وہی ہوا جسکا ڈر تھا : امت مسلمہ ہار گئی ، عیسائی اور یہودی جیت گئے ۔۔۔۔۔۔ڈیل آف دی سنچری کا اعلان کردیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) یکم جولائی سے اسرائیل کی جانب سے فلسطین کی 30 فیصد زرخیز زمین پر قبضہ کرنے کی ابتدا ہو گئی اس ضمن میں اعلان کر دیا گیا ہے۔امریکی صدر کی حمایت کے سبب اسرائیل اب تک مغربی کنارے پر قبضے کے منصوبے سے دستبردار نہیں ہوا ہے۔اسی تعاون سے

فلسطینی سرزمین چھینے جانے کو جغرافیے کی نگاہ سے دیکھیں تو 1948 سے 1967 کا قبضہ اور اسکے بعد نہایت ہوشیاری سے جنگ کے بغیر لینڈ مافیا جیسا اسرائیلی کردار آشکار ہوئے۔1967 کے بعد میں اسرائیل خوشنما “ یہودی آبادکاری” کی اصطلاح کی آڑ میں فلسطینی علاقوں پر ہلکے ہلکے قبضے کرتا رہا۔فلسطینیوں کے گھر توڑے جاتے رہے اور دنیا خاموش رہی۔ اب بچے کچے مغربی کنارے کا یہ حال ہوگیا ہے کہ فلسطینی علاقے پیلے رنگ میں دکھائی دے رہے ہیں۔فلسطینیوں کو ایک دوسرے سے جدا علاقوں میں اس قدر محدود کرنے کے بعد اسرائیل 30 فیصد زرخیز خطے پر قبضے کا منصوبہ بنا چکا ہے۔ یکم جولائی سے قبضہ شروع ہونے کو ایک بار پھر خوشنما اصلاح “الحاق” کانام دیا گیا ہے۔اس بڑے حملے پر لائحہ عمل دور کی بات او آئی سی کا سربراہ اجلاس تک منعقد نہ ہو سکا۔ اس کھلم کھلا غیر قانونی قبضے پر مسلم ممالک سے کہیں زیادہ سخت ردعمل مغرب کا ہے۔بیلجیئم اور ہالینڈ کی پارلیمنٹس اسرائیل پر پابندیوں کا مطالبہ کررہی ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے فلسطینی سرزمین پر قبضے کی کوشش کو غیر قانونی قرار دے کر اس کے منفی نتائج سے خبردار کیا ہے۔جغرافیہ واضح کرتا ہے کہ 1991 اوسلو معاہدے کے بعد فلسطین ریاست حاصل کرنے کیلیے مذاکرات کرتے رہے لیکن اسرائیل کسی ترقی پذیر ملک کی لینڈ مافیا کی طرح ہلکے ہلکے انکی زمین ہڑپ کرتا رہا۔دوسرے لفظوں میں 29 سال تک فلسطینیوں کو آزاد ریاست کا لولی پاپ اور مذاکرات کے ساتھ اسرائیل نے بیت المقدس سمیت مغربی کنارے کا علاقہ ہڑپ کرلیا ہے جبکہ امریکا کا کردار مذاکرات کے سہولت کار سے زیادہ اسرائیل کا سہولت کارکا رہا ہے۔