پہلے ثالثی کی پیشکش اسکے بعد کشمیر میں حالات خراب اور اب ٹرمپ کا دورہ بھارت ۔۔۔۔ اندر کھاتے کیا کھچڑی پک رہی ہے ؟ ایک بھارتی صحافی کی بی بی سی کے لیے خصوصی رپورٹ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) نے ایک حالیہ رپورٹ میں انڈیا کی جانب سے اس کے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کو صدر ٹرمپ کی جانب سے کشمیر پر ’ثالثی کے دعوؤں‘ سے منسلک کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ’یہ واقعات (صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش) انڈیا کی جانب

نامور بھارتی صحافی ونیت کھرے بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔سےاگست میں کیے جانے والے اقدامات کی وجہ ہو سکتے ہیں۔‘صدر ٹرمپ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان اس شرط پر ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی کہ فریق راضی ہوں۔پاکستان اس قسم کے بیانات کا خیر مقدم کرتا ہے جبکہ انڈیا سمجھتا ہے کہ کشمیر ایک دوطرفہ مسئلہ ہے۔سی آر ایس کی ویب سائٹ کے مطابق یہ لائبریری آف کانگریس کی قانون ساز شاخ ہے جس کا کام ’سیاسی وابستگیاں بالائے طاق رکھ کر کانگریس اور سینیٹ میں کمیٹیز اور ان کے تمام ممبران کو پالیسی اور قانونی پہلوؤں پر تجزیے فراہم کرنا ہے۔‘گذشتہ برس جولائی میں پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ بیٹھ کر صدر ٹرمپ نے ایک حیرت انگیز دعویٰ کیا تھا کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے امریکہ سے کشمیر کے مسئلے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کو کہا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’میں بخوشی ثالث کا کردار نبھاؤں گا۔‘اس بیان کے بعد انڈیا میں اتنا سخت ردِعمل دیکھنے میں آیا کہ انڈیا کی وزارتِ خارجہ کو وضاحت دینی پڑی کے ایسی کسی قسم کی درخواست نہیں کی گئی ہے۔ٹرمپ کی جانب سے جولائی میں کی جانے والی اس پیشکش کے چند ہی ہفتوں بعد ایک اور پیشکش کی گئی۔اس پیشکش میں انھوں نے کہا کہ ’اگر میں کرنا چاہوں، اگر وہ چاہیں تو میں ضرور مداخلت کروں گا۔‘سی آر ایس کی رپورٹ کے مطابق ’صدر ٹرمپ کا پاکستانی لیڈر کا گرم جوشی سے استقبال، ان کا یہ کہنا کہ وہ چاہتے ہیں کہ

پاکستان امریکہ کی افغانستان سے ’انخلا‘ میں معاونت کرے اور امریکہ کی پاکستان کو آئی ایم ایف پیکج فراہم کرنے میں مدد جیسے واقعات سے انڈیا میں ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑی۔‘جنوبی ایشیا کے معاملات پر لکھنے والے کے ایلن کروشٹاٹ اس رپورٹ کے مصنف ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت نئی دہلی اور واشنگٹن میں چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں کہ انڈیا کے زیرِ کشمیر میں کیے جانے والے اقدامات میں ٹرمپ کی طرف سے جولائی میں کی جانے والی ثالثی کی پیشکش کا کردار تھا۔انھوں نے ایک ای میل کے ذریعے بتایا کہ ’تاہم آرٹیکل 370 کا خاتمہ دراصل بی جے پی کی ایک طویل المدتی پالیسی رہی ہے اور یہ ان کے 2014 اور 2019 کے منشور کا حصہ تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فروری میں ہونے والا پلواما بحران اور جولائی میں پاکستانی وزیرِاعظم کا دورہ امریکہ جیسے عوامل کا انڈیا کے فیصلے میں اتنا کردار نہیں تھا جتنا بی جے پی کو گذشتہ برس مئی میں ملنے والی اکثریت کا تھا۔‘گذشتہ برس انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر پلوامہ میں 40 انڈین فوجی اس وقت ہلاک ہوئے جب ایک خود کش بمبار نے بارود سے لدی گاڑی انڈیا کے نیم فوجی دستوں کے کانوائے میں دے ماری تھی۔کروشٹاٹ کے مطابق مودی گورنمنٹ کے اس فیصلہ کے محرکات میں سے ایک ’افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ انڈیا اس عمل کو خطے میں عدم استحکام کا باعث سمجھتا ہے۔‘اب جب کہ صدر ٹرمپ جلد ہی انڈیا کے دورے پر ہوں گے تو میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ اسے امید ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی ثالثی کی پیشکش کے حوالے سے مزید اقدامات کریں گے۔

ہم نے جتنے بھی ماہرین سے بات کی وہ اس حوالے سے پرامید نہیں تھے۔جان ہاپکنز یونیورسٹی سکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں پریکٹس آف ساؤتھ ایشیا سٹڈیز کے پروفیسر جوشوا وائٹ کا کہنا تھا کہ ’میرے نزدیک انڈین اور پاکستانی حکومتوں نے صدر ٹرمپ کے کشمیر پر بیانات کو زیادہ سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیا ہے کیونکہ ان (بیانات) میں اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے بندے کے حساب سے تبدیلی واقع ہوتی ہے۔‘’ان کے بیانات سے امریکہ خارجہ پالیسی میں خاطر خواہ تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ اگر وہ کوئی ڈرامائی بیان نہیں دیتے تو دونوں فریق ان کے بیانات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔‘ماہرین کا ماننا ہے کہ انڈیا کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ حیران کن نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ یہ بی جے پی کی جانب سے الیکشن مہم میں کیے جانے والے وعدوں میں سے ایک تھا اور نریندر مودی اس بار ایک بڑی اکثریت کے ساتھ حکومت میں آئے تھے۔قدامت پسند تھنک ٹینک دی ہیریٹیج فاؤنڈیشن میں ساؤتھ ایشیا پر تحقیق کرنے والے جیف سمتھ کا کہنا ہے کہ ’آرٹیکل 370 کا خاتمہ بی جے پی کے منشور کا حصہ تھا۔’جیف نے کہا کہ ان کے نزدیک انڈیا کی جانب سے اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں کیے جانے والے اقدامات اور ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔کیٹو انسٹیٹیوٹ میں دفاع اور خارجہ پالیسی میں اجنکٹ فیلو سحر خان کا کہنا ہے کہ ’میری رائے کے مطابق انھیں (ٹرمپ کو) ابھی تک کشمیر کے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ نہیں ہے کہ یہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان آزادی سے اب تک اختلافات کی وجہ کیوں بنا ہوا ہے۔‘’اس پیشکش (ثالثی کی) سے انڈیا اور پاکستان دونوں پریشان ہوئے۔ انھیں صدر بنے ابھی تین برس گزرے ہیں اور انھوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ انتہائی غیر متوقع فیصلے کر سکتے ہیں۔‘(بشکریہ : بی بی سی)