Categories
آرٹیکلز

جب باپ بوڑھا اور بیٹا جوان ہونے لگے تو تعلقات میں اونچ نیچ کیوں آتی ہے ؟ ایک مشہور ناول کے تذکرے کے ساتھ کام کی باتیں بتا دی گئیں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سید سردار احمد پیرزادہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔مشرقی کلچر میں گھر سکون، محبت اور احترام کی علامت کہلاتا ہے۔ انہی خوبیوں کی بنا پر گھر کو زمین پر جنت سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ مشرقی کلچر کا وہ گھر کئی وجوہات کی بنا پر اب بہت سے مسائل سے

دوچار ہے۔ اِن میں سے بعض ایسے ہیں جو تقریباً ہرگھر کا مسئلہ ہیں لیکن اُن کے بارے میں غوروفکر کرنے کی بجائے صرف شدید ردعمل کا سامنا کیا جاتا ہے یا شدید ردعمل دیا جاتا ہے جس کے نتائج عموماً خوفناک ہوکر گھر کی جنت کو دوزخ میں بدل دیتے ہیں۔ حالانکہ ایسے ایشوز پر تھوڑا سا سوچ بچار کرلیا جائے تو پتہ چلے گا کہ یہ مسائل صرف آج کی پیداوار نہیں ہیں بلکہ یہ انسانی فطرت کے ساتھ ازل سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہی میں ایک شدید مسئلہ بوڑھے ہوتے باپ اور جوان ہوتے بیٹے کے درمیان تعلقات کا ہے۔ نوبل انعام یافتہ مصنف ہرمن ہیسے نے ہزاروں برس پہلے صرف امن اور آشتی کی بات کرنے والے گوتم بدھ کی زندگی پر ایک شاہکار ناول ’’سدھارتھــ‘‘ لکھا۔ اس ناول میں دنیا کو تحمل، صبر اور برداشت کا درس دینے والے سدھارتھ کے ساتھ اس کے جوان ہوتے بیٹے کے تعلقات کی منظرکشی بھی کی گئی ہے۔ مصنف نے بتایا کہ سدھارتھ نے اپنے بیٹے کے لیے بہت کچھ کیا۔ وہ اس کے لیے ہمیشہ بہترین کھانے چن کر الگ رکھ لیتا۔ جب وہ لڑکا اس کے پاس آیا تھا تو سدھارتھ نے اپنے آپ کو بھاگوان اور دھنوان جانا تھا مگر جوں جوں وقت گزرتا جاتا لڑکا تب بھی نامانوس اور چڑچڑا ہوا رہتا۔ جب وہ گھمنڈی، ہٹیلا، خودسر اور سرکش ثابت ہوتا، جب وہ کام سے دور بھاگتا، جب وہ بوڑھوں کی کوئی عزت نہ کرتا اور سدھارتھ کے دوست واسودیو کے درختوں سے پھل چرا کے کھا جاتا،

تب سدھارتھ کو احساس ہونے لگا کہ اس کی قسمت میں کوئی سکھ چین نہیں مگر وہ اپنے بیٹے کو بہت چاہتا تھا اور اس کی محبت میں اُس کے دیئے گئے دکھوں اور کٹھنائیوں کو اپنے سکھ چین پر ترجیح دیتا تھا۔ جب سے چھوٹا سدھارتھ کٹیا میں آیا تھا دونوں بڈھے کام بانٹ لیا کرتے تھے۔ واسودیو کشتی کو سنبھال لیتا اور سدھارتھ کٹیا اور دھان کے کھیت اپنے ذمے لے لیتا تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے بیٹے کےپاس رہ سکے۔ کئی مہینوں تک سدھارتھ صبر کے ساتھ اس بات کا منتظر رہا کہ اُس کا بیٹا اس کو سمجھ لے گا، اس کی محنت کو قبول کرلے گا اور اس کا جواب محبت سے دے گا۔ کئی مہینوں تک واسودیو یہ ماجرا دیکھتا رہا، انتظار کرتارہا اور چپ رہا۔ آخر جب ایک دن چھوٹا سدھارتھ اپنی نافرمانی اور گستاخی سے باپ کو دق کررہا تھا اور اس نے چاول کے پیالے توڑ ڈالے تو شام کے وقت واسودیو اپنے دوست کو ایک طرف الگ لے گیا اور کہا یہ نوجوان پرندہ دوسری زندگی اور دوسرے آشیانے کا ہے۔ واسودیو اور سدھارتھ کے لیے ان کی کٹیا کے پاس بہتا دریا ایک روحانی استاد کی حیثیت رکھتا تھا۔ واسودیو نے سدھارتھ کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ میں نے دریا سے پوچھ لیا ہے۔ میرے دوست میں نے کئی بار پوچھا اور دریا ہنس دیا۔ دریا مجھ پر ہنسا اور تم پر بھی ہنسنے لگا۔ دریا ہماری نادانی پر ہنستے ہنستے لہرانے لگا۔ سدھارتھ نے دھیرے سے دکھ سے کہا میں اپنے بیٹے سے کیسے بچھڑ سکتا ہوں۔

میں اس کے دل تک پہنچنا چاہ رہا ہوں۔ میں اپنی محبت اور اپنے صبر سے اس کا دل جیت لوں گا۔ ایک دن دریا اس سے بھی ہم کلام ہوگا۔ واسودیو نے کہا کہ مجھے پتا ہے تم اس سے سختی نہیں برتتے۔ میرے دوست لیکن کیا تم اسے اپنی محبت کی زنجیر نہیں پہنا رہے؟ کیا تم اسے روزانہ اپنی نیکی اور اپنے صبر سے شرمندہ نہیں کرتے؟ کیا تم اس گھمنڈی، بگڑے بچے کو اس ٹوٹی پھوٹی کٹیا میں دو بڈھوں کے ساتھ نہیں رکھے ہوئے جن کے لیے چاول بھی نعمت ہیں اور جن کے خیالات اس کے جیسے نہیں ہیں، جن کے دل بوڑھے ہوچکے ہیں اور جن کی دھڑکنوں کا ڈھنگ اس سے جدا ہے؟ کیا وہ ان سب باتوں کے سبب مجبور نہیں؟ کیا یہ نوجوان کے لیے سزا نہیں ہے؟ سدھارتھ نے پریشان ہوکر نگاہیں زمین پر جھکا دیں۔ پھر ایک دن ایسا آیا جب چھوٹے سدھارتھ نے وہ سب کچھ کہہ ڈالا جو اس کے من میں تھا اور کھلم کھلا اپنے باپ کے خلاف بول اٹھا۔ باپ نے اس سے کہا تھا کہ جاکر تنکے اکٹھے کرلائو مگر وہ کٹیا سے باہر نہیں نکلا، وہیں سرکش بنا غصے کے عالم میں کھڑا رہا، زمین پر پیر پٹخنے لگا اور مٹھیاں بھینچ لیں اور باپ کے لیے اپنی نفرت اور حقارت اس کے منہ پر ظاہر کرنے لگا۔ وہ چیخا، خود اکٹھے کرو اپنے تنکے۔ اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگا۔ میں تمہارا نوکر نہیں ہوں۔ مجھے پتا ہے تم مجھے نہیں مارتے، تم میں ہمت نہیں ہے۔

اپنی پارسائی اور مروت سے مجھے شرمندہ کرنا چاہتے ہو۔ تم چاہتے ہوکہ میں تم جیسا بن جائوں۔ اتنا ہی پارسا، نیک اور دانا مگر صرف تم کو چڑانے کی خاطر میں چور اور خونی بننا اور دوزخ میں جانا پسند کروں گا مگر تم سا ہرگز نہیں بنوں گا، مجھے نفرت ہے تم سے۔ پھر وہ وہاں سے بھاگ گیا اور بہت دیر بعد شام پڑے واپس آیا۔ اگلی صبح وہ غائب ہوگیا۔ دونوں بڈھوں نے کٹیا سے باہر نکل کر دیکھا کہ ان کی کشتی دریا کے دوسرے کنارے پر ہے۔ وہ معاملہ سمجھ گئے اور کسی طرح کشتی کے پاس پہنچے۔ واسودیو نے سدھارتھ کو بیٹے کے پیچھے جانے سے روکا مگر سدھارتھ بیٹے کی تلاش میں جنگل میں نکل گیا۔ بہت لمبے عرصے تک جنگل میں بھٹکنے کے بعد سدھارتھ ایک جگہ پہنچا تو وہ ماضی میں کھو گیا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں اسے اپنے بیٹے کی ماں کملا ملی تھی۔ پتہ نہیں کتنے عرصے تک سدھارتھ ماضی کی خوشیوں میں کھویا رہا۔ پھر نڈھال ہوکر زمین پر اکڑوں بیٹھ گیا۔ وہ وہاں سے جانا نہیں چاہتا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے سر اور جسم پر اتنی خاک اکٹھی ہوگئی کہ وہ دور سے مٹی کا ڈھیر لگنے لگا۔ پھر ایک روز سدھارتھ کو اپنے کندھوں پر واسودیو کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا جو اسے دیکھ کر شفقت سے مسکرا رہا تھا۔ دونوں بڈھوں نے بغیر کچھ کہے واپسی کا اذیت ناک سفر طے کیا۔ کٹیا میں پہنچ کر سدھارتھ زمین پر لیٹ گیا اور چپ چاپ اوپر دیکھنے لگا۔ ناول سدھارتھ پر غور کرنے کے بعد ایک خیال آتا ہے کہ مشرقی کلچر میں بڑوں کے احترام کی تعلیم اور مشترکہ خاندانی نظام باپ اور بیٹے کے اس ازلی کھچائو کے آگے ایک بند تھا لیکن جدید معاشرے اور جدید تعلیم کے باعث یہ رکاوٹیں ڈھے رہی ہیں اور نوجوان پہلے سے زیادہ خوداعتماد ہوگئے ہیں۔ مزید یہ کہ جدید معاشرتی تبدیلیوں کی وجہ سے بعض اوقات میاں بیوی کی ناچاقی میں بیٹے کو ماں کی اَن کہی حمایت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ آج کا بیٹا کل کا باپ ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ بوڑھے ہوتے باپ اور جوان ہوتے بیٹے کے تعلقات کو سمجھا تو جاسکتا ہے لیکن اسے سلجھانا شاید بہت مشکل ہے۔ ماسوائے اس کے کہ باپ اپنے آپ کو دستبردار کرکے دریا کی لہراتی موجوں کو بہنے دے جیسا کہ سدھارتھ نے کیا۔

Categories
آرٹیکلز

ساری بات سن کر ماہر نفسیات نے کیا کام کی بات کہی ؟ ایک دلچسپ مزاحیہ تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔دوستو،آج ہم آپ سے کچھ ایسی کام کی باتیں کریں گے جو آگے چل کر آپ کی زندگی میں بہت کام آسکتی ہیں۔۔ اس لئے لڑکیاں ان باتوں کو اپنے پلو سے باندھ لیں جب کہ لڑکے انہیں اپنے موبائل فون کی

گیلری میں محفوظ کرلیں۔۔ سیانے کہتے ہیں کہ۔۔اگر کوئی آپ سے مشترکہ کاروبار کرنا چاہے تواس کیساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھاؤ اورمشاہدہ کرو کہ وہ کھانے کی بہتر چیز خود زیادہ کھاتا ہے یا تمھیں زیادہ کھلانا پسند کرتا ہے۔دوسری صورت ہو تو کاروبار کرو جبکہ پہلی صورت ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کاروبار میں تم سے زیادہ لینے کی کوشش کرے گا۔۔۔اگر کوئی آپ سے دوستی کرنا چاہے تو اس کے ساتھ ایک پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریں ، اگر اس نے کرایہ سے بچنے کی کوشش کی تو اس کامطلب ہے کہ وہ آپ سے فائدہ لیناچاہتاہے دوستی کے قابل نہیں۔۔۔اگر کوئی تم سے رشتہ جوڑنا چاہے تو اس کی کسی چیز کو معمولی نقصان پہنچاؤ۔مثلاً اسکے جوتے پر سالن گرانا یاموبائل فون کو میز کے انتہائی کنارے پر رکھنا یا اس کی عینک کو چھیڑنا اگر اس نے اپنی چیز کے قیمتی ہونے کاچرچا کیا تو رشتہ مت جوڑنا، کیوں کہ اس کو رشتے سے زیادہ پیسہ پسند ہے۔۔۔اگر آپ کاروبار کرتے ہیں اور کوئی آپ سے اُدھار مانگتا ہے تو اس کو قیمت بہت زیادہ بتانا اگر اس نے قیمت کم کرنے کی کوئی کوشش نہ کی تو ادھار نہ دینا، کیونکہ اس کو ادائیگی نہیں کرنی ہے اس لیے قیمت سے دلچسپی نہیں۔۔۔اگر کوئی اپنی ہر دوسری تیسری بات پر قسم اٹھاتا ہو۔تو اس کی بات میں ضرور جھوٹ شامل ہوگا، وہ قسمیں اس لیے اٹھاتا ہے کہ اس کو اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کر نا ہو تا ہے۔۔۔اگر تمھارا کوئی دوست تم سے اپنی کوئی برائی چھپاتا ہے

تو آپ اس کو مت بولیں کہ تم کو سب کچھ معلوم ہے اگر تم نے ایسا کیا تو پھر وہ اس برائی کو تمھارے سامنے بھی کرے گا۔۔۔بچوں کو برے کام سے منع کرتے وقت جن، بلا، یاجانور سے نہ ڈرانا کیوں کہ جب وہ سمجھ جاتے ہیں کہ وہ چیزیں فرضی تھیں تو وہ برائی واپس شروع کریں گے ،بلکہ اللہ سے یا جہنم سے ڈرانا کیونکہ اس کا تصور تمام عمر ہوتا ہے۔۔۔بچوں کی ہر غلطی پر سزا نہ دینا کیونکہ اس سے اس کی ذہنیت ایسی بن جاتی ہے کہ بڑے ہوکر ہر غلطی کرنے والے سے لڑے گا۔پھر ساری عمر جھگڑوں میں گزرے گی۔۔۔اپنے ماں باپ سے اپنے بچوں کے سامنے بہت محتاط رہنا کیونکہ جو انداز تم اپناتے ہو وہی کل تمھاری اولادِ اپنائے گی۔۔۔معاشرے میں جس کا کوئی کام برا لگے وہ خود نہ کرنا۔اب والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو یہ اہم باتیں لازمی سکھائیں۔۔سیڑھی پر اس وقت مت چڑھو جب آپ کے پیچھے کوئی مرد بھی سیڑھی چڑھ رہا ہو بلکہ سیڑھی کے کسی ایک زاویہ پر رک جاؤ اور اس کے بعد چڑھو۔۔لفٹ پر کسی اجنبی مرد کی موجودگی میں مت چڑھو، اس کے نکلنے کا انتظار کرو اور بعد میں چڑھو۔۔۔اپنے چچا، ماموں، خالہ کے بیٹوں سے مصافحہ مت کرو۔۔۔اپنے ساتھ گفتگو کرنے والے شخص کے ساتھ ہمیشہ مناسب فاصلہ رکھو۔۔۔ہمیشہ کسی کے ساتھ معاملہ کرنے کی حد مقرر کریں، چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، اور اپنے وقار کا خیال رکھیں۔۔۔ سڑک پر اپنے دوستوں کے ساتھ مذاق نہ کریں اور سڑک کے آداب کا خیال رکھیں۔۔۔

جب کوئی ملنے آئے تو اسے توجہ دو، بڑے کے احترام میں کھڑے ہو جاؤ اور تھکے ماندے اور بوڑھے کو بیٹھنے کے لیے کرسی پیش کرو۔۔گلی محلہ کے سبھی مرد باپ کے سوا اجنبی ہوتے ہیں، اس لیے ان سے بلاضرورت بات نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ تنگ کرنے والے ذہنی مریض ہوتے ہیں، چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔جب آپ زمین سے کوئی چیز اٹھانے کے لیے نیچے جھکیں یا کسی دکان، بازار یا عوامی جگہ پر کوئی چیز دیکھیں تو رکوع کی حالت میں مت جھکو،کوشش کرو بیٹھ کر چیز دیکھو،پھر کھڑے ہو جائیںتاکہ آپ کا پردہ یعنی ستر یا جسم بے نقاب نہ ہو۔۔ بس یا ٹیکسی میں بلند آواز سے باتیں مت کرو۔۔باباجی فرماتے ہیں۔۔جب بھی شادی پر جاؤ تو یہ پانچ نصیحتیں لازمی یاد رکھنا۔۔رشین سلاد ہو یا عام سی کوئی بھی سلاد سب سے پہلے اپنی پلیٹ میں وہ بھرلو کیوں کہ یہ ایک بار ختم ہوجائے تو دوبارہ نہیں ملتی۔۔ آئس کریم، کھیر، قلفا، فیرنی، کسٹرڈ، دودھ دلاری، لب شیریں یا کوئی سا بھی میٹھا جب بھی لو، ہمیشہ بڑی پلیٹ میں ڈالوکیوں کہ اس طرح دیکھنے میں چھوٹی پلیٹ میں کم بھی زیادہ لگتا ہے اور آپ نے چونکہ بڑی پلیٹ میں میٹھا لیا ہوتا ہے اس لئے وہ دیکھنے میں ہمیشہ کم ہی لگے گا۔۔آپ بریانی، پلاؤ یا مندی کھارہے ہیں تو اپنی پلیٹ میں تین سے چار چمچ اس طرح سے سجا کر رکھیں کہ دیکھنے والا یہی سمجھے کہ آپ اپنے باقی کے تین ساتھیوں کے لئے بھی ڈال کر لائے ہیں۔

۔اگر شادی میں ریگولر بوتل رکھی گئی ہو تو دو بوتلوں کو جلدی سے تھوڑا تھوڑا پی کر وہیں رکھ دیں اور بے فکر ہوکر تیسری بوتل کو مزے لے لے کر ختم کریں کیوں کہ پہلی دو بوتلیں کم مقدار کی ہوں گی تو لوگ اسے جھوٹا سمجھ کر چھوڑ دیں گے اور کوئی ہاتھ تک نہیں لگائے گا، کھانے کے بعد آرام سے حسب ضرورت ان دونوں بوتلوں کو بھی پی لیں۔۔اور آخرمیں سب سے قیمتی نصیحت۔ ۔ زیادہ بوٹیاں کھانے کے لئے آدھی روٹی یا نان ہاتھ میں پکڑ یں اور اب باری باری ہر بوٹی اس روٹی یا نان پر رکھ کر کھائیں تاکہ لوگ یہی سمجھیں کہ آپ ساتھ میں نان بھی کھارہے ہو۔۔کبھی کبھار سوال اٹھتا ہے کہ عورت کے لئے شادی کیوں ضروری ہے؟؟؟ایک عورت ماہر نفسیات کے پاس گئی اور کہا، میں شادی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ میں پڑھی لکھی ہوں، خود کماتی ہوں اور خود مختار ہوں اس لئے مجھے خاوند کی ضرورت نہیں ہے مگر میں بہت پریشان ہوں کیونکہ میرے والدین شادی کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔میں کیا کروں؟ماہر نفسیات نے کہا۔۔ بیشک تم نے بہت کامیابیاں حاصل کرلی ہیں لیکن بعض دفعہ تم کوئی کام کرنا چاہو مگر نا کر سکو، کبھی تم سے کچھ غلط ہوگا، کبھی تم ناکام ہوجاؤ گی، کبھی تمھارے پلان ادھورے رہ جائیں گے، کبھی تمھاری خواہشیں پوری نہیں ہوں گی۔۔ تب تم کس کو قصوروار ٹھہراؤ گی؟ کیا اپنے آپ کو قصور دو گی؟لڑکی نے کہا، نہیں ہرگز نہیں ،بالکل نہیں، اپنے آپ کو کیوں دوں گی؟ماہر نفسیات بولا۔۔ بالکل یہی وجہ ہے کہ تمھیں ایک خاوند کی ضرورت ہوگی جسے اپنی غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرا سکو۔۔ گئے دنوں کا واقعہ ہے کچھ سردار مل کر اونٹ کو بلڈنگ کی 20 ویں منزل پر چڑھانے کی کوشش کر رہے تھے کسی نے پوچھا ۔۔سردار جی اونٹ کو اتنی اوپر کیوں لے جا رہے ہو؟؟ سرداروں میں سے ایک بولا۔۔ اس کو ذبح کرنا ہے اور چھری چھت پر پڑی ہے اس لیے ۔۔واقعہ کی دُم: ایک بندہ لندن سے پاکستان نہیں آیا ساری کابینہ لندن چلی گئی۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔شرمیلے لوگوں سے ایک بار دوستی ہوجائے تو پتہ چلتا ہے ان سے بڑا بے شرم تو دنیا میں کوئی نہیں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Categories
آرٹیکلز

شہباز سپیڈ بھی فیل : توقعات کے برعکس شہباز شریف کے حکومت میں آنے کے بعد بری طرح ناکام ہونے کی اصل وجہ کیا ؟ آپ بھی جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلمان عابد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔پاکستان میں حکومت کی تبدیلی ، نئی حکومت کا قیام، نئے اور فوری انتخابات کا مطالبہ ، پہلے اصلاحات پھر انتخابات ، اسٹیبلیشمنٹ کی سیاست اور فیصلے، اداروں کی بالادستی اورخود مختاری سے جڑے سوالات ، حزب اقتدار اور

حزب اختلاف سمیت رائے عامہ کی تشکیل کرنے والے افراد یا اداروں کے درمیان ایجنڈا کی طرف دیکھیں تو ایک دوسرے کے خلاف’’ سیاسی مہم جوئی یا سیاسی تقسیم ‘‘ کا کھیل عروج پر ہے ۔کیا وجہ ہے کہ ہم ذاتی کردار کشی اورمنفی سیاسی مہم جوئی سے باہرنکلنے کے بجائے اس کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔جو بھی سیاسی یا غیر سیاسی فریقین ہیں سب کے سامنے محض اقتدار کا کھیل اورمخالفین کو جائز و ناجائز نیچا دکھا کر خود کو بالادست کرنا ہے۔پاکستان کی سیاست میں تبدیلی کا حالیہ اسکرپٹ بری طرح ناکامی سے دوچار ہے ۔ نئی حکومت بھی بن گئی اورنیا اقتدار بھی پرانے لوگوں کو ہی مل گیا ہے۔مگر سیاسی اورمعاشی معاملات میں بہتری کے بجائے اور زیادہ ابتری کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔حکومت کو بھی احساس ہوگیا ہے کہ جس کھیل میں وہ خود کودے ہیں یا ان کو زبردستی دھکا دیا گیا ہے اس سے نمٹنا مختصر حکومت میں ممکن نہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب ان کی بھی سیاسی حکمت عملی میں اپنے سیاسی مخالفین کو دبانا یا دیوار سے لگانا سمیت سابقہ حکومت پر تمام الزامات دے کر خود کو سیاسی شودا بنانا ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف میں معاملات مفاہمت کے مقابلے میں ٹکراؤ اور الزامات کی شکل اختیار کررہے ہیں۔یہ عمل کسی بھی صورت میں ریاست اورجمہوریت کے مفاد میں نہیں ۔کیونکہ جب ہم کہتے ہیں سیاست اور جمہوریت کے عمل کی ایک مضبوط بنیاد ’’ مکالمہ اور مفاہمت ‘‘ ہے۔ لیکن حالیہ سطح پر تمام فریقین میں

’’بداعتمادی اورعدم برداشت‘‘ کی پالیسی ہے اس سے کیسے باہر نکلا جائے ۔ کوئی کسی کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار نہیں جو بھی تیار ہوتا ہے وہ بات چیت سے قبل ہی اپنی شرائط رکھ کر بات کرنا چاہتا ہے۔پاکستان میں حکومتوں کو بنانے اورگرانے کا کھیل اب فلاپ ہوچکا ہے یا اس کھیل سے جڑے پس پردہ طور طریقے اب بے نقاب ہوچکے ہیں۔ اب ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں ہمیں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ’’نئے رولز آف گیم ‘‘ اختیار کرنے ہونگے۔لیکن اس کے لیے پہلے ہمیں ماضی اور حال کے تضادات سے باہر نکلنا ہوگا اور ہم سب کو یہ ہی طے کرنا ہوگا کہ جمہوری عمل کو مضبوط کرنے کے لیے ہمیں ہر سطح پر سیاسی مہم جوئی سے گریز کرنا ہوگا۔سیاسی مہم جوئی میں جو سازشی کردار کی بنیاد پر کھیل سجایا جاتا ہے اس سے پورے سیاسی نظام کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔سیاسی مہم جوئی سے متاثر محض ہماری سیاست اور جمہوریت ہی نہیں ہوتی بلکہ اداروں کا سیاسی استعمال اور ان پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنا بالخصوص ملکی معیشت یا معاشی معاملات کو پیچھے کے طرف دھکیلنا ہوتا ہے ۔ یہ جو حالیہ قومی بحران ہے اس میں اس وقت سب سے بڑا چیلنج بھی معیشت ہی ہے اوراس سیاسی بحران یا مہم جوئی کے کھیل نے معیشت کو بری طرح ناکام اور دیوالیہ کردیا ہے۔ ہمارے جیسے ملکوں میں جو معیشت کی کمزوری کا سوال ہے اس میں ایک اہم اور بڑا عمل قومی سیاست میں موجود مہم جوئی کا کھیل ہے۔اس کھیل میں ہم معیشت کی قربانی دے کر اپنی سیاست کا بھی بیڑہ غرق کرتے ہیں اور خود معیشت کے مفادات کو بھی پیچھے کی طرف دھکیلتے ہیں۔حالیہ بحران میں بھی ہم کو جو عالمی حمایت معیشت کی بحالی کے تناظر میں نہیں مل رہی اس کی ایک بڑی وجہ بھی پاکستان کے سیاسی معاملات میں عدم استحکام اور غیر یقینی کی صورتحال ہے۔

Categories
آرٹیکلز

کپتان کو صرف وہ انتخابات قابل قبول ہوں گے جن میں صرف کپتان کی جیت اورکامیابی ہو، تو پھر اس بیماری کا علاج کیا ہے ؟ ایک سچا اور کڑوا سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عمر خان جوزوی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔نادان کہتے ہیں کہ فوری یاجلدانتخابات کپتان کابہترین علاج ہے لیکن ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ کپتان کاکوئی علاج نہیں۔کپتان جسم میں سرسے پاؤں تک پھیلنے والی اس ناسورکی طرح ایک ایسی خطرناک اور لاعلاج بیماری ہے

جواب مرتے دم تک پاکستان کے سیاستدانوں اورسیاسی پارٹیوں کاپیچھاکرے گی بلکہ ان کوتڑپاتڑپاکربھی رکھے گی۔ہمارے سیاستدان ہزار نہیں لاکھ کوششوں کے باوجوداس بیماری سے اب جان چھڑانہیں سکیں گے۔یہ کہتے ہیں کہ کپتان کوکھیلنانہیں آتا۔یہ سیاست اورحکومت اس کے بس کی بات نہیں۔ اگریہ سچ ہے توپھرایک سچ یہ بھی ہے کہ اس کپتان نے آپ کوبھی کبھی کھیلنے نہیں دیناہے۔کیونکہ کپتان کاماٹوہی یہ ہے کہ ۔میں نہیں توتم بھی نہیں۔ملک میں اگرفوری انتخابات ہوئے اوراس میں کپتان کامیاب نہ ہوئے تو یاد رکھنا۔کپتان نے دھاندلی کی وہی وہ پرانی والی ٹوکری سر پر اٹھاکر اپنے کھلاڑیوں اور مریدوں سمیت پھرڈی چوک اورآپ کے دروازوں کے آگے خیمے وتمبولگاکر بیٹھ جاناہے اوروہی پرانے والے انداز میں یہ چیخناوچلاناہے کہ میرے پاکستانیو۔ ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ ہمارا ووٹ چوری کیا گیا ہے۔ اس لئے میں ان دھاندلی زدہ انتخابات کوتسلیم نہیں کرتا۔آپ کویادنہیں۔پہلے بھی توچارپانچ سیٹوں کولیکرانہوں نے اسی طرح آسمان سر پر اٹھایا تھاکہ جیسے پورے ملک کے اندرانتخابات میں دھاندلی ہوئی ہو۔سابق وزیراعظم عمران خان جیسے لوگوں کے ساتھ مقابلے اورمیچ کھیلنے سے تو شیطان بھی پناہ مانگتا ہوگا۔ایسے لوگوں کاخیال،وہم اور گمان یہ ہوتاہے کہ اس مٹی اورزمین پران سے زیادہ قابل،ایماندار،امانت دار،محب وطن، مخلص، امیر، کبیر اور بہادر اور کوئی نہیں۔ اسی لئے یہ سمجھتے ہیں کہ میچ کرکٹ کاہویاسیاست کا۔جیت،فتح اورکامیابی ان۔۔ صرف ان کی ہوگی۔لیکن ایسا نہیں۔ جیت،فتح اورکامیابی کے ساتھ شکست،ناکامی اورہاربھی ہے اوراسی ہارنے ایک نہ ایک دن عمران خان جیسے وقت کے ہرسیاسی فرعون کے گلے کاہاربھی بنناہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ کپتان خودبھی اس حقیقت سے بخوبی واقف اورآشنا ہیں۔

خان کوپتہ ہے کہ کرکٹ ہویاسیاست۔ہرباراورہرجگہ صرف جیت نہیں ہوتی۔پھرخودکپتان کی زندگی بھی کئی بارایسی شکست اورناکامی کے سائے میں گزری ہے۔کرکٹ کے ایسے کتنے میچز اورسیاست کے ایسے کتنے مقابلے ہیں جن میں کپتان کوشکست پرشکست کامنہ دیکھناپڑا۔ویسے کابنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کپتان حقیقت کوبھی آسانی کے ساتھ ماننے کے لئے تیارنہیں ہوتے۔سامنے شکست بالکل واضح اورناکامی سوفیصدکنفرم ہی کیوں نہ ہو کپتان پھر بھی ’’میں میں‘‘ میں مگن رہتے ہیں۔لیکن تاریخ کاسبق یہ ہے کہ ہر جگہ ’’میں میں‘‘ والاکام نہیں چلتا۔ کپتان توملک کی حکمرانی اوروزارت عظمیٰ کے لئے بھی ’’میں میں‘‘ سے ہٹ کرکوئی اور بات کرنے اورسننے کے لئے تیارنہ تھے لیکن پھررات بارہ بجے اس ’’میں میں‘‘ کا جو حشر نشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔پر لگتاہے کہ کپتان نے ’’میں میں‘‘ کے اس جنازے سے بھی کوئی عبرت حاصل نہیں کی۔ کپتان کے طور طریقے اور لہجہ بتارہاہے کہ کپتان اب بھی اسی ’’میں میں‘‘ کے خول سے باہرنہیں نکلے ہیں۔ کپتان کے دل ودماغ اوراعصاب پرجب تک ’’میں میں‘‘ کا یہ بھوت سوار رہے گا تب تک فوری انتخابات سے بھی کپتان کاکچھ نہیں ہوگاکیونکہ انتخابات میں اگر ’’میں‘‘ کو شکست ہوگئی توکپتان نے پھر آسمان سر پر اٹھا لینا ہے۔ ایک بات یاد رکھیں ۔ انتخابات جلدہوں یالیٹ لیکن کپتان کو اس ملک میں صرف وہ انتخابات قابل قبول ہوں گے جن میں کپتان صرف کپتان کی جیت اورکامیابی ہو۔ الیکشن میں اگرن لیگ، پیپلزپارٹی یا کوئی اور پارٹی وجماعت کامیاب ہوئی توکپتان نے پھریہی کہناہے کہ میں ایسے انتخابات کومانتاہی نہیں ۔ کرکٹ کاتونہیں پتہ لیکن 2018کے بعدکی سیاست میں کپتان اب صرف

اورصرف جیت وکامیابی کوہی جانتے ہیں۔یہ جیت اورکامیابی کس طریقے سے ہواس سے بھی کپتان کاکوئی سروکارنہیں۔ کپتان کامقصد،کام اورمطلب بس اس جیت وکامیابی سے ہے جس کے بل بوتے پروہ ملک کے وزیراعظم اورحکمران بن جائیں۔ان حالات میں اگرکوئی یہ سمجھتاہے کہ وہ فوری انتخابات کراکے کپتان کوخاموش کرادیں گے تویہ اس کی خام خیالی ہے۔کپتان کے بدلتے تیوراورچیخ وپکاریہ بتارہی ہے کہ یہ بندہ اب اقتداراوروزارت عظمیٰ سے کم کسی چیزپرراضی وخاموش نہیں ہوگا۔اگرکوئی یہ کہتااورسمجھتاہے کہ ملک میں فوری انتخابات سے کپتان ٹھنڈے یاخاموش ہوجائیں گے تووہ ابھی سے یہ بات اورخوش فہمی دل سے نکال لیں۔ کپتان نے کھیلناہے اورنہ کسی کوکھیلنے دیناہے۔ساڑھے تین چارسال یہ کوئی کم عرصہ نہیں پوری دنیانے دیکھ لیاکہ ملک اورحکومت چلاناعمران خان کے بس کی بات نہیں لیکن اس کے باوجودکپتان آرام سے بیٹھنے کے بجائے ان کوششوںمیں لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح دوبارہ انہیں حکومت مل جائے۔ عمران خان کے ساتھ توکوئی نیاکام نہیں ہوا۔اس ملک میں چندکوچھوڑکرباقی تقریباًہروزیراعظم کواسی طرح وقت سے پہلے گھربھیجاگیالیکن ان میں سے کوئی ایک وزیراعظم بھی دوبارہ آنے کے لئے اس طرح بے تاب اوربے قرارنہیں ہواجس طرح دوبارہ وزیراعظم بننے کی خواہش نے کپتان کوبے قرار کر کے پاگل بنادیاہے۔پی ٹی آئی حکومت کی ناقص پالیسیوں اورکپتان کی نااہلی کی وجہ سے ملک جس گرداب میں پھنس کررہ گیاہے۔ان حالات میں اگرملک کے اندرفوری انتخابات ہوبھی گئے تو لگتا نہیں کہ لوگ دوبارہ پی ٹی آئی کوووٹ دے کرکپتان کووزیراعظم بنادیں گے۔یہ تواس ملک کی روایت اورعوام کی عادت ہے کہ وہ آزمائے ہوئے کواتنی جلدی دوبارہ پھر آزمانا پسند نہیں کرتے ۔اس لئے ٹھنڈے دل ودماغ سے اگر سوچااورحالات وواقعات کی روشنی میں انصاف کی نظروں سے دیکھاجائے توموجودہ حالات میں کسی کے پاس بھی کپتان کا کوئی علاج نہیں۔

Categories
آرٹیکلز

شہباز حکومت ان ٹربل : اسٹیبلشمنٹ صرف عمران خان کے لیے نہیں بلکہ موجودہ حکومت کے لیے بھی نیوٹرل ہے ، اب آگے کیا ہو گا ؟ حیران کن تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی معین نوازش اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اِس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے۔خلاص!اِس سے آگے کچھ نہیں ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔کسی کو اگر زرا سا بھی شک یا تشویش ہے تو سری لنکا زیادہ دور نہیں ہے،

وہاں اُس کی معیشت کا جائزہ لے لیں۔ روپےکے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے اور اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی ہے۔ اِن دو اشاریوں سے واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کا ہماری معیشت اور کرنسی پر اعتماد کس حد تک ہے۔معیشت کی طویل تفصیلات میں جانے کی بجائے میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہم نہ صرف دیوالیہ ہو سکتے ہیں بلکہ ہر گزرتے دِن کیساتھ یہ خدشہ زیادہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان اگر دیوالیہ پن کی طرف جاتا ہے تو اِس سے روپے کی قدر شدید کم ہو گی، مہنگائی عروج کو پہنچے گی اور اِنتشار شاید ہمارے سب سے چھوٹے مسائل میں سے ایک ہو۔ اِس دیوالیہ پن سے بچنے کیلئے بہت مشکل فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک یہ مشکل فیصلے نہیں ہوں گے تب تک اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار رہے گی، روپے کی قدر میں مسلسل کمی واقع ہو گی اور ہماری معیشت مستحکم نہیں ہو گی۔اِن مشکل فیصلوں میں سب سے بڑا فیصلہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنے کا ہے۔ اِس وقت حکومت فی لیٹر پیٹرول پر 45.1روپے سبسڈی دے رہی ہے۔ ہمارا ملک جس کے حکومتی اخراجات بھی قرض لے کر پورے کیے جاتے ہیں، ایسی سبسڈی دینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اِسی وجہ سے ہم آئی ایم ایف پروگرام سے باہر ہوئے جبکہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے ناگزیر ہے۔ اِس پروگرام میں شامل ہونے سے ملک کو آئی ایم ایف کیساتھ ساتھ دیگر عالمی اداروں اور ملکوں سے بھی پیسے ملتے ہیں۔

اِس پروگرام میں شامل ہونے سے دنیا کو یہ واضح پیغام جاتا ہے کہ آپ اپنی معیشت کو مسائل کو سنجیدگی سے ٹھیک کر رہے ہیں۔پیٹرول پر ملنے والی سبسڈی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ یہ امیر اور غریب کو برابر مل رہی ہے۔ ایک لینڈ کروزر کا مالک صرف ایک دفعہ اپنی گاڑی کا ٹینک فُل کروانے پر حکومت سے 4200روپے کی سبسڈی لیتا ہے۔ پیٹرول پر کبھی سیاست ہونی ہی نہیں چاہیے تھی لیکن یہ کریڈٹ بھی عمران خان کو جاتا ہے کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی اُنہوں نے پیٹرول پر سیاست کی اور جب اُن کی حکومت جا رہی تھی تو اُنہوں نے پیٹرول پر سبسڈی دے کر اور پاکستان کو آئی ایم پروگرام سے نکال کر معیشت کو نقصان پہنچایا۔ متحدہ اپوزیشن کے حکومت میں آنے سے تو ملک پر کوئی ایٹم بمب نہیں گِرا لیکن عمران خان کے اِس فیصلے سے یقیناً پاکستانی معیشت کو دھچکا لگا تھا۔خان صاحب پیٹرول کی قیمت کے حوالے سے عوام کی غلط رہنمائی کرتے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اُن کے دورِ حکومت میں مَیں اُن کی پیٹرول کی قیمت کے حوالے سے پالیسیوں پر تنقید کرتا تھا کیونکہ اُنہوں نے ہی یہ معیار طے کیا تھا کہ حکومت منی لانڈرنگ روکے اور ٹیکس نیٹ بڑھائے، پھر اُسی پیسے سے پیٹرول سستا رکھے۔ اِس حوالے سے نئی آنے والی حکومت نے اپنی پویزشن یوں خراب کی کہ وہ اقتدار میں آتے ساتھ ہی عوام کو اِن معاشی مسائل سے آگاہ کرنے اور آئی ایم ایف کیساتھ پیٹرول کے سلسلے میں

نیا بیانیہ بنانے کی بجائے فرح خان، گھڑی، توشہ خانے اور ہیلی کاپٹر وغیرہ کے پیچھے لگ گئی ۔ایسے مشکل فیصلے کرنا یقیناً آسان نہیں جبکہ ایسے فیصلوں کی بہت بڑی سیاسی قیمت بھی چکانا پڑ سکتی ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے میں اُس ایک سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں جو بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں آتا ہےکہ اگر ملکی معیشت اِس قدر خراب تھی اور حکومت میں آ کر اِتنے مشکل فیصلے کرنے تھے تو خان صاحب کو گھر بھیج کر حکومت کیوں لی گئی؟ اِس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ خان صاحب اُس وقت کی اپوزیشن اور میڈیا دونوں کو ہی آئوٹ کرنے کا پروگرام بنا بیٹھے تھے۔ یہ پروگرام پیکا آرڈی نینس میں ترامیم سے عمران حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو قید میں ڈالنا اور ساتھ ہی ساتھ اپوزیشن کیخلاف سخت کریک ڈائون کر کے اہم تقرریوں کے ذریعے اپنے 10سالہ اقتدار کو یقینی بنانا تھا۔اِسی منصوبے کو روکنے کیلئے پی ڈی ایم نے یہ مصیبت اپنے گلے ڈالی۔اب اگر یہ مصیبت گلے ڈال ہی لی گئی ہے تو حکومت مشکل فیصلے کیوں نہیں کرتی؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ حکومت کو خان صاحب کا بھی پریشر ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بھی کوئی یقین دہانی نہیں کروائی گئی کہ وہ اِن مشکل فیصلوں میں حکومت کے ساتھ کھڑی ہو گی یا نہیں۔شہباز شریف اوراُن کی حکومت اگر فی الوقت یہ مشکل فیصلے کرکے عوام کی مغلطات کھا بھی لیتی ہے تو اُنہیں اِس کے ازالے اور ملک میں امن قائم رکھنے کیلئے کچھ وقت ضرور چاہیے

ہوگا۔ اگر خان صاحب کے دھرنے کے دوران پیٹرول کی قیمت 250روپے فی لیٹر ہو جاتی ہے تو عوام خان صاحب کیساتھ نہ بھی سہی لیکن پیٹرول کی قیمت کیخلاف ضرور سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ فرانس میں پیلی واسکٹوں والا احتجاج پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے اور مہنگائی میں اضافے کیخلاف ہی کیا گیاتھا جس سے ملک میں کافی انتشار پھیلا تھا۔ فرانس جیسے امیر ملک میں پیٹرول کی قیمت بڑھنے پر اگر احتجاج ہو سکتا ہے تو پاکستان کا آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔اِس لیے اگر ریاستی ادارے ملک و قوم کے مشکل لیکن حقیقی وسیع تر مفاد میں لیے گئے مشکل فیصلوں میں حکومت کیساتھ کھڑے نہیں ہوتے تو شہباز شریف کو یہ مصیبت اپنے سر لینے کی کیا ضرورت ہے؟اسٹاک مارکیٹ میں مندی اور ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ تو ہو ہی رہا ہے لیکن اگر وہ پیٹرول کی قیمت میں بھی اضافہ کردیتے ہیں تو اُنہیں عوام کی طرف سے شدید ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑے گا،لیکن اگر یہی روش اپنائی جاتی ہے تو ملک کا کیا ہو گا؟ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر نئے انتخابات کا اعلان کر دیا جاتا ہے تو آئی ایم ایف 3ماہ کی نگران حکومت کی ساتھ بات چیت کر کے پروگرام بحال نہیں کرے گا جس کی وجہ سے معیشت کو مزید نقصان پہنچے گا،اِس کی بجائےآئی ایم ایف نئی منتخب حکومت سے ہی بات چیت کرے گا ، جس کے پاس اصلاحات کرنے کیلئے بھرپور وقت اور مینڈیٹ دونوں دستیاب ہوں گے۔تو یہ سوچ بھی غلط ہے کہ یہ مشکل فیصلے نگران حکومت سے کروائے جائیں کیونکہ کوئی بھی سیاست جماعت اِس کی قیمت ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگی۔ اور اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو کسی بھی سیاسی کیا غیر سیاسی قوتوں کیلئے بھی ملکی معیشت کو مستحکم کرنا مشکل ہوگا۔اِس لیے اگر ملک اور ملکی معیشت کو بچانا ہے تو جلد سے جلد یہ مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔ اِن مشکل فیصلوں کی سیاسی قیمت چکا کر قربانی تو دینا ہوگی۔اگر اِس مخلوط حکومت کی سیاسی جماعتیں یہ مشکل فیصلے کرکے اپنی سیاسی مقبولیت کی کچھ قربانی دینے کیلئے تیار ہیں تو اُنہیں مکمل قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے اُن کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔

Categories
آرٹیکلز

عمران خان کے گرد تماشائی زیادہ اور انکے ہمدرد اور حمایتی کم ہوتے ہیں ، کپتان کو چاہیے کہ ۔۔۔۔ بزرگ کالم نگار کا خصوصی مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار امر جلیل اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔سردست میرے فاسٹ بالر اور ان کے وزیر اطلاعات حالات پر حاوی نہیں دکھتے۔بہت کچھ ان کے قابو اور اختیار میں نہیں ہے۔ اب اپنے فاسٹ بالر کے بارے میں لکھا جاسکتا ہے بغیر کسی خوف اور خطرے کے۔

موہن جو دڑو کے دور کا وکٹ کیپر ہونے کے ناطے میں خود کو سند یافتہ سمجھتا ہوں کہ فاسٹ بالر سے بات کروں۔ فاسٹ بالر کو مشورے دوں۔ میں نے باوثوق ذرائع سے تصدیق کی ہے کہ دور اقتدار کے دوران فاسٹ بالر کے صلاح کاروں اور مشیروں میں کوئی بھی کرکٹر نہیں تھا۔ کرکٹ کی بات کو چھوڑیں، کوئی ایک بھی فاسٹ بالر کا مشیر کھلاڑی نہیں تھا۔ انہوں نے گلی کوچوں میں گلی ڈنڈے کا کھیل تک نہیں کھیلا تھا۔ میں آپ کو پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ وکٹ کیپر اور فاسٹ بالر ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں۔ ایک دوسرے کو سمجھا سکتے ہیں۔ ایک پتے کی بات بتا دوں آپ کو۔ کسی وکٹ کیپر کا فاسٹ بالر کو سمجھنے کے لیے ایک ہی دور میں، ایک ہی ٹیم کے لیے، ایک ساتھ کھیلنا ضروری نہیں ہے۔ ایک گھاگ وکٹ کیپر دوسرے کسی دور کے فاسٹ بالر کو دیکھتے ہی اسے پہچان لیتا ہے۔ اسکے ظاہر اور باطن کا تجزیہ کرلیتا ہے۔ میرے گھاگ ہونے کی تصدیق اس بات سے زیادہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ میں موہن جو دڑو کے دور کا وکٹ کیپر رہ چکا ہوں۔ اس سے پہلے کہ میرے کالم کی گنجائش ختم ہوجائے اور گیند بائونڈری پارکرجائے، میں اپنے فاسٹ بالر کو کچھ مشورے دینا چاہتا ہوں۔1۔ آپ نے بذات خود میچز میں نیوٹرل، غیر جانبدارامپائرز کا تقاضا کیاتھا۔ آج تک دنیا بھر میں کھیلے جانے والے میچز میں نیوٹرل امپائر امپائرنگ کرتے ہیں۔ وہ جانور نہیں ہوتے۔ آپ کی طرح آدمی ہوتے ہیں۔ فٹ بال میچز کے ریفری نیوٹرل ہوتے ہیں۔ مگر وہ جانور نہیں ہوتے۔ آدمی ہوتے ہیں۔ بندے دے پتر ہوتے ہیں۔ 2۔ ہر عقیدے کے سیانوں نے ایک ہی تلقین کی ہےکہ آدمی کو کم بولنا چاہیے۔ خوا ہ مخواہ بولتے چلے جانے سے گریز کرنا چاہیے۔ کون جانے کب آپ کے منہ سے ایک نازیبا بات نکل جائے اور بن بلائی بلا آپ کے گلے پڑ جائے۔3۔ لوگوں کو ایک ہی بات بار بار سنانے سے آپ لوگوں کو بور کرتے ہیں۔ لڈو چاہے موتی چور کا ہو، آپ روزانہ صبح شام، رات موتی چور کے لڈو نہیں کھا سکتے یا کسی کو نہیں کھلا سکتے۔4۔ ایک بات یادرکھیں کہ آپ کے اردگرد تماشائی زیادہ اور آپ کے ہمدرد اور حامی کم ہوتے ہیں۔ وہ لوگ ٹھمکے لگانے اور تقریر کے دوران بجنے والی موسیقی پر ناچنے آتے ہیں۔ یہ جو آپ جم غفیر دیکھتے ہیں اور اپنا سر بادلوں سے اونچا محسوس کرتے ہیں، یہ لوگ آپ کے ووٹر نہیں ہیں۔ 5۔ آخری بات۔ ایک اوور Overمیں آپ چھ بائونسر نہیں ڈال سکتے۔ امپائر آپ کو ایسا کرنے نہیں دےگا۔

Categories
آرٹیکلز

ماہرین نے گھروں و کمروں کی سفید رنگ کی چھتوں کا حیران کن فائدہ سامنے رکھ دیا

لندن (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک معلوماتی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عمارت کی چھت کو سفید رنگ کرنے سے سورج کی گرمی اس پر پڑ کر واپس ہو جاتی ہے جو درجۂ حرارت کم کرنے کا سب سے درست طریقہ ہے لیکن یہ طریقۂ کتنا موثر ہے

اور اس کے منفی اثرات کیا ہیں؟اقوامِ متحدہ کے سابق جنرل سیکریٹری بان کی مون نے حال ہی میں بی بی سی کو ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ یہ 30 ڈگری تک کم ہو سکتا ہے اور گھر کے اندر کا درجۂ حرارت سات ڈگری تک گر سکتا ہے۔یہ اعداد و شمار کہاں سے آئے اور کون سی تحقیق انھیں درست ثابت کرتی ہے؟بانکی مون انڈیا کی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں جاری ایک پائلٹ پروجیکٹ کی بات کر رہے تھے۔ احمد آباد میں گرمیوں میں درجۂ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔سنہ 2017 میں شہر بھر کی تین ہزار سے زیادہ چھتوں کو سفید رنگ کا خاص پینٹ لگایا گیا۔یہ چھت ٹھنڈا کرنے کا ایسا عمل ہے جو سورج سے پیدا ہونے والی گرمی کو کم کرتا ہے تاکہ کم سے کم گرمی عمارت کے اندر پہنچے۔جتنی گرمی عمارت نے جذب کی، چھت ٹھنڈا کرنے کا یہ عمل اس گرمی کو باہر نکال کر درجۂ حرارت کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔اس پروجیکٹ کی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ منعکس کرنے والی چھت کی یہ تہہ چھت کا درجۂ حرارت 30 سینٹی گریڈ جبکہ گھر کے اندر کا درجۂ حرارت تین سے سات ڈگری تک کم کر سکتی ہے۔امریکہ میں قدرتی وسائل کے بچاؤ کے ادارے سے منسلک انجلی جیسوال احمد آباد پروجیکٹ کے معائنے کے بعد کہتی ہیں ’اس کا انحصار ترتیب پر ہے لیکن عام گھروں کے مقابلے میں چھت ٹھنڈا کرنے کا یہ عمل گھر کے اندرونی درجۂ حرارت کو دو سے پانچ ڈگری

تک کم کرنے میں مدد گار ہے۔‘یہ بانکی مون کے اندازے سے کچھ کم لیکن پھر بھی اہم ہے۔انڈیا کی جنوبی ریاست حیدرآباد میں جاری ایک اور پائلٹ پروجیکٹ میں چھت ٹھنڈا کرنے کے لیے جھلی دار شیٹ استعمال کی گئی ہے جس سے گھر کے اندر کا درجۂ حرارت باہر کے مقابلے میں دو ڈگری سے بھی کم پایا گیا۔جہاں تک درجۂ حرارت کے 30 ڈگری تک گرنے کا سوال ہے تو گجرات کے پائلٹ پروجیکٹ میں اس کا کوئی جواب نہیں ملا لیکن امریکی ریاست کیلیفورنیا کی برکلے لیبارٹری میں ایسے نتائج سامنے آئے ہیں۔تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ سفید چھت سے 80 فیصد تک روشنی ٹکرا کر واپس ہو جاتی ہے اور سخت گرمیوں کے دنوں کے میں یہ چھت 31 ڈگری تک درجۂ حرارت کم کر سکتی ہے۔یقیناً کیلیفورنیا کے حالات انڈیا سے مختلف ہوں گے۔ وہاں 60 فیصد سے زیادہ چھتوں کی تعمیر میں دھات، ایسبسٹوس اور کنکریٹ استعمال کیا جاتا ہے جس میں سفید پینٹ کی تہہ کے باوجود گرمی عمارت کے اندر ہی موجود رہتی ہے۔تاہم احمد آباد اور حیدر آباد جیسے انڈین شہروں میں چلنے والے پائلٹ منصوبوں میں کامیابی دیکھی گئی۔تو مزید شہروں کی زیادہ سے زیادہ چھتوں پر سفید پینٹ کیوں نہیں کیے جا رہے ہیں؟ آئیڈیا نیا نہیں، صدیوں سے جنوبی یورپ اور شمالی افریقی ممالک میں سفید چھتیں اور دیواریں دیکھی جا رہی ہیں۔حال ہی میں نیویارک شہر کے 10 ملین مربع فٹ چھتوں پر سفید پینٹ کیا گیا۔کیلیفورنیا جیسی جگہوں پر سرد چھتوں کو فروغ دینے کے لیے بلڈنگ کوڈز کو اپ ڈیٹ کیا گیا۔ اسے توانائی بچانے کا اہم طریقہ سمجھا جا رہا ہے۔

ٹھنڈی چھتیں آپ کے ایئر کنڈیشنگ بل کو بھی 40 فیصد تک کم کر سکتی ہیں۔بھوپال میں کیے گئے ایک تجربے میں معلوم ہوا کہ ایسی عمارتیں جو کم اونچائی پر ہوں ان میں سورج کی روشنی منعکس کرنے والا پینٹ زیادہ سے زیادہ گرمی میں 303 کلو واٹ تک توانائی بچا سکتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق اگر چھت ٹھنڈا کرنے کے پینٹ کو دنیا بھر میں ہر چھت پر استعمال کیا جائے تو اس سے عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی کا امکان ہے۔برکلے لیبارٹری کا کہنا ہے کہ سورج کی روشنی کو واپس پلٹانے والی کنکریٹ چھت 24 گیگاٹن تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ٹھنڈا کر سکتی ہے۔یہ ایسے ہی ہے جیسے 20 سال کے لیے 300 ملین گاڑیاں سڑکوں سے ہٹا لی جائیں۔ یقینی طور پر یہ کم قیمت والا آپشن ہے، خاص طور پر غریب ملکوں کے لیے۔جیسوال کا کہنا ہے ’روشنی منعکس کرنے والے مہنگے پینٹ یا چھت ٹھنڈا کرنے والی جھلی دار شیٹ کے مقابلے میں چونے کی ایک تہہ کی قیمت محض ڈیڑھ روپیہ فی فٹ ہے۔‘وہ کہتی ہیں ’ذاتی آرام، توانائی کی بچت اور ٹھنڈا کرنے کے درمیان فرق بہت اہم ہے تاہم سیاسی عزم کے فیصلوں پر عمل درآمد کی بہت اہمیت ہے۔‘جیسوال کہتی ہیں کہ ’ہاں، اس کے چند منفی پہلوؤں پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔‘جن شہروں میں سردی زیادہ پڑتی ہو یا جہاں سردی کا موسم ہو وہاں چھتوں کو گرم کرنے ضرورت پیش آ سکتی ہے لیکن ایسا کرنے میں ان چھتوں سے پڑنے والے دباؤ کا ایک قدرتی خطرہ بھی موجود ہے۔اس وجہ سے یونیورسٹی کالج لندن کی ٹیم نے نئی دہلی میں بحالی کے تعمیراتی منصوبے میں سفید پینٹ کا استعمال نہیں کیا۔نئی دہلی سینٹر کے اربن اور ریجنل اتھارٹی کے مرکز میں رینو کھوسلا کہتے ہیں کہ ’یہاں رہنے والے ان کی چھتوں کو سفید پینٹ کرنے کے خلاف تھے کیونکہ ان کی چھتوں کو کئی دوسرے کاموں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’روشنی منعکس کرنے والا یہ پینٹ کرنے کے بعد چھت کو دیگر کاموں یا روزمرہ کے لیے استعمال کرنا مشکل ہے۔‘

Categories
آرٹیکلز

تاج محل کے تہہ خانوں میں موجود بند کمروں میں کیا راز چھپے ہیں ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

نئی دہلی (ویب ڈیسک) نامور صحافی سوتک بسواس کی بی بی سی کے لیے ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔کیا دنیا کی سب سے بڑی یادگاروں میں سے ایک کے قفل شدہ تہہ خانوں میں کوئی راز چھپا ہے؟ انڈیا میں ہائی کورٹ سے تعلق رکھنے والے جج ایسا نہیں سوچتے۔جمعرات کو انھوں نے انڈیا کی حکمران

جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک رکن کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کو مسترد کر دیا گیا، جس میں تاج محل کے 20 سے زیادہ ’مستقل طور پر بند کمروں‘ کے دروازے کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ ’یادگار کی حقیقی تاریخ‘ کا پتا لگایا جا سکے۔رجنیش سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ وہ ’تاریخ دانوں اور عبادت گزاروں کے دعوؤں‘ کی تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ کمروں میں ہندو دیوتا شیو کا مزار ہے۔تاج محل آگرہ شہر میں 17ویں صدی کے دریا کے کنارے کا ایک مقبرہ ہے جسے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی ملکہ ممتاز کی یاد میں تعمیر کرایا تھا جو اپنے 14 ویں بچے کو جنم دیتے وقت فوت ہو گئی تھیں۔حیرت انگیز یادگار جو اینٹوں، سرخ ریت کے پتھر اور سفید سنگ مرمر سے تعمیر کی گئی، یہ اپنی پیچیدہ جالیوں کے کام کے لیے مشہور ہے اور انڈیا کے سب سے بڑے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے لیکن تسلیم شدہ تاریخ بی جے پی رہنما کے لیے قابل قبول نہیں۔انھوں نے عدالت سے استدعا کی ’ہم سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کمروں کے پیچھے کیا ہے۔‘بہت سے مقفل کمرے جن کی جانب رجنیش سنگھ اشارہ کر رہے ہیں وہ مقبرے کے زیر زمین چیمبر میں واقع ہیں اور یادگار کی سب سے زیادہ مستند دستاویزی تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ وہاں کچھ زیادہ نہیں۔تاج محل کی مجسٹریل سٹڈی کی مصنفہ ایبا کوچ نے اپنی تحقیق کے دوران تاج محل کے کمروں اور گزرگاہوں کا دورہ کیا اور ان کی تصویر کشی کی۔یہ کمرے گرمی کے مہینوں

میں تہہ خانے یا زیر زمین کوٹھری کا حصہ ہوتے تھے۔ یادگار کے دریا کے رخ پر برآمدے میں ایک گیلری ’کمروں کے ایک سلسلے‘ پر مشتمل ہے۔ ایبا کوچ کو 15 کمرے ملے جو دریا کے رخ کے ساتھ ایک قطار میں ترتیب سے تعمیر کیے گئے اور ایک تنگ راہداری یہاں تک جاتی ہے۔سات بڑے کمرے تھے جن میں ہر طرف طاق بنے ہوئے تھے، چھ مربع کمرے اور دو بڑے کمرے اصل میں خوبصورت محرابوں کے ذریعے دریا کا منظر دیکھنے کے لیے ہیں۔انھوں نے دیکھا کہ کمروں میں ’سفیدی کے نیچے پینٹ شدہ نقش و نگار کے اثرات ہیں۔ کمروں کی چھت پر خوبصورت دائروں میں نقش و نگار ہیں اور چھت کے بیچ میں جالی دار نمونے‘ تھے۔ایشین آرٹ کی پروفیسر کوچ کے مطابق ’یہ ایک خوبصورت ہوا دار جگہ ہے، جو شہنشاہ، ان کی خواتین اور ان کے رفقا کو مقبرے کی زیارت کے دوران ایک ٹھنڈی آرام گاہ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اب اس میں قدرتی روشنی نہیں۔‘ایسی زیر زمین گیلریاں مغل فن تعمیر میں جا بجا ملتی ہیں۔ سرحد پار پاکستان کے شہر لاہور میں مغلیہ دور کے ایک قلعہ میں، دریا کے رخ پر قائم اس طرح کے کمروں کا ایک سلسلہ ہے۔امیتا بیگ، ایک انڈین کنزرویٹر ہیں، جنھوں نے تقریباً 20 سال قبل اس جگہ کا دورہ کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ شاہ جہاں اکثر دریائے جمنا پر کشتی کے ذریعے تاج محل پہنچتے تھے اور سیڑھیوں یا گھاٹوں کے ایک وسیع سلسلے سے ہوتے ہوئے مقبرے میں داخل ہوتے تھے۔

جب میں نے اس جگہ کا دورہ کیا تو مجھے خوبصورتی سے پینٹ کی گئی راہداری کا خیال آیا۔ مجھے ایک بڑی جگہ میں کھلنے والی راہداری یاد ہے۔ یہ واضح طور پر شہنشاہ کی گزرگاہ تھی۔‘آگرہ میں پرورش پانے والی اور دلی میں مقیم مورخ رانا صفوی کو یاد ہے کہ زیر زمین کمرے سنہ 1978 میں آنے والے سیلاب تک زائرین کے لیے کھلے تھے۔وہ کہتی ہیں کہ ’پانی یادگار میں داخل ہو گیا تھا، زیر زمین کچھ کمروں میں گڑھے اور کچھ دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ اس کے بعد حکام نے کمروں کو عوام کے لیے بند کر دیا تھا۔ ان میں کچھ بھی نہیں۔‘ بحالی کا کام کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً کمرے کھولے جاتے ہیں۔ان افسانوں میں شاہ جہاں کی موجودہ یادگار کے بالمقابل ’سیاہ تاج‘ بنانے کے منصوبے شامل ہیں اور یہ بھی کہ تاج محل ایک یورپی معمار نے بنایا تھا۔کچھ مغربی سکالرز کا کہنا ہے کہ یہ مسلم معاشروں میں خواتین کے کمتر مقام کی وجہ سے کسی عورت کے لیے نہیں بنایا جا سکتا تھا، ایسا کہنے والے سکالروں نے اسلامی دنیا میں خواتین کے لیے بنائے جانے والے دیگر مقبروں کو نظر انداز کر دیا ہے۔یادگار پر پرجوش گائیڈ سیاحوں کو یہ کہانیاں سناتے ہیں کہ کس طرح شاہ جہاں نے عمارت مکمل ہونے کے بعد معمار اور مزدوروں کو زندگی سے محروم کیا۔انڈیا میں ایسے بے شمار افسانے ہیں کہ تاج اصل میں ایک ہندو مندر تھا، جو شیو کے لیے وقف تھا۔ سنہ 1761 میں ایک ہندو بادشاہ سورج مل کے آگرہ فتح کرنے کے بعد، ایک درباری پجاری نے تاج کو مندر میں تبدیل کرنے کا مشورہ دیا۔پی این اوک، جنھوں نے سنہ 1964 میں ہندوستانی تاریخ کو دوبارہ لکھنے کے لیے ایک انسٹیٹیوٹ کی بنیاد رکھی، نے ایک کتاب میں کہا کہ تاج محل درحقیقت شیو مندر تھا۔سنہ 2017 میں بی جے پی رہنما سنگیت سوم نے تاج محل کو ہندوستانی ثقافت پر ایک ’دھبہ‘ قرار دیا کیونکہ اسے ’غداروں نے بنایا تھا‘۔اس ہفتے، دیا کماری، ایک بی جے پی ایم پی، نے کہا کہ شاہ جہاں نے ایک ہندو شاہی خاندان کی ملکیتی ’زمین‘ پر قبضہ کر لیا اور یادگار تعمیر کرائی۔رانا صفوی کہتی ہیں کہ ان نظریات نے گذشتہ ایک دہائی یا اس سے زیادہ عرصے میں دائیں بازو کے ایک طبقے کے درمیان نئی مقبولیت حاصل کی ہے۔وہ کہتی ہیں ’دائیں بازو کے ایک طبقے کو جعلی خبروں، جھوٹی تاریخ اور ہندوؤں کے نقصان اور مظلومی کے احساس سے پروان چھڑایا جاتا ہے‘ یا جیسا کہ ایبا کوچ کہتی ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ تاج کے بارے میں افسانے اس پر سنجیدہ علمی تحقیق سے کہیں زیادہ ہیں۔‘

Categories
آرٹیکلز

بچپن سے پچپن تک کا سفر : مادھوری ڈکشت کی زندگی کی عجیب وغریب کہانی ، بی بی سی کی زبانی

’لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی پرادیپ سردنا کی بی بی سی کے لیے ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔یہ ہماری فلم ابودھ کی مرکزی اداکارہ مادھوری ڈکشٹ ہیں۔‘ آج سے تقریباً 38 سال پہلے راج شری پروڈکشن کے معروف پروڈیوسر سیٹھ تاراچند برجاتیا نے میرا تعارف مادھوری ڈکشٹ سے اس طرح کرایا۔ جب میں

ممبئی میں سیٹھ جی سے ان کے آفس میں ملنے گیا تو مادھوری ان کے سامنے بیٹھی تھی۔وہ بہت شرمیلی لگ رہی تھیں لیکن اگلے ہی لمحے وہ زور سے ہنس پڑیں۔میں نے سوچا کہ راج شری کے لوگوں نے یہ کیسی لڑکی لے لی ہے۔ اتنی دبلی پتلی، جس کے گال بھی دھنسے ہوئے تھے۔ اس میں مرکزی اداکارہ جیسا کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔لیکن اس ملاقات کے تقریباً پانچ سال بعد وہی مادھوری ڈکشٹ اپنی فلم ’دل‘ سے کروڑوں دلوں کی دھڑکن، دھک دھک گرل بن گئی تھیں اور میرا اندازہ غلط ثابت ہوا تھا۔مادھوری کی سادگی دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ یہ لڑکی نہ صرف اپنی اداکاری بلکہ خوبصورتی اور انداز سے بھی کروڑوں کو اپنا دیوانہ بنا لے گی۔ اپنے جذبے، محنت، رقص اور ہنر کے بل بوتے پر مادھوری طویل عرصے تک سکرین پر چھائی رہیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ مادھوری کا یہ جادو آج بھی برقرار ہے۔ اب جبکہ مادھوری اپنے فلمی کیرئیر کے 38 سال مکمل کر کے 55 سال کی ہو گئی ہیں، تب بھی ان کے مداح انہیں وہی پیار دے رہے ہیں جو ان کو برسوں پہلے ملتا تھا۔مادھوری کی اس سالگرہ پر ہم آپ کو مادھوری کے بچپن سے پچپن تک کے سفر کی وہ جھلک دکھاتے ہیں جس کی وجہ سے مادھوری اس صدی کی 10 ٹاپ ہیروئنز میں شان سے بیٹھی ہیں۔حالانکہ مادھوری کے پاس آج نئی فلموں کی کمی ہے، اس کے باوجود مادھوری کے جادو میں کوئی کمی نہیں آئی۔مادھوری ڈکشٹ 15 مئی 1967 کو ممبئی کے

ایک مراٹھی برہمن گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ والد شنکر ڈکشٹ پیشے کے لحاظ سے انجینئر تھے اور والدہ سنیہلتا ڈکشٹ گھریلو خاتون ہونے کی وجہ سے کلاسیکی رقص اور گانے میں بہت دلچسپی رکھتی تھیں۔مادھوری کی پیدائش سے پہلے ہی ڈکشٹ خاندان میں تین بچے آچکے تھے۔ مادھوری اپنے چار بہن بھائیوں روپا، بھارتی اور اجیت میں سب سے چھوٹی ہیں۔ماں سنیہلتا نے پہلے روپا اور بھارتی کو کتھک ڈانس سکھایا۔ جب مادھوری تین سال کی تھیں تو انھوں نے کتھک ڈانس کلاس میں داخلہ لیا اور 11 سال کی عمر میں کتھک میں ماہر ہو گئیں۔دوسری جانب مادھوری نے سکول کی تعلیم کے لیے ڈیوائن چائلڈ ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ مادھوری بچپن سے ہی پڑھاکو قسم کی لڑکی تھیں۔ ساتھ ہی کتھک رقص ان کا جنون بن چکا تھا۔وہ اپنی بہن کے ساتھ سکول کے ثقافتی پروگراموں میں رقص کرتی تھیں۔ آٹھ سال کی عمر میں اس وقت ان کا جوش بڑھ گیا جب گرو پورنیما کے تہوار کے دوران رقص کرنے کے بعد ایک دن ان کا نام پہلی بار اخبار میں آیا۔اگرچہ مادھوری نے گریجویشن کے لیے پارلے کالج میں بی ایس سی میں داخلہ لیا تھا، لیکن فلموں کی وجہ سے انھوں نے اپنی پڑھائی جلد ہی درمیان میں چھوڑ دی۔جب مادھوری 17 سال کی ہوئی تو ان کی صلاحیتوں کو ہدایت کار گووند مونس نے دیکھا۔ ان کی ملاقات تاراچند برجاتیا اور ان کے بیٹے راجکمار برجاتیا سے ہوئی۔ کچھ ہی عرصے بعد وہ ان کی فلم ابودھ کی مرکزہی اداکارہ بن گئی تھیں۔ہرن ناگ کی ہدایت کاری میں بنی

فلم میں مادھوری گوری نامی ایک نوجوان خاتون کا کردار ادا کر رہی تھیں اور مرکزی کردار تاپس پال تھا۔ راجشری پروڈکشن نے اس وقت تک کئی شاندار کامیاب فلمیں بنائیں تھیں لیکن 1980 کی دہائی میں ان کی کئی فلمیں لگاتار فلاپ ہو گئیں۔ابودھ‘ کا تو اتنا برا حال ہوا کہ اسے پورے ملک میں دکھایا ہی نہیں جا سکا تھا۔ اس سے مادھوری کو بہت دکھ ہوا۔ کیریئر کے ابتدائی دنوں میں مادھوری سے میں نے پوچھا تھا کہ کیا آپ بچپن سے اداکارہ بننا چاہتی ہیں؟اس پر مادھوری نے بہت صاف جواب دیا کہ میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی لیکن گووند مونس انکل سے ہماری اچھی واقفیت تھی، ان کے کہنے پر فلم کی، تب ہی مجھے ایل وی پرساد کی سواتی میں کام کرنے کا موقع مل گیا اور میری فلموں میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔اگرچہ مادھوری کو ابودھ کے بعد آوارہ باپ، سواتی، حفاظت، اتر دکشن اور خطروں کے کھلاڑی جیسی فلمیں ملیں، لیکن ان کی سات فلمیں قطار میں فلاپ ہوئیں۔اس ناکامی سے مادھوری بری طرح ٹوٹ گئیں۔ ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے مادھوری کہتی ہیں ’میں گھر میں بہت روتی تھی لیکن ماں، میری بہنوں نے مجھے ہمت دی۔ ماں کہتی تھیں کہ پریشان نہ ہو، ایک دن تم ضرور کامیاب ہو گی۔‘ماں کی باتیں پھر معجزہ بن کر سچ ثابت ہوئیں جب ان کی فلم تیزاب 1988 میں ریلیز ہوئی۔ فلم نے کامیابی سمیٹی اور ان کے ڈانسنگ ٹیلنٹ کو سراہا گیا۔ جب مادھوری نے موہنی کے طور پر فلم کے ایک گانے

ایک دو تین پر ڈانس کیا تو پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔اس گانے کا جادو اور فلم میں مادھوری کا ڈانس لاجواب تھا۔ مجھے وہ مناظر آج بھی یاد ہیں، جب یہ گانا آیا تو تھیٹر میں بیٹھے لوگ اپنی نشستوں سے اٹھ کر ناچنے لگے۔ بہت سے تماشائی تو رقص کرتے اسکرین کے سامنے پہنچ کر سکے اور نوٹوں کی بارش شروع کر دیتے تھے۔اس گانے کی وجہ سے ہندی نہ جاننے والوں کو بھی ہندی کی گنتی یاد آ گئی تھی۔ بس تیزاب نے مادھوری کی قسمت بدل دی۔ مادھوری کی اس کامیابی نے ان کے اعتماد میں اضافہ کیا۔ ان کو یقین ہو گیا کہ اب وہ آگے بڑھ کر رہیں گی۔تیزاب کے ساتھ اسی سال ان کی ایک اور فلم نے بھی دھوم مچا دی۔ پروڈیوسر فیروز خان کی اس فلم میں مادھوری ڈکشٹ کے گانے آج پھر تم پے پیار آیا ہے کے مناظر نے بھی ان کو سرخیوں میں پہنچا دیا۔مادھوری کو ان مناظر کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ بعد میں مادھوری نے افسوس کا اظہار کیا۔ مادھوری کے پورے کیرئیر میں یہ واحد فلم ہے جس میں انھوں نے ایک حد کراس کی ورنہ مادھوری ایسے مناظر سے گریز ہی کرتی رہیں۔اس کے بعد مادھوری نے آہستہ آہستہ ہندی سنیما کو اپنی گرفت میں لینا شروع کر دیا۔ سبھاش گھئی نے فلم رام لکھن میں مادھوری کو اس سے بھی زیادہ شان و شوکت سے دکھایا کہ اب وہ سپر سٹار بن چکی ہیں۔ادھوری اپنے 38 سالہ فلمی کیریئر میں اب تک تقریباً 70 فلمیں کر چکی ہیں

جن میں دل، پرندہ، کھل نائیک، ہم آپ کے ہیں کون، انجام، دل تو پاگل ہے، پکار اور دیوداس جیسی ہٹ فلمیں شامل ہیں۔جہاں مادھوری ڈکشٹ نے اپنے کریئر میں کل چھ فلم فیئر ایوارڈ حاصل کیے ہیں، وہیں 17 بار فلم فیئر میں نامزد ہو کر کئی بڑی اداکاراؤں کو پیچھے چھوڑ چکی ہیں۔ 2008 میں حکومت ہند نے انہیں پدم شری سے بھی نوازا۔مادھوری ڈکشٹ کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا جب انھوں نے 17 اکتوبر 1999 کو امریکہ میں اپنے بھائی کے گھر پر انڈین نژاد ڈاکٹر سری رام مادھو نینے سے شادی کی۔ جب ان کی شادی کی خبر انڈیا پہنچی تو بہت سے لوگ حیران رہ گئے۔اب تو کئی ہیروئنز نے بیرون ملک شادی کا رواج شروع کر دیا ہے۔ اس فہرست میں پریانکا چوپڑا کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔لیکن تب یہ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ مادھوری اپنی کامیابی کے عروج پر اچانک شادی کر لیں گی۔ وہ بھی کسی ایسے شخص سے جو نہ تو فلم انڈسٹری سے تھا، نہ ہی بزنس اور کرکٹ کی دنیا سے۔تاہم مادھوری نے کچھ دنوں بعد ممبئی واپس آ کر شادی کا استقبالیہ دیا جس میں مہاراشٹر کے اس وقت کے وزیر اعلی اور شیو سینا کے سربراہ بالا صاحب ٹھاکرے سمیت امیتابھ بچن، دلیپ کمار، سائرہ بانو، سری دیوی اور بونی کپور سمیت کئی لوگ آئے۔مادھوری ڈکشٹ کی شادی کے وقت ان کی عمر 32 سال تھی۔ شادی کے بعد مادھوری کچھ دن ممبئی میں رہیں اور اپنی ادھوری فلموں کی عکسبندی مکمل کی۔ اس کے بعد وہ فلموں سے ریٹائر ہو کر واپس امریکہ چلی گئیں

جہاں 17 مارچ 2003 کو انھوں نے اپنے پہلے بچے بیٹے ریان کو جنم دیا۔ اس کے بعد 8 مارچ 2005 کو ان کے ہاں ایک اور بیٹا ایرن پیدا ہوا۔شادی کے سات سال بعد ریٹائرمنٹ ترک کر کے مادھوری دوبارہ فلموں میں کام کرنے کے لیے اس وقت انڈیا واپس آئیں جب یش چوپڑا نے ان کو فلم ‘آجا نچلے’ کے لیے بلایا۔جب مادھوری ایرن کو گود میں لے کر ممبئی ایئرپورٹ سے باہر آئیں تو پہلے تو کسی نے ان کو پہچانا ہی نہیں۔ لیکن تھوڑی دیر بعد جب ان کو پہچان لیا گیا تو ان کے لیے اپنی گاڑی تک پہنچنا مشکل ہوگیا۔جب مادھوری کی فلم آجا نچلے فلاپ ہوئی تو انھوں نے پھر کچھ عرصے کے لیے خود کو فلموں سے دور کر لیا۔ وہ سونی چینل کے ٹی وی شو جھلک دکھلا جا کے لیے 2010 میں کچھ وقت کے لیے ممبئی واپس آئیں۔اگر آپ مادھوری ڈکشٹ کی اداکاری، ڈانس، ہنسی، خوبصورتی کو دیکھیں تو وہ مدھوبالا سے تھوڑی قریب نظر آتی ہیں۔ ڈانس میں ان کو وجینتی مالا اور ہیما مالنی کے ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔لیکن بڑی بات یہ ہے کہ پہلے نئی اداکارائیں مینا کماری، مدھوبالا، نرگس جیسی بننا چاہتی تھیں۔ اب کئی نئی اداکاراؤں کا کہنا ہے کہ وہ مادھوری ڈکشٹ کی طرح کا بننا چاہتی ہیں۔مادھوری اکتوبر 2011 میں امریکہ چھوڑ کر خاندان کے ساتھ ممبئی واپس آ گئیں۔حال ہی میں انھوں نے اپنا نیا اپارٹمنٹ خریدا ہے۔ ان کے پاس فلمیں نہیں ہیں، لیکن اس بات کی ان کو کوئی فکر نہیں۔وہ کلرز کے ڈانس دیوانے میں جج بن کر اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہیں۔ مادھوری نے نیٹ فلکس تھرلر ویب سیریز دی فیم گیم کرنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔اس کے ساتھ انھوں نے اپنی فلمیں بنانے کی بھی تیاری کر لی ہے۔بطور پروڈیوسر ان کی مراٹھی فلم 15 اگست بھی سال 2019 میں ریلیز ہوئی۔ وہ مستقبل کے لیے کچھ سکرپٹس پر بھی کام کر رہی ہیں۔(بشکریہ : بی بی سی )

Categories
آرٹیکلز

(ن) لیگ والے برے پھنسے : اگلے الیکشن میں عمران خان سرخرو جبکہ شہباز شریف اینڈ کمپنی عوامی کٹہرے میں کھڑی ہو گی ۔۔۔۔۔ ایک حیران کن سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد محمود اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں حکمران اتحاد بھی مہنگائی کے طوفان کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ پی ڈی ایم بھا ن متی کا ایک کنبہ ہے لہٰذا طرح طرح کی بولیاں اس کے پلیٹ فارم سے بولی جارہی ہیں۔

پی پی پی اورجمعیت علما اسلام کا موقف ہے کہ سبسڈی ختم نہ کی جائے۔ نون لیگ بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف کا مینڈیٹ ہی یہ ہے کہ وہ معیشت کو سنبھالا دیں گے لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ سبسڈی ختم کردی جائے تاکہ سرکاری خزانہ میں کچھ روپیہ جمع ہوسکے اور آئی ایم ایف بھی قرض دینے پر آمادہ ہو۔ اس کے برعکس پی پی پی اور جے یو آئی کو پٹرول بم گرانے سے عوامی ردعمل کا خوف بے کل کیے ہوئے ہے۔ حکمران اتحاد کے اندر پائے جانے والے تضادات اور متحارب سیاسی مفادات بھی اسے متفقہ حکمت عملی اختیار نہیں کرنے دیتے۔مخمصے کا شکار حکومت اب تشد د اور گرفتاریوں کا سوچ رہی ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ ان کو زندگی سے محروم کرنے کا منصوبہ بن چکا ہے۔ پاکستان میں مقبول عوامی لیڈروں کوبرداشت نہیں کیا جاتا۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو کو رات کے اندھیرے میں تختہ دار پر پہنچا دیا گیا ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو دن دیہاڑے لیاقت باغ میں زندگی سے محروم کر دیا گیا۔ شواہد مٹانے کے لیے وہ جگہ بھی دھو دی گئی جہاں واقعہ ہوا ۔ امکانی گواہ بھی راتوں رات زندگی سے محروم ہوگئے ۔ بے نظیر کی موت کے بعد پانچ برس پی پی پی نے حکومت کی۔ بے نظیر کے مجرموں کوپکڑنے کے بجائے زرداری صاحب نے کہا :’’ جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘۔عمران خان کا مقابلہ سیاسی میدان میں کیا جانا چاہیے۔ بیانیہ کا مقابلہ زیادہ موثر اور مقبول بیانیہ سے کریں۔ جلسہ کا جواب اس سے بڑا جلسہ کرکے دیں۔ سیاسی آئیڈیاز کو پابندیاں لگا کر قید نہیں جاسکتا۔ اگرپی ڈی ایم کے پاس عوام کو دینے اور کہنے کو کچھ بہتر ہے تو وہ گھروں سے نکلیں۔ گرم لو میں جلد کی خرابی کی پروا نہ کریں۔عوام کے پاس جائیں۔ لوگوں کو عمران خان کے طرزحکمرانی پر بہت سارے اعتراضات تھے لیکن اب وہ بھول چکے کہ عمران خان نے کیا غلط کیا تھا۔ اب کٹہرے میں نون لیگ، پی پی پی اور جے یو آئی ایف ہے ۔ اگلے عام الیکشن میں عمران خان کو اپنی کارکردگی کا حساب نہیں دینا بلکہ وزیراعظم شہباز شریف کو دینا ہے کہ آٹا، دال، چینی مہنگی کیوںہوئی؟حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم شہبار شریف جنہوں نے پنجاب میں ایک مضبوط حکمران ہونے کا تاثر قائم کیا تھا وہ اسلام آباد آکر متحارب مفادات کے حامل گروہوں میں تن تنہا کھڑے ہیں۔ جیسے اپنی پارٹی اور خاندان کے لوگوں سے مسلسل ٹانگ کھینچے جانے کا خطرہ لاحق رہتاہے۔ ایک خبر کے مطابق پی پی پی کے رہنما نیئر بخاری نے وزارت داخلہ کو عمران خان کو ’’تحویل‘‘ میںلینے کا مشورہ دیا ہے۔ مخلوط حکومت کے اندر یہ کھچڑی پک رہی ہے کہ بیس مئی سے پہلے پہلے پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنماؤں اور کارکنا ن کو قید کی کوٹھڑیوں میں ڈال دیا جائے تاکہ وہ اسلام آباد کی طرف مارچ نہ کرسکیں۔

Categories
آرٹیکلز

ڈاکٹر مصدق کی طرح عمران خان اس وقت واشنگٹن کی آنکھوں میں کانٹا بن کر کھٹک رہا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ ۔۔۔۔۔ نظریاتی مخالفت کے باوجود ہارون الرشید بھی خطرے کی گھنٹی بجانے پر مجبور

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔یہ تو آشکار ہے کہ ڈاکٹر مصدق کی طرح عمران خان بھی واشنگٹن کی آنکھوں میں کانٹا بن کے کھٹک رہا ہے۔ اس لیے کہ آلہ کار بننے اور فوجی اڈے دینے سے اس نے انکار کر دیا تھا۔

کیا اسے منظر سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ماڈل ٹاؤن سانحے میں ملوث رانا ثناء اللہ کہہ سکتے ہیں کہ خان نے کہانی گھڑی ہے۔سچائی یہ ہے کہ پاکستانی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا معاملہ الگ ہے۔ تاریخ کے سنجیدہ طلباء کو لیاقت علی خان کے بارے میں پورا یقین ہے کہ انہیں امریکیوں نے زندگی سے محروم کرایا۔ جرم واضح تھا کہ رضا شاہ کبیر کو دھکیل کر تیل کی صنعت کو قومیانے والے ایرانی وزیرِ اعظم مصدق کے خلاف سی آئی اے کے منصوبے میں شرکت سے انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ ایرانی عوام خم ٹھونک کر مصدق کے ساتھ کھڑے تھے۔ ایران کے طول و عرض میں خودداری کی ایسی ہی ایک تحریک برپا تھی، جیسی کہ ان دنوں پاکستان میں۔ سچ پوچھیے تو مصدق کی مقبولیت عمران خان سے بھی زیادہ تھی۔ رضا شاہ کبیر ملک چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے۔ امریکہ نے تہیہ کر لیا کہ مصدق کو راستے سے ہٹایا جائے۔ غلطی لیاقت علی خاں سے یہ ہوئی کہ معاملے کو الم نشرح کرنے کی بجائے خاموش رہے۔افغانستان سے لائے گئے کرائے کے مجرم سَید اکبر نے ان کو نشانہ چلائی۔ تعجب خیز یہ ہے کہ مجرم بھی فوراً ہی انجام تک پہنچا دیا گیا۔ اس سے بھی بڑا لطیفہ یہ ہے کہ لیاقت علی خاں کی موت کے ساٹھ پینسٹھ برس بعد تک سَید اکبر کی بیوہ ایبٹ آباد میں مقیم رہیں اور حکومتِ پاکستان کی طرف سے انہیں پینشن دی جاتی رہی۔ کس لیے؟

لیاقت علی خاں کو موت کے حوالے کرنے کی تفتیش کیوں نہ ہو سکی؟ سامنے کی بات یہ ہے کہ امریکی دباؤ پر۔جیسا کہ جنرل محمد ضیاء الحق اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے باب میں۔ سترہ اگست 1988ء کا حادثہ رونما ہونے کے چند ماہ بعد یہ ناچیز ان کے وزیرِ داخلہ اسلم خٹک سے ملا۔ اسلم خٹک پاکستان کا نام تجویز کرنے والے چوہدری رحمت علی کے ہم جماعت ہیں۔ اس خاندان میں عمریں بہت لمبی ہوتی ہیں۔ اسلم خٹک کی عمر لگ بھگ 90برس تھی۔ بھنویں آنکھوں پہ جھک آئی تھیں مگر ذہن بیدار۔میں نے ان سے پوچھا: کیا واقعہ کا سراغ مل سکتاہے؟ جی ہاں، انہوں نے کہا: کوئی بھی اچھا تھانیدار دو ہفتوں میں مجرموں تک پہنچ سکتا ہے۔ لہجے میں مایوسی تھی۔ زبانِ حال نے یہ کہا: سراغ لگانا جس قدر آسان ہے،عملاً اسی قدر ناممکن۔ اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے پاکستانی فضائیہ نے ایک تحقیقاتی رپورٹ مرتب کی۔نتیجہ یہ تھا کہ حادثہ نہیں، یہ منصوبہ تھا۔ اسی زمانے میں آئی ایس آئی سے تعلق رکھنے والے اساطیری کردار میجر عامر نے پاک فضائیہ کے ایک برطرف افسر کو گرفتار کیا۔ ٹھیک اس وقت، جب وہ بھارتی سفارت خانے میں پناہ لینے کی کوشش کر رہا تھا۔ اکرم اعوان نے انکشاف کیا کہ وہ ضیاء الحق کیس کا ملزم ہے۔اسرائیل سے خطرناک گیس کی ایک ڈبیہ لے کر آیا تھا، جو جنرل کے طیارے میں نصب کی گئی۔ اس سے پہلے یہی ڈبیہ جنرل کی کار میں لگانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس آدمی پر مقدمہ چلا اور برسوں وہ راولپنڈی کی اڈیالہ قید میں پڑا

رہا۔ پھر وہ رہا کر دیا گیااور معلوم نہیں کہ اب کہاں ہے۔ جب یہ کہانی میں نے اخبار کے لیے لکھی تو اڈیالہ قید خانے سے اس کا ایک خط موصول ہوا، جس میں کہا گیا تھا کہ میجر نے کہانی گھڑی اور فوجی عدالت نے مان لی۔ تفصیلات میجر صاحب خود بتا سکتے ہیں، جو ماشاء اللہ زندہ سلامت ہیں اور جن کی غیر معمولی یاداشت اسی شان و شوکت سے برقرار ہے۔ اقتدار سے دستبردار ہونے کے بعد غلام اسحٰق خاں پشاور چلے گئے۔ اپنے خالہ زاد بھائی سینیٹر طارق چوہدری کے ساتھ میں کئی بار ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب بھی اس موضوع پر بات کرنے کی کوشش کی، وہ ٹال گئے۔ ایک بار، جب میں نے بہت اصرار کیا تو انہوں نے کہا: ایوانِ صدر کی نہیں، یہ آئی ایس آئی اور افواجِ پاکستا ن کی ذمہ داری تھی۔ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل سے 1990ء سے ربع صدی تک ملاقات رہی۔ بن بتائے میں ان کے گھر چلا جاتا اور گھنٹوں ان سے گفتگو کیا کرتا لیکن وہ بھی کھل کر اس موضوع پر اظہارِ خیال کے لیے کبھی آمادہ نہ ہوئے۔ پاکستانی حکومت اور مقتول خاندانوں کو امریکہ نے بتا دیا تھا:You have too much on the ball۔ قیمت بہت زیادہ ہوگی۔ لگ بھگ بارہ برس کے بعد خوشاب کے ایک بورڈنگ سکول میں، جہاں میرے دو فرزند زیرِ تعلیم تھے، کالج کے پرنسپل سبکدوش کرنل ابراہیم سے ملاقات ہوئی۔ آئی ایس آئی سے جو وابستہ رہے تھے۔ضیاء الحق کے کیس کا ذکر چھڑا تو

انہوں نے بتایا کہ چار پاکستانی کارندوں کا انہوں نے سراغ لگایا تھا۔ ان میں سے دو بہاولپور اور دوراولپنڈی کے چکلالہ ائیر بیس پر تعینات تھے۔ یہ سب کے سب بہاری تھے۔میرے لیے ہرگز یہ کوئی انکشاف نہ تھا۔ اس لیے کہ جنرل اختر عبد الرحمٰن کے ذہین و فطین فرزند ہارون اختر بہت پہلے مجھے اس بارے میں بتا چکے تھے۔ سترہ اگست کے حادثے میں ممتاز فوجی افسروں کے علاوہ امریکی سفیر رافیل بھی جان سے گئے تھے۔امریکی قوا نین کے مطابق تفتیش لازم تھی۔ ایک امریکی عدالت میں اسلام آباد میں متعین امریکی سفیر رابرٹ بی اوکلے سے عدمِ تفتیش کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس قانون پر عمل درآمد کیوں نہ ہوا تو ان کا جواب یہ تھا:It didn’t occured to meمجھے خیال ہی نہ آیا۔جنرل ضیاء الحق اور جنرل اختر عبد الرحمٰن کے خاندانوں نے امریکہ پہنچ کر چیخ و پکار کی تو ایک خاتون افسر کی سربراہی میں ایف بی آئی کا ایک وفد پاکستان پہنچا۔ چند دن اسلام آباد میں گزارکر یہ خاتون واپس چلی گئیں۔ اپنی رپورٹ میں انہوں نے لکھا: دونوں فوجی افسروں کے خاندان بہت جذباتی واقع ہوئے ہیں۔ وہ اس قدر آسودہ تھیں کہ ایک پوری شام ٹیکسلا میوزیم میں گھومتی پھرتی رہیں۔ 27دسمبر2007ء کو ایسے ہی پراسرار حالات میں بے نظیر موت کے گھاٹ اتار دی گئیں۔ چند ماہ بعد ان کے میاں آصف علی زرداری اقتدار میں آئے۔ڈاکٹر سڈل یاد دلاتے رہے مگر پاکستانی اداروں سے تفتیش کرانے کی بجائے انہوں نے یہ ذمہ داری اقوامِ متحدہ کو سونپی۔دائرۂ کار (TORs)ایسا بنایا کہ تفتیش کی بجائے ایک داستان وجود میں آئی۔وزیر داخلہ رحمن ملک نے اقوام متحدہ کے وفد کوڈاکٹر سڈل کے ساتھ ملاقات سے منع کردیا جو انہیں بہت کچھ بتا سکتے اور بنیادی سوالات پوچھ سکتے۔ رحمان ملک کو یہ ذمہ داری کس نے سونپی تھی۔ شہنشاہ نامی ملزم کو، جو ملزمان کو اشارے کرتا رہا اور وڈیو پر جو نقش تھے، پراسرار حالات میں زندگی سے محروم کر دیا گیا۔ پھر آصف علی زرداری نے اعلان کیا: میں یہ جانتا ہوں کہ بے نظیر کے مجرم کون ہیں مگر مجھ سے نہ پوچھو۔ تاریک راز سے پردہ اٹھانے کے لیے وہ تیار کیوں نہ تھے۔ ظاہر ہے کہ امریکی دباؤ پر۔ اللہ کی آخری کتاب میں لکھا ہے:اللہ جانتا ہے کہ ایک ذی روح کہاں کہاں سے گزرے گا اور کہاں سونپا جائے گا۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔یہ تو آشکار ہے کہ ڈاکٹر مصدق کی طرح عمران خان بھی واشنگٹن کی آنکھوں میں کانٹا بن کے کھٹک رہا ہے۔ اس لیے کہ آلہ کار بننے اور فوجی اڈے دینے سے اس نے انکار کر دیا تھا۔

Categories
آرٹیکلز

میں نے حمزہ شہباز کو کیسا پایا ؟ وزیراعلیٰ پنجاب کو مشکل ترین دنوں میں قریب سے دیکھنے والے سینئر صحافی کی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد مہدی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔کسی کی شخصیت کو سمجھنا ہو تو اس کے ساتھ سفر کرلو اور کھانا کھالو ۔وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے ساتھ ان دونوں معاملات میں ، میں شریک رہ چکا ہوں ان کے ساتھ لندن کا سفر کیا تھا جبکہ دوسرا معاملہ تو بہت بار ہوا ۔

اس لیے ان کی شخصیت کو بیان کرنا چنداں مشکل نہیں ۔زمانہ حزب اختلاف بلکہ شدید حزب اختلاف میں ان سے تعارف ہوا تھا اور اس وقت سے یہ طے شدہ نظر آ رہا تھا کہ وہ ایک دن اعلیٰ ریاستی عہدے پر ضرور براجمان ہوں گے کیونکہ جو شخص سخت ترین حالات میں بھی اپنے اعصاب کو پرسکون رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو اس کے لئے مسائل ومشکلات کوئی معنی نہیں رکھتیں اور وہ ایک نہ ایک دن ان سے نجات حاصل کر ہی لیتا ہے۔ حزب اختلاف کے بعد جب حزب اقتدار کا زمانہ آیا توجیسا حمزہ شہباز جیسا حزب اختلاف کے زمانے میں تھا ویسا ہی اس کو اقتدار کے زمانے میں بھی پایا ۔اقتدار کا یہ دور اگر چلتا رہے اور اس کی ٹانگیں نہ کھینچی جائیں تو ایسی صورت میں ملک کو معاشی استحکام جس کے نتیجے میں سماجی و دفاعی استحکام سمیت سب کچھ حاصل ہوجاتا، یہ منزل کوئی ایسی دور نہیں تھی مگر اچانک تبدیلی کی خواہش نے سب کچھ اس بری طرح تہہ و بالا کر دیا ، جس پر دوبارہ عمارت تعمیر کرنا انتہائی کٹھن ہو چکا ہے ۔حمزہ شہباز سے جب بھی ملاقات ہوئی ، انہوں نے ہمیشہ مجھے اپنا بھائی بلکہ خاندان کا فرد قرار دیا اسی محبت کے سبب میں ان کی توجہ چند امور کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ جب تبدیلی تباہی بن کر پھنکار رہی تھی تو اس تبدیلی کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ نواز شریف سے متعلقہ ہر اس شخص کو پابندِ سلاسل کر دیا جائے جس کو پس دیوارِزنداں دیکھ کر نواز شریف کے حوصلوں کو توڑا جا سکے ۔نوازشریف کے حوصلے تو کیا ٹوٹتے الٹا انتقامی کارروائیوں کواپنی شناخت بنا لیا ۔ حمزہ شہباز بائیس ماہ قید میں رہے اور ان بائیس ماہ کے دوران جو لوگ انتہائی متحرک رہے یا ان کی ہر پیشی پر حکومت کی مخالفت، سردی ،گرمی کی پروا کیے بنا عدالتوں میں موجود ہوتے تھے مسلم لیگ نون کا نہایت قابل قدر اثاثہ ہیں ۔ تارا بٹ، رانا فاروق ،سید عظمت ،ملک عمران، رضوان قریشی، عمران گورایہ ،صفدر انجم ،جمیل صادق ،شیخ شاہد اقبال ، طارق جٹ ، مہر شہباز ، سردار نسیم ،سواتی خان،میاں طارق ، طارق وسیر اورمہر مودی وغیرہ ۔

اب ایسے لوگ نظر انداز نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ جو ہر حالت میں نظریے کے ساتھ کھڑا ہو وہی عوامی سطح پرڈیلیور کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے اور اس وقت اس کی اشد ضرورت ہے کہ عوامی سطح پر فوری طور پر ڈیلیور کیا جائے اور ناصرف یہ کہ ڈیلیور کیا جائے بلکہ اس کی تشہیر کا بھی بندوبست ہو اور اس تشہیر کے لیے نظریے سے وفادار اور باصلاحیت لوگ درکار ہیں جو کامیابیوں کو عوام کے دلوں میں اتار بھی سکیں، حمزہ شہباز کی کارکردگی کی پرکھ نواز شریف اور شہباز شریف کے ادوار سے کی جائے گی .چنانچہ جب بڑے نام ساتھ ہوں تو اس صورت میں کارکردگی ثابت کرنا اشد ضروری ہے تاکہ عوام یہ محسوس کرسکیں کہ نواز شریف، شہباز شریف خود ہی موجود ہیں ۔ ترقیاتی منصوبے جو گزشتہ حکومت میں ٹھپ پڑے تھے، ان کو جاری کرنا اور امن و امان کی صورتحال جو بدترین حالت میں موجود ہے، کو سدھارناوقت کی اشد ضرورت ہے ۔صوبے کے معاشی معاملات کو بہتر کرنا درکار ہے ۔ ویسے معاشی معاملات کو مکمل طور پر بہتر کرنا صوبائی حکومت کے لیے ممکن نہیں ہوتا کیونکہ یہ پورے ملک کے حالات سے وابستہ ہوتے ہیں مثال کے طور پر ہمارے گلے میں ایف اے ٹی ایف کی ہڈی اٹکی ہوئی ہے ۔ اس کا اجلاس جون میں منعقد ہونا ہے اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ اس فورم کا شریک چیئرمین اٹلی بن چکا ہے جہاں یورپ کی حد تک سب سے زیادہ پاکستانی مقیم ہیں ۔ اٹلی اور پاکستان کے بین الاقوامی مفادات میں یہ ایک ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔اطالوی وزیراعظم نے جو خط وزیراعظم شہباز شریف کو تحریر کیا ہے اس میں بھی ان مشترکہ مفادات کی طرف اشارہ کیا ہے ان کا اشارہ پاک اٹلی کافی کلب کی جانب ہے جس کے مقاصد میں شامل ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی تعداد کو بڑھنے نہ دیا جائے ۔ اس مشترکہ سوچ کے سبب سے اٹلی ایف اے ٹی ایف کے معاملات میں پاکستان کی مدد کرنا چاہتا ہے‘ اس سلسلے میں اٹلی نے پاکستان کے دفتر خارجہ سے رابطہ بھی کیا ہے لیکن کم و بیش ایک مہینہ گزر جانے کے باوجود ،ابھی تک ان کو کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ اس حوالے سے فوری اقدامات درکار ہیں کیونکہ ایف اے ٹی ایف پر قابو پائیں گے تو معیشت میں بہتری آئے گی اور وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی کارکردگی کو بہتر بنا سکیں گی ۔

Categories
آرٹیکلز

عمران خان کی کامیابی یہ ہے کہ عوام نے الیکشن سے پہلے ہی اسے مینڈیٹ دے دیا ہے ۔۔۔۔سینئر کالم نگار کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نفیس صدیقی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی سیاسی سوچ اور حکمتِ عملی سے بہت لوگوں کو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس بات پر کسی کو اختلاف نہیں کہ عمران خان نے پاکستان کے لوگوں کی ایک

بہت بڑی اکثریت کی حمایت حاصل کر لی ہے اور ایک سیاسی تحریک کی بنیاد ڈال دی ہے۔ ان کے مخالفین کےلئے اب مسئلہ یہ ہے کہ اس عوامی دبائو سے کیسے نمٹا جائے ، جو عمران خان نے پیدا کر دیا ہے۔نئی مخلوط حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں خصوصاً پاکستان مسلم لیگ (ن) ، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی قیادت بے شک یہ الزامات لگاتی رہے کہ عمران خان قومی سیاسی دھارے کی مخالفت میں سیاست کرتے ہیں ۔ انہیں ہمیشہ غیر جمہوری قوتوں کی حمایت حاصل رہی ہے ، ان کی حکومت کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی ہے ، انہوں نے ملکی معیشت تباہ کر دی، انہوں نے عالمی طاقتوں خصوصا امریکی ایجنڈے پر عمل کیا اور ان کی حکومت گرانے کابیرونی سازش کا بیانیہ جھوٹا ہے ۔ انہوںنے اور ان کے ساتھیوں نے بے پناہ بدعنوانی کی ہے جس کو چھپانے کے لئے سیاسی دبائو بڑھا رہے ہیں اورریاستی اداروں کے خلاف عوام کو کھڑا کر رہے ہیں ، وہ ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں ، فاشسٹ ہیںاور الیکشن میں دوبارہ جیت کر آئے تو ان کے پاس ملک کو معاشی ، داخلی اور خارجی بحرانوں سے نکالنے کا کوئی پروگرام بھی نہیں ہے ۔ ان الزامات کے باوجود لوگ عمران خان کی سن رہے ہیں اور ان کے مخالفین کی باتوں کو کسی قسم کی کوئی پذیرائی نہیں مل رہی ۔ یہ ایک حیرت انگیز سیاسی رحجان ہے ، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تحریک انصاف کی حکومت تھی

تو خود تحریک انصاف کے لوگ اور ان کے اتحادی یہ اعتراف کرتے تھے کہ ان کی حکومت میں مہنگائی زیادہ ہو گئی ہے اس لئے وہ عوام کا سامنا نہیں کر سکتے ۔ اس وقت یہ بھی کہا جاتا تھا کہ شاید تحریک انصاف کی سیاست ختم ہو جائے لیکن وقت نے دیکھا کہ ایسا نہیں ہوا ۔ حکومت ختم ہونے کے بعد عمران خان بہت زیادہ مقبول لیڈربن کر ابھرے ہیں ۔ انہوں نے اب تک جو جلسے کئے ہیں ، ان میں لوگوں کی انتہائی متاثرکن تعداد نے شرکت کی ،وہ روزانہ کی بنیاد پر جلسے کر رہے ہیں اور یہ بھی پاکستانی سیاست کا ایک ریکارڈ ہے ۔ کوئی بھی دوسری سیاسی جماعت ایسا نہیں کر سکتی ، نہ تو ان کے ورکرز تھکن کا شکار ہو رہے ہیں اور نہ ہی عوام کے ریسپانس میں کوئی کمی آئی ہے ۔ اس پولیٹیکل کیمسٹری کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔عمران خان کی سیاسی سرگرمیوں کی جو رفتار ہے ، اسے زیادہ دیر تک برقرار رکھنے کا ریکارڈ بھی تحریک انصاف کے پاس ہے ۔میں گزشتہ سات دہائیوں سے پاکستان کی سیاست میں سرگرم ہوں اور تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے سیاست اور عوامی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش بھی کرتا رہا ہوں ۔ میں نے بڑی بڑی سیاسی تحریکوں میں حصہ لیا لیکن اس طرح کا ٹیمپو کسی بھی تحریک کا نہیں رہا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان نے ایک ایسا سیاسی ماحول بنا دیا ہے ، جس کے دیر پا اثرات ہوں گے ۔ میں اس بات سے بھی اتفاق کرتا ہوں

کہ ہر مقبول تحریک ( پاپولر موومنٹ ) کا راستہ درست نہیں ہوتا ۔ اس کے لئے پاکستان میں ’’ پاکستان قومی اتحاد ( پی این اے ) کی تحریک کی مثال دی جا سکتی ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تحریکوں کے اثرات تو بہرحال ہوتے ہیں ۔ ان اثرات سے بچنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا ۔ میں اس لیے کہہ رہا ہوںکہ عمران خان کی سیاسی تحریک کے بہت دیرپا اور گہرے اثرات ہیں ۔ اس تحریک کا تاریخ میں رخ متعین ہونا ابھی باقی ہے ۔اس تحریک کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس سے پاکستانی ایک قوم بن گئے ہیں ۔ اس سے نسلی، لسانی ، گروہی اور فرقہ ورانہ سیاست اور تقسیم بہت حد تک کم ہو گئی ہے ۔ عمران خان کے جلسوں اور ریلیوں میں تمام زبانیں بولنے والے اور تمام مسالک کے لوگ ہوتے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کا سیاسی بیانیہ غالب ہوتا ہے ۔ عمران خان نے پاکستانی قوم کے عناصر یکجا کر دیئے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے دوسری سیاسی قوتوں سے مفاہمت نہ کرنے اور اداروں سے بظاہر ٹکراو کا جو راستہ اختیارکیا ہوا ہے، وہ خود عمران خان اور ان کی سیاست کے لئے بھی نقصان دہ ہو اور ملک میں جمہوری اور سیاسی عمل بھی اس سے منفی طور پر متاثر ہو لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ ایسا ہو کیونکہ اس وقت تو یہی نظر آرہا ہے کہ ان کو اتنی حمایت حاصل ہے

کہ وہ اپنی ہر بات منوا سکیں ۔ اس قدر عوامی دبائو میں ان کے سیاسی مخالفین یا غیر سیاسی مقتدر حلقے کوئی بھی مہم جوئی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ اس وقت ان کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ عمران خان کی بات مان لیں اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لئے الیکشن کی تاریخ پر ان سے بات کریں کیونکہ نئی مخلوط حکومت شدید معاشی بحران میں پھنس گئی ہے اور وہ عمران خان کے زبردست سیاسی دبائو میں بھی ہے۔ بعض لوگوں کا یہ سوال بھی غور طلب ہے کہ لوگ عمران خان کی حمایت کیوں کر رہے ہیں اور ان میں یہ سیاسی جوش اور ولولہ پیدا ہونے کے کیا اسباب ہیں؟ میرے نزدیک اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ان کے سیاسی مخالفین کے ان پر الزامات اپنی جگہ لیکن دو ایشوز پر ان کے بیانیے کو کوئی شکست نہیں دے سکا ۔ پہلا ایشو بدعنوانی کا خاتمہ تھا اور دوسرا ایشو ملک کی حقیقی خودمختاری ہے۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ انہوںنے اپنے اقتدار کے لیے ان لوگوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا ، جن پر ماضی میں وہ بدعنوانی کے الزامات لگاتے تھے ،انہوں نے اپنے دور میں بدعنوان لوگوں کے احتساب اوربدعنوانی کو روکنے کے لیے کوئی بڑا کام بھی نہیں کیا ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بیرونی سازش کے بارے میں کوئی حقیقت نہ ہو لیکن عمران خان کے بیانیے کی مقبولیت سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان کے لوگ بدعنوانی کے خلاف ہیں اور وہ ملک کو بیرونی طاقتوں کی ڈکٹیشن سے نکالنا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام کال کوٹھڑی سے لکھے گئے اپنے خط میں کہا تھا کہ ’’ آج کی نسل دیانت داری ، انصاف اور آزادی پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ ‘‘ بھٹو کی یہ بات آج سچ ثابت ہو رہی ہے ۔ عمران خان کی سیاسی مخالفت میں کوئی چاہے ان کے بیانیے کو نہ مانے لیکن بدعنوانی کا خاتمہ اور حقیقی آزادی عمران خان کا نہیں ، آج کی نسل کا نعرہ ہے ۔ سنو تو سہی لوگ کیا کہہ رہے ہیں ۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ عمران خان سیاسی ڈرامہ کر رہے ہیں تو ان دو نعروں کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے کوئی اور آگے آئے لیکن موجودہ وقت کا سچ یہ ہے کہ عمران خان ایک قومی سیاسی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں ۔

Categories
آرٹیکلز

کچھ کرو یا پھر گھر جاؤ۔۔۔۔!!!انصار عباسی نے شہباز حکومت سے مطالبہ کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر فیصلے نہیں کرنے تھے تو حکومت لی ہی کیوں تھی؟ ایک ایک دن انتہائی اہم اور ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ معاشی طور پر پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف لے کر جا رہے ہیں، جس کے نتائج بہت ہی خطرناک ہوں گے۔

پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اُس کے نتیجے میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا لیکن اگر پاکستان ڈیفالٹ کر جاتا ہے تو جو نتائج ہوں گے اُس سے نہ صرف مہنگائی بہت زیادہ ہو جائے گی بلکہ پاکستان کی صورتحال سری لنکا سے بھی بدتر ہو جائے گی، ہم تباہ و برباد ہو جائیں گے، ہماری معیشت کو بدترین صورتحال کا سامنا ہو گا، ملک کو خدانخواستہ بدامنی کا ممکنہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا لیکن فیصلے یا تو لندن میں نواز شریف کے ہاتھ میں ہیں یا پھر آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے مرہون منت۔ شہباز شریف کو وزیر اعظم اس لیے بنایا کہ وہ پرفارم کرنے والا سیاستدان ہے لیکن شہباز شریف کے ہاتھ اور پاوں باندھ کر رکھ دیے گئے اور پھر توقع یہ کی جا رہی ہے کہ وہ فیصلہ بھی نہ کرے اور ملک کو اس مشکل سے بھی نکال دے۔ اب یہ بات مت کریں کہ عمران خان نے کیا ٹھیک کیا یا غلط۔حکومت لی ہے تو فیصلہ کریں ۔ اب ذمہ داری اتحادیوں کی بالعموم اور ن لیگ کی بالخصوص ہے۔ اگر پاکستان ڈیفالٹ کرتا ہے تواس سے موجودہ حکومت بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ ایک ایک دن قیمتی ہے۔ اگر فیصلے نہیں کرنے تھے تو عمران خان کی حکومت کیوں ختم کی اور خود حکومت میں کیوں آ بیٹھے؟ اب معاملہ ن لیگ، پی ٹی آئی یا پی پی پی کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اپنے اپنے سیاسی فائدے یا نقصان کی خاطر پاکستان کا ہی نقصان کر بیٹھیں

اور افسوس کہ یہی ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ لندن میں تین سے زیادہ دن ضائع کر دیے مگر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔فیصلے نہیں کرنے تو حکومت چھوڑیں، وقت مت ضائع کریں۔ یہ دو دو وزرائے اعظم اور دو دو وزرائے خزانہ والا کھیل نہیں چل سکتا۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ عمران خان کو مت نکالیں، اگر نکالیں تو فوری الیکشن کرائیں کیوں کہ درجن بھر اتحادیوں کے ساتھ کوئی حکومت نہیں چل سکتی اور یہاں اس حکومت سے توقع یہ کی جا رہی ہے کہ بڑے فیصلے کرے جس کے لیے نہ نواز شریف تیار ہیں، نہ زرداری اور نہ ہی مولانا فضل الرحمٰن۔شہباز شریف کو اگر وزیر اعظم بنایا تھا تو اُنہیں شہباز شریف ہی رہنے دیتے۔ سب توقع تو کر رہے ہیں کہ وہ حالات کو فوری بہتر کریں لیکن فیصلوں کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے ہی نہیں۔ میری تو شہباز شریف سے گزارش ہے کہ آج ہی استعفیٰ دے دیں تا کہ نئی حکومت آئے اور پاکستان کو بچانے کے لیے فیصلہ کرے۔ن لیگ نے پہلے غلط فیصلہ کیا اور عمران خان حکومت گرانے کے پلان میں شامل ہو گئی۔ اب ن لیگ ایک اور غلطی بلکہ بہت بڑی غلطی کر رہی ہے کہ پاکستان کی بقا کی خاطر جو فیصلے کرنے ہیں اُن فیصلوں سے اس لیے کترا رہی ہے کہ اُسے کہیں سیاسی نقصان نہ ہو جائے۔یعنی ن لیگ ، پی پی پی، جے یو آئی ایف وغیرہ کا سیاسی نقصان پاکستان کے نقصان سے زیادہ اہم ہے۔اب جو مرضی کر لیں، جتنا مرضی عمران خان کو بُرا بھلا کہہ لیں اگر پاکستان نے ڈیفالٹ کیا تو ن لیگ اور اتحادی اس میں برابر کے ذمہ دار ہوں گے۔ابھی وقت ہے سوچ لیں، دیر مت کریں۔سری لنکا کے حالات پر نظر دوڑا لیں اور یاد رکھیں کہ اگر اپنے اپنے سیاسی مفادات کی بھینٹ پاکستان کو چڑھایا گیا تو پھر اس کے نتائج سب کو بھگتنا پڑیں گے۔ اس لیے فیصلے کریں یا گھر جائیں، نہ یہ سیاست کا وقت ہے نہ ہی پاکستان کو لاحق فوری خطرات سے صرفِ نظر کیا جا سکتا ہے ۔

Categories
آرٹیکلز

عمران خان اب ایک سیاسی فریق کی بجائے قومی روگ بن گیا ۔۔۔۔۔ سینئر پاکستانی صحافی کی حیران کن تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار وجاہت مسعود اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔آئیے وطن کی خبر لیں۔ ہماری موجودہ حکومت دستور کی شق 95 کی روشنی میں تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے بعد قائم ہوئی اور پارلیمنٹ کو اگست 2023 تک دستوری میعاد دستیاب ہے۔ زمینی صورت حال مگر مختلف

ہے۔ وفاق میں صدر مملکت اور حکومت میں خاموش کشمکش جاری ہے۔ صدر نے عدالت عظمیٰ کے نام ایک مکتوب میں وفاقی حکومت کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینے کی استدعا کر رکھی ہے۔ تحریک انصاف کے قریب 125 ارکان قومی اسمبلی نے استعفے دے رکھے ہیں لیکن اسپیکر سے ان کی تصدیق کرانے پر آمادہ نہیں۔ تحریک انصاف نے ایوان بالا سے مستعفی ہونے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔پنجاب میں وزیر اعلیٰ کا منصب تادم تحریر عدالت میں زیر سماعت ہے۔ بارہ کروڑ کے صوبے میں گورنر موجود نہیں، صوبائی کابینہ کا نشان نہیں۔ سندھ میں نامزد گورنر نسرین جلیل ابھی حلف نہیں اٹھا سکیں۔ خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت موجود ہے سو وفاق اور صوبائی اکائی میں تعاون کی صورت معلوم۔ بلوچستان میں مدت سے اسمبلی اور حکومت سمیت کل بندوبست ’ہرچند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘ کے عالم سکرات میں ہے۔ عمران خان نے ملک کے طول و عرض میں جلسوں کی لین ڈوری باندھ دی ہے۔ اسے احتجاج کہئے یا انتخابی مہم، عمران خان فوری انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور 20مئی کے بعد اسلام آباد میں طویل مدتی احتجاج کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ ہیئت مقتدرہ بار بار سیاست میں مداخلت سے ہاتھ کھینچنے کا اعلان کر رہی ہے لیکن عمران صاحب کا شکوہ ہی یہ ہے کہ ان کے حق میں ماورائے دستور مداخلت کیوں نہیں کی جاتی۔ نجی مجلسوں میں ان کے فرمودات نقل نہیںکئے جا سکتے لیکن ہر خاص و عام کے علم میں ہیں۔ عمران خان اب ایک سیاسی فریق کی بجائے اجتماعی نفسیاتی روگ بن چکے ہیں۔

کچھ زیر زمین معاملات ایسے حساس ہیں کہ ان کا ذکر نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ وفاقی حکومت بے دست و پا دکھائی دیتی ہے۔ یہ تو رہا سیاسی منظر۔ معیشت کا بحران اس سے کہیں زیادہ گمبھیر ہے۔ ہماری دیرینہ معاشی تحدیدات سے قطع نظر، عمران حکومت نے 28 فروری کو عالمی منڈیوں میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود اور آئی ایم ایف سے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں دس روپے فی لیٹر اور بجلی کی قیمت میں پانچ روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کر دیا نیز یہ بھی بتا دیا کہ آئندہ بجٹ تک یہ قیمتیں بڑھائی نہیں جائیں گی۔ یہ اقتصادی طور پر ایک تباہ کن اقدام تھا اور اس کا مقصد ممکنہ عدم اعتماد کی صورت میں آئندہ حکومت کو مفلوج کرنا تھا۔ ڈھائی ماہ میں سبسڈی کا بوجھ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ملک کے دیوالیہ ہونے کا خوفناک امکان پیدا ہو گیا ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر دھوپ میں رکھی برف کی طرح پگھل رہے ہیں۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات تار عنکبوت سے معلق ہیں۔ کوئی دوست یا دشمن ایک ٹکہ دینے کا روادار نہیں۔ غیر معاشی سوچ کے حامل تجزیہ کار اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اشارہ دے رہے ہیں لیکن ایسا کرنے سے معاشی بحران رفع ہونے کی بجائے مزید خوفناک ہو جائے گا۔ عاجز معیشت کی دنیا سے تعلق نہیں رکھتا لیکن جانتا ہے کہ معیشت کی منطق بے رحم ہوتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ عوام کو اعتماد میں لے کر سخت معاشی فیصلوں کا کڑوا گھونٹ بھر لیا جائے۔ معیشت کو سیاست سے منفک نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کو معیشت سمجھاتے ہوئے یہ بھی بتانا چاہیے کہ ’دو برس کی محنت‘ سے کانچ کے جو بلوریں برتن ہمارے ایوانوں میں سجائے گئے تھے، اب پلکوں سے ان کی کرچیاں چننے کا وقت آ گیا ہے۔ بے شک اللہ جسے چاہتا ہے، عزت دیتا ہے۔

Categories
آرٹیکلز

کپتان اور پی ٹی آئی مقبولیت کی انتہا پر :اب اگر کھمبوں کو ٹکٹ دیے جائیں تو انہیں بھی کامیابی ملے گی، تو پھر خان صاحب اس بار الیکٹیبلز کی بجائے واقعی کھمبوں کو ٹکٹ دے دیں ۔۔۔۔۔ ایک زبردست مشورہ

لاہور (صحافی گمنام ) عمران خان کو حکومت سے کیوں نکالا گیا ، یہ بات اب ہر خاص وعام جانتا ہے ۔اس وجہ سے عمران خان کے ساتھ عوامی ہمدردی اور حمایت میں اچانک بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ آپ کو یاد ہو گا کہ حکومت سے نکلنے کے بعد عمران خان نے متعدد بار کہا

کہ الیکٹیبلز نے انہیں دھوکا دیا اس لیے اب وہ الیکٹیبلز پر انحصار نہیں کریں گے ۔لیکن چند بار یہ بات کرنے کے بعد خان صاحب شاید اس بات کو بھول چکے ہیں ، لیکن ہمیں یہ بات اچھی طرح یاد ہے ، قوی امکان ہے کہ جلدانتخابات کا اعلان ہو گا اور پھر عمران خان کا ہر جلسہ الیکشن کمپین کے ضمن میں ہو گا ، مگر اس بار ٹکٹوں کی تقسیم کیسے ہو گی ، یہ بات مبہم ہے ۔ اس حوالے سے گزارش ہے کہ اگر خان صاحب اپنے اگلے دور حکومت میں ان مسائل سے بچنا چاہتے ہیں جو انہیں پچھلے دور حکومت میں اتحادیوں اور الیکٹیبلز کی وجہ سے فیس کرنا پڑے تو اس کا بہترین طریقہ اصل جمہوری طریق پر چلنے کا ہے ۔ جمہوریت یہ نہیں کہ سرمایہ کار اور ایلیٹ کلاس دولت کے بل بوتے پر اقتدار کے ایوانوں اور ملکی سیاست پر قابض ہو جائے ، بلکہ جمہوریت یہ ہے کہ ایک پڑھا لکھا ، قائدانہ صلاحیتیں رکھنے والا اور عوامی مسائل کو سمھجنے اور انہیں حل کرنے کے لیے تجاویز دینے کے قابل عام اور غریب نوجوان بھی اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو سکے ۔ ہمارے ملک کے ہر شہر میں ایسے پڑھے لکھے ، قابل نوجوان موجود ہیں لیکن صرف غربت کی وجہ سے وہ سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے ۔اسکے باوجود وہ مقامی سطح پر سوشل ورک میں مصروف ہیں اور اپنے علاقے کے لوگوں کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ موجودہ حالات میں عمران خان کو الیکٹیبلز اور اتحادیوں کو

بالکل اہمیت نہیں دینی چاہیے بلکہ ایسے نوجوانوں کو سامنے لانا چاہیے ۔ اس سلسلے میں تحریک انصاف ایک بڑے کنونشن کا انعقاد کرکے باصلاحیت اور پڑھے لکھے نوجوانوں کے انٹرویوز کر سکتی ہے ۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ اگر عمران خان پورے ملک کے نوجوانوں کو اقتدار اور سیاست میں شریک ہونے کی دعوت دیں تو لاکھوں نوجوان کپتان کی کال پر اسلام آباد دوڑے چلے آئیں گے۔ اس سے نہ صرف تحریک انصاف کے ووٹ بنک میں اضافہ ہو گا بلکہ پورے ملک کی عوام عمران خان اور تحریک انصاف کے اس اعلان کر اپنے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اور شاندار آغاز سمجھ کر اس فیصلے کی بھر پور حمایت کرے گی ۔ بے شک یہ بہترین اور قابل عمل راستہ ہے اور یہی جمہوریت ہے ۔ اس فارمولے کی کامیابی کا مجھے اس وجہ سے بھی یقین ہے کہ ان انتخابات میں تحریک انصاف جس کسی کو بھی ووٹ دے گی وہ مکمل طور پر عمران خان اور تحریک انصاف کی وجہ سے شاندار کامیابی حاصل کرے گا ۔تو پھر خان صاحب اس بار کھمبوں کو ووٹ دیجیے جو کامیابی کے بعد مضبوطی کے ساتھ آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور یہ کام کرکے آپ پاکستان میں ایک شاندار اور اصل جمہوری روایت کا آغاز کرنے کا اعزاز بھی اپنے نام کر جائیں گے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں رائج موجودہ جمہوریت میں بے شمار خامیاں اور خرابیاں موجود ہیں جنکی وجہ سے یہ نظام عوام کے لیے فائدہ مند بننے کی بجائے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوریت کو پاکستان میں حقیقی جمہوریت کی شکل میں رائج کیا جائے ۔ اب اس کام میں تحریک انصاف پہل کرتی ہے یا کوئی اور جماعت ۔ اس کا فیصلہ وقت کرے گا ۔

Categories
آرٹیکلز

عمران خان کو نکالنے کی اصل وجہ نئے آرمی چیف کی تقرری کا نہیں بلکہ امریکہ کی خواہش پر کی جانیوالی ایک غلطی ہے ۔۔۔۔۔ ریٹائرڈ پاکستانی سینٹر کے حیران کن انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سینیٹر (ر) طارق چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔چکوال کے لوگ عام پاکستانیوں کے مقابلے قدو قامت میں خاصے لمبے ہیں، جن ملک صاحب کا ذکر کر رہا ہوں وہ کچھ زیادہ ہی طویل تھے‘ سات فٹ قد‘ دبلے پتلے‘ ایک دن ڈرے گھبرائے

اپنے دوست پروفیسر غنی جاوید کے ٹیوشن سنٹر داخل ہوئے‘ چہرے پر ہوائیاں اڑتی دیکھ کر پروفیسر نے پوچھا‘کیا ہوا ملک صاحب؟ پروفیسر یار‘ اللہ نے جان بخش دی‘ مجھ پر بجلی گر پڑی تھی‘ ملک صاحب آپ کہاں تھے؟ میں اونٹ پر تھا اور اونٹ کہاں تھا؟ سامنے کی پہاڑی پر‘ ملک صاحب یہ بجلی آپ پر گری ہے یا آپ بجلی کی بغل میں گھس بیٹھے او؟ یہ لطیفہ ہے یا واقعہ مگر سب سے زیادہ توجہ سے سنے جانے والے ترجمان کی پریس کانفرنس کی روداد پڑھ کے یاد آیا‘ فرماتے ہیں‘ ’’ہمیں سیاست سے دور رکھا جائے‘‘حضرت آپ کو سیاست میں بلایا کس نے؟آپ دور تھے کب؟ کیا اب بھی دور ہیں‘بتوں نے درد دیا تو خدا یاد آیا۔ اسٹیبلشمنٹ ہر ملک میں ریڑھ کی ہڈی ہے‘ریاست کا نظام اسی کے دم قدم سے چلتا ہے‘ جمہوری ملکوں میں اسٹیبلشمنٹ سیاستدانوں کے درمیان عموماً غیر جانبدار رہتی ہے لیکن قطعی غیر جانبدار نہیں ہو سکتی‘ جب یہ کھلم کھلا مداخلت پر اتر آئے تو سمجھ لیجیے کہ کچھ بڑا اور خطرناک ہونیوالا ہے۔ ممتاز علوی‘ بہت نفیس اور مہذب پاکستانی ہیں‘ جو امریکہ کے شہر نیو یارک میں وکالت کے پیشے سے منسلک ہیں ’’مین ہیٹن‘‘ میں ففتھ ایونیو کی سٹریٹ 49کی ایک کثیر المنزلہ عمارت میں ان کا دفتر ہے‘ قریب ہی ایک کلب بھی ہے‘ پرسکون جگہ‘ صرف مہذب اور پڑھے لکھے لوگوں کیلئے‘ علوی صاحب کافی کیلئے اپنے دوستوں کو اسی کلب میں لے جایا کرتے ہیں۔ علوی صاحب کا گھر جنگل کے بیچوں بیچ الگ تھلگ

اور پرسکون‘ پرامن بستی میں ہے۔ امریکی صدر بل کلنٹن اپنی مدت صدارت مکمل کر کے اسی بستی میں علوی صاحب کے ہمسایہ میں آن بسے ہیں‘ چنانچہ بل کلنٹن اور ہیلری کلنٹن کے ساتھ ان کی خاصی جان پہچان ہے‘ علوی صاحب امریکی سیاست میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے حامی بھی ہیں‘اس ہمسائیگی کے ناطے سرگرم بھی۔ کلنٹن کے بعد ان کے نائب صدر الگور ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار تھے، ان کے مقابلے میں ’’بش جونیئر‘‘ ریپبلیکن پارٹی کے طرف سے مقابلے میں آئے‘ الگور بڑے پڑھے لکھے دانشور قسم کے انسان ہیں۔بش ان کے مقابلے نیم خواندہ اور اجڈ‘دونوں پارٹیوں میں‘پارٹی کی نمائندگی حاصل کرنے کے مقابلے جاری تھے‘حتمی اعلان تو دور تھا لیکن صاف نظر آ رہا تھا کہ میدان صدارت میں نائب صدر الگور اور بش جونیئر کے درمیان مقابلہ ہونے جا رہا ہے۔علوی صاحب کے ساتھ راقم اسی کلب میں بیٹھے کافی کے ساتھ امریکہ کے آنے والے انتخاب پر بحث جاری تھی‘الگور کو بظاہر بش پر برتری کا امکان تھا‘کلنٹن حال میں صدارت کی مدت مکمل کر کے آئے تھے‘ ملک میں خوشحالی تھی‘ یہ خوش شکل جوڑا امریکہ بھر میں بہت مقبول تھا‘ علوی صاحب کا خیال تھا کہ الگور خود اچھا امیدوار ہے‘ جب کلنٹن ان کے حمایت میں نکلا تو بش کے مقابلے الگور کو غیر معمولی برتری حاصل ہو جائے گی۔راقم نے علوی صاحب سے عرض کیا‘ اپنی ڈائری کھولئے‘ آج کی تاریخ میں لکھ لیجیے‘ مسٹر بش امریکی اسٹیبلشمنٹ خصوصاً سی آئی اے کے امیدوار ہیں‘ بش کو ہر

صورت جتوایا جائے گا‘ نہیں جانتا کیا ہونے والا ہے لیکن کچھ ہے جو ابھی واضح نہیں اور بش سے کوئی کام لیا جائے گا‘یقینا علوی صاحب کے پاس وہ ریکارڈ محفوظ ہو گا‘ ہمارے بھائی میاں مشتاق کو بھی سب یاد ہو گا۔ووٹوں میں الگور کو لاکھوں کی برتری حاصل تھی‘وہ الیکشن جیت چکا تھا‘فلوریڈا کے ووٹ اس کے حق میں گن لئے جاتے تو وہ صدر بن جاتا‘گنتی رکوا دی گئی‘عدالت نے الگور کے حق میں فیصلہ دیا‘ اعلیٰ ترین عدالت کی مدد حاصل کر کے فلوریڈا کے ووٹ گننے سے انکار ہوا‘بش زبردستوں کی زبردستی سے صدر بن گئے۔ 9/11کا ڈرامہ ‘ سی آئی اے کی نئی لڑائیوں کا آغاز‘ الگور کو سمجھا دیا گیا تھا اور اس نے خاموش رہ کر اپنی شکست فاتحانہ کو تسلیم کیا اور دنیا کئی عشروں تک ظلم و ستم کا شکار رہی‘چنانچہ الگور ‘ بش مقابلے میں اسٹیبلشمنٹ کی دھاندلی کا نتیجہ ہے کہ آج کنگال امریکہ ’’سپر پاور‘‘ کے عہد سے معزول ہو چکا ہے‘ اس کا بس چلتا نہیں مگر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ایک بچ رہتی ہے جسے آج تک خبر نہ ہوئی کہ امریکہ کا عہد تمام ہوا‘ وہ ابھی تک امریکہ کے جھوٹے جھوٹے اہلکاروں کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔لیکن دوسری طرف الگور تھا نہ مشرف سامنے سے عمران خان نکل آیا۔لینے کے دینے پڑ گئے۔ ’’پائے رفتن نہ جائے ماندن‘‘ پاکستان میں اصل مسئلہ نئے سپہ سالار کی تعیناتی کا نہیں‘ امریکہ کی ایمآ پر کی گئی غلطی کا ہے۔جنہوں نے غلطی کی ہے‘ ان میں ہمت ہے

نہ اہلیت کہ غلطی کو سدھار سکیں‘انہیں غلطی کی کم از کم سزا قبول کرنا ہو گی‘رسوا ہونے سے الگ ہونا کہیں بہتر ہے۔ تین استعفے ایک الیکشن ہی سارے بحران کا آخری حل ہے۔ پسند ناپسند بہت پیچھے رہ گئی‘سپہ سالار وہی بنے جو سب سے سینئر ہے‘ تاکہ وہ ہر تنقید سے بالاتر ہو‘ کس کی مدد اور طرف داری کے الزام و دشنام سے بچتے ہوئے۔ یہ بات سیاستدانوں کو پلے باندھ رکھنی چاہیے‘ ہر فوجی افسر جو فوج میں کڑے مقابلے اور کٹھن مراحل سے گزر کر سیکنڈ لیفٹیننٹ بھرتی ہوتا ہے‘ وہ قدم بہ قدم میرٹ یعنی خالص اہلیت کی بنیاد پر ترقی کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچ جائے وہ کسی کا ممنون احسان نہیں‘انہی میں سے ایک کو ’’چار ستاروں‘‘ کے ساتھ سپہ سالار مقرر ہونا ہے۔فوج کو کمان کرنا ہے‘ وہ اپنی افواج کا رہبر‘رہنما اور ہیرو ہے‘وہ پیچھے بیٹھ کر نہیں آگے چل کر ان کی رہنمائی کرتا ہے۔وہ کسی سیاستدان کا ممنون احسان نہیں بلکہ وہ اپنے ان لاکھوں بچوں کا مہربان باپ ہے وو بچے جو اس کے حکم پر اپنا خون دیتے ہیں‘ موت کو گلے لگانے میں فخر کرتے ہیں۔جنہیں اس کا یقین نہ آئے وہ بھٹو کی طرف سے ضیاء الحق اور نواز شریف کے بنائے سپہ سالار پرویز مشرف کو دیکھے‘ان سے سبق سیکھے‘سیدھی راہ میں فلاح کی راہ ہے۔ پاکستان میں اس وقت جو بحران ہے‘سیاسی بحران‘ اقتصادی بحران‘ قانون و آئین کا بحران‘ انتخابات سے انکار کر کے حیل و حجت کے بہانے سے ٹالتے رہنے

سے ان بحرانوں میں‘ انتظامی بحران کا اضافہ ہو سکتا ہے۔اس وقت پاکستان کے بائیس کروڑ لوگوں میں نوجوانوں کی تعداد 10کروڑ سے زیادہ ہے۔یہ دس کروڑ ملکی سیاست میں متحرک ہو چکے ہیں ان کے متحرک کا سبب غیر ملکی مداخلت پر ڈھیر ہو جانے والوں پر غم و غصہ ہے۔ پاکستان بھر کی سول انتظامیہ میں اتنی جان نہیں ہے کہ وہ متحرک نوجوانوں کے سیلاب بلا کے سامنے بند باندھ سکے پولیس اور سول انتظامیہ ‘ہنستے مسکراتے‘ نعرے لگاتے نوجوانوں کو دیکھتے ہیں‘ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو جھنڈوں کی چھڑیاں‘لاابالی نوجوانوں کے ہاتھوں ہتھیار بن جائیں گی۔ان کے خلاف آپ سلامتی کے اداروں کو نہیں اتار سکیں گے اتارو گے تو اپریل 1977ء کی تاریخ دہرائی جائے گی‘ تاریخ کو دہرانے سے روکا جائے…کالی گھٹائیں‘ تیز آندھیاں تلی کھڑی ہیں‘ ابھی بھی ان سے بچ نکلنے کا وقت ہے اس سے فائدہ اٹھائیں‘فائدہ اٹھائیں ورنہ سب خسارے میں رہیں گے۔ فیصل آباد کے ’’نیم پاگل‘‘ کے سہاروں پر نہ رہیں جو کہتا ہے چاہوں تو بیس لوگ بھی اسلام آباد نہیں پہنچ پائیں گے۔ذرا اس سے پوچھیے اس نے نماز عید کہاں ادا کی تھی؟وہ پاکستان کے کسی شہر کی مصروف مارکیٹ میں عمران خاں کی طرح ایک چکر لگانے کی ہمت کر سکتا ہے؟پاکستان سے باہر چار ہزار میل دور لندن میں جا کر بھی جو پاکستانی حکمران چھپ چھپ کے ایک دوسرے سے ملیں نامعلوم مقامات پر۔اپنے گھروں تک نہ آ سکیں وہ ایک برس تک انتخاب کو ٹال سکتے ہیں؟ ہوش کے ناخن لیں اگر کچھ ہوش بچ رہتے ہیں تو

Categories
آرٹیکلز

عمران خان کے مقابلے میں جلسے: مریم نواز کا حال سب سے پتلا ہے اور صاف نظر آرہا ہے کہ ۔۔۔۔ ہارون الرشید کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔دیانت داری کی شہرت اور خدمت خلق اور تعلیم کے میدان میں خیرہ کن خدمات انجام دینے کے باوجود جماعت اسلامی قومی جماعت نہیں بن سکی۔آٹھ عشروں کی تگ تاز کے باوجود آج بھی وہیں کھڑی ہے‘ جہاں 1941ء میں تھی۔

چوہدری غلام محمد‘ ڈیرہ غازی خان کے ڈاکٹر رفیق اور نعمت اللہ خان ایسے درویش لیڈر اس نے پیدا کئے‘ جو برق کی طرح افق پر چھا گئے‘مگر۔آخری نتیجہ مگر کیا نکلا؟ خارجی عوامل کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے لیکن یہ تو اصل الاصول کی نفی ہو گی۔یہ کہ تمام کامیابیاں اور سب ناکامیاں دراصل داخلی ہوتی ہیں۔خود شائستہ اور پاکیزہ اطوار ابوالاعلیٰ نے کہا تھا: زمانہ بڑا بے رحم صراف ہے۔کھوٹے کو تو کبھی کھرا تسلیم ہی نہیں کرتا‘کھرے کو بہت تامل کے بعد کھرا مانتا ہے۔ایک عام طالب کی سطح پر ہی سہی‘اس سوال پہ سیر حاصل بحث کی جا سکتی ہے کہ جماعت اسلامی کا بنیادی مخمصہ کیا تھا۔لیکن یہ پھر کبھی اور شاید کچھ دوسرے لوگ زیادہ معنی خیز بات کر سکیں۔ جماعت اسلامی نہیں‘موضوع بحث اس وقت عمران خان ہیں۔جن کی تصاویر لوگ سینے سے لگا کر رکھتے ہیں۔جن سے ملاقات کے لئے بچے اور بوڑھے‘ سینکڑوں میل کی مسافت پیدل طے کرتے ہیں۔شاعر جن کے لئے نظمیں لکھتے اور نثر نگار شاعروں کو مات کرتے ہیں۔کیا وہ اس ملک کو ایک قوم میں ڈھال سکتے ہیں؟ ان کے جلسے‘ چند روز کے نوٹس پر برپا ہونے والے جلسے‘ مخالفین کے مقابلے میں تین سے دس گنا تک بڑے ہوتے ہیں۔یہ ناچیز ان کے نقطہ نظر کا حامی ہے کہ اندرون ملک اور بیرون ملک ان کے خلاف سازش کی گئی۔یہ بھی کہ جلد ازجلد الیکشن کے سلسلے میں ان کا مطالبہ تسلیم کیا جائے۔ محترمہ مریم نواز کا حال تو بہت ہی پتلا ہے۔کسی بھی ایک خطاب میں‘

وہ چالیس سے پچاس مرتبہ عمران خان کا نام لیتی۔انہیں نامعقول‘خائن اور بیمار ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔خان صاحب کا حال بھی تو کچھ زیادہ مختلف نہیں۔اپنی غلطیوں پر غور کرنے اور مستقبل کے مستحکم پاکستان کے لئے ایک جامع لائحہ عمل۔ ہر چیلنج مشکل ہوتا ہے لیکن ہر چیلنج کی ایک کلید بھی ہوتی ہے۔ہر شے کا بدل مل سکتا ہے‘ سب دامن بھر سکتے ہیں۔ پروردگار عالم نے یہ دنیا پکنک منانے کے لئے نہیں بنائی ہے۔یہ کرہ خاک کبھی جنت نظیر نہیں ہو سکتا۔یہ تو مگر ممکن ہے کہ ملک میں امن قائم ہو۔سوفیصد نہ سہی بڑی حد تک انصاف کا نظام قائم ہو۔ٹیکس ادا کرنے والے ٹیکس ادا کریں۔افواج اور افسر شاہی اپنے دائرہ کار میں رہیں۔پولیس واقعی پولیس ہو اور ایف بی آر لٹیروں کی آماجگاہ نہ رہے۔ خطا معاف‘ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ عارضی حل کے بارے میں سوچتے ہیں۔ان سنگین سوالات کا سامنا ہم نہیں کرنا چاہتے‘ دراصل جو ہمیں درپیش ہیں۔قوم جن کی بنا پر قوم نہیں بن سکی۔1970ء اور 1971میں افق پر بجلیاں چمک رہی تھیں‘ حتیٰ کہ خون کی ندیاں بہنے لگیں‘ دو کے سوا کوئی تیسرا آدمی نہ تھا۔پوری اخلاقی جرأت کے ساتھ جس نے کوئی حل تجویز کیا ہو۔سستے سگریٹ پینے والے جماعت اسلامی کے بوٹا سے قد کے لیڈر گیلانی اور وہ فوجی آمر ایوب خاں۔ان دونوں آدمیوں نے کہا تھا:کنفیڈریشن‘ مشرقی اور مغربی پاکستان کی کنفیڈریشن ملک کو بچا لے گی‘ خون خرابے سے اور بکھر جانے سے۔ نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے؟اب تو کوئی طوطی بھی نہیں۔عقاب ہیں اور گدھ ہیں اور کبھی تو یہ اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ عقاب کون ہے اور گدھ کون؟

Categories
آرٹیکلز

عام انتخابات بھی جلدہونگے ، خان صاحب جیت بھی جائیں گے اور حکومت بھی بنا لیں گے ، مگر اسکے بعد کیا ہوگا ؟ ہارون الرشید کی حیران کن پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے؟اب تو کوئی طوطی بھی نہیں۔عقاب ہیں اور گدھ ہیں اور کبھی تو یہ اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ عقاب کون ہے اور گدھ کون؟ قیام پاکستان کا فیصلہ ہو چکا‘جب قائد اعظم کے

ایک شناسا نے ان سے پوچھا:کیا آپ کو یقین ہے کہ پاکستانی واقعی ایک قوم بن جائیں گے۔ممکن ہے‘اس میں پچاس برس لگ جائیں۔ظاہر ہے ایک ایسا آدمی جو قدرے بے تکلفی کے ساتھ اس بارعب آدمی سے بات کر سکتا ہو‘ زائد از ضرورت گفتگو سے جو گریز کرتے تھے۔ ’’ممکن ہے‘ اس میں ایک سو برس لگ جائیں‘‘ انہوں نے جواب دیا۔کیا ان کے ذہن رسامیں‘امریکی تاریخ کے نشیب و فراز تھے یا دوسری اقوام کے اتار چڑھائو بھی؟۔ پچھہتر برس بیتنے کو آئے اور ہم ایک قوم نہیں بن سکے۔کہا جاتا ہے کہ کپتان نے قومی خودداری کی جو تحریک برپا کی ہے‘ وہ اسے ایک قوم میں ڈھال سکتی ہے۔عمران خان کی کامیابی کتنی ہی عظیم اور قابل قدر ہو‘ جس نے انہیں دیوتا کا سا درجہ عطا کر دیا ہے۔ مگر یہ ایک اطمینان بخش جواب ہرگز نہیں۔ مصطفی کمال چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ باتیں بنانے کے سوا انہوں نے کیا کیا؟جب تک اسٹیبلشمنٹ کی تائید انہیں حاصل رہی‘ وہ قرار اور اطمینان میں رہے۔جیسے ہی اس کی حمایت سے محروم ہوئے‘ان کی پارٹی بکھرنے لگی۔ نون لیگ‘ پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کا ذکر کیا کہ ان کے حریف ہیں‘ جماعت اسلامی کے رہنما اور کارکن بھی اسی انداز میں سوچتے ہیں‘ خواہ کھل کر اظہار نہ کریں۔اتنی سی بات تو جناب سراج الحق کئی بار دہرا چکے ہیں کہ عمران خان اور ان کے حریفوں میں کوئی فرق نہیں۔ برسبیل تذکرہ تین ایسے آدمی جماعت اسلامی کی صفوں سے ابھرے ہیں‘جن کے انداز سیاست نے خلق خدا کو چونکا دیا ہے۔

سینیٹر مشتاق احمد جو ہر اہم قومی معاملے پر کمال جرات سے بات کرتے ہیں۔گوادر کے مولانا ہدایت اللہ‘جو ساحلِ سمندر سے مکینوں کے اجتماعی ضمیر کی آواز بن کے ابھرے ہیں اور ہاں! نعیم الرحمن جو کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ وہ اس محروم شہر کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں کی طرح پہچانتے ہیں۔ مگر کیا عمران خان کا انداز غیر جذباتی ہے‘ہیجان میں‘طوفانی پانیوں میں حل تجویز کرنے کی بجائے حریفوں پر وہ آگ بن کے برستے ہیں۔آج بھی عثمان بزدار‘ ان کے سٹیج پر موجود ہوتے ہیں‘ جو ہماری سیاسی تاریخ کے بدترین کرداروں میں سے ایک ہیں۔آج بھی حقیقی تحمل اور غور و فکر کی دولت سے وہ محروم ہیں‘ کسی تاریخ ساز کامیابی کا حصول‘ جس کے بغیر ناممکن ہے۔تاریخ کا سبق یہ ہے اور اللہ کی آخری کتاب یہ کہتی ہے کہ اظہار صداقت کافی نہیں؟سچی کامرانی کے لئے تحمل اور تدبر کی ضرورت ہے۔برقرار رہنے والے صبر کی۔ امکان بہت ہے کہ حکمت عملی میں معمولی سی تبدیلیاں بھی اگر کر سکیں تو انتخابی فتح سے وہ ہمکنار ہو سکتے ہیں۔کل نہیں تو پرسوں‘ پرسوں نہیں تو ترسوں۔مگر یہ عثمان بزدار‘ مگر یہ محترمہ فرح گجر‘ جن کا خاندان بھی ان کے حق میں گواہی دینے پر آمادہ نہیں۔خان صاحب اس کا دفاع کیوں کرتے ہیں۔ جیت جائیں گے اور جیت کر وہ حکومت بھی بنا لیں گے۔دھاندلی سے ہرا دیئے گئے تو طوفان اٹھائے رکھیں گے اور آخر کار دوبارہ الیکشن کرانا ہوں گے۔خواہ وہ اپنے حریفوں کو چاروں شانے چت کر دیں‘سوال یہ ہے کہ کیا ملک قرار پا سکے گا۔مطلوب امن اور سیاسی استحکام حاصل ہو سکے گا‘معاشی فروغ جس کے بغیر ممکن نہیں وہ افلاس‘ جس نے ہمیں دریوزہ گر بنا رکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ کشمکش جاری رہے گی۔بدذوقی پر مبنی بد کلامی پہ مشتمل وہی ہیجان انگیز کشمکش۔ تو پھر اس بحران کا حل کیا ہے؟طوفانی پانیوں میں لرزتی ہماری کشتی ساحل سے کیونکر ہمکنار ہو سکتی ہے؟ظاہر ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ کئے جانے والے ایک مکالمے سے ‘ جو کھیل کے کم از کم قواعد طے کر دے ۔تمام فریق خوش دلی اور سختی کے ساتھ جن کی پاسداری کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ بہت مشکل ہے مگر مشکل ہی تو ہے‘ ناممکن تو نہیں۔ ملّت کو جس کی ضرورت ہوتی ہے؟ کیا وہ قومی لیڈر بن کر ابھر سکتے ہیں؟ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔

Categories
آرٹیکلز

خان صاحب : یہ سیاست کا میچ ہے یہاں آفریدی کی طرح چھکے لگانے والا جلد آؤٹ اور جاویدمیانداد اور ماسٹر حنیف کی طرح ٹک ٹک کرکے کھیلنے والا ٹکا رہتا ہے ۔۔۔۔ بڑے کام کی بات کہہ دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید قاضی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔الفاظ سے خوب کھیلے خان صاحب۔ پہلے سونامی کو عام لوگوں تک پہنچایا اور اس کی معانی بدل دیے۔سونامی ایک ایسا لفظ ہے جسے سنتے ہی سمندری طوفان کی خطرناک شکل سامنے آتی ہے۔ مگر خان صاحب نے اسے اپنے لیے

استعمال کیا کہ وہ ایک ایسی تبدیلی لائیں گے ، جو سونامی سے کم نہ ہوگی، لیکن ہوا یوں جو سونامی آئی، وہ ایسی معاشی تباہی جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔مشرف کو ڈالر ساٹھ روپے پر ملا، اسی تک کر گئے جاتے جاتے۔ زرداری کو ڈالر اسی روپے ملا 90تک کرگئے جاتے جاتے۔ نواز شریف کو ڈالر 90روپے میں ملا 110 روپے تک کرگئے جاتے جاتے، خان صاحب اسے دو سو کے قریب چھوڑ گئے ۔ خان صاحب کی چھبیس ہزار ارب قرضوں کا بوجھ ملا، پچاس ہزار ارب روپے پر چھوڑ گئے۔ مہنگائی جو ہوئی سو الگ، غربت جو پھیلی ، اقربا پروی ، بے روزگاری ، شرح نمو میں سست رفتاری، بدعنوانی کا بازار الگ۔ہم نے جب کہا ن م راشد کی زبان میں ’’محبت کرنا امیروں کی بازی ہے حسن کوزہ گر‘‘ تو خان صاحب آگ بگولا ہوگئے۔ یہ جو جنرل ایوب کی کتاب کا عنوان تھا beggars can’t be choosers وہ کیا تھا ، یہی تو تھا۔ ہم جسے اپنی قانونی زبان میں Bargain Power کہتے ہیں۔ وہ اس طرح بھی ہے کہ ہم جب انٹرنیشنل بانڈ مارکیٹ میں اپنا بانڈ فلوٹ کرتے ہیں تو ہمیں مہنگے داموں قرضہ ملتا ہے، وہ کیوں؟ وہ اس لیے کہ ہم بدحال معیشت کے ٹائم بم کے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں ، وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم ایٹمی طاقت بھی ہیں۔ خان صاحب ہمیں اور بری حالت میں چھوڑ گئے۔خان صاحب کی پوری سیاست ’’تبدیلی‘‘کے ایک لفظ کے پیچھے چلتے چلتے اس کو عکس بنایا’’بدعنوانی سے پاک معاشرہ۔‘ ‘ تبدیلی تو چلی گئی سونامی کے پیچھے،

مگر بدعنوانی کو پکڑتے پکڑتے وہ آگئے ’’میں این آر او نہیں دونگا‘‘ اور جو کام کرنا تھا وہ رہ گیا۔ نہ وزیر اعظم ہائوس کو یونیورسٹی کرسکے، گورنر ہائوسز عام لوگوں کے لیے کھولے۔ پورے ساڑھے تین سال اس میں گذر گئے ’’میں چور لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ہمارا آمریتی بیانیہ کا محور تھا کہ سیاستدان بدعنوان ہیں۔ کل کسی عدالت میں یہ باز گشت ایک معزز جج کی زبان سے سننے میں آئی ’’جب بدعنوانی ثابت نہیں کرسکتے تو پھر سیاستدانوں کو چور کیوں کہتے ہو‘‘بدعنوانی بھی یونیورسل ہے یہ صرف سیاستدانوں تک محدود نہیں۔ پتہ ،پتہ بوٹا، بوٹا مطلب یہ کہ ہمارے تمام طبقات میں یہ بدعنوانی موجودہ ہے اور پھر خان صاحب کے زمانے میں صرف توشہ خانہ کو اپنی جاگیر سمجھ کر نہیں لوٹا گیا، ابھی تو بہت کچھ آپ کے سامنے آئے گا۔ یہاں تک کہ گوگی اپنا دفاع خود نہیں کررہی ، مگر خان صاحب اس کے دفاع کے لیے آئے ہوئے ہیں ،یہ ہمیں ہیرکی داستان پر بلھے شاہ یاد آگئے’’رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی۔ــاب جب سب کچھ بگڑ گیا سیاستدانوں کو چور کہتے کہتے تو یہ بھی عجیب مقام ہے کہ دوبارہ انھیں سیاستدانوں کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ کیا بہتر ہوتا یہ کام بھی ان مخصوص اینکروں پر چھوڑ دیتے جو بدعنوانی اور چوری کی رٹ لگائے ہوئے تھے اور پھر کیوں نہ ہو جب ہم نے تاریخ میں اتنا بگاڑ پیدا کیا ہم نے کبھی لوگوں کے مانے ہوئے ہیروز کو ہیروز نہیں مانا۔ وہ بلھا، وہ باہو، وہ خوشحال خان خٹک ، وہ فرید، وہ بھٹائی، سچل۔

وہ اجرک، وہ ٹوپی، دھوتی، پگ۔ اس کے برعکس جنھوں نے مقامی لوگوں پر دھاوا بولا ان کو ہم نے ہیرو مانا۔ آج کل خان صاحب نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ وہ سندھ کے لوگوں کو زرداری سے آزاد کرائیں گے۔ شاید اس کے پیچھے بھی وہ سونامی والی تشریح ہے۔نئے پاکستان والی جس کو دیکھ کے لوگ کہتے ہیں’’ خدا کے واسطے ہمیں پرانا پاکستان ہی دے دو۔‘‘ شاید خان صاحب ’’آزادی‘‘ کے پیچھے ’’بربادی‘‘ کی بات کررہے ہیں۔ خان صاحب سمجھتے ہیں کہ چوکوں اور چھکوں سے میچ جیتا جاسکتا ہے۔ خان صاحب تو ہمیشہ آخری اوور کھیلنے آتے تھے کبھی چھکا لگا کبھی نہ لگا، ٹیم کا جیتنا اس پر منحصر نہیں کرتا اور یہ کوئی ٹی ٹونٹی کا میچ نہیں ہے۔ یہاں میانداد اور ماسٹر حنیف کی طرح ٹک ٹک کرکے کھیلنا ہوتا ہے۔ سندھ کے لوگوں نے کان پکڑ لیے اور کہا کہ خان کی آزادی سے زرداری کی دی ہوئی بربادی بہتر ہے۔ نئے پاکستان سے پرانا پاکستان بہتر ہے۔آج کل خان صاحب کو کسی کے نیوٹرل ہونے کا دکھ ہے۔ وہ نیوٹرل کی وہی تشریح کرتے ہیں جو کل سونامی کی کرتے تھے ، جو بدعنوانی کی تھی یا سندھ کو زرداری سے آزاد کرانے کی تھی یا جو گوگی کو بچانے کی تھی۔ لگتا ہے اب نیوٹرل کی نئی تشریح آکسفورڈ کی ڈکشنری والوں کو کرنی پڑ جائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ حق اور سچ ہیں، وہ تو ولی ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی بھی آئینی طریقہ ہی نہیں جس سے وہ اب اقتدار میں آسکتے ہوں۔سوشل میڈیا پر ان کا راج ہے،

پروپیگنڈا کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ جب اب ان کے پاس ہتھیار نہیں اور دوسرا یہ کہ وہ آزاد عدلیہ و الیکشن کمیشن سے بڑے خائف ہیں۔ مہینہ ہونے کو ہے وہ ابھی تک نیوٹرل صحافیوں کو انٹرویو بھی نہیں دیتے، نہ آزاد خیال صحافیوں سے ملنا گوارا بھی کرتے ہیں۔ ان کو لائٹنگ کا بڑا شوق ہے۔ اداکاروں کی طرح فوٹو کھچوا کے، روز اپنے مخصوص لوگوں کو انٹرویو دے کہ وہ بہت خوش ہیں کہ وہ صحیح جارہے ہیں۔خان صاحب کے لیے عرض ہے کہ اننگ کا آغاز چوکوں اور چھکوں سے نہیں کیا جاتا۔ پہلے آہستہ اور پھر تیز کھیلا جاتا ہے کہ کہیں صفر پر آئوٹ نہ ہوجائے کوئی۔ اب اٹھتے ہی خان صاحب نے چوکے اور چھکے جو کرانے شروع کردیے ہیں اس وقت جب امپائر نیوٹرل ہے، نہ آر ٹی ایس سسٹم فیل ہونے کا خطرہ ہے، نہ اوور سیز کو ووٹ دینے کے بہانے دھاندلی ہوسکتی ہے۔ الیکشن کمیشن بھی آزاد ہے عدلیہ بھی نیوٹرل ہے۔خان صاحب کا بیانیہ مخصوص لوگوں سے آگے کسی اور پر کچھ اثر نہیں کرتا ۔اپنے لوگوں کو خان صاحب جو بھی سنانا چاہیں وہ اس کو سچ ہی سمجھیں گے کیونکہ وہ نیوٹرل نہیں ہیں ۔ پارٹی کا ورکر نیوٹرل نہیں ہوتا لیکن ضروری نہیں کہ ہر ووٹر ورکر ہو اور نیوٹرل نہ ہو۔ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ لوگوں کو جو بولیں گے، وہ مانیں گے۔ کراچی کے علاوہ باقی ماندہ سندھ میں تو آپ جلسے کرنے کی شاید جرات ہی نہ کریںاور نا ہی بلوچستان میں۔

اب تو خان صاحب کو ہر بال پر چھکا اور چوکا چاہیے، جو ایک دو، رن لے کے آہستہ آہستہ اسکور بڑھانے کا موقع تھا وہ تو گیااور دوسرے اینڈ پر میانداد نہیں کھڑا کیونکہ وہ نیوٹرل تھا اور کہتا تھا ’’عمران بھائی رن لے لو‘‘ مگر عمران چھکے لگانے کے چکر میں جلدی آئوٹ ہوجاتا تھا۔خان صاحب کے لیے یہ عرض ہے کہ یہ نیا پاکستان ہے نہ پرانا پاکستان ہے۔ یہ ہے اور اس کی تاریخ بھی ہے ، اس کو اپنے تاریخ کی طرف لوٹنا ہوگا۔ اسے جناح کی طرف لوٹنا ہوگا ۔ جتنا مذہب کو خان صاحب نے استعمال کیا کسی اور نے نہیں، یہ بھی تو کورٹ کے نیوٹرل ہونے کی دلیل ہے کہ مدینہ میں جو واقعہ ہوا، اس کی ایف آئی آر کو غلط رنگ دے کے اس تناظر میں نہ کاٹا جائے ورنہ رانا ثناء اللہ نے کام تمام کردینا تھا۔ وہ تو شکر کریں خان صاحب کہ یہ کورٹ نیوٹرل تھی جب آپ نے آئین توڑا تو وہ آئین کے دفاع کے لیے کھڑے ہو گئے اور آپ کے لیے بھی کھڑے ہوگئے۔ خان صاحب جو باتیں کرتے ہیں میر جعفر وغیرہ کی، کوئی سندھی یا بلوچ کرتا تو اس وقت تک اس کے خلاف بہت کچھ ہوجاتا، آپ کے وقت تو سب نیوٹرل ہیں۔آپ کا کیا آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، آپ چاہیں تو جاپان اور جرمنی کی سرحدیں بھی ملا لیں، شہباز کو شہریار کہہ دیں یا روحانیت کو رحونیت۔ رات کو دن اور دن کو رات کردیں۔ہاں، جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی۔۔۔ہاں، ہم ہی کاربند اصول وفا نہ تھے