مائنس ون نہیں مائنس 4 ہو گا : کون سے چار بڑے سیاسی منظر نامے سے آؤٹ ہونے والے ہیں ؟ مظہر عباس نے پاکستانیوں کو تہلکہ خیز سیاسی خبر دے دی

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان سے سابق وزیراعظم مرحومہ بے نظیربھٹو تک ’مائنس ون فارمولا‘ کسی نہ کسی طرح سے ہماری تاریخ کا بنیادی حصہ رہاہے۔ جمہوریت کبھی اپنی اصل روح کے ساتھ نافذ نہیں ہوئی اور باربار پٹری سے اتر گئی۔ سیاستدانوں نے بھی تاریخ سے نہیں سیکھا

نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دوبارہ انھوں نے یاتو غیر جمہوری کاموں کی حمایت کی یا صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ کیا اب ایک اور مائنس ون ہوگا۔ اگر یہ ہوا تو ایک سے زیادہ تین یا چار تک ہوگا، جیسا کہ کچھ ذرائع نے اشارہ دیاہے۔ اب یہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کا امتحان ہےکہ وہ کسی بھی ایسے ’فارمولا‘ کو رد کریں اور اتفاقِ رائے پرپہنچے کہ تبدیلی الیکشن کےذریعے ہی آنی چاہیئے یا آئینی طریقے سے بغیر کسی مداخلت کے آنی چاہیئے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خلاف گزشتہ ہفتے مائنس ون کی کسی مبینہ سازش کے بارے میں اشارہ دیاتھا لیکن خبردار کیاکہ یہ آسان نہیں ہوگا اور وہ مزاحمت کریں گے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ ’مائنس ون‘ فارمولا سے بھری ہو ئی ہے، نہ صرف ’مائنس ون‘ بلکہ بعض اوقات ’مائنس ٹو، مائنس تھری‘ اور اب کچھ باخبر ذرائع نے مائنس فور کی جانب اشارہ دیاہے۔ 2013 کےکراچی آپریشن کےبعد مائنس تھری فارمولا زیربحث آیا بشمول مائنس بانی ایم کیوایم، مائنس آصف علی زرداری اور مائنس نواز شریف۔ 2015 میں آصف زرداری نے ایک بار نواز شریف کو خبردار کیاکہ اس آپریشن کے باعث بالآخر اُن کی حکومت چلی جائےگی۔ اس میں کوئی حیرانی نہیں کہ کیوں پی ایم ایل(ن) کے اندر مائنس عمران فارمولا پر اختلافِ رائے ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر انھوں نے کسی ایسے فارمولا کو قبول کرلیا تو یہ مائنس ون تک محدود نہیں ہوگا۔ جو بات مائنس ون فارمولا کے مصنف اور پاکستانی سیاستدانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے یہ کہ گزشتہ 72سالوں میں اس مائنس فارمولا نے صرف جموری عمل کو نقصان پہنچایا ہے جیسے سیاسی انجیئنرنگ اور الیکشن کو میجن کرنے کے فارمولا نے پہنچایاہے۔ (ش س م)