بریکنگ نیوز: آسمانوں سے باتیں کرنے والے ڈالرکی قیمت میں اچانک کمی ۔۔۔ مگرکونسی کرنسیاں پاکستان میں مہنگی ہوگئیں ؟ سب کے کام کی خبر

لاہور (ویب ڈیسک ) پاکستان میں بین الاقوامی کرنسیوں کے نئے ریٹس آگئے ہیں ، انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں5پیسے کی کمی تاہم اوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالرکی قیمت میںاستحکام رہا۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق انٹربینک

مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں5پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید138.78روپے سے گھٹ کر138.73روپے اورقیمت فروخت138.88روپے سے گھٹ کر138.83روپے ہوگئی، اوپن کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میںاستحکام رہا،جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید138.30روپے اورقیمت فروخت138.80روپے پرمستحکم رہی۔یوروکی قیمت خرید میں استحکام اور فروخت میں20پیسے کی کمی جبکہ برطانوی پائونڈکی قیمت خریدمیں2.70روپے اور قیمت فروخت میں1.70روپے کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا،جس کے نتیجے میں باالترتیب یوروکی قیمت خرید155.50روپے پرمستحکم اورقیمت فروخت157.50روپے سے گھٹ کر157.30روپے جبکہ برطانوی پائونڈکی قیمت خرید179.80روپی سے بڑھکر182.50روپے اورقیمت فروخت181.80روپے سے بڑھ کر183.50روپے ہوگئی ، فاریکس رپورٹ کے مطابق سعودی ریال کی قیمت میں 5پیسے جبکہ یواے ای درہم کی قیمت میں بھی5پیسے کااضافہ ریکارڈ کیاگیا،جس کے نتیجے میں باالترتیب سعودی ریال کی قیمت خرید36.80روپے سے بڑھ کر36.85روپے اورقیمت فروخت37.10روپے سے بڑھ کر37.15روپے اوریواے ای درہم کی قیمت خرید37.75روپے سے بڑھ کر37.80روپے اورقیمت فروخت38.05روپے سے بڑھ کر38.10روپے ہوگئی۔منگل کوچینی یوآن کی قیمت خرید میں20پیسے کااضافہ اورقیمت فروخت میں10پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی،جس کے نتیجے میں چینی یوآن کی قیمت خرید20.30روپے سے بڑھ کر20.50روپے اور قیمت فروخت21.60روپے سے گھٹ کر21.50روپے ہوگئی ہے، یاد رہے کہ اس سے قبل یہ خبر بھی آئی تھی کہ ماہرین نے کہا تھا کہ گذشتہ تین ماہ میں ڈالر کی قیمت 18 روپے تک بڑھ چکی ہے اور گذشتہ روز ڈالر میں یکدم 8 روپے اضافہ معیشت کے لیے تباہی لائے گا۔ ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے اسٹاک ایکسچینج میں شدید

مندی کا رجحان ہے ۔ سونا ریکارڈ سطح تک مہنگا ہوگیا ہے اور اُس کی قیمت 64 ہزار فی تولہ سے تجاوز کرگئی ہے۔ بر آمدات رُک چکی ہیں ، صنعت و تجارت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں جس سے ملکی زرمبادلہ مزید کم ہونے کا اندیشہ ہے۔ قرضہ جات میں 760 روپے اضافہ ہوگیا ہے جو گذشتہ تمام حکومتوں کے مقابلے میں ایک ریکارڈ اضافہ ہے۔ حکومت نے ڈالر کو کھلا چھوڑنے کا مقصد بر آمدات میں اضافہ ہونا بتلایا تھا لیکن برآمدات میں صرف 4.5 فیصد تک اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے جو کوئی قابل قدر اضافہ نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ صنعت و تجارت کے لیے ریلیف فراہم کرتے ہوئے ٹیکسوں میں کمی کرے، گیس اور بجلی کی قیمتوں کو مناسب سطح پر لائے اور ایف بی آر کو لگام دے کہ وہ صنعتکاروں اور تاجر حضرات کو ہراساں کرنے کے بجائے دوستانہ ماحول میں زیادہ سے زیادہ ٹیکسوں میں رعایت دے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ ڈالر کی قیمت میں استحکام کے لیے بلا تفریق معاشی ماہرین سے مشورہ کرے اور سر جوڑ کر بیٹھے۔ حکومت اور حزب مخالف قومی مفاد میں اتفاق رائے سے ملکی معیشت کو مناسب سطح پر لانے کے لیے اقدام کیے جائیں ورنہ ڈالر کی قیمتوں میں روز افزوں اضافہ مہنگائی کا طوفان لائے گا جس کو سنبھالنا حکومت کے بس میں نہ رہے گا۔ لہٰذا وزیر اعظم عمران خان، وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق دائود سے درخواست ہے کہ وہ ڈالر کی قیمت کو کم سطح پر لانے کے لیے ایسے فوری اقدام کریں جن سے صنعت و تجارت کو فروغ حاصل ہو، قیمتوں میں اضافے پر قابو پایا جاسکے۔