مرغی کے گوشت اور انڈوں کی قیمتوں میں ہو شربا اضافہ ہو گیا

لاہور(ویب ڈیسک)آٹا اور چینی کے بعد پولٹری لٹیرے بھی میدان میں آگیا، مرغی کے گوشت کے علاوہ انڈے کی قیمتوں میں بھی 10 دن کے اندر 20 روپے سے 50 روپے تک کا اضافہ کردیا ۔ گزشتہ ہفتے 240 روپے سے 245 روپے تک فروخت ہونیوالامرغ کا گوشت مختلف مقامات پر290 روپے کی حد کو

چھو گیا، اسی طرح انڈے جو گزشتہ ہفتے 160 روپے فی درجن میں فروخت ہورہے تھے ان کی قیمت میں بھی 20 روپے فی درجن کا اضافہ دیکھنے میں آرہا اور یہ انڈے شہر میں 180 جبکہ گردونواح میں 190 روپے فی درجن میں فروخت ہورہے ہیں جبکہ ایک انڈا 20 روپے میں فروخت کیاجارہا ہے، انڈوں اور چکن کی قیمتوں میں اضافے کیساتھ ہی ہوٹلز اور برگر’ شوارما فروخت کرنیوالوں نے کڑاہی گوشت’ برگر اور شوارمے کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا ہے۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق حکومتی اقدامات کی بدولت زرمبادلہ کے زخائر 20 ارب ڈالر کی سطح عبور کرگئے ہیں جب کہ رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 1.16 ارب ڈالر رہا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق زرمبادلہ کے زخائر 20 ارب ڈالر کی سطح عبور کرگئے ہیں، گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں 19 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا 13 نومبر کو مجموعی زخائر کی مالیت 20 ارب 8 کروڑ 56 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی۔ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 12 ارب 93 کروڑ 12 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں جب کہ کمرشل بینکوں کے پاس 7 ارب 15 کروڑ 44 لاکھ ڈالر کی زخائر موجود ہیں۔مرکزی بینک کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ (یکم جولائی تا 31 اکتوبر) کے دوران میں جاری کھاتے کے توازن میں نمایاں بہتری ہوئی ہے۔ ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ 5 کروڑ 90 لاکھ جب کہ اکتوبر میں 38 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سرپلس رہا، اس طرح رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ جاری کھاتے کا مجموعی فاضل بیلنس ایک ارب 20 کروڑ ڈالر رہا ہے۔ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں جاری کھاتے کو 1.4 ارب ڈالر کا خسارہ تھا ۔ جاری کھاتے کا توازن بہتر بنانے میں ترسیلات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی نے اہم کردار ادا کیا ۔رواں سال کے پہلے 4 ماہ جاری کھاتے کا فاضل بیلنس 1.20 ارب ڈالر رہا جب کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 1.4 ارب ڈالر خسارہ تھا