وہی ہوا جسکا اندیشہ تھا : سعودی عرب بھی امریکہ اور اسرائیل کے آگے لیٹ گیا ، معاہدہ ہو گیا ، کیا تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آنے والی ہیں ؟ اسکے بعد عالمی حالات کیا ہونگے ؟ صابر شاکر کی بڑی بریکنگ نیوز

لاہور (ویب ڈیسک) سب سے بڑی اور حیران کن خبر یہ آئی کہ اہم ترین عرب ملک متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ایک معاہدہ طے پاگیاہے اور دونوں ملکوں نے سفارتخانے کھولنے پر بھی اتفاق کرلیا ہے۔سادہ اور عام فہم زبان میں یہ کہا جائے گا کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو

نامور کالم نگار صابر شاکر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔تسلیم کرلیا ہے۔ اس سے پہلے دو مسلم ممالک مصر اور اردن کے اسرائیل سے اس نوعیت کے براہ راست مراسم تھے۔ابتدا میں یہ بتایا گیا کہ اسرائیل فوری طور پر توسیع پسندانہ رجحان کو ختم کردے گا اور مزید کسی علاقے پر قبضہ نہیں کرے گا‘ لیکن جلد ہی تل ابیب اور ابوظہبی کے اعلیٰ حکام نے ایسی کسی شرط کی تردید کردی اور یواے ای کے معاون وزیرخارجہ قرقاش نے بھی واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات غیر مشروط ہیں اور فلسطین بارے کوئی شرط عائد نہیں کی گئی۔ ادھر واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے داماد اور سلامتی امور کے مشیر نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیاں معاہدے کو کامیاب بنانے میں یواے ای کے ولی عہدمحمد بن زاید اورسعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کربہت کام کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب نہ جانے کیوں ہچکچا رہا ہے حالانکہ ان کے درمیان بھی اتفاق ہوچکا ہے۔ پھر صدر ٹرمپ کے داماد نے خود ہی بتایا کہ فی الوقت سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو مخفی رکھا جائے گا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے اس عمل کو ”step up cooperation‘‘ کی پالیسی کے تحت آگے بڑھائے گا ‘ خبر یہ بھی ہے کہ بحرین کا بھی اسرائیل سے معاہدہ ہوچکا ہے جس کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔مراکش‘ کویت اور عمان کے بارے میں بھی ایسی ہی اطلاعات ہیں۔ مسلم اُمہ ‘ خاص طور پر عربوں اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور دشمنی کا ایک تاریخی پس منظر ہے‘ بنیادی جھگڑا آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے جسے اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہوا ہے۔