خوشخبریاں آنا شروع۔۔۔!!! ڈالر سستا ہوگیا ، پاکستانی روپیہ مزید مستحکم

لاہور(نیوز ڈیسک) ملک بھر میں کاروباری ہفتے کے پانچویں روز کے دوران اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک میں امریکی ڈالر بالترتیب 20 پیسے اور 22 پیسے سستا ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں رواں ہفتے کے پانچویں کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر 22 پیسے سستا ہو گیا جس کے بعد روپے کے مقابلے

امریکی کرنسی کی نئی قیمت 154 روپے 14 پیسے ہو گئی ہے۔دوسری طرف انٹر بینک کی طرح اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر 20 پیسے سستا ہو گیا جس کے بعد روپے کے مقابلے میں ایک امریکی ڈالر 154 روپے 40 پیسے کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔دوسری جانب رواں ہفتے کے دوران سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا ملا جلا رحجان رہا، رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران 846.93 پوائنٹس کی مندی دیکھی گئی تاہم دوسرے کاروباری روز کے دوران 417.76 پوائنٹس کی تیزی دیکھی گئی۔تیسرے کاروباری روز کے دوران بھی 816.67 پوائنٹس کی تیزی دیکھی گئی تھی، چوتھے کاروبار روز کے دوران 75.69 پوائنٹس کی گراوٹ دیکھی گئی جبکہ اسی کا تسلسل آج کاروباری آخری روز کے دوران بھی دیکھنے کو ملا جب انڈیکس کاروبار کے اختتام پر 212.18 پوائنٹس گر گیا۔آج کاروبار کا آغاز ہی مندی سے ہوا جب پہلے دو گھنٹوں کے دوران انڈیکس 205 پوائنٹس گر گیا اور انڈیکس 40250 کی سطح پر دیکھا گیا۔ غیر یقینی صورتحال کا تسلسل نماز جمعہ کے بعد بھی دیکھا گیا اور وقفے کے ایک گھنٹے بعد انڈیکس میں مزید 60 پوائنٹس کی تنزلی دیکھی گئی اور دوپہر تین بجے انڈیکس 40190.33 پوائنٹس کی سطح پر آیا۔ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس میں ایک موقع پر تیزی دیکھی گئی اور انڈیکس 40603.16 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر دیکھا گیا تاہم آخری لمحات کے دوران انڈیکس میں 40094.29 پوائنٹس کی نچلی ترین سطح بھی دیکھی گئی۔آج پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا اختتام 212.18 پوائنٹس کی مندی کے بعد 40243.26 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا۔ کاروبار کے دوران انڈیکس کی دو حد گر گئیں۔ گرنے والی حدوں میں 40300 اور 40400 کی حدیں شامل ہیں۔ٹریڈنگ کے اختتام پر آج پورے کاروباری روز کے دوران کاروبار میں 0.53 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی جبکہ 8 کروڑ 58 لاکھ 10 ہزار 470 شیئرز کا لین دین ہوا۔ انویسٹرز کی طرف سے زیادہ شیئرزکی فروخت کو ترجیح دی گئی۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کی بڑی وجوہات میں سے رواں ہفتے کے دوران ایف اے ٹی ایف پر ممکنہ اعلان ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار مضطرب کا شکار ہیں اور آج دن بھر ٹریڈنگ کے دوران حصص کی خریداری اور فروخت دیکھی گئی۔