ڈنڈا پیر اے وِگڑیا تِگڑیا دا۔۔۔ 30 جون سے قبل ہی تاجر کتنے من سونا لے کر ایف بی آر کے دفتر پہنچ گیا؟ جان کر آپ بھی کہیں کہ ’’ عمران خان ٹھیک کر رہا ہے‘‘

لاہور (نیوز ڈیسک ) تاجر ڈھائی من سونا وائٹ کروانے کے لیے ایف بی آر پہنچ گیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ایک تاجر نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو لاہور کے دفتر میں فون کر کے کہا کہ اس کے پاس سونا موجود ہے جسے وہ وائٹ کروانا چاہتا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے

پوچھنے پر تاجر نے بتایا کہ اس کے پاس ڈھائی من سونا موجود ہے جسے وہ وائٹ کروانا چاہتا ہے ۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تاجر کو جواب دیا ہے کہ ایمنسٹی سکیم میں سونا وائٹ کرنے کی کوئی شِق ہی شامل نہیں ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں سونا رکھنے والے افراد پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔ واضھ رہے کہ حکومت نے ایمنسٹی سکیم متعارف کروائی ہے جس کے ذریعے شہری اپنے غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات کو ڈکلئیرکر کے ٹیکس ادا کرنے کے بعد اپنے تمام اثاثوں کو قانونی حیثیت دے سکتے ہیں۔حکومت نے اثاثہ جات ڈکلئیر کرنے کی آخری تاریخ 30جون رکھی ہے جس کے بعد غیرقانونی اثاثہ جات رکھنے والوں کے خلاف کارروائی شروع ہو جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا ہے کہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھائیں ورنہ مشکل ہوگی،قوم ٹیکس چوری روکنے میں حکومت کا ساتھ دے، قوم کی مدد سے اگلے سال ساڑھے 5ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کرناہے، اگر ہم تہیہ کرلیں توہر سال 8 ہزار ارب اکٹھا کرسکتے ہیں، جس سے تمام مشکلات حل ہوجائیں گی۔
انہوں نے قوم کیلئے اہم پیغام میں کہا کہ پچھلے 10سال میں پاکستان کا قرضہ 6ہزار ارب سے 30ہزار ارب تک پہنچ گیا ہے۔ اس سے ہمیں نقصان ہوا کہ جتنا بھی ہم نے پچھلے سال ٹیکس اکٹھا کیا تھا ، ان میں آدھا ٹیکس ان قرضوں کی قسطوں پر سود ادا کرنے میں چلا گیا۔ ہم ان قرضوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔اب مزید قرضے ہم پچھلے قرضو ں کی قسطیں اتارنے کیلئے لے رہے ہیں ۔ یہ قرضے کرپشن کی وجہ سے چڑھے۔ اس کی فکر نہ کریں،کرپشن والوں کو ہم نہیں چھوڑیں گے۔ مسئلہ ٹیکس کی چوری ختم کرنے کیلئے مجھے عوام کی ضرورت ہے۔ لیکن اب شہریوں کو اثاثے ظاہر کرنے میں پریشانی کا سامنا ہے۔