ جسٹس ملک محمد قیوم جو 1998میں لاہور ہائیکورٹ کی احتساب بینچ کے جج تھے اور پرویز مشرف کے دور میں اٹارنی جنرل بنائے گئے۔ ملک قیوم نے سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی، لیکن سزا سنانے کے کچھ عرصے بعد پیپلز پارٹی نے ان کے آڈیو ٹیپس جاری کیے جن میں ان کی اس وقت کے وزیر قانون خالد انور، احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمٰن اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ساتھ گفتگو موجود تھی۔اس گفتگو کے مطابق جسٹس ملک قیوم نے وزیراعظم نواز شریف کی خواہش اور دبائو پر محترمہ بےنظیر بھٹو کو سزا سنائی تھی۔27اپریل 1998کو ملک قیوم نے محترمہ بےنظیر بھٹو اور ان کے شوہر کو سزا سنا ئی تو شہباز شریف نے ان کا شکریہ ادا کیا اور یہ شکریہ بھی ریکارڈ ہو گیا۔ کسی طرح یہ ٹیپس محترمہ بےنظیر بھٹو تک پہنچ گئے۔ ان میں وہ ٹیپ بھی تھا جن میں ملک قیوم کی اپنی اہلیہ کے ساتھ گفتگو ریکارڈکی گئی تھی اور وہ اہلیہ کو حکومت کے دبائو سے آگاہ کر رہے تھے۔ بعد ازاں ملک قیوم نے سن دو ہزار ایک میں استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس وقت ان پر پیشہ ورانہ بد دیانتی کا الزام لگایا گیا تھا۔

ملک قیوم کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کی بینچ نے سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کوبدعنوانی کے مقدے میں پانچ سال قید، چھیاسی لاکھ ڈالرزجرمانے، رکنِ پارلیمان بننے پر پانچ سال کی پابندی اور ان کی جائیداد ضبط کرنے کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو نے مارچ انیس سو ننانوے میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی تھی۔ فروری دو ہزار ایک کو برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے بتیس ٹیپس کی بنیاد پر ایک تفصیلی خبر شائع کی جس سے یہ ظاہر ہوا کہ ملک قیوم نے بے نظیر اور آصف زرداری کو سیاسی بناء پر سزا سنائی تھی۔ان ریکارڈنگز میں ملک قیوم نواز شریف حکومت میں احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمٰن سے سزا کے سلسلے میں حکم مانگ رہے ہیں۔ ملک قیوم نے پوچھا: ’’آپ بتائیں کہ آپ کتنی سزا دینا چاہتے ہیں، اس (بینظیر) کو‘‘؟ یہ ریکارڈنگ سامنے آنے پر سپریم کورٹ نے بے نظیربھٹو کی اپیل کے حق میں فیصلہ دیا اور ہائی کورٹ کی سزا ختم کردی تھی۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے لکھا کہ ملک قیوم نے یہ فیصلہ سیاسی بناء پر دیا تھا۔ پھر سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیشہ ورانہ بد دیانتی کے الزامات سامنے آنے پرملک قیوم نے استعفیٰ دے دیا تھا۔اس کے بعد فروری 2008 میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان کےسابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کا ایک مبینہ آڈیو ٹیپ اپنی ویب سائٹ پر پیش کیا تھا جس میں وہ

نامعلوم شخص کو آئندہ انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہونے کا بتا رہے تھے۔ تاہم اٹارنی جنرل نے ’’یہ ریکارڈنگ جعلی ہے‘‘ کہہ کر اس کی تردید کی تھی۔ اس ریکارڈنگ میں ملک قیوم مبینہ طور پر ایک نامعلوم شخص کو مشورہ دے رہے تھے کہ وہ کس سیاسی جماعت سے امیدوارکا ٹکٹ لینے کے لیے رجوع کرے۔بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ، ہیومن رائٹس واچ کا کہنا تھا کہ یہ ریکارڈنگ اکیس نومبر کو میڈیا کے ایک نمائندے کے ساتھ انٹرویو کے دوران کی گئی تھی۔ تنظیم کے مطابق یہ ریکارڈنگ انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے ایک دن بعد کی گئی تھی۔ انتخابات آٹھ جنوری کو منعقد ہونے تھے، لیکن سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی اچانک موت کے بعد یہ انتخابات موخر کردیے گئے تھے۔ایسا نہیں ہے کہ دنیا میں کوئی بھی شخص ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کی گئیں تصاویر، آڈیو اور وڈیوکی شناخت نہیں کرسکتا۔ فورینزک سائنس کے ماہرین نے اس کا حل تلاش کرلیا ہے،لیکن ظاہر ہے کہ اس کے لیے تربیت یافتہ افراد اور آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔آڈیو ویژول اینالسس: اس شعبے میں جدید صوتی و بصری آلات کی مدد سے کسی مشکوک آواز یا تصویر کو اس حد تک بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسے شناخت کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ کوئی جرم ہونے کے درست مراحل کی نقشہ کشی کی جاتی ہے یا انہیں واضح کیا جاتا ہے۔ڈیجیٹل فورینزک: اس شعبے میں جدید آلات کی مدد سے ڈیجیٹل میڈیا، آڈیو، وڈیو، سیل فونز، سِم کارڈز سے نہ صرف ڈیٹا حاصل اور شناخت کیا جاتا ہے بلکہ اس کا

تجزیہ بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ای میلز وغیرہ کا بھی سراغ لگایا جاتا ہے، اسےشناخت کیا جاتا ہے اور اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔جب کسی ڈیجیٹل آلے(مثلا کیمکورڈر،موبائل فون ،ڈیجیٹل ریکارڈر وغیرہ) سے کوئی آواز،تصویر یا مو وی ریکارڈ کی جاتی ہے تو مختلف کم اور زیادہ وولٹیجز بائنری کوڈ کی صورت میں صفر اور ایک کی سیریز میں محفوظ ہوجاتے ہیں جو کمپیوٹرکےلیے قابلِ فہم معلومات ہوتی ہیں۔ ہر ڈیجیٹل ریکارڈرچلائے جانے پر بائنری کوڈ کی کنورژن کے ذریعے آڈیو اور وڈیو کے سگنل دوبارہ پیدا کرتا ہے یعنی ری پروڈیوس کرتاہے۔ جب کسی ریکارڈنگ میں ریکارڈنگ کے بعد کسی بھی قسم کی ردوبدل کی جاتی ہے تو ان سگنلز میں تبدیلی آجاتی ہے جس کاماہرین جدید آلات کی مدد سے با آسانی سراغ لگالیتے ہیں۔ اس کے لیے وہ کراس پلس مانیٹر،فریکوئنسی جنریٹر، وڈیو سگنل جنریٹر،اوس سی لو ا سکو پ ،ویووفارم مانیٹر،ویکٹر اسکوپ، الائنمنٹ ٹیپس اور میگنیٹک ڈیولپنگ سلوشنز استعمال کرتے ہیں۔فورینزک جانچ کے دوران ماہرین صرف تیکنیکی آلات پر انحصار نہیں کرتے بلکہ صوتیات ،ادائیگی،لہجے کے اتار چڑھاؤ، گفتگو کے انداز، گفتگو کے دوران آنے والے وقفوں وغیرہ کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ بعض صورتوں میں اس کام کے لیے مذکورہ شعبوں کے بہت خاص ماہرین کی مدد بھی حاصل کی جاتی ہے۔جانچ کے دوران سب سے پہلے فراہم کردہ ریکارڈنگ کی صحت اور معیار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اگر ریکارڈنگ کا اصلی نمونہ پیش کیا گیا ہو تواس سے ماہرین کو جانچ پڑتال میں کافی سہولت ہوتی ہے اور ایسی جانچ کے نتائج قانونی طورپر زیادہ قابلِ اعتبار تصورکیے جاتے ہیں۔ اگر ریکارڈنگ کا معیار خراب ہوتو اسے بہتر بنانے کے لیے کئی اقسام کے آلات استعمال کیے جاتے ہیں، جنہیں اینہانسر کہا جاتا ہے۔ یہ آلات آواز اور تصویر کا معیار بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ شور کم کرنے، ارد گرد کی آواز دبانے، ارد گرد کی اشیا کا رنگ کم یا زیادہ کرنے، ریکاڈنگ میں موجود اشخاص کے ملبوسات کا رنگ اور ان پر موجود ڈیزائن یا بٹن وغیرہ کو زیادہ واضح کرنےاوران کا رنگ تبدیل کرنےکی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ان سے اسی طرح کے کئی اور کام بھی لیے جاتے ہیں۔ اس کام کے لیے ماہرین مختلف اقسام کے کمپیوٹر سافٹ ویئرز استعمال کرتے ہیں ، جنہیں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی زبان میں فلٹرز کہا جاتا ہے۔

Categories
آرٹیکلز

صدر مملکت عارف علوی اور گورنر پنجاب عمر سرفرازچیمہ کی مسلسل آئین شکنیاں ۔۔۔۔آئین اس حوالے سے کیا کہتا ہے ؟ حقائق ملاحظہ کریں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سعید آسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔میں ہی نہیں‘ ملک کا ہر صاحب الرائے اور ہوش و خرد رکھنے والا ہر فرد حیران و ششدر ہے کہ سابق حکمران پی ٹی آئی کی قیادت چھینا جھپٹی اور مغلطات والے جس بدتمیزی کلچر کو دانستہ طور پر کسی اور طے شدہ ایجنڈے

کے تحت پروان چڑھا رہی ہے اور جس طرح آئین و قانون کی عملداری کو اپنی انا کی ٹھوکریں ماری جارہی ہیں‘ اس سے آگے چل کر ہمارے معاشرے میں شرف انسانیت کی کوئی رمق باقی رہ بھی پائے گی یا نہیں اور ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کے بول بالا کا کوئی تصور پختہ ہو بھی پائے گا یا نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ پی ٹی آئی قیادت کو اور اسکے اشارے پر ملک کے سرزمین بے آئین ہونے کا نقشہ بنانے والے صدر مملکت اور گورنر پنجاب کو من مانیوں سے کیسے روکا جائے‘ سوال یہ ہے کہ آئین و قانون سے روگردانی والی ان من مانیوں کے ہمارے ملک و معاشرہ پر کیا اثرات مرتب ہونگے اور ہماری نئی نسل کے ذہنوں میں آئین و قانون‘ ریاست اور ریاستی اداروں کے احترام کا کوئی تصور راسخ بھی ہو پائے گا یا نہیں؟ اس تناظر میں پی ٹی آئی قیادت اور اسکے جملہ مصاحبین کی پیدا کی جانیوالی اتھل پتھل کی موجودہ صورتحال ہمارے مستقبل اور معاشرتی اقدار کے حوالے سے انتہائی سنگین ہو رہی ہے جس کا بہرحال کوئی نتیجہ نکالنا اور اسے منطقی انجام تک پہنچانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے ورنہ پھیلتے‘ پروان چڑھتے بدتمیزی کلچر میں کسی کا کچھ بھی محفوظ نہیں رہے گا اور یہ انسانی معاشرہ عزوشرف والے تصور سے بھی کہیں اور نکل جائیگا۔ پی ٹی آئی کی آئینی جمہوری طریقے سے اقتدار سے محرومی کے بعد اس وقت بھی اسکے پاس دو اہم ترین وفاقی مناصب موجود ہیں۔

ایک صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی جنہیں پی ٹی آئی کے دور حکومت کے آغاز ہی میں مروجہ آئینی طریقہ کار کے مطابق صدر مملکت کے منصب پر منتخب کیا گیا اور دوسرے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ ہیں جنہیں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے چودھری محمد سرور کو گورنر کے منصب سے مستعفی کراکے صدر کے دستخطوں کے ساتھ گورنر پنجاب کے منصب پر فائز کیا۔ گورنر کا منصب بھی صوبے میں وفاق کے نمائندے والا ہوتا ہے جنہوں نے وفاق کی جانب سے موصولہ ہدایات کی روشنی میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوتی ہیں اور یہ ذمہ داریاں سراسر آئین کے دائرے میں رہ کر سرانجام دی جاتی ہیں۔ یہ دونوں مناصب کسی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوتے ہیں اس لئے آئین میں صراحت کے ساتھ یہ وضاحت کی گئی ہے کہ صدر اور گورنر وفاق کے نمائندے کے طور پر آئین میں متعینہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرینگے‘ چنانچہ ان مناصب پر موجود کوئی شخص کسی پارٹی کا رکن یا رکن اسمبلی و سینٹ نہیں ہو سکتا۔ چودھری محمد سرور سینیٹر کے منصب پر منتخب ہوئے تھے اور جب انہیں گورنر کے منصب کیلئے نامزد کیا گیا تو سب سے پہلے انہیں سینٹ کی رکنیت قربان کرنا پڑی۔ اسی طرح ڈاکٹر عارف علوی صدر مملکت کے منصب پر نامزد ہونے سے پہلے رکن قومی اسمبلی تھے جنہیں صدر کے انتخاب میں حصہ لینے کیلئے اپنی اسمبلی کی رکنیت چھوڑنا پڑی جبکہ ان مناصب پر فائز ہونے کیلئے پارٹی کی رکنیت بھی چھوڑنا پڑتی ہے۔ مگر اس وقت صدر اور گورنر پنجاب دونوں اپنے آئینی مناصب کی بھد اڑاتے

ہوئے پی ٹی آئی قائد عمران خان کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں جس کا مقصد ملک میں بدامنی‘ انارکی‘ لاقانونیت کو فروغ دینا اور خود کو آئین و عدالت سے بالاتر بنانا ہے۔ یہ ایجنڈا تعمیری کے بجائے تخریبی ایجنڈا ہے جسے صدر علوی اور گورنر عمر سرفراز اپنے آئینی مناصب کے بل بوتے پر آگے بڑھا رہے ہیں اور ہر صورت تعمیل کی متقاضی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی ایڈوائس کو رعونت کے ساتھ ردی کی ٹوکری میں پھینک رہے ہیں۔ عمر سرفراز چیمہ کی تو آئین کے تقاضے کے مطابق گورنر شپ آج بروز منگل ختم ہو جائیگی کیونکہ وزیراعظم کی جانب سے کوئی ایڈوائس صدر مملکت کو موصول ہو جس پر صدر کو تحفظات ہوں تو وہ دس دن کے اندر اندر وہ ایڈوائس نظرثانی کیلئے واپس وزیراعظم کو بھیجیں گے اور پھر وزیراعظم کی جانب سے وہی ایڈوائس دوبارہ بھیجے جانے پر صدر مملکت کو ہر صورت اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا بصورت دیگر وہ ایڈوائس دس روز گزرنے کے بعد ازخود روبہ عمل ہو جائیگی۔ اس تناظر میں عمر سرفراز چیمہ کو گورنر پنجاب کے منصب سے ہٹانے کی وزیراعظم کی دوسری بار بھجوائی گئی ایڈوائس کو بھی آج دس روز پورے ہو جائیں گے جسے صدر نے درخوراعتناء نہ سمجھا تو عمر سرفراز چیمہ آج ازخود گورنر کے منصب سے فارغ ہو جائیں گے۔ انہوں نے اپنی گورنر شپ کے دوران آئین و قانون اور اعلیٰ عدلیہ کی جس طرح بے توقیری کی اسکی بنیاد پر تو ان کیخلاف سیدھا سیدھا آئین سے بغاوت والا دفعہ 6 کا کیس بنتا ہے

اور میری رائے میں تو عمر سرفراز کے معاملہ میں آئین و قانون کی سربلندی اور عدالتی فیصلوں کے احترام کیلئے ٹیسٹ کیس بنانا چاہیے تاکہ آئندہ کسی کو آئین سے ایسی سرکشی کی جرأت نہ ہو جنہوں نے آئین سے سرکشی کی یہ انتہاء کی کہ آئین کی تشریح کی مجاز اتھارٹی ہائیکورٹ کے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے صادر کئے گئے فیصلہ کی بنیاد پر ان کیخلاف صدر کو ریفرنس بھجوانے کا عندیہ تک دے ڈالا جبکہ بذات خود انہوں نے وزیراعلیٰ کا حلف لینے کی آئینی ذمہ داری سے بھی پی ٹی آئی قیادت کے ایجنڈے کے عین مطابق انکار کیا اور اس طرح آئین سے انحراف کے مرتکب ہوئے۔ انہیں اس حوالے سے جلد یابدیر بہرصورت سزا وار ہونا ہے جبکہ صدر عارف علوی کا معاملہ اس حوالے سے گھمبیر ہو رہا ہے کہ وہ آئین و قانون کی عملداری کے درمیان پھانس بن کر اٹکے ہوئے ہیں۔ صدر مملکت کے منصب پر آئین کی دفعہ 41 کے تحت باقاعدہ انتخاب عمل میں آتا ہے اور اس منصب پر فائز کسی شخصیت کو آئین کی دفعہ 47 میں متعینہ طریقہ کار کے مطابق ہی فارغ کیا جاسکتا ہے‘ ماسوائے اسکے کہ وہ آئین کی دفعہ 44 کے تحت خود اپنا استعفیٰ سپیکر قومی اسمبلی کو نہ بھجوا دیں۔ دفعہ 47 کی ذیلی دفعات ایک اور دو میں وضع کئے گئے طریق کار کے مطابق صدر کو یا تو اس بنیاد پر انکے منصب سے ہٹایا جا سکتا ہے کہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر اس منصب پر کام کرنے کے اہل نہیں رہے یا انکے کسی مس کنڈکٹ اور آئین کی کسی سنگین خلاف ورزی کے الزام کے تحت صدر کا مواخذہ کیا جا سکتا ہے۔

ان ہر دو صورتوں میں قومی اسمبلی یا سینٹ میں مجموعی ارکان کے ایک چوتھائی ارکان کے دستخطوں کے ساتھ نوٹس جمع کرایا جاتا ہے جس پر سپیکر دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس 14 دن کے اندر اندر طلب کرتے ہیں جس میں مجموعی ارکان کی دو تہائی اکثریت صدر کو ہٹانے یا انکے مواخذہ کی تحریک منظور کرلے تو وہ اپنے منصب سے فارغ ہو جاتے ہیں۔ اب موجودہ سیٹ اپ کو مشکل یہ آن پڑی ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان کی عدم فعالیت کے باعث مجموعی ارکان کی دو تہائی اکثریت صدر کے مواخذہ کیلئے یا انکی ذہنی یا جسمانی نااہلیت کے باعث انہیں ہٹانے کی قرارداد کی منظوری کیلئے دتیاب نہیں ہو پائے گی۔ اس صورتحال میں تو ڈاکٹر عارف علوی اپنی آئینی میعاد مکمل ہونے تک صدر کے منصب پر برقرار رہیں گے اور آئین سے سرکشی والا اپنا طرز عمل برقرار رکھ کر امور حکومت و مملکت میں خلل ڈالتے رہیں گے۔ اس لئے آئین کی شارح کی حیثیت سے یہ معاملہ بھی بالآخر ملک کی اعلیٰ عدلیہ (سپریم کورٹ) کو ہی طے کرنا ہوگا جہاں صدر کیخلاف آئینی درخواست دائر کرنے کا وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز عندیہ بھی دیا ہے۔ بے شک صدر مملکت کو امور حکومت و مملکت کی انجام دہی کے معاملہ میں مکمل آئینی تحفظ حاصل ہے تاہم اس منصب پر بیٹھ کر کوئی شخص آئین کو توڑنا موڑنا شروع کر دے‘ عدالتی فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے یا اس سے 302جیسا کوئی سنگین جرم سرزد ہو جائے تو ان جرائم سے متعلق قوانین اور آئینی دفعات بھی تو بہرصورت عملداری کی متقاضی ہوں گی۔ چونکہ ان آئینی مناصب پر متمکن شخصیات نے بھی پہلی بار آئین و قانون سے سرکشی اور عدالتی فیصلوں کی تحقیر کی نادر مثالیں قائم کی ہیں اس لئے انکی آغاز کی گئی اس بدخصلتی کو فروغ پانے سے روکنے کیلئے بھی ریاستی اتھارٹی کو آئین و قانون میں سے راستہ نکالنا پڑیگا۔ ورنہ بھلا یہاں کسی آئین‘ کسی قانون‘ کسی ادارے کا کوئی تقدس اور اسکی اتھارٹی قائم رہ پائے گی؟ ہمیں آئین و قانون کی عملداری کو بہرصورت راستہ دینا ہے تاکہ آئین و قانون سے سرکشی کا راستہ ہمیشہ کیلئے بند کیا جاسکے۔

Categories
آرٹیکلز

ولی خان کو تاحکم ثانی محبت وطن قرار دے دیا گیا : برسوں قبل ایک پاکستانی روزنامے کے پہلے صفحے پر چھپنے والی اس خبر کا پس منظر آپ کو حیران کر ڈالے گا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔وقت یا سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ ہمارے ہاں حکومتیں بدلنے کے ساتھ ’’غداروں‘‘ کی فہرستیں بھی تبدیل ہوجایا کرتی ہیں۔چند سیاست دان اگرچہ اس ضمن میں ’’دائمی‘‘ شمار ہوتے رہے ہیں۔ مثال کے طورپر جب پانچویں جماعت سے میرے

والد مرحوم نے مجھے بآواز بلند ہمارے گھر آنے والے تین اخبارات پڑھنے کو راغب کیا تو میٹرک تک پہنچتے ہی میں نے طے کرلیا تھا کہ پاکستان میں خان عبدالولی خان نام کے ایک سیاستدان ہیں۔وہ باچاخان کے فرزند ہیں۔یہ خاندان قیام پاکستان کا شدید مخالف تھا۔1947کے بعد بھی اپنی سوچ پر قائم رہا۔ ہمارے ازلی دشمن بھارت سے ’’نوٹوں کی تھیلیاں‘‘ وصول کرتے ہوئے آج کے صوبہ خیبرپختونخواہ کو ’’پختونستان‘‘ بناکر ملک سے جدا کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ولی خان صاحب کے تاہم ایک نامور پنجابی دوست بھی تھے۔ نام ان کامیاں محمود علی قصوری تھا۔لاہور کے نامور وکیل تھے۔ولی خان جب بھی ہمارے شہر آتے تو ٹمپل روڈ پر واقع ان کے گھر مہمان ہوتے۔ میرے والد چند بارمجھے ہمراہ لے کر ان سے ملنے گئے۔دل ہی دل میں حیران ہوتا کہ ’’غدار‘‘ کے ساتھ ایسی محبت کیوں برتی جارہی ہے۔سکول کے بعد میں کالج پہنچا تو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد والے پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت قائم ہوچکی تھی۔ صحافت کے شوق میں اکثر اخبارات کے دفاتر چلاجاتا اور فالتو وقت میں اپنی خدمات پروف ریڈنگ یا ترجمے کے لئے بلامعاوضہ پیش کرنے کو بے چین رہتا۔ ان ہی دنوں افغانستان میں سردار دائود نے اپنے کزن ظاہر شاہ کی بادشاہت کے خلاف کامیاب ہوئی بغاوت کی بدولت اس ملک کو ’’جمہوری‘‘ بنانے کا اعلان کردیا اور خود اس کا صدر بن گیا۔جو ’’خبریں‘‘ مجھے انگریزی سے اردو ترجمہ کرنے کو ملتیں بیشتر ہماری سرکار کی چلائی نیوزایجنسی اے پی پی سے جاری ہوا کرتی تھیں۔

ان کے انبار نے مجھے بتایا کہ سردار دائود کٹر پختون قوم پرست ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ مشرقی پاکستان گنوادینے کے بعد ریاست پاکستان بہت کمزور ہوچکی ہے۔’’پختونستان‘‘ کے قیام کے لئے ’’اب نہیں تو کبھی نہیں‘‘ والا وقت آگیا ہے۔اس نے ولی خان اور ان کی جماعت کی دیدہ دلیرسرپرستی شروع کردی ہے۔پاکستان میں ابتری وخلفشار پھیلانے کے لئے تخریب کاروں کے ذریعے بم وارداتیں بھی شروع کروادی گئی ہیں ۔ بالآخر بھٹو حکومت نے ولی خان اور ان کی نیشنل عوامی پارٹی کوسبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ اس جماعت کی سرکردہ قیادت پہلے نظربند اور بعدازاں باقاعدہ گرفتار کرلی گئی۔ان دنوں کے سپریم کورٹ میں مذکورہ جماعت کو ملک دشمنی کے الزامات کے تحت ’’کالعدم‘‘ ٹھہرانے کے لئے ریفرنس بھی دائر ہوا۔ بالآخر سپریم کورٹ نے اسے’’غدار‘‘ ٹھہرادیا۔اس فیصلے کے نتیجے میں ’’حیدر آباد ٹربیونل‘‘ کے نام سے ایک مقدمے کا آغاز ہوا تانکہ ’’غداروں‘‘ کو عبرت کا نشان بنادیا جائے۔جولائی 1977میں لیکن بھٹو حکومت جنرل ضیاء کے لگائے مارشل لاء نے فارغ کردی۔ ذوالفقار علی بھٹو گرفتار کرلئے گئے۔ان کے خلاف لاہور میں ہوئے ایک 302 کے کیس کے حوالے سے روزانہ کی سماعت کے ذریعے مقدمے کا آغاز بھی ہوگیا۔بھٹو صاحب لاہور کی پرزن میں تھے تو ایک روز اخبارات کے صفحہ اوّل پر جنرل ضیاء ولی خان کو ایوانِ صدر میں مسکراتے ہوئے ملتے دکھائے گئے۔پشاور میں ہمارے ایک دل جلے اور مردقلندر ٹائپ صحافی ہوا کرتے تھے۔ یوسف لودھی ان کا نام تھا۔ نوکری انہیں دینے کو کوئی صحافتی ادارہ تیار نہیں ہوتا تھا۔بے روزگاری سے اکتاکر انہو ں نے اپنے خاندان اور دوستوں کی مدد سے انگریزی

کا ایک ہفت روزہ نکال کر ’’خودکفیل‘‘ صحافی بننے کی کوشش کی۔تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال تھے۔جنرل ضیاء کی ولی خان سے ملاقات والی تصویر دیکھی تو اسے اپنے ہفت روزے کے سرورق پر کارٹون کی صورت چھاپا۔اس کے نیچے انگریزی میں کیپشن لکھا جس کا سادہ ترجمہ ہے۔ :’’ولی خان کو تا حکم ثانی محب وطن قرار دے دیا گیا ہے‘‘۔ ولی خان اور یوسف لودھی اس دنیا میں نہیں رہے۔وطن عزیز میں لیکن سیاستدانوں(اور اب ’’ذہن ساز‘‘ تصور ہوتے صحافیوں کو بھی ‘‘ تاحکم ثانی غدار یا محب وطن بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔مذکورہ تناظر میں 2011سے ہمارے ہاں ملک کو نیک راہ پر چلانے کی دعوے دار قوتوں نے بالآخر دریافت یہ کیا کہ کرکٹ کی وجہ سے مشہور ہوئے عمران خان صاحب کی صورت بالآخر وہ ’’دیدہ ور‘‘ نمودار ہوگیا ہے جس کے لئے نرگس نامی پھول (کوئی اداکارہ نہیں) کو ہزاروں سال رونا پڑتا ہے۔کرکٹ سے ریٹائرہونے کے بعد انہوں نے انسانی ہمدردی میں سکولوں کے بچوں کو بھی لاہورمیں ایک ایسا ہسپتال قائم کرنے کی خاطر چندہ جمع کرنے کے لئے متحرک کیا جو جدید ترین آلات اور سہولتوں کے ساتھ کینسر جیسے موذی مرض کا علاج کرسکتا تھا۔ 1996سے وہ سیاست میں بھی آچکے تھے۔روایتی سیاستدان ان کی جماعت کا تمسخر اڑاتے رہے۔2011میں لیکن روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائے ذہن سازوں کو ’’خبر‘‘ مل گئی کہ وطن عزیز میں سیاست کے نام پر اقتدار میں باریاں لینے والے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کا یک وتنہا متبادل عمران خان صاحب جیسا کرشمہ ساز ہی ہوسکتا ہے

۔وزیر اعظم کے منصب تک پہنچنے کے لئے اگرچہ انہیں اگست 2018تک انتظار کرنا پڑا۔انتظار کے ان برسوں میں خان صاحب کے اندازِ سیاست اور خیالات پر دیانتدارانہ سوالات اٹھانے والے مجھ جیسے نسبتاََ گم نام،گوشہ نشین اور بے اثرصحافی بھی ’’لفافہ‘‘ ٹھہراکر معتوب ٹھہرادئیے گئے۔جنرل مشرف نے 2007میں ’’ایمرجنسی-پلس‘‘ لگاتے ہوئے بھی مجھے ان صحافیوں میں شامل کردیاجو ملک میں ابتری وخلفشار پھیلانے کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے تھے۔ فیصلہ ہوا کہ ان کی صورتیں ٹی وی سکرینوں پر نظر نہ آئیں۔جنرل مشرف مگر چند ہی ماہ بعد استعفیٰ دینے کو مجبور ہوگئے۔ہم ہنستے مسکراتے سکرینوں پر لوٹ آئے۔ بکرے کی ماں مگر بہت دیر تک ’’خیر‘‘ نہیں مناسکتی۔اگست 2018میں عمران خان صاحب بالآخر وزارت عظمیٰ پر فائز ہوگئے تو پاکستان کو ’’مثبت‘‘ اور استحکام کی جانب سرپٹ دوڑتا دکھانے کے لئے ’’ملک دشمن قوتوں کی پشت پناہی سے ابتری پھیلانے والے‘‘ صحافیوں کی فہرست تیار ہوئی۔ ٹی وی سکرینوں کو ان کی مکروہ صورتوں سے پاک کرنے کا فیصلہ ہوا۔میں بدنصیب مذکورہ ’’صفائی‘‘ کا پہلا نشانہ بنا۔ ’’اسی تنخواہ‘‘ پر گزارہ کرنے کے لئے گوشہ نشین ہوکر کالم نویسی کی طرف لوٹ آیا۔اپنی ذات پر نازل ہوئی اذیت کے باوجود اس کالم کے ذریعے مسلسل فریاد کرتا رہا ہوں کہ عمران خان صاحب کو ’’محلاتی سازش‘‘ کے ذریعے وزیر اعظم کے منصب سے فارغ نہ کیا جائے۔محلاتی سازش روکنا مگر دو ٹکے کے صحافی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ایسی سازشوں کے اسباب اپنے تئیں بہت طاقتور ہوتے ہیں۔انہیں فریادی دلائل سے کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ بالآخر 9اپریل 2022ہوگیا۔ اس کے فوری بعد چھپے کالم میں برملا اعتراف کیا کہ عمران خان کو جس انداز میں گھر بھیجا گیا ہے کہ میں اس کی بابت دُکھی محسوس کررہا ہوں۔احمد فراز سے معذرت کے ساتھ لکھنے کو مجبور ہوں کہ ’’اور صحافت وہی انداز پرانے مانگے‘‘ ۔اگرچہ اپنا عالم اب یہ ہے کہ ’’جی ہارچکے لٹ بھی چکے‘‘۔گوشہ نشینی کے عالم میں حیرت ہورہی ہے کہ عمران خان صاحب کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد اب ملک میں ’’انتشار وافراتفری‘‘ پھیلانے والے ’’ذہن سازوں‘‘ کی نئی فہرست تیار ہورہی ہے۔ انہیں ’’عبرت کا نشان‘‘ بنانے کے خواہش مند مگر گھبرارہے ہیں۔ ’’تاحکم ثانی‘‘ والا معاملہ ہے۔دیکھیں کہاں تک پہنچے۔