تبدیلی آئے گی اور ضرور آئے گی ، مگر اس دن جب عمران خان یہ ایک کام کرنے کی ہمت کر لے گا ۔۔۔۔ اوریا مقبول جان نے عمران خان کو زبردست تجاویز دے دیں

لاہور (ویب ڈیسک) کسی بھی معاشرے میں تبدیلی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بیوروکریسی ہوتی ہے۔ اس کا خمیر اس مٹی سے گندھا ہے جو ہر حال میں مروجہ صورت حال یعنی (Status quo) کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ برصغیر پاک وہند کی بیوروکریسی تو اس فن کی اعلی ترین مثال ہے۔

نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔پاکستانی عدلیہ کے متنازعہ چیف جسٹس منیر احمد نے جب سکندر مرزا کے مارشل لا کو جائز قرار دیا تو جنرل ایوب نے اسی رات سول بیوروکریسی کے نمائندے سکندر مرزا کو معزول کرکے خود اور اپنے ادارے فوج کو سینئر پارٹنر بنا دیا۔ اس کے بعد یہ جونیئر پارٹنر”بیوروکریسی ” مسلسل اپنے نئے بننے والے سینئر پارٹنر ”فوج ”کے ساتھ مل کر آج تک صرف ایک ہی فریضہ انجام دیتی چلی آ رہی ہے یعنی مروجہ صورت حال (Status quo) کا تحفظ۔ یعنی امیر، غریب، وڈیرہ، ہاری، آفیسر، کلرک، سیاستدان، سیاسی ورکر سب اپنی جگہ خوش و خرم رہیں۔ کوئی ہاری، وڈیرہ بننے یا سیاسی ورکر، لیڈر بننے کی خواہش نہ کرے۔ کوئی اگر نچلے طبقے سے اوپر چلا آئے تو اسے ایسے اپنے رنگ میں رنگ لیا جائے کہ وہ اپنی ذات، اوقات اور مقام بھول کر مقتدر قوتوں کا ساتھی لگنے لگے۔ سول بیوروکریسی کے اس رویے کو جس کسی نے بھی چیلنج کرنے کی کوشش کی، انہوں نے اسے نشان عبرت بنادیا۔ انکے خلاف جو بھی رپورٹ مرتب ہوئی وہ ڈسٹ بن ہی نہیں بلکہ گٹر کی زینت بنا دی گئی۔ جسٹس کارنیلس کی 1959 ء سے 1962 ء تک تین سالہ محنت پر مبنی رپورٹ نے تبدیلی کی سفارشات مرتب کیں لیکن انہوں نے جنرل ایوب کو اس تبدیلی سے ایسا خوفزدہ کیا کہ اس نے کانوں کو ہاتھ لگا لئے اور رپورٹ دفن کر دی گئی۔ ذوالفقارعلی بھٹو جس نے انکے ساتھ کم از کم پندرہ سال کام کیا تھا،

وہ انکی رگ رگ سے واقف تھا۔ بھٹو 1973 ء میں ایسی اصلاحات لے کر آیا کہ جس نے انکا ڈھانچہ تک بدل کر رکھ دیا۔ لیکن صرف تین سال بعد انہوں نے بھٹو کو اپنے سامنے سرنگوں ہونے پر ایسا مجبور کیا کہ وہ سیاسی فیصلے تک ان سے پوچھ کر کرنے لگا۔ آخری دفعہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں انکے سابقہ جونیئر پارٹنر اور موجودہ سینئر پارٹنر ”فوج” نے ڈالیں۔ پرویز مشرف نے جنرل تنویر نقوی کے این آر بی سے انکا ڈھانچہ ادھیڑ کر رکھ دیا اور جنرل امجد کے نیب کے ذریعے ان کی کرپشن پر انہیں پکڑنا شروع کیا۔صرف چند ایک ہی پکڑے گئے تھے کہ انہوں نے حکومتی مشینری کو ایسا جام کیا کہ مشرف کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ نظام حکومت کیسے چلائے۔ نیب کے سارے دانت نکال دیے گئے اورجنرل تنویر نقوی کا ناظم سسٹم ایسا زمین بوس ہوا کہ آج وہی سابقہ ناظم دپٹی کمشنر کے دروازوں کے باہر درخواست لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔ ہر ایسی قوت جو تبدیلی لانا چاہتی ہے، اسکو ایسا کرنے سے روکنے کیلئے ان کے پاس ایک ہی ہتھیار ہے اور وہ ہے خوف۔سرکاری مشینری جام کرنے کی خاموش دھمکی ۔ عمران خان نے تو ابھی انکے بارے میں صرف گفتگو ہی کی تھی، کوئی قدم ہی نہیں اٹھایا تھا کہ انہوں نے اسے ایسا خوف زدہ کیا کہ وہ الٹے پاؤں واپس لوٹ گیا۔ اس دفعہ انہوں نے ایک نیا ہتھیار استعمال کیا۔ خوفزدہ کرنے کیلئے اینکروں اور کالم نگاروں سے تجزیہ کروائے گئے یہ سب حضرات انکی عنایات خسروانہ اور مراعات کے مدتوں سے مزے لوٹتے رہے تھے۔ ایک سال میں ایسا رونا پیٹنا ڈالا گیا کہ اگر اس بددیانت کو پکڑا گیا، فلاں بددیانت کو رہا نہ کیا گیا پورا تو نظام تلپٹ ہوکر رہ جائے گا۔ وہ بیوروکریسی جس نے گذشتہ چالیس سال میں کرپشن اور بد دیانتی کو سکہ رائج الوقت بنایا۔ جنہوں نے تمام کاموں میں تیز رفتاری صرف اس لیے دکھائی کہ ان سے انکی کمیشن اور کک بیک وابستہ تھی۔ جن افسران کے اثاثوں کے ڈکلیریشن آج بھی مقدس ہیں اور کوئی انہیں چھو بھی نہیں سکتا، چھاپ نہیں سکتا۔ جنہوں نے اس ملک میں چالیس سال سے سیاسی آقاؤں کے ذریعے میڈیا کے منہ موتیوں سے بھرے، سیاستدانوں کو بددیانتی کے گر سکھا کر انہیں ارب پتی بنایا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ یہ پورا گروہ آج عمران کو اتنی سی بات سے خوفزدہ کر چکا کہ اگر تم نے ہم سے کرپشن پر سوال کیا تو ہم حکومتی پہیہ جام کر دیں گے۔خان صاحب !یہ پہیہ ان قوانین سے جام ہوتا ہے جو انہوں نے خود بنائے ہوئے ہیں۔یہ سرخ فیتہ انہوں نے خود تخلیق کیا ہے۔ جس دن عمران خان میں یہ ہمت آگئی کہ وہ یہ تمام قوانین بدل سکے، رولز آف بزنس نئے مرتب کر سکے، اس دن تبدیلی بھی آجائے گی۔ ورنہ ابھی تک وہ ناکامی کی سیڑھی پر تیزی سے پھسل رہا ہے۔(ش س م)