ملکی معیشت کے لیے زبردست خوشخبری۔۔۔!!! ڈالر کی قیمت 7 مہینوں کی کم ترین سطح پر آگئی

کراچی (نیوز ڈیسک ) ڈالر کی قیمت 7 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستانی کرنسی مارکیٹ میں امریکی کرنسی کی قدر میں 19 پیسے تک کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں پیر کو پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر 19پیسے کم ہوگئی جب کہ اوپن

مارکیٹ میں ڈالر 10پیسے بڑھ ہوگیا ۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق گزشتہ روز انٹر بینک میں ڈالرکی قدر میں19پیسے کی کمی ہوئی جس سے ڈالر کی قیمت خرید154.79روپے سے گھٹ کر154.60روپے اور قیمت فروخت154.89روپے سے گھٹ کر154.70روپے ہوگئی جب کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید10پیسے کے اضافے سی154.40روپے سے بڑھ کر154.50روپے اور قیمت فروخت154.70روپے سے بڑھ کر 154.80روپے ہوگئی ۔دیگر کرنسیوں میں یورو کی قیمت خرید 170.50روپے مستحکم رہی اور قیمت فروخت172روپے سے بڑھ کر 172.30روپے ہوگئی جب کہ برطانوی پاونڈکی قیمت خرید200.50روپے سے گھٹ کر 200روپے اورقیمت فروخت202.20روپے سے گھٹ کر 202روپے ہوگئی ۔فاریکس رپورٹ کے مطابق سعودی ریال کی قیمت خرید41روپے اور قیمت فروخت41.30روپے برقرار رہی جب کہ یو اے ای درہم کی قیمت خرید42روپے اور قیمت فروخت 42.30روپے مستحکم رہی ۔چینی یو آن کی قیمت خرید22روپے برقرار رہی جب کہ قیمت فروخت23.20روپے سے گھٹ کر23روپے ہوگئی ۔دوسری جانب غیر یقینی سیاسی صورتحال کے باعث پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران بڑی مندی دیکھی ریکارڈ کی گئی، 100 انڈیکس میں 420.13 پوائنٹس کی گراوٹ دیکھی گئی جس کے باعث انویسٹرز کے تقریباً 80 ارب روپے ڈوب گئے۔ملک بھر میں غیر یقینی سیاسی صورتحال، آٹے بحران نے حصص مارکیٹ میں غیر یقینی چھائی ہوئی ہے، رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران 420.13 پوائنٹس کی تنزلی کی باعث 43 ہزار کی نفسیاتی حد ایک بار پھر گر گئی جبکہ انڈیکس کی مزید 4 حدیں گر گئیں۔ گرنےوالی حدوں میں 43100، 43200، 42900، 42800 کی حدیں شامل ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کا اختتام تیزی پر ہوا تھا، کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 102.68 پوائنٹس کی تیزی کے بعد 43167.77 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا تھا، پورے کاروباری روز کے دوران کاروبار میں 0.24 فیصد بہتری دیکھی گئی۔آج کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، پہلے دو گھنٹوں کے دوران انڈیکس میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی تھی اور انڈیکس 43167.77 پوائنٹس سے بڑھ کر 43247.82 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔تاہم اس سے اگلے دو گھنٹوں کے دوران انویسٹرز کی طرف سے شیئرز کی فروخت ترجیح دی گئی جس کے باعث 470 پوائنٹس گر گئے تھے اور انڈیکس 42828.96 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔ غیر یقینی صورتحال کے باعث اگلے دو گھنٹوں میں مزید گراوٹ دیکھنے میں آئی اور انڈیکس ایک موقع پر 42632.58 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا تھا۔آج پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا اختتام 420.13 پوائنٹس کی تنزلی کے بعد 42747.63 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔ پورے کاروباری روز کاروبار میں 0.98 فیصد گراوٹ دیکھی گئی جبکہ انویسٹرز کے تقریباً 80 ارب روپے ڈوب گئے۔ کاروبار کے دوران 11 کروڑ 63 لاکھ 70 ہزار شیئرز کا لین دین ہوا۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے سٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی سیاسی صورتحال چھائی ہوئی ہے، ملک بھر میں آٹے کا بحران اور مہنگائی کے اُٹھتے طوفان کے باعث انویسٹرز کو دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور پیسے لگانے سے گریزاں ہیں۔