Categories
آرٹیکلز

ایک دلچسپ سبق آموز تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہتے ہیں کہ کسی دُور اُفتادہ دیہات میں ایک معزز مہمان آیا۔ بڑی آؤ بھگت ہوئی۔ گاؤں کا گاؤں اُس کے سامنے بچھا جا رہا تھا۔ کھانے کا وقت آیا تو انواع و اقسام کی نعمتیں اُس کے سامنے دسترخوان پر لا کر چُن دی گئیں۔

ساتھ ہی ایک بڑی سی سینی میں ایک لمبا سا اور موٹا سا ڈنڈا بھی لا کر رکھ دیا گیا۔ مہمان نعمتیں دیکھ کر تو خوش ہوا مگر ڈنڈا دیکھ کر ڈر گیا۔ سہمے ہوئے لہجے میں پوچھا۔۔’’آپ لوگ یہ ڈنڈا کس لیے لائے ہیں؟‘‘۔میزبانوں نے جواب دیا۔۔’’بس یہ ہماری روایت ہے۔ بزرگوں کے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ مہمان آتا ہے تو اُس کے آگے کھانے کے ساتھ ساتھ ڈنڈا بھی رکھ دیتے ہیں‘‘۔مہمان کی تسلی نہ ہوئی۔ اُسے خوف ہوا کہ کہیں کھانے کے بعد ڈنڈے سے ضیافت نہ کی جاتی ہو۔ اُس نے پھر تفتیش کی۔۔’’پھر بھی، اس کا کچھ تو مقصد ہوگا۔ کچھ تو استعمال ہوگا۔ آخر صرف مہمان کے آگے ہی ڈنڈا کیوں رکھا جاتا ہے؟‘‘۔میزبانوں میں سے ایک نے کہا۔۔’’اے معزز مہمان ہمیں نہ مقصد معلوم ہے نہ استعمال۔ بس یہ بزرگوں سے چلی آنے والی ایک رسم ہے۔ آپ بے خطر کھانا کھائیے‘‘۔مہمان نے دل میں سوچا۔۔ ’’بے خطر کیسے کھاؤں؟ خطرہ تو سامنے ہی رکھا ہوا ہے‘‘۔پھر اس نے اعلان کردیا۔۔’’جب تک آپ لوگ یہ نہیں بتائیں گے کہ آپ کے یہاں بزرگوں کے زمانے سے مہمان کے دسترخوان پر ڈنڈا کیوں رکھا جاتا ہے، کیڑے کو پتھر میں رزق پہنچانے والے کی قسم میں آپ کا ایک لقمہ بھی نہیں کھاؤں گا‘‘۔اب تو پورے گاؤں میں کھلبلی مچ گئی کہ مہمان نے کھانے سے انکار کر دیا ہے۔ گاؤں کے ایک بزرگ بلائے گئے۔ انہوں نے سارا ماجرا سنا اور دسترخوان پر رکھا ہوا ڈنڈا دیکھا تو برس پڑے۔۔’’ارے کم بختو! تم نے اتنا بڑا ڈنڈا لا کر رکھ دیا؟اِسے کم کرو۔ ہمارے بزرگ مہمان کے سامنے اتنا بڑا ڈنڈا نہیں رکھتے تھے‘‘۔

ڈنڈا فی الفور آری سے کاٹ کر دو تین فٹ کم کر دیا گیا۔ مگر مہمان پھر بھی مطمئن نہیں ہوا۔ اسے اپنے سوال کا جواب درکا ر تھا۔ اب ایک نسبتاً زیادہ بزرگ بلائے گئے۔ انہوں نے بھی سارا ماجرا سنا۔ انہوں نے بھی ڈنڈا ناپ کر دیکھا اور اعتراض کیا کہ۔۔’’ڈنڈا اب بھی بڑا ہے۔ ہمارے بزرگ تو مہمانوں کے آگے ایک چھوٹی سی پتلی سی ڈنڈی رکھا کرتے تھے‘‘۔مذکورہ بزرگ کے کہنے پر باقی ماندہ ڈنڈا کاٹ کر اور چھیل کر ایک چھوٹی سی ڈنڈی بنا دیا گیا۔ گو کہ اب ڈنڈے کا سائز اور جسامت خطرے سے باہر ہوگئی تھی، مگر مہمان کا تجسس برقرار رہا۔ اب تک آنے والے بزرگوں نے صرف سائز اور خطرات ہی کم کیے تھے۔ اس کا استعمال اور اس کا مقصد کوئی نہ بتا سکا تھا۔مہمان اب بھی کھانا کھانے پر تیار نہ ہوا۔ اب ڈھونڈ ڈھانڈ کر گاؤں کا ایک ایسا بزرگ ڈنڈا ڈولی کرکے لایا گیا جس کے سر کے بال ہی نہیں بھنویں تک سفید ہو چکی تھیں۔ جب انھیں ڈنڈے کی شکل و صورت اور اس کا سائز تفصیل سے بتایا گیا تو وہ بھڑک کر اپنی لاٹھی ڈھونڈنے لگے۔ چیخ کر بولے۔۔ ’’ارے عقل کے اندھو! ہمارے بزرگ مہمان کے سامنے ایک چھوٹی سی پیالی میں ایک ننھا منا سا تنکا رکھا کرتے تھے، تاکہ اگر مہمان کے دانتوں کی ریخوں میں گوشت کا کوئی ریزہ پھنس جائے تو وہ خلال کرکے اسے نکال باہر کرے‘‘۔۔کہانی کی دُم: زندگی کے کسی بھی شعبے میں کوئی نئی بات، کوئی بدعت، شروع تو خلال کے تنکے ہی سے ہوتی ہے،

مگر پھر اس کے پیروکار اسے بڑھا کر لمبا سا اور موٹا سا ڈنڈا بنا دیتے ہیں اور اس پر بھی مطمئن نہیں ہوتے۔باباجی کوافسردہ دیکھا تو وجہ دریافت کی۔فرمانے لگے۔۔کل میں اپنے فیملی ڈاکٹر سے ملا۔۔ انہوں نے مشورہ دیا۔۔زیادہ ورزش کریں۔ کولڈ ڈرنکس یا آئس کریم نہ خریدیں۔ سادہ پانی پئیں ۔ ڈرائیو نہ کریں – بس استعمال کریں یا صرف پیدل چلیں۔ باہر نہ کھائیں، گوشت، سمندری غذا اور بیکری کی چیزوں سے پرہیز صرف سبزیاں یا دال مونگ کھائیں۔ کوئی BBQ یا چینی یا کابلی پلاؤ وغیرہ نہیں۔ میں نے ڈاکٹر سے پوچھا میرے ساتھ کیا مسئلہ ہے ؟۔۔ اس نے کہا ’’تمہاری پنشن بہت کم ہے‘‘۔۔یہ سن کر ہم سب ہنس پڑے، اچانک ہمارے پیارے دوست نے کہا۔۔میری امی کو مجھ سے ایک طویل عرصے سے یہ شکایت تھی کہ میں دانت برش کرنے کے بعد ٹوتھ پیسٹ کا ڈھکن کھلا چھوڑ دیتا ہوں۔۔ روز روز کی شکایت سے تنگ آ کر میں نے تہیہ کر لیا کہ یہ بری عادت چھوڑ دونگا۔۔ پورا ایک ہفتہ یاد سے ڈھکن بند کرتا رہا، اکثر واش روم میں بار بار جا کر چیک کرتا رہاکہ کہیں ڈھکن کھلا تو نہیں چھوڑ دیا۔۔ ایک ہفتے کی اس فضول مشقت کے بعد امید تھی ماں بہت خوش ہوگی ۔۔ لیکن وہ دن کبھی نہیں آیا۔ کل شام سب فیملی اکٹھے بیٹھی تھی کہ اچانک ماں نے بھری محفل میں میری طرف دیکھ کرکہا۔۔یہ تم نے اب دانت برش کرنا کیوں چھوڑ دِیے ہیں؟۔۔

Categories
آرٹیکلز

اگلے ماہ ڈالر اور پٹرول کی قیمتوں میں قابل ذکر کمی ہوگی ۔۔۔۔ پاکستانیوں کے کام کی خبر آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار وسعت اللہ خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔عام آدمی تو رہا ایک طرف خود شہباز شریف بھی ڈالر کے مقابل روپے کے تیزی سے گرتے پلیٹلیٹس سے سخت پریشان ہیں۔البتہ نو رتن تسلی دلا رہے ہیں کہ گھبرانا نہیں ۔جتنا نظر آ رہا ہے اتنا ہے نہیں بلکہ

یہ تو نظر کا دھوکا ہے۔ وزرا کی نگاہ سے دیکھیں تو حالات ’’ فس کلاس ‘‘ ہیں۔مثلاً وزیر دفاع خواجہ محمد آصف جنھیں اپنے ماتحت اداروں کے سوا سب کے بارے میں بات کرنے کا مکمل اختیار ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ معاشی اقدامات کے سبب وقتی طور پر متوسط طبقے کا ایک حصہ خطِ غربت چھو سکتا ہے مگر اس نوبت کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ حال ہی میں اعلیٰ سرکاری ملازموں کو جو ایگزیکٹو الاؤنس دینے کا اعلان ہوا ہے اس پر نظرِ ثانی کی جائے۔نیز سرکاری خرچے پر پرتعیش طرزِ زندگی کو سادہ پن سے بدل دیا جائے۔خواجہ آصف انقلابی کے بقول نوکر شاہی اور دیگر ( حکمران طبقہ ) کو حالیہ اقتصادی بار مشترکہ طور پر برداشت کرنا پڑے گا تاکہ عام آدمی کو کچھ تو تسلی ہو کہ صرف اسی کی پیٹھ پر بوجھ نہیں لادا جا رہا۔خواجہ آصف کا خیال ہے کہ ڈالر کے ہاتھوں روپیہ ہی نہیں یورو اور پاؤنڈ اسٹرلنگ سمیت ہر کرنسی بے توقیر ہو رہی ہے۔ اس وقت کساد بازاری کے خوف سے ریزرو بینک آف امریکا کی سخت مالیاتی ڈسپلن پالیسی کے سبب ڈالر پچھلی دو دہائی میں سب سے زیادہ اکڑا ہوا ہے۔خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سرکار کا حجم اس وقت ضرورت سے زیادہ ہے کیونکہ بہت سی وہ اہم ذمے داریاں بھی حکومت نے اٹھا رکھی ہیں جو باقی دنیا میں نجی شعبہ نبھا رہا ہے۔لہٰذا حکومتی ڈھانچے کی رائٹ سائزنگ کے ذریعے انتظامی چربی کم کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ ہمیں اپنی کچھ قبیح عادات بھی بدلنا ہوں گی۔جیسے دیر سے کاروبار شروع کرنا

اور دیر سے بند کرنا۔کاروبار دن کی روشنی میں ہی نمٹانے کی عادت نافذ کروانا ہو گی۔بس ان چند تراکیب پر آج سے ہی عمل شروع ہو جائے تو رفتہ رفتہ حالات سنبھلنے لگیں گے۔اقامہ گزیدہ خواجہ آصف اضافی تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے کچھ عرب دوست ممالک کی کمپنیاں نج کاری کی صورت میں پاکستان کی کچھ ایسی لسٹڈ کمپنیوں اور اداروں میں سرمایہ لگانے میں سنجیدگی سے دلچسپی رکھتی ہیں جو ایک عشرے سے نجکاری کی فہرست میں پڑی ہیں۔( یہ اشارہ ہے کہ سرکار اب مزید پیسہ اکٹھا کرنے کے لیے نجکاری کے منتظر اداروں کی فہرست میں سے بکروں کا انتخاب کرے گی )۔خواجہ جی کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ہماری حکومت کسی اور حکومت سے کسی ٹینڈر کی حجت میں پڑے بغیر براہ راست تجارت کر سکے اس کے لیے متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم زیرِ غور ہیں۔( ایسی صورت میں عام آدمی کو سہولت ہو نہ ہو ڈیل میں شامل سرکاریوں کی کمیشن کاری کی آبیاری ضرور ہو جائے گی )۔انھوں نے بتایا کہ حال ہی میں ایک وفد نے کابل کا دورہ کر کے افغان کوئلے کی درآمد کی تفصیلات طے کی ہیں تاکہ کوئلے پر منحصر بجلی گھروں کا پیٹ بھر کے بجلی کی پیداوار بحال ہو سکے۔( مگر یہ کیسے ہوگا جب کہ پاکستان کابل انتظامیہ کو سفارتی طور پر تسلیم ہی نہیں کرتا۔کیا یہ تجارت سرکاری سطح پر ہو گی یا نجی شعبے کو بیچ میں ڈالا جائے گا۔ سوال ہنوز وضاحت طلب ہے )۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل

وزیرِ دفاع سے بھی زیادہ پرامید ہیں۔بقول ان کے روپے کی قدر میں روز افزوں گراوٹ کے باوجود کرنسی مارکیٹ پر ( آپ کے بھائی کا ) پورا کنٹرول ہے۔دوست ممالک سے جو پیسے آنے والے ہیں وہ بس پائپ لائن میں ہیں۔جہاں اتنا انتظار کر لیا کچھ دن اور سہی۔درآمدات میں کمی کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔بھائی مفتاح سمجھاتے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈیز ختم ہونے سے ان مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی ختم ہو گئی ہے اور آج ملک میں پٹرول کا تیس دن کا اور ڈیزل اور فرنس آئل کا دو ماہ کا ذخیرہ موجود ہے جو بذاتِ خود ایک ریکارڈ ہے۔جب کہ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کی وجہ سے استعمال میں بھی کمی آئی ہے۔بھائی مفتاح کا کہنا ہے کہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے ملک رفتہ رفتہ دیوالیہ ہونے کے خدشے سے باہر نکل رہا ہے۔اس نوبت سے بچنے کے لیے وقتی طور پر مزید سخت قدم بھی اٹھانے پڑے تو ہچکچائیں گے نہیں کیونکہ ہمیں اپنی سیاسی قبولیت سے زیادہ ملک کے معاشی مستقبل کی فکر ہے۔ سوائے زرِ مبادلہ کی شرح تبادلہ میں اونچ نیچ کے تمام معاشی اشاریے مثبت سمت میں ہیں۔اگلے ہفتے تک اسٹیٹ بینک کے نئے گورنر کا تقرر ہونے سے بھی مالیاتی استحکام آئے گا۔اگلے ماہ سے پٹرول کی قیمت میں اور کمی ہو گی اور روپیہ ڈالر کے سامنے کھڑا رہ سکنے کے قابل بھی ہو جائے گا۔ترکی سے جو نیا تجارتی سمجھوتہ طے پایا ہے اس کے نتیجے میں دو طرفہ تجارت کا حجم بڑھ کے

پانچ ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ جائے گا۔وزیرِ توانائی خرم دستگیر بھی سکون میں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں معاشی بحران کا پہلا اشارہ پٹرول پمپوں پر طویل ہوتی قطاریں تھیں۔ہمارے ہاں تو ایسی نوبت نہیں ہے۔ملکی ضروریات کے لیے پورے چونتیس دن کا تیل موجود ہے ۔وزیرِ مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک اس پر خوش ہیں کہ قیمتیں بڑھنے کے بعد ملک میں ڈیزل کی کھپت میں نو فیصد تک کمی آئی ہے۔( ڈیزل ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے میں استعمال ہوتا ہے۔ملک صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ اس کی کھپت میں کمی سے کیا ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبہ سکڑا ہے یا پہلے جیسا ہی پھل پھول رہا ہے )۔ایسے وقت جب معاشی نزاکتوں اور کیے گئے اقدامات کے فیوض و برکات سمجھنے سے عاری عام آدمی کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔دو ووٹوں کی اکثریت پر ٹکی سرکار کا یہ پراعتماد چہرہ قابلِ داد ہے۔عام آدمی اپنا ڈنکی پیٹ رہا ہے سرکار اپنا ڈنکا پیٹ رہی ہے۔سرکاری اعصابی مضبوطی کو سراہنا تو بنتا ہے۔اب تو خیر ختنئی حالات بہت بدل گئے ہیں۔ ہمارے زمانے میں نائی استرا لہرانے سے ذرا پہلے بچے کی توجہ آسمان پر اڑتے پرندوں کی جانب مبذول کروانے کے فن میں طاق تھے۔وہ دیکھو چڑیا اڑ رہی ہے وہ دیکھو طوطا گذر رہا ہے۔ جیسے ہی بچہ آسمان میں چڑیا طوطے تلاش کرنے کے لیے سر اٹھاتا نائی کام تمام کر کے آلہِ مضروب پر راکھ ملتے ملتے تسلی دیتا بس بس کچھ نہیں کچھ نہیں ، تو تو شیر بچہ ہے۔

Categories
آرٹیکلز

انتہائی دلچسپ تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماؤں کے ایک کنجوس زمیندار کا ملازم روزانہ رات کو اپنی محبوبہ سے ملنے جاتا تو لالٹین بھی ساتھ لے جاتا۔ زمیندار کو بڑا گراں گزرتا کہ وہ اتنا مٹی کا تیل خرچ کر آتا ہے۔ اس کے خیال میں یہ فضول خرچی تھی۔

ایک روز وہ ملازم کو ڈانٹتے ہوئے بولا ۔۔ایک تو تم نئی نسل کے لوگوں میں عقل نام کی کوئی چیز نہیں۔ محبوبہ سے ملنے کے لیے لالٹین لے جانے کی کیا ضرورت ہے۔ خوامخواہ کی فضول خرچی ہے۔ میں جب تمہاری عمر کا تھا اور محبوبہ سے ملنے جاتا تھا تو بغیر لالٹین کے جاتا تھا۔۔ملازم نے اپنے مالک کی بات کافی دھیان سے سنی پھر منہ بنا کر بولا۔۔مالکن کو دیکھ مجھے پہلے ہی اندازہ ہو گیا اندھیرے میں تو ایسی ہی چیزیں ہاتھ آتی ہیں۔۔۔آپ نے دیواروں پر اکثر اشتہارات دیکھے ہوں گے کہ۔۔ محبوب آپ کے قدموں میں۔۔ شوہر کو قابو کریں۔۔آج تک کہیں بھی یہ نہیں لکھا دیکھا کہ محبوبہ آپ کے قدموں میں یا بیوی کو قابو کریں ۔۔اس کی وجوہات کبھی جاننے کی کوشش کی ہیں؟؟ کیا عاملوں کے تعویذ صرف مردوں پر ہی چلتے ہیں۔۔ظاہر سی بات ہے مرد ہوتا ہی بے وقوف ہے۔گھر سے باہر نظر آنے والا شیر گھر پہنچتے ہی ڈھیر ہوجاتا ہے۔بے وقوف مردوں پر یاد آیا۔۔ سردار نے اپنے بیٹے سے پوچھا۔۔پُتر اے دو بستر کیوں لا ریا ائیں؟ بیٹے نے کہا۔۔ ابا دو پرونے آ رئے نے گھر وچ،اک میرے ماموں تے دوجے امی دے وڈے پائی،،سردار جی نے بیٹے کو ڈانٹے ہوئے کہا۔۔ او اچھا ،بستر 3 کر دے، میرا سالا وی آ ریا اے۔۔ایک بیوی اس وقت تک کھانا نہیں کھاتی تھی جب تک اسکا شوہر نہ آجاتا سارے محلے کی عورتیں اسکی تعریف کرتی تھیں۔۔۔ایک دن ایک عورت نے پوچھا۔۔ بہن کیسے برداشت کرتی ہو؟۔۔

تو اس عورت نے جواب دیا ۔۔کیا کروں وہ آکر پکاتے ہیں اور میں کھاتی ہوں۔۔کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے پوری گل سُن لیا کرو اللہ دے بندیو۔۔ ٹھیکیدار نے پوچھا۔۔جناب ، یہ بتائیے آپ کس قسم کا مکان تعمیر کرانا چاہتے ہیں، آپ کے ذہن میں کس قسم کا نقشہ ہے؟۔۔مالک مکان بولا۔۔بھئی میرے ذہن میں تو کوئی نقشہ وغیرہ نہیں ہے۔ بات بس اتنی سی ہے کہ میری بیوی پچھلے اتوار کو اتوار بازار سے دروازے کا ایک ہینڈل خرید لائی ہے۔ بس کوئی ایسا مکان بنا دیجیے جس میں وہ ہینڈل عمدہ طریقے سے لگ جائے۔۔ ایک عورت باورچی خانے میں اپنے خاوند کے ناشتے کے لیے انڈے فرائی کر رہی تھی کہ اس کا خاوند باورچی خانے میں داخل ہوا اور کہنے لگا:او خدایا تم ایک ہی وقت میں کتنے سارے انڈے فرائی کر رہی ہو۔ذرا احتیاط کرو، احتیاط سے پلیز، تھوڑا مکھن اور ڈالو۔ان کو اُلٹا کرو، الٹا کرو، یہ ادھر سے جل رہے ہیں۔یہ نیچے سے چپک جائیں گے۔ احتیاط سے، ذرا احتیاط سے۔جب تم کچھ پکا رہی ہوتی ہو تم کبھی میری بات نہیں مانتیں، کبھی نہیں مانتیں۔ ۔ اب ان پر نمک چھڑکو، تم ہمیشہ نمک چھڑکنا بھول جاتی ہو۔وغیرہ وغیرہ۔۔خاتون خانہ نے گھورکراپنے خاوند کو دیکھا اور بولی۔۔تم کیا سمجھتے ہو کہ مجھے انڈے فرائی کرنے نہیں آتے یا میں پہلی دفعہ انڈے فرائی کررہی ہوں؟ ۔۔خاوند نے بڑے سکون سے کہا۔۔میں صرف تمہیں سمجھانا چاہتا ہوں کہ جب میں ڈرائیونگ کر رہا ہوتا ہوں تو تمہاری باتوں سے میں کیسا محسوس کرتا ہوں۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔لوگ کیچڑ سے بچ کر چلتے ہیں اور کیچڑ کو یہ گھمنڈ ہوتا ہے کہ لوگ اس سے ڈرتے ہیں،ہمارے اردگرد بھی کچھ انسان اسی گھمنڈ کا شکار ہیں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Categories
آرٹیکلز

معجزہ ہو گیا ، دو جمع دو پانچ ہو گیا ۔۔۔!! پنجاب کے ضمنی الیکشن میں کیا فارمولا لاگو کیا گیا ؟ عاصمہ شیرازی کی حیران کن تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار عاصمہ شیرازی بی بی سی کے لیے اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔معجزے ہوا کرتے ہیں اور اعجاز دکھانے والے اس کے مظاہرے بھی سرعام کرتے ہیں۔ سیاست کے کھیل میں مگر معجزے کم اور سائنس زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ پنجاب کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے

حالیہ ضمنی انتخابات میں جو سائنس استعمال ہوئی اُس کے سادہ فارمولے نے دو جمع دو پانچ کر دکھایا۔ہو سکتا ہے کہ محض اتفاقات کی اس دُنیا میں انھونی کو ہونی میں بدلنے والے الجبرے کے فیثا غورثی اصول طے پا گئے ہوں یا عمران خان صاحب کی شخصیت کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگ گیا ہو، یا خان صاحب کے ستارے اوجِ ثریّا سے بھی اوپر چمکنے لگے ہوں، مقبولیت کے تمام گراف، اعداد اور اشاریے گنتی بھول گئے ہوں مگر جو ہوا وہ کہیں نہ کہیں مقبولیت سے بالاتر ہے۔پنجاب کے ضمنی انتخابات میں ن لیگ کا صفایا ایسے ہوا ہے جیسے برسوں پہلے پیپلز پارٹی کا پنجاب میں ہوا تھا۔ یہ محض اتفاق ہی ہو گا کہ ن لیگ بیانیے اور کارکردگی کے محاذ پر تین ماہ میں وہاں آ کھڑی ہوئی جہاں پہلے تحریک انصاف کھڑی تھی۔اب ن لیگ لاکھ کہے کہ یہ تو ہمارے حلقے ہی نہ تھے مگر سچ یہی ہے کہ چند ماہ پہلے تک لگاتار ضمنی انتخابات جیتنے والی جماعت بلآخر زندگی موت کے درمیان یہ معرکہ ہار گئی۔ایک انھونی 22 مئی کو بھی ہوئی جب عمران خان نے اچانک لانگ مارچ کا فیصلہ کیا جو کسی کی رضا تھی یا ٹریپ، اس کا اندازہ نتیجے سے لگایا جا سکتا ہے۔اُدھر شہباز شریف 23 مئی کی شام کو پی ٹی وی کے ذریعے قوم کو استعفے اور عام انتخابات کی خبر دینے کی تیاری کر چکے تھے کہ عمران خان نے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا اور پھر نواز شریف نے شہباز شریف کو نہ صرف الوداعی تقریر سے روکا بلکہ ڈٹ جانے کا پیغام بھی دیا اور یوں عمران خان عام انتخابات کی یہ اہم کامیابی سمیٹنے سے محروم ہو گئے جبکہ لانگ مارچ کے غبارے سے ہوا بھی نکل گئی۔

کیا یہ بھی محض اتفاق ہے کہ غیر مقبول فیصلوں کے بدلے تسلسل یقینی بنانے کی ’ضمانت‘ والے ہاتھ مصلحتاً یا ارداتاً کھینچ لیے گئے۔ اور یہ بھی محض اتفاق کہ نواز شریف کا مزاحمتی بیانیہ عمران خان لے اُڑے اور راتوں رات اسٹیبلیشمنٹ مخالف بیانیے پر جیت کی مُہر ثبت کر دی اور اب دائیں بائیں سے طاقت کے مرکز پر اٹیکس ہو رہے ہیں۔اتفاقات کی اس دُنیا میں قسمت کے دھنی صرف عمران خان ہی ہیں کہ کل تک طاقتور حلقوں کے گُن گاتے تھے اور آئی ایس آئی چیف سے لے کر آرمی چیف تک اور چیف جسٹس سے لے کر سابقہ چیف تک اُن کے ہی صفحے پر تھے اور وزیراعظم کی کُرسی سے اُترنے کے بعد ایک دن بھی محسوس نہیں ہوا کہ وہ اقتدار کے اس کھیل سے کبھی باہر بھی ہوئے ہیں۔یہی نہیں بلکہ اب بھی جب چاہیں، جہاں چاہیں کہیں بھی کھڑے ہو کر کسی کو الزامات کا نشانہ بنا سکتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب بھی طاقت کا مرکز ہیں اور آنے والے دنوں میں وہی اصل اسٹیبلیشمنٹ بھی ہوں گے۔چیف الیکشن کمشنر پر حالیہ حملے کسی اور گراؤنڈ کی تیاری ہے یا فارن فنڈنگ کیس میں دباؤ بڑھانے کا طریقہ اس بارے میں بھی فیصلہ اُن کے حق میں ہوا تو محض اتفاق ہی ہو گا۔ بہرحال محسوس ہوتا ہے کہ اُن کے راستے کی شاید آخری دیوار چیف الیکشن کمشنر ہی ہیں جس کے بعد ’گلیاں ہو جانڑ سنجھیاں تے وِچ مرزا یار پھرے۔‘عمران خان صاحب اپنے بہترین میڈیا، سوشل میڈیائی ہتھیاروں سے لیس اپنے اہداف کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ادارے اب شدید دباؤ کا شکار ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ضمنی انتخابات سے چوبیس گھنٹے قبل ایک ہنگامی آزادی صحافت سیمینار میں اُنھوں نے ’جرنیلوں کے یوٹرن کو اچھا‘ قرار دے کر ’واپسی پر کچھ نہیں کہا جائے گا‘ کا پیغام بھی دے دیا ہے۔اب ہو سکتا ہے کہ عمران خان 29 نومبر کی تاریخ سے پہلے دو تہائی اکثریت کے وزیراعظم بننے کا ہدف بھی حاصل کر لیں اور اپنی مرضی کا آرمی چیف بھی تعینات کر دیں جبکہ اس دوران مشکل معاشی فیصلے حکمران اتحاد کرتا رہے اور غیر مقبول بھی ہوتا رہے۔جمہوری ریاستوں میں وزیراعظم منتخب ہوتے ہیں مگر وطن عزیز میں آرمی چیف منتخب کرنے کے لیے وزیراعظم تعینات ہوتا ہے اور عمران خان صاحب اب اس طاقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ آخری خبریں آنے تک حکمران اتحاد آئینی مدت پوری کرنے پر ڈٹ گیا ہے اب خدا جانے کس کے ستارے خروج پر ہوں اور کس کے عروج پر۔۔۔ آپ بس اتفاقات پر نظر رکھیے۔

Categories
آرٹیکلز

چند اہم چالیں جو چل کر تحریک انصاف نے پنجاب کا ضمنی الیکشن جیت لیا ۔۔۔۔بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی محمد منصور بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پاکستان کے صوبہ پنجاب میں 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے 20 میں سے پندرہ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ نون صرف چار نشستیں حاصل کر سکی ہے۔

مسلم لیگ نون کے لیے ان ضمنی انتخابات میں شکست صرف ان 15 حلقوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا اثر حمزہ شہباز کی پنجاب حکومت اور شہباز شریف کی وفاقی حکومت پر بھی پڑ سکتا ہے۔بہت سے تجزیہ کاروں اور ماہرین کے اندازوں کے برعکس تحریک انصاف کی کامیابی نے سیاسی اور مقتدر حلقوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی نے اتنی بڑی کامیابی آخر کیسے حاصل کر لی اور اس کے لیے اس جماعت کا لائحہ عمل کیا رہا۔اپنے دور حکومت میں مہنگائی کی وجہ سے عوامی تنقید کا شکار تحریک انصاف نے یکدم عوامی مقبولیت اس وقت دوبارہ حاصل کرنا شروع کی جب عمران خان نے ’امریکہ کے حکم پر پاکستان میں رجیم چینج‘ کے خلاف بیانیہ اپنایا اور عوامی جلسوں اور تقاریب میں اسے دہرانا شروع کیا۔رجیم چینج‘ کے فوراً بعد تحریک انصاف نے مطالبہ شروع کیا کہ فوری الیکشن کروائے جائیں کیونکہ ملک کے مسائل کا حل صرف ایک عوامی مینڈیٹ کے ساتھ آئی حکومت ہی کر سکتی ہے۔اپنے مطالبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تحریک انصاف نے اسلام آباد کی جانب 25 مئی کو ’پرامن‘ لانگ مارچ کی کال دی لیکن حکومت کی جانب سے ابتدا میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تاہم عمران خان اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب رہے۔اس نئی صورتحال میں تحریک انصاف نے اپنے احتجاج کی تحریک کو نئی شکل دی اور عوام کو شام کے وقت شہروں میں جمع کرنا شروع کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعجاز چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم نے اسٹیبلشمنٹ کا موڈ دیکھ کر احتجاج میں تھوڑی تبدیلی کی اور لوگوں کو تین دن،

چار دن، ہفتے بعد شام کو نکالنا شروع کیا کہ وہ بڑی سکرینوں پر عمران خان کی تقریر سُنیں۔دوسری جانب تحریک انصاف کے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کی مہم میں واضح فرق صرف عمران خان تھے، جنھوں نے صوبے کے تمام 20 حلقوں میں طوفانی دورے کیے اور عوام کو یہ ذہن نشین کروایا کہ پاکستان کی بقا صرف خود مختاری اور امریکا سے حقیقی آزادی حاصل کرنے میں ہے۔تحریک انصاف کی وسطی پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ ان کی پارٹی نے انتخابات جیتنے کے لیے ہمہ جہتی حکمت عملی بنائی تھی۔وہ کہتی ہیں کہ ’ہم نے یہ حکمت عملی بنائی کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی کسی معمولی سے معمولی غلطی کو نظر انداز نہیں کرنا۔ ہم نے الیکشن کمیشن کو ووٹر لسٹوں میں غلطیوں سے لے کر پولنگ ایجنٹس کی تعیناتی کے حوالے تک مصروف رکھا اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔‘انھوں نے کہا کہ پارٹی کی ’تمام قیادت نے یہ یقینی بنایا کہ عوام یہ جانے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو بیرونی دباؤ کی وجہ سے رخصت کیا گیا اور اس وقت ضروری ہے کہ وہ باہر نکلیں اور بیرونی آقاؤں اور ان کے پاکستان میں حواریوں کے خلاف لڑائی کریں۔‘ڈاکٹر یاسمین نے بتایا کہ پارٹی نے ہر گھر کے دروازے پر جا کر لوگوں سے ووٹ مانگے اور پولنگ والے دن لوگوں کو گھروں سے پولنگ سٹیشن تک لے کر آئے۔ پھر پولنگ ایجنٹس نے نتائج آنے تک ووٹوں پر پہرہ بھی دیا۔انتخابی مہم کے دوران تحریک انصاف نے وسطی پنجاب کی چھ نشستوں کو مانیٹر کرنے کے لیے

لاہور میں ایک سیل بنایا جس نے پہلے ڈور ٹو ڈور مہم میں ووٹروں کے فون نمبر لیے اور پھر ان کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا۔مانیٹرنگ سیل کے ایک ورکر نے بتایا کہ ہم نے تمام چھ حلقوں میں تقریباً چار لاکھ فون کالز کیں۔آخری دنوں میں ووٹرز کال سنتے ہی کہتے تھے کہ کہ ہم پولنگ والے دن پولنگ سٹیشن پر خود ہی صبح صبح پہنچ جائیں گے۔‘تحریک انصاف کے PP-167 میں کورنگ امیدوار سید عدنان جمیل نے بتایا کہ وہ خود اور کئی دوسرے حلقوں میں کورنگ امیدوار آزاد حیثیت میں کھڑے رہے تاکہ اپنی پارٹی کے لیے تمام دستیاب وسائل کو استعمال کر سکیں۔ہم نے آزاد امیدوار کے طور پر بھی ہر پولنگ سٹیشن پر پولنگ ایجنٹ دیے تھے تاکہ تحریک انصاف کے پولنگ ایجنٹس کی تعداد زیادہ ہو سکے اور الیکشن بہتر طریقے سے مانیٹر ہو سکے۔‘تحریک انصاف کے امیدواروں نے ہر حلقے کی تمام یونین کونسلز میں مانیٹرنگ روم بنائے اور گاڑیاں دی تھیں۔تحریک انصاف نے ہر پولنگ سٹیشن کے باہر دو گاڑیاں اور چھ موٹر سائیکلوں پر ورکرز کو بٹھایا۔ ان ورکرز نے بیلٹ باکسز کی ریٹرننگ آفیسر کے دفتر تک ترسیل کی ویڈیوز بنائیں تاکہ کوئی بیلٹ باکس کو راستے میں غائب نہ کر سکے۔تحریک انصاف کی اس کامیابی کے بعد پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر الزمان کائرہ نے تجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے مہنگائی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ نون نے اپنے امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ نہیں دیا جس کا بہت سخت ردعمل آیا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ مسلم لیگ نون کے ووٹرز نے بھی یوٹرن لیا اور پارٹی فیصلے کے خلاف جا کر الیکٹیبلز کو تسلیم نہیں کیا۔

Categories
آرٹیکلز

اسکے کچھ دیر بعد دونوں پاکستانی پولیس اسٹیشن میں تھے ، مگر کیوں ؟ ایک دلچسپ تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔دوستو،ہم نے اکثر نوٹ کیا ہے ، جس کالم میں ہم اوٹ پٹانگ باتیں زیادہ کرتے ہیں، وہی کالم احباب پسند کرتے ہیں۔۔ جب ہم تھوڑا سنجیدہ ہونے لگتے ہیں اور کسی سنجیدہ مسئلے کی جانب مہذب انداز میں نشاندہی کرتے ہیں، احباب بور ہوجاتے ہیں۔۔

اوٹ پٹانگ کالموں کا فیڈبیک زیادہ اچھا ملتا ہے۔۔ چنانچہ آج کی تحریر بھرپور اوٹ پٹانگ باتوں سے لبریز ہے۔۔ اگر کسی کو کچھ برا لگے تو ہماری طرف سے دو روٹیاں زیادہ کھالے۔۔ہماری صحت پر کیا فرق پڑے گا؟؟ تو چلیں شروع کرتے ہیں اوٹ پٹانگ باتیں۔۔ہم بس میں سوار ہو کر کراچی سے حیدرآباد جا رہے تھے۔۔ سہراب گوٹھ سے ایک بندے نے سوار ہونے کے ساتھ ہی باآواز بلند بولنا شروع کیا۔۔میں کوئی مانگنے والا نہیں ہوں، میرے بھائیو بس اللہ یہ وقت کسی پر نہ لائے۔۔ابھی اس کااتناہی کہنا تھا کہ ہمارا ہنسی کا فوارہ نکل گیا۔۔ساری سواریاں بھی ہمارے ہنسنے کی وجہ کو سمجھتے ہوئے ہنس پڑیں۔۔وہ اعلان کرنے والا اعلان درمیان میں چھوڑ کر ہی واپس مڑ گیا۔مڑنے سے پہلے اس کے آخری الفاظ جو مجھے سنائی دئیے وہ کچھ یوں تھے۔۔جا اوئے میاں۔۔ (بیپ بیپ بیپ)۔۔ تینو لوے مولا۔۔ ساڈی روزی تے وی لت مار دتی اے۔۔کہتے ہیں ہر عید پر پردیسی اپنے وطن کو بہت مس کرتے ہیں۔۔ اس بار بھی عید آئی پردیسیوں نے اپنے وطن کو بہت یاد کیا۔۔باباجی بھی کافی عرصے پردیسی رہے۔وہ ایک خلیجی ملک میں ایک عشرے سے زائد نوکری کرتے رہے۔باباجی اپنی کتاب۔۔ وطن دورہے جانا ضرورہے۔۔ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ۔۔جب میں نے باہر جانے کی پکی تیاری کر لی تو روانگی والے دن میرے والد نے بہت ساری دعاؤں اور نصیحتوں کے ساتھ مجھے الوداع کہا۔پردیس اور پردیس میں کام کاج اور کمائی میری توقع کے مطابق نہ تھی۔ مجھے مشکلات سے لڑتے لڑتے دو سال بیت گئے۔دو سال کے بعد وطن میں ایک دن میری اماں

اور والد کہیں گئے ہوئے تھے کہ گھر میں چور آ گیا۔ ہمارے گھر سے اسے کیا ملنا تھا، ہمارا ایک گدھا بندھا کھڑا تھا چور وہی کھول کر لے گیا۔دو دن کے بعد چور ہمارے گدھے کو لے کر بازار باربرداری کیلئے گیا۔پھل اور سبزیوں سے لادا۔ رش میں چور کی توجہ کہیں اور ہوئی تو گدھا چل پڑا۔ ہمارے گھر کا راستہ تو گدھا جانتا ہی تھا اس لئے اس نے شام کو دروازے پر آ کر منہ مارنا شروع کر دیا۔ میرے والد نے شور سن کر دروازہ کھولا تو سامنے اپنے گمشدہ گدھے کو پھلوں اور سبزیوں سے لدا پھندا کھڑا دیکھ کر بہت خوش ہوا۔میری اماں کو بلا کر دکھاتے ہوئے کہا۔۔ دیکھ، یہ میرا گدھا دو دن غائب رہا ہے اور بدلے میں پورا بازارلے کر آیا ہے۔ اور تیرے بیٹے کو گئے دو سال ہو گئے ہیں اور آج تک مونگ پھلی کا ایک دانہ بھی نہیں بھیج سکا۔۔باباجی اسی کتاب میں ایک اور دلچسپ واقعہ کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں کہ۔۔سعودی عرب کی ایک مسجد میں دو پاکستانی اور کچھ عربی نماز ادا کررہے تھے ایک عربی کی نماز میں پاکستانیوں کو کوئی غلطی محسوس ہوئی تو ان دونوں نے اس عربی کو اس غلطی کی نشاندہی کردی عربی خاموش رہا اور نماز کے بعد مسجد سے نکل گیا۔ پاکستانی اپنی نماز پوری کرنے کے بعد جب مسجد سے نکلے تو وہ عربی باہر ان کا انتظار کر رہا تھا، اس نے ان کو روک کر ان کی غلطی کی نشاندہی یاد کرائی اور کہا کہ۔۔ آپ لوگوں نے

مجھے یہ کہا تھا ۔۔ دونوں پاکستانیوں نے کہا، ہاں کہا تھا ۔۔تو وہ عربی ان دونوں کو پولیس سٹیشن لے گیا اور پولیس والے کو سارا واقعہ بتا دیا۔۔پولیس والے نے پاکستانیوں سے اسلامیات پہ یونیورسٹی کی ڈگری مانگی جو ان دونوں کے پاس نہیں تھی۔ پولیس والے نے پھر ان سے وہ سرٹیفکیٹ مانگا جو کسی ادارے نے ان دونوں کو فتوے دینے کے لئے جاری کیا تھا۔۔جب ان دونوں پاکستانیوں سے یہ دونوں چیزیں نہ مل سکیں تو ان دونوں کو ایک ہفتہ کے لئے غیر ضروری دخل اندازی کے جرم میں قید بند کردیا گیا۔۔اب وہ دونوں پاکستانی صرف اور صرف اپنے کام سے رکھتے ہیں۔۔باباجی کی آپ بیتی ۔۔ماہی وے سانوں بھل نہ جاویں۔۔میں ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ۔۔میں نے برابر کی سیٹ پر بیٹھی ہوئی خوبصورت خاتون سے پوچھا۔۔ کیا میں اس پرفیوم کا نام جان سکتا ہوں جو آپ نے لگایا ہوا ہے۔۔؟میں اپنی بیوی کو تحفے میں دینا چاہتا ہوں ۔۔خاتون نے جواباً کہا۔۔یہ آپ اپنی بیوی کو مت دینا ورنہ کسی بھی ذلیل آدمی کو اس سے بات کرنے کا بہانا مل جائے گا۔۔باباجی اسی کتاب میں آگے چل کر کسی اور جگہ اپنا ایک اور دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ۔۔ایک بار ہم میاں بیوی ساتھ بیٹھے زندگی اور موت کی بابت باتیں کر رہے تھے۔۔میں نے کہا۔۔بیگم میں ایک زندہ میت کی حالت میں رہنا نہیں چاہوں گا۔ اگر کبھی ایسا بیمار پڑوں کہ بے ہوش و حواس ہو جاؤں اور محض آکسیجن ماسک اور ٹیوبوں پر میری زندگی منحصر ہوکر رہ جائے تو براہ کرم ان ٹیوبوں، ٹونٹنیوں اور تاروں کو ہٹا کر مجھے فطری حالت میں چھوڑ ددینا ۔

۔تاکہ ان کی اذیت سے آزاد ہوکر طبعی موت مر سکوں۔۔بیگم صاحبہ تھوڑی دیر تک مجھے بغور دیکھتی رہیں۔ پھر بڑے اطمینان سے اٹھیں اور ٹی۔وی کیبل کی تار ہٹادی، کمپیوٹر، آئی پیڈ، موڈیم اور زی باکس کو ڈسکنیکٹ کردیا۔موبائل آف کردیا۔ انٹرنیٹ وائی فائی بھی بند کردیا۔یوں مجھے تو گویا منٹوں میں جیتے جی مار ڈالا۔۔سبق: بولنے سے پہلے سوچ لیا کریں۔۔خاتونِ خانہ کی سوچ کا رُخ کسی طرف بھی ہو سکتا ہے۔۔باباجی کی ازدواجی زندگی یوں تو کئی عشروں پر محیط ہے لیکن زوجین میں اکثر ہلکی پھلکی ’’نوک جوک‘‘ چلتی رہتی ہے۔۔باباجی اپنی زوجہ ماجدہ کے ساتھ ہونے والی دلچسپ ’’توتومیں میں‘‘ اکثر ہمیں سناتے رہتے ہیں۔۔ایک دن باباجی کی زوجہ ماجدہ نے کہا۔۔میں نے گدھوں پر ریسرچ کی ہے، وہ اپنی گدھی کے سوا کسی دوسری گدھی کو دیکھتا تک نہیں!باباجی نے برجستہ کہا۔۔ اسی لئے تو اُسے گدھا کہتے ہیں۔۔ بیگم صاحبہ کہنے لگی۔۔ میری اسکِن بہت Oily ہو گئی ہے کیا لگاؤں؟۔۔باباجی نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد مشورہ دیا۔۔ ایسا کرو Vim بار لگاؤ ساری چکنائی اُتار دے گا۔۔ایک دن زوجہ ماجدہ نے چیختے ہوئے باباجی سے پوچھ ہی لیا۔۔ یہ الارم کون ہے جس کی روز چھ بجے کال آتی ہے؟باباجی نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرتے ہوئے کہا۔۔ ربا ہن تے چک ای لے۔۔۔ بیگم صاحبہ نے باباجی سے سوال پوچھا تاکہ علم میں اضافہ ہوسکے، انہوں نے پوچھا کہ۔۔بیوی کو فارسی میں کیا کہتے ہیں؟باباجی بولے۔۔ بیوی کو آپ فارسی تو کیا کسی بھی زبان میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔۔باباجی بستر پر لیٹے موبائل میں ساؤتھ کی کوئی ہندی ڈب مووی دیکھ رہے تھے۔۔بیگم بولیں۔۔ اٹھ جائیں میں روٹی بنا رہی ہوں،باباجی نے بلند آواز میں جواب دیا۔۔ تو میں کونسا توے پر لیٹا ہوں۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔کراچی کے مسائل کا حل ’’نالوں‘‘ کی صفائی میں نہیں ’’نااہلوں‘‘ کی صفائی میں ہے۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Categories
آرٹیکلز

ضمنی الیکشن کا معرکہ : تحریک انصاف بمقابلہ (ن) لیگ و تحریک لبیک ۔۔۔۔ کس کا امیدوار کتنے پانی میں ہے ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں 17 جولائی کو صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوں گے۔ ان انتخابات میں کامیابی کے لیے دو روایتی حریف پاکستان مسلم لیگ ن اور اب اپوزیشن بینچز پر موجود پاکستان تحریک انصاف آمنے سامنے ہیں۔

ان ضمنی انتخابات کو دونوں جماعتوں اور ان کے بیانیے کے لیے ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اس بات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان خود اس مہم میں خاصے متحرک ہیں اور وہ مختلف حلقوں کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔دوسری طرف جہاں مریم نواز بڑے جلسوں کا انعقاد کر رہی ہیں وہیں اب اس جماعت کے دو سینیئر رہنما بھی اپنی وزارتوں سے مستعفی ہو کر اس مہم میں شامل ہو گئے ہیں، جن میں سے ایک سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق جبکہ دوسرے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کے بھائی خواجہ سلمان رفیق ہیں۔یہاں اہم سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ نون نے پنجاب میں اپنے امیدواروں کا انتخاب کیسے کیا؟ کیا یہ جماعت نظریاتی کارکنان پر انحصار کرنے والی اپنی پالیسی پر کاربند ہے یا پھر ’جو جیتے وہی سلطان‘ کے روایتی نظریے پر عمل پیرا ہے۔ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے لیے پنجاب کے حالیہ سیاسی حالات پر ایک سرسری نظر دوڑانے سے یہ گتھی کسی حد تک سلجھ سکتی ہے۔وفاق میں جب تحریک عدم اعمتاد کامیاب ہوئی تو عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اس سے قبل ہی پنجاب میں عمران خان کے پسندیدہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار، جنھیں وہ وسیم اکرم پلس کہتے تھے، نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔تحریک انصاف نے پھر سب سے بڑے صوبے میں وزارت اعلیٰ کے امیدوار کے طور پر ق لیگ کے سینیئر رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کو میدان میں اتارا تو

دوسری طرف ن لیگ نے وزیراعظم شہباز شریف کے فرزند حمزہ شہباز کو اس اہم منصب کے لیے نامزد کیا۔اس مقابلے کو یکطرفہ بنانے کے لیے ضروری تھا کہ نون لیگ کو تحریک انصاف کے کچھ اراکین بھی ووٹ دیں اور یہ مقصد حاصل کر لیا گیا۔کچھ یقین دہانیاں کرائی گئیں اور یوں حمزہ شہباز تحریک انصاف کے 20 تک اراکین کی حمایت اور ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ جب ان 20 اراکین نے حمزہ شہباز کو ووٹ دے کر وزارت اعلیٰ کے منصب پر بٹھایا تو تحریک انصاف اپنے ان منحرف اراکین کے خلاف الیکشن کمیشن پہنچ گئی اور پھر یوں یہ تمام اراکین اپنی کُرسی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔سیاسی مبصرین کے خیال میں شاید مسلم لیگ کو بھی یہ امید نہیں تھی کہ اتنا جلدی انھیں اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل کرنا پڑ جائے گا۔ اب یہ وقت تھا کہ مسلم لیگ ان سے کیے گئے سیاسی وعدے پورے کرے اور ضمنی انتخابات میں انھیں پارٹی ٹکٹ جاری کرے۔اگرچہ حمزہ شہباز کا دعویٰ ہے کہ انھیں ابھی بھی پنجاب میں اکثریت حاصل ہے مگر انھوں نے ڈی سیٹ ہونے والے تحریک انصاف کے ان اراکین سے اپنے وعدوں کا پاس کیا اور تقریباً تمام ہی ٹکٹ ان کے حوالے کر دیے۔بس پھر کیا تھا جو پارٹی کے نظریاتی کارکن اور امیدوار تھے ان میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی اور وہ پھر ان امیدواروں کی حمایت پر ہی مجبور ہیں، جو تقریباً گذشتہ چار برس سے بھی برسراقتدار ہی تھے۔ سادہ سی بات یہ کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے زیادہ تر ٹکٹ ان کو دیے ہیں،

جنھوں نے حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ کے لیے ووٹ دیے تھے۔ان 20 امیدواروں میں سے 10 نے سنہ 2018 کے انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لیا اور بعد میں وہ تحریک انصاف کا حصہ بن گئے تھے۔پنجاب میں اب اس وقت ضمنی انتخابات پر مزید بات کرنے سے قبل ن لیگ سے اس سوال کا جواب حاصل کرنا بھی ضروری ہے کہ آخر کیا وہ ان انتخابات میں اپنی کامیابی یقینی بنانے کے لیے ’منحرف اراکین‘ پر انحصار کر کے اپنے نظریاتی کارکن کو راضی کر سکے گی۔دوسری طرف جہاں مسلم لیگ نون عمران خان کے نشانے پر ہوتی ہے وہیں وہ اپنے ان منحرف اراکین کا تذکرہ بھی نہیں بھولتے اور عوام سے یہ اپیل کرتے نظر آتے ہیں کہ انھیں اس بار مزہ چکھائیں۔اگرچہ مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز ضمنی انتخابات سے قبل ان حلقوں کا دورہ کر رہی ہیں اور وہاں جلسوں سے خطاب میں عمران خان کی کارکردگی پر سوالات بھی اٹھا رہی ہیں مگر یہ سوال اپنی جگہ پر ہے کہ کیا ان 20 اراکین کو ن لیگ کے نظریاتی کارکن دل سے تسلیم کر لیں گے۔تحریک انصاف کے پنجاب اسمبلی میں وہ اراکین جنھوں نے حمزہ شہباز کو ووٹ دیے تھےمسلم لیگ نون کے رہنما عطا اللہ تارڑ سے جب اس پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے اپنی جماعت کا مؤقف دینے کے لیے کچھ وقت مانگا مگر پھر کوئی جواب نہیں دیا۔دوسری جانب عظمیٰ بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ درست ہے کہ ہم نے ان لوگوں کو ٹکٹ دیا ہے

جنھوں نے عمران خان کو گھر بھیجنے کے لیے ہمارا ساتھ دیا۔ان کے مطابق پنجاب میں یہ ہمارا مینڈیٹ تھا جو عمران خان کو چرا کر دے دیا گیا تھا۔عظمٰی بخاری کے مطابق ان 20 میں سے دن اراکین تو آزادانہ طور پر منتخب ہوئے تھے اور ان کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن 25 جولائی سنہ 2018 کو ہماری نو سیٹیں عمران خان سے زیادہ تھیں لیکن آزاد امیدواروں کو پریشرائز کر کے ہماری حکومت بننے نہیں دی گی۔ ان کے مطابق اب ان اراکین نے تلافی کے طور پر اپنی سیٹوں کی قربانی دی ہے اور ایک نئے پراسس میں گئے ہیں تو ایسے میں ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کا ساتھ دیں۔ان کے مطابق انھوں نے اپنے دیرینہ کارکنوں اور گذشتہ امیدواروں کو اعتماد میں لیا ہے۔چند حلقوں میں مسئلہ ہوا ہے، وہ آزادانہ طور پر کھڑے ہیں لیکن جو عوام ہے وہ مسلم لیگ ن کے شیر کے نشان کو ووٹ ملتی ہے۔‘ان کے مطابق وہ پُرامید ہیں کہ اس بار بھی عوام کا اعتماد شیر کے ساتھ ہو گا۔ماہرین کے مطابق سیاسی جماعتوں نے قابل رسوخ (الیکٹیبلز) افراد کو ٹکٹ جاری کرنے کی اپنی روش نہیں بدلی۔صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ نون لیگ نے تحریک انصاف کے منحرف اراکین سے وعدہ کر لیا تھا جس وجہ سے اب انھیں یہ وعدہ پورا کرنا پڑ رہا ہے۔خیال رہے کہ کچھ حلقوں میں تحریک انصاف نے بھی ن لیگ چھورنے والوں کو ٹکٹ دیا ہے لیکن مسلم لیگ نون اس دوڑ میں سب سے

آگے نظر آتی ہے اور سب سے زیادہ ایسے امیدواروں کو ٹکٹ دیے ہیں جو تحریک انصاف کا حصہ رہ چکے ہیں۔سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے امیدواروں سے متعلق سوال کے جواب میں سہیل وڑائچ کا ماننا ہے کہ مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف میں یہ کانٹے کا مقابلہ ہو گا تاہم ان کے خیال میں نون لیگ کو حکومت میں ہونے کا فائدہ حاصل ہے اور وہ انتخابات کے لیے بہتر حکمت عملی بنانے والے بھی ہیں۔واضح رہے کہ نون لیگ کے دور حکومت میں آج تک جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے وہ نون لیگ نے ہی جیتے ہیں، جیسے سنہ 2013 میں 13 میں سے 12 ضمنی الیکشن نون لیگ نے جیتے پھر پنجاب کے 2008 سے 2018 تک کے دور میں 21 ضمنی انتخابات ہوئے اور سبھی میں نون لیگ فاتح رہی۔ایک سوال کے جواب میں سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ جلسوں سے ووٹ اور جیت کا اندازہ لگانا درست نہیں۔ ان کے خیال میں اس وقت سابق وزیراعظم عمران خان کے جلسے بڑے ہو رہے ہیں مگر حلقوں کی سیاست مختلف ہے۔عرفان اللہ خان نیازی بھکر میں مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل رہ چکے ہیں اور اب پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں اسلام آباد کی نمل یونیورسٹی میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے استاد طاہر ملک کا کہنا ہے کہ پنجاب کی سیاست مقامی نوعیت کی ہے جہاں دھڑے اور برادریاں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ان کے مطابق ان ہی ’فیکٹرز‘ کو دیکھ کر دونوں جماعتیں نظریاتی کارکنان کے بجائے الیکٹیبلز پر انحصار کر رہی ہیں۔طاہر ملک کے مطابق سنہ 2018 کے انتخابات

میں ان 20 ارکان میں سے دس آزاد حیثیت سے انتخاب جیتے تھے اور پھر بعد میں انھوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اب وہ دس بھی ن لیگ کے امیدوار بن گئے ہیں۔ان کے مطابق گذشتہ کچھ عرصے میں یہ ٹرینڈ بھی اب پنجاب کی سیاست میں دیکھنے میں آ رہا ہے کہ لوگ مفاد کی خاطر سیاسی وابستگیاں تبدیل کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے ہیں۔طاہر ملک کے مطابق 15 سے 20 فیصد لوگ قومی، بین الاقوامی امور اور حالات کو دیکھ کر ووٹ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں جو خاموش اکثریت کہلاتی ہے۔ان کے مطابق یہ الیکشن دونوں جماعتوں کے لیے اس وجہ سے بھی ایک ٹیسٹ کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ دونوں کی کارکرگی عوام کے سامنے ہے۔ ان کی رائے میں پنجاب کے ضمنی الیکشن میں کراچی کے مقابلے میں ٹرن آؤٹ زیادہ ہو گا کیونکہ یہاں موبلائزیشن زیادہ ہے اور دونوں جماعتوں نے ہی خوب انتخابی مہم بھی چلا رہی ہیں۔اگر بات کی جائے ناراضگی کی تو پھر اس کے لیے رخ کرتے ہیں خوشاب کا جہاں دو بار انتخاب جیتے ہوئے نون لیگ کے کارکن آصف باہ اب آزاد حیثیت سے میدان میں اترے ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے جلسوں میں یہ کہتے ہیں کہ یہ نشست نواز شریف کی امانت ہے اور وہ جیت کر یہ نشست ان کے حوالے کر دیں گے۔تاہم ایک بات واضح ہے کہ وہ پارٹی کے منحرف رکن کو اس حلقے سے ووٹ دینے کے اس فیصلے سے خوش نہیں۔ یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ اس حلقے میں تحریک انصاف کے بھی ایک نظریاتی کارکن اپنی

جماعت کے ٹکٹ کے فیصلے سے خفا ہو کر آزاد حیثیت سے میدان میں اترے ہیں۔مسلم لیگ نون کے مظفر گڑھ میں امیدوار کے اپنے خاندان سے ہی دیگر امیدوار بھی سامنے آ گئے ہیں، جو ن لیگ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے۔ اس حلقے سے بھی ن لیگ نے منحرف رکن کو ہی ٹکٹ دے رکھا ہے۔یہ ان ضمنی انتخابات کا وہ واحد حلقہ ہے جہاں خواتین امیدوار ہیں۔ سیدہ زہرہ بتول بخاری مظفر گڑھ کے حلقے 272 سے ن لیگ کی امیدوار ہیں۔ انھوں نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر سنہ 2018 کا ضمنی الیکشن لڑا تھا اور وہ کامیاب ہوئی تھیں۔زہرہ بتول کے مقابلے میں ان کا اپنا بیٹا ہارون بخاری اور ان کی بہو بینش بخاری آزاد امیدوار ہیں۔ملتان شہر کے حلقے 217 میں سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی خود اپنے بیٹے زین قریشی کی مہم میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ نون لیگ نے ابھی یہاں کوئی بڑا جلسہ نہیں کیا۔شاید وجہ یہی ہے کہ یہاں زین قریشی کے مقابلے میں انتخاب میں نون لیگ کی طرف سے حصہ لینے والے امیدوار سلمان نعیم نے سنہ 2018 کے انتخابات میں شاہ محمود قریشی کو صوبائی اسمبلی کی نشست سے شکست دی تھی اور پھر وہ جہانگیر ترین کی کوششوں سے تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تھے۔بھکر میں نون لیگ نے جس منحرف رکن، سعید اکبر نوانی، کو ٹکٹ دیا ہے وہ تحریک انصاف میں جانے سے پہلے ماضی میں ن لیگ سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔ سعید اکبر نوانی سنہ 1985 سے اب تک آٹھ بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔

تحریک انصاف نے ان کے مقابلے میں گذشتہ انتخابات میں نون لیگ کے امیدوار عرفان اللہ خان نیازی کو ٹکٹ دیا ہے۔جب بات ہو تو کانٹے کے مقابلے کی تو پھر ن لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان لاہور کے حلقے 167 کا رخ کرنا بھی ضروری ہے، جہاں ن لیگ کے امیدوار نذیر احمد چوہان ہیں۔ اس حلقے سے سنہ 2018 میں تحریک انصاف کے نذیر احمد چوہان نے مسلم لیگ ن کے میاں محمد سلیم کو ہرا کر کامیابی حاصل کی تھی۔صوبائی دارالحکومت لاہور کے حلقے پی پی 168 میں سنہ 2018 کے عام انتخابات میں ن لیگ کے سعد رفیق نے کامیابی سمیٹی تھی۔ بعد ازاں ان کے مستعفی ہونے پر ضمی انتخابات میں تحریک انصاف کے اسد کھوکھر جیت گئے۔ اسد کھوکھر جب تحریک انصاف کے منحرف گروپ میں شامل ہوئے تو اب ن لیگ نے انھیں ٹکٹ جاری کیا ہے۔ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف نے اپنے ایک کارکن ملک نواز اعوان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹارئرڈ ظہیر السلام، راولپنڈی کے حلقہ پی پی 7 میں تحریک انصاف کے امیدوار کرنل (ر) شبیر اعوان کی الیکشن مہم میں شامل ہیں چوتھا حلقہ پی پی 170 ہے یہاں سے مسلم لیگ ن کی جانب سے چوہدری امین گجر امیدوار ہیں۔ چوہدری امین گجر ماضی میں سابق وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی اور موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر عون چوہدری کے بھائی ہیں۔ان کے مقابلے میں تحریک انصاف نے ظہیر کھوکھر کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔راولپنڈی کے حلقے پی پی 7 میں سنہ 2018 کے عام انتخابات میں آزاد امیدوار راجہ اصغر احمد 44 ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے اور پھر انھوں نے تحریک انصاف میں شمولیت حاصل کر لی تھی۔راجہ اصغر احمد تحریک انصاف کے منحرف اراکین میں شامل ہو گئے اور اب وہ ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ تحریک انصاف نے ان کے مقابلے میں کرنل (ر) شبیر اعوان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ان کی الیکشن مہم میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹارئرڈ ظہیر السلام بھی شامل ہیں اور انھوں نے عوام سے تحریک انصاف کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔ یہ حلقہ کہوٹہ، کلرسیداں اور راولپنڈی کے مضافات پر مشتمل ہے۔

Categories
آرٹیکلز

موٹر سائیکل ہلا کر پٹرول کی مقدار کاپتہ لگانا،ناک سے سونگھ کر خربوزہ میٹھا ہونے کا پتہ لگانا اورہاتھ سے تھپکی مار کر توبوز کے لال ہونے کا اندازہ لگا لینا۔ ۔ جدید سائنس اس حوالے سے کیا کہتی ہے ؟ ایک دلچسپ تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔دوستو،عید آئی اور گزر بھی گئی۔۔ پتہ ہی نہیں چلا۔۔ ویسے ہمارا خیال ہے قیامت قریب ہی ہے کیوں کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ۔۔وقت تیزی سے گزرے گا۔۔آپ کبھی سوچئے گا

کہ ہم ٹھیک کہہ رہے ہیں یا ۔۔ایویں چول ماری ہے۔۔بات ہورہی ہے، بقرعید کی۔۔ یہ عید کھانے پینے کی عید ہوتی ہے۔۔ پورے سال گوشت سے دور رہنے والے بھی اس عید پر گوشت سے دو،دو ہاتھ کرلیتے ہیں۔۔ ایسے گھرانے جہاں پورے سال گوشت نہیں پکتا، وہاں بھی ان دنوں میں گوشت پکتا ہے۔۔ہمارے پیارے دوست فرماتے ہیں۔۔ پاکستان میں صرف سیاست دان ہیں جن کا مسئلہ روٹی نہیں ، اسے ہضم کرنا ہے۔ ہضم کرنے کے مراحل میں نیب اور عدلیہ بھی آتی ہے۔کسی خلیجی ملک کے چڑیا گھر میں ایک شیر لایا گیا تو دوسرے دن اس کے رکھوالے نے اس کو کھانے کو چنے دیے، شیر حیران تو ہوا مگر چپ چاپ کھاگیا کہ شاید رکھوالا غلطی سے گوشت کی جگہ چنے لے آیا ہے۔ اگلے دن رکھوالا پھر چنے لایا اور شیر نے چپ چاپ کھالیے مگر جب تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا تو شیر پہلے تو غرایا پھر رکھوالے سے پوچھا ،یہ بتا میں کون ہوں؟ رکھوالے نے کہا، تو شیر ہے۔ شیر نے اگلا سوال کیا، کیا تجھ کو پتہ ہے شیر کیا کھاتا ہے؟رکھوالے نے جواب دیا، شیر گوشت کھاتا ہے۔ شیر نے پوچھا تو پھر تو مجھے گوشت کی جگہ چنے کھانے کوکیوں دیتاہے؟ یہ سن کر رکھوالا مسکرایا اور کہا، بیوقوف شیرتُو یہاں بندر کے ویزے پر آیا ہے اور تیرا اقامہ بندر کاہے شیر کا نہیں، اس لیے تجھ کو کھانے کو چنے ملتے ہیں۔ پہلے اپنا اقامہ شیر کا کرائو پھر تجھ کو گوشت ملے گا، اور ہاں جب تک تیرا اقامہ بندر کا ہے کبھی غرانامت ورنہ ہنٹر پڑیں گے،

بس چپ چاپ بندر کی طرح اچھل کود کر اور چنے کھا۔اس عید پر آپ لوگوں کے گھر میں کیا بنا؟ چاولوں کی ڈشز میں۔۔یخنی پلاؤ، موتی پلاؤ، نکتی پلاؤ، نورمحلی پلاؤ، کشمش پلاؤ، نرگسی پلاؤ، لال پلاؤ، مزعفر پلاؤ، فالسائی پلاؤ، آبی پلاؤ، سنہری پلاؤ، روپہلی پلاؤ، مرغ پلاؤ، بیضہ پلاؤ، انناس پلاؤ، کوفتہ پلاؤ، بریانی پلاؤ، سالم بکرے کا پلاؤ، بونٹ پلاؤ، کھچڑی، شوالہ (گوشت میں پکی ہوئی کھچڑی) میں سے کچھ بنایا؟ اچھا سالن میں کیا بنایا؟؟قلیہ، دوپیازہ،مٹن قورمہ، مرغ قورمہ، سیخ کباب، شامی کباب، ، نکتی کباب، خطائی کباب اور حسینی کباب شامل ہوتے تھے۔ان کے ساتھ صرف روٹی یا نان ہی لیا، یا پھر روٹیوں اور نان کی کچھ نئی اقسام بھی دریافت کیں، جیسا کہ۔۔ چپاتیاں، پھلکے، پراٹھے، روغنی روٹی، خمیری روٹی، گاؤدیدہ، گاؤ زبان، کلچہ، غوصی روٹی، بادام کی روٹی، پستے کی روٹی، چاول کی روٹی، گاجر کی روٹی، مصری کی روٹی، نان، نان پنبہ، نان گلزار، نان تنکی اور شیرمال۔یہ بتائیں میٹھے میں کیا بنایا تھا عید پر؟؟۔متنجن، زردہ مزعفر، کدو کی کھیر، گاجر کی کھیر، کنگنی کی کھیر، یاقوتی، نمش، روے کا حلوہ، گاجر کا حلوہ، کدو کا حلوہ، ملائی کا حلوہ، بادام کا حلوہ، پستے کا حلوہ، رنگترے کا حلوہ۔۔عید اور مٹھائی تو لازم و ملزوم ہوتی ہیں۔۔آپ کے گھر کون کون سے مٹھائیاں آئیں یا آپ نے کون سی مٹھائیاں گفٹ کیں؟؟۔ جلیبی، امرتی، برفی، پھینی، قلاقند، موتی پاک، بالو شاہی، در بہشت، اندرسے کی گولیاں، حلوہ سوہن، حلوہ حبشی، حلوہ گوندے کا، حلوہ پیڑی کا، لڈو موتی چور کے، مونگے کے، بادام کے، پستے کے، ملاتی کے، لوزیں مونگ کی،

دودھ کی، پستے کی بادم کی، جامن کی، رنگترے کی، فالسے کی، پیٹھے کی مٹھائی اور پستہ مغزی۔منقول ہے کہ ایک صاحب اپنے گھوڑے پر کہیں مہمان گئے۔ میزبانوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ شام کا وقت ہے اور گوشت دستیاب نہیں ہو سکتا جس کے بغیر مہمان کی تواضع کی ہی نہیں جاسکتی۔ جب انہوں نے تیسری بار اس بات کو دہرایا تو مہمان نے دیکھا کہ صحن میں ان کا ایک مرغا پھر رہا تھا جسے دیکھ کر مہمان بولا۔۔اگر مجھے گوشت کھلانا ایسا ہی ضروری ہے تو میرا گھوڑا ذبح کرلیں!۔۔میزبانوں نے یہ بات سنی تو دل ہی دل میں بہت خوش ہوئے لیکن بظاہر اداس لہجے میں پوچھ بیٹھے۔۔وہ تو ٹھیک ہے، لیکن پھر تو واپس کس طرح جاؤگے؟؟۔۔مہمان نے یہ بات سنی اور مسکرا کر جواب دیا۔۔میں تمہارے مرغے پر بیٹھ کر چلا جائوں گا۔۔مرغے پر یاد آیا۔۔کچھ گھروں میں مرغی بھونتے وقت اتنی غضب کی مہک اٹھتی ہے جس سے مہمانوں اور پڑوسیوں کے ساتھ ساتھ مرغی کے منہ میں بھی پانی آجاتا ہوگا۔۔باباجی اپنے مشاہدات کی کتاب۔۔ٹُکر ٹُکر دیکھتے ہو کیا؟؟ ۔۔ میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ۔۔اگر ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد آپ کا دوست موبائل فون میں مصروف ہوجائے تو سمجھ لینا کہ کھانے کا بل آپ نے ہی ادا کرنا ہے۔۔باباجی ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ ۔۔موٹر سائیکل ہلا کر پٹرول کی مقدار کاپتہ لگانا،ناک سے سونگھ کر خربوزہ میٹھا ہونے کا پتہ لگانا اور۔۔ ہاتھ سے تھپکی مار کر توبوز کے لال ہونے کا اندازہ لگا لینا۔ ۔

جدید سائنس پاکستانیوں کی ان تینوں تھیوریز کے بارے میں مکمل خاموش ہے۔۔احسن اقبال کے چائے کے حوالے سے بیان پر جب ہم نے باباجی سے دریافت کیا کہ ۔۔چائے فائدہ دیتی ہے یا نقصان۔۔؟؟ تو باباجی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔ کوئی مفت میں پلا دے تو فائدہ اگر پلانی پڑ جائے تو شدید نقصان دہ ہے۔۔ منیجر نے ویٹر کو بلایا اور پوچھا۔’’تمہاری میز نمبر پانچ والا گاہک اٹھ کر تیزی سے باہر کیوں چلا گیا؟‘‘ ویٹر نے جواب دیا۔۔سر! اس نے کبابوں کا آرڈر دیا تھا۔۔میں نے اسے بتایا کہ قیمہ ختم ہو گیا ہے اس لئے کباب تیار نہیں ہیں۔ اگر وہ کچھ دیر انتظار کر لے تو تازہ قیمہ تیار کرا کر کباب بنواتاہوں۔ اس نے کہا کہ وہ انتظار کرے گا۔ ۔پھر میں کچن میں گیا تو وہاں آپ کا کتا دروازے کے قریب بیٹھا ہوا تھا۔ میرا پاؤں غلطی سے اس کی دم پر پڑ گیا۔ اس پر کتے نے زور سے چیخ ماری، اس کتے کی چیخ و پکار سن کر وہ گاہک تیزی سے اٹھ کر چلا گیا۔۔کہتے ہیں زمانہ قدیم میں جب اکبر بادشاہ کی حکومت تھی، اکبر نے اپنے مشیر خاص بیربل سے کہا۔۔میں تم سے تین سوال کروں گا، لیکن تینوں کا جواب ایک ہی دینا،ورنہ تمہارا سر قلم کردیاجائے گا۔۔سوال ہیں۔۔دودھ ابلتے ہوئے کیوں گرجاتا ہے؟ پانی کیوں بہہ جاتا ہے؟ ہانڈی کیوں جل جاتی ہے؟؟ بیربل نے مودب ہوکر جواب دیا۔۔ ظل الٰہی ، واٹس ایپ کی وجہ سے۔۔کہتے ہیں ،جواب سن کر اکبر نے بیربل کو سونے میں لاد دیا تھا۔۔الیکشن کا زمانہ پھر آرہا ہے۔۔ سترہ جولائی کو پنجاب میں ضمنی الیکشن ہونگے اس سے اگلے ہفتے سندھ میں بلدیاتی الیکشن ہونے والے ہیں۔۔نیویارک کے ایک ’’پب‘‘ میں بحث ہورہی تھی، موضوع الیکشن تھا، برطانوی گورا بولا، ہمارے ملک میں پوسٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی سہولت ہے۔ جرمن باشندہ کہنے لگا، ہمارے ملک میں ترقی کا یہ عالم ہے کہ انٹرنیٹ سے آن لائن ووٹ کاسٹ ہوجاتا ہے۔ امریکی نے کہا، ہم اتنی ترقی کرچکے ہیں کہ موبائل میسیج سے ہی ووٹ ڈال دیتے ہیں۔ آخر میں پاکستانی کا نمبر آیا، معصومیت سے کہنے لگا۔۔ ہم لوگ گھر پر ہی بیٹھے رہتے ہیں اور ہمارا ووٹ کوئی اور کاسٹ کرجاتا ہے۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔آپ تمام احباب کو اپنے اپنے فریج اور ڈیپ فریزرز کی ’’گود بھرائی‘‘ مبارک ہو۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Categories
آرٹیکلز

پاکستان کا وہ شہر جہاں ہرن کو قبر میں دفن کرکے دعا مانگی جاتی ہے ۔۔۔ ایسا کیوں کیا جاتا ہے ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

کراچی (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔جنگل میں سات قبریں کھودی گئیں، جس کے بعد باری باری مردہ ہرن لا کر ان میں اتارے گئے، اس کے بعد ہر قبر میں سفید کپڑا ڈالا گیا اور لوگوں نے ان پر مٹی ڈالی اور آخر میں دعا مانگی گئی۔پاکستان کے صوبہ سندھ کے

صحرائے تھر کے رنگیلو گاؤں کے قریب یہ وہی مقام تھا جہاں منگل کی شب شکاریوں نے سات ہرنوں کا شکار کیا تھا۔اس کے بعد مقامی افراد نے ان کا تعاقب کیا اور تین شکاریوں کو پکڑ لیا جبکہ ان میں سے دو فرار ہو گئے۔حنیف سومرو نامی مقامی رہائشی کے مطابق ’گذشتہ تین چار سال سے شکار کے مسلسل واقعات ہو رہے ہیں اور ظالم شکاری ہرن کا شکار کرتے ہیں۔‘مقامی لوگوں نے تین چار مرتبہ ان کا پیچھا بھی کیا مگر وہ فرار ہو جاتے ہیں۔ جنگلی حیات کے مقامی حکام کو شکایت کی تو وہ کہتے تھے کہ ہمارے پاس گاڑی اور لوگ نہیں۔ وہ ماننے کے لیے بھی تیار نہیں تھے کہ یہاں شکار ہو رہا ہے۔‘حنیف مزید بتاتے ہیں کہ ’رنگلیو گاؤں اور آس پاس کے گاؤں والوں نے فیصلہ کیا کہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہیں گے۔ جنگل میں کوئی مشکوک سرگرمی یا رات کو گاڑی کی کوئی روشنی نظر آئی تو ایک دوسرے کو فوری آگاہ کیا جائے گا۔‘پھر رواں ہفتے کچھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس کے بعد اس گاؤں کے باسی رات کے اندھیرے میں متحد ہو کر شکاریوں کی تلاش میں باہر نکل پڑے۔گاؤں لوبھار کے رہائشی سروپ سنگھ بتاتے ہیں کہ ’پیر کو رات کا کھانا کھا کر وہ سو گئے، تقریباً رات دو بجے کے قریب جنگل سے آواز سنی تو وہ اپنی گاڑی میں سوار ہو کر گاؤں رنگیلو پہنچے۔ اس دوران دوسرے گاؤں کے لوگ بھی آ گئے اور انھوں نے شکاریوں کا پیچھا کیا۔‘21 سالہ اتم سنگھ بھی گھر میں سو رہے تھے

جب ان کے کزن سروپ سنگھ نے انھیں اٹھایا اور بتایا کہ جنگل سے آواز آئی ہے، یقیناً شکاری ہوں گے اور انھیں گاڑی لے کر رنگیلو گاؤں پہنچنے کی ہدایت کی۔’ہم سڑک پر جا کر رک گئے، گاؤں والوں نے تعاقب کیا تو یہ شکاری پکی سڑک پر آ گئے جہاں وہ کھڑے تھے۔ ایک گاڑی نے بریک نہیں لگائی آگے چلی گئی، میں نے دوسری گاڑی کو سامنے سے ٹکر ماری ، اسی دوران دیگر لوگ بھی پہنچ گئے اور انھیں رسے سے باندھ دیا۔‘رنگیلو، لوبھار اور دیگر گاؤں کے لوگ حراست میں لیے گئے ان تینوں شکاریوں اور شکار کیے گئے سات ہرنوں سمیت جلوس کی صورت میں تھر کے ضلعی ہیڈ کوراٹر مٹھی پہنچے جہاں انھوں نے دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔بدھ کی صبح مٹھی کے مرکزی چوک پر ایک تعزیتی کیمپ بھی لگایا گیا، جہاں شہر کے لوگوں نے آ کر یکجہتی کا اظہار کیا اور جانوروں کے تحفظ کے لیے دعائیں بھی کی گئیں۔سماجی ورکر اکبر درس کا کہنا تھا کہ ’وہ فطرت کے خلاف اس فعل کی تعزیت وصول کر رہے ہیں، یہاں معصوم ہرنوں کو زندگی سے محروم کیا گیا ہے۔‘’جب تھر میں بارش ہوتی ہے تو یہ ہرن، مور، تیتر و دیگر چرند پرند خوش ہوتے ہیں۔ ہم کتنے بدنصیب ہیں کہ ان کو ہم دفن کر رہے ہیں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جو وائلڈ لائف کا قانون ہے اس میں ترمیم کی جائے اور ان شکاریوں پر بھاری جرمانہ عائد کرکے سخت سزا دی جائے۔’خیال رہے کہ جس جنگل میں ہرنوں کا شکار کیا گیا اس کو

تحفظ حاصل ہے۔ ادھر محکمہ جنگلی حیات کے تین ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔پاکستان کے جنگلات میں اس وقت کل 585 چنکارا ہرن موجود ہیں، اس کا انکشاف پاکستان کی وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے کرائے گئے سروے میں کیا گیا تھا۔اس سروے میں بتایا گیا تھا کہ منگلوٹ (خیبر پختونخوا)، کالاباغ، صحرائے چولستان (پنجاب) سے لے کر کھیرتھر کی پہاڑیوں (سندھ) کے علاقوں میں چنکارا ہرن دیکھے گئے ہیں۔ سروے کے مطابق سبی کے میدانی علاقوں مکران، تربت اور لسبیلہ (بلوچستان) میں بھی چنکارا ہرن پائے گئے ہیں۔ماحول کے بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے معاون محمد معظم خان کے مطابق ’چنکارا ہرن ریتیلے اور پہاڑی و میدانی علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور ان کی تعداد میں واضح کمی ہو رہی ہے۔‘سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں کثیر تعداد میں ہرن اور مور پائے جاتے ہیں۔مقامی لوگ بالخصوص ٹھاکر کمیونٹی ان کا تحفظ اپنا اخلاقی فرض سمجھتی ہے۔نوجوان اتم سنگھ کے مطابق ’والدین کی ہدایت ہے کہ ہرن کا تحفط کرو یہ ہمارے علاقے کے باسی ہیں۔‘رنگیلو میں جب ہرنوں کی تدفین ہو رہی تھی تو اس وقت بارش جاری تھی۔ بارش اس صحرا میں خوشی اور خوشحالی کی علامت سمجھی جاتی ہے لیکن ان لمحوں میں لوگ اداس اور غمزدہ تھے۔ہندو مسلم ایک دوسرے کی خوشی غمی میں تو جاتے ہیں لیکن وہ ان کے لیے آئے تھے جو دونوں کا مشترکہ ورثہ ہیں۔تھر کے مصنف اور محقیق بھارومل امرانی کے مطابق صحرائے تھر پر گذشتہ دو دہایوں سے بڑھتے ہوئے موسمی تبدیلی کے اثرات اور انسانی وجوہات کی وجہ سے یہاں کی جنگلی حیات اور ماحولیات خطرے میں ہیں۔’ایک طرف قحط کی وجہ بھوک اور پیاس ہے دوسری طرف غیر قانونی شکار کی مشق نے جنگلی جانور خاص طور پر چنکارا کی نسل خطرے میں ہے۔‘اب تھر میں کنڈی، کونبھٹ کے ساتھ پیلوں، تھوہر، باؤری، گگرال کے درخت تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان درختوں کے جنگلات چنکارا کی رہائش ہوا کرتے تھے اور ان درختوں کے نیچے گھاس چنکارا کی خوراک تھی۔صحرائی لوگوں کے پاس روایت ہے کہ صحرا میں چنکارا بارش کا پانی پیتا ہے اور جہاں قدرتی تالاب واقع ہیں وہ وہاں ضرور آتے ہیں اور شکار ہو جاتے ہیں۔

Categories
آرٹیکلز

“پردہ “: پاکستان کی موجودہ سیاست کے تناظر میں ایک 200 سال پرانی اردو کہانی

لاہور (ویب ڈیسک) ہماری سیاست اور سیاست دانوں کے اندرونی حالات کا موازنہ برصغیر کے لٹریچر کی تقریباً سو برس پرانی ایک کہانی ’’پردہ‘‘ سے کرتے ہیں۔ کہانی کے مطابق بخشو کے دادا محصول کے محکمے میں داروغہ تھے۔ آمدنی مناسب تھی۔ اُن کے دو بیٹے تھے جو ریلوے اور ڈاکخانے میں ملازم تھے۔

دونوں کی شادیاں ہوئیں، بچے ہوئے اور خاندان بڑھتا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خاندان کے افراد آبائی گھر سے نکل کر دور دراز علاقوں میں چلے گئے۔ تیسری نسل کے آتے آتے آبائی گھر بھی بک گیا اور خاندان کے آپس میں رابطے بھی ختم ہوگئے۔ ڈاکخانے والے بابو بیٹے کا ایک لڑکا بخشو تھا جس نے اپنا خاندانی رعب برقرار رکھنے کی کوشش جاری رکھی۔ وہ بہت کم اجرت پر ایک آئل فیکٹری میں منشی ملازم تھا۔ وہ کچی بستی میں کرائے کے ایک مکان میں رہتا۔ اُس کے کندھوں پر ماں، بیوی اور پانچ بچوں کا بوجھ تھا۔ اُس کی تنخواہ محض چند روپے تھی۔بخشو کے چھوٹے سے گھر کا ایک مرکزی راستہ تھا جس پر پرانی موٹی بوری کا ٹاٹ پردے کے طور پر لٹکا رہتا۔ بستی کے لوگوں نے اُس کے گھر کی خواتین کو کبھی باہر آتے جاتے نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کسی غیرفرد کو مرکزی راستے پر لٹکے ٹاٹ والے پردے کو اٹھا کر اندر جھانکنے کی جرات تھی۔ یہاں کے لوگ کئی برسوں سے اُس کے ساتھ رہنے کے باوجود اُس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے کیونکہ اُس نے یا اُس کے گھر والوں نے کسی سے ذاتی میل جول نہیں رکھا تھا۔ بخشو نے کبھی اپنے خاندانی رعب پر سمجھوتا نہیں کیا اسی لیے بستی میں اس کی شخصیت کا دبدبہ تھا۔ جب کبھی بستی میں کوئی جھگڑا ہوتا تو آخری فیصلہ بخشو کا ہوتا۔ جب کبھی دھوبی تندور والے کا ادھار واپس نہ کرتا تو بخشو دونوں کے معاملات سلجھاتا۔

جب کبھی سرکاری کارندے بستی کی معلومات لینے آتے تو بخشو ہی معلومات فراہم کرتا۔ تمام تر ظاہری رعب کے باوجود اُس کے معاشی حالات خراب سے خراب تر ہوتے جارہے تھے۔ نوبت یہاں تک آگئی کہ پورا کنبہ صرف ایک وقت باجرے کی روٹی پانی میں ڈبو کر کھاتا اور زندہ رہنے کا سبب کرتا۔ بخشو کے پاس ایک پاجامہ کرتہ تھا جسے وہ اپنا رعب بلند رکھنے کےلیے صاف ستھرا رکھتا۔ بخشو اپنی گھریلو معیشت کی پھٹیچر ریڑھی آگے بڑھانے کے لیے فیکٹری کے سیٹھ سے ایڈوانس تنخواہیں بھی لے لیتا اور رقم کی واپسی کے لیے رات کو بھی دن بناکر ڈبل شفٹیں لگاتا۔ بستی کے لوگ بخشو کے اِن حالات سے ناواقف تھے کیونکہ اُس کے گھر کے مرکزی راستے پر لٹکا پرانی بوری کا ٹاٹ نما پردہ اُس کے اندرونی حالات پر پردہ ڈالے ہوئے تھا۔ ایک مرتبہ اُس پر زیادہ برا وقت آگیا۔ بوڑھی ماں اپاہج اور بیوی شدید بیمار ہوگئی۔ صحت کی کمزوری کے باعث وہ خود بھی فیکٹری میں ڈبل شفٹ لگانے کے قابل نہ رہا۔ اُس نے فیکٹری کے سیٹھ سے ماں، بیوی اور اپنے علاج کے لیے ایڈوانس تنخواہ مانگی تو سیٹھ نے سیٹھی انکار کردیا اور پہلے لی گئی ایڈوانس تنخواہ واپس جمع کروانے کا سخت حکم دیا۔ اُس بستی کے باہر ایک ساہوکار رہتا تھا جو سود پر ادھار دیتا۔ بخشو اپنی نوکری بچانے اور اپنی اور اپنے گھر والوں کی زندگیوں کی سانسیں چلائے رکھنے کے لیے ساہوکار سے تین ماہ کے وعدے پر سود پر ادھار لے آیا جس میں

سے اس نے لی گئی ادھار ایڈوانس تنخواہ فیکٹری سیٹھ کو جمع کروا دی۔ باقی بچ رہنے والی رقم اُس کی اور اُس کے گھر والوں کی بیماریوں اور باجرے کی سوکھی روٹی کے چند نوالوں کے لیے بھی ناکافی تھی۔ لاعلمی کے باعث اب بھی وہاں کے لوگ بخشو کو مضبوط خاندانی پس منظر کا فرد سمجھتے اور اسے ہی اپنا لیڈر تصور کرتے۔ تین ماہ گزرنے کے بعد جب ساہوکار کو رقم لوٹانے کا وقت آیا تو بخشو پہلے سے بھی زیادہ کنگال تھا۔ وہ ساہوکار کے پاس گیا اور دو ماہ کی مزید مہلت مانگی۔ ساہوکار نے آج تک کسی کو ادھار کی واپسی میں ایک دن کی رعایت بھی نہ دی تھی۔ اگر کوئی اس کا ادھار واپس کرنے نہ آتا تو ساہوکار ایک موٹا ڈنڈہ اٹھاکر اگلے روز اس کے گھر پہنچ جاتا اور ڈنڈہ دروازے پر مارمارکر اتنی اونچی اونچی گالیاں دیتا کہ اس کی آواز بستی کی حدود پار کرکے دوسری بستیوں تک جاپہنچتی۔ یہاں تک کہ ادھار لینے والا اپنی ہر شے ساہوکار کے قدموں میں گروی رکھ کر پیسے چکاتا۔ تاہم بخشو کے خاندانی رعب اور بستی کا لیڈر ہونے کے باعث اُسے ادھار کی واپسی کی حد میں دو ماہ کی سہولت مل گئی۔ دو ماہ بعد بخشو ادھار کہاں سے اور کیسے واپس کرتا۔ وہ پھر ساہوکار کے پاس گیا۔ رفتہ رفتہ ادھار کی واپسی میں سات ماہ کی تاخیر ہوگئی۔ اب ساہوکار کے صبر کا پیمانہ کنٹرول سے باہر ہوچکا تھا۔ اس نے بخشو کے خاندانی رعب کو ایک طرف رکھا اور موٹا ڈنڈہ اٹھاکر اس کے گھر پہنچ گیا۔

بخشو نے ساہوکار کی اونچی اونچی مغلطات سنیں جو موٹے ٹاٹ کے پردے پر ڈنڈے بھی برسا رہا تھا۔ پوری بستی کے لوگ گھر کے باہر جمع تھے۔ بخشو کے خاندانی رعب پر ساہوکار کے یہ ڈنڈے بستی والوں کے لیے حیران کن تھے۔ آخرکار غصے سے آگ بگولا ہوکر ساہوکار نے بوری کے موٹے ٹاٹ والا پردہ نوچ کر پھینک دیا۔ لوگوں کے خیال میں ٹاٹ والے پردے کے پیچھے گھر کا مضبوط مرکزی دروازہ ہونا چاہئے تھا لیکن جب پردہ زمین پر گرا تو لوگوں کی چیخیں نکل گئیں کیونکہ پردے کے اُس پار چھوٹا سا صحن تھا جس میں دیواروں کے بغیر صرف ایک چھپر بنا ہوا تھا جو اس پورے گھر کا واحد کمرہ تھا۔ گھر کا ہرفرد صاف نظر آرہا تھا لیکن لوگ شرم کے باعث دیکھنے کی تاب نہ رکھتے تھے کیونکہ خواتین سمیت گھر کے سب چھوٹے بڑے افراد کے تن پر معمولی کپڑے بھی نہ تھے۔ خواتین اپنے ہاتھوں سے اپنے جسموں کو چھپا کر ایک دوسرے میں چھپ رہی تھیں۔ لوگوں کو تب پتا چلا کہ بخشو اور ان کے درمیان ٹاٹ کا یہی پردہ تھا جس نے اس کا رعب رکھا ہوا تھا۔ جب ساہوکار نے بخشو کی بدحالی کا یہ منظر دیکھا تو وہ بھی ادھار لیے بغیر واپس چلا گیا۔ اب اس گھر کے مرکزی راستے کی زمین پر بخشو بیہوش پڑا تھا جس کے ساتھ پرانی بوری کے ٹاٹ کا وہی پردہ گرا ہوا تھا جو اس کے خاندانی رعب کا پردہ تھا۔ کہانی یہاں ختم ہوتی ہے لیکن اپنے ہاں کے اکثر سیاست دانوں کی سیاسی کہانیوں پر پڑا موٹے ٹاٹ کا پرانا پردہ گرائیں تو پتا چلتا ہے کہ ان کے ہاں بھی سیاسی کمٹمنٹ کا دیوالیہ پن ہے۔ ان کے ہاں بھی مفاد پرستی نے ان کے تن پر اصول پسندی کے معمولی کپڑے بھی نہیں رہنے دیئے۔ اگر بستی والوں اور اکثر سیاست دانوں کے گھروں کے درمیان پرانی بوری کے ٹاٹ والے موٹے پردے کو گرا دیا جائے تو ان سیاست دانوں کی سیاسی بدحالی کو دیکھ کر بستی والے چیخیں مارتے بھاگ جائیں گے۔ اِن بے بس سیاست دانوں کے مجبور رعب کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ پردے میں رہنے دو، پردہ نہ اٹھائو، پردہ جو اُٹھ گیا تو بھید کھل جائے گا

Categories
آرٹیکلز

اگر امید سے زیادہ خوبصورت بیوی مل جائے تو مرد کے اندر کونسی خوبیاں خود بخود پیدا ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔۔ ایک دلچسپ اور شرارتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔دوستو،باباجی فرماتے ہیں کہ اگر امید سے زیادہ خوبصورت بیوی مل جائے تو مرد کے اندر برتن دھونے کی خواہش خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔۔یہ تو ہم نے ماحول بنانے کے لئے آپ کو ایسی بات سنائی ہے

کہ آپ کا دل ہماری تحریر سے لگا رہے، درمیان میں چھوڑ کر واش روم نہ چلے جائیں۔۔ اکثر گھروں میں آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا(ہم تو چشم دید گواہ ہیں) کہ ان کے گھر بیٹا پیدا ہوتو بہت خوشیاں مناتے ہیں اور بیٹی کے جنم لینے پر ان کے منہ ایسے بن جاتے ہیں جیسے پٹواریوں کے منہ ٹی وی اسکرین پر عمران خان کو دیکھ کر یا جیسے ۔۔یوتھیوں کے منہ ٹی وی پر شہبازشریف کو دیکھ کر بن جاتے ہیں۔۔ باباجی کہتے ہیں کہ بیٹا نعمت ہے تو بیٹی اللہ کی رحمت ہے۔۔ جو بھی پیدا ہوئے، اس کی اچھی تعلیم و تربیت اور اس کی اچھے سے پرورش والدین کا فریضہ ہے۔۔شادی کی پہلی رات میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ جب وہ کمرے میں پہنچ جائیں گے تو پھر دروازہ نہیں کھولیں گے چاہے کوئی بھی آ جائے۔۔ابھی دروازہ بند ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دلہے کے والدین کمرے کے باہر پہنچے تاکہ اپنے بیٹے اور بہو کو نیک تمناؤں اور راحت بھری زندگی کی دعا دے سکیں، دستک ہوئی بتایا گیا کہ دلہے کے والدین باہر موجود ہیں۔۔دلہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ،باوجود اس کے کہ دلہا دروازہ کھولنا چاہتا تھا اس نے اپنے فیصلے کو مدنظر رکھا اور دروازہ نہیں کھولا۔۔والدین ناکام واپس لوٹ گئے۔۔ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ دلہن کے والدین بھی دلہے کے گھر جا پہنچے تاکہ اپنی بیٹی اور داماد کو اپنی نیک خواہشات پہنچا سکیں اور انہیں سکھی زندگی کی دعا دے سکیں۔۔ایک بار پھر کمرے کے دروازے پر دستک دی گئی

اور بتایا گیا کہ دلہن کے والدین کمرے کے باہر موجود ہیں،دلہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اپنا فیصلہ ذہن میں تازہ کیا۔۔باوجود اس کے کہ فیصلہ ہو چکا تھا دلہن کی آنسوؤں بھری سرگوشی سنائی دی۔۔ نہیں میں اپنے والدین کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی۔۔ اور فورا دروازہ کھول دیا۔۔شوہر نے یہ سب دیکھا مگر دلہن کو کچھ نا کہا خاموش رہا۔۔اس بات کو برسوں بیت گئے ان کے ہاں چار بیٹے پیدا ہوئے اور پانچویں بار ایک بیٹی پیدا ہوئی۔۔شوہر نے ننھی گڑیا کے اس دنیا میں آنے کی خوشی میں ایک بہت بڑی پارٹی کا انتظام کیا اور اس پارٹی میں ہر اس شخص کو بلایا جسے وہ جانتا تھا اور خوب خوشیاں منائی گئیں۔۔اس رات بیوی نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ ۔۔آخر کیا وجہ ہے کہ آپ نے اتنی بڑی پارٹی کا اہتمام کیا جبکہ اس سے پہلے چاروں بچوں کی پیدائش پر ہم نے یہ سب کچھ نہیں کیا۔۔شوہر مسکرایا اور بولا۔۔یہ وہ ہے جو میرے لئے دروازہ کھولے گی۔۔ایک ساس ڈاکٹر کے پاس گئی۔ اس نے ڈاکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ۔۔ ڈاکٹر صاحب کوئی ایسی دوا دیںکہ اس مرتبہ،میری بہو کا بیٹا ہی ہو،دو بیٹیاں پہلے ہیں، اب تو بیٹا ہی ہونا چاہیے۔ڈاکٹر نے جواب دیا۔۔میڈیکل سائنس میں ایسی کوئی دوائی نہیں ہے۔۔ساس نے کہا۔۔ پھر کسی اور ڈاکٹر کا بتا دیں؟ ۔۔ڈاکٹر نے کہا کہ۔۔ آپ نے شاید بات غور سے نہیں سنی، میں نے یہ نہیں کہا کہ مجھے دوائی کا نام نہیں آتا۔ میں نے یہ کہا

کہ میڈیکل سائنس میں ایسی کوئی دوائی نہیں ہے۔ اس موقع پر لڑکی کا سسر بولا کہ۔۔ وہ فلاں لیڈی ڈاکٹر تو۔۔ڈاکٹر نے بات کاٹتے ہوئے کہا کہ وہ جعلی ڈاکٹر ہوگا، اس طرح کے دعوے جعلی پیر، فقیر، حکیم وغیرہ کرتے ہیں، سب فراڈ ہے یہ۔۔اب لڑکی کے شوہر نے کہا کہ اس کا مطلب ہماری نسل پھر نہیں چلے گی؟ ڈاکٹر نے شوہر کو گھورا اور پوچھ بیٹھا۔۔ یہ نسل چلنا کیا ہوتا ہے؟لڑکی کے شوہر نے گڑبڑا کر جواب دیا۔۔آپ کے جینز کا اگلی نسل میں ٹرانسفر ہونا ہی نسل چلنا ہے نا؟ ڈاکٹر یہ جواب سن کر مسکرایا اور بولا۔۔تو یہ کام تو آپ کی بیٹیاں بھی کر دیں گی، بیٹا کیوں ضروری ہے؟ ویسے آپ بھی عام انسان ہیں۔ آپ کی نسل میں ایسی کیا بات ہے جو بیٹے کے ذریعے ہی لازمی چلنی چاہیے؟ ۔۔سسر نے کہا کہ میں سمجھا نہیں؟۔۔ڈاکٹر نے کہا کہ۔۔ ساہیوال کی گائیوں کی ایک مخصوص نسل ہے جو دودھ زیادہ دیتی ہے۔ بالفرض اس نسل کی ایک گائے بچ جاتی ہے تو پریشان ہونا چاہیے کہ اس سے آگے نسل نہ چلی تو زیادہ دودھ دینے والی گائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ طوطوں کی ایک مخصوص قسم باتیں کرتی ہے،بالفرض اس نسل کی ایک طوطی بچ جاتی ہے تو فکر ہونی چاہیے کہ اگر یہ بھی مر گئی تو اس نسل کا خاتمہ ہو جائے گا۔آپ لوگ عام انسان ہیں باقی چھ سات ارب کی طرح آخر آپ لوگوں میں ایسی کون سی خاص بات ہے؟یہ بات سن کر سسر نے

کہا کہ ڈاکٹرصاحب کوئی نام لینے والا بھی تو ہونا چاہیے۔۔ڈاکٹر نے ان سے سوال کیا کہ آپ کے پَردادے کا کیا نام ہے؟ اس موقع پر سسر بس اتناکہہ سکا کہ وہ، میں، ہم، ہوں وہ۔۔ڈاکٹر نے کہا کہ مجھے پتہ ہے آپ کو نام نہیں آتا، آپ کے پردادا کو بھی یہ ٹینشن ہو گی کہ میرا نام کون لے گا اور آج اُس کی اولاد کو اُس کا نام بھی پتہ نہیں۔۔ویسے آپ کے مرنے کے بعد آپ کا نام کوئی لے یا نہ لے آپ کو کیا فرق پڑے گا؟ آپ کا نام لینے سے قبر میں پڑی آپ کی ہڈیوں کو کون سا سرور آئے گا۔۔علامہ اقبال کو گزرے کافی عرصہ ہوگیا، آج بھی نصاب میں ان کا ذکر پڑھایا جاتا ہے۔گنگا رام کو مرے ہوئے کافی سال ہو گئے لیکن لوگ آج بھی گنگا رام ہسپتال کی وجہ سے گنگا رام کو نہیں بھولے۔ ایدھی صاحب مر گئے لیکن نام ابھی بھی زندہ ہے اور رہے گا۔غوروفکر کیجئے کائنات کی سب سے محبوب ترین ہستی رسول اللہؐ کی حیاتِ طیبہ پر اور اُن کی آلِ مبارک پر جن کو اللہ تبارک و تعالی نے بیٹے عطا فرماکر واپس لے لیے اور ایک بیٹی سے رہتی دنیا تک رسول اللہؐ کی نسل کو پوری دنیا میں پھیلا دیا۔لہذا بیٹی اور بیٹوں میں ہرگز فرق نہ کریں، بیٹا اگر نعمت ہے تو بیٹی رحمت ہے۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔عید سے پہلے روٹھے ہوئے احباب کو منالیں، ثواب بھی ملے گا گوشت بھی۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Categories
آرٹیکلز

عمران حکومت کی تبدیلی کا مشن اسلام آباد کے نواح میں کس جنگل میں فائنل ہوا ؟ مظہر برلاس کی بہت کچھ کہہ دینے والی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یہ ساجد تارڑ کے بیٹے فاتح تارڑ کے ولیمے کا قصہ ہے ۔ استقبالیے پر ساجد تارڑ کے ساتھ سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون اور مسعود وڑائچ کھڑے تھے، احسن بھون کے ساتھ ہی اعظم نذیر تارڑ بھی کھڑے تھے ،

اس تقریب میں فواد چوہدری، حنیف عباسی، طارق تارڑ اور خضر الیاس ورک سے ملاقات ہوئی۔ استقبالیے ہی پر میں نے اپنے ایک دوست سے پوچھا کہ سردار جسدیپ سنگھ المعروف جسی کدھر ہے؟ وہ مجھے جسی سے ملوانے فنکشن کے اندر لے گیا مگر جسی پتہ نہیں کہاں تھا جسی تو نہ ملا مگر وہاں موجود ایک پاکستانی دوست مجھے ایک کونے میں لے گیا، کونے میں جاکر اس نے مجھ سے مختلف سوال کرنے شروع کر دیے، میں نے اس سے کہا کہ مجھے کیا پتہ کہ کس نے سوئمنگ پول کے لئے آٹھ کروڑ روپےخرچ کر دیے ہیں، مجھے کیا پتہ کہ کون کس شہر میں گالف کلب میں20/25کروڑ میں گھاس تبدیل کروانا چاہتا ہے؟مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں کہ کون سے وزیر نے چھ کروڑ کی گاڑی منگوائی ہے؟ مجھے اس بات کا بھی علم نہیں کہ وہ کون سا وزیر ہے جو طے کئے بغیر پروجیکٹ منظور ہی نہیں کرتا۔ ان جوابوں کے بعد اس نے کچھ اور سوال داغے تو میں نے عرض کیا کہ حضور ! مجھے کیا پتہ کہ موجودہ حکومت کیوں پٹرول مہنگا کرتی جا رہی ہے حالانکہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہو گیا ہے ۔ عجیب اتفاق ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا تھا تو پاکستان میں پچھلی یعنی عمران حکومت لوگوں کو ڈیڑھ سو روپے فی لیٹر پٹرول دے رہی تھی اب جب عالمی منڈی میں تیل سستا ہو چکا ہے تو پتہ نہیں موجودہ حکومت کیوں 234روپے فی لیٹر پٹرول فراہم کر رہی ہے، پتہ نہیں کیوں یکم جولائی سے یہ قیمت اور بڑھ جائے گی،

تین سو یا پونے تین سو میں ایک لیٹر پٹرول ملا کرے گا۔ مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ پچھلے ساڑھے تین سال لوڈشیڈنگ کیوں نہیں ہوئی، اس دوران حکومت بجلی سستی بھی دے رہی تھی اب پتہ نہیں بجلی پیدا نہیں ہو رہی یا کیا ہو گیا ہے چونکہ پاکستانیوں کو پچھلے ساڑھے تین سال لوڈشیڈنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ہو سکتا ہے بجلی کو نظرلگ گئی ہو، یا بجلی جن بھوت پیدا نہ ہونے دے رہے ہوں۔ مجھے تو یہ بھی علم نہیں کہ بجلی اتنی مہنگی کیوں کر دی گئی ہے۔ مجھے تو یہ بھی علم نہیں کہ گیس اس موسم میں کیوں مہنگی کر دی گئی ہے؟ میں سادہ بندہ ہوں مجھے کیا پتہ کہ پٹرول، بجلی اور گیس مہنگی ہونے کے بعد دوسری چیزوں کی قیمتیں کیوں بڑھ جاتی ہیں ؟میرے یہ جواب سن کر اس نے رجیم چینج سے متعلق سوال شروع کر دیے تو میں نے عرض کیا کہ جناب مجھے کیا پتہ کہ حکومت تبدیل کیوں ہوئی، مجھے تو نہیں پتہ کہ کون کتنے میں بکا، یہ بھی پتہ نہیں کہ کس نے پیسے بانٹے اور اس بات کا بھی مجھے علم نہیں کہ پیسوں کے ساتھ ٹکٹ کا وعدہ بھی کیا گیا تھا، مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ کہ بکنے والی ایک خاتون کے دادا نے مبینہ طور پرپاکستان سے غداری کی تھی، اسی کی وجہ سے گورداس پور ہمارا حصہ نہ بن سکا اور اسی غداری کے باعث بھارت کو کشمیر جانے کےلئے زمینی راستہ مل گیا۔ مجھے ان باتوں کا بھی علم نہیں کہ نیب سے کس کس کے مقدمے ختم ہوئے،

یہ بھی معلوم نہیں کہ کس کس سزا یافتہ کو سرکاری حفاظتی دستے فراہم کئے گئے ہیں، مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں کہ حکومت کی تبدیلی کا مشن اسلام آباد کے آس پاس کس جنگل میں فائنل ہوا تھا، مجھے اس بات کا بھی علم نہیں کہ کون سے بڑے شہر میں کون لیٹ کر ایک بڑی سفید گاڑی میں کس کو چھ گھنٹے کیلئے ملنے گیا تھا مجھے معلوم نہیں کہ اس سفید گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھنے والا ایم پی اے کون سے سرحدی علاقے کا رہنے والا ہے ، مجھے کیا پتہ کہ عدالتیں کب کھلتی ہیں اور کب بند ہوتی ہیں مجھے یہ بھی کہاں پتہ ہے کہ اسلام آباد کے کس ہوٹل کے کس فلور پر منحرفین کو رکھا گیا، وہاں کیا سرگرمیاں جاری تھیں، پھر یہ بھی علم نہیں کہ20 بندے کس ہائوس میں رکھے گئے، مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ ان بندوں کی گنتی اس طرح کون کرتا تھا جیسے ڈربوں سے چوزے برآمد ہونے پر کی جاتی ہے، میں نے اس سے کہا کہ مجھے علم نہیں کہ پنجاب اسمبلی میں پولیس کیوں داخل ہوئی، مجھے یہ بھی علم نہیں کہ ہوٹلوں اور گیلریوں میں وزیر اعلیٰ کس طرح بنا جاتا ہے ’’وہ کون تھا‘‘ کاشور سنتے ہیں مگر مجھے اس کا علم نہیں ۔آخر میں مجھ سے کہنے لگا کہ عمران خان کی مقبولیت میں بہت اضافہ ہو گیا ہے وہ مقبول ترین لیڈر ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ ایک تو ساجد تارڑ کا یہ کہنا ہے کہ

’’خان صاحب کے دل میں جو آتا ہے وہ کہتے ہیں اور لوگ شوق سے سنتے ہیں ‘‘ دوسری بات جس پر مجھے حیرت ہے کہ عرب نوجوان سوشل میڈیا پر عمران خان کے دیوانے بنے ہوئے ہیں ، پورا عرب میڈیا خان صاحب کو مسلمان ہیرو کے طور پر پیش کر رہا ہے مگر مجھے نہیں پتہ کہ ایسا کیوں ہے ، میں سادہ سابندہ ہوں مجھے کیا پتہ کہ خفیہ سروے میں پنجاب کے ضمنی الیکشنوں میں پی ٹی آئی پہلے، تحریک لبیک دوسرے اور مسلم لیگ ن تیسرے نمبر پر کیوں ہے ؟ چلیے میں ایک سینئر اور تجربہ کار سیاست دان کی بات سناتا ہوں، کئی زمانے دیکھنے والے راجہ منور احمد کہتے ہیں ’’عمران خان مقبولیت میں بھٹو سے بھی آگے نکل گیا ہے، بھٹو کو مشرقی پاکستان میں کوئی سیٹ نہیں ملی تھی خیبر پختونخوا (سرحد) سے صرف عبدالخالق خان کی صورت میں ایک سیٹ ملی تھی، بلوچستان سے کوئی سیٹ نہیں ملی تھی بھٹو تو پنجاب اور سندھ سے سیٹیں لے پایا تھا مگر عمران خان ہر صوبے سے سیٹیں لے سکتا ہے ، اس نے لی بھی ہیں اور اب وہ مقبول ترین لیڈر ہے یہ سب جماعتیں مل کر بھی اسے مات نہیں دے سکتیں، وہ اکیلا ان سب سے زیادہ مقبول ہے اور ان سے کہیں آگے ہے۔ ‘‘حمزہ شہباز کا انتخاب کالعدم قرار دینے کے بعد آج سے شروع ہونے والے نئے کھیل میں کیا ہوگا اس کا تو مجھے پتہ نہیں مگرحضرت علیؓ کا فرمان ہے ’’جو ظلم کے ذریعے عزت چاہتا ہے، اللہ اسے انصاف کے ذریعے ذلیل کرتا ہے ‘‘مظفر وارثی یاد آ گئے کہ ؎ہاتھ انصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹوں۔۔جرم قانون کرے اور سزا میں کاٹوں

Categories
آرٹیکلز

پیسے کیسے خرچ کیے جائیں ؟ سیٹھ عابد مرحوم نے ایک نامور کالم نگار کو پیسہ خرچ کرنے کا کیا بہترین فارمولا بتایا تھا ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار افتخار حسین شاہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔چند دن پہلے اخبارات میں چھپنے والی اس پریشان کُن خبرنے کہ سیٹھ عابد مرحوم کی بیٹی کو کسی نے اُن کے گھر واقع مسلم ٹاون لاہور میں زندگی سے محروم کر دیا ہے، مجھے افسردہ کر دیا

اور مجھے سیٹھ عابد کے ساتھ ہوئی چند ملاقاتیں یاد آ گئیں۔جنرل ضیاالحق کے دور میں سالانہ ہارس اینڈ کیٹل شو باقاعدگی سے ہوا کرتا تھا۔ اگر چہ اس شو کو منعقد کرانے کی ذمہ داری فوجی افسرا ن کی ہوتی تھی لیکن پھر بھی سول انتظامیہ ان کے شانہ بشانہ کام کرتی تھی۔ میرا نام بھی ان افسران کی لسٹ میں آگیا جنھوں نے ہارس اینڈ کیٹل شو کے دوران فورٹریس سٹیڈیم میں ڈیوٹی دینی تھی۔ میٹنگز میں پتہ چلا کہ اس شو کا سب سے اہم آخری دن ہو گا۔ اس دن کی تقریبات کی صدارت صدر پاکستان جنرل ضیاالحق نے کرنی تھی۔ دوران بریفنگ معلوم پڑا کہ میری ڈیوٹی بطور کنڈکٹنگ ا ٓفیسر سٹیڈیم کے اُس انکلو ژر ( Enclosure ) میں ہو گی جس میں صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق اور اُن کی فیملی تشریف فرماہونگے۔ آخری دن سے ایک دن پہلے معلوم ہوا کہ ہماری انتظامیہ سے تو ایک بہت بڑی کوتاہی ہو گئی ہے اور وہ یہ کہ ہم نے صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کے ایک اہم مہمان، جس نے صدرپاکستان کی فیملی کے ساتھ مخصوص انکلوژر میں تشریف فرما ہونا ہے ،کو تو اس تقریب میں شامل ہونے کی ابھی تک دعوت ہی نہیں دی۔ اس کوتاہی کی اطلاع صدر پاکستان کے آفس سے دی گئی جس پر سب کی دوڑیں لگ گئیں۔ میں چونکہ اس انکلوژر کا کنڈکٹنگ آفیسر تھا اس لیے میری ڈیوٹی یہ لگی کہ یہ دعوت نامہ میں خود ان تک پہنچاو ں ۔پتہ چلا کہ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق

کے وہ اہم مہمان سیٹھ عابد ہیں اور ان کادفتر لاہور کے مشہور میکلوڈ روڈپر واقع بلورپیلس میں ہے۔ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلا کہ وہ ایشیا کے سونے کے بہت بڑے غیر قانونی تاجر ہیں اور ان کے دفاتر کراچی کے علاوہ دنیا کے اور ممالک میں بھی واقع ہیں۔میں بھاگم بھاگ ان کے آفس واقع بلور پیلس میکلوڈ روڈ پہنچا ۔وہ خود تو وہاں موجود نہ تھے لیکن اُن کا عملہ موجود تھا ۔ میں نے اُنہیں اپنے آنے کی وجہ بتائی اور دعوت نامہ پکڑایا۔ اُن کا سٹاف کہنے لگا آپ پریشان نہ ہوں ، آپ کا کارڈ اُن تک پہنچ جائیگا اور اُنہیں ویسے بھی اس تقریب کا پتہ ہے۔ دوسرے دن میں جب اپنی ڈیوٹی کے لیے صدر پاکستان کی فیملی کے لیے مخصوص انکلوژر میں پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں ملیشیا رنگ کے شلوار قمیض اور گیروے رنگ کی واسکٹ پہنے ایک شخص بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا ۔ میں کچھ پریشان سا ہوا کہ یہ شخص یہاں کیسے بیٹھ گیا اور اسے یہاں بیٹھنے کی اجازت کس نے دی ہے ۔ میں جب اُس کے پاس پہنچا اور تعارف پوچھا تو اُنھوں نے مسکرا کر کہا کہ میں سیٹھ عابد ہوں ۔ اُنھوں نے کہا کہ آئیں میرے پاس بیٹھیں ۔خیر میں بیٹھ گیا اور بات چیت شروع ہو گئی۔میں نے چونکہ اُن کی دولت کے قصے دو دن پہلے ہی سنے تھے اس لیے مجھے ان کی شخصیت سے وہ قصے میل کھاتے نظر نہیں آ رہے تھے ۔ مثلاً اُن کے ہاتھ میں سگریٹ جلانے

والا لائیٹر تو بالکل عام سا تھا ۔ جب بات چل نکلی تو میں نے تھوڑی بے تکلفی اختیار کرتے ہوئے اُن سے پوچھا کہ آپ اتنے بڑے سیٹھ ہیں اور یہ لائیٹر! میں نے کہا کہ ایسے لائیٹر تو گھڑی ساز استعمال کرتے ہیں جنہوں نے اپنا چھوٹا سا سٹینڈ والا ڈبہ کسی بڑی دکان کے باہر سجا رکھا ہوتا ہے۔ ہنس کر کہنے لگے لائیٹر کاکام تو سگریٹ جلانا ہوتا ہے اور وہ یہ جلا دیتا ہے ۔ جو کام سستے میں ہو جائے اُس پر زیادہ پیسے لگانے کا کیا فائدہ۔ دوران گفتگو انھوں نے پوچھا کہ میں رہتا کہاں ہوں ،میں نے بتایا کہ گورنمنٹ کی کالونی شادمان میں رہتا ہوں۔ سیٹھ صاحب سے تھوڑی دیر گفتگو ہوئی ۔ کہنے لگے آپ سے گفتگو مجھے اچھی لگی ہے یہ میرا ذاتی فون نمبر ہے۔ مجھ سے رابطہ ضرور کرنا اورپھر ملاقات ہوگی۔ تھوڑی دیر بعد صدر پاکستان آگئے۔ وہ سیٹھ صاحب سے بڑے تپاک سے ملے اور اُنہیں اپنے ساتھ بٹھا لیا ۔دو تین دن کے بعد میں نے سیٹھ صاحب کو فون کیا ، اُنھوں نے خود اُٹھایا اور کہنے لگے کہ اُنھوں نے ٹھوکر نیاز بیگ سے تھوڑی دور نہر کے کنارے ایک ہاوسنگ سوسائٹی گرین فورٹس کے نام سے بنائی ہے۔ اتوار والے دن آپ ساڑھے دس بجے وہاں آ جائیں، آپ کا انتظار کروں گا۔میں وہاں پہنچا تو وہ منتظر تھے ۔ کہنے لگے آپ سرکاری گھر میں رہتے ہیں ، اپنا گھر بنائیں ۔ میں آپ کو یہاں پلاٹ الاٹ کر دیتا ہوں،

جتنے پیسے ہوں مجھے دے دینا ۔ چاہے قسطوں میں ہی ۔تفصیلات معلوم کیں تو پتہ چلا کہ اس کالونی میں سب سے چھوٹا پلاٹ بھی چار کنال کا ہے ۔ اپنے حالات دیکھ کرچُپ ہی سادھ لی اور کبھی ذکر نہ چھیڑا۔ چائے کے دوران اپنی ذاتی باتیں سنانے لگے ۔ کہنے لگے مجھے مسجدیں بنانے کا بہت شوق ہے ۔ میں نے کئی مسجدیں لاہور اور کراچی میں بنوائی ہیں۔ میں نے ایک مسجد یہاں لاہور میں پکی ٹھٹی سمن آباد کے علاقے میں بھی بنوا ئی ہے ۔ آج میں وہاں نماز پڑھنے جاوں گا۔علاقے کے غریب اور مستحق لوگ وہاں آ جاتے ہیں جن کی میں مالی امداد کرتا رہتا ہوں ۔ مستحق خاندانوں کی لڑکیوں کے جہیز کے انتظام بھی کر دیتے ہیں۔نہایت دکھ بھرے لہجے میں کہنے لگے کہ میر ی اولاد گونگی بہری ہے۔ ایک لڑکا اللہ نے دیا ہے جوبول سکتا ہے، اُسے میں حافظ قرآن بنا رہا ہوں۔وہ ہی مسجد میں اذان دیتا ہے۔ سیٹھ صاحب نے جوہر ٹاون لاہور میں گونگے بہرے بچوں کے لیے ایک شاندار سکول تیار کرایا تھا جو حمزہ فاونڈیشن ٹرسٹ کے زیر انتظام چل رہا ہے۔جی ایم سکندر صاحب، جو اس ٹرسٹ کے بورڈ آف گورنرز کے ممبر ہیں، بتا رہے تھے کہ اپنے اکلوتے بیٹے جو حافظ قرآن تھے کو زندگی سے محروم کردیے جانے کے بعد سیٹھ صاحب بالکل نڈھال ہو گئے تھے اور پھر وہ اسی دکھ میں اللہ کی بارگاہ میں پیش ہو گئے ۔ اللہ غریق رحمت کرے ، فلاحی کاموں میں خوشی اور تسکین محسوس کرتے تھے۔ ٭٭٭٭٭

Categories
آرٹیکلز

ملتان میں پیدا ہونے والا ہندوستان کا بادشاہ بہلول لودھی جس رات پیدا ہوا اسی رات اس گھر پر کیا قیامت گزری ؟ پرانا تاریخی واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) یہ تاریخی حوالہ ہے کہ ہندوستان کے تین بادشاہ ملتان میں پیدا ہوئے، ایک بہلول لودھی دوسرے محمد شاہ تغلق اور تیسرے احمد شاہ ابدالی۔ بہلول لودھی کے بارے میں تاریخی کتابوں میں یہ بات درج ہے کہ ان کی پیدائش یکم جون 1401ء کو ملتان میں ہوئی،پیدائش کے وقت اچانک مکان کی چھت گر گئی

اور بہلول لودھی کی والدہ فوت ہو گئی ،مرحومہ کو ملبے سے نکالا گیا اور اس امید پر پیٹ چاک کیا گیا کہ شاید بچہ زندہ ہو تو اللہ نے کرم کیا بچہ زندہ تھا، بہلول لودھی کا والد لڑائی میں گزر گیا تو بچے کو ان کے چچا سلطان خان جو سرہند کو صوبیدار تھا ،کے پاس بھیج دیا، سلطان خان نے تربیت کی ، جوان ہونے پر بیٹی کا رشتہ دیا اور ایک دن وہ دہلی کا بادشاہ بنا۔ سلطان بہلول لودھی کے 1451ء میں دہلی کا اقتدار سنبھالنے کے چار سال بعد اسلام خان نے سیت پور میں جاگیر کی منظوری حاصل کی۔ 1455ء میں سیت پور میں ریاست کا قیام عمل میں آیا، اگر چہ اسلام خان اور اس کا خاندان لودھی النسل تھا۔ جلیل پور کے آثار 1963ء میں دریافت کئے گئے، یہ آثار ہڑپہ سے 46میل جنوب مغرب میں ملتان سے 46میل شمال مشرق اور عبدالحکیم کے قصبہ سے صرف ڈیڑھ میل کے فاصلے پر جلیل پوری نامی گائوں کے قریب ہیں ، ان کا رقبہ 1400×1200فٹ ہے، ان کی کھدائی کے دوران قبل از ہڑپائی دور اور ابتدائی ہڑپائی دور کے آثار برآمد ہوئے ، یہاں قبل از ہڑپائی دور کی ظروف سازی اپنی ابتدائی حالت میں ملتی ہے۔ اس کے علاوہ دھنی وال میں ہزاروں برس پرانے آثار دریائے بیاس کے بائیں کنارے پر مغل والا کے صرف دو میل کے فاصلے پر واقع ہیں ، یہ آثار بھی ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے ہم عصر اور کچھ ان سے بھی پہلے کے بتائے جاتے ہیں۔ ملتان کے قصبہ تلمبہ کی تاریخ بھی ڈھائی ہزار سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ 1857ء کی لڑائی میں ملتان رجمنٹ نے بغاوت کی اور انگریز کی بجائے مسلمانوں کا ساتھ دیا جس کی بناء پر حریت پسندوں پر سخت ستم ڈھائے گئے، ملتان کے جاگیرداروں ، گدی نشینوں، مخادیم اور ہندو مہاجنوں نے غداری کی، غداروں کے ہاتھوں لکھی گئی تاریخ میں حریت پسندوں کو جانگلی قرار دیا گیا جبکہ غداروں کو ہیرو بنا کر جاگیریں دی گئیں۔

Categories
آرٹیکلز

سافٹ وئیرکیسے اپڈیٹ ہوتے ہیں ؟ پاکستان کی معروف خاتون لکھاری کا بی بی سی کے لیے متنازعہ ترین کالم

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار آمنہ مفتی بی بی سی کے لیے اپنے تازہ ترین کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے اور برین واشنگ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ابھی کل ہی ایک صاحب کو دیکھا جن کا سافٹ ویئر تازہ تازہ اپ ڈیٹ ہوا تھا۔چہرے پہ نور تھا اور آنکھوں میں

ایک خواب ناک سی کیفیت۔بار بار پسینہ پونچھ رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ اس دور میں انسان کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے اور ایسی کوئی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے گھر والوں کو نقصان پہنچے یا ملازمت جانے کا خطرہ ہو۔تو صاحبان! اپنے اردگرد دیکھیے۔ اچانک غائب ہو کے واپس آنے والے، بہت بولنے والے جو اب بالکل خاموش رہتے ہیں، انسانی حقوق کی بات کرنے والے جو اب صرف اپنے زندہ رہنے کی فکر میں ہیں، کاٹ دار جملے لکھتے لکھتے اچانک عشقیہ نظمیں لکھنے اور سیر و سیاحت کا ذکر کرنے والے، گمشدہ لوگوں کے لیے بولنے والے جو اب سوائے روسی ناولوں کے ترجموں پہ بات کرتے ہیں، ان لوگوں پہ کیا گزری؟ہماری ایک دوست نے کہا کہ اب خوف ہماری جیب میں ڈال دیا گیا ہے۔ خوف جیب ہی میں نہیں جسم کے ریشے ریشے میں سرایت کر گیا ہے۔ بین کی جانے والی کتابیں، رد کیے جانے والے کالم، سینسر شدہ فلمیں اور وہ لوگ جنھیں سچ کہنے کی پاداش میں ادبی کانفرنسوں میں مدعو ہونے کے باوجود آنے سے منع کر دیا جاتا ہے، ان سب کو غور سے دیکھیے۔یہ چہرے نایاب ہوتے جا رہے ہیں، یہ آوازیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ لہجے ناپید ہو رہے ہیں، ان کے لفظوں کی کھنک اور ان کے جملوں کی کاٹ ایسے غائب ہو جائے گی جیسے سرکش قوموں کے علاقوں میں بہتے میٹھے پانی کی چشمے غائب ہو جاتے ہیں۔تب بڑا سناٹا ہو گا اتنا سناٹا کہ کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے مگر تب کہیں سے بھی، کوئی بھی آواز نہیں ابھرے گی کیونکہ سب کے سافٹ ویئر خودبخود اپ ڈیٹ ہو جائیں گے۔

Categories
آرٹیکلز

مراثی چائے پاپے کا ناشتہ کر رہا تھا، بیوی چولہے کے پاس بیٹھی تھی ، بیٹے نے ٹیپ ریکارڈر میں کیسٹ ڈالی اور بٹن دبا دیا جس پر ایک مذہبی بیان شروع ہوگیا۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد کیا دلچسپ واقعہ پیش آیا ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار گل نوخیز اختر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ایک میراثی چائے پاپے کا ناشتہ کر رہا تھا۔ بیوی چولہے کے پاس بیٹھی تھی ۔ بیٹے نے پرانے سے ٹیپ ریکارڈر میں کیسٹ ڈالی اور بٹن دبا دیا۔ بیان شروع ہوگیا۔ ماواں ٹھنڈیاں چھاواں، ماں جیسا کوئی نہیں،

جس گھر میں ماں نہیں وہاں رحمت نہیں ہوتی، ماں کے پیروں تلے جنت ہے، ماں کی دعا جنت کی ہوا … مراثی خاموشی سے ناشتہ کرتا رہا، اُدھر ٹیپ چلتی رہی۔ دس پندرہ منٹ یہی آواز آتی رہی تو مراثی نے سوالیہ نظروں سے بیٹے کی طرف دیکھا’’ پُتر میں بی سائیڈ پہ ہوں؟‘‘۔باپ عموماً اتنا سنجیدہ ہوتا نہیں جتنا اُسے بنادیا جاتا ہے۔ اپنے اپنے والد گرامی کے بچپن کے دوستوں سے پوچھئے، زیادہ تر یہی جواب دیں گے کہ وہ بچپن میں بہت شرارتی تھے، کھل کر ہنسا کرتے تھے اور زندگی کے مزے لیا کرتے تھے۔ تو سوال یہ ہے کہ پھر ایسا کیا ہوا کہ جونہی ایک آدمی باپ بنا، اُس میں سنجیدگی در آئی، چہرہ سپاٹ ہو گیا اور شرارت مفقود ہو گئی۔ اس میں پہلا کردار عموماً ماں ادا کرتی ہے۔ گڈو فلاں کام مت کرو تمہارے باپ کو پتا چل گیا تو اس نے تمہیں الٹا کر دینا ہے۔ گڈو اچھے نمبروں سے پاس ہونا ورنہ تمہارے باپ نے تمہیں نہیں چھوڑنا۔ گڈو آنے دو تمہارے باپ کو میں بتاتی ہوں تمہارے کرتوت۔ اور گڈو کو احساس ہونا شروع ہو جاتا ہے گویا باپ کوئی بدمعاش ہے۔ بچپن میں بچے ماں باپ سے مانوس ہوتے ہیں، باپ سے لاڈ پیار بھی کرتے ہیں لیکن جوں جوں بڑے ہوتے جاتے ہیں اُنہیں لگنے لگتا ہے کہ باپ تو صبح بن ٹھن کے گھر سے نکل جاتا ہے، بیچاری ماں گھر میں ہانڈی روٹی کرتی ہے، صفائی کرتی ہے اور سارا گھر سنبھالتی ہے۔ رات کو

باپ گھر آتا ہے تو اسے باتیں کرنی ہوتی ہیں، آٹھ نو گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد اُسے بیوی بچوں کی آواز سننا ہوتی ہے۔ لیکن گھر آتے ہی سب اس کے سامنے مودب ہو جاتے ہیں۔ وہ کوئی ہلکی پھلکی بات بھی کرنے کی کوشش کرے تو اتنا مختصر اور تمیز دار جواب ملتا ہے کہ اس کی ہمت ہی نہیں پڑتی بلاوجہ بچوں سے فری ہونے کی۔ کھانا چن دیا جاتا ہے۔ باپ روٹی کھاتا ہے اور ٹی وی ٹاک شو دیکھتے ہوئے سو جاتا ہے۔ بچوں کو علم ہی نہیں ہو پاتا کہ اُن کے گھر میں گھی کیسے آتا ہے، چینی کون لے کر آتا ہے، بجلی گیس کے بل کون بھرتا ہے، ان کی فیسوں کے پیسے کہاں سے آتے ہیں اور گھر کا نظام کیسے چلتاہے؟ یہ باپ ہی ہے جس کو دورانِ ڈیوٹی بھی یاد رہتا ہے کہ گھر میں کتنا گھی باقی رہ گیا ہے، انڈے کتنے ہیں، موٹر سائیکل میں پٹرول کتنا ہے اور آٹا کب تک چلے گا۔ باپ فاسٹ فوڈ کا شیدائی نہیں ہوتا، اُس نے گھر آ کر ہی کھانا ہوتا ہے۔ یہ باپ ہی ہوتا ہے جو باہر کے کھانے کی بدتعریفی بھی کرتا ہے اور بچوں کے لیے فاسٹ فوڈ بھی منگوا لیتا ہے۔ اولاد نہیں جانتی کہ ان کے موبائل خریدنے کے لیے4 باپ نے دفتر سے کتنا ایڈوانس لیا تھا، بیٹے کے لیپ ٹاپ کی بیٹری ڈلوانے کے لیے کون سی بچت کی تھی۔ باپ گھر کا درخت تو ہوتا ہے لیکن اسے کوئی پانی نہیں ڈالتا،

صرف پھل کھاتے ہیں۔ ماں دُکھ کے عالم میں ہو تو رو بھی سکتی ہے، باپ کو تو یہ سہولت بھی میسر نہیں۔ کئی بچوں نے تو پیسے بھی مانگنے ہوں تو ماں سے کہتے ہیں اور وہ پھر باپ سے لے کر دیتی ہے۔ گویا باپ بچوں کے ساتھ اس انٹریکشن سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ ضروری نہیں ہر باپ ایسا ہی ہو لیکن عموماً ایسا ہی ہوتا ہے۔ گھر بھی باپ ہی بناتا ہے۔ بیٹا گھر بنانے کے بارے میں تب سوچتا ہے جب خود باپ بن جاتا ہے۔ آپ نے کبھی کسی یونیورسٹی یا کالج کے اسٹوڈنٹ سے سنا ہے کہ میں اپنا گھر بنانا چاہتا ہوں؟ یہ خواہش ایک باپ کے دل میں ہی جنم لیتی ہے۔ یہ جو باپ اپنے بیٹے سے پوچھتا ہے کہ کہاں جا رہے ہو، کب آئو گے، ابھی تک کیوں نہیں آئے؟ یہ اس لیے پوچھتا ہے کہ زمانے کو جانتا ہے، گھر سے باہر کے خطرات کو سمجھتا ہے۔ یہ اولاد کی بھوک کو اُن سے زیادہ سمجھتا ہے۔ یہ کبھی نہیں بتاتا کہ گھر چلانے کے لیے یہ کہاں کہاں سے پڑھے لکھے انداز میں بھیک مانگ کر آیا ہے۔ یہ اسی لیے دفتر کی باتیں گھر میں نہیں کرتا۔ اولاد پڑھ لکھ جائے تو ان کی نوکریوں کے لیے یہ باپ ہی لوگوں کی خوشامد کرتا پھرتا ہے۔ میں نے کئی ایسے لڑکے دیکھے ہیں جو بال کٹوانے کے لیے سیلون کے علاوہ کہیں نہیں جاتے، لیکن ان کے باپوں کو جب بھی دیکھا فٹ پاتھ پر بیٹھے حجام کے آگے

سرجھکائے دیکھا۔ اس لیے کہ باپ پہلے دل میں حساب لگاتا ہے کہ خرچہ کتنا ہوگا۔ یہ بچت وہ صرف اس لیے کرنا چاہتا ہے تاکہ مہینے بھر کا بجٹ متاثر نہ ہو جائے۔ اس کے باوجود ایک سنہری جملہ اولاد کی طرف سے ضرور سننے کو ملتاہے’ابو آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے؟‘ اولاد بالکل ٹھیک کہتی ہے، باپ نے اپنی محنت کی تشہیر ہی نہیں کی تو اولاد کیسے جانے گی؟ اُس کی تو ساری زندگی اے ٹی ایم کی طرح گزر گئی۔ گھر میں پیسے دیے، مکینوں کی خوشی بھری ٹوں ٹوں سنی اور باہر نکل گیا۔آپ نے کئی مائیں دیکھی ہوں گی جو اپنی پچیس سال پرانی شادی کے دُکھڑے اولاد کو سنا کر ہمدردیاں سمیٹتی ہیں، لیکن بہت کم ایسے باپ دیکھے ہوں گے جو اولاد کو بتائیں کہ سسرال نے اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ میری کل ایک سیکنڈ ایئر کے بچے سے بات ہو رہی تھی، کہنے لگا ’ میرے ابو نے ماضی میں میری امی پر بہت ظلم کیے ہیں۔‘ میں نے پوچھا ’بیٹا آپ کو کیسے پتا چلا؟‘ اطمینان سے بولا’’امی نے بتایا ہے‘‘۔ میں نے کچھ دیر توقف کے بعد سوال کیا’کیا آپ کے ابو پر بھی آپ کی امی نے کوئی ظلم کیا ہے؟‘۔ ایک دم سے نفی میں سر ہلا کر بولا ’بالکل نہیں‘۔ میں نے اسے غور سے دیکھا’ یہ بات آپ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں؟ ‘کندھے اچکا کر بولا ’کیونکہ ابو نے آج تک ایسی کوئی بات بتائی ہی نہیں‘۔

Categories
آرٹیکلز

1965 کی لڑائی میں بھارتی فوج پاکستان کے گاؤں واہگہ سے ایک ڈبل ڈیکر بس چھین کر بھارت لے گئی ، پھر وہاں اس بس کا کیا انوکھا استعمال کیا گیا ؟ پرانے تاریخی واقعات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار واصف ناگی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔واہگہ بارڈر سے شالا مار باغ تک وہ تاریخی علاقہ ہے جہاں 1965ء میں بھارتی فوج نے رات کے اندھیرے میں لاہور پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس زمانے میں شہر لاہور سے ایک ڈبل ڈیکر بس رات کو چلا کرتی تھی

ہم نے اس پر کئی بار سفر کیا تھا۔ غالباً اس کا نمبر پانچ تھا۔ یہ ڈبل ڈیکربس رات گیارہ بجے واہگہ سرحد پر کھڑی کردی جاتی تھی، صبح سویرے واہگہ گائوں سے سواریاں لے کر شہر آ جاتی تھی۔بھارتی فوجی یہ ڈبل ڈیکر امرتسر لے گئے اور وہاں کے ہال بازار میں ڈبل ڈیکر بس گھما کر یہ بتایا کہ لاہور پر قبضہ کر لیا ہے مگر بھارتی فوج کے سربراہ پرشاد کا لاہور پر قبضہ کرنے کا خواب اور خواہش ادھوری رہ گئی، پاکستانی فوج نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اس حوالے سے کئی دلچسپ باتیں پھر بتائیں گے۔یہ بات آپ کے لئے یقیناً دلچسپی کا باعث ہوگی کہ آج سے 75برس قبل واہگہ، باغبانپورہ، گڑھی شاہو، چاہ میراں، اچھرہ، مزنگ، قلعہ گوجر سنگھ، ہربنس پورہ، برکی، بیدیاں، رائے ونڈ اور میاں میر (گائوں) لاہور کے دیہات میں شمار ہوتے تھے۔ کبھی آپ کوبتائیں گے کہ ڈیفنس لاہور کے اندر کتنے دیہات آگئے اور یہ سارا ڈیفنس اندازاً 100 کے قریب چھوٹے بڑے دیہات کو ختم کرکے بنایاگیا ہے۔ اس زمانے میں ان دیہات کو ریونیو (محکمہ مال) کے کاغذات میں کچھ یوں لکھا جاتا تھا۔ موضع اچھرہ تحصیل و ضلع لاہور، موضع مزنگ تحصیل و ضلع لاہور، شام کے بعد برکی، واہگہ، بیدیاں، سوڈی وال، ہنجروال، شاہ دی کھوئی (جس میں اب پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس ہے) ان علاقوں کی جانب کوئی نہیں جاتا تھا۔ یہاں لٹیرے لوٹ لیا کرتے تھے جبکہ آج یہاں پوری رات ٹریفک چلتی ہے۔شالا مار باغ کے چاروں طرف کھلی جگہ اور کھیت تھے

جو ہم نے خود دیکھے ہیں۔ آج شالامار باغ کی بیرونی دیواروں کے ساتھ لوگوں نے دکانیں بنا لی ہیں بلکہ باغ کی ایک دیوار تو دکان کا حصہ بن چکی ہے۔ 1975ء کے آثار قدیمہ ایکٹ کے مطابق کسی بھی تاریخی عمارت کے دو سو فٹ تک کسی قسم کی تعمیر نہیں ہوسکتی مگر یہاں کون پوچھتا ہے؟ ذرا کسی پرانے باغبانپوریئے سے پوچھیں کہ باغبانپورہ 1970ء تک کس قدر کھلا، شاداب اور خوبصورت علاقہ تھا؟ آج یہ علاقہ سب سے گندا اور برباد ہو چکا ہے۔ رہی سہی کسر اورنج ٹرین نے پوری کردی ہے۔ اس اورنج ٹرین کی دھمک شالامار باغ اور تاریخی یو ای ٹی کی عمارتوں تک میں آتی ہے، جو یقیناً ان تاریخی عمارتوں کو آہستہ آہستہ کمزور کرتی رہے گی۔ شالاما ر باغ تاریخی باغ ہے اس میں جو جو اہم شخصیات آج تک آئی ہیں ان کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ پھر اسلامی کانفرنس کے تمام شرکا اس تاریخی باغ میں آئے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کرائی تو اس کے تمام شرکا کو شالا مار باغ میں استقبالیہ دیا گیا تھا جس میں شاہ فیصل، کرنل قذافی، یاسر عرفات، عیدی امین، بومدین، انور سادات، شاہ حسین، شاہ حسن اور کئی دیگر ممالک کے سربراہ اس تاریخی باغ میں آئے تھے۔ اس کے علاوہ امیر فیصل ثانی شاہ عراق اور پرنس عبداللہ، شاہ مسعود بن عبدالعزیز، جمہوریہ ترکیہ کے صدر جلال بایار، مصر کے ڈپٹی پرائم منسٹر ونگ کمانڈر جمال سلیم، جمہوریہ ترکیہ کے وزیراعظم عدنان مندریس، چین کی ریاستی کونسل کے وزیراعظم اور وزیر امور خارجہ چو این لائی، ڈیوک آف ایڈنبرا، ان کے علاوہ سابق بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو بھی شامل ہیں۔ یعنی اس لاہور نے کن کن اہم شخصیات کی میزبانی کی۔

Categories
آرٹیکلز

9 اپریل کو عمران خان کے ساتھ وہی ہوا جو 13 سال کی عمر میں انکے ساتھ ہوا تھا ۔۔۔۔ بی بی سی پر شائع ہونے والی معنی خیز تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد حنیف بی بی سی کے لیے اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔عمران خان کے خلاف سازش چھ مہنے یا ایک سال پہلے شروع نہیں ہوئی۔ ان کے خلاف سازش اسی وقت شروع ہو گئی تھی جب وہ پانچویں یا چھٹی جماعت کے طالب علم تھے۔

اور ایچی سن کالج میں داخلے سے پہلے لاہور کے سینٹ انتھونی سکول میں پڑھتے تھے۔سازش کے عینی گواہ ان کے ایک گورے استاد تھے جنھوں نے مجھے یہ واقعہ سنایا۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ عمران خان پڑھائی میں کیسے تھے۔ ان کے استاد نے کہا کہ پڑھائی میں تو بس ایسے ہی تھے لیکن کرکٹ اس عمر میں بھی بہت عمدہ کھیلتے تھے۔بلکہ اتنے اچھے تھے کہ جب دوسرے سکولوں سے کرکٹ کا میچ ہوتا تھا تو وہ یہ شرط رکھتے تھے کہ عمران خان ٹیم میں شامل نہ ہو اور ہمیں کئی دفعہ یہ شرط ماننی پڑتی تھی۔ذرا ظلم کی انتہا دیکھیں کہ آپ 13-14 سال کے ہیں اور آپ کو ٹیم میں اس لیے شامل نہیں کیا جاتا کہ آپ لاہور میں اپنی عمر کے تمام کھلاڑیوں سے اچھے ہیں۔عمران خان کے چاہنے والے اب بھی یہ ہی کہتے ہیں کہ ان کو سازش کر کے وزرات عظمیٰ سے اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ قائد اعظم کے بعد وہ واحد رہنما تھے جو پاکستان سے مخلص تھے۔جنھوں نے ایک پیسے کی کرپشن نہیں کی، مغرب کو للکارا، امریکہ کو ایبسولوٹلی ناٹ کہا۔ اپنے کسے بیٹے بھتیجے کو کوئی عہدہ نہیں دیا۔ (فرح گوگی کا نام بھی میرے خیال میں اس لیے لیا جاتا ہے تاکہ ہمارے تجزیہ نگاروں کے خشک تجزیوں میں تھوڑا رنگ بھرا جا سکے)عمران خان کے ساتھ وہ ہی کیا گیا جو 13-14 سال کی عمر میں ان کے ساتھ کیا جاتا تھا کہ تو سب سے اچھا ہے اس لیے تو میچ سے باہر چل،

بنچ پر بیٹھ کر میچ دیکھ۔میرا نہیں خیال کہ عمران خان نے کبھی باہر بنچ پر بیٹھ کر پورا میچ دیکھا ہو گا۔عمران خان اپنی ناکامی کا ایک واقعہ خود بھی سناتے ہیں کہ وہ پروفیشنل کرکٹر کے طور پر اپنے ہی شہر لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں بیٹنگ کرنے کے لیے اترے اور اس پہلے ہی میچ میں صفر پر آؤٹ ہو گئے۔وہ فرماتے ہیں کہ وکٹ سے واپس پویلین تک کا سفر ان کی زندگی کی سب سے لمبی واک تھی۔ لیکن کیا انھوں نے بقول ان کے اتنی بڑی شرمندگی کے بعد کرکٹ چھوڑ دی؟ انھوں نے کرکٹ کی دنیا کا سپر سٹار بن کر دم لیا۔وہ حضرت علی کے اس قول کی زندہ مثال ہیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کی ناکامی سے پہچانا۔جب عمران خان سیاست کے بیابانوں کے مسافر تھے تو ہر ٹی وی شو میں، ہر اس مجلس میں پہنچ جاتے تھے جہاں وہ اپنی بات کر سکتے تھے۔ خود بھی سیاست کے پرانے اور گمنام گرگوں کے پاس جاتے تھے۔کبھی کامریڈ معراج محمد خان کے گھر، کبھی ٹریڈ یونین لیڈر طفیل عباس کے فلیٹ پر۔ ہمارے جیسا ہر دو ٹکے کا صحافی ان کے گلیمر کی وجہ سے ان سے ملتا تھا لیکن اندر سے یہی سمجھتا تھا کہ اس بندے کو بس کرکٹ آتی ہے، سیاست اسے ہم سمجھاتے ہیں۔اور عمران خان صبر سے بیٹھ کر سنا بھی کرتے تھے۔ سیاست میں جیسے جیسے ان کا عروج شروع ہوا تو انھیں سیاست سکھانے والے بھی بڑھتے گئے۔ایک دفعہ میں نے انھیں یہ کہتے سنا کہ

مجھے ہر وقت کوئی نہ کوئی مشورہ دیتا رہتا ہے، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جس نے مشورہ دینا ہے وہ پہلے پارٹی کو چندہ دے۔پھر ملک کے سب سے بڑے سیٹھ چندہ دینے کے لیے قطار میں لگ گئے، عمران خان کو مشورے دینے والے بھی وہ آ گئے جو ملک کے اصلی وارث ہیں اور خالی مشورے ہی نہیں دیتے الیکشن وغیرہ کا بندوبست بھی کر لیتے ہیں۔ساڑھے تین سال تک ایک پیج کا وزیر اعظم رہنے کے بعد اب عمران خان کے پھر برے دن آ گئے ہیں۔ ہمت نہ انھوں نے ہاری تھی نہ ہاریں گے لیکن کبھی کبھی ان کے چہرے پر مایوسی کا سایہ سا آ کر گزر جاتا ہے، خاص طور پر جب وہ فرماتے ہیں کہ مجھے یقین نہیں تھا کہ مجھے نکال کر ان چوروں کو پھر لے آئیں گے۔انسان کے برے دن اسی وقت آتے ہیں جب ہماری صحافی برادری کے ستارے آپ کو بٹھا کر ایک بار پھر لیکچر دینا شروع کر دیں۔ بیچ میں تعریف بھی کرتے ہیں جس پر وہ تھوڑا سا شرما جاتے ہیں۔ہمارے فخر اوکاڑہ اور کامیڈی اور اپنے ہاتھ سے لکھی تاریخ کے بے تاج بادشاہ محترم آفتاب اقبال نے اپنے عمران خان والے انٹرویو میں ایک تو سکوپ یہ نکالا کہ یہ کیا بادشاہ بنے جسے بادشاہوں والی گیم شطرنج میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔پھر انھیں بتایا کہ وہ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ مقبول لیڈر ہیں۔ تھوڑا ڈر سا لگا کہ بھٹو کو ہٹانے سے کام نہیں چلا تھا تو اس کو تختہ دار پر چڑھانا پڑا تھا۔ اور ظاہر ہے جیسا کہ آفتاب اقبال نے فرمایا کہ عمران خان سے اسی طرح چھوٹی چھوٹی غلطیاں ہوئی ہیں جیسی اکبر بادشاہ اور سکندر اعظم سے ہوئی تھیں۔لیکن ہماری حالیہ تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ لاہور کی جم پل والے لیڈروں کو میچ سے باہر بنچ پر تو بٹھایا جا سکتا ہے،تختہ دار پر چڑھایا نہیں جا سکتا۔

Categories
آرٹیکلز

قصہ گزرے دنوں کا : عطاالحق قاسمی نے اپنے ایام جوانی کے حیران کن واقعات بیان کردیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عطاالحق قاسمی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب میری عمر 22سال تھی اور میں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج میں سال پنجم کا طالب علم تھا۔ لاہورمیں انار کلی کے قرب میں واقع یہ تاریخی کالج عوام الناس میں لڑکیوں کے کالج کے نام سے

جانا جاتا تھا کہ یہاں ہم لڑکوں کی ”تعداد“ اتنی ہی تھی جتنی آٹے میں نمک کی ہوتی ہے۔اور ہاں آپ مجھے ”جماندرو“ ایڈیٹر قرار دے سکتے ہیں کیونکہ اورینٹل کالج میں ایم اے اردو کی کلاسز میں داخلہ لینے سے پہلے میں فرسٹ ایئر سے بی اے تک ایم اے او کالج کےمیگزین ”شفق“ کا ایڈیٹر رہا تھا جس کے نگران اس وقت کے ”پروفیسر خالد محمود“ تھے جو بعد میں وفاقی شرعی عدالت کے ”جسٹس خالد محمود“ قرار پائے تھے۔ رو دھو کر بی اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج میں داخلہ لیا تو پنجاب یونیورسٹی کے مجلہ ”محور“ کی مجلس ا دارت میں شامل کرلیا گیا، ناقص امتحانی نظام کے نتیجے میں ایم اے کرنے میں کامیاب ہوا تو ”نوائے وقت“ کی سب ایڈیٹری میری منتظر تھی۔اب میں واپس اپنے شروع کے زمانے کی طرف آتا ہوں، یہ بے فکری کے دن تھے، میں ہاتھ میں ایک فائل پکڑے ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی لال بس میں بیٹھ کر کالج آتا اور کالج کے لان میں بوڑھے برگد کے سائے تلے بیٹھ کر اپنے دوستوں کی ہجو لکھتا اور جب وہ کلاسز اٹینڈ کرکے لان میں آتے تو انہیں یہ ہجویہ اشعار سنا کر انہی سے داد بھی طلب کرتا اور اکثر اس میں کامیاب بھی ہو جاتا۔ میرے اساتذہ میں ڈاکٹر سید عبد اللہ، سید و قار عظیم، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر افتخار صدیقی، ڈاکٹر ناظر حسن زیدی، ڈاکٹر ذوالفقار، سید سجاد باقر رضوی اور ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا شامل تھے۔ میں ان عہد ساز اساتذہ کی فیض رسانی کا بے حد قائل تھا

سو مجھے یقین تھا کہ یہ فیض ان کی کلاسز اٹینڈ کئے بغیر بھی مجھ تک پہنچتا رہے گا اور آپ کو پتہ ہے کہ اعتقاد میں بہت طاقت ہوتی ہے اور یہ ناممکن کو بھی ممکن میں بدل دیتا ہے چنانچہ الحمد للہ میں نے ایک پرچے میں فیل ہونے کے بعد اگلے برس سیکنڈ ڈویژن میں ایم اے پاس کرنے کا ”کرشمہ“ کر دکھایا۔ اس حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ میرے ایک انتہائی قابل استاد جو ہمیں تنقید کا پرچہ پڑھاتے تھے۔ انہوں نے ایم اے انگلش کو ناکافی سمجھتے ہوئے ایم اے اردو کا امتحان دیا تو وہ اس پرچے میں فیل ہوگئے جو وہ ہمیں پڑھاتے تھے تاہم یہ امتحانی نظام کا نہیں غالباً یونیورسٹی پالیٹکس کا نتیجہ تھا۔کالج سے واپسی پر میری ”مصروفیات“ میں اور اضافہ ہو جاتا تھا۔ یہاں میرے دوستوں کا ”گروہ “ میرا منتظر ہوتا۔ جن میں عارف (مرحوم) خالدی (مرحوم) ، مسعود علی خان، منیر احمد شاہ اَکی، مالک اور سعید و غیرہ شامل تھے یہ سب دوست اپنی اپنی جگہ ایک دلچسپ کریکٹر تھے جن پر علیحدہ علیحدہ دفتر کے دفتر لکھے جاسکتے ہیں، تاہم میں زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا البتہ ایک ”خباثت“ کا حوالہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ رمضان کے ایک مبارک مہینے میں لوگ جامع مسجد ماڈل ٹاؤن میں تراویح کی ادائیگی کے لئے جوق در جوق آنا شروع ہوئے اور یوں روز بروز مسجد کی رونق میں اضافہ ہوتا چلا گیا لیکن چند روز بعد ہی نمازیوں کی تعداد کم ہونا شروع ہوگئی پتہ چلا کہ مسجد کے گردونواح میں کوئی بھوت ہے جو کبھی کسی کونے اور کبھی کسی کونے سے اچانک نکل کر سامنے

آجاتا ہے جس کی دہشت کی وجہ سے لوگ ادھر کا رخ نہیں کر رہے، تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہ ہمارے ہی ”گروہ “ کے کچھ لوگ تھے جو کسی اندھیرے کونے میں کھڑے ہو کر اور اپنے سارے جسم کو کالی چادر میں لپیٹ کر اپنی ٹھوڑی کے نیچے ٹارچ روشن کر دیتے تھے جس سے ان کی شکل انتہائی خوفناک ہو جاتی تھی اس کے بعد وہ کسی کونے سے اچانک نمودار ہو کر نمازیوں کے سامنے آجاتے جس پر وہ بھوت بھوت چلاتے ہوئے بھاگ اٹھتے تھے۔ میرا دوست عارف(مرحوم) بے حد دیندار نوجوان تھا۔ اسے جب اس خباثت کا علم ہوا تو وہ سخت ناراض ہوا تاہم بعد میں ”بھوتوں“ کی معافی تلافی ہوگئی، اس ضمن میں مجھ پر بھی شک کیا گیا۔ خدا کا شکر ہے میری یہ ”دلیل“ کافی موثر ثابت ہوئی کہ مجھے تو بھوت کا میک اپ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔یہ وہ بے فکری کے دن اور راتیں تھیں جو ہم دوست گزار رہے تھے۔ دراصل وہ دور ویسے بھی ایک بالکل مختلف قسم کے پاکستان کا عکس پیش کرتا تھا۔ ان دنوں پاکستان ایک سیکولر ملک تھا۔ ہر شخص کو ہر اس کام کی آزادی تھی جس سے کسی دوسرے فرد کی آزادی متاثر نہیں ہوتی تھی۔ مسجدیں بھی بھری ہوتی تھیں۔ تفریح گاہوں میں بھی رش ہوتا تھا۔ ان دنوں شرپسند نام کی کسی چیز کا پاکستان میں کوئی وجود نہ تھا۔ فرقہ واریت کا عفریت بھی کہیں نظر نہیں آتا تھا جس کی آڑ میں ایک گروپ بدامنی میں بعد میں مشغول نظر آیا۔ ان دنوں لوٹ مار کی وارداتیں بھی نہیں ہوتی تھیں ۔ سب لوگ سادہ زندگی بسر کر رہے تھے، قناعت نے انہیں بے سکون نہیں ہونے دیا تھا۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ہر روز روزِ عید تھا اور ہر شب، شب ِ برات تھی تاہم یہ اِس عذاب کے دن بھی نہیں تھے جو آج کل ہم لوگ گزار رہے ہیں۔

Categories
آرٹیکلز

اگر ہم نے عامر لیاقت کی خبریں مصالحہ لگا کر وائرل نہ کی ہوتیں تو ۔۔۔۔۔۔نوجوان صحافی نے میڈیا اور قوم کو آئینہ دکھا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نوجوان کالم نگار سید منہاج الرب اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔موبائل فون یقیناً انسانی ضروریات میں شامل ہوچکا ہے۔ اس کے استعمال نے جہاں بہت سہولت فراہم کی ہے وہیں بہت سی مشکلات بھی کھڑی کیں ہیں۔ جن کا ادراک نہیں کیا جارہا۔ جو متاثر ہوتا ہے وہی اس تکلیف کو

سمجھ پاتا ہے لیکن تکلیف پہچانے والے کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ اس میں سب سے اہم نجی احساسات کی پامالی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک معروف شخصیت کا انتقال ہوا ان کی زندگی کے آخری دور میں کچھ عجیب معاملات ہوئے جو کہ سوشل میڈیا پہ خوب شئیر کئے گئے۔ یقینا وہ ایک سلیبرٹی تھے ان کا میڈیا میں تذکرہ ہونا کوئی معیوب بات نہ تھی۔ لیکن دنیا میں کوئی شخص اکیلا نہیں ہوتا کئی لوگ اس شخصیت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اور وہ سلیبرٹی سے متعلق لگنے والی خبروں اور بننے والی ویڈیوز سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ان کی اولادیں۔ ہر ذی شعور اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ بچے اپنے ماں باپ کو آئیڈیلائز کرتے ہیں اور انہیں پرفیکٹ سمجھتے۔ لیکن اگر ان کو اپنے والدین میں کمی یا برائی نظر آئے تو وہ اس کمی یا برائی کو دنیا کی نظروں سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ناکہ اسے میڈیا پر وائرل ہوتے ہوئے دیکھیں۔ ایسے میں “وائرس کا شکار” اوہ معاف کیجئے گا منفی خبروں کو وائرل کرنے کے شوقین افراد ان بچوں کے جذبات اور احساسات سے بے خبر اپنی وائرل کی گئی ویڈیوز پہ کی جانے والی “لائیک” کی بڑھتی ہوئی تعداد گنے میں لگے ہوتے ہیں۔ کیا اس حیوانیت کے دور میں ان بچوں کے احساسات و جذبات کی کوئی حیثیت ہے بھی کہ نہیں؟ایسے میں اس سلیبرٹی کے انتقال پر ان بچوں کی جان بخشی نہ کی گئی۔ ہر عام وخاص گھر، ہسپتال، سرد خانے، اور جنازہ گاہ کے اندر اور باہر

موبائل فون ہاتھ میں لئے لمحہ بہ لمحہ live coverage میں لگے ہوئے ہیں اور سارا کا سارا زور ان “معصوم بچوں ” کے جذبات کی عکس بندی کرنے پر تھا۔ انتہائ غیر اخلاقی، قابل مذمت، اور غیر انسانی عمل تھا۔ کیونکہ یہ بچے سلیبرٹی نہیں تھے انہوں نے اپنے آپ کو سوشل میڈیا پہ مشہور نہیں کیا تھا بلکہ اپنے اکاؤنٹس ہی بند کردیئے تھے۔ ایسے میں اپنے باپ کی موت پر انہیں دل کھول کر رونے اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنے، اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرنے کا پورا حق تھا۔ لیکن افسوس ان موبائل کیمروں کی بہتات اور لائیو کمنٹری نے ان بچوں کو خوفزدہ کردیا، بجائے اپنے جذبات کا اظہار کرنے وہ کیمرے اور کیمرہ پکڑنے والوں سے بچتے پھر رہے تھے، جذبات سے مغلوب ہو کر روتے اور بے قابو ہونے سے پہلے آنسو پونچھ لیتے کہ کہیں کیمرے کی آنکھ محفوظ نہ کر لے۔ کس قدر بے حسی کی بات ہے انسان اپنے والدین کی وفات کا سوگ بھی نہ منا سکے کہ ویڈیوز وائرل ہوجائے گی اور ان کے جذبات کی عکس بندی کے ساتھ ساتھ عجیب و غریب قسم کی کمنٹری بھی جاری رہے گی۔ذرا یہ سب کچھ اپنے اوپر رکھ کر سوچئے کس گھر میں مسائل نہیں ہوتے، رنجشیں نہیں ہوتیں، لیکن والدین کی میت پر سر رکھ کر رویا جاتا ہے، اپنوں کے کاندھے تلاش کئے جاتے ہیں، گلے لگ کر آنسو بہائے جاتے ہیں بے فکری کے ساتھ۔ نا کہ منہ چھپا کر، جذبات کو روند کر کیمرہ مینوں سے چھپا جاتا ہے۔ اور رات کی تاریکی میں تکیوں کو گیلا کیا جاتا ہے۔ وائرل کرنے سے پہلے ذرا سوچ لیجیے گا۔