بریکنگ نیوز۔۔۔!! سپریم کورٹ نے اسلام آباد ’ ڈی چوک ‘ کے حوالے سے بڑا حکم جاری کر دیا، انتظامیہ کی دوڑیں

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے عوامی سہولت کے پلاٹس کی حیثیت تبدیل کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ڈی چوک پر لگا گیٹ ہٹانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے حکم دیا کہ گیٹ ہٹایا جائے، پارلیمنٹ دور سے نظر آنی چاہیے۔ سپریم کورٹ

نے میدانوں اور گرین بیلٹس پر قبضے فوری ختم کرانے کا حکم بھی دیا۔ چیف جسٹس نے اپنے حکم میں کہا کہ تجاوزات ختم کرنی ہے تو سب کی کرنی ہے ورنہ نہیں کرنی، کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں برتا جائے گا۔ انہوں نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سے 4 ہفتوں میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ چیئرمین سی ڈی اے صاحب نقشہ لیں اور شہر میں نکل جائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے کسی بھی صورت میں عوامی سہولت کے پلاٹس کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا، ایف 6 میں سوئمنگ پول کے پلاٹ پر کمرشل پلازہ بنا دیا گیا، تمام مارکیٹیں پارکنگ نہ ہونے سے تنگ ہو گئیں۔۔ چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت کے روبرو کہا کہ 2 ہفتوں میں 8 ایسے پلاٹس نکالے ہیں جن کی حیثیت کو تبدیل کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے 8 نہیں سینکڑوں پلاٹس ہوں گے، اسلام آباد کا سارا ڈیزائن ہی تبدیل کر دیا گیا ہے، گرین بیلٹس پر گھر بن گئے یا کمرشل پلازے، شہر کےبیچ میں چلے جائیں تو دم گھٹتا ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد نیا شہر تھا اس کے ساتھ کیا کیا گیا، چیئرمین سی ڈی اے صاحب اس مسئلے کا کوئی حل نکالیں، آپ کے پاس آئیڈیاز ہیں۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سی ای او پی آئی اے ایئر مارشل ارشد ملک کی تعیناتی کے سپریم ورٹ میں زیر سماعت مقدمہ میں ریمارکس دیئے ہیں کہ پی آئی اے لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہا ہے کیا اس کو بند کردیں ،پی آئی اے کے بارے میں کوئی ایک چیز بتائیں جو اچھی ہو، کراچی ایئرپورٹ پر خستہ اور خراب حالات میں جہاز کھڑے ہوئے ہیں، اگر خدا نخواستہ حادثہ ہو گیا تو لوگوں کا کیا ھوگا،ایئر پورٹ کی طرف گند نظر آتا ہے،