پاکستانی روپے کی دھماکے دار واپسی۔۔۔ امریکی ڈالر کی قیمت میں 9 روپے کمی ہوگئی

لاہور (نیوز ڈیسک) روپے کا بہت ہی تگڑا کم بیک، اماراتی درہم کی قیمت میں 2 روپے سے زائد کی کمی ہوگئی، پاکستان کرنسی کی قدر میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران 5 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا، ڈالر کی قیمت میں تقریباً 9 روپے کی کمی ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق آج کاروباری ہفتے کے پہلے روز ڈالر 15

پیسے سستا ہو گیا ہے،انٹر بینک میں 154 روپے 90 پیسے پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ڈالر اپنی بلند ترین سطح سے 8روپے 60 پیسے نیچے آیا ہے۔جون 2019ء سے اب تک انٹر بینک میں ڈالر 5 فیصد سستا ہوا جس سے قرضوں کے بوجھ میں 860 ارب روپے کمی ہو گئی۔گذشتہ ہفتے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت کم ہو کر 154.70روپے تک کم ہوگئی ہے ، جو گذشتہ 5ماہ کے دوران ڈالر کی سب سے کم قیمت ہے۔

ہفتہ کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 154.70روپے تک کم ہوگئی جبکہ 26جون 2019 کو ڈالر کی قیمت 164روپے رہی تھی۔اس طرح پانچ ماہ میں ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ کرنسی ڈیلرز نے کہا ہے کہ درآمدات میں کمی ، عالمی مالیاتی اداروں سے ڈالرز کی وصولی اور حکومتی پیپرز میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ سے پاکستانی روپے کی قیمت میں استحکام سے ڈالر کی قیمت کم ہوئی ہے اور گذشتہ پانچ ماہ میں روپے کی قدر میں اضافہ سے ڈالر کی قیمت میں 9 روپے زیادہ کی کمی ہوئی ہے۔

گذشتہ پانچ ماہ کے دوران پاکستان کے روپیہ نے ڈالر کے مقابلے میں اتوار کے روز اعلی سطح پر آنے کے بعد بحالی کے آثار ظاہر کیے ہیں۔ اتوار تک متحدہ عرب امارات کے 1 درہم کی زر مبادلہ کی شرح 30 جون کی اس کی شرح 44.58روپے کے مقابلے میں گھٹ کر 42.14 روپے ہوگئی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ روپیہ مضبوط ہورہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں روپیہ پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر آگیا ہے کیونکہ گرین بیک کی مانگ میں کمی کی وجہ سے درآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ قرضے دینے والے اداروں کی طرف سے ڈالر میں اضافے اور سرکاری کاغذات میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے روپیہ کو ڈالر کے مقابلے میں استحکام حاصل کرنے میں مدد ملی ہے کرنسی ڈیلرز کی قیمت میں ڈالر کے اضافے اور مقامی کرنسی کی توجہ میں اضافے کے نتیجے میں آنے والے مہینوں میں روپے میں مزید اضافے کا امکان رکھتے ہیں۔

دوسری جانب کاروباری ہفتے کا پہلا روز تباہ کن ثابت ہوا، پاکستان اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، حصص مارکیٹ کا 100 انڈیکس 289 پوائنٹس گر گیا جس کے باعث حصص کی مالیت میں 45 ارب روپے سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان سٹاک مارکیٹ کا آغاز تنزلی سے ہوا، حصص مارکیٹ کا 100 انڈیکس 289 پوائنٹس گر گیا جس کے باعث حصص کی مالیت میں 45 ارب روپے سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

ندی کے باعث حصص مارکیٹ کی 3 حدیں گر گئیں، گرنے والی حدوں میں 40700، 40600، 40500 کی حدیں شامل ہیں۔ پیر کے روز ٹریڈنگ کے دوران کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ایک موقع پر 100 انڈیکس 40916.39 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا تھا، تاہم اس دوران انویسٹرز کی طرف سے شیئرز فروخت کر کے منافع کمانے کو ترجیح دی گئی۔

جس کے باعث تیزی میں جانے والی مارکیٹ میں بڑی تنزلی دیکھی گئی اور انڈیکس 40314.94 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔کاروبار کے اختتام پر پاکستان سٹاک مارکیٹ 289.85 پوائنٹس کی کمی کے بعد 40442.80 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا، کاروبار میں 0.72 فیصد گراوٹ دیکھی گئی جبکہ حصص کی مالیت میں 45 ارب روپے سے زائد کی کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری روز 91.15 پوائنٹس تیزی دیکھی گئی تھی جس کے بعد انڈیکس 40732.25 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔ کاروبار کے دوران 26 کروڑ شیئرز کا کاروبار ہوا تھا۔