طاقتور حکومت کا پول کھل گیا : گجرات کے چوہدری جیت گئے ، پی ٹی آئی حکومت ہار گئی۔۔۔ دو روز قبل حکومت اور (ق) لیگ کے درمیان ڈیل کن شرائط پر ہوئی ہے ؟ نامور صحافی نے تمام شرائط قوم کے سامنے رکھ دیں

لاہور (ویب ڈیسک) پہلے دن سے ہی لگ رہا ہے کہ کپتان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ کچھ حالات نے باندھے ہیں اور کچھ ان مقتدر قوتوں نے جو پیچھے رہ کر فیصلے کرتی ہیں۔ اب آپ مسلم لیگ (ق) سے صلح کے معاملے کو ہی دیکھیں۔ اس میں مسلم لیگ (ق) نے منوا لیا ہے کہ

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی وزارتوں میں مداخلت نہیں کی جائے گی اور جن اضلاع میں ان کے ارکانِ اسمبلی ہیں، وہاں بھی پنجاب حکومت کی بجائے چودھریوں کا اختیار چلے گا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ فنڈز کے معاملے میں بھی انہیں ترجیحی بنیادوں پر فنڈز فراہم کئے جائیں گے، چاہے باقی کسی کے لئے فنڈز دستیاب ہوں یا نہ ہوں؟ اب مجھے بتائیں کہ ایک وزیراعظم کا اختیار کہاں رہ گیا؟ وزیراعظم اگر اپنی کابینہ کے ارکان کے معاملات میں بھی مداخلت نہیں کر سکتا تو باقی معاملات کیا چلائے گا؟ اس کا مطلب ہے کہ مسلم لیگ (ق) حکومت کے اندر اپنی حکومت چلائے گی۔ یہ وزیراعظم کے ہاتھ باندھنے والی بات نہیں تو اور کیا ہے؟ جب یہ مثال بن گئی ہے تو ایم کیو ایم بھی اسی پیکیج پر وزارتیں لے گی کہ وزیراعظم اس کے امور میں مداخلت نہیں کریں گے۔گویا وزیراعظم عمران خان کا وژن، کرپشن کے خلاف ایجنڈا اور باقی سب کچھ ایک سائیڈ پر رہ جائے گا اور اتحادیوں کو راضی رکھنے کی مجبوری ان کا منہ چڑا رہی ہو گی……بات صرف اتحادیوں تک محدود نہیں، خود پی ٹی آئی کے اندر بھی جو گروپ بندی موجود ہے، اس نے بھی کپتان کو اس قسم کا فری ہینڈ نہیں دیا ہوا، جیسے کرکٹ ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے انہیں حاصل تھا۔ حالت یہ ہے کہ وہ اپنے ایک وزیر کو بھی ناراض نہیں کرسکتے، کیونکہ حکومت قائم رکھنے میں انہیں ایک ایک رکن اسمبلی کی ضرورت ہے۔

ایک بھی رکن اسمبلی اِدھر اُڈھر ہوا تو حکومت کے پاؤں لرز جانے ہیں۔ ایم کیو ایم کی صرف چھ نشستیں ہیں، مگر اس نے حکومت کو تگنی کا ناچ نچوا رکھا ہے۔ پوری حکومت ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے کہ کابینہ میں واپس آ جاؤ، مگر وہ مان کر نہیں دے رہے، اُلٹا ان کے مطالبے بڑھتے جا رہے ہیں۔بی این پی مینگل کے پاس کتنی نشستیں ہیں؟ لیکن اختر مینگل کی باتوں سے تو یوں لگتا ہے کہ حکومت کا بوجھ ہی انہوں نے اپنے کاندھوں پر اٹھایا ہوا ہے۔ اس لئے پی ٹی آئی کے وزراء کو بھی معلوم ہے کہ دوچار ارکان اسمبلی کا ایک گروپ بنا کر اپنے ساتھ رکھو اور باقی چاہے کچھ کرو نہ کرو۔ ہر شخص سر پیٹ رہا ہے کہ ملک میں مہنگائی اور کرپشن بڑھ گئی ہے، گورننس کا بُرا حال ہے، حکومت کی ناکامی کے ڈھنڈورے پیٹے جا رہے ہیں، مگر وزراء کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ وہ ”حال مست اور مال مست کی تصویر بنے ہوئے ہیں“…… وزیراعظم عمران خان نے جب خیبرپختونخوا کے تین وزراء کو برطرف کیا تو کہا گیاکہ عمران خان جلال میں آ گئے ہیں، اب نااہلوں اور سازشیوں کو نہیں چھوڑیں گے، مگر وفاقی کابینہ میں بیٹھے ہوئے وزراء کو اندازہ تھا کہ یہ وزیراعلیٰ محمود خان کو وقتی سہارا دینے کے لئے کیا گیا ہے اور اس لئے کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے پاس سنگل پارٹی اکثریت ہے، دس بارہ بندوں کے اِدھر اُدھر جانے سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا،

لیکن وفاق میں تو دو بندوں کا اِدھر اُدھر ہونا بھی حکومت کی چُولیں ہلا سکتا ہے۔ سو جو ایڈونچر عمران خان نے خیبرپختونخوا میں کیا ہے، وفاق یا پنجاب میں کرنے کا تو سوچ بھی نہیں سکتے۔پارلیمانی سیاست میں اگر کسی جماعت کو سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں تو اس کا حکومت بنانا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے، خاص طور پر جب اس کے مقابل دو بڑی سیاسی جماعتیں موجود ہوں۔ اب تک 18ماہ کی مدت میں عمران خان کو کتنے زیادہ یوٹرن لینے پڑے ہیں؟ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس مطلوبہ اکثریت ہی نہیں اور وہ اسمبلی کے اندر بھی اپوزیشن اور اتحادیوں کے دست نگر ہیں۔ مجھے تو وہ پہلی تقریر یاد آتی ہے جو عمران خان نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد شور شرابے میں کی تھی اور بڑے بڑے دعوے کر گئے تھے۔ شائد اس وقت انہیں اندازہ نہیں تھا کہ پارلیمانی نظام میں اکثریت کے بغیر حکومت کرنا ایسا ہی ہے، جیسے پل صراط پر چلنا۔ ایک عرصے تک اپوزیشن نے حکومت کو زچ کئے رکھا، حتیٰ کہ وزیراعظم عمران خان اپنے اس دعوے کو بھی نہ نباہ سکے کہ وہ ہر مہینے اسمبلی میں آکر سوالوں کا جواب دیں گے۔ حکومت قانون سازی نہ کر سکی اور آرڈیننسوں کے سہارے چلائی گئی، جس سے حکومت کی کمزوری کھل کر سامنے آئی۔وفاقی وزراء نے اپنے بیانات سے کتنی ہی بار وزیراعظم کے لئے بحران کھڑے کئے ہیں، حتیٰ کہ حکومتی پالیسی کے خلاف بھی باتیں کی گئیں۔ نوازشریف دور میں ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا……

جو وزیراعظم نے کہہ دیا،تمام مسلم لیگی وزراء اس کی تائید کرتے تھے۔ اب اُلٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ اُلٹی سیدھی حرکتوں سے عمران خان کے لئے مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔ کبھی فواد چودھری اور کبھی فیصل واؤڈا، ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیتے ہیں۔ اسمبلی کے اندر جو جنگ و جدل کی فضا رہی ہے، وہ چند وزراء کی اسی عادت کے باعث رہی، حالانکہ پارلیمنٹ کو چلانا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، مگر وہاں خود حکومتی بنچوں سے ماحول خراب کیا جاتا رہا۔ وزیراعظم کچھ نہ کر سکے۔ایک طرف وزیراعظم کے بارے میں دبنگ شخصیت کا تاثر اور دوسری طرف اتنی کمزوری کہ حکومتی جماعت انتشار کی آماجگاہ نظر آئے۔ اس کا صاف مطلب تو یہی ہے کہ وزیراعظم اپنی کمزور عددی حیثیت کی وجہ سے کسی کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ آٹے اور چینی کا بحران آیا ہے تو انگلیاں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کی طرف اٹھ رہی ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب تو روزانہ کی بنیاد پر وزیراعظم سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ ان دونوں کے گوداموں پر چھاپے پڑوائیں، کیونکہ اصل ذمہ دار یہی ہیں، مگر وزیراعظم عمران خان ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ جہانگیر ترین ان کے بااعتماد ساتھی ہیں اور حکومت بنانے کے لئے عددی نمبرز بھی انہی کی کاوشوں سے پورے ہوئے…… وہ اگرچہ رکن اسمبلی نہیں، تاہم کئی ارکان اسمبلی ان کے اشارے پر کوئی بھی قدم اٹھا سکتے ہیں۔یہی حال خسرو بختیارکا بھی ہے۔ وہ تحریک انصاف میں ایک گروپ کی صورت شامل ہوئے تھے۔

انہوں نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لئے ایک صوبہ محاذ گروپ بنایا تھا،جس نے بعدازاں تحریک انصاف سے الحاق کر لیا تھا۔ اس گروپ نے تین ماہ میں صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن حکومت بننے کے بعد تحریک انصاف اور یہ صوبہ محاذ گروپ دونوں ہی اس وعدے کو بھول گئے، تاہم خسرو بختیار اب بھی اس گروپ کی سربراہی کرتے ہیں اور کسی وقت بھی اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے تحریک انصاف میں اس وقت ان لوگوں کی اکثریت ہے، جو دوسری جماعتوں سے تحریک انصاف میں آئے۔ کابینہ میں بھی ایسے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے، پھر پیرا شوٹرز بھی بہت زیادہ ہیں،جو اسمبلی کے رکن تو نہیں، البتہ حکومت میں مشیر بن کر اہمیت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے سکینڈل بھی سامنے آتے رہتے ہیں اور وزیراعظم سے غلط کام کروانے اور انہیں غلط مشورے دینے کی کئی کہانیاں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔سو یہ سب باتیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ وزیراعظم عمران خان جن پر پوری قوم کی نظریں لگی ہوئی ہیں، خود اتنے خود مختار نہیں ہیں، جتنا عوام انہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ عوام نے تو صرف عمران خان کے نام پر ووٹ دیئے تھے، وہ کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو نہیں جانتے، اسی لئے وہ توقعات بھی عمران خان ہی سے باندھے ہوئے ہیں، مگر یہ بھولے عوام اس وقت کو بھول جاتے ہیں کہ کپتان کی حکومت چند ووٹوں کے سہارے پر کھڑی ہے۔ یہ ووٹ آج اِدھر سے اُڈھر ہو جائیں، کپتان کو آؤٹ ہو کر پولین لوٹنا پڑے گا، اسی لئے وہ کبھی مافیا کا تذکرہ کرتے ہیں اور کبھی پریشر گروپوں کا، انہیں قدم قدم پر مصلحتیں گھیر لیتی ہیں۔ ایسی حکومت کپتان کے شایان شان نہیں، کیونکہ وہ زندگی بھر کمزور ٹیم کے کپتان نہیں رہے۔(ش س م)