یہ کمپنی نہیں چلے گی : سہیل وڑائچ کی نئی کتاب کو بک سٹالز سے غائب کیوں کیا گیا ؟ اس کتاب میں ایسے کیا تہلکہ خیز انکشافات اور پیشگوئیاں کی گئی تھیں ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے معروف صحافی اور سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کی تصنیف کردہ ایک کتاب گذشتہ شام بُک سٹالز کی زینت بنی تھی تاہم اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر اسے پہلے ہی روز پاکستان کے کچھ ریاستی اداروں کی جانب سے اعتراض کے بعد دکانوں سے ہٹوا دیا گیا ہے۔

نامور صحافی شجاع ملک بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘ نامی یہ کتاب سہیل وڑائچ کے مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے کالمز کا مجموعہ ہے۔اس کتاب کو دکانوں سے ہٹائے جانے کی وجہ کیا بنی اس پر سہیل وڑائچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دیکھیں اس کتاب میں جو مواد ہے وہ پہلے سے شائع شدہ کالمز ہیں۔ البتہ مجھے پتا چلا ہے کہ اس کے سرورق پر کچھ حلقوں کو اعتراض ہوا ہے۔ گذشتہ روز مجھ سے بھی رابطہ کیا گیا کہ اس کے سرورق پر جو کارٹون ہے وہ وزیراعظم کے وقار میں کمی لاتا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کارٹون تو لائٹ موڈ میں بنائے جاتے ہیں اور کارٹون ہمیشہ لائٹ انداز میں دیکھے جاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود جب رات دیر گئے میرے بہت سے ساتھیوں اور میرے گروپ نے بہت زیادہ اصرار کیا تو ہم نے ٹوئٹر سے اسے ہٹا دیا۔ اب ہم اس (کتاب) کا سرورق تبدیل کریں گے۔‘سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے کہ اس سے پہلے حزبِ اختلاف بھی اس طرح کی باتیں کرتی رہی ہے کہ وزیراعظم کو کھلی چھٹی ہے، سب ایک ہی پیچ پر ہیں، تو یہ (کارٹون) اُسی سیاق و سباق میں تھا لیکن اگر ملکی اداروں کو اس پر اعتراض ہو گا تو اس کو تبدیل کر لیں گے۔‘اس کتاب کے سرورق پر موجود کارٹون کے بارے میں سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’میرا نہیں خیال کہ اس میں کوئی قابلِ اعتراض چیز تھی۔

یہ کتاب میرے ان کالمز کا مجموعہ ہے جو جنگ یا بی بی سی میں چھپتے رہے ہیں۔ کالم تو سارے پہلے ہی چھپ چکے ہیں، انھیں سرورق پر ہی اعتراض ہے۔ سرورق کو تو ہمیشہ ہلکے موڈ میں دیکھا جاتا ہے، اسے اس طرح مواد کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔‘اس سوال کے جواب میں کہ کارٹون تو اس سے بھی زیادہ طنزیہ ہو جاتے ہیں، تو خاص طور پر اس کتاب سے ہی کیوں مسئلہ ہوا ہے، اُن کا کہنا تھا کہ ’میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔۔۔ بظاہر مجھے تو کوئی وجہ نہیں لگتی، ماسوائے اس کے کہ کسی نے اپنا غصہ نکالا ہو۔‘سہیل وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ ایسے تو وہ کتاب چلنے ہی نہیں دیں گے مگر یہ بھی ضروری ہے کہ کتاب لوگوں تک پہنچے اس لیے بہتر ہے کہ اس پر جو اعتراض ہے اُسے ٹھیک کر لیا جائے۔حال ہی میں پاکستان میں متعدد صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کروائے گئے ہیں جن میں ان پر ریاستی اداروں کی مخالفت کے الزامات ہیں۔ کیا سہیل وڑائچ کی کتاب پر اعتراض آنا اِسی سخت برتاؤ کے سلسلہ کی ایک کڑی ہے؟اس سوال پر سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں اسے بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ مگر یہ غلط کر رہے ہیں۔ اس سے نہ حکومت کو فائدہ ہے، نہ ریاست کو اور نہ صحافت کو۔‘انھوں نے کہا کہ صحافی نہ کسی کے مستقل طور پر خلاف ہوتے ہیں اور نہ کسی کے مستقل طور پر حمایتی کیونکہ ہماری صحافت موضوع کی بنیاد پر ہوتی ہے اور مختلف ایشوز پر ہم کبھی کسی کی حمایت کر رہے ہوتے ہیں اور کبھی کسی کی مخالفت کر رہے ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا مگر اس کو اس طرح دیکھنا کہ اگر کسی چیز یا بات کی مخالفت کی ہے تو یہ ہمارا دشمن ہو گیا ہے، یہ غلط ہے۔