پاکستان سیاست کا بارھواں کھلاڑی : مولانا فضل الرحمٰن کا سیاسی مستقبل کیا ہے ؟ ایک جاندار سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) افتخار عارف ’بارہواں کھلاڑی‘ کے عنوان سے کیا کمال نظم کہہ گئے۔ شاید ہی کسی نے بارہویں کھلاڑی کے کانسیپٹ کو قلم کے ذریعے ایسی زندگی دی ہو جیسی انہوں نے دی۔ ہمارے ملک میں پرانے ادبی لوگ اب کم ہی رہ گئے ہیں۔ جو گئے ان کی قدر نہ ہوسکی اور جو زندہ ہیں،

نوجوان صحافی واصب امداد اپنے ایک بلاگ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ان کی قدر کے شرف سے بھی ہم بحیثیت قوم محروم ہیں۔ فنکار کو لگاؤ مگر صرف فن سے ہوتا ہے۔ وہ کمرشل جراثیم سے ہاتھ صاف رکھتا ہے۔ اس کی کل کائنات اس کی تخلیق ہوتی ہے۔ دنیا قدر کرے نہ کرے، فین کلب پھیلے یا سمٹے، فنکار کا خاصہ اس کی بے نیازی ہے۔ انسان رفتہ رفتہ اہمیت حاصل کرتے ہیں۔ کسی بھی فن میں اپنا لوہا منوانے میں وقت لگتا ہے۔ ہم سب زندگی میں کبھی نہ کبھی بارہویں کھلاڑی ضرور رہتے ہیں۔ وہ جو رہیں یا جائیں، تماشائیوں اور تماشے کو فرق نہیں پڑتا۔ وہ جن کی قدر اس وقت کے لوگ کم ہی کرتے ہیں۔ وہ جنہیں کھیلنے کا موقع نہیں ملتا۔ ملے بھی تو ابتدائی چانس کے دباؤ میں پرفارم نہیں کر پاتے اور پھر باہر دھکیل دیے جاتے ہیں۔ وہ جنہیں اوروں کو کھیلتے ہوئے دیکھنا ہوتا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی کامیابیوں پر تالیاں بجانی پڑتی ہیں۔ ان کا اپنا ہنر، اپنا ٹیلنٹ ڈھکا چھپا کسی موقعے کا انتظار کرتا ہے۔ بارہویں کھلاڑی کو کوئی ہوٹ نہیں کرتا۔ کوئی تماشائی اس کےلیے نہیں آتا۔ لوگ سب میدان میں موجود اِن ایکشن کھلاڑیوں کو دیکھنے آتے ہیں۔ مگر وہ سب سے الگ اپنی دنیا میں مگن رہتا ہے، جہاں وہ ہیرو ہو، جہاں وہ ہی اول ہو اور جہاں اسی کے دم سے سب رونقیں ہوں۔ بارہواں کھلاڑی سانحات اور حادثوں کے انتظار میں رہتا ہے۔ کوئی انہونی ہو، کوئی کھلاڑی زخمی ہوجائے یا کسی صورت پلیئنگ الیون کا حصہ نہ رہے

تو ہی بارہویں کھلاڑی کو کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ مگر ایسا آسانی سے کہاں ہوتا ہے، یہ مواقع شاذ و نادر ہی آتے ہیں۔ اس کا حال ’ایکشن‘ سے بہت دور ہوتا ہے اور مقدر بہت دھندلا۔ وہ مگر کھیل سے جڑے دل کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے۔ اس کا دِل کھیل کےلیے دھڑکتا ہے۔ اسے کھیل سے اتنی محبت نہ ہو تو وہ کبھی بارہویں کھلاڑی کی ذلت برداشت نہ کرے۔ بارہویں کھلاڑی کو آخری وسل یعنی کھیل ختم کرنے والی، امپائر کے ہونٹوں میں دبائی اس سیٹی کی آواز سے نفرت ہوتی ہے۔ آخری وسل کے ساتھ اس کے دل میں کھیل کا حصہ بننے کے سب ارمان ٹوٹ جاتے ہیں۔ وہ پھر انتظار کی طویل سولی پر لٹک جاتا ہے۔ اس کا دل ڈوب جاتا ہے کہ ایک اور کھیل بیت گیا اور ایک اور بار اس کی باری نہ آسکی۔ آخری وسل اسے بتاتی ہے کہ وہ اتنا اہم نہیں کہ اسے کھیل کھلایا جاسکے۔ غیر اہم ہونے کا یہ احساس اسے لے ڈوبتا ہے اور آخر ایک دن ایسے ہی ایک آخری سیٹی کے ساتھ اس کا بار بار ٹوٹنے والا دل مکمل ٹوٹ جاتا ہے اور پھر وہ کھیل کی طرف دوبارہ کبھی نہیں دیکھتا۔ دنیا میں جتنے بھی کھیل کھیلے جاتے ہیں ہر کھیل میں شامل ہر ٹیم اور ہر ٹیم کا پلیئنگ یونٹ اور اس یونٹ سے باہر رہنے والے تمام بارہویں کھلاڑیوں کی داستانیں کچھ مختلف نہیں۔ مولانا اسلام آباد آرہے ہیں۔ اکیلے نہیں، 15 لاکھ افراد کے ساتھ۔ موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں ان کی حیثیت بھی ایک بارہویں کھلاڑی کی سی ہے۔

یعنی الیکشن 2018 کے ذریعے وجود میں آنے والے اِس سیاسی خاکے میں ان کا کوئی رول نہیں۔ کہتے ہیں یہ حکومت گرا کر دم لوں گا، جو جعلی ہے اور ملک دشمن ہے۔ ہر آؤٹ آف ٹیم پلیئر کی طرح اِس بارہویں کھلاڑی کو بھی موجودہ کھلاڑیوں پر اعتراض اور ایک سانحہ کا انتظار ہے۔ ایک ایسا سانحہ جس سے منتخب حکومت اپنی مدت پوری کیے بغیر کسی طرح گھر بھیج دی جائے اور کھیل کے اگلے حصے میں ان کا بھرپور کردار ہو۔ پھر وہ تالیوں کی جھرمٹ میں کھیلنے کو نکلیں۔ ان کے حق میں تماشائی فلک شگاف نعرے بلند کریں۔ لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اِس بارہویں کھلاڑی کا حال بھی ایکشن سے دور اور مستقبل بہت دھندلا ہے۔ چرچل نے کہا تھا کہ ریس کے دوران اپنے گھوڑے تبدیل نہیں کیے جاتے۔ میچ فیصلہ کن مراحل میں ہے۔ ریاست حالتِ جنگ میں ہے اور اِس وقت اندرونی طور پر کسی تبدیلی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ موجودہ ٹیم ناتجربہ کار ہے اور شاید نالائق بھی، مگر آہستہ آہستہ گزرتے وقت کے ساتھ کھلاڑیوں کی پوزیشن میں تبدیلی کے ساتھ تھوڑا ڈانٹ ڈپٹ کرکے ان سے کام نکلوا لیا جائے گا اور یہ وقت گزار لیا جائے گا۔ کسی ٹویلفتھ مین کو مگر اکموڈیٹ کرنا کوچ اور کپتان کے لیے ناممکن ہے۔ اسے ہر صورت صبر کرنا ہوگا۔ ایسا صبر جو شاید اب کبھی نہ ختم ہوسکے۔ اسے اپنے وقت میں بہت مواقع ملے، مگر وہ کوئی خاطر خواہ پرفارمنس نہیں دکھا سکا۔ آج وہ نالائقی اور بدنامی کا نشان ہے۔ آج اس کے نام کے ساتھ دین فروشی، بہتان تراشی، ڈیزل، کشمیر کمیٹی کا چیئرمین رہتے ہوئے مجرمانہ خاموشی، مگر اسی کمیٹی کو استعمال کرکے دنیا بھر گھوم کر عیاشی، سرکاری خزانے کی لوٹ کھسوٹ، محض اقتدار کی سیاست، زمینوں پر قبضے، 44 لاکھ کی لسی پینے جیسے کئی لیبل لگ چکے ہیں۔ کھیل سے لگائے دل کے جذبات اپنی جگہ، مگر حالات کی نزاکت اور آس پاس تیرتے تلخ حقائق اپنی جگہ موجود ہیں۔ مذہب کی آڑ میں سیاسی نشانہ بازی ہمارے ملک کےلیے نئی نہیں۔ خواجہ نظام الدین سے لے کر شاہد خاقان عباسی اور اب عمران خان تک، مختلف ادوار میں مختلف وزرائے اعظم یہ حالات دیکھ چکے، ان کا سامنا کرچکے۔ اب کی بار پھر مذہب کے لبادے میں سیاسی تیر عمران خان کے اقتدار کے آرپار ہونے کو تیار ہے۔ بارہویں کھلاڑی کا خوف امپائر کے کھیل کو ختم کرنے کی وسل ہے۔ اس صورت میں اسے انتظار کی سولی پر ٹانگ دیا جائے گا۔ وہ انتظار جو شائد اب کبھی ختم نہ ہو۔ اور پھر آخرکار ہر بارہویں کھلاڑی کی طرح مولانا کو بھی کھیل سے ہمیشہ ہمیشہ کےلیے منہ موڑنا پڑے اور افتخار عارف کی نظم ’بارہواں کھلاڑی‘ پڑھ کر دل ہلکا کرنا پڑے۔(ش س م)