کمپنی چلے گی مگر یہ کتاب نہیں چلے گی ۔۔۔!!!

لاہور (ویب ڈیسک) کچھ روز قبل نامور پاکستانی کالم نگار سہیل وڑائچ کی ایک کتاب “یہ کمپنی نہیں چلے گی ” کو بک سٹالز سے غائب کردیا گیا ، ایسا کیوں ہوا ، کمپنی والے آخر اس کتاب کے پیچھے کیوں پڑ گئے ۔ اس سوال کا جواب کالم نگار وصحافی سہیل وڑائچ

نے ایک مشہور غیر ملکی ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں خود ہی دے ڈالا ۔۔۔۔ سہیل وڑائچ بتاتے ہیں ۔۔۔ میری یہ کتاب یہ کمپنی نہیں چلے گی کا ایشو دراصل اس کے سر ورق پر موجود کارٹون کی وجہ سے اٹھا ہے ، کارٹون کو ہمیشہ لائٹ موڈ میں لیا جاتا ہے ، مگر اس سر ورق کو کچھ زیادہ یہی سنجیدہ لے لیا گیا ہے ۔ یہ کتاب دراصل میرے ان کالموں کا مجموعہ ہے جو پاکستان کے سیاسی حالات کے مدنظر لکھے گئے اور سب کے سب پاکستانی اخباروں اور میڈیا میں چھپ چکے ہیں اور لوگ انہیں پڑھ کر ہضم کر چکے ہیں ۔ دوبارہ کتابی شکل میں چھاپنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ لوگ سارے کالم ایک جگہ ملاحظہ کر سکیں ۔ تو اس میں کوئی نئی بات نہیں تھی لیکن یہ چیز حکومت کو اچھی نہیں لگی ، ایک اور سوال کہ آپ نے کتاب کے غائب ہونے کے بعد اپنا ایک ٹویٹ ڈیلیٹ کیوں کیا ؟ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ آپ کے ارد گرد موجود آپ کے قریبی رشتہ دار یار دوست اور جاننے والے آپ کی زندگی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ میرے ٹویٹ پر اعتراض کیا گیا کہ اس سے ہمارے وزیراعظم کے وقار کو ٹھیس پہنچتی ہے ۔ میں نے پہلے تو جواب دے کر انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی مگر پھر میں نے سب کی بات مان لی اور اس وجہ سے میں نے یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ہم سوچ رہے ہیں کہ اس کتاب کو نئے ٹائٹل کے ساتھ دوبارہ قارئین کے سامنے پیش کر دیں ۔ سہیل وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کا بیانیہ میڈیا مخالف ہے جسے اس کے اپنے بعض وزیر بھی ہضم نہیں کرپارہے وہ اس بیانیہ کے خلاف بولنا چاہتے ہیں مگر مجبور ہیں ، لیکن مجھے یقین ہے ایک روز حکومت کو اپنا یہ میڈیا مخالف بیانیہ ترک کرنا ہو گا تب جاکر حالات بہتر ہونا شروع ہونگے ۔