ڈالر ذخیرہ کرنے والوں کی شامت آگئی، اتنا نقصان ہوگیا کہ ذخیرہ اندوزوں کی نسلیں بھی عمران خان کو یاد رکھیں گی

کراچی (ویب ڈیسک )پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا تسلسل جاری کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بدھ کو بھی اتار چڑھاؤ کے بعد زبردست مندی رہی اور کے ایس ای100انڈیکس 38800،38700،38600،38500اور38400کی نفسیاتی حدوں سے گرگیا، مندی کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے مزید 91ارب6کروڑروپے سے زائد ڈوب گئے جبکہ کاروباری حجم گزشتہ روز کی نسبت18.99فیصد زائد اور 72.12فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ بدھ کوحکومتہ مالیاتی اداروں، مقامی بروکریج ہاؤسز سمیت دیگرانسٹی ٹیوشنزکی جانب سے فوڈز،توانائی،بینکنگ،سیمٹ سمیت دیگرمنافع

بخش سیکٹرمیں خریداری کے باعث کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پرکے ایس ای100انڈیکس38980پوائنٹس کی بلندسطح پر بھی ریکارڈ کیاگیاتاہم چین میں کروناوائرس کے پھیلاؤ کے نتیجے میں دنیابھرمیں معاشی سرگرمیاں جمود کا شکار ہیں، جس کے اثرات پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی دیکھے جارہے ہیں،بدھ کو بھی مقامی سرمایہ کار گروپوں نے اپنے حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں تیزی کے اثرات زائل ہوگئے اور کے ایس ای100انڈیکس 520.12پوائنٹس کمی سے 38338.33پوائنٹس کی سطح پر بندہواجوگزشتہ تین ماہ کی کم ترین سطح ہے۔ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کے کیسز کی تازہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ کی طرح پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی متاثر ہوئی۔ سرمایہ کاروں نے اسٹاک مارکیٹ کے بجائے سونے میں سرمایہ لگانا شروع کر دیا ہے۔ اسکے علاوہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت پر 10 ڈالر فی بیرل تک گر چکے ہیں۔امریکی اسٹاک انڈیکس ڈا جونز بھی 26 فروری کو 3 فیصد تک گر گئی جبکہ تین دن میں یہ گراوٹ 7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔جمعہ 21 فروری سے اب تک پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی 5 فیصد تک گر گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کرونا وائرس کے باعث مارکیٹ بری طرح متاثر ہوئی ہے اور گزشتہ تین روز کے دورن 300ارب روپے سے زائد کا سرمایہ ڈوب چکاہے۔ بدھ کو 348کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جس میں سے80کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں م یں اضافہ،251کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی جبکہ17کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔بدھ کو 14کروڑ79لاکھ43ہزار160شیئرزکا کاروبار ہواجومنگل کی نسبت2کروڑ35لاکھ95ہزار40شیئرززائد ہے۔سرمایہ کاری مالیت میں 91ارب6کروڑ6لاکھ27ہزار258روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی کے بعدسرمایہ کاری کی مجموعی مالیت گھٹ کر72کھرب3ارب23لاکھ 80ہزار871روپے ہوگئی۔قیمتوں کے اتارچڑھاؤ کے حساب سیرفحان میظ کے حصص سرفہرست رہے، جس کے حصص کی قیمت188.88روپے اضافے سے6999.88روپے اوروائتھ پاک لمیٹڈکے حصص کی قیمت52.95روپے اضافے سے8670.70روپے پر بند ہوئی۔نمایاں کمی پاک ٹوبیکوکے حصص میں ریکارڈکی گئی،جس کے حصص کی قیمت116.34روپے کمی سے1673.52روپے اورباٹاپاک کے حصص کی قیمت39.99روپے کمی سے1760.00روپے ہوگئی۔بدھ کویونٹی فوڈزلمیٹڈکی سرگرمیاں 2کروڑ97لاکھ80ہزار500شیئرزکے ساتھ سرفہرست رہیں،جس کے شیئرزکی قیمت10پیسے کمی سے13.45روپے اورحیسکول پیٹرول کی سرگرمیاں 1کروڑ3لاکھ80ہزارشیئرزکے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں، جس کے شیئرزکی قیمت94پیسے کمی سے20.17روپے ہوگئی۔بدھ کوکے ایس ای30انڈیکس230.76پوائنٹس کمی سے17647.62پوائنٹس،کے ایم آئی30انڈیکس1051.92پوائنٹس کمی سے60119.88پوائنٹس جبکہ کے ایس ای آل شیئر انڈیکس331.03پوائنٹس کمی سے26687.95پوائنٹس پربندہوا۔ کرونا وائرس کے پھیلا کے خدشات کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج تین ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا جبکہ تین دن کے دوران 300 ارب روپے بھی ڈوب گئے۔بدھ 26 فروری کو کاروبار کے دوران 640 پوائنٹس کی کمی کے بعد 100 انڈیکس 38 ہزار 250 کی سطح پر آگیا۔ آخری مرتبہ نومبر 2019 میں اسٹاک مارکیٹ اس سطح پر آئی تھی۔پیر 24 فروری کو کرونا وائرس کے کیسز کی تازہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ کی طرح پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی متاثر ہوئی۔ سرمایہ کاروں نے اسٹاک مارکیٹ کے بجائے سونے میں سرمایہ لگانا شروع کر دیا ہے۔ اسکے علاوہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت پر 10 ڈالر فی بیرل تک گر چکے ہیں۔امریکی اسٹاک انڈیکس ڈا جونز بھی 26 فروری کو 3 فیصد تک گر گئی جبکہ تین دن میں یہ گراوٹ 7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔جمعہ 21 فروری سے اب تک پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی 5 فیصد تک گر گئی ہے۔ تجزریہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث مارکیٹ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔دوسری جانب پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی کے عدنان سمی شیخ کہتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف نے اپنے حالیہ جائزے میں بہت ہی سخت الفاظ استعمال کیے تھے جس کی وجہ سے سرمایہ کار پریشانی کا شکار ہیں۔ ایف اے ٹی ایف نے زور دیا ہے کہ پاکستان جلد از جلد جون 2020 تک ایکشن پلان مکمل کرکے دے۔تجزیہ کاروں کا سما ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مارکیٹ معمول پر آنے لگی ہے۔واضح رہے کہ جولائی 2019 سے اب تک پاکستانی بانڈ مارکیٹ میں غیرملکی سرمایہ کاری 3 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود 13.25 فیصد پر برقرار رکھنے کے بعد سے سونا اسٹاک مارکیٹ کے مقابلے میں سرمایہ کاری کیلیے اہمیت اختیار کرگیا ہے۔