You are here
Home > بڑی خبر > جہانگیر ترین اور عمران خان کے درمیان صلح ہو جائے گی یا نہیں ؟ سینئر صحافی نے دعوے کے ساتھ پیشگوئی کردی

جہانگیر ترین اور عمران خان کے درمیان صلح ہو جائے گی یا نہیں ؟ سینئر صحافی نے دعوے کے ساتھ پیشگوئی کردی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار چوہدری خادم حسین اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جہانگیر ترین ایک نام ہے اور ان دنوں خبروں کا مرکز ہے۔ محترم سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی طرح عمر بھر کے لئے نااہل ہیں اور دونوں حضرات کے خلاف یہ فیصلہ عدالت عظمیٰ سے آیا،

فیصلے کی رو سے نااہل قرار دیئے جانے والے حضرات سیاسی طور پر نااہل قرار دیئے گئے ان کے لئے اخلاقی طور پر سیاست شجر ممنوعہ ہے، لیکن یہاں صورت حال مختلف ہے کہ ہر دو حضرات مجبور ہیں اور کسی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے، لیکن سیاست سے آؤٹ ہونے کو تیار نہیں ہیں۔جہانگیر ترین پر جب اچھے دن تھے تو وزیراعظم کے ایماء پر سرکاری اجلاسوں میں بھی شرکت کرتے تھے اور ”نااہل“ سے ”اہل“ تھے۔ پھر چشم فلک نے نظارہ دیکھا کہ دونوں دوستوں کے درمیان دوری ہوئی۔ شیشے میں بال آ گیا۔ ”چینی سکینڈل“ اس دیرینہ دوستی کوبہا لے گیا اور وزیراعظم اور جہانگیر ترین کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں۔ اس حوالے سے مسلسل خبریں چل رہی ہیں اور قیاس کے گھوڑے بھی دوڑائے جا رہے ہیں، ہم نے از خود اس مسئلہ پر تحریر سے گریز کیا کہ ہمارا خیال تھا، دو دوستوں میں غلط فہمی دور بھی ہو سکتی ہے اس لئے جلدی نہ کی جائے اور انتظار کیا جائے،اسی دوران یہ بھی واضح ہوا کہ جہانگیر ترین نے اس اہل ہونے کے باوجود کہ قومی اور پنجاب اسمبلی میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکیں۔صبر و تحمل سے کام لیا، حمایت ظاہر بھی کر دی، تاہم ”بغاوت“ سے گریز کیا اور ابھی تک جماعت سے منسلک اور یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ذرا آمنے سامنے بات ہو گی تو حالات بدل جائیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شیشے میں بال آ جائے تو پھر واپس اصلی حالت میں نہیں آتا، آثار پیدا ہوئے کہ وزیراعظم سے براہ راست ملاقات اور گفتگو ہو جائے گی

اور غلط فہمیاں بھی دور ہو سکتی ہیں، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کپتان کی ”انا“ آڑے آ گئی اور انہوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ جہانگیر ترین اور ان کے حامیوں نے ان کی طرف سے قائم سیاسی کمیٹی کے ساتھ ملنے سے انکار کیوں کر دیا، یہ عمل ”پریشرائز کرنے “ کے زمرے میں آیا اور شاید کپتان براہ راست ملاقات کے لئے رضا مند نہیں ہو پائے، اس کی وجہ سے مایوسی کا عمل ہوا اور جہانگیر ترین نے، جس ”پاور شو“ کا التوا کیا، اس کی تیاریاں پھر سے شروع کر دی ہیں، ان کی طرف سے 21اپریل والا افطار ڈنر اچھی توقع میں موخر کر دیا گیا تھا، لیکن اب پھر سے تاریخ طے کی جا رہی ہے، اس لئے حالات کچھ بہتر نہیں ہیں۔جہانگیر ترین کے حامی قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان بھی یہی توقع لگائے بیٹھے تھے کہ وزیراعظم سے ملاقات ہو گئی تو معاملہ حل ہو جائے گا، لیکن وہ شاید یہ نہیں جانتے کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے اور شاید اب کپتان کے لئے مشکل ہے کہ وہ جہانگیر ترین کو وہ انصاف دے سکیں، جس کا مطالبہ راجہ ریاض صاحب کی زبانی کیا گیا اگرچہ یہ خواہش اور موقف خود جہانگیر ترین کا بھی ہے، وہ شاید بھول گئے تھے کہ کپتان تو منافع خور گروہوں کا ذکر کرتے اور فخر سے کہتے ہیں کہ ”چوروں کو نہیں چھوڑیں گے، اس کے ساتھ ہی وہ بار بار چینی گروہوں کا ذکر کرتے ہیں،

چنانچہ ان کا مسئلہ بہت مشکل ہو چکا ہے، وہ جہانگیر ترین کو چھوڑیں تو سارا کیس ہی تلپٹ ہو جاتا ہے، ان کے لئے اب راہ فرار کوئی نہیں، سوائے اس کے کہ جہانگیر ترین خود کو عدالت سے کلیئر کرائیں، لہٰذا ڈیڈلاک کی سی کیفیت بن گئی ہے، وہ خود اور ان کے ساتھی گومگو کی کیفیت میں ہیں، پارٹی چھوڑنے یا اپوزیشن کے ساتھ مل کر حکومت گرانے سے ان کا کوئی فائدہ نہیں کہ ایسا ہو بھی تو الیکشن کی صورت بنے گی یا پھر ”اِن ہاؤس“ تبدیلی ہو گی، لیکن تفتیش نہیں رک سکتی۔قومی اسمبلی کے رکن راجہ ریاض پرانے جیالے ہیں اور اب یہ تاثر پختہ ہوا کہ ان کو بھی جہانگیر ترین ہی پیپلزپارٹی چھڑوا کر تحریک انصاف میں لے کر آئے تھے، وہ تو ویسے بھی نگاہ التفات میں نہیں تھے اور اپنی آواز بلند کرتے رہتے تھے، جواب میں ان کو لفٹ نہیں ملی تھی۔ اب وہ جہانگیر ترین کی آڑ میں اپنے دل کا غبار بھی نکال رہے ہیں۔ ہم اس راجہ ریاض کو جانتے ہیں جو راؤ سکندر اقبال کے قافلے میں بسوں کی تعداد کے حوالے سے مقابلہ کیا کرتے تھے اور صوبائی وزیر بھی رہے تھے اور یہ بھائی پیپلزپارٹی میں بھی دوستوں ہی کو ناراض کر بیٹھے تھے، بھائی رانا آفتاب سے دوستی اور تعلق تھا، مل کر قافلہ بناتے اور پھر الگ الگ قافلے بننے لگے تھے، دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ دونوں ہی پیپلزپارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں گئے اور انتخاب میں بھی حصہ لیا، راجہ ریاض تو قومی اسمبلی میں پہنچ گئے، مگر رانا آفتاب کامیاب نہ ہو سکے کہ ایک جماعت میں ہونے اور پھر ایک ہی جماعت میں جگہ پانے والے یہ دوست دل صاف نہ کر سکے،اب راجہ ریاض نے جہانگیر ترین کے ساتھ دوستی نبھانے کا فیصلہ کیا ہے اور ”بولڈ“ بھی ہیں، وقت فیصلہ کرے گا کہ کیا ہوتا ہے۔ ہمارے خیال میں کپتان کا مزاج اور ان کو حاصل حمایت شاید تعلقات کی بحالی میں رکاوٹ ہے اور رہے گی تاہم جہانگیر ترین کو کوئی حتمی قدم اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچنا ہوگا، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ صورت حال کیا ہے اور ”فیصلہ کن طاقت“ کس انداز میں سوچتی ہے۔ ان کے حوالے سے یہ توقعات کہ وہ اپوزیشن کر گزریں گے، شاید پوری نہ ہوں کہ ان کی حامی قوت کیسی بھی ہو، وہ تحریک انصاف کو چھوڑنے کا ”رسک“ شاید نہ لیں، البتہ کسی اہم موقع پر ان کی ضرورت رنگ دکھا سکتی ہے۔


Top