بہت جلد پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری ہونے کا امکان ۔۔۔۔مگر یہ سرمایہ کاری عمران خان کے کس اعلان کی بدولت ممکن ہوئی ہے ؟ کپتان کے مخالفوں کے کام کی خبر

اسلام آباد(ویب ڈیسک) رواں مالی سال ترسیلات زر کی مد میں 21ارب ڈالر آنے کے امکان کے پیش نظر پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹس میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔اس حوالے سے ترجمان وزارتِ خزانہ خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹس کی خریداری کیلئے 4ہزار درخواستیں رجسٹرڈ ہوئیں۔

تفصیلات کے مطابق رواں مالی سال ترسیلات زر کی مد میں 21ارب ڈالر آنے کے امکان کے پیش نظر پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹس میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔اس حوالے سے ترجمان وزارتِ خزانہ خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹس کی خریداری کیلئے 4ہزار درخواستیں رجسٹرڈ ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹس کی روپے میں وقت سے پہلے کیش کروانے پر کوئی کٹوتی نہیں ہوگی۔ دوسری جانب سٹیٹ بینک اور ابو ظہبی فنڈ فار ڈیویلپمنٹ کے درمیان 2 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔سٹیٹ بینک اور ابوظہبی فنڈ فار ڈیویلپمنٹ کے درمیان یہ معاہدہ ابوظہبی کی پاکستان کیلئے مالی معاونت کے اعلان کی دوسری قسط ہے۔پاکستان ابو ظہبی کی جانب سے اس معاہدے کے تحت ایک ارب ڈالر جنوری میں حاصل کرچکا ہے۔ سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ 2 ارب ڈالر کا فنڈ جلد ہی ملنے کی توقع ہے۔اسٹیٹ بینک ذرائع کے مطابق پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کے اجراء کے پہلے ہفتے میں یومیہ اوسط خریداری ایک لاکھ ڈالر تھی جو دوسرے ہفتے میں بڑھ کر یومیہ3لاکھ ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی۔ دوسرے ہفتے کے اختتام تک پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کے خریداری30لاکھ ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔واضح رہے کہ حکومت نے جون تک ان سرٹیفکیٹس کے ذریعے بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے500ملین ڈالرز خریداری کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ اس پر شرح منافع چھ فیصد سے زائد ہے۔ معاشی تجزیہ کار محمد سہیل کے مطابق بہتر شرح منافع کے سبب پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹس کی خریداری میں بھرپور خریداری دیکھی جارہی ہے۔