ڈالر کی قیمت 145 روپے۔۔۔!!! امریکی کرنسی ذخیرہ کرنے والوں کے لُٹنے کے دن آگئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔گذشتہ پانچ ماہ میں اضافے کے اس رحجان کے باعث امریکی ڈالر 164 روپے کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر 155 روپے تک آ چکا ہے۔

اسی حوالے سے فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان کا وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت نے روپے کی قدر میں اضافے کے حوالے سے تجزیہ کردہ اقدامات عمل درآمد کیا ہے جس کے نتیجے میں گذشتہ روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر 154.70 روپے کی بہت کم سطح پر پہنچ گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ڈالر کے بہاؤ یعنی گردش اور مقامی کرنسی پر توجہ میں اضافے کی وجہ سے کرنسی ڈیلرز کو آئندہ ماہ روپے کی قدر میں مزید اضافے کی امید ہے۔

انہوں نے کہا فی ڈالر آئندہ دنوں میں 145 روپے تک جا سکتا ہے۔معیشت کے ماہرین درآمدات میں خاطر خواہ کمی کو روپے کی قدر میں اضافے کی بڑی وجہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔جب کہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور حکومت سے قرض کے معاہدوں کی وجہ سے ڈالر کے بہاؤ میں اضافے کو بھی روپے کی قدر میں بہتری کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ 26جون کو ڈالر اوپن مارکیٹ میں 164روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا جو کہ رواں سال جنوری میں 139روپے کا تھا۔روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی 26 جون کے بعد آنا شورع ہوئی تھی اور گذشتہ پانچ ماہ میں اس میں لگ بھگ 9 روپے کی کمی ہوئی ہے۔رواں برس جون سے لے کر اب تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 5.67 فیصد اضافہ ہوا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اپنے پہلے مالی سال میں ڈالر کی قیمت میں غیر معمولی اضافے کے باعث خاصی تنقید کا سامنا تھا اور روپے کی قدر کم ہونے سے صرف جون کے مہینے میں ملکی قرضوں کی مالیت میں 1000 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔