لندن پلان بمقابلہ لاہور پلان : لندن میں شہباز شریف کی کس کے ساتھ کیا بات طے ہوئی ہے ؟ لاہور میں ایک بزرگ مگر طاقتور شخصیت نے کس کو کیا سگنل دیا ہے ؟ اسٹیبلشمنٹ کیا سوچ رہی ہے ؟ اہم ترین سوالات کا جواب ایک سیاسی رپورٹ میں

لاہور (ویب ڈیسک) میاں محمد نواز شریف اس وقت علاج کیلئے لندن میں ہیں اور مریم نواز ضمانت پر ہیں‘ لیکن وہ خاموش ہیں‘ ان کا ٹوئٹر خاموش ہے۔سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد ان کو ٹوئٹر پر مس کررہی ہے‘ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ شاید وہ مصلحت پسندی سیکھ گئی ہیں۔

نامور خاتون صحافی جویریہ صدیق اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے ہم نے ان کا نڈر اور بے خوف چہرہ دیکھا اور یہ کہا جاتا رہا کہ جیل کی سختی بھی ان کے مضبوط ارادوں کو توڑ نہیں سکی۔خیر اب جو خبریں آ رہی ہیں کہ لندن کے ہوٹل میں کچھ اہم شخصیات کی ملاقات ہوئی ہے‘ کیا یہ لندن پلان کسی تبدیلی کا پیش خیمہ ہیں؟دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ مقتدر حلقے فی الحال شریف خاندان کو پاور سرکل سے باہر رکھنے کے خواہاں ہیں‘تاہم مسلم لیگی قیادت کو یہ یقین ہے کہ نئے پولیٹیکل گیم میں ان کو ضرور کچھ اہم حصہ ملے گا‘ کیونکہ اگر پی ٹی آئی ڈلیور نہ کرسکی ‘تو ان کو باری ملے گی ۔شہباز شریف اس اہم ملاقات کے بعد اپنے بڑے بھائی نواز شریف سے ملے اور ان سے مشاورت کی اور بتایا گیا ہے کہ جلد ہی شہباز شریف وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔یوں شہباز شریف کی واپسی نا صرف صوبائی طور پر بلکہ مرکز میں بھی ایوان کے اندر تبدیلیوں کا باعث بنے گی۔دوسری طرف پی ٹی آئی بھی پاور سرکلز کی ملاقاتوں سے بے خبر نہیں اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔پی ٹی آئی حکومت پر اپنی گرفت کمزور نہیں ہونے دے رہی اور سمجھداری سے سیاسی چالیں چل رہی ہے۔لاہور پلان کے تحت حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے چوہدری برادران کی رہائش گاہ پر پرویز الٰہی ‘مونس الٰہی ‘طارق چیمہ اور کامل علی آغا سے ملاقات کی۔حکومت کی مذاکراتی کمیٹی میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور‘

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار‘ وفاقی وزراء شفقت محمود‘ اسد عمر اور پرویز خٹک شامل تھے۔حکومت کی یہ کوشش ہے کہ لندن ملاقاتوں کے بعد ان کی گرفت اقتدار پر ڈھیلی نہ ہو اور ان کے اتحادی ناراض ہوکر کہیں دوسری طرف نہ دیکھنا شروع ہوجائیں۔اس لیے حکمراں فی الحال سب کو خوش کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔لندن پلان کے مطابق‘ فی الحال نواز شریف‘ شہباز شریف‘ مریم نواز اور حمزہ شہباز کو سیاسی افق سے دور رکھا جائے گا۔مسلم لیگ (ن )کی دیگر سینئر قیادت کو آگے لایا جائے گا ‘تاہم کسی قومی حکومت کے آنے کا امکان نہیں ‘تبدیلی صرف اِن ہاؤس نظر آئے گی۔اس سلسلے میں گزشتہ دنوں کچھ سیاست دان ‘ایک بزرگ شخصیت سے پنجاب میں ملے تھے‘ تاہم پاور سرکلز اس وقت عمران خان کو ہی اقتدار کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔الغرض مسلم لیگ (ن) لندن میں متحرک ہے اور تحریک انصاف لاہور میں متحرک ہے۔لندن پلان بمقابلہ لاہور پلان ہے‘تاہم یہ کہا جارہا ہے کہ لندن ہوٹل میں ہونے والی ملاقات کے بعد شہباز شریف سے خوش ہیں اورانہوں نے پاکستان واپسی کی تیاری شروع کردی ہے۔دوسری طرف چوہدری برادران کے ساتھ مذاکرات کے بعد تحریک انصاف بھی مطمئن ہے کہ تخت ِلاہور کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں۔مسلم لیگ(ن) کے رہنما ہارون اختر کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات ‘کے بارے میں یہ خبر گرم ہے کہ ان کو ایف بی آر میں جگہ دی جارہی ہے اور وہ وزیر اعظم عمران خان کی اقتصادی ٹیم کے ساتھ کام کریں گے‘جبکہ پی ٹی آئی کے سٹار شبر زیدی بیماری کی وجہ سے رخصت لے چکے ہیں۔پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق‘ اگر ہارون اختر کو لیا گیا تو پی ٹی آئی کو نقصان ہوگا اور پی ٹی آئی کے اندر سے مخالفت بھی آئے گی۔ہارون اختر ‘اسحاق ڈار کی ٹیم کا حصہ تھے‘ کیا تحریک انصاف‘ مسلم لیگ(ن) کی معاشی پالیسی کو آگے لے کر چلے گی؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔حکومت اقتصادی امور سنبھالنے میں تاحال ناکام ہے اور عوام مہنگائی سے سخت پریشان ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کی آدھی کابینہ پرویز مشرف کی کابینہ پر مشتمل ہے۔ کیا پرانے چہرے تبدیلی لانے میں معاون ثابت ہوں گے؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا‘ تاہم شطرنج کی بساط ایک بار پھر سج چکی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کس کو شہ ملے گی اور کسی کو شہ مات؟ یہ پاکستان کے وہ طاقت ور حلقے طے کریں گے‘ جو ہمیشہ سے فیصلہ ساز ہیں۔(ش س م)