(ن) لیگ، (ق) لیگ اور فنکشنل لیگ کو ملا کر ایک نئی مسلم لیگ بنا کر خود کو ناگزیر سمجھنے والے عمران خان کے خلاف کیا ہونیوالا ہے ؟ حامد میر کی تہلکہ خیز پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) بڑے لوگوں کی بعض چھوٹی چھوٹی غلطیوں کے نتائج بڑے بھیانک اور تباہ کن نکلتے ہیں۔ اکثر بڑے لوگ اپنے عروج پر پہنچ کر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کا کوئی متبادل نہیں۔ جب کسی کو یہ غلط فہمی ہو جائے کہ اس کی قوم کے پاس اس کے سوا

کوئی دوسری چوائس نہیں رہی، تو پھر اس خبطِ عظمت میں زبان لڑکھڑانے لگتی ہے۔نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔سیاسی مخالفین کے بارے میں نامناسب زبان استعمال کی جانے لگتی ہے ان کی کردار کشی شروع کر دی جاتی ہے اور اس ضمن میں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا اور جب کوئی خیر خواہ اچھا مشورہ دے تو نجی محفلوں میں اس کے متعلق بھی ایسی گفتگو شروع ہو جاتی ہے جو کئی دفعہ عروج کے زوال کا باعث بن جاتی ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں ایسے کئی بڑے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے خبطِ عظمت کا شکار ہو کر یہ سمجھا کہ اب ان کے سوا کوئی دوسری چوائس نہیں اور پھر انہوں نے ایسی غلطیاں کیں جن کے نتائج بہت تباہ کن تھے۔اس وقت پاکستان میں تین بڑی جماعتیں ہیں۔ تحریک انصاف، مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی، تحریک انصاف میں کچھ لوگ اپنے آپ کو پاکستان کیلئے ناگزیر سمجھنے لگے ہیں۔ دو سال کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود اپوزیشن جماعتیں تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دینے میں ناکام ہیں۔اس صورتحال میں کچھ پرانے مسلم لیگیوں نے اس تجویز پر غور شروع کر دیا ہے کہ کیوں نہ مسلم لیگ(ن)، مسلم لیگ(ق) اور مسلم لیگ فنکشنل کے علاوہ دیگر چھوٹے گروپوں کو متحد کرکے ایک نئی مسلم لیگ بنائی جائے۔ پارٹی کو شخصیات کا تابع نہ بنایا جائے بلکہ شخصیات کو پارٹی کا تابع بنایا جائے تو کچھ بڑے لوگوں کی یہ غلط فہمی بڑی جلدی دور ہو جائے گی جو سمجھنے لگے ہیں کہ میرا کوئی متبادل نہیں۔