کہاں تھا نہ ’ اچھے دن آئیں گے۔۔۔!!! ‘پاکستان اسٹاک ایکسچینج مارکیٹ کے منافع میں 6ماہ کے دوران 132 فیصد اضافہ، پاکستانی معیشت کے لیے زبردست خوشخبری

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے بعد از ٹیکس منافع میں2019ء کی دوسری ششماہی کے دوران 132 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔پی ایس ایکس کے مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا دسمبر 2019ء کمپنی نے 120.5 ملین روپے کا بعد از ٹیکس منافع کمایا ہے جبکہ سال 2018ء میں جولائی تا دسمبر کے

لئے پی ایس ایکس کو 51.9 ملین روپے کا خالص منافع حاصل ہوا تھا۔ اس طرح سال 2018ء کی آخری ششماہی کے مقابلہ میں 31 دسمبر 2019ء کو ختم ہونے والے 6 ماہ کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج کے بعد از ٹیکس منافع میں 68.6 ملین روپے یعنی 132 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسری جانب کرونا وائرس کی وجہ سے عالمی اسٹاک مارکیٹیں مسلسل گراوٹ کا شکار ہیں، خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری ہے ۔ کئی ممالک نے کچھ مخصوص ممالک کے فلائٹ آپریشن معطل کردئیے ہیں۔ فضائی سفر نہ ہونے کی وجہ سے ایئرلائنز، سیاحت، سینما اور ہوٹل انڈسٹری کو بھی بھاری نقصان کا سامنا ہے۔کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان، بھارت سمیت ایشیائی سٹاک مارکیٹس بھی مسلسل گراؤٹ کا شکار ہیں۔۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج جو کچھ ماہ قبل 43000 پر پہنچ گئی تھی۔ ایک بار پھر 37000 پوائنٹس پر آگئی ہے اور مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ یہی حال بھارتی سٹاک ایکسچینج کا ہے ۔کرونا وائرس کی وجہ سے چین، ایران سمیت کئی ممالک کے سینما گھر بند ہوگئے ہیں۔ بہت سی بڑے بجٹ کی فلموں کی نمائش اور سکریننگ روک لی گئی ہے۔تجارتی نمائشیں بھی کرونا وائرس کی لپیٹ میں آگئی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی اہم تجارتی نمائشوں کے ساتھ پاکستان میں مقامی سطح پر ہونے والی نمائشیں بھی متاثر ہورہی ہیں۔ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق 7سے 8ملکی و غیر ملکی ایونٹ آرگنائزرز نے مارچ میں ہونے والی 3 نمائشیں منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ نمائشیں کورونا وائرس کی وجہ سے منسوخ کی جارہی ہیں۔تجارتی نمائشیں انڈسٹری کا درجہ رکھتی ہیں جس کا حجم ڈھائی ہزار ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ کورونا وائرس سے نمائشوں کی بین الاقوامی صنعت بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔عالمی معیشت پر غیر یقینی کے بادل کب چھٹیں گے؟ اس سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔