Categories
آرٹیکلز

عمران خان اور مریم نواز کے جلسے اور ڈی جے بابو کی کارگزاریاں ۔۔۔ ایک دلچسپ طنزیہ ومزاحیہ تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔دوستو، سائنس کہتی ہے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے لیکن کراچی والے کہتے ہیں کہ سورج صرف کراچی کے گرد ہی گھومتا ہے۔ویسے گھوم تو شہرشہر ہمارے کپتان بھی رہے ہیں ان کی دیکھا دیکھی محترمہ مریم صفدر صاحبہ بھی

نگر نگر گھوم رہی ہیں۔ دونوں کے جلسوں میں ایک مماثلت دیکھی جارہی ہے وہ یہ کہ دونوں لیڈران جب تقریر کے درمیان وقفہ لیتے ہیں، سانس لینے رکتے ہیں یا ’’پوز‘‘ لیتے ہیں تو ڈی جے والا بابو فوری طور پر ولولہ انگیز ترانہ لگادیتا ہے،جسے سن کر مجمع میں برقی لہر دوڑ جاتی ہے اور پھر نعروں کا مقابلہ شروع ہوجاتا ہے۔جلسوں میں انرجی ’’ڈی جے والا بابو‘‘ فراہم کرتا ہے اور وہ بے چارہ پس منظر میں ہوتا ہے جسے کوئی جانتا بھی نہیں۔۔یہ واقعہ باباجی نے سنایا، آپ کی نذر کرتے ہیں۔۔ایک آدمی سڑک پہ جا رہا تھا ، پیچھے سے آواز آئی،رک ورنہ مر جائے گا۔۔وہ آدمی رک گیا، سامنے ہی ایک آئل ٹینکر اچانک الٹا اور اس میں آگ بھڑک اْٹھی، وہ آدمی بال بال بچ گیا۔۔وہی آدمی اگلے روز باغ کی سیر کر رہا تھا کہ آواز آئی رْک جا ، ورنہ مارا جائے گا۔۔ وہ آدمی فوراً رْک گیا۔۔ عین سامنے ایک درخت کڑکڑاتا ہوا گرا اور وہ آدمی صاف بچ گیا۔۔ وہی آدمی اگلے روز پچاس کی دہی لینے دودھ کی دکان پہ جارہا تھا کہ آواز آئی رْک ، ورنہ مر جائے گا۔۔ وہ رْک گیا۔۔ اسی وقت سامنے والے کھمبے سے ایک تار ٹوٹ کر گری ، اور وہ آدمی صاف بچ گیا۔۔وہ شخص وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور سر جھکا کر بولا۔۔اے میرے مددگار،تُو کون ہے؟ میرے سامنے آ، میں تیری تعظیم بجالاناچاہتا ہوں، تیرا شکرگزار ہونا چاہتا ہوں۔۔وہی آوازآئی۔۔ میں رحمت کا فرشتہ ہوں اور بے ہوشوں ، آلسیوں ، غائب دماغوں کی مدد کرتا ہوں۔۔

اس آدمی نے کہا، اے نیک دل فرشتے ، تو اس وقت کہاں تھا جب میں پی ٹی آئی کو ووٹ دے رہا تھا۔۔ وہی آواز پھر آئی ،آوازیں میں نے تب بھی بہت دی تھیں ، لیکن تیرے DJ نے بیک گراؤنڈ میْوزک بہت اْونچا کر رکھاہوا تھا ۔۔۔باباجی کا ہی فرمان ہے۔۔محبت ہو جائے تو صدقہ دینا شروع کر دیں، محبت ہو گی تو مل جائے گی، بلا ہوئی تو ٹل جائے گی۔ ۔باباجی سے ہی ہم نے سنا ہے کہ۔۔بعض خاوند اپنی بیویوں کو بے پناہ چاہتے ہیں اور بعض تو بس پناہ چاہتے ہیں۔۔ بیوی نے لاڈ بھرے انداز میں شوہر سے کہا ۔۔شادی کیا ہوئی، آپ نے تو مجھے پیار کرنا ہی چھوڑ دیا۔۔شوہر نے برجستہ جواب دیا۔۔ ’’ارے پگلی، امتحان ختم ہونے کے بعد بھلا کون پڑھتا ہے‘‘۔۔الزام تراشی کی انتہا دیکھیں۔۔بیگم شوہر پر غصے سے دھاڑتی ہوئی بولی۔۔یہ کیسا آٹا اٹھا لائے، میری تو ساری روٹیاں ہی جل جاتی ہیں۔۔کہتے ہیں کہ شوہر وہ واحدہستی ہے، جسے اسلام کے ارکان کا کچھ پتہ ہو یا نہ ہو، یہ ضرور پتہ ہوتا ہے کہ چار شادیاں ان کا حق ہے۔۔۔ ایک صاحب بڑی خوشی خوشی اپے گھر میں داخل ہوئے، بیوی کو تلاش کیا تو وہ کچن میں مصروف ملی، وہ بھی کچن میں داخل ہوگیا اور بیوی سے پوچھنے لگا۔۔ ہمارے چار بچوں میں سے تمہیں سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟؟اس نے جواب دیا، سارے۔۔شوہرنے کہا ، تمہارا دل اتنا کشادہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔بیوی نے کہا، یہ اللہ کی تخلیق ہے، ماں کے دل میں سارے بچوں کے لئے کشادگی

ہوتی ہے۔۔شوہر نے مسکرا کر کہا۔۔اب تم سمجھ سکتی ہو، مرد کے دل میں چار بیویوں کی کشادگی بیک وقت کیسے ہو سکتی ہے۔کیونکہ یہ بھی اللہ کی تخلیق ہے۔۔بیوی نے بیلن سے اٹیک کیا اور شوہراسپتال پہنچ گیا۔۔اللہ شوہربے چارے پر رحم فرمائے۔اس کا اسلوب بھی اچھا تھا اورتکنیک بھی مزیدار۔بس کچن کی جگہ غلط چُن لی اس نے۔۔ سیانے کہتے ہیں۔۔کسی بھی میدان لڑائی میں اترنے سے پہلے میدان کے محل وقوع اور جغرافیائی صورتحال کو لازمی ذہن میں رکھنا چاہیے۔۔۔ عورت کسی بھی ملک سے ہو اس کو پروا نہیں ہوتی اس کا خاوند کتنی ’’توپ ‘‘ چیز ہے، خاوند بے چارے کی مثال، گھر کی مرغی دال برابر ہوتی ہے۔۔ خواہ اسکا خاوند لیڈر ہو یا کسی گروہ کا سربراہ، اس کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ 2015 میں نوبل انعام سے نوازے جانے والے ترک کیمیا دان عزیز سنجر کہتے ہیں نوبل انعام جیتنے کے بعد ایک دن میری بیگم نے مجھے آواز دی۔۔ عزیز! گھر میں جمع کچرا باہر گلی کے کوڑا دان میں ڈال آئیں۔۔میں کسی کام میں مصروف تھا، بیگم کوجواب دیا۔۔ نوبل انعام یافتہ ہوں۔۔اس نے پھر آواز دی۔ نوبل انعام یافتہ کیمیا دان عزیز صاحب! گھر میں جمع کچرا گلی کے کوڑا دان میں پھینک آئیں۔پچاس پچپن برس کی عمر میں انسان فطری طور پر مراقبے کی طرف مائل ہوتا ہے جس کے ذریعے خود آگہی میں اضافہ ہوتا ہے۔اسی عمر کے ایک صاحب کافی روحانی ہوگئے۔۔صبح سویرے مراقبہ میں گہری سوچ آگئی۔۔بڑبڑانے لگے۔۔میں کون ہوں؟کہاں سے آیا ہوں؟کیوں آیا ہوں؟کہاں جانا ہے؟۔

۔وہ ان سوالات پر غوروفکر کرتے ہوئے اتنا کھوگئے کہ وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔۔تب ہی کچن میں کام کرتی ان کی اہلیہ چلائی۔۔ایک نمبر کے کاہل، ہڈحرام ہو تم۔۔ پتا نہیں جہنم کے کس دروازے سے بھاگ کر آئے ہو۔ ۔میری زندگی عذاب بنانے۔۔اٹھو، ناشتہ کرو، کام پہ جاؤ۔۔۔ فلاسفر شوہر کو اپنے چاروں سوالوں کے جواب بڑی آسانی سے مل گئے جس میں ساری مدد اہلیہ نے کی۔۔ روحانی سفر بھی مکمل ہوگیا اور علم میں بھی اضافہ ہوا۔۔اب ذرا شوہروں کے چند مشہور جھوٹ بھی سن لیجئے۔۔بیگم ، میری زندگی میں تم سے پہلے کوئی لڑکی نہیں آئی۔۔بیگم، میں فون پر اپنے پرانے دوست سے بات کررہا تھا جسے میں پیار سے ڈارلنگ کہتا ہوں۔۔ بیگم، میں لیٹ اس لیے آیا کہ کسی دوست کے بچے کی سالگرہ تھی۔۔۔ بیگم، میں تمھارے بغیر زندہ رہ نہیں سکتا۔ ۔۔ بیگم، اگر تم نہ ملی ہوتی تو میں کبھی شادی نہ کرتا۔۔۔ بیگم، یہ رہی میری پوری تنخواہ، اسے تم رکھ لو۔۔۔ بیگم، آج تم بہت اچھی لگ رہی ہو۔۔۔ بیگم، میرے کپڑوں پر یہ لمبے بال دراصل اس گھوڑے کی دم کے ہیں جس پر میں گھڑسواری کرتا ہوں۔ہم پاکستانی بھی عجیب ہی قوم ہیں،بغیر پڑھے پاس ہونا چاہتے ہیں۔ بغیر کام کیئے تنخواہ لینا چاہتے ہیں، بلکہ چاہتے ہیں کام پر نہ جائیں اور نوکری چلتی رہے، ورزش نہ کر کے بھی فٹ فاٹ رہنا چاہتے ہیں۔۔ خود جیسے ہوں بیوی حسینہ عالم مانگتے ہیں۔ان سب سے بڑھ کر، نماز نہیں پڑھیں گے اور خواہش کریں گے کہ موت سجدے میں آئے۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔حوصلہ سیکھنا ہے تو پریشر ککر سے سیکھو، آگ پر بیٹھا سیٹیاں بجا رہا ہوتا ہے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Categories
آرٹیکلز

شہباز شریف نے حکومت میں آکر بالکل درست کیا ، حالات جلد خادم پاکستان کے کنٹرول میں ہونگے ۔۔۔سینئر صحافی کا حیران کن دعویٰ

لاہور (ویب ڈیسک)نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں حیران ہوں کہ سیاسی تبصرے کرنے والے ان تمام زمینی حقائق کو کیسے اور کیوں فراموش کر جاتے ہیں اور اگر آپ اصولی اور کتابی جواب سے مطمئن ہونا چاہتے ہیں تو وہ میں جناب ظفر حجازی سے بہتر الفاظ میں

نہیں دے سکتا، کہتے ہیں’ چند حضرات کہہ رہے ہیں کہ اتنی بری معاشی صورتحال میں اقتدار کیوں سنبھالا، اب عمران خان کی لائی ہوئی معاشی تباہی کا ملبہ نون لیگ پر گرے گا۔ میری رائے میں نون لیگ نے ٹھیک کیا، یہ سیاسی فائدہ یا نقصان سوچنے کا وقت نہیں، ملک کوبحران سے نکالنے کی جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے، کم ہے‘۔ مجھ سے پوچھیں تو اس وقت اصل سوال بھی پاکستان کا ہے۔ا گر عمران خان اقتدار میں رہ جاتے تو وہ رہی سہی معیشت کا بھی بیڑہ غرق کر جاتے۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ ایک شخص جو اس درخت کو کاٹ رہا تھا جس پر ہم سب کے آشیانے ہیں تو ہم اس کے ہاتھ سے آری چھیننے پر اس لئے خفا ہوں کہ اسے پورا کاٹنے کیوں نہیں دیاگیا۔ یہ درخت گرتا تو اصل تباہی مچتی اور یہ شخص بے نقاب ہوتا۔ یقین کیجئے اگر وہ پاکستان کو خاکم بدہن مکمل تباہ کر کے بھی چلے جاتے تو ان کے حامیوں نے ان پر واہ واہ ہی کرنی تھی ، آ پ اس طبقے کا کچھ نہیں کرسکتے جو عقل، منطق اور تدبر سے عاری ہوچکا ہو۔عمران خان کی فوری رخصتی ملک او ر وقت کی ضرورت تھی، ناگزیر تھی، ہاں، عمران خان کے جانے کے بعد شہباز شریف سے ملک کے اندر اور باہر بہت ساری بہتری کی امیدیں رکھتا ہوں اور کہتے ہیں کہ مایوسی بھی وہیں ہوتی ہے جہاں امید ہوتی ہے سو مجھے مایوسی ہوئی کہ شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے ایک مہینے کے بعد بھی آٹا، چینی اور چاول مہنگے ہو رہے ہیں،تجارتی خسارہ قابو نہیں آ رہا، سٹاک مارکیٹ مسلسل گر رہی ہے ،ڈالر کے دو سو روپے سے اوپر جانے کی وارننگز مل رہی ہیں، کار مینوفیکچررز سمیت کوئی گروہ شہباز شریف سے ڈرنے کے لئے تیار نہیں اور ان کی حکومت قائم ہونے کے بعد دو مرتبہ گاڑیوں کی قیمت میں اضافہ ہو چکا ہے تو پھر میرا سوال جائز ہے کہ شہبازسپیڈ کہاں ہے۔ وہ صلاحیتیں کہاں ہیں جن کا مظاہرہ وہ پنجاب میں کرتے رہے۔ میں مانتا ہوں کہ صدر مملکت اور گورنر پنجاب کے کردا ر غیرآئینی رہے ،یہ بھی درست کہ عمران خان ان کے لئے سیاسی محاذ پر بیانئیے کی مشکلات پیدا کر رہے ہیں مگر انہی مشکلات کا سامنا کرنے اور انہیں نیست و نابود کرنے کا نام تو سیاست ہے، ٹیلنٹ ہے۔میں شہبا ز شریف کے سٹارٹ ہونے اور سپیڈ پکڑنے کا انتظار کر رہا ہوں۔

Categories
آرٹیکلز

وہ لاہور جو کہیں کھو گیا : حیران کن واقعات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار واصف ناگی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کسی بھی تاریخی اور قدیم تعلیمی ادارے کی روایات اس وقت تک زندہ رہتی ہیں جب تک وہاں پرانے لوگ،نئے لوگوں کی تربیت کرتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ لاہور کے تمام تاریخی اور قدیم تعلیمی ادارے اپنی

اقدار، روایات اور معیار کو کھو چکے ہیں۔ سینٹرل ماڈل اسکول کے نزدیک اور کسی حد تک اس کے ساتھ ایک اور تاریخی اسکول ہے، اس کا نام گورنمنٹ مسلم ماڈل ا سکول نمبر2ہے، کبھی اس اسکول کا بھی بڑا نام تھا کیونکہ جب کسی کو گورنمنٹ سینٹرل ماڈل سکول لوئر مال میں داخلہ نہیں ملتا تھاتو وہ مسلم ماڈل ا سکول میں داخلہ لے لیتا تھا۔یہ بڑی دلچسپ حقیقت ہے کہ اسی لوئر مال پر گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول خرانہ گیٹ اور گورنمنٹ لدھیانہ ہائی اسکول بھی تھے جس کی زمین پتہ نہیں کس طرح فروخت کر کے اس پر پڑول پمپ بنادیا گیا، یہ مجھے آج تک معلوم نہیں ہوسکا کہ اس اسکول کی زمین کیسے ہڑپ کی گئی، اسی طرح گورنمنٹ مسلم ماڈل ہائی اسکول نمبر2کی بالائی منزل پر آج تک 1947میں آنے والے مہاجر آباد ہیںاسی طرح کریسنٹ ہوسٹل(جوکہ گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز)کا ہے، اس کا قدیم نام دیانند ویدک اسکول تھا،اس تعلیمی ادارے کا بانی ایک ہندو پنڈت سوامی دیا نند تھا اس ہوسٹل کے آدھے حصے میں بھی1947کے مہاجر آباد ہیں، اس کو کسی زمانے میں ہندو کیمپ کا نام بھی دیا گیا تھا۔ اسلامیہ کالج سول لائنز اور اس کا ہوسٹل ہندو فن تعمیر کا نمونہ تھا کبھی اس عمارت پر ہندوؤں کے روایتی نشان وغیرہ بھی تھے ہم نے اس کالج پر ایک مدت تک دیانند ویدک کالج کا نام پڑھا ہے اورحضرت علی ہجویری کے مزار مبارک کے نزدیک بھی کئی تعلیمی ادارے ہیں۔ داتا صاحب کا یہ سارا علاقہ آج سے چالیس سال قبل بالکل بھی ایسا نہیں تھا۔

آج حضرت علی ہجویریؒ کی مسجد بہت وسیع ہوکر راوی روڈ تک آ چکی ہے جبکہ یہاں ایک بڑا تاریخی اسکول گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول بھاٹی گیٹ تھا جو1914میں قائم کیاگیا تھا۔ عزیزقارئین! آپ کو یہ پڑھ کر حیرت ہوگی کہ اس گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول کاسنگ بنیاد ایک انگریز گورنر نے رکھا تھا، یہ تاریخی پتھر ہم نے اس اسکول کی قدیم عمارت میں لگا ہوا دیکھا تھا۔ یہ لال رنگ کی عمارت تھی، اس کا فن تعمیر کسی حد تک گورنمنٹ سینٹرل ماڈل اسکول سے مماثلت رکھتا تھا۔ مجھے یادہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے ایک سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد (جو تھے تو شیخ فیملی سے مگر شکل و صورت سے پٹھان لگتے تھے اور لوگ انہیں خان صاحب کہہ کر پکارتے تھے، انہوں نے کبھی کسی کو یہ کہنے سے نہیں روکا وہ پنجاب اسٹورز کےمالکان میں سے بھی تھے۔ یہ اسٹور ان کے والد نے انگریزوں کے دور میں قائم کیا تھا) وہ اکثر مجھ سے اس اسکول سےا وابستہ اپنی پرانی یادوں کا ذکر کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ہم نے 1981ء میں یہ اسکول دیکھا اور اس کی کچھ تقریبات کو کور بھی کیا۔ یہ اسکول 1986ء میں داتا صاحب کی مسجد کی توسیع کے دوران گرا دیا گیا تھا۔ حالانکہ مسجد کی توسیع کرتے وقت اس اسکول کی عمارت کو بچایا جا سکتا تھا۔یہ اسکول 1914میں قائم کیا گیا تھا۔ یعنی یہ اسکول ایک سو بارہ سال قدیم ہے۔ اس تاریخی اسکول کو مسمار کرتے ہوئے اس کی کئی تاریخی چیزوں اور فرنیچر کو تباہ و برباد کردیا گیا۔ حالانکہ اب اسکول کو نئی

جگہ بھاٹی گیٹ کے باہر گرائونڈ میں صرف 24کنال میں قائم کیا گیاہے۔کیا یہ مذاق نہیں ہے کہ اتنے کم رقبے میں یہ اسکول قائم کیا گیا جبکہ اس کا طرز تعمیر انتہائی بدنما ہے۔ حالانکہ جب آپ نے اس تاریخی اسکول کو نئی جگہ بنانا ہی تھا تو دنیا بھرمیں کئی جگہوں پر پوری پوری عمارت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کردیا جاتا ہے۔ چلو مان لیا کہ ہمارے پاس ایسی سہولت نہیں توآپ اس کے قدیم فن تعمیر کے ساتھ بھی اس اسکول کو دوبارہ تعمیر کرسکتے تھے۔ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس تاریخی شہر کی ہر عمارت کو ہم توڑنے اور برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔اس اسکول کی اینٹوں، کئی دیگر چیزوں کے علاوہ اس کا فن تعمیر کاپی کیا جاسکتا تھا۔ آپ سوچیں کہ ایک پورا اسکول جو لوئر مال پر تھا، جس کو ہم نے خود دیکھا تھا، وہ پورے کا پورا غائب کردیا گیا اور جب ہم نے محکمہ تعلیم (اسکولز ڈیپارٹمنٹ) سے اس اسکول کا نام لیا اور پوچھا تو ایک افسر نے حیرت سے پوچھاکہ کیاکوئی گورنمنٹ لدھیانہ ہائی اسکول تھا؟دکھ اور انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت کے کسی محکمے نے اس طرف توجہ نہ دی، لاہور شہر میں عجیب کھچڑی پکی ہوئی ہے کچھ تاریخی عمارتیں محکمہ آثارِ قدیمہ (فیڈرل)،کچھ محکمہ آثارِ قدیمہ (پنجاب) اور کچھ متروکہ اوقاف (جسے ہندو اوقاف بھی کہتے ہیں)، کچھ محکمۂ اوقاف پنجاب اور کچھ والڈ سٹی اتھارٹی کے پاس ہیں جبکہ کچھ تاریخی عمارتیں لاوارث ہیں جن پر لوگ قبضہ کرنے کی فکر میں ہیں اور کچھ پر قبضہ بھی کیا جا چکاہے۔ کیا تمام تاریخی عمارتوں کی حفاظت، ان کی دیکھ بھال کے لیے صرف ایک محکمہ نہیں ہونا چاہئے تھا جو تاریخی اسکولوں کی عمارتوں، قدیم مساجد دیگر تاریخی قدیم عمارتوں، حویلیوں، پرانی گلیوں، احاطے، کٹڑیوں اور کوچوں کی دیکھ بھال کرتا۔

Categories
آرٹیکلز

مختلف افواج اور پولیس فورسز میں پہنے والے اس سرخ پٹے کی تاریخ کیا ہے ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار چوہدری فرخ شہزاد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ماضی کی یادوں کے بہت سے خزانے اس scarlet band یا لال دوپٹے کے پلو سے بندھے ہوئے ہیں۔ لہٰذا اس کی ایک جھلک مجھے ماضی کے جھروکوں میں لے جاتی ہے۔ بحرین پولیس میں بھرتی اور

ٹریننگ کے دوران ہمارے ڈرل انسٹرکٹرز نے یہ Red sash پہنا ہوتا تھا ہم اس کو لال پٹی یا لال دوپٹہ کہتے تھے۔ بحرین پولیس کے زیادہ تر Trainer پاکستان کے ریٹائرڈ فوجی اور افسر ہوتے تھے جن میں زیادہ تر پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں ٹریننگ کا تجربہ رکھتے تھے جس کی وجہ سے ہمیں پاکستان آرمی میں سروس کیے بغیر ہی ان کی روایات کا اندازہ ہوتا رہتا تھا ہم نے اپنے انسٹرکٹرز کو کبھی سنجیدگی سے نہ لیا ان کی اردو سے ہمارا ہاسہ نکل جاتا تھا۔ البتہ عرب انسٹرکٹرز کے ساتھ ہمیں عربی زبان اور دیگر پیشہ ورانہ امور سمجھنے کا زیادہ اچھا موقع ملتا تھا مگر دونوں کے scarlet band ایک جیسے ہی تھے۔ بحرین پولیس کی ٹریننگ پولیس سے زیادہ ملٹری سے ملتی جلتی تھی جس کی ایک وجہ پاکستانی انسٹرکٹرز تھے۔ یہ ایک طرح کی پیرا ملٹری فورس تھی۔ پولیس کی وردی ، ملٹری بوٹ کندھے پر ریفل اٹھا کر ڈھول کی تھاپ پر قدم سے قدم ملا کر پریڈ کرنا ایک ایسی پرفارمنس تھی اور ہم اس کے اتنے عادی ہو چکے تھے کہ پریڈ گراؤنڈ سے باہر بھی ڈھول کی آواز پر سول کپڑوں میں بھی ہمارے قدم میدان سے ہم آہنگ ہو جاتے تھے۔تو بات ہو رہی تھی اس ملٹری لائف کی جس میں Red sash ایک صدیوں پرانا فیشن ہے جو آج بھی جاری و ساری اور تقریبات میں اچھا لگتا ہے۔ صدیوں پرانی روایت اور ہزاروں میل کی مسافت کے باوجود دنیا بھر کے افواج میں یہ پٹکا کسی نہ کسی رنگ اور کسی نہ کسی طرز میں آج بھی زندہ ہے۔

یہ برٹش آرمی کے ڈریس کا حصہ تھا اور ان کے ذریعے برصغیر کی فوجوں کو منتقل ہوا لبتہ پرانے زمانے میں یہ ایک کمبل کی شکل میں ہوتی تھی جسے socmetic مقاصد کے لیے سمارٹ بنانے کے لیے ایک پٹے کی شکل دے دی گئی۔ برصغیر میں بھی یہ فوج کے دوران فیلڈ ڈریس کا حصہ تھی۔ اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ کمپنی سر جینٹ میجر کی یہ ڈیوٹی ہوتی تھی کہ میدان میں زخمی ہونے والے فوجیوں کو کندھے پر اٹھا کر میدان سے لانا اور ان کے علاج کا بندوبست کرنا سر جینٹ میجر کے فرائض میں شامل تھا اس لیے یہ ریڈ سیش اس کے یونیفارم کا حصہ تھی اس کا رنگ اس لیے سرخ رکھا گیا کہ دوسرے رنگ کے کپڑے پر زخمیوں کا خون گرنے کی وجہ سے وہ رنگ برنگے ہو جاتے تھے لہٰذا فیصلہ کیا گیا کہ اس کا رنگ خون کا رنگ ہونا چاہیے تا کہ استعمال کے بعد بھی اس کے ظاہری look میں تبدیلی نہ آئے۔پرانے زمانے میں چونکہ زخمیوں کو شفٹ کرنے کے لیے سٹریچر نہیں تھے اس لیے سرخ کمبل میں زخمی کو ڈال کر دو آدمی دو دو کونے پکڑ کر اسے محفوظ مقام تک پہنچاتے تھے اور یہ سفر بعض اوقات میلوں پر محیط ہوتا تھا اس وقت فوج میں ایمبولینس استعمال نہیں ہوتی تھی۔برصغیر میں مروجہ Red sash کی ایک اور خوبی یہ بھی ہے کہ 72 انچ لمبی اور 16 انچ چوڑی یہ پٹی wool کے بنے ہوئے 29 دھاگوں (strands) کو جوڑ کر بنائی جاتی ہے۔ 29 کا یہ ہندسہ تاج برطانیہ کی29 Royal Regiment کو ظاہر کرتا ہے یہ وہ رجمنٹ تھی جس نے پہلی بار انڈیا کی سر زمین پر قدم رکھا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت ختم کر کے ہندوستان کو براہ راست برطانوی استعمار میں شامل کر دیا۔اگر ملٹری استعمال سے ایک اور قدم پیچھے جائیں تو پرانے دور کے بادشاہوں اور نوابوں کے regalia یا لباس شاہی میں sash کا استعمال برتری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ آخر میں ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بیکن ہاؤس سکول کے یونیفارم کوڈ میں لڑکیوں کے لیے Blue sash یونیفارم کا حصہ ہے جبکہ لڑکوں کے یونیفارم میں اس sash کو شامل نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکول انتظامیہ فوج کی نسبت عالمی ملکہ حسن سے زیادہ متاثر ہے۔ اس غلط فہمی کی درستی ضروری ہے۔ ویسے بھی sash کو ایک مخصوص Gender کے لیے محدود کرنا ایک امتیازی نظریہ ہے جس کی اس دور میں گنجائش نہیں بنتی۔

Categories
آرٹیکلز

اگر پاکستان میں شو روم سے لی گئی زیرو میٹر گاڑی میں کوئی نقص نکل آئے تو کیا کرنا چاہیے ؟ ایک خصوصی معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون صحافی ثنا آصف ڈار بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ہم نے سوزوکی کی دو آلٹو کاریں کراچی کے ایک آٹو ڈیلر سے بک کی تھیں اور عید سے پہلے جب ہم گاڑیوں کی ڈیلیوری لینے پہنچے تو ایک گاڑی تو ٹھیک تھی

لیکن دوسری گاڑی کے دروازے پینٹ ہوئے تھے۔ ہمیں کہا گیا کہ ایسا مسئلہ ہو جاتا ہے اور معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی۔‘ہمیں عید سے پہلے گاڑی لینے کی جلدی تھی تو ہم گاڑی تو لے آئے لیکن عید کے بعد دوبارہ ڈیلر کے پاس گئے لیکن انھوں نے ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا۔ ہم نے سوزوکی کے کسٹمر کیئر سے بھی رابطہ کیا لیکن وہاں سے کوئی ردعمل نہیں آیا تو پھر ہم نے سوچا کہ ہم اس معاملے کو وائرل کرتے ہیں۔‘سوشل میڈیا پر معاملہ وائرل ہونے کے بعد ہمیں بلایا گیا تو ہم نے ان سے نئی گاڑی کا مطالبہ کیا لیکن وہ اس پر نہیں مانے اور پھر آخر میں ہم نے گاڑی کے دروازے تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔‘یہ واقعہ ہمیں کراچی سے تعلق رکھنے والے اسد عظیم بیگ نے سنایا، جن کی اسی سے متعلق ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر گزشتہ چند روز سے کافی وائرل ہے۔اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے آٹو مینوفیکچر کمپنیوں پر نہ صرف غصے کا اظہار کیا بلکہ اپنے ساتھ پیش آنے والے ایسے چند واقعات کا ذکر کیا اور اسد عظیم بیگ کو قانونی راستہ اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا۔اس واقعے کے حوالے سے ہم نے پاکستان سوزوکی سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی اور انھیں بذریعہ ای میل اپنے سوالات بھی بھیجے تاہم ابھی تک ان کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔دوسری جانب اسد عظیم بیگ نے ہمیں بتایا کہ متعلقہ ڈیلر نے گاڑی کے دورازے تبدیل کرنے کے لیے

ان سے گاڑی واپس لے لی ہے جو دو سے تین دن میں ان کو مل جائے گی۔پاکستان میں نئی گاڑی کی خرید و فروخت سے متعلق سوشل میڈیا پر جاری بحث کے بعد ہم اس تحریر میں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ پاکستان میں کسی بھی کمپنی سے زیرو میٹر گاڑی خریدتے ہوئے کن چیزوں کو مدِ نظر رکھنا چاہیے اور اگر کسی شخص کو ایسی گاڑی (جس میں کوئی نقص ہو) ڈیلیور کر دی جاتی ہے تو وہ کمپنی کے خلاف کیا قانونی راستہ اختیار کر سکتا ہے۔پاکستان میں گاڑیوں کی خرید و فروخت کی معروف ویب سائٹ ’پاک ویلز‘ کے چیف ایگزیکٹو سنیل منج دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی بھی گاڑی، جو زیرو میٹر کہہ کر فروخت کی جاتی ہے، وہ زیرو میٹر نہیں ہوتی۔وہ کہتے ہیں کہ ’تمام آٹو مینوفیکچرنگ کمپنیاں فیکٹری میں 30-35 کلومیٹر کی ٹیسٹنگ کر کے کاروں کو ٹرک پر لوڈ کر دیتے ہیں، ٹرک پر سوار یہ گاڑیاں پھر ٹرک اڈے پر آتی ہیں (کیونکہ کار کیرئیر بڑا ہوتا ہے اور کمرشل ٹرانسپورٹ ہونے کی وجہ سے شہر کے اندر نہیں آ سکتا)۔ بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ گاڑی جب اڈے پر آئے تو وہاں سے ایک ایک گاڑی کو سنگل کار کیرئیر سے شو روم پہنچایا جائے لیکن کیا یہ جاتا ہے کہ اڈے سے گاڑیاں چلا کر شوروم لائی جاتی ہیں۔‘سنیل منج نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’کوئی ایک نہیں بلکہ سب مینوفیکچررز ایسے ہی کرتے ہیں۔ جب یہ گاڑیاں ایسے سڑک پر چلا کر لائی جاتی ہیں تو اس بات کے امکانات موجود ہوتے ہیں کہ

کوئی حادثہ رونما ہو سکتا ہے، کوئی موٹر سائیکل یا سائیکل والا یا دوسری گاڑی والا اس گاڑی کو ٹکر مار سکتا ہے۔‘سنیل منج نے بتایا کہ ایسا ہونے کی صورت میں کمپنی یہ نہیں کرتی کہ اس گاڑی کی جگہ آپ کو نئی گاڑی دے بلکہ آپ کو وہی گاڑی مرمت کر کے دی جاتی ہے۔سنیل نے مزید بتایا کہ ’باہر کے ملکوں میں جب آپ گاڑی خریدتے ہیں تو آپ ایک گاڑی پسند کرتے ہیں لیکن اس میں کوئی نقص دیکھ کر آپ جب یہ کہتے ہیں کہ مجھے دوسری گاڑی دے دیں تو وہ آپ کو شوروم میں کھڑی دوسری گاڑی دے دیتے ہیں کیونکہ وہ ساری گاڑیاں اوپن لیٹر پر ہوتی ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔‘پاکستان میں نئی گاڑی خریدنے کے لیے آپ اپنا شناختی کارڈ دیتے ہیں تو آپ کے نام پر ہی وہ گاڑی بنائی جاتی ہے لیکن راستے میں آتے آتے اگر اس گاڑی کو کوئی نقصان پہنچ جائے تو آپ کو نئی گاڑی نہیں بلکہ اسی گاڑی کو پینٹ یا سپرے کر کے دے دیا جاتا ہے۔‘سنیل کہتے ہیں کہ یہ دراصل دھوکہ دہی ہے اور پاکستان میں اکثر ایسا ہوتا ہے۔ سنیل کا مزید دعویٰ ہے کہ پاکستان میں اگر سالانہ بنیادوں پر دو سے ڈھائی لاکھ گاڑیاں فروخت ہو رہی ہیں اور وہ ساری سڑک پر چل کر شو روم تک جا رہی ہیں تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ان میں سے دس گاڑیوں کو کوئی نہ کوئی نقصان تو پہنچے گا۔وہ کہتے ہیں کہ ’کمپنی چھوٹے موٹے نقصان کی صورت میں

آپ کو وہی گاڑی مرمت کر کے دے دیتی ہے لیکن بڑے نقصان کی صورت میں گاڑی تبدیل کی جاتی ہےاگر کسی نقص کے ساتھ آپ کو گاڑی ڈیلیور ہو گئی تو آپ کیا کریں؟سنیل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی کمپنی سے زیرو میٹر گاڑی لیتے ہوئے بھی ان پر اندھا اعتماد نہ کیا جائے۔وہ کہتے ہیں کہ ’گاڑی کی ڈیلیوری دینے سے پہلے آپ سے ایک فارم پر دستخط کرائے جاتے ہیں تو وہ سائن کرنے سے پہلے گاڑی کی اچھے طریقے سے جانچ کر لیں۔‘شوروم سے گاڑی لے کر نکلتے ساتھ ہی کمپنی کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے اس لیے آنکھیں کھول کر گاڑی کا معائنہ کریں، اسے اچھے طرح سے چیک کریں۔‘وہ کہتے ہیں کہ’گاڑی خریدتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس پر پینٹ تو نہیں ہوا، اصل اور دوبارہ پینٹ میں فرق معلوم ہونا چاہیے، دروازے چیک کریں، گاڑی کے کارنر چیک کریں، اگر گاڑی میں آڈیو سسٹم موجود ہے تو اس کے ریمورٹ تک کو چیک کریں، انوائسز اور ورانٹی بک بھی چیک کریں۔‘سنیل منج کہتے ہیں کہ پاکستان میں بد قسمتی سے زیرو میٹر گاڑی کو بھی ایسے ہی چیک کرنا ہوتا ہے، جیسے پرانی گاڑی کو خریدتے وقت آپ مختلف چیزیں دیکھتے ہیں۔لیکن ایک عام صارف ان باریکیوں کو کیسے پرکھ سکتا ہے؟اس حوالے سے سنیل منج کہتے ہیں کہ نئی گاڑی کی ڈیلیوری لینے کے وقت اپنے ساتھ کسی ایسے فرد کو لے کر جائیں جو ان باریکیوں کو سمجھتا ہو۔سنیل منج نے مزید بتایا کہ اگر آپ کے ساتھ گاڑی کی ڈیلیوری کے وقت ساتھ جانے والا کوئی شخص نہیں تو پھر بہت سی پروفیشنل کمپنیاں بھی

موجود ہیں جو گاڑی کے معائنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’اس سہولت کا استعمال کرتے ہوئے آپ گاڑی کی ڈیلیوری سے قبل اس کا معائنہ کرا سکتے ہیں۔ اگر آپ نئی گاڑی بھی لینے جا رہے ہیں تو انسپیکشن ٹیم کو بلائیں اور اس سے گاڑی کا معائنہ کرائیں اور پھر گاڑی کی ڈیلیوری لیں۔‘لیکن ان تمام احتیاطوں کے باوجود بھی اگر کسی کسٹمر کو کسی نقص کے ساتھ گاڑی ڈیلیور ہو جاتی ہے تو اس کے بعد وہ کیا قانونی راستہ اختیار کر سکتا ہے۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے اسلام ہائی کورٹ کی وکیل فاطمہ بٹ نے ہمیں بتایا کہ جب ایک صارف کسی کمپنی سے کوئی بھی چیز یا شے خریدتا ہے اور اس میں کوئی نقص نکل آئے یا وہ چیز کمپنی کے بتائے ہوئے معیارات پر پوری نہ اترتی ہو تو، صارف اس کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کر سکتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ’اس کے لیے کنزیومر پروٹیکشن کا قانون موجود ہے۔ اس حوالے سے وفاق کا اپنا قانون جبکہ صوبائی سطح پر بھی قانون موجود ہیں۔‘وکیل فاطمہ بٹ بتاتی ہیں کہ جب آپ کو اس بات کا پتا چل جائے کہ پراڈکٹ میں کوئی نقص ہے یا اس کی کوالٹی وہ نہیں جس کا کمپنی نے دعوی کیا تھا تو آپ 15 دن کے اندر اندر متعلقہ کمپنی کو لیگل نوٹس بھیج سکتے ہیں۔ کمپنی قانونی طور پر ان 15 دن کے اندر آپ کو جواب دینے کی پابند ہے۔‘اگر کمپنی آپ کے لیگل نوٹس کا جواب نہیں دیتی تو آپ اپنا کیس کنزیومر کورٹ میں لے کر جا سکتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ سطح پر ہر صوبے میں کنزیومر کورٹ موجود ہیں۔‘وکیل فاطمہ بٹ نے مزید بتایا کہ ’عدالت متعلقہ کمپنی کو بلا سکتی ہے، نوٹس جاری کر سکتی ہے، عدالت کمپنی کو یہ حکم دے سکتی ہے کہ وہ اس پراڈکٹ کو تبدیل کر کے صارف کو نئی چیز دے، جس میں کوئی نقص نہ ہو لیکن اگر پراڈکٹ تبدیل نہیں ہو سکتی تو کمپنی صارف کو جرمانہ ادا کرے۔ یہاں تک کہ اگر کمپنی صارف کے نقصان کا ازالہ نہیں کرتی تو عدالت کمپنی کے مالکان کو سزا بھی سنا سکتی ہے اور کچھ عرصے کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔‘فاطمہ بٹ نے واضح کیا کہ کنزیومر پروٹیکشن کا قانون صرف گاڑیوں یا بڑی چیزوں پر ہی نہیں بلکہ کسی بھی کمپنی سے خریدی گئی چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔(بشکریہ : بی بی سی )

Categories
آرٹیکلز

کچھ قوتوں نے ناکام عمران خان کو نئی سیاسی زندگی دینے کے لیے ری لانچنگ کا منصوبہ بنایا ہے اور اسی منصوبے کے مطابق سب کچھ ہو رہا ہے ۔۔۔۔تہلکہ خیز دعویٰ کردیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ڈاکٹر ابراہیم مغل اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر عمران حکومت کے آ خری دنوں کی کارکردگی کا جا ئز ہ لیںتو ہم دیکھتے ہیں کہ کیا غریب اور کیا امیر ، سب حکو مت تو کیا ، ملک کے مستقبل سے ہی ما یو س ہو چلے تھے۔

پا کستان سے با ہر کی بیرونی قوتیں، جن کا مفاد عمران خان کی حکومت میں مو جو دگی سے وا بستہ تھا، وہ بھی عمران کی عوا م میں پذیرائی کو صفر کی جانب سفر کرتا ہو ئے دیکھ رہی تھیں۔ یہی وہ وقت تھا جب انہوں نے عمران خان کو نئی زند گی دینے کی غرض سے ان کی ری لا نچنگ کا منصو بہ بنا یا ۔لمبی چو ڑی با ت کئے بغیرکہنا یہ مقصو د ہے کہ سی این این سے نشر ہو نے والا ڈ اکٹر رابیکا کا انٹر ویو اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ہم سب جا نتے ہیں کہ عمران خان کو پاکستان کی تاریخ کی مستحکم ترین حکومت ملی تھی اور وہ ملکی تاریخ کے بھی وہ پہلے وزیراعظم ہیں جنہیں پارلیمنٹ نے عدم اعتماد کے ذریعے فارغ کیا۔ 2008-13 تک پیپلزپارٹی اور 2013-18 تک مسلم لیگ (ن) کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لینے سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس دوران ملکی جی ڈی پی 5فیصد سے زیادہ رہا، فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا، زراعت کے شعبے میں خود کفالت حاصل رہی، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور کراچی میں طویل عرصے بعد امن و امان قائم ہوا لیکن عمران خان نے حکومت میں آتے ہی سیاسی اختلافات کو دشمنی میں بدل دیا جو ایک خطرناک مائنڈ سیٹ تھا، وہ 3سال 7ماہ کنٹینر مائنڈ سیٹ سے باہر ہی نہ نکل سکے، ان کی تقاریر میں اپوزیشن کو رگڑنے کی بات ہوتی تھی جس کے لیے انہوں نے ریاستی اداروں کو بھی استعمال کیا اور وہ آخری دن تک اپوزیشن لیڈر کے

مائنڈ سیٹ سے باہر نہیں نکل سکے جب کہ کامیاب حکومت چلانے کیلئے برداشت، بردباری اور عوام کو ریلیف دینا ضروری ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے کسی بھی حوالے سے کوئی تیاری اور ہوم ورک نہیں کیا تھا، وزارتوں میں اکھاڑ پچھاڑ اور نیب کے خوف سے بیورو کریسی میں عدم اعتماد پیدا ہوا جب کہ اپوزیشن، حکومت مخالف تحریک کو مذہبی رنگ دینے کے بجائے عوامی مسائل، گورننس، مہنگائی اور ناکام خارجہ پالیسی کے بیانیے پر عمل پیرا رہی۔ پی ٹی آئی حکومت میں انتخاب جیت کر شامل ہونے والے electablesعمران خان کے کرشمے سے نہیں بلکہ حکومت میں رہنے کیلئے شامل ہوئے تھے جو عدم اعتماد کے نمبر پورے ہوتے دیکھ کر عمران خان کو چھوڑ کر کیٹ فش کی طرح اپوزیشن سے جاملے۔ عمران خان نے جہانگیر ترین، علیم خان اور دیگر پرانے ساتھیوں کو سائیڈ لائن کیا جنہوں نے وقت آنے پر بدلہ لیا۔ عمران خان کے دورحکومت میں سب سے زیادہ مسائل وزارتِ خزانہ میں دیکھنے میں آئے، اپریل 2019ء میں وزیر خزانہ اسد عمر اور سیکرٹری خزانہ یونس ڈھاگا جو آئی ایم ایف سے بہترین مذاکرات کررہے تھے، انہیں راتوں رات عہدے سے ہٹاکر سینیٹر عبدالحفیظ شیخ اور نوید کامران بلوچ کی نئی ٹیم کو آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے مقرر کیا گیا جنہوں نے آئی ایم ایف کی زیادہ تر شرائط مان کر ایک سخت معاہدہ کیا جس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے لیکن بعد میں عبدالحفیظ شیخ کو بھی فارغ کردیا گیا اور ان کی جگہ حماد اظہر وزیر خزانہ بنے

لیکن عمران خان، حماد اظہر سے بھی مطمئن نہ تھے اور سینیٹر شوکت ترین کو وزارت خزانہ کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ یہی ایف بی آر کے چیئرمین کے ساتھ کیا گیا۔ پی ٹی آئی حکومت میں ایف بی آر کے 7 چیئرمین تبدیل کئے گئے جن میں جہانزیب خان، شبر زیدی، نوشین امجد، جاوید غنی، عاصم احمد، ڈاکٹر اشفاق احمد اور حالیہ چیئرمین عاصم احمد شامل ہیں، جنہیں دوسری مرتبہ چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ عمران خان نے آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہونے کے باوجود عوامی دبائو پر صنعتی ایمنسٹی اسکیم، پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر اور بجلی کے نرخوں میں 5روپے فی یونٹ کمی، پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں جون 2022ء تک کمی کا اعلان کیا جس سے قومی خزانے پر 250سے 300ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا اور آئی ایم ایف نے نئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے ان سبسڈیز کو واپس لینے کی شرط رکھی ہے جس کے لیے حکومت نے رضامندی ظاہر کردی ہے۔ عمران حکومت میں احتساب اور بیرون ملک سے 200ارب ڈالر کی لوٹی گئی دولت واپس لانے کے نام پر قومی خزانے سے اربوں روپے ادا کئے گئے لیکن بیرون ملک سے ایک ڈالر بھی نہیں لایا جاسکا بلکہ ریکوری کے بغیر براڈشیٹ کو جرمانے کی مد میں 28.7ملین ڈالر اور مجموعی طور پر 63ملین ڈالر (10ارب روپے) پاکستان ہائی کمیشن لندن کے اکائونٹ سے عالمی عدالت کے حکم پر ادا کئے گئے۔ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی لامحدود حمایت حاصل تھی

اور انہیں پنجاب پر کنٹرول بھی حاصل تھا جب کہ اپوزیشن منقسم اور مایوسی کا شکار تھی لیکن عمران خان کے بار بار یوٹرن لینے سے ان کی ناتجربہ کاری اور ریاستی امور سے ناواقفیت جھلکتی تھی جس سے عوام میں ناامیدی بڑھتی گئی۔ پنجاب چلانے کے لیے کمزور قیادت کا انتخاب عمران حکومت کی سب سے بڑی کمزوری بنی جس سے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کی تعداد میں اضافہ ہوا جس سے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو تقویت ملی۔ عمران حکومت میں سول ملٹری تعلقات، ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی اور حکومت اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے اختلافات بھی سامنے آئے جس سے عمران خان حکومت کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے۔ عمران خان نے امریکہ، یورپی یونین کارڈ کو جس طرح استعمال کیا، وہ ملکی مفاد میں ہرگزنہیں تھا، کیو نکہ یہ وہ ما ر کیٹس ہیں، جہا ں ہمارے ما ل کی کھپت ہو تی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چا ہیے کہ ہما رے سروں پر آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کی تلوا ریں لٹک رہی ہیں۔ ان حالا ت میں معمولی شعو ر رکھنے والا سیا سی کا رکن بھی ان مما لک سے بگا ڑ کی غلطی نہیں کر سکتا۔ اور اب جو عمران خان چین سے ہمدردی جتا نے کی کو شش کر رہے ہیں ، تو حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے دورِ حکو مت میں چین ان کے وزراء کے بیانا ت سے کبھی خوش نہیں تھا۔ اور یہ ہے وہ نکتہ جو اہلِ دانش کی توجہ کا مستحق ہے۔ یعنی ٹھنڈے دل سے غو ر کر یں اور سوچیں کہ کیا کبھی چین مخا لف قو تیں یہ چاہیں گی کہ پاکستان پہ کوئی ایسی پارٹی حکومت کر ے جس کی وفا دا ریا ں چین کے سا تھ ہوں۔؟ ایسے میں ان کی عمران خان کی ری لا نچنگ کی وجہ سمجھنے میں کو ئی دقت پیش نہیں آ تی۔

Categories
آرٹیکلز

شریف اور چوہدری خاندانوں میں موجود چند شاندار روایات ۔۔۔۔ سینئر پاکستانی صحافی نے آنکھوں دیکھے واقعات بیان کر دیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ہمارے کچھ دوست برہم ہیں کہ وزیراعظم سمیت کابینہ کے اہم ارکان کو ہی لندن طلب کر لیا گیا ہے گویا اب پاکستان کا دارالحکومت ہی اسلام آباد سے لندن منتقل ہو گیا ہے، کچھ غصے اور تعصب میں بھرے ہوئے

یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ ایک سزا یافتہ شخص نے پوری حکومت کو طلب کر کے آئین، قانون اور جمہوریت کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے اور میں ان کی طرف دیکھ کر سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ لوگ ابھی مریخ سے براہ راست زمین پر نازل ہوئے ہیں اور انہیں علم نہیں کہ گذشتہ چار سے پانچ سال یہاں نیا پاکستان بنانے کے نام پر کیا کھیل ہوتا رہا ہے۔ انہیں غالبا شریف فیملی کی سیاسی جدوجہد کا بھی علم نہیں اوروہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ملکی تاریخ میں کسی مارشل لا کو شکست دے کرتیسری مرتبہ وزیراعظم بننے والا واحد شخص نواز شریف ہی ہے ۔ ان کے سیاسی فیصلوں پر اعتراض بھی کیا جا سکتا ہے اور تنقید بھی، جو میں کرتا رہتا ہوں، مگر میں اپنی سیاسی تاریخ کو نہیں جھٹلا سکتا۔ یہ کسی سیاسی رہنما کی محض کسی دوسرے سیاسی رہنما سے ملاقات نہیں تھی بلکہ آپ یہ سمجھئے کہ تھوڑی سی عمر کے فرق کے ساتھ فرمانبردار بیٹا اپنے مشفق باپ سے مل رہا تھا۔ نواز شریف سے ملنے جانا ان کا حق ہی نہیں بلکہ فرض بھی تھا۔میں نے اپنی صحافتی زندگی لاہور میں گزاری ، رپورٹنگ کے بڑے عرصے میں بیٹ بھی نواز لیگ ہی رہی لہذا میں نے شریف فیملی کو بہت قریب سے دیکھا اورجانا سو جب یہ باتیں کی جاتی تھیں اور کی جاتی ہیں کہ نون میں سے شین نکلے گی تو یقین کریں میرا ہاسا نکل جاتا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کاالمیہ ہے کہ بہت امیر اور بہت غریب خاندانوں میں معاشرتی اور خاندانی روایات عنقا ہوتی جا رہی ہیں

مگرمیں نے شریف فیملی کو میاں محمد شریف کے دور سے ہی جس’ فیملی بانڈ‘ میں بندھے ہوئے دیکھا اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ میاں نواز شریف جب وزیراعظم تھے تب بھی اپنے والد کا اس حد تک احترام کرتے تھے کہ ہر جمعے کو بھاگے بھاگے لاہور چلے آتے تھے۔ جمعے کی صبح ماڈل ٹاو ن میں کارکنوں کی کھلی کچہری لگتی تھی مگر بارہ بجنے سے پہلے ہی نواز شریف اپنی گھڑی دیکھنا شروع کر دیتے تھے کہ انہوں نے جاتی امرا اپنے والد کے پاس کھانے کی میز پر پہنچنا ہوتا تھا اور یہ ایسے جاتے تھے جیسے گولی جاتی ہے۔ ان دنوں ہمارے لئے جاتی امرا لاہور سے باہر ہوا کرتا تھا۔ پھر مجھے یاد آیا کہ جب آج سے چودہ، پندرہ برس پہلے شریف برادران اپنی جلاوطنی ختم کر کے واپس لوٹے تو پہلے داتا دربار گئے اور وہاں سے رات گئے ماڈل ٹاون گھر پہنچے۔ رات ایک، دو بجے کا وقت ہو گا جب دونوں بھائی آپس میں بیٹھے کھسر پھسر کر رہے تھے تو ہم صحافیوں کی متجسس نگاہوں کے جواب میں میاں نواز شریف نے وضاحت کی کہ ان کے والد سو چکے ہیں او راب ہم دونوں میں سے کوئی نہیں انہیں جگا سکتا، والدہ سے درخواست کر رہے ہیں کہ طویل عرصے سے ملاقات نہیں ہوئی، اگر وہ انہیں اٹھا دیں، مگر یہ جرات کسی میں نہ تھی۔ اپنے بزرگوں کا ایسا احترام آج شائد ہی کسی فیملی میں ہو۔ یہ نواز شریف اور شہباز شریف ہی تھے جو درجنوں خادم ہونے کے باوجود اپنی والدہ کی وہیل چئیر خود ہی چلاتے تھے

چاہے وہ خانہ کعبہ جیسی پبلک پلیس پر ہی کیوں نہ ہوں اور یہ ان ہی کے حکم کا نتیجہ ہوتا تھا کہ اپنے والد کے مقرر کئے ہوئے امام مسجد ( طاہر القادری ) کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر غار حرا میں لے جاتے تھے۔نواز شریف اور شہباز شریف کا تعلق بھی عجیب ہے۔ کہتے ہیں کہ جب کمانے لگتے ہیں تو بھائی ہی بھائیوں کے شریکے بن جاتے ہیں۔ میں خدا کو حاضر ناظر جان کے کہوں گا کہ ان کی فیملیز میں شائد روایتی جراثیم موجود ہوں ، ہاں، میں نے ذاتی طور متعدد بار باتیں سنی بھی ہیں مگر شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کی عزت ایسے کرتے ہیں جیسے اپنے والد کی کرتے ہوں۔ یہ بھی ایک سے زائد مرتبہ ہوا کہ سینئر صحافیوں کی مجلس تھی اور شہباز شریف نے ایسی کوئی رائے پیش کر دی جو نواز شریف کوغیر منطقی لگی تو انہوں نے سب کے سامنے ایسے ڈانٹا جیسے ایک باپ اپنے بیٹے کو ڈانٹتا ہے مگر مجال ہے شہباز شریف کا ری ایکشن آج کل کے بیٹوں جیسا بھی ہو، میں نے انہیں جواب میں منمناتے ہوئے بھی نہیں دیکھا ۔ مجھے یہ کہنے میں بھی عار نہیں کہ ان سے بہت فاصلے پر چلے جانے والے چوہدری برادران میں بھی ایسی ہی روایات ہیں ، ہاں، اب دونوں خاندانوں میں تیسری نسل کے آنے کے بعد کچھ فرق ضرور آ رہا ہے مگر جب تک بڑے موجود ہیں میرے خیال میں یہ فرق نہ دلوں میں جڑ پکڑ سکتا ہے او رنہ ہی پھل ، پھول لا سکتا ہے۔

آپ مریم نواز اور حمزہ شہباز کو ہی دیکھ لیجئے، دونوں کے خیالات میں زمین آسمان کا فرق ہے اور ان کی میڈیا اور پارٹی کی ٹیمیں بھی فرق ہیں مگر اس کے باوجود کیا آپ نے کبھی ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا ہوتے ہوئے دیکھا، میں نے تو نہیں دیکھا بلکہ میں نے تو دیکھا کہ یہ جب بھی آپس میں ملے ایسے ہی ملے جیسے دو سگے بہن بھائی طویل عرصے کے بعد مل رہے ہوں ۔دوسری طرف، اگر بہت زیادہ منطقی بلکہ کسی حد تک بے لحاظ ہو کر بھی تجزیہ کریں تو نتیجہ یہی ہوگا کہ یہ آپس میں اختلاف نہیں کریں گے۔ یہ جانتے ہیں کہ یہ دونوں ایک دوسرے کی طاقت ہیں۔ ووٹ بنک نواز شریف کے پاس ہے مگر مجھے کہنے دیجئے کہ پاکستان میں اقتدار کے حصول کے لئے ووٹ بنک واحد شرط نہیں ہے۔ یہ ایک الگ اورلمبی بحث ہے جس پر میں کئی مرتبہ بات کر چکا ہوں۔ سو نواز شریف کی طاقت شہباز شریف بھی ہیں اوربہت بڑی طاقت ہیں۔ جب دوسری طاقتیں فیل ہوجاتی ہیں تو پھر شہباز شریف کی طاقت چلتی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ اس وقت کا منظرنامہ بھی شہباز شریف کی طاقت کا ہی مظہر ہے اور شہباز شریف نے بجا طور پر کہا ہے کہ لوگ انہیں بہترین ایڈمنسٹریٹر تو مانتے ہی ہیں اور اب ان کی سیاست کی طاقت بھی دیکھ لی ہے۔ یہ شہباز شریف ہی کی آصف زرداری کے ساتھ مل کر حکمت عملی تھی جس نے آج عمران خان جیسے مخالف کو ایوان وزیراعظم سے اس شدید گرمی میں سڑک، سڑک خوار ہونے کے لئے مجبور کر دیا ہے۔ آپ اس تصویر کو دوبارہ اور سہ بارہ دیکھئے، آپ کو اس میں آپ کو نواز شریف کی چھوٹے بھائی کے لئے محبت اور شہباز شریف کی بڑے بھائی کے لئے عقیدت نظر آئے گی۔ یہ کسی مجرم یا محض سیاسی رہنما سے نہیں،یہ بھائی کی بھائی سے ملاقات تھی اوراس کے ساتھ ساتھ پارٹی کے وہ رہنما تھے جو نواز شریف سے اب ایک ایسا تعلق رکھتے ہیں جو محض سیاست سے آگے محبت اور عقیدت کا تعلق بن چکا ہے۔ وہ نواز شریف کی جدوجہد کو سراہتے ہیں اور انہیں جدید پاکستان کا حقیقی بانی سمجھتے ہیں۔ اس تصویر سے ایک مرتبہ پھر بہت سارے دلوں پر سانپ لوٹ گئے ہیں۔ یہ تصویر بتا رہی ہے کہ عمران خان کی نااہلی سے تباہ ہوتے ہوئے پاکستان کو بچانے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کو بھی شریف فیملی کو جہاں ہے اور جیسے ہے کہ بنیاد پر ہی قبول کرنا پڑا ہے ورنہ شہباز شریف کواس سے پہلے کم از کم تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کی پیش کش ہو چکی ہے اورمیرا یقین ہے کہ اپنے والدین کی تربیت کے باعث شہباز شریف تین مرتبہ تو کیا تین سو مرتبہ اس عہدے کو اپنے بھائی پر سے وار کر پھینک سکتا ہے۔

Categories
آرٹیکلز

چور ملک پر دھاوا بول دیں تو چوکیدار نیوٹرل نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔ فواد چوہدری کی پاکستان کےاصل طاقتوروں سے حیران کن التجا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار منیزے معین اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔حکومت ابھی مکمل طور پر اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوئی اور تحریک انصاف بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مارچ کی کال دے دی ہے اور جلسے کیے جا رہے ہیں.

یوں معلوم ہوتا ہے جیسے پی ٹی آئی پاور شو کر کے ماضی کی طرح اقتدار میں آنا چاہتی ہے لیکن اب کی بار یہ پاور شو اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے کہ فوری ملک میں انتخابات کروائے جائیں۔ عمران خان شہباز شریف کو میر جعفر کہتے ہیں جسے امریکہ نے تعینات کیا ہے۔ خیر میر جعفر والا ٹیگ حکومت کی جانب سے تنقید کئے جانے کے بعد شہباز شریف سے منسوب کردیا تھا۔ فواد چوہدری نے اپنے لیڈر کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ اگر چور ملک پر دھاوا بول دیں، تو چوکیدار نیوٹرل نہیں رہ سکتا۔ اور عمران خان نے یہ سوال بھی اوپن اینڈ چھوڑ دیا کہ آخرت میں اللہ کو کیا جواب دیں گے سوال پوچھا گیا آپ امپورٹڈ حکومت کے خلاف کھڑے ہوئے تھے؟بظاہر حکومت اس وقت تک اپوزیشن کا دباؤ لے رہی ہے جو کہ عیاں ہے۔ مثبت معاشی فیصلے کرنے سے حکومت اس وقت قاصر ہے۔ معیشت کی کشتی ڈاواں ڈول ہے اور الیکشن کس وقت کرانے ہیں اس کا فیصلہ بھی نہیں کیا جا رہا۔عمران خان کے دباؤ کی وجہ سے حکومت بڑے فیصلے لینے سے ہچکچا رہی ہے اور پوری کی پوری کابینہ اسی سلسلے میں نواز شریف کے پاس سیاسی مشورے کے لیے رجوع کرتی ہے۔ اس معاملے کو اگر باریکی سے دیکھا جائے تو حقیقت میں نقصان پاکستان کا ہو رہا ہے، شہباز شریف جوابدہ ہیں کہ اگر ان میں مشکل اور سیاسی طور پر غیر مقبول فیصلے کرنے کی ہمت نہیں ہے اور بطور سیاسی لیڈر عوام پر مشکل فیصلوں کو اعتماد میں لینے کی صلاحیت نہیں ہے

تو انہوں نے وزارت عظمیٰ کا حلف کیوں اٹھایا۔ ملک میں بے یقینی کی صورت حال ہے، مارکیٹس کا ملک پر اعتماد ختم ہو رہا ہے، ڈالر کی پرواز جاری ہے، اسٹاک مارکیٹ میں ساڑھے چھ سو پوائنٹس کی کمی ہوئی ہنڈریڈ انڈیکس 43 ہزار کی سطح سے بھی نیچے آگیا، اپرل میں مہنگائی 13 فیصد سے اوپر رہی اور بھی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔عمران خان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے سٹیٹ بینک نے شرح سود سوا بارہ فیصد کر دی تھی مگر اب موجودہ حکومت کو کمرشل بینک سے 15 فیصد کی مہنگی شرح پر قرضہ لینا پڑ رہا ہے یعنی سود کی ادائیگیوں میں اضافہ ہوگا اور بجٹ خسارہ بھی بڑھے گا۔ پچھلی حکومت کے کیے گئے سبسڈی کے وعدوں کو پورا کرنے کی اہلیت موجودہ حکومت میں نہیں ہے اور رواں مالی سال میں ریکارڈ خسارہ ہونے جا رہا ہے۔سونے پہ سہاگہ یہ کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل واشنگٹن نے میں آئی ایم ایف سے پٹرول بجلی اور ڈیزل پر ان فنڈڈ سبسیڈیز واپس لینے کا وعدہ کیا۔جسکے بعد آئی ایم ایف نے پریس رلیز میں اس بات کی تصدیق کردی۔یعنی مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کرکے آئے کہ عمران خان کی حکومت نے جو بھی سبسڈیز کے وعدے کیے تھے (پٹرولیم کی قیمتوں میں 3 ماہ کی کمی کا اعلان کیا تھا) اسے واپس لیا جائے گا اور قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی اوگرا کی سمری مسترد کردی. وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف پروگرام میں دو ارب ڈالر اضافے کی درخواست کی مگر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے میڈیا پر آکر اس کی مخالفت کردی اور مطالبہ کر دیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ نیا مطالبہ کیا جائے کیونکہ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے لیے انتہائی سخت شرائط پر معاہدہ کیا تھا اور اسحاق ڈار نے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری مسترد کردی۔ با اختیار وزیر خزانہ اس وقت اس ایک ماہ کی حکومت میں بے اختیار نظر آتے ہیں۔ ایک ملک، دو ممالک، دو وزیراعظم، دو وزرائے خزانہ مل کر ایک ملک چلا رہے ہیں۔افواج پاکستان اس ملک کے دفاع کے لیے ہمہ تن موجود ہیں اور کسی عالمی سازش کو پاکستان پر غالب آنے نہیں دیں گے ان کو ملکی سیاست میں مداخلت کیلئے اکسانا جمہوریت کا قلعہ قمع کرنے کے مترادف ہے۔ جہاں تک بات ہے موجودہ حکومت کی تو ہوش کے ناخن لینا بہت ضروری ہے کیونکہ وزیراعظم کا عہدہ بہت کلیدی ہے جس کے لیے شہباز شریف کو خود ذہنی طور پر تیار کرنا ہوگا یعنی خود پر اپنے بھائی سے زیادہ یقین کرنا ہوگا۔ مشہور کہاوت ہے کہ جس شخص میں فیصلہ سازی کی طاقت نہیں ہوتی وہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے۔

Categories
آرٹیکلز

زمانہ قدیم سے لیکر آج تک خوبصورت عورت کو پانے کے لیے مردوں نے کیا کچھ نہیں کیا ؟ حیران کن حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار بلال الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیا کا ہر صاحبِ ذوق انسان شاعری پسند کرتاہے اس کی وجہ یہ ہے کہ شاعری میں فصاحت کی انتہا ہوتی ہے۔ شاعر ایک مصرعے اور ایک شعر میں وہ بات بیان کردیتاہے، جو انسان کی پوری زندگی کا احاطہ کیے ہوتی ہے۔

میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا۔۔۔عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا۔۔۔یہ الفاظ سنتے ہی اس دنیا کے بے بس اور کمزور انسان بلک اٹھتے ہیں۔ بے شمار بیویاں اپنے شوہر اور بے شمار شوہر اپنی بیویوں کے بارے میں ہوبہو یہی جذبات رکھتے ہیں۔فصاحت کیا ہے ؟ کم از کم الفاظ میں بہت بڑی بات کو بیان کر دینا۔ دنیا میں آج تک جتنے بھی شعر کہے گئے‘ ان کا ایک بڑا حصہ عورت کی خوبصورتی پہ مرتکز ہے۔محبوب کا چہرہ زندگی کی سب سے قیمتی اور نادر چیز بن جاتاہے۔تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت۔۔۔ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں۔۔۔رات اور چاند‘ ہر چیز میں شاعر کو محبوب کی جھلک نظر آتی ہے؛۔۔رات پھیلی ہے تیرے سرمئی آنچل کی طرح۔۔چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے پاگل کی طرح۔۔۔دوسری طرف خدا جہاں ان چیزوں کا ذکر کرتاہے‘ جن میں خوبصورتی کو سجا دیا گیا ہے تو وہاں عورت کے ساتھ اولاد کاذکرآتاہے۔ چھ ماہ سے تین سال کے بچّے میں اس قدر خوبصورتی ہوتی ہے جو بیان سے باہر ہے۔ انسان اس میں کھو سا جاتاہے۔یہ اولاد اس کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ بن جاتی ہے۔ اسے آسودہ رکھنے کے لیے وہ دن رات محنت کرتاہے۔ پھر جیسے جیسے وقت گزرتاہے‘ بچّے کی خوبصورتی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسے ملنے والے لاڈ پیار میں کمی واقع ہو نے لگتی ہے۔شیر خوار بچوں میں آخری درجے کی خوبصورتی اس لیے پیدا کی گئی کہ ماں باپ ان کی حفاظت کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنا لیں۔

یوں انسان اور حتیٰ کہ جانوروں کی نسل بھی کامیابی سے آگے بڑھتی رہتی ہے۔خوبصورت عورت کو پانے کے لیے لوگوں نے اپنی جانیں نچھاور کیں۔بڑے بڑے لوگ اپنے محبوب کے در پہ بھکاری بن گئے۔ جاگیروں کے مالک محبوب کے جانور سنبھالنے لگے۔ خوبصورت عورتوں کی خاطر کئی لڑائیاں ہوئیں اور لاکھوں افراد زندگی سے محروم ہو گئے۔ بے شمارنامور افراد خواتین کو چھیڑنے کرنے کے الزام میں رسوا ہوئے۔ امریکی صدر بل کلنٹن اور سی آئی اے کے چیف جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو اپنے معاشقوں کے سنگین نتائج بھگتنا پڑے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کا صدر اور دنیا کی سب سے طاقتور خفیہ ایجنسی کا چیف بھی عورت کی اس خوبصورتی کے مقابل بے بس ہو چکے تھے۔لیکن اولاد اور عورت کی یہ ساری خوبصورتیاں جھوٹی ہیں۔ یہاگر جھوٹی نہ ہوتیں تو بلی ایک دن اچانک اپنے بچے چھوڑ کر کیوں بھاگ جاتی ہے۔ ٹائیگریس ایک دن اچانک اپنے بچوں سے جگہ (Territory) کی ملکیت پہ کیوں خوفناک لڑائی پہ اتر آتی ہے۔ یہ ساری خوبصورتیاں مصنوعی طور پر نازل کی گئی ہیں انسان پراور تمام جانداروں پر۔ جس طرح کمپیوٹر صفر اور ایک کی زبان سمجھتا ہے، اسی طرح ہمارے دماغوں پر بھی کچھ ہدایات لکھی ہوئی ہیں۔ ان ہدایات کو اگربدل دیا جائے تو آپ کو اپنی اولاد مکروہ لگنے لگے اور کاکروچ میں خوبصورتی نظر آئے۔ ایک بھینسے کو کالی اور موٹی بھینس کیوں اتنی ہی خوبصورت لگتی ہے، جیسے انسان کو ایک حسین عورت۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ

خوبصورتی اس چیز میں نہیں ہے‘ جسے ہم دیکھ رہے ہیں۔ خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں نہیں بلکہ دیکھنے والے کے دماغ میں ہوتی ہے۔ خوبصورتی کے معیار ہمارے دماغوں میں تخلیق کیے گئے ہیں۔ ان معیارات میں اگر تبدیلی کر دی جائے تو آپ کو کبھی عورت اور اولاد خوبصورت نہ لگے۔معیار تبدیل کر دیا جائے تو محبوب کی زلف کی جگہ آپ کاکروچ کی دو انٹینا نما مونچھوں کی تعریف کرتے ہوئے پائے جاتے۔ کاکروچ کے سرخ پروں کو شفق سے تشبیہ دی جاتی۔اب سنیں قرآن کی فصاحت۔ اللہ کہتاہے ’’ سجا دی گئی لوگوں کے لیے شہوات کی محبت‘ عورت‘ اولاد‘ سونے چاندی کے ڈھیر‘ گھوڑے‘ جانور اور کھیتی۔ اور اللہ کے پاس ان سے بہتر بدلہ ہے‘‘۔اس سے زیادہ فصاحت اور ممکن ہی نہیں۔ اصل مسئلہ یہی ہے کہ کچھ چیزیں سجا دی گئی ہیں۔ انسان بے بس ہے۔ انسان جب مزاحمت کی بجائے خود کو ان سجائی گئی چیزوں کے حوالے کر دیتاہے تو وہ نیم پاگل ساہو جاتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ جو سیاستدان پارٹیاں بدلتے ہوئے، لوٹے کہلاتے ہوئے دن رات بے عزت ہو رہے اور دوسرو ںکو بے عزت کر رہے ہیں، یہ نارمل ہیں ؟ کل ایک شخص اعلان کررہا تھا کہ میں اسے گلیوں میں گھسیٹوں گا اور آج اسی شخص کو سر آنکھوں پہ بٹھا رہا ہے، یہ نارمل ہے ؟ یہ شہوات کی محبت میں دیوانے ہو چکے ہیں۔ انسان جب شہوات کی محبت میں ایک خاص حد سے بڑھ جائے تو پھر وہ ایک عادی ہو جاتا ہے۔ اسے سرور کے علاوہ اور کسی چیز سے غرض نہیں ہوتی۔ دولت کی طلب سرور ہی تو ہے۔ میں زندگی میں پانچ سو بوری گندم کھا سکتا ہوں لیکن میں پانچ کروڑ بوریاں اکھٹی کرکے بھی مزید کے پیچھے بھاگ رہا ہوں تو کیا یہ پاگل پن نہیں ؟ان سب چیزوں میں پھندے ہیں، ٹریپ ہیں۔ مخالف صنف کی محبت شاید مصنوعی طور پر انسان کے دماغ میں تخلیق کی گئی ہے تاکہ نسل بڑھتی رہے۔ ور نہ تو نفس اپنے آپ ہی سے محبت کرتاہے۔ جب یہ محبتیں اٹھا لی جائیں گی تو انسان کہے گا کہ کون سا محبوب‘ کون سی اولاد اور کون سے ماں باپ۔ اس وقت نفس میں صرف اپنی ہی محبت باقی رہ جائے گی۔ کیسا خوفناک ہوگا وہ وقت!

Categories
آرٹیکلز

مئی کے آخر میں اسلام آباد میں دھرنے کی کال کے امکانات : اگر عمران خان کا یہ پلان ناکام ہو گیا تو پھر کیا ہو گا ؟ ایک خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار راجہ اکبر داد خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد ہوئے ایک ماہ ہو گیا ہے۔ حکومت کیسے اور کیوں گئی، ایسے موضوع ہیں جن پر کسی انجانے خوف کی بنا پر بہت کم بات ہورہی ہے اور ایسا لگ رہا ہے جیسے

اقتدار کی پوٹلی موجودہ حکومت کی جھولی میں دعائوں کے ساتھ رکھ دی گئی ہے اور نصیحت کردی گئی ہے کہ انہیں اپنے گزشتہ کئی ماہ پر پھیلے بیانیہ کو یاد رکھنے کی زیادہ فکر نہیں ہونی چاہئے کیونکہ اس بیانیہ میں مرکزی نقاط مہنگائی کو کم کرنا، بیروزگاری کو کم کرنا، پاکستان کا بیرون ملک امیج بہتر کرنا تھے۔ ان چار ہفتوں میں ان موضوعات پر بہت کم بات ہوئی ہے کیونکہ ان امور پر حکومت کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ 15ماہ میں محسوس کی جانے والی تبدیلی ممکن نہیں ہے، حکومت بناکر پرانی حزب اختلاف خود اپنے ہی جال میں پھنس گئی ہے اگرچہ پی ٹی آئی اقتدار سے باہر ہوتے ہی اپنے بیانیہ میں پُرزور انداز میں مطالبہ کررہی ہے کہ کیونکہ ان کے خلاف عدم اعتماد ہوگیا ہے، موجودہ حکومت کے لوگ بھی انتخابات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، اس لیے اب تقاضا یہ ہے کہ انتخابات کا اعلان ہوجائے مگر حکومت پارلیمنٹ کی بقیہ مدت (ایک سال تین ماہ) بھرپور انداز میں حکومت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس دورانیہ میں وہ اپنے مقصد کی تمام چیزیں پارلیمان سے منظور کرواکر انتخابات میں جانا چاہتی ہے تاکہ انتخابات سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکیں۔ پی ٹی آئی کے لیے اسمبلی نشستوں سے استعفیٰ دینا آسان فیصلہ نہ تھا، پی ٹی آئی اگر حزب اختلاف کی نشستوں پر موجود رہتی تو حکومت کے لیے من پسند فیصلے کرنے آسان نہ ہوتے، پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی ہرگز استعفوں کے حق میں نہ تھے،

ان کی اس دلیل میں بہت وزن تھا کہ ان کی جماعت کو اسمبلی کے اندر اور باہر ہر جگہ پر اپنے ساتھ ہوئی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے رہنا چاہئے اور اس طرح ان کی آواز زیادہ موثر انداز میں متعلقہ جگہوں پر زیر غور آتی رہے گی، احتجاج کب اور کس انداز میں شروع کرنا ہے طے کرنے میں بھی دیر ہوگئی اور جب بالآخر انہوں نے مئی کے آخری ہفتہ کی تاریخ دے دی تب تک لوگوں کی ناراضگی میں شدت کم ہوچکی ہے، لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کے لیے عمران خان نے کئی جلسوں کے اعلان کر رکھے ہیں، ان کے اختتام تک احتجاج مزید لوگوں کے جذبات سے نکل چکا ہوگا، دوسری کوئی قابل ذکر جماعت انتخابات کی بات نہیں کررہی کیونکہ اگر عمران خان کا بیانیہ کسی اعتبار سے کمزور دکھائی دیتا ہے تو یہ اتحادی حکومت بھی کچھ عوام کو دے نہیں پا رہی، اس لیے یہ اپنے پروٹوکول کے بل بوتے پر لوگوں کو باور کرانے کی کوشش میں ہے کہ ان کے اقتدار کا سفر جاری ہوچکا ہے جس کے کاندھوں پر وہ اگلا الیکشن جیت لیں گے اور جس طریقہ سے اس بار اقتدار میں تبدیلی آئی ہے، ایک شفاف نظام کے تحت انتخابات ہی اس دھبہ کو ختم کرسکتے ہیں، کیا عمران خان عوامی قوت کے دبائو کے تحت اداروں کو مجبور کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ جلد انتخابات ہوجائیں، ایک کئی ملین ڈالر سوال ہے، پچھلے انتخابات سے پہلے کے ایسے دعوے کہ ان کے پاس مختلف شعبوں میں رہنمائی کے لیے کئی درجن اعلیٰ پایہ کے

ماہرین موجود ہیں، لگتا نہیں کہ ان کی ٹیم نے اسلام آباد اجتماع کے لیے ہوم ورک اچھے انداز میں مکمل کرلیا ہے، اوّل20لاکھ افراد کا کسی ایک وقت میں اسلام آباد اکٹھا ہونا ناممکن ہے، ایسے اجتماع کے لیے آپ کو پنجاب کے کئی شہر جام کرنے پڑیں گے، تب کہیں آپ کا ٹارگٹ پورا ہوگا اور ان لوگوں کے قیام و طعام کا (بقول آپ کے) کیا انتظام ہوگا، واضح نہیں ہے، حکومت کس حد تک آپ کے ساتھ تعاون کرے گی یہ بھی واضح نہیں، مقتدرہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اقدامات کرے تاکہ حالات پرامن رہیں، وہ کیا اقدامات ہوسکتے ہیں جن سے صورت حال کو آسان بنانے میں مدد مل سکتی ہے، اس میں کوئی شک نہیں موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے لیے کئی پاپڑ بیلے ہیں اور اربوں ہضم بھی کیے ہیں، اگر ایک قومی کرائسز سے نمٹنے کے لیے اگر مضبوط حلقے حکومت اور عمران خان کے درمیان یہ طے کروا دیں کہ چھ ماہ بعد انتخابات کروا دیئے جائیں گے تو سابق وزیراعظم کو ان لائنوں پر کسی ڈیل کو قبول کرلینا چاہئے اور اپنے اسلام آباد اجتماع کو ایک جلسہ کی شکل دے کر معاملہ سے نمٹتے ہوئے منجھی ہوئی سیاست کا ثبوت دے کر معاملات کو خوش اسلوبی سے سمیٹ لینا چاہئے، زخم دونوں طرف تازہ ہیں اور تصادم کے خطرہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جس سے بیچ بچائو کرنا طرفین کی ذمہ داری ہے۔پی ٹی آئی اپنی طاقت ثابت کرنے کے لیے متواتر عظیم الشان جلسے کررہی ہے

اور ان جلسوں کا عشر عشیر بھی اسلام آباد کا رخ کرلیں تو اسلام آباد اور اس سے متصل انسانوں کا سمندر بن جائے گا جس سے امن و امان، حفظان صحت اور ملکی حفاظت کے ایسے مسائل پیدا ہوجائیں گے جن سے سول انتظامیہ کیلئے نمٹنا مشکل ہوجائے گا۔ عمران خان تاحال یہ واضح نہیں کر پائے کہ ان کاآخری کھیل کیا ہے، جس کا طے ہونا نہایت اہم ہے، فیصلہ عوام کریں گے، ایک مبہم اور غیر واضح نعرہ ہے، فیصلے عمران خان کی ٹیم نے کرنے ہیں، اس لیے پلان بی اور سی بھی لوگوں کو معلوم ہونے چاہئیں، بڑی تعداد میں لوگوں کو ایک معلق صورت حال میں نہیں جھونکا جاسکتا، اہداف کے لحاظ سے یہ اجتماع شفاف نہیں ہے جس کے باعث شرکا کی اکثریت تذبذب میں پھنسی ہوئی ہے۔ اسلام آباد اجتماع سے عمران خان کیا کچھ حاصل کرسکتے ہیں، ان کا ایک بہت بڑا گیمبل ہے، لوگ عمران خان پر یقین رکھتے ہیں اگرچہ ان کے کئی فیصلوں کی بنا پر کئی لاکھ سر کھجاتے بھی رہ جاتے ہیں اور اگر اسلام آباد اجتماع عمران خان کے ذہن میں مقاصد حاصل نہیں کرپاتا تو یہ ناکامی ان کی سیاست کے لیے ایک بڑا سیٹ بیک ہوگا، اس اجتماع کو اگر ہونا تھا تو عدم اعتماد کے فوری بعد ہوجاتا، لوگوں کو اتنے اہم معاملہ پر زیادہ دیر چارج رکھنا ممکن نہیں اور ہر کسی کے لیے ان کی آواز پر آئے دن باہر بھی نہیں نکلا جاسکتا۔ تمام صورت حال کو دیکھتے ہوئے نظریں مقتدرہ پر ہی آ ٹھہرتی ہیں کہ جس طرح ہر مشکل قومی وقت پر یہ قومی ادارہ آگے بڑھ کر حالات بہتر کروا دیتا ہے، اس موقع پر بھی وہ اپنا بوجھ ایک ایسے فارمولے کے پیچھے باندھ دیں گے جس سے لوگوں کی خواہشات کے بڑے حصے حاصل کرلیے جائیں۔

Categories
آرٹیکلز

سلطان راہی بمقابلہ مصطفیٰ قریشی : عطاالحق قاسمی کی موجودہ سیاسی حالات پر زبردست تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عطاالحق قاسمی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اصل میں ہمارے ان دوستوں نے جو اپنے ہی ملک کے لوگوں کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں، یہ بات میں اپنے پاکستانی بھائیوں کو مخاطب کرکے کہہ رہا ہوں کہ انہوں نے ان قوموں کی تاریخ نہیں پڑھی

جو انقلاب کے نام پر خونریزی کی طرف مائل ہونے اور انقلاب تو نہیں آیا البتہ خود انہوں نے ایک دوسرے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ہمارا ملک مختلف اطراف سے پہلے ہی دشمنوں میں گھرا ہوا ہے اور دشمن صرف اس ’’انقلاب‘‘ کا منتظر ہی نہیں ہے بلکہ وہ تو امن کے دنوں میں بھی اس خطہ پاک کو نشانے پر رکھے ہوتا ہے اور اگر خدانخواستہ ہم خود اس کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں تو سوچئے کیا ہو گا ؟اور ہاں ملکی معیشت اگر مضبوط بنیادوں پر استوار نہ ہو تو قومی نفاق اور بدامنی کی صورت میں اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو خود کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ملک دیوالیہ ہو جاتا ہے اور اس کے بعد لوگ نان شب کو بھی ترس جاتے ہیں گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں معاشیات کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا ہے اس کے نتیجے میں دیکھنے والی آنکھیں فردا کے ہولناک مناظر ابھی سے دیکھ سکتی ہیں۔ آئی ایم ایف سے ایسے معاہدے کئے گئے ہیں کہ نہ صرف ان سے واپسی ممکن نہیں بلکہ یہ ساہوکار ادارہ ’’ہل من مزید‘‘ کے نعرے لگا رہا ہے اس وقت سری لنکا کی مثال ہمارے سامنے ہے خدا کےلیے اپنے ملک کو اس انجام تک نہ پہنچائیں سیاست کوئی امر ممنوع نہیں ہے، ہر پاکستانی کو اپنے نظریے کے مطابق سیاسی جماعتوں کو سپورٹ کرنا چاہئے مگر باہمی نفرت کی فضا پیدا نہیں کرنی چاہئے اور جو رہنما ہیں انہیں بھی مدبرانہ انداز اختیار کرنا چاہئے اگر وہ قوم سے سلطان راہی کے انداز میں خطاب کریں گے اور دوسری طرف سے مصطفیٰ قریشی ’’جواب آں غزل‘‘ کے طور پر ویسا ہی جارحانہ انداز

اپنائیں بلکہ ان کے پیروکار بھی ہاتھوں میں گنڈاسے لیے کھڑے ہوں تو سوچیں ملک کا کیا بنے گا۔ خدا کے لیے پاکستانیوں کے ہاتھوں میں گنڈاسے نہ پکڑائیں۔اس کے علاوہ خطرناک صورتحال یہ بھی ہے کہ قومی اداروں کی اس برے انداز سے کردار کشی کی جا رہی ہے اور ان سے وابستہ شخصیتوں پر گالم گلوچ کا سلسلہ جاری ہے، وہ خطرناک ہی نہیں ہے کیونکہ قومیں جب کسی بحران کا شکار ہوتی ہیں اور ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی نظر آتی ہے تو یہ ادارے ہیں قوم کو صحیح پٹری پر ڈالتے ہیں بدامنی کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کنٹرول کرتے ہیں قانون کی تشریح عدالتیں کرتی ہیں ملکی صورتحال کی صحیح ترجمانی میڈیا کرتا ہے اور ان اداروں کو جببے اثر بنانے کے لیے ان پر گھٹیا الزامات اور ان کی کردار کشی کا عمل شروع کر دیا جائے تو پھر اس انارکی پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے جس کی طرف قوم کو لے جایا جا رہا ہوتا ہے اس وقت یہی کام بہت منظم طریقے سے ہو رہا ہے، میں آج بھی اس حسنِ ظن میں مبتلا ہوں کہ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں ان کی نیت ملک کو برباد کرنے کی نہیں ہے بلکہ وہ خود پرستی اور خبط عظمت کا شکار ہیں، ان کا خیال ہے کہ وہ ہیں تو ملک ہے اگر وہ نہ رہے تو پھر ملک کی بھی کوئی گارنٹی نہیں۔ ایسے لوگوں کو ماہر نفسیات کے پاس لے جانے کی ضرورت ہے مگر کوئی پاگل کب یہ سمجھتا ہے کہ وہ پاگل ہے وہ تو پاگل سمجھنے والوں کو پاگل اور اللہ جانے کیا کچھ سمجھ رہا ہوتا ہے۔ بہرحال اس وقت میرا ملک کوئی نارمل ملک نہیں لگ رہا۔ ٹی وی لگائیں، اخبارات پر نظر ڈالیں، سوشل میڈیا دیکھیں تو یہی لگتا ہے کہ ہم کسی پاگل خانے میں رہ رہے ہیں چارہ گروں کو اس کا کچھ نہ کچھ علاج تو کرنا ہی پڑے گا!

Categories
آرٹیکلز

علم الاعداد میں طاقتور ترین عدد 11 کے حوالے سے چند دلچسپ حقائق اور موجود پاکستانی سیاست ۔۔۔۔ ایک خصوصی تحریر ملاحظہ کریں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار منصور آفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔علم الاعداد سے میری دلچسپی ’’ اسم ِمحمد ‘‘ اور ’’اسم ِ علی ‘‘ کے عددی تعلق سے پیدا ہوئی۔ محمدﷺ کی میم اور علیؓ کی عین کے عدد جمع کئے جائیں تو 110بنتے ہیں جو علیؓ کے عدد ہیں

اور باقی حمد اور لی کے عدد جمع کئے جائیں تو 92 بن جاتے ہیں جو محمدؐ کے عدد ہیں۔ 92کو بھی آپس میں جمع کیا جائے تو 11بن جاتے ہیں۔ یعنی محمدؐ اور علیؓ دونوں کےعدد ایک سطح پر 11 ہیں کیونکہ اعداد کے علم میں صفر کی کوئی حیثیت نہیں۔ حسینؓ کے اعداد بھی 11 بنتے ہیں۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہندو ‘کلدانی ‘عبرانی ‘مصری او ر یونانی علم الاعداد سے بخوبی واقف تھے۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں یہ علم اپنے پورے عروج پر تھا۔ آصف بن برخیاجو پلک جھپکنے میں ملکہ بلقیس کا تخت لے آیا تھا، اعداد کے علم کا بہت بڑا عالم تھا۔حضرت سلیمانؑ کی سات کونوں والی مہر میں 9نمبرشامل تھے۔ ہاں یاد آیا سلیمانؑ کے عدد بھی 11 بنتے ہیں۔ اعداد کے علم سے لوگ زندگی کے حالات بھی معلوم کرتے ہیں۔ نام رکھتے ہوئے بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ اس نام کی عددی کیفیت کیا ہے؟ عبرانی کی قدیم کتابوں میں لکھا ہے کہ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو یہ علم فرشتے رازئیل کی مدد سے عطا کیا کہ وہ زمین پر قدرت کے رازوں‌سے آگاہ ہو سکیں‌۔یونانیوں کے خیال میں تو کائنات اعداد کی جمع ‘تفریق سے ہی وجود میں آئی ہے۔11کے عدد سے میری بہت پرانی علیک سلیک ہے۔ کبھی میں سوچتا تھا کہ جب کسی ہوٹل میں ٹھہرتا ہوں تو کمرے کا نمبر جمع ہو کر 11 کیوں بن جاتاتھا۔یقین کیجئے اکثر اوقات جن نمبروں سے واسطہ پڑتا تھاوہ کسی نہ کسی حوالے سے 11ضرور بن جاتے تھے

اور میں اسے اتفاق سمجھ کر نظرانداز کردیتا تھا مگر محمدﷺ اور علیؓ کے تعلق کو دیکھ کر میں نے 11 کے عدد پر باقاعدہ غور کرنا شروع کیا۔ خاص طور پر اپنے حوالے سے ۔ گھروالوں نے میرا نام محمد منصور آفاق رکھا تھا۔ محمد کے عدد 92 یعنی 11 بن جاتے ہیں۔ منصور کے عدد 386 بنتے ہیں۔انہیں آپس میں جمع کیا جائے۔ 17 بن جاتے ہیں۔ 17 جو میری تاریخ پیدائش بھی ہے۔ 17کو آپس میں جمع کیا جائے تو 8 بن جاتا ہے۔یعنی محمد منصور آفاق دو گیارہ کے درمیان ایک آٹھ کا عدد ہے۔ میں جس گھر میں پیدا ہوااس کا نمبر141 ہے۔ یعنی گیارہ کے بیچ میں آدھا آٹھ۔میں یوکے میں جس گھر میں رہتا ہوں۔ اس کے نمبر میں دو مرتبہ گیارہ آتا ہے۔ میرے بیٹے وہاں جس گھر میں رہتے ہیں اس کا نمبر 53 ہے۔ یعنی پھر وہی آٹھ۔پاکستان میں آج کل بھی میں جس گھر میں رہ رہا ہوں اس کا نمبر بھی 11 ہے۔ میرے بیٹے کا نام صاحب منصور ہے۔ ’’صاحب ‘‘ کے عددبھی 11 بنتے ہیں۔ جس وقت صاحب کا نام رکھا گیا تھا اس زمانے میں مجھے اعداد کی فسوں کاری کا علم ہی نہیں تھا۔سلطان باہوؒ کے سلسلے سے تعلق رکھنے والے ایک فقیر نے کسی زمانے میں مجھے ’’ یاہو ‘‘ کا ورد کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ کچھ عرصہ میں نے کیا بھی۔ یہ تو بہت بعد میں پتہ چلا کہ ’’یا ‘‘ کے عدد بھی 11 ہیں اور ’’ ہو ‘‘ کے عدد بھی گیارہ ہیں۔

بچپن میں میانوالی میں میری دوستی ایک ’’ عطو کملے‘‘ نامی مجذوب سے ہو گئی تھی۔ وہ اکثر پڑھتا تھا۔ ’’یا میاں محمد بخش۔ یامیاں محمد بخش ‘‘ اسی سبب میاں محمد بخش کی طرف رغبت محسوس کی۔ خاص طور پر ان کی شاعری کی طرف۔ ایک مرتبہ یونہی غور کررہا تھا تو خیال آیا کہ ’’یا‘‘ کے عدد تو 11 ہیں ہی۔ ’’ میاں ‘‘کے عدد بھی 11 ہیں۔ محمد کے بھی گیارہ اور’’ بخش‘‘ کے عدد بھی 11 ہیں۔ اللہ کے بہت سے نام ایسے ہیں جن کے عدد گیارہ ہیں۔ مثال کے طور پرخالق، رازق، ذوالجلال و اکرام، خلاق، مخفی، مغنی، ضار، دافع، کبیر، فاطر، دیان، ہو،واسع، خبیروغیرہ۔ غوث اعظم کے ساتھ 11 کے عدد کے تعلق کو تو خیر ساری دنیا جانتی ہے۔گھر گھر گیارہویں شریف کا ختم دلایا جا رہا ہوتا ہے۔ میں یوکے میں شادی کی تقریب میں شریک ہوا جس کے دعوت نامے پر انہوں نے نکاح کا دن اور وقت یہ درج کیا تھا۔11:11:11 11.11.11۔یعنی وہ نکاح موجودہ صدی کے 11 ویں سال کے 11 ویں مہینے کے 11 ویں دن، صبح 11 بج کر 11 منٹ اور 11 سیکنڈ پرکیا گیا تھا۔ چین میں بھی اس تاریخ کو مبارک قرار دیا گیا اور ہزاروں نےاسی تاریخ کو شادی کی۔علم اعداد میں 11 کو طاقت کا عدد سمجھا جاتا ہے۔ انگریزعلمِ اعداد کے ماہرین کے نزدیک 11 کا عددروحانیت کا عددہے۔ یہی عدد دنیا میں الوہیت کو فروغ دیتا ہے۔سورج کا سائیکل بھی گیارہ سال پر محیط ہوتا ہے۔ سب سے گہرے سمندر کی گہرائی 11کلو میٹر ہے۔

فٹ بال، کرکٹ اور ہاکی وغیرہ میں گیارہ کھلاڑی ہوتے ہیں۔ دنیا کی قدیم زبانوں میں گیارہ کا مطلب ’’بے انتہا ‘‘اور’’ لا محدود ‘‘ہیں، اسپین میں بولی جانے والی زبان Basque میں آج بھی گیارہ کا یہی مفہوم ہے۔ سائنس بھی گیارہ سمتوں پر یقین رکھتی ہے۔ قمری اور شمسی سال میں گیارہ دن کا فرق ہے۔امریکہ نے چاند پر جو پہلا راکٹ بھیجا تھا اس کا نام بھی اپالو11 رکھا تھا۔پہلی ورلڈ وار جب ختم ہوئی تو تاریخ گیارہ نو مبر اورگیارہ بجے طے کیا گیا۔قائداعظم کی تاریخ وفات میں 9/11 ہے۔ علامہ اقبال کی تاریخ پیدائش 11/9ہے۔ یعنی پاکستان سے بھی گیارہ کا ہندسہ جڑا ہوا ہے۔ پاکستان 47 میں وجود میں آیا وہاں بھی وہی گیارہ چمک رہا ہے۔پاکستان کا دنیا کےلیے فون کوڈ بھی 92 یعنی 11 ہے۔نیویارک میں 9/11کے واقعہ سے بھی گیارہ کا بہت گہراتعلق رہا ہے۔نیویارک امریکہ کی گیارہویں ریاست ہے۔ نیویارک کے عدد بھی 11 بنتے ہیں۔ ٹوئن ٹاور سےدو فلائٹس ٹکرائی تھیں ایک کانمبر 65 یعنی 11 تھا اور اس میں سوار مسافروں کی تعداد بھی 65 ہی تھی۔ دوسری فلائٹ کا نمبر بھی گیارہ تھا۔اس میں 92 مسافر سوارتھے۔ پھر وہی گیارہ۔ 11 کے عدد کو اگر پاکستان کی سیاست میں دیکھا جائے تو عمران خان، آصف علی زرداری، نواز شریف یا شہباز شریف کا گیارہ سے بظاہر کوئی خاص تعلق دکھائی نہیں دیتا لیکن ان سے آگے معاملات گیارہ کی طرف جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ مریم کے عدد بھی گیارہ ہیں۔ حسین کے عدد بھی گیارہ ہیں۔ حسن نواز کے اعداد بھی گیارہ ہیں۔حمزہ شریف کے عدد بھی گیارہ ہیں۔

Categories
آرٹیکلز

قیادت کے فیصلوں سے اختلاف کی سزا تاحیات نااہلی : یہ کیسی جمہوریت اور کیسا انصاف ہے ؟ منحرف اراکین کے حق میں بڑی دلیل پیش کر دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مزمل سہروردی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 63 A کی تشریح کے لیے ریفرنس کی سماعت جاری ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے دلچسپ ریمارکس بھی سامنے آ رہے ہیں۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ریمارکس فیصلے نہیں ہوتے۔

یہ وہ سوالات ہوتے ہیں جو آنریبل ججز کیس کی سماعت کے دوران پوچھتے ہیں تا کہ دلائل کو بخوبی سمجھا جا سکے۔ ان ریمارکس کو ججز کا ذہن بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انھی سوالات کے جوابات کی روشنی میں ججز اپنا ذہن بناتے ہیں جس سے فیصلہ بنتا ہے۔ججز کے ریمارکس تو شائع ہو جاتے ہیں لیکن ان ریمارکس میں دیے جانے والے دلائل اس طرح شائع نہیں ہوتے۔ اس لیے یہ ریمارکس بھی یک طرفہ کہانی ہی ہوتے ہیں۔پارلیمانی جمہوریت میں اصلاحات کی ابتدا سیاسی جماعتوں میں جمہوریت سے ہونی چاہیے۔ سپریم کورٹ کو ایسی قانون سازی کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو سیاسی جماعتوں میں آمریت کے کلچر کو فروغ دے۔ایسی قانون اور آئین سازی جس سے سیاسی جماعتوں کی قیادت کو آمرانہ اختیارات حاصل ہو جائیں‘ وہ جمہوری نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کے آئین میں سیاسی جماعتوں کی قیادت نے خود کو ایسے اختیارات دے دیے ہیں جن کی وجہ سے وہ اپنی اپنی سیاسی جماعتوں میں مطلق العنان بادشاہ بن گئے ہیں۔ ان سے اختلاف سیاسی موت بن جاتا ہے۔ اس لیے ان کی اطاعت میں ہی سیاسی بقا بن گئی ہے۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔یہ بات بھی غلط ہے کہ ہم یہ مان لیں کہ ارکان اسمبلی جب بھی اپنی پارٹی قیادت سے اختلاف کریں گے تو پیسے لے کر ہی کریں گے۔ کیا ہم یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ارکان اسمبلی اپنی سوچ اور اپنی سیاسی سمجھ بوجھ کے تحت اختلاف کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں فرد واحد کا ہر غلط حکم ماننا بھی جمہوریت ہے۔

یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں پارٹی قیادت سے اختلاف کی سزا عمر بھر کی نا اہلی مانگی جا رہی ہے۔ اگر ہم ارکان اسمبلی کو اپنی سوچ سے فیصلے کرنے کی آزادی نہیں دیں گے تو وہ ارکان اسمبلی نہیں رہیں گے بلکہ پارٹی قیادت کے وہ غلام بن جائیں گے جن کو اپنی مرضیٰ سے کوئی فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی‘ وہ بس ہاں میں ہاں ملانے والی کٹھ پتلیاں بن جائیں گے۔ جہاں انھوں نے اختلاف کیا وہاں ان کی سیاسی زندگی کو موت مل جائے گی۔سیاسی جماعتوں کی قیادت کے پاس ٹکٹوں کی تقسیم کے لامحدود اختیارات ہیں۔ وہ اپنے ناپسندیدہ لوگوں کو پہلے ہی ٹکٹ نہیں دیتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں ٹکٹوں کی تقسیم کا کوئی منصفانہ اور شفاف نظام نہیں ہے۔ تمام ٹکٹ پہلے ہی تمام سیاسی جماعتوں میں فرد واحد کے مرہون منت ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی اختلاف کرنے کی جرات کر بھی لے تو اس کے لیے سخت قانون سازی پہلے ہی کر دی گئی ہے۔ایسے میں اگر اس قانون سازی کو مزید سخت کر دیا جائے گا تو یہ جمہوریت کے لیے کوئی نیک شگون ہی نہیں ہوگا۔ ایسے تو ارکان اسمبلی کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ پارٹی قیادت کی جیب میں ووٹ دے دیے جائیں۔ اس کی مرضی وہ جب چاہے جہاں چاہے جیسے چاہے استعمال کر لے۔ اس سے کوئی پوچھ ہی نہیں سکتا۔ یہ ارکان اسمبلی نہ ہوئے روبوٹ ہو گئے جہاں بٹن دبایا ویسے ہی چل دیے۔اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ پارٹی پالیسی سے اختلاف کی سخت سزا ہونی چاہیے۔

تو ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ پار ٹی کی تمام پالیسیاں بھی ارکان اسمبلی کی مرضی سے ہی بنیں گی۔پارٹی قیادت بند کمروں میں من پسند لوگوں سے مشاورت کر کے پالیسی بنائے اور ارکان اسمبلی کو اسے ماننے پر مجبور کیا جائے، یہ کیسی جمہوریت ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کئی کئی ماہ بلایا ہی نہیں جاتا۔ ارکان اسمبلی کو صرف حکم دیا جاتا ہے کہ انھوں نے کب‘ کہاں اور کیسے ووٹ ڈالنا ہے۔ ان کی مرضی جاننے کا نہ تو کوئی پلیٹ فارم ہے اور نہ ہی کوئی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔سب سے پہلے تو سپریم کورٹ کو الیکشن کمیشن کو حکم دینا چاہیے کہ آرٹیکل63A پر عمل کرنے سے پہلے سیاسی جماعتوں پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے اندر مکمل جمہوریت قائم کریں۔ ٹکٹوں کی تقسیم کا اختیار مقامی کارکنوں کے پاس ہوگا۔ ہر سیاسی جماعت کے مقامی کارکنوں کو اپنے علاقے کے ٹکٹ کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ سیاسی قیادت کی مرضی کم سے کم کر دی جائے۔ سیاسی کارکن کو مضبوط کیا جائے۔ سیاسی جماعت کے اندر فیصلہ سازی کے پلیٹ فارمز کو مضبوط کیا جائے۔پارلیمانی لیڈر بدلنے کے راستے آسان کیے جائیں۔ سیاسی جماعتوں میں فرد واحد اور خاندانوں کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ سیاسی جماعتوں میں نامزدگیوں کو ختم کیا جائے۔ الیکشن کمیشن ہر سیاسی جماعت کو الیکشن لڑنے سے روک دے جس کے اندر ٹکٹوں کی تقسیم کا شفاف نظام نہ ہو۔ جس کے اندر آمریت ہو۔ جہاں فیصلے جمہوری انداز میں نہ کیے جائیں۔ اگر ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو

سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت لانا ہوگی۔ارکان اسمبلی کے انحراف کو پیسوں کے تناظر میں دیکھنا بھی غلط ہے۔ اگر کسی کے پاس پیسوں کے لین دین کا کوئی ثبوت ہو تو وہ سامنے لائے۔ لیکن ہر اختلاف کو پیسوں کے ترازو میں دیکھنا غلط ہے۔ یہ ارکان اسمبلی کی توہین کے مترادف ہے۔ مجھے توبہ جیسے ریمارکس سے بھی اختلاف ہے۔کیسی توبہ۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ رکن اسمبلی نے اپنی ایماندارانہ سوچ سے اختلاف کیا ہو؟ کیا سیاسی جماعتوں کے اندر قیادت بدلنے کا کوئی نظام موجود ہے؟ کیا سیاسی جماعتوں کی قیادت نے سیاسی جماعتوں کے اندر قیادت بدلنے کے کوئی جمہوری راستے بنائے ہوئے ہیں؟ کیا ارکان اسمبلی کے پاس پارلیمانی لیڈر بدلنے کا اختیار ہے؟اگر کسی کے خلاف پیسے لینے کا کوئی ثبوت موجود ہے‘ اسے سامنے لانا چاہیے۔ اس کے لیے بدعنوانی کے قوانین موجود ہیں لیکن ہر اختلاف اور ہر انحراف کو پیسوں کا لالچ کہنا درست نہیں ہے۔یہ پارلیمانی جمہوریت کی بنیادی روح کے بھی خلاف ہے۔میں سمجھتا ہوں سپریم کورٹ کو سیٹ سے ڈس کوالیفائی کرنے کو بھی مشروط کرنا چاہیے۔ تاحیات نا اہلی کا تو کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ڈس کوالیفائی بھی صرف تب ممکن ہونا چاہیے جب سیاسی جماعت کے اندر جمہوریت موجود ہو۔ فیصلوں کے لیے مشاورت کے پلیٹ فارمز ہوں۔ جس سیاسی جماعت میں جمہوریت نہ ہو، وہ اپنے اندر آمریت قائم رکھے وہاں ارکان اسمبلی کو اختلاف کی اجازت دینا ہی جمہوریت ہے۔ اس کو روکنا آمریت ہوگا۔موجودہ کیس میں بھی اگر اتنی بڑی تعداد میں ارکان نے عمران خان کا ساتھ چھوڑا ہے۔ تو کیا تحریک انصاف کے اندر عمران خان سے اختلاف کی کوئی گنجائش تھی۔ کیا عمران خان پارلیمانی جماعت کے اجلاس باقاعدگی سے کرتے تھے۔کیا سیاسی بحران میں ارکان پارلیمنٹ سے مشاورت کی گئی۔ جن سے ووٹ مانگے گئے ہیں ان سے کسی نے رائے بھی مانگی تھی۔ یہ تمام محرکات بھی نا اہلی اور ڈس کوالیفائی کے لیے ناگزیر ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اندر آمریت ملک میں آمریت سے بھی خطرناک ہے۔سیاسی جماعتوں کی قیادت بحث کو اس طرف آنے ہی نہیں دیتی۔ اسی لیے سیاسی جماعتوں کی طرف سے جو وکیل پیش ہو رہے وہ بھی اس پر بات نہیں کر رہے۔ کیونکہ وہ بھی سیاسی جماعتوں کے نہیں ان کی قیادت کے نمایندے ہیں۔ وہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ اس ریفرنس میں سول سوسائٹی اور ملک میں جمہوریت کی سربلندی کے لیے کام کرنیوالوں کو بھی رائے دینا کا موقع دینا چاہیے۔ تاکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آسکے۔

Categories
آرٹیکلز

ظالم چال : شہباز شریف کو وزیراعظم بنوا کر آصف زرداری گھر کیوں بیٹھ گئے ؟ انکے وزراء کسی فورم پر حکومت کا دفاع کیوں نہیں کررہے ؟ جاوید چوہدری کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں بار بار عرض کر رہا ہوں سری لنکا کے بعد ہم ٹارگٹ ہیں‘ ہم صرف ایک مہینے کے فاصلے پر کھڑے ہیں‘ہمارے مالیاتی ذخائر مہینے بعد ختم ہو جائیں گے اور اس دوران اگر عمران خان نے بھی کال دے دی

تو ہم بھی ملک میں کرفیو لگانے پر مجبور ہو جائیں گے اور اگر خدانخواستہ یہ نوبت آ گئی تو ہمیں کشمیر‘ ایٹمی پروگرام اور گوادر تینوں سے محروم ہونا پڑ جائے گا‘ کیا ہم یہ چاہتے ہیں؟ میں جمہوریت پسند ہوں۔میں دل سے سمجھتا ہوں اس ملک کو جمہوریت اور آئین کے سوا کوئی طاقت نہیں چلا سکتی لیکن میں بھی ان حالات میں یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہوں ہمارے پاس اب ’’اے پولیٹیکل‘‘ کی گنجائش نہیں رہی‘ یہ عمارت گر رہی ہے‘ ہم نے اگر اسے بچانا ہے تو پھر اسٹیبلشمنٹ کو یہ ذمے داری اٹھانا پڑے گی اور اگر یہ نہیں اٹھاتی تو پھر اسے سری لنکا کی طرح ملک کا ملبہ اٹھانا پڑے گا‘ آپ عمارت کو سہارا دیں یا پھر ملبہ اٹھائیں یہ دونوں کام جلد یا بدیر بہرحال آپ ہی کو کرنا پڑیں گے۔آپ ذرا سیاسی صورت حال دیکھ لیں‘ عمران خان حکومت مکمل فیلیئر تھی‘ اس نے بالآخر نومبر 2022 سے پہلے ختم ہو جانا تھا لیکن اسے جلد بازی میں فارغ کر کے ریاست کو مزید کم زور کر دیا گیا‘ عمران خان حکومت کے خاتمے کا صرف تین طاقتوں کو فائدہ ہوا‘ وہ بیرونی طاقتیں جو پاکستان کو کم زور سے کم زور تر دیکھنا چاہتی ہیں‘ یہ طاقتیں اس وقت ہماری صورت حال کو انجوائے کر رہی ہیں۔دوسری طاقت پاکستان پیپلز پارٹی ہے‘ اس کے پاس اقتدار میں واپسی کا صرف ایک آپشن بچا تھا‘ اس کی حریف جماعتیں ن لیگ اور پی ٹی آئی دونوں ایک دوسرے سے لڑ لڑ کر ختم ہو جائیں

اور اس کے بعد مرزا یار اور گلیاں بچ جائیں لہٰذا اس صورت حال کا پیپلز پارٹی کو فائدہ ہو رہا ہے‘ آپ دیکھ لیں حکومت بنتے ہی آصف علی زرداری گھر بیٹھ کر تماشا دیکھ رہے ہیں اور ان کے وزراء کسی جگہ حکومت کا دفاع نہیں کر رہے۔یہ خاموشی سے عمران خان اور شہباز شریف کی لڑائی کو انجوائے کر رہے ہیں اور تیسری طاقت عمران خان خود ہیں‘ ان کی حکومت بدانتظامی کے خوف ناک گرداب میں پھنسی ہوئی تھی‘ وزراء باہر نہیں نکل رہے تھے‘ پرویز خٹک 7 جنوری کو ایبٹ آباد کے دورے پر گئے تو لوگوں نے ان کی گاڑی کا گھیراؤ کر لیا تھا لیکن حکومت کی روانگی کے بعد عمران خان اور پی ٹی آئی دونوں کو نیا خون مل گیا۔یہ اب سڑکوں پر بھی ہیں اور لوگ ان کے بیانیے کو قبول بھی کر رہے ہیں‘ یہ صورت حال اگر مزید جاری رہتی ہے تو ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کو نقصان ہوگا‘ میاں نواز شریف یقینا اس وقت سوچتے ہوں گے میں اگر جلدبازی نہ کرتا اور عمران خان کو سیاسی شہادت کا موقع نہ دیتا تو آج حالات کتنے مختلف ہوتے؟ یہ اب اس نتیجے پر بھی پہنچ گئے ہوں گے ہم نے اگر کوئی بڑا فیصلہ نہ کیا تو ن لیگ اپنی عوامی مقبولیت کھو دے گی۔کیوں؟ کیوں کہ آئی ایم ایف نے نئے معاہدے سے انکار کر دیا ہے‘ حکومت کو سعودی عرب سے بھی دعاؤں کے علاوہ کچھ نہیں ملا‘ چین بھی معاشی بحران کا شکار ہے‘ یہ دنیا کو اندرونی صورت حال سے ناواقف رکھنے کے لیے سیاحت نہیں کھول رہا

لہٰذا یہ بھی سی پیک کی رفتار بڑھانے اور پاکستانی معیشت میں رقم ڈالنے کے لیے تیار نہیں‘گیس کی کمی کی وجہ سے جرمنی کی انڈسٹری بھی خطرات کا شکار ہو چکی ہے‘ امریکا بھی تاریخی مہنگائی کی زد میں ہے‘ معاشی ماہرین کا خیال ہے 2023میں امریکا اور یورپ مہنگائی اور بے روزگاری کے تمام ریکارڈ توڑ دے گا اور تیسری طرف آئی ایم ایف بھی معاشی دباؤ میں ہے‘ یہ بھی قرضے دینے کی پوزیشن میں نہیں لہٰذا پھر ہمیں مدد کہاں سے ملے گی؟ سوال یہ بھی ہے ان حالات کا جنازہ کس کو اٹھانا پڑے گا؟ کندھے بہرحال ن لیگ ہی کے استعمال ہوں گے اور میاں نواز شریف کو اس خوف ناک حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے۔یہ جان چکے ہیں ملک دیوالیہ ہو رہا تھا‘ ہم سری لنکا بن رہے تھے اور عمران خان کے دوستوں نے اسے نکال کر ن لیگ کو اس گرتی ہوئی چٹان کے نیچے کھڑا کر دیا ہے اور ہم نے جذبات میں غلط سیاسی فیصلہ کر دیا‘ یہ یقینا اس وقت مان رہے ہوں گے ہم پھنس چکے ہیں‘ ہم اگر حکومت جاری رکھتے ہیں تو ہم سال کے آخر تک اپنا ووٹ بینک کھو دیں گے اور ہم اگر حکومت توڑ دیتے ہیں تو ملکی بحران مزید گھمبیر ہو جائے گا اور آخری امید بھی دم توڑ دے گی۔میاں نواز شریف کی لندن میں پارٹی لیڈروں سے میٹنگز جاری ہیں‘ مجھے محسوس ہوتا ہے میاں نواز شریف سیاسی ٹمپریچر ڈاؤن کرنے کے لیے نئے الیکشن کی تاریخ بھی دے دیں گے اور عمران خان کو انتخابی اصلاحات اور نئے الیکشنز کی پیش کش بھی کر دیں گے اگر

عمران خان مان گئے تو ٹھیک ورنہ دوسری صورت میں ریاست کو انھیں ’’سمجھانے‘‘ کی ذمے داری دی جائے گی۔ریاست اگر کامیاب ہو گئی اور عمران خان حکومت کے ساتھ بیٹھ گئے تو ٹھیک ورنہ دوسری صورت میں میاں نواز شریف حکومت توڑ دیں گے اور ملک کو اللہ کے آسرے پر چھوڑ دیں گے اور اگر خدانخواستہ یہ ہو گیا تو پھر ملک کا واقعی اللہ حافظ ہے کیوں کہ فوج براہ راست اقتدار میں نہیں آسکتی‘ مارشل لاء کی صورت میں ملک پر اقتصادی پابندیاں لگ جائیں گی اور ہماری معیشت اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ملک میں اگر سپریم کورٹ کوئی عبوری حکومت بنا دیتی ہے تو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اس کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا اور یوں ہم دنوں میں سری لنکا بن جائیں گے‘ ہمارے پاس اب صرف ایک ہی حل بچا ہے‘ ہم فوری طور پر ’’اے پولیٹیکل‘‘ کے بیانیے سے نکلیں اور ملک کی فکر کریں‘ اسٹیبلشمنٹ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا بٹھائے اور یہ لوگ جب تک کسی متفقہ لائحہ عمل تک نہیں پہنچتے آپ اس وقت تک انھیں باہر نہ نکلنے دیں خواہ اس میں ہفتے ہی کیوں نہ لگ جائیں اور اس دوران میٹنگ کی کوریج پر پابندی لگا دیں تاکہ افواہ سازی کی فیکٹریاں بند ہو جائیں‘ دوسرا ملک میں فوری طور پر جلسوں‘ جلوسوں‘ ریلیوں اور لانگ مارچز پر پابندی لگا دیں۔خدا کی پناہ ہم نے 30 برسوں سے ملک میں لانگ مارچز کے سوا کچھ نہیں کیا؟ یہ سلسلہ اب بند ہو جانا چاہیے اور اگر سیاست دان اکٹھے نہیں ہوتے تو پھر ریاست اپنی پوری رٹ استعمال کرے‘ ہم نے اگر کل سری لنکا کی طرح ملک میں کرفیو ہی لگانا ہے تو پھر ہم آج ریاست کی طاقت استعمال کیوں نہیں کرتے؟ وقت نہیں ہے‘ پلیز آنکھیں کھولیں‘ جو دل کرتا ہے کریں لیکن ملک بچائیں ورنہ ہم اس بجٹ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔

Categories
آرٹیکلز

پاکستان کی رنگباز جمہوریت : سینئر کالم نگار کی پول کھول دینے والی خصوصی تحریر

لاہور(ویب ڈیسک) نامور کالم نگار چوہدری فرخ شہزاد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری دیسی جمہوریت بڑی مجمع ساز طرز حکومت ہے جس میں مجمع یا Mob ہی سب کچھ ہے۔ ہماری قومی نفسیات ثابت کرتی ہے کہ ہم جدھر مجمع دیکھتے ہیں ادھر چل پڑتے ہیں اور وہاں جو کچھ کہا جا رہا ہوتا ہے

اسے سچ مان لیتے ہیں اور بلا تحقیق اس پر مہر تصدیق ثبت کر دیتے ہیں۔ اس کے باوجود اس طرز حکومت کو مداری جمہوریت کہنے سے قاصر ہوں کیونکہ ہماری یہ بات سیاسی اور فکری اشرافیہ کے طبع ناز ک پر گراں گزرے گی۔ کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ہر دور میں اپوزیشن حکومت سے مطالبات منوانے کی خاطر لانگ مارچ دھرنوں اور اسلام آباد کا رخ کیوں کرتی ہے اس کی تہہ میں یہی راز مضمر ہے کہ انہیں پتہ ہے ہم جتنا بڑا مجمع اکٹھا کریں گے اتنے ہی معتبر ہو جائیں گے۔ یہاں سے مجمع بازی کو ایک فن کی حیثیت حاصل ہوئی اور یہاں سے کرائے پر لوگوں کو جلسوں میں لانے کا آغاز ہوا اور پارٹیوں نے اپنے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو اگلے الیکشن کے ٹکٹ کے عوض مجمع سازی کی ذمہ داری sablet کر دی یا کرایہ پر دے دی گئی۔پی ڈی ایم کی نئی حکومت کی پی ٹی آئی کو ہٹانے کی سب سے بڑی وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی تھی۔ ان کی ساری سیاسی سرگرمی کا مرکز و محور مہنگائی اور عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کا تصور تھا جبکہ پی ٹی آئی کہتی ہے کہ مہنگائی انٹرنیشنل وبا ہے اس میں ہمارا قصور نہیں ہے مگر ان کی بات نہیں سنی جا رہی تھی کیونکہ ڈالر 188 پر پہنچ چکا تھا اور سٹاک ایکسچینج 43 ہزار پوائنٹ کی نفسیاتی حد سے نیچے گر چکی تھی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ڈالر تاریخ میں پہلی دفعہ 190 پر ہے اور

حکومتی ترجمان رانا ثناء اللہ نے اس کے 200 پر جانے کی پیش گوئی کر دی ہے۔ پٹرول کی جس قیمت پر ن لیگ کو اعتراض تھا یعنی 150 روپے لیٹر کو معیشت کا کباڑہ قرار دیا جا رہا تھا۔ اب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے معاہدے میں تحریک انصاف نے 245 روپے لیٹر کا وعدہ کیا ہے لہٰذا ملک میں پٹرول 245 کا ہونا چاہیے۔ عوام الناس کہتے ہیں کہ اگر یہی سب کچھ کرنا تھا تو یہ تو گزشتہ حکومت بھی کر رہی تھی پھر آپ نے اتنی زحمت کس لیے کی ہے۔پاکستان میں یہ سیاسی روایت فرض نماز کی طرح لاگو ہے کہ جو بھی حکومت میں آئے گا وہ سب سے پہلے سعودی عرب عمرہ کرے گا اس کے لیے کابینہ اور وزراء بھی ساتھ جاتے ہیں اور جب اعتراض کیا جاتا ہے تو نیا رجحان یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں یہ عمرہ سرکاری خرچ پر نہیں کیا جا رہا یہ بات اخباری حد تک ہی ہوتی ہے مگر اس دفعہ اس روایت میں ایک نئے فیچر کا جو اضافہ ہوا ہے جب مسجد نبویؐ میں شرپسند عناصر نے عمرہ کرنے والوں پر آوازے کس کر حرم نبویؐ شریف کا تقدس پامال کیا اور اس مقدس ترین جگہ کو گندی سیاست کا تختہ مشق بنایا جس سے ہر مسلمان کے جذبات کی دھجیاں بکھیری گئیں لیکن کم از کم اب آئندہ کی نئی حکومتوں کو چاہیے کہ برسراقتدار آ کر عمرہ کرنے کی روایت کا خاتمہ کریں بلکہ اقتدار سے سبکدوشی کے بعد جا کر عمرہ کیا کریں اور اپنے گناہوں کی

معافی مانگا کریں۔ اس حساب سے یہ عمرہ تو تحریک انصاف والوں کو کرنا چاہیے تھا تا کہ ابدی حساب کتاب آسان ہو جاتا۔وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے حکم دیا ہے کہ شادیوں پر ون ڈش کی پابندی کو سو فیصد یقینی بنایا جائے کیونکہ اس فضول رسم سے عوام کی مالی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ ہومیوپیتھک قسم کا آرڈر ہے جس کا فائدہ نہ بھی ہوا تو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ لیکن ہمارے انتظار کی گھڑیاں ختم ہو نہ سکیں جب ہماری آنکھوں کے سامنے چکن 600 روپے کلو اور لیموں 1200 روپے کلو میں فروخت ہوتے رہے مگر صوبائی اور وفاقی سطح پر اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ مجھے یقین تھا کہ وزیراعلیٰ ضرور اس پر حرکت میں آئیں گے۔ ہماری سیاست کا ایک مقبول جملہ ہے کہ فلاں کام کسی کا باپ بھی نہیں کر سکتا۔ چکن کی قیمت پر ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ وزیراعلیٰ تو کیا ان کا باپ بھی پولٹری گروہوں کے منافع میں کچھ نہیں کر سکا۔ آپ کو بھی پتہ ہے اس سے ہماری مراد ناشائستہ زبان نہیں بلکہ یہ کہنا ہے کہ نہ تو وزیراعلیٰ نے کچھ کیا اور نہ ہی وزیراعظم کے دفتر میں کوئی پتہ ہل سکا۔ سوال یہ ہے کہ اگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تعین ڈیمانڈ اور سپلائی نے ہی طے کرنا ہے تو پھر حکومت کا کیا کردار ہے۔ پاکستان میں ہونے والی مہنگائی کا 80 فیصد مقامی حالات کی وجہ سے ہے۔ پرائس کنٹرول میکانزم سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ پرانے ادوار میں یہ ہوتا تھا کہ اگر کسی commodity کی قیمت

جائز اور اخلاقی حد سے زیادہ ہو جاتی تھی تو گراں فروشوں پر کریک ڈاؤن کر کے ان کو قید میں ڈالا جاتا تھا۔ ایک آدھ دفعہ ایسا کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ پرچون فروختکار ایسی صورتحال میں جو اس ہفتے چکن کے بارے میں پیدا ہوئی ہے اس کی فروخت بند کر کے دکانوں کو تالا لگا دیتے تھے۔ اس کے پیچھے گرفتاری اور جرمانے کا خوف ہوتا تھا اس کا ردعمل یہ تھا کہ پولٹری گروہ ایک مناسب حد سے آگے چاہے بھی تو منافع نہیں کما سکتا کیوں کہ پڑتال اور سیل بند ہونے سے انہیں نقصان ہونا شروع ہو جاتا تھا۔یہ ایک موقع تھا وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے لیے کہ وہ پاپولر سیاست کی خاطر ہی سہی اس معاملے میں طوفانی مداخلت فرما دیتے مگر ان دونوں نے یہ موقع ضائع کر دیا ورنہ ایک حوالہ بن جاتا البتہ وزیراعظم شہباز شریف کو 2 باتوں کا کریڈٹ نہ دینا ناانصافی ہے۔ بر سر اقتدار آنے سے لے کر اب تک وہ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ PKLI لاہور کا دو دفعہ دورہ کر چکے ہیں یہ ادارہ دنیا کا جدید ترین ٹرانسپلاٹ آدھی سے بھی کم قیمت پر سر انجام دے رہا ہے۔ 20 ارب کا یہ منصوبہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ شروع کیا تھا۔ 2 سال سیاسی وجوہات کی بنا پر گزشتہ حکومت میں یہ بند رہا اب بھی اس کے 20 او ٹی میں سے صرف 6 کام کر رہے ہیں کیونکہ سٹاف اور سہولیات کی کمی ہے لیکن یہ شہباز شریف کا pet project ہے۔ امید ہے وہ ضرور اس کو توسیع دیں گے۔دوسرا کام یہ ہے کہ انہوں نے بر سر اقتدار آنے کے چند روز بعد دیامر بھاشا ڈیم کا دورہ کیا جو 2029ء میں تکمیل ہونا ہے وزیراعظم نے اس کو 2026 ء تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دی جو بظاہر ممکن نہیں اس منصوبے سے 5000 میگاواٹ بجلی سمجھیں کہ مفت پیدا ہو گی جبکہ اس وقت تھرمل پاور سے حاصل ہونے والی بجلی 35 روپے یونٹ سے تجاوز کر چکی ہے دیامر بھاشا میں یہ 10 روپے سے بھی کم لاگت میں پیدا ہو گی۔میں نے اپنے طور پر یہ تحقیق کرنے کی کوشش کی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کتنی دفعہ بھاشا ڈیم منصوبے پر تشریف لے گئے مگر ابھی تک مجھے ان کے کسی ایک وزٹ کی بھی تصدیق نہیں ہوئی۔ شہباز شریف اگر سیاسی مجبوریوں کی پروا نہ کریں تو ان کی ریاستی ترجیحات پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔

Categories
آرٹیکلز

کیا سعودی عرب سمیت اہم ممالک نے شہباز حکومت کو مالی مدد دینے سے واقعی انکار کیا ہے ؟ اصل کہانی سامنے آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار خالد منہاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔میاں نوازشریف نے لندن میں موجودہ حکومت کو طلب کر لیا ہے اور اس اجلاس میں ظاہر ہے کہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے پارٹی کے مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے ہوں گے۔ یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ

شائد میاں نوازشریف جلد انتخابات کے حوالے سے پارٹی کے ساتھ مشاورت کرنا چاہتے ہیں تاہم ایک بات تو طے ہے کہ یہ ایک غیر معمولی اجلاس غیر معمولی حالات میں بلایا گیا ہے۔ معاملہ گمبھیر نہ ہوتا تو وزیراعظم شہبازشریف کو لندن نہ بلایا جاتا بلکہ اپنے ہرکاروں کے ذریعے پیغام رسانی کی جاتی۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ ملک کے حالات اتنے اچھے نہیں ہیں کہ راوی چین لکھ سکے۔ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معیشت خراب ہو رہی ہے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ ان حالات کو نہ سنبھالا گیا تو حکومت کو نقصان پہنچے لیکن اس سے زیادہ ملک خراب ہو جائے گا۔عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد حالات تیزی سے خراب کر رہے ہیں اور عمران کی یہ بات سچ ثابت ہو رہی ہے کہ وہ حکومت سے نکل کر زیادہ خطرناک ہو جائے گا لیکن یہ سوال بھی اپنی جگہ ہے کہ اگر وہ مزید چند برس اقتدار میں رہ جاتا تو وہ کیا کچھ کر سکتا تھا۔ میں یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ عمران خان خود یہ سب کچھ کر رہا ہے اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی قوت موجود ہے۔ یہ لوگ ملک کو کھائی میں دھکیلنا چاہتے ہیں کہ ان کے سارے منصوبے ملیامیٹ ہو چکے ہیں۔ اس ٹولے نے تو ایک لمبے عرصہ تک رہنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی کہ ایک دم سے سب کچھ ہو گیا۔ یہ تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ اب تو انہیں یہ

خوف بھی دامن گیر ہے کہ آر ٹی ایس کون بٹھائے گا اور پولنگ اسٹیشن کے اندر حالات کو کون کنٹرول کرے گا۔مسلم لیگ ن کے لیے پریشانی سب سے زیادہ ہے کہ حالات کو تبدیل کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو اس کا سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ ن کو ہو گا باقی سب اپنا اپنا دامن جھاڑ کر ایک طرف ہو جائیں گے۔ یہ حکومت اقتدار میں آئی تھی تو سرمایہ کاروں نے اس پر اعتماد کا اظہار کیا تھا اور اسٹاک مارکیٹ بھی اوپر گئی تھی۔ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ بھی مضبوط ہوا تھا مگر اب حالات پھر تیزی سے خراب ہو رہے ہیں۔امریکی ڈالر کی اونچی اڑان رک نہ سکی، روپے کے مقابلے میں ڈالر 190 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جبکہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بھی مندی کا رجحان دیکھا جارہا ہے۔کاروباری ہفتے کے تیسرے روز روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں ایک روپیہ اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد ڈالر نے تاریخ کی بلند ترین سطح حاصل کرلی ہے، قبل ازیں یکم اپریل کو سیاسی انتشار کے سبب ڈالر 188 روپے 25 پیسے پر پہنچا تھا۔ تیل کے زیادہ درآمدی بل اور سعودی پیکیج سے متعلق قیاس آرائیوں کی وجہ سے روپیہ دباؤکا شکار ہے۔دوسری جانب فاریکس ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ سیاسی محاذ آرائی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ بن رہی ہے۔سیاسی جماعتوں کی لڑائی تک ڈالر کی اڑان جاری رہے گی۔ فاریکس ایسوسی ایشن نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ روپے پر دباؤ کم کرنے کے لیے سعودی عرب سے پاکستان کو ملنے والے پیکیج کی تفصیلات ظاہر کرے۔

وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی نئی حکومت کی مدد کے لیے 3 ارب ڈالر کے قرض کی مدت میں توسیع پر بات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔تاہم ابھی تک ان مذاکرات سے متعلق کوئی ٹھوس تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ دباؤ کا شکار ہے اور تحریک انصاف والے دعویٰ کر رہے ہیں کہ حکومت کو سعودی عرب سے کوئی رعایت نہیں ملی۔شہبازشریف کو علم ہونا چاہیے کہ محض اعلانات سے معاملات حل نہیں ہوں گے اور وہ جس نرم رویے کا اظہار کر رہے ہیں اس سے ملکی حالات خراب سے خراب تو ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک محاورہ ہے کہ اُڑنا نہیں آتا تھا تو پنگا کیوں لیا تھا، پھر آپ چلنے دیتے۔مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو گا تو عمران خان کے جلسوں میں جانے والے شرکا کی تعداد بھی اسی شرح سے بڑھتی جائے گی۔ حکومت ابھی تک مرغی کے نرخ کم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور یہی حال دوسری اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا ہے۔ مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے کا میکنزم جب تک نہیں بنایا جائے گا یہ سب کے لیے پریشانی کا سبب بنتا رہے گا۔ شہبازشریف کو اب گلہ نہیں ہونا چاہیے کہ اوپر وہ خود ہیں اور صوبے کی عملداری ان کے فرزند کے پاس ہے اب کسی حیلے بہانے کی گنجائش نہیں ہے۔یہ تو طے ہے کہ عمران خان نے آپ کو کام نہیں کرنے دینا۔ اس نظام کے اندر اس کے جو بھی لوگ

موجود ہیں وہ بھرپور مزاحمت کریں گے اور اس کا آغاز سپیکر قومی اسمبلی کے رویے سے ہوا تھا۔ اب ایسے ہی رویے کا اظہار صدر ریاست بھی کر رہے ہیں۔ یہ بات نہیں ہے کہ انہیں آئین اور پارلیمانی روایات کا علم نہیں ہے بلکہ وہ اس نظام کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے درپے ہیں اور جب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہوں اور آپ نرمی دکھا رہے ہوں تو حالات میں خرابی کی رفتار اتنی ہی تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔ شہبازشریف صاحب آپ کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ آپ نے ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنی ہے یا نہیں جو اس نظام کو ڈی ریل کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کے مخالف جمہوری روایات اور جمہوری رویوں کا اظہار کرنے سے انکاری ہیں تو ایسے میں یا ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیں یا پھر لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں۔ آپ شاید ٹک ٹک کر کے میچ جیتنا چاہتے ہیں یہ میچ صرف حالات خراب کر کے جیتا جا سکتا ہے۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ ملک کے ریاستی اداروں کا ستیاناس کیا جا رہا ہے اور سب سے بڑھ کر فوج کو تقسیم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کیا یہ آپ کا فرض نہیں کہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کریں جو اس ساری صورتحال کو ہوا دے رہے ہیں۔ مجبوری میں فوج کو یہ کہنا پڑا ہے کہ ہمیں سیاست میں نہ الجھائیں۔ میاں نوازشریف بھی یقینی طور پر ان تمام معاملات پر اپنے تحفظات کا اظہار کریں گے۔ آپ کی نرمی آپ کے مخالفین کو یہ موقع دے رہی ہے کہ وہ آپ پر دباؤ کو بڑھاتا چلا جائے اور آپ کو بے دست و پا کر کے فیصلے کرا لے۔ جس طرح آپ اس نظام کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں اس میں آپ کو سوائے رسوائی کے کچھ نہیں ملے گا۔افسوس آپ تو ان کے خلاف بھی ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کر سکے جن لوگوں نے آئین کو ایک مذاق بنا دیا تھا۔ ان کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوتا تو یہ آئین شکنی کا سلسلہ رک جاتا اور معاشرے میں ان لوگوں کی پذیرائی بند ہو جاتی جو انہیں ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ وزیراعظم صاحب کمر کس لیں اور عوام کو ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ اس نظام سے کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کریں یا استعفیٰ دے کر ملک کو ان کے حوالے کر دیں۔

Categories
آرٹیکلز

عمران خان کے شہباز شریف کو چیری بلاسم اور بوٹ پالیشیا کہنے کے پیچھے چھپی اصل کہانی توفیق بٹ نے بیان کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کِسی کی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکر سچ میں ڈنڈی مارنا بھی اصل میں حق کے مقابلے میں باطل کا ساتھ دینا ہی ہوتا ہے، چنانچہ خان صاحب جتنا چاہے اب ہمیں اُکساتے رہیں کہ ہم اُن کی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکر اُس حق کا ساتھ

دیں جو صرف اُن کے حق میں ہے۔ ہم سے تو اُن کا اصلی روپ دیکھنے کے بعد اب یہ نہیں ہوگا۔ البتہ اگر کسی ’’معجزے‘‘ کے تحت کوئی اچھا کارنامہ اُن سے سرزدہوگیا اُس کی تعریف حسبِ معمول ہم کرتے رہیں گے …اب اگر ہم اِس سوچ میں پڑ جائیں خان صاحب کے جلسے بہت بڑے ہورہے ہیں، یا وہ دوبارہ وزیراعظم بن جائیں گے یا اُن کی ناقص سوچ کے خلاف لِکھنے پر ہمارے قارئین، عزیزواقارب یا دوست وغیرہ ہم سے ناراض ہوجائیں گے، پھر پورا سچ ہم لکھ ہی نہیں سکتے ۔…ویسے ’’پوراسچ‘‘ جو برس ہا برس سے دوسرے سیاسی چوروں کے بارے میں ہم لکھتے یا بولتے رہے اُس پر خان صاحب شاندار الفاظ میں ہمیں خراج تحسین پیش کیا کرتے تھے، وہ فرماتے تھے ’’تم جرنلزم نہیں کررہے تم نیک کام کررہے ہو‘‘ …اب اُن کی نااہلیوں کے خلاف لکھنے پر ہمیں مغلطات پڑتی ہیں، ہم پر الزامات کی بوچھاڑ ہوتی ہے تو ہم سوچتے ہیں کیا ’’ اصلی نیک کام ‘‘ صرف وہی ہے جو خان صاحب کے ہر ناجائز جائز عمل کی حمایت کرکے ہی کیا جائے ؟۔…پورا سچ یہی ہے خان صاحب آئین پرکلہاڑیاں چلارہے ہیں۔ اُن کی حماقتیں دِن بدن بڑھتی جارہی ہیں، جیسے اُن کے جلسوں میں لوگوں کی تعداد دِن بدن بڑھتی جارہی ہے، دنیا میں اُنہیں اُن کی حماقتوں کا صِلہ مِل رہا ہے، آخرت میں صِلہ صرف اُنہیں اُن کی نیکیوں کا ملے گا۔ ممکن ہے وہ اپنے جھوٹ اور اپنی منافقتوں کو بھی اپنی ’’نیکیاں‘‘ ہی سمجھتے ہوں اور اِس یقین میں مبتلا ہوں

کہ آخرت میں اِس کا بھی اُنہیں اچھا صِلہ ہی ملے گا۔ بصورت دیگرمولانا طارق جمیل صاحب کی خدمات وہاں بھی حاصل کرلی جائیں گی … اپنے کچھ خوشامدی مشیروں کے مشوروں پر ہر اُس ادارے کو اُنہوں نے اپنے خلاف کرلیاجوکسی نہ کسی حوالے سے اُن کا محسن تھا، چنانچہ وہ اپنے کچھ مخلص دوستوں یا انسانوں کے حوالے سے ہی نہیں کچھ اداروں کے حوالے سے بھی اچھے خاصے ’’ محسن کُش‘‘ نکلے۔ کم ازکم اُن اداروں کا تو کچھ لحاظ کرلیتے جنہوں نے اُن کے اقتدار کی راہ ہموار کی، …کچھ لوگوں کا خیال ہے خان صاحب آج کل جوکچھ کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں، ہوسکتا ہے وہ واقعی سچ کہہ رہے ہوں، اصل بات یہ ہے وہ اپنی اِن حالیہ سچائیوں پر کتنا عرصہ قائم رہ سکیں گے؟ کیونکہ ’’ کہہ مُکرنیوں‘‘ میں جتنی مہارت اُنہیں حاصل ہے شاید ہی اور کسی کو ہوگی۔ سو ممکن ہے آج کل وہ جنہیں میر صادق یا میر جعفر کہتے ہیں کل کلاں اپنے کسی فائدے کے لیے اُنہیں دنیا و آخرت کا سب سے بڑا ’’صادق وامین ‘‘ قرار دے رہے ہوں، جیسے 2018ء کے الیکشن سے پہلے وہ چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب سے بڑا لٹیرا کہتے تھے یا شیخ رشید کے بارے میں فرماتے تھے ’’میں اُسے اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں‘‘…ویسے شیخ رشید وزیر داخلہ بن کر بھی اُن کے چپڑاسی ہی بنے رہے۔ اِس سے قبل اُن کی ڈیوٹی جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر چار پر تھی جس کی بنیاد پر وہ اکثر یہ دعوے کررہے ہوتے ہیں

کہ اُنہیں سب پتہ ہے سارے سیاستدان گیٹ نمبر 4کی پیداوار ہیں ،… جہاں تک خان صاحب کی حالیہ مقبولیت کا تعلق ہے وہ نون لیگ یا اپوزیشنی جماعتوں کی عطا کردہ ہے۔ اقتدار کے حصول کے لیے نون لیگ ہمیشہ بڑی بے صبری رہی ہے، اِس مقصد کے لیے اِس جماعت کا بیانیہ بھی بدلتا رہا ہے، اب بھی ووٹ کو عزت دو کے راستے پر چلتے چلتے اچانک یہ بوٹ کو عزت دو کے راستے پر پڑ گئے۔ اصل میں اُن کا اصلی راستہ ہے ہی یہی ہے جس سے بار بار وہ بھٹک جاتے ہیں، اب اپنے پائوں پر اُنہوں نے پھر کلہاڑی رسید کر لی ہے، تھوڑا سایہ صبر کرلیتے، کسی کے بہکاوے میں نہ آتے، استعمال نہ ہوتے۔ کسی سازش کا حصہ بننے سے معذرت کرلیتے، خان صاحب کو اُن کے لُولے لنگڑے اقتدار کی مدت پوری کرنے دیتے۔ تو گزشتہ پونے چار برسوں میں اپنی حکومت کی جو نااہلیاں مسلسل وہ دیکھا رہے تھے۔ اداروں کو جس طرح تباہ وہ کررہے تھے، نالائقوں اور سازشیوں کو پکڑ پکڑ کر جس طرح اہم عہدوں سے وہ نواز رہے تھے، سرکاری محکموں میں انھے وا کرپشن کو جس طرح مسلسل وہ برداشت کررہے تھے، خارجہ پالیسی کا جس طرح کباڑہ وہ کررہے تھے، اپنی ذاتی پالیسیوں کو جس طرح لاگو وہ کرتے جارہے تھے اِن تمام ’’کارناموں‘‘ کی بنیاد پر 2023کے الیکشن میں اُن کا شاید نام ونشان مٹ جاتا… پتہ نہیں اپوزیشنی جماعتوں خصوصاً زرداری اور اُس سے بھی زیادہ نون لیگ نے خان صاحب کے کسی احسان کا بدلہ چُکایا کہ

’’اصلی قوتوں‘‘ کے بہکاوے میں آکر خان صاحب کی روزبروزگرتی ہوئی مقبولیت کو اچانک ایسا سہارا دیا اب بے چاری نون لیگ کو سمجھ ہی نہیں آرہی اصل میں اُس کے ساتھ یہ ہاتھ کیا کِس نے ہے؟۔نہ اُن کی یہ سمجھ میں آرہا ہے وہ کون سا کام کرے تو اُسے اُس کا فائدہ ہوگا کون سا کرے تو نقصان ہوگا؟۔ اب خدشہ یہ ہے مزید بہکاوے میں آکر یہ مزید ایسی ’’چولیں‘‘ نہ مار بیٹھے کہ اگلے الیکشن میں بھی وہی پوزیشن ہو جوپچھلے الیکشن میں تھی، گزشتہ پونے چار برسوں کا گند یہ اپنی جھولی میں ڈال کر اب حیران پریشان بیٹھے ہیں ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے؟۔ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ اختیار کرکے تھوڑی بہت عزت جو اُن کی بحال ہوئی تھی اب ایک بار پھر ’’نذرپانامہ‘‘ ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہ لوگ جلد بازی نہ کرتے تواگلے الیکشن میں خان صاحب جتنا مرضی ’’فیض یاب‘‘ ہوتے نون لیگ کا ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ واقعی چل جانا تھا۔ جس کے نتیجے میں اُس کے اقتدار کا واقعی اچھا خاصا ’’خطرہ‘‘ تھا …ہمارے اِس ’’خطرے‘‘ اور اپنے اِس فائدے کو نون لیگ آپ ہی کھاپی گئی۔ اب نواز شریف یہ غلط فرماتے ہیں ’’2023کے انتخابات میں عمران نیازی سے مکمل جان چھوٹ جائے گی ‘‘۔…فرض کرلیں اُن کی یہ بات درست ثابت ہو بھی گئی، خان صاحب سے جان چھوٹنے کے بعد عوام اور ملک کی جان ایک بار پھر اُن کی پکڑ میں آبھی گئی تو اِس کے لیے ایک بار پھر اُنہیں بوٹ ہی کو عزت دینی پڑے گی جو اقتدار کے حصول کے لیے اُن کے لیے ہرگز مشکل کام نہیں۔ …دوسری طرف خان صاحب بار بار شہباز شریف کو ’’بوٹ پالشیا‘‘ کہتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے اُنہیں اتنا غصہ شہباز شریف کے بُوٹ پالش کرنے پر نہیں جتنا اِس بات پر ہے کہ اِس اعزاز سے وہ کیوں محروم ہوگئے ہیں ؟۔…’’چیری بلاسم‘‘ کا بار بار ذکر وہ ایسے کررہے ہوتے ہیں جیسے ’’چیری بلاسم کمپنی‘‘ سے اُن کا کوئی معاہدہ طے پاگیا ہوکہ میں آپ کی مشہوری کروں گا آپ مجھے اتنا فنڈ دیں کہ آئندہ مجھے توشہ خانہ کے تحائف نہ فروخت کرنا پڑیں …ایک سوال میں نواز شریف سے بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ حضور اگر 2022میں پھر بُوٹ ہی کو عزت دینا تھی تو 2018میں اِس سے انکار عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لیے کیا تھا؟۔

Categories
آرٹیکلز

شہباز شریف ناکام : اگر سابقہ اپوزیشن والے عمران خان کو مدت پوری کرنے دیتے تو آج ملکی سیاسی حالات کیا ہوتے ؟انصار عباسی کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہین ۔۔۔۔۔۔۔۔کس نے کہا تھا کہ عمران خان کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک لائیں؟ اب بھگتیں۔ تحریکِ انصاف کی حکومت کو اپنی ٹرم پوری کرنے دیتے تو حالات نسبتاً بہتر ہوتے۔ نجانے کل کیا ہوگا؟ معیشت کا کیا بنے گا؟

شہباز شریف اور اُن کے اتحادی سب کے سب پھنس گئے۔ کچھ کریں تو پھر بھی نقصان، کچھ نہ کریں تو پھر بھی نقصان۔ آصف علی زرداری کی سیاست میں پی ایچ ڈی، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی بصیرت سب فیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ عمران خان کی حکومت کی نااہلی، خراب طرزِ حکمرانی، معیشت کی خرابی سب کچھ پیچھے رہ گیا، اب سب سے زیادہ عمران خان کا نیا بیانیہ ہی بک رہا ہے۔ امریکا نے سازش کی یا یہ سب جھوٹ ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں رہی کیوں کہ عمران خان جو کہہ رہے ہیں، اُن کے چاہنے والے، ووٹرز اور وہ بھی جو اُن کی حکومت کی کارکردگی سے نالاں تھے، خفا تھے، سب کے لیے جو خان نے کہا، وہی سچ ہے۔ جنہوں نے عمران خان کو نکالا وہ سب چند ہفتوں ہی میں اپنے آپ کو دیوار کے ساتھ لگا محسوس کر رہے ہیں۔ عمران خان حکومت کے معاشی فیصلوں نے بلاشبہ ملکی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کیے لیکن ان حالات کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری شہباز شریف حکومت اور ان کے اتحادیوں کی ہے جنہوں نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کی غلطی کی۔ اب جو خراب ہو گا اُس کی ساری ذمہ داری اتحادیوں پر بالعموم اور ن لیگ پر بالخصوص ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف صاحب اپنے چند ن لیگی رہنماؤں کے ساتھ لندن چلے گئے تاکہ میاں نواز شریف سے ملاقات کر کے رہنمائی لیں کہ کیا آگے کیا کرنا ہے؟ فوری مشکل یہ آپڑی کہ

پٹرول اور ڈیزل 40روپے اور 75روپے فی لیٹر مہنگا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ اگر پٹرول ڈیزل مہنگا کر دیا اور سبسڈی ختم کر دی تو مہنگائی کا طوفان آئے گا جو موجودہ حکومت کو ہی بہا لے جائے گا۔ ن لیگ اور اتحادیوں کو عوامی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ عمران خان کو موجودہ حکومت کے خلاف عوام کے جذبات ابھارنے کا ایک اور موقع مل جائے گا۔ اگر موجودہ حکومت اور اتحادی فیصلہ کرتے ہیں کہ پیٹرول اور ڈیزل مہنگا نہیں کرنا تو پھر آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ نہیں دے گا جس کے نتیجہ میں دوست ممالک سے بھی قرضے اور معاشی رعایتیں ملنے کا کوئی چانس نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان ڈیفالٹ ہونے کی طرف چل پڑے گا جس کے بارے میں سوچ کر ہی ڈر لگتا ہے۔ یہ سارا معاملہ اب پاکستان کی معیشت اور پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ن لیگ کیا فیصلہ کرے گی لیکن میری ذاتی رائے میں بہتر یہی ہوگا کہ وزیراعظم شہباز شریف جن کی اپنی حکومت درجن بھر اتحادیوں کے کمزور سہارے پر چل رہی ہے، اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کریں تاکہ ملک نئے الیکشن کی طرف جا سکے۔ نئے الیکشن اگر اکتوبر میں بھی ہوں تو پھر بھی موجودہ حکومت کیلئے موجودہ سیاسی ماحول اور معاشی میدان میں بڑے اور ناپسندیدہ فیصلوں کے باوجود چلنا مشکل ہے کیوں کہ سیاسی اور معاشی عدم استحکام ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھے گا۔ اگر الیکشن کمیشن اگست میں الیکشن نہیں کرا سکتا تو

سپریم کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں کہ کیا دو مہینے کی مہلت نگران حکومت کی بڑھائی جا سکتی ہے کہ نہیں؟ میں تو تجویز پیش کروں گا کہ شہباز شریف فوری قومی اسمبلی تحلیل کریں۔ نگران وزیراعظم کے لیے اچھی شہرت کے مالک کسی معاشی ماہر جیسا کہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کو چنا جائے جن کا مکمل فوکس پاکستان کی معیشت ہو جس کے لیے وہ مشکل آسان سب فیصلے کر سکیں۔ یہ عمران خان کو بھی قابلِ قبول ہو گا اور یہ حل موجودہ سیاسی اتحاد کے لیے بھی موزوں ہو گا۔ یعنی موجودہ حکومت چلی جائے اور نگران حکومت جلد از جلد الیکشن کے انعقاد تک معیشت پر دھیان دے۔ اس وقت جو حالات پیدا ہو چکے ہیں اُن میں پاکستان کے مفاد کو سب سے آگے رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسا ہو گا کہ نہیں میں کوئی زیادہ پر امید نہیں لیکن کاش ہمارے سیاستدان آپس میں مل بیٹھ کر نئے الیکشن اور معیشت کے فوری خطرے کے بارے میں کوئی متفقہ فیصلہ کریں۔ میرا خیال ہے کہ اس بارے میں عمران خان سب سے بڑی رکاوٹ ہیں لیکن میری مقتدر حلقوں سے درخواست ہے کہ بغیر چھپے، سب کے سامنے کم از کم عمران خان سمیت ان سیاستدانوں کو ایک ٹیبل پر بٹھائیں۔ ایک طرف اگرعمران خان کو حالات کو مزید خرابی کی طرف لیجانے سے احتیاط کرنی چاہیے تو دوسری طرف موجودہ حکومت، اُس کے اتحادیوں اور اداروں کو مل کر ملکی معیشت کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ یہاں کوئی نیوٹرل نہیں رہ سکتا۔

Categories
آرٹیکلز

منحرف اراکین کا معاملہ : پی ٹی آئی کا کیس سیاسی طور پر مضبوط لیکن قانونی طور پر کمزور ہے۔۔۔۔۔۔ عمر چیمہ نے اہم حقائق سامنے رکھ دیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر صحافی عمر چیمہ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔منحرف ایم پی ایز کے حوالے سے پی ٹی آئی کا سیاسی طور پر مضبوط لیکن قانونی طور پر کمزور کیس ہے۔ بانی پلڈاٹ کا کہنا ہے کہ وکیل کے دلائل سن کر اپنی رائے پر نظرثانی کی اور میں اسے غیر پیچیدہ کیس نہیں سمجھتا۔

تفصیلات کے مطابق، احمد بلال محبوب کے ذہن میں اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں تھا کہ حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے منحرف ایم پی ایز کا کیس واضح ہے۔ تاہم، پلڈاٹ کے بانی نے اپنے ٹوئٹ میں مزید وضاحت کی ہے کہ انہیں جہانگیر ترین کے حامی ایم پی ایز کی نمائندگی کرنے والے وکیل کے دلائل سننے کے بعد اپنے رائے پر نظرثانی کرنی پڑی ہے۔وکیل کی جانب سے اٹھایا گیا یہ نکتہ کہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر نے کبھی یہ باضابطہ ہدایت جاری نہیں کی کہ ووٹ کسے دینا ہے۔ لہٰذا، میں اسے غیرپیچیدہ کیس نہیں سمجھتا۔ منحرف ایم پی ایز کے خلاف ریفرنس اسپیکر پنجاب اسمبلی نے بھیجا تھا اور اس کی سماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ہوئی۔پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ کیس کا فیصلہ فوری طور پر ہو۔ اگر ایسا نہ ہوا تو مذکورہ ایم پی ایز کو معطل کیا جائے تاکہ وہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ووٹ نہ دے سکیں۔ تاہم، کیس کی کارروائی 13 مئی تک ملتوی کردی گئی۔منحرف ایم پی ایز کے دلائل اتنے مضبوط ہیں کہ احمد بلال محبوب جیسا شخص بھی اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ تاہم، منحرف ایم پی ایز کے موقف پر بحث سے قبل ان اہم باتوں پر بھی روشنی ڈالنا ضروری ہے جو عوام کے علم میں نہیں۔ یہ اس حقیقت سے متعلق ہے کہ مذکورہ منحرف ایم پی ایز نے پارٹی لائن کی خلاف ورزی اس لیے نہیں کی کیوں کہ

پارٹی کا کوئی امیدوار ووٹ کے لیے موجود ہی نہیں تھا، چوہدری پرویز الہیٰ جنہیں نامزد کیا گیا تھا انہوں نے الیکشن کا ہی بائیکاٹ کردیا تھا۔ اسی طرح کی نوعیت کے کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ایسی صورت حال میں مخالف امیدوار کو ووٹ دینے سے رکن منحرف نہیں ہوجاتا۔ کیس کا فیصلہ 2018 میں سنایا گیا تھا جس کی سماعت سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور موجودہ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کی تھی۔یہ کیس لکی مروت (خیبر پختون خوا) میں 2015 کے دوران ضلعی ناظم اور نائب ناظم کے الیکشن سے متعلق تھا۔ اس وقت جے یو آئی ف نے اے این پی کے ساتھ اور پی ٹی آئی نے پیپلزپارٹی کے ساتھ الائنس کیا تھا اور وہ اپوزیشن میں تھے۔ جب حکومتی الائنس نے ضلعی ناظم کے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تو جے یو آئی ف کے پانچ ارکان نے پی ٹی آئی-پیپلزپارٹی اتحاد کو ووٹ دیا۔ جس پر منحرف ہونے کی شق کے تحت ای سی پی نے منحرف ارکان کو ڈی۔سیٹ کردیا تھا۔ تاہم، ای سی پی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ چوں کہ ان کی پارٹی نے ناظم کے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا تھا لہٰذا باقی ماندہ امیدوار کے خلاف ووٹنگ جے یو آئی ف امیدوار کے خلاف ووٹنگ تصور نہیں ہوگی۔ لہٰذا اس حقیقت کے باوجود کہ پارٹی سربراہ نے کوئی خصوصی ہدایت پارٹی کے نامزد امیدوار کو ووٹ دینے سے متعلق دی ہے یا نہیں، اگر یہ ہدایت اگر دی بھی ہے تو وہ پارٹی کے نامزد امیدوار کی جانب سے الیکشن بائیکاٹ کی وجہ سے قابل عمل نہیں رہتی۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ شوکاز نوٹس میں الزام عائد کیا گیا کہ درخواست گزاروں نے اپنے ووٹ پارٹی امیدواروں کے خلاف دیئے لہٰذا انہوں نے انحراف کیا، جس کے جواب میں خصوصی طور پر اپیل کنندہ اول نے ذکر کیا کہ ناظم اور نائب ناظم کے الیکشن سے متعلق پارٹی پالیسی اور مستقبل کی منصوبہ بندی واضح نہیں تھی حالاں کہ اس ضمن میں متعدد اجلاس بھی ہوئے. ووٹنگ کے وقت صرف پانچ ووٹ جے یو آئی ف کے ارکان نے ڈالے، جس کے بعد وہ ایوان سے چلے گئے، اس صورت حال میں پارٹی قیادت کی ہدایت نہ ہونے کے سبب انہوں نے ووٹ پیپلز پارٹی امیدوار کو دیا تاکہ ایوان تحلیل ہونے سے بچا جاسکے۔

Categories
آرٹیکلز

عمران خان خطرناک ترین راستے پر گامزن ۔۔۔۔۔ نتیجہ کتنا خوفناک نکل سکتا ہے ؟ بڑی آگاہی دے دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار افضل ریحان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔درویش کی تمنا ہوتی ہے کہ جو لوگ حکومت سے نکالے جا چکے ہیں ان کا محاکمہ کرتے چلے جانے کی بجائے ایک پھیرا اس نئی عبوری شہباز حکومت پر بھی آئے لیکن کیا کریں، کپتان صاحب اس کا موقع ہی نہیں آنے دے رہے،

روز کوئی نہ کوئی نیا شگوفہ چھوڑ دیتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی ادھر متوجہ ہونا پڑتا ہے۔ مہینے بھر سے آسمان سر پر اٹھارکھا تھا کہ ’’امریکی سازش، امریکی مراسلہ‘‘، میں دنیا کا اتنا بڑا لیڈر ہوں کہ عالمی سپرپاور میرے خلاف سازشیں کر رہی ہے، اس نے نور عالم سے لے کر جہانگیر ترین، علیم خان اور راجہ ریاض تک پر ڈالروں کی بارش کر رکھی تھی، سندھ ہائوس پر برستے ہوئے ڈالروں کے یہ اولے آگے بڑھتے ہوئے براستہ کراچی کوئٹہ تک پہنچ گئے، اس لیے میرے پاکستانیو، یہ امپورٹڈ حکومت نامنظور ہے۔گھر کے ایک بھیدی نے اگرچہ بہت پہلے ہی کھلے بندوں راز فاش کر دیا تھا کہ ہماری حکومت تو طاقتوروں نے گرائی ہے اگر وہ یہ سب نہ کرتے تو ہم آج بھی اقتدار میں ہوتے۔ پوچھا گیا کہ آپ نے بگڑے ہوئے معاملات کو سنبھالنے کی کوشش کیوں نہ کی؟ جواب ملا کہ بہت کوشش کی، بڑا زور لگایا مگر گھائو شاید اتنا شدید تھا کہ بھرا نہ جا سکا۔میڈیا کے سامنے سازشی نظریات کے تمام تعویزوں کو بنی گالہ کے گھڑے میں ڈبوتے ہوئے کہا کہ اصل بات یہ تھی کہ وہ شخص جو میری حکومت کے کان اور آنکھیں تھا یعنی جس کے سہارے میری حکومت بنی تھی یا چل رہی تھی جب اسی کا تبادلہ میری مرضی کے خلاف کہیں دور کر دیا گیا، اس کے بعد تو یہی کچھ ہونا تھا، ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ مجھےتو اس ساری اسکیم کا علم پچھلے سال جولائی سے تھا جب ن لیگ والے اس کی تیاریاں کر رہے تھے، اسی لیے میں چاہتا تھا کہ ان

اسکیموں کو ناکام بنانے کیلئے ’’وہ‘‘ میرے پاس رہے۔ماشاء اللہ کیا سچائی ہے، کوئی لگی لپٹی نہیں رہنے دی، درویش اِس پر کالم لکھنا چاہتا تھا کہ سازشی بلی تھیلے سے باہر آ گئی مگر نہیں، اس میں ہنوز کچھ کسر باقی تھی جو ایبٹ آباد کے عوامی جلسے میں پوری کر دی گئی۔ مہینے بھر سے میر جعفر کی جو رٹ لگا رکھی تھی اس جلسے میں اس کی پوری وضاحت و صراحت فرما دی تاکہ کوئی کسر نہ رہ جائے اور سند یہ رہے کہ بنگال کے نواب سراج الدولہ کا میر جعفر کون تھا؟ وہ تو اس کا اپنا کمانڈر انچیف یا سپہ سالار تھا جو اندر خانے اس کے دشمنوں سے ملا ہوا تھا۔ اس اشتعال انگیزی و زبان درازی پر برہم تو ہونا ہی تھا، فوری جواب آیا کہ فوج کو سب سے یہ توقع ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں گے اور ہمیں ملک کے بہترین مفاد میں سیاست کے اندر نہیں گھسیٹیں گے۔اس اشتعال انگیزی کے خلاف قومی اسمبلی میں قرار دادِ مذمت منظور کی گئی اور وزیراعظم شہباز شریف نے کھل کر کہا کہ سراج الدولہ اور میر جعفر کا نام لیکر جو مثال دی گئی ہے، اس سے بری حرکت کوئی نہیں ہو سکتی۔ قوم تقسیم در تقسیم ہو چکی ہے، یہ نہ روکا گیا تو ملک مزید تقسیم ہو جائے گا۔سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ شخص جس نہج پر جا رہا ہے اس سے ملک توڑنے کی بو آ رہی ہے۔ اس ہرزہ سرائی کے پیچھے مبینہ بدعنوانی کیسز اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے۔اپنے

پریشر گروپ کو بکھرنے سے بچانے کیلئے ہر روز جھوٹ پر مبنی نت نئی امیدیں دلائی جاتی ہیں، یہ حکومت تو بس چند ہفتوں کی مار ہے، ہم نے نومبر سے پہلے پہلے بہرصورت اقتدار میں واپس آنا ہے، کوئی بھلا مانس پوچھے کہ حضور کیسے واپس آنا ہے؟ الیکشن کے ذریعے؟ کیا گارنٹی ہے کہ الیکشن میں آپ لوگ ہی جیتیں گے؟ نہیں نہیں اس مرتبہ ہم ٹو تھرڈ میجارٹی سے آئیں گے! وہ کیسے؟ جب اتنی ماورائی طاقتوں کی بھاری سپورٹ حاصل تھی تب پوری زور آزمائی کے باوجود سادہ اکثریت حاصل کرنے سے قاصر رہ گئے، اب یہ بڑھکیں کیسی؟ فرض کیا اگر آپ الیکشن ہار گئے تو پھر کیا کریں گے؟ پھر ہم نتائج تسلیم نہیں کریں گے، احتجاجی دھرنوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیں گے، ماشاء اللہ یہ ہیں عزائم۔پورا میڈیا اور قوم کے سنجیدہ طبقات حیران و پریشان ہیں کہ ایسی اشتعال انگیزی و الزام تراشی تو کبھی ان لوگوں نے بھی نہیں کی جنہیں صریحاً آئین شکنی کرتے ہوئے ایوان اقتدار سے نکالا جاتا رہا، آپ لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ کیسے آئین کے مطابق نہیں ہے؟ آئین و جمہوریت کی رو سے تحریک عدم اعتماد کیا اپوزیشن کا حق نہیں ہے؟ اگر آپ کی اپنی پارٹی کے باضمیر لوگ آپ کی حرکات سے متنفر ہو کر الگ کھڑے ہوئے ہیں تو شاید اس میں کسی دوسرے کا کیا قصور ہے اور پھر جن 174 اراکین اسمبلی نے اپنے ووٹ کی طاقت سے آپ کو آئوٹ کیا ہے، کم از کم ان میں تو آپ کی پارٹی کا کوئی ایک ممبر بھی نہیں تھا، ان حالات میں آئینی و جمہوری طور پر برسراقتدار آنے والی حکومت اور تمام اداروں کا فرض بنتا ہے کہ جن لوگوں نے آئین شکنیاں کی ہیں انہیں کٹہرے میں لانے کا اہتمام کریں۔