7 ملاقات کرنے آئے اور 36 بھاگ نکلے : مسلم لیگ (ن) کے 7 ارکان کی وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کے بعد تہلکہ خیز خبر آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) خبر ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے میاں نواز شریف کی مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کے سات اراکین نے ملاقات کی ہے۔ چند ماہ پہلے تک یہ تعداد چالیس سے پینتالیس کے درمیان تھی اور یہ تعداد بڑھ سکتی تھی لیکن گذشتہ چند ماہ میں حکومت کی

مسلسل خراب کارکردگی کے باعث ہر سطح پر مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ ایک وقت یہ تھا کہ پنجاب میں فارورڈ بلاک بن رہا تھا اور آج صورتحال یہ ہے کہ اتنے بڑے ہاؤس میں سے صرف سات اراکین نے ملاقات کی ہے۔نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں وہ لوگ جو اشارے کے منتظر تھے انہوں نے بھی وفاداریاں بدلنے سے سوچنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایسے سیاست دان بھی اگلے انتخابات کا ضرور سوچتے ہیں کہ قلابازی لگانے کا عام انتخابات میں نقصان ہو گا یا فائدہ۔ یہ پاکستان تحریک انصاف کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وفاداریاں بدلنے والوں نے بھی اپنی سوچ بدل لی ہے۔ یہ چار درجن اراکین جن میں اضافہ ممکن تھا اس میں کمی آئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس پیشرفت نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ صرف ترقیاتی فنڈز یا دیگر چھوٹے چھوٹے فوائد اراکین کو توڑنے کے لیے کافی نہیں ہوتے بلکہ حکومت کی کارکردگی ہر حال میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر حکومت عام آدمی کے مسائل پر توجہ دیتی عام آدمی کی زندگی آسان ہوتی تو ن لیگ کے پرندوں کی تعداد پینتالیس سے چھیاسٹھ تک جا سکتی تھی۔ پاکستان تحریکِ انصاف کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ یہ لوگ آتے ہیں یا نہیں حکمران جماعت کو اپنی کارکردگی کی طرف توجہ دینی چاہیے اور عوامی مسائل حل کرنے کے لیے کام کریں۔ ن لیگ کو بھی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ

یہ لوگ چلے جائیں گے یا نہیں حقیقت یہ ہے پنجاب اسمبلی میں چالیس پچاس افراد آتے جاتے ہیلو ہائے کرتے رہیں گے وہ اچھے وقت اور اشاروں کے منتظر رہیں گے۔صرف سات اراکین کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کا مطلب یہ ہے کہ لگ بھگ اڑان کے لیے تیار چھتیس پرندوں نے بھی منہ موڑ لیا ہے۔ عوامی سطح پر حکومت کی گرتی ہوئی مقبولیت کو دیکھ کر ن لیگ کے پرندوں نے بھی منہ موڑا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان تحریک انصاف کے اکابرین کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ اگر وہ سمجھنا چاہیں تو یہ تبدیلی ایک طرح سے عدم اعتماد ہی ہے۔ اس کے باوجود کہ ریاست کی تمام اکائیاں ہر طرح سے نظام کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔ پھس پھسی اپوزیشن ہے جس میں کوئی جان نہیں ہے۔ اپوزیشن صرف ڈیجیٹل تک محدود ہے عملی طور پر اس کا کوئی کردار نہیں ہے، ملک میں امن و امان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے لیکن اس کے باوجود بھی اگر حکومت عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے، عام آدمی کے مسائل حل نہ ہو سکیں تو اسے عوام کی بدقسمتی اور حکومت کی ناکامی کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایک طرف حکومت کی کارکردگی انتہائی خراب ہے تو دوسری طرف اپوزیشن کی کارکردگی اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ اگر حکومت عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی تو اپوزیشن بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مکمل طور پر نظر آتی ہے اور اگر اپوزیشن نے اپنا کردار اور کام کرنے کا انداز نہ بدلا تو یاد رکھیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی

اس عرصے میں عام آدمی کا کیا حال ہوتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ حکومت کے وزرائ￿ میں ہم آہنگی نہیں پائی جاتی تو اپوزیشن بھی متحد نہیں ہے۔ گوکہ حکومت میں بھی کئی جماعتیں شامل ہیں اور وہ بھی اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن اتحاد نام کی کوئی چیز حکومت میں بھی نظر نہیں آتی۔ اسی طرح اپوزیشن میں میاں نواز شریف کی مسلم لیگ اور آصف علی زرداری کی پیپلز پارٹی میں بھی قومی و عوامی مسائل پر اتحاد نظر نہیں آتا۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ یہ دونوں جماعتیں مل کر عوام کے لیے اکٹھی ہوں۔ عوامی مسائل پر پارلیمنٹ میں ایک ہو کر آواز بلند کریں اور ملک و قوم کی بہتری کے لیے کام کریں۔ یہ صرف اس حد تک متحد ہو سکتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت کو کیسے گرایا جا سکتا ہے اس کے علاوہ یہ کہیں بھی متحد نہیں ہو سکتے یہی عوام کی بدقسمتی ہے کہ وہ جنہیں اپنا رہنما سمجھتے ہیں ان کے نزدیک عوامی مسائل نہیں بلکہ اقتدار کی اہمیت زیادہ ہے۔فرزند آصف علی زرداری بلاول زرداری نے کہا ہے کہ وہ اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا چاہتے ہیں وہ یہ شوق ضرور پورا کریں لیکن اس سے پہلے وہ ایک سو اٹھاون اراکین تو عوام کو دکھا دیں کہ ان کے پاس اتنے لوگ ہیں باقی پندرہ کی بات تو بعد میں کریں گے لیکن کم از کم اپنے ایک سو اٹھاون تو اکٹھے کر لیں۔ نام نہاد متحدہ اپوزیشن میں وزارتِ عظمیٰ کے بائیس امیدوار ہوں گے اور چلے ہیں وہ اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے اور حکومت گرانے کی۔

یہ عام آدمی کی بدقسمتی ہے کہ حکومت کی ناقص کارکردگی کے باوجود اگر مدت پوری ہوتی ہے تو اس کی ذمہ دار اپوزیشن ہو گی کیونکہ عام انتخابات کا راستہ ہموار نہیں ہوتا تو یہ اپوزیشن کی ناکامی ہو گی۔ان حالات میں بھی سیاسی جماعتیں اپنی ناکامیوں کا ملبہ مقتدر حلقوں پر ڈالنے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں۔ چونکہ یہ کہنا سب سے آسان ہے کہ انکے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں یا پھر کام نہیں کرنے دیا جاتا حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مقتدر حلقوں کی سب سے بڑی پریشانی اور دلچسپی قومی سلامتی ہی ہوتی ہے۔ قومی سلامتی کے معاملات پر وہ قوتیں کبھی سمجھوتا نہیں کرتیں اس وقت بھی ان کی سب سے بڑی دلچسپی قومی سلامتی ہی ہے۔ جو لوگ یہ باتیں کرتے ہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف کو مقتدر حلقے غیر ضروری طور پر سپورٹ کرتے ہیں انہیں بھی اپنی سوچ پر غور کرنا ہو گا کیونکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی معاملات سے جوڑنا مناسب نہیں ہے۔شاہد خاقان عباسی بھی چینی کے معاملے پر بولے ہیں یوں لگتا ہے کہ انہوں نے سائرن پڑھ کر پریس کانفرنس کی ہے۔ وہ اعدادوشمار ہم گذشتہ روز قارئین کے سامنے رکھ چکے ہیں یہ درست ہے کہ چینی کے معاملے میں حکومتی نااہلی ثابت ہو چکی ہے۔ حکومتی بدانتظامی کی وجہ سے سارا بوجھ عوام کو اٹھانا پڑا ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کی انتظامیہ پر سنجیدہ اعتراضات پر وزیراعظم عمران خان کو دیکھنا چاہیے کیونکہ اس ادارے نے رمضان المبارک سے پہلے کھجوروں کی خریداری کے معاملے میں بھی بدنیتی کا مظاہرہ کیا تھا۔بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، پھل اور ادویات کے معاملے میں عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے ان چیزوں کا ڈالر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان کے شہریوں کو کھانے کی چیزیں ارزاں نرخوں پر نہیں ملتیں۔ یہ حکومتوں کی نااہلی ہے کہ اپنی زمینوں پر کاشت ہونے والی چیزوں سے بھی محروم ہیں۔پی آئی اے کے حوالے سے وفاقی وزرائ￿ نے پریس کانفرنس کی ہے۔ وہ بھلے کہتے رہیں کہ سب ٹھیک ہے یا سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن جو نقصان ہو چکا ہے اس کا ازالہ جلد ممکن نہیں ہے۔ جو باتیں اپنی ساکھ بچانے کے لیے میڈیا میں کی جا رہی ہیں ان سے مزید بے چینی پھیلنے کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔