پیراگون ہاﺅسنگ کیس۔۔!!سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو زبردست ریلیف دے دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے پیراگون ہاﺅسنگ کیس میں خواجہ برادران کی درخواست ضمانت منظور کرلی ،عدالت نے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو رہا کرنے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے30،30لاکھ روپے کے 2مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ دوران سماعت خواجہ برداران کے وکیل امجد پرویز نے دلائل

دیتے ہوئے کہاکہ 7200کینال زمین خواجہ برادران کی تھی، پیراگون سوسائٹی کی کمپنیاں مختلف تھیں، نیب کا الزام ہے کہ لوگوں کو الاٹمنٹ نہیں دی گئی، نیب کی جانب سے 68 افراد کو پلاٹ کی ڈیلوری نہ ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔وکیل خواجہ برادران نے کہاکہ پیراگون نے نیب کو بتایا کہ 68 سے 62 افراد کے کیس سیٹلڈ کر دیئے ہیں، نیب نے 62 افراد کو نوٹس دیا جو پیش ہوئے، متاثرین نے کہا کہ ان کا مسئلہ حل ہوگیا ہے، پیش ہونے والے افراد نے بتایا کہ نیب کی وجہ سے مسئلہ حل نہیں ہوا،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ 11 جولائی 2018 کودونوں کو گرفتار کیاگیا تھا،کبھی نیب کی طلبی پر غیر حاضر نہیں ہوئے،کبھی بھی کوئی دستاویز پیش کرنے سے انکار نہیں کیا۔وکیل امجد پرویزنے کہاکہ 30 مئی 2019 کو 6 ماہ گرفتاری کے بعد ریفرنس داخل کیاگیا،4 ستمبر 2019 کو فرد جرم عائد کی گئی ،122 گواہ مقرر کئے گئے،صرف5 گواہوں کے بیانات قلمبندہوئے ،وکیل نے کہا کہ وفاق نے اعتراض کیا کہ وعدہ معاف گواہ کابیان بھی ریکارڈ کرنا چاہئے تھا،آج تک تمام پیشیوں پر صرف2 بار التوامانگا،دونو ارکان کی گرفتاری کو16 ماہ گزر چکے ہیں ۔عدالت نے کہا کہ کیاآپ ثابت کرسکتے ہیں سوسائٹی کے پاس مسجد،پارکس اورفلاح کےلئے جگہ موجودہے،جسٹس مقبول باقر نے استفسارکیاکہ اس سوسائٹی کاپلان کس نے منظورکیا؟،وکیل امجد پرویز نے کہاکہ یہ سوسائٹی ٹی ایم اے سے منظورشدہ ہے،2005میں اس کی منظوری ٹی ایم اے سے لی گئی،ایل ڈی اے2013میں اس علاقے میں پہنچا۔جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیاکہ کیااراضی کے تبادلوں کاالزام بھی ہے؟،سوسائٹی میں شاملات کی اراضی کتنی ہے؟،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ 7200کنال کی اراضی میں صرف39کنال شاملات میں شامل ہے،جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ اس کیس میں اراضی کے تبادلے کابھی الزام ہے۔جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ایک طرف کہتے ہیں خواجہ برادران کا پیراگون سے تعلق نہیں ،دوسری جانب پیراگون اورخواجہ برادران زمینوں کا تبادلہ کررہے ہیں ۔وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سعد رفیق نے 50 کنال زمین کے عوض 40 کنال پیراگون سے لی ،خواجہ برادران کو کمیشن کی مد میں پیراگون نے رقم ادا کی،دونوں بھائیوںنے تیسرے فریق سے پیراگون کو زمین دلوائی تھی۔وکیل امجدپرویز نے کہاکہ سلمان رفیق پر12 اورسعدرفیق پر6.6 ملین غیرقانونی رقم لینے کا بھی الزام ہے۔وکیل امجد پرویز نے کہاکہ چیئرمین نیب نے گواہ قیصر امین بٹ کو 2 مرتبہ معافی دی،قیصر امین بٹ کا بیان نیب کی مرضی کے مطابق نہیں تھا،معافی کے بعدقیصر امین بٹ نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا،قیصرامین بٹ کا بیان نیب کی مرضی کے مطابق نہیں تھا،قیصر امین بٹ کو پہلی معافی 23 نومبر2018 کو دی گئی ۔سپریم کورٹ میں خواجہ برادران کی درخواست ضمانت پر وکیل صفائی نے دلائل مکمل کرلئے۔سپریم کورٹ نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد پیراگون ہاﺅسنگ کیس میں خواجہ برادران کی درخواست ضمانت منظور کرلی ،عدالت نے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو رہا کرنے کا حکم دیدیا،سپریم کورٹ نے30،30لاکھ روپے کے 2مچلکے جمع کرانے کا حکم دیدیا۔