پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کی نمبر گیم سخت خطرے میں ۔۔۔۔ عمران خان اور جہانگیر ترین کے اختلافات کا زبردست نقصان سامنے آگیا

لاہور (ویب ڈیسک) قومی سیاست میں مائنس ون کی گونج اور خود وزیراعظم عمران خان کے اعترافی بیان کے بعد یہ مان لینے میں کوئی ہرج نہیں کہ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی کھچڑی ضرور پک رہی ہے اور کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ

نامور صحافی ایثار رانا اپنے ایک تازہ ترین تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں نمبرگیم برقرار رکھنے کے لئے پنجاب کے دو سینئر عہدیداروں کی ڈیوٹی بھی لگا دی ہے۔ اگر آپ محسوس کریں تو اپوزیشن خصوصاً پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو کا لہجہ روز بروز جارحانہ ہوتا جا رہا ہے۔ پنجاب میں گو مکمل خاموشی ہے لیکن یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے۔ میرا یہ یقین ہے کہ جوں جوں وزیراعظم عمران خان کی سیاسی مشکلات بڑھیں گی انہیں اپنے دیرینہ ساتھی جہانگیر ترین کی یاد ستائے گی۔ میری کتابوں میں جہانگیر ترین پی ٹی آئی کے اصل مرد بحران تھے۔ اگر ان کاقصور ان شوگر ملز کا مالک ہونا ہے تو اس فارمولے کے تحت عمران خان کے اردگرد ان سے بھی بڑے قصور وار موجود ہیں میرے خیال میں جہانگیر ترین کا اصل قصور ان کا سیاسی قد کاٹھ تھا جس کے سامنے پی ٹی آئی کے چند رہنما بونے نظر آتے تھے۔ جہانگیر ترین نے مال و دولت کے علاوہ اپنی بصیرت سے بھی عمران خان کا ساتھ دیا بلکہ بہت سے حساس موقعوں پر عمران خان کو ٹھوکر لگنے سے بچایا۔ ابھی تک بظاہر ان کی جانب سے عمران کے خلاف کوئی اقدام تو دور ایک لفظ شکوے کا بھی سامنے نہیں آیا۔ جو ایک سیاسی اعلیٰ ظرفی کی بہترین مثال ہے۔ اب بھی وقت ہے عمران خان اپنے ناراض دوستوں کو ساتھ ملائیں، جہانگیر ترین جیسے دوستوں کی انہیں ضرورت ہے۔ پاکستان ایک سیاسی، معاشی، اقتصادی، سماجی بحران سے گزر رہا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان یکسوئی سے ان چیلنجز کا مقابلہ کریں۔ اس کے لئے انہیں جہانگیر ترین اور ناراض نظریاتی کارکنوں، ساتھیوں کی ضرورت ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان ہی اس وقت واحد امید ہیں اور جہانگیر ترین جیسے دوست اس امید کو مضبوط کر سکتے ہیں۔