کپتان کی چھٹی کرانے والوں کی چھٹی : (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے وہ ارکان جن کا فارورڈ بلاک ضرورت پڑنے پر عمران خان کی مدد کرے گا ۔۔۔۔ نامور صحافی نے باتوں ہی باتوں میں بڑی خبر بریک کردی

لاہور (ویب ڈیسک) آج کل یہ سوال ہر زبان پر ہے کہ آخر اپوزیشن 119پر کیسے ڈھیر ہو گئی۔ اپوزیشن کے پاس تو ووٹ 158تھے، اختر مینگل کی شمولیت کے بعد وہ 162ہو چکے تھے۔ سوال اہم ہے کہ اپوزیشن کے ممبران کو کس نے اجلاس میں جانے سے روک دیا تھا۔

نامور کالم نگار منصور آفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔نہ نون لیگ کے ارکان پورے نہ پیپلز پارٹی کے، اپوزیشن کے نئے اتحادی اختر مینگل بھی اجلاس میں نہ آئے۔ مولانا فضل الرحمٰن کے ارکان بھی پورے نہیں تھے۔ بظاہر حکومت کے لئے یہ بجٹ اجلاس مشکل ترین مرحلہ تھا جس میں اس کے اپنے ارکان نہیں آ سکے جن میں کچھ کو کورونا ہو چکا تھا اور کچھ سیاسی کورونا کا شکار ہو چکے تھے مگر حکومتی ارکان بالکل مطمئن تھے اور اپوزیشن والے بھی۔ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ،۔۔۔۔دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا۔۔۔یہ سوال میں نے بجٹ کے دوران پورے آٹھ گھنٹے بدستوراسپیکر کے فرائض سر انجام دینے والے امجد علی خان سے کیا تو ہنس کر کہا، جو کام میرا تھا میں نے پورا کیا۔ بجٹ پاس ہوگیا۔ کیسے ہوا کس طرح ہوا اس کی تفصیل اب تاریخ کا حصہ ہے۔ پھر کہنے لگے، میری تو عمران خان سے مراد سعید نے شکایت کی کہ اس نے مجھے ٹائم نہیں دیا اور بلاول بھٹو کو ٹائم دیا جس پر مجھے عمران خان کو کہنا پڑا ’’اسپیکر اپوزیشن کا بھی ہوتا ہے‘‘۔میں نے قومی اسمبلی ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری سے بھی یہی سوال کیا تو وہ کہنے لگے کہ یہ سوال تو اپوزیشن سے کرنا چاہئے۔ اپوزیشن ارکان سے پوچھ گچھ کی تو پتا چلا دونوں بڑی پارٹیوں میں غیر علانیہ فارورڈ گروپ موجود ہیں۔ ضرورت پڑی تو عمران خان کی حمایت میں وہ فارورڈ گروپ سامنے آ جائیں گے۔ ایک فارورڈ گروپ پنجاب اسمبلی میں بھی موجود ہے، اس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی کوششوں سے بنا ہے مگر اسے بھی بیک گرائونڈ میں رکھا گیا ہے۔ یہ گروپ اس وقت سامنے آئیں گے جب اپوزیشن نے یا اتحادیوں نے حکومت کو گرانے کی کوشش کی۔