سعودی عرب نے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا۔ لیکن اس کی اپنی معیشت کہاں پہنچ گئی ہے؟ تشویشناک خبر آگئی

ریاض(ویب ڈیسک)سعودی عرب میں ستمبر کے مہینے کے دوران غیر ملکیوں کی جانب سے ترسیلات زر کم ہو کر 9.83 ارب ریال تک آ گئی۔ اس کے مقابل اگست میں ترسیلات زر کا مجموعی حجم 10.427 ارب ریال تھا ،،، یعنی کہ ستمبر کے مہینے میں اس میں 5.65%. کمی واقع ہوئی۔
سعودی خبر رسال ادارے العربیہ کے مطابق گذشتہ ماہ کے دوران سعودی عرب میں ترسیلات زر میں 5.65فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔ جورواں سال کے دوران یہ اب تک کی سب سے زیادہ کمی شمار کی جا رہی ہے۔سعودی عرب میں ملازمتوں پر مقامی افراد کو بھرتی کرنے کا پروگرام نافذ العمل ہو چکا ہے۔ ان میں بعض ایسے سیکٹرز بھی ہیں جن پر مکمل طور سے غیر ملکی ورکروں کا کنٹرول تھا۔ اس اقدام کا مقصد مملکت میں بے روزگاری کی شرح کو کم کرنا اور سعودی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سال 2018ء کی تیسری سہ ماہی کے دوران غیر ملکیوں کی ترسیلات زر کی مالیت 32.439 ارب ریال رہی جب کہ 2017ء کی تیسری سہ ماہی کے دوران یہ حجم 32.380 ارب ریال تھا۔رواں سال کے آغاز کے بعد سے اب تک سعودی عرب میں غیر ملکیوں کی جانب سے مجموعی طور پر 107.5 ارب ریال بھیجے گئے۔ 2017ء میں اسی عرصے کے دوران بھیجی گئی رقم کا حجم 103.396 ارب ریال تھا۔واضح رہے کہ سعودی حکومت نے جنوری 2018ء سے غیر ملکی ورکروں پر ٹیکس عائد کر دیا ہے۔