سیدھی انگلی سے گھی نہ نکلا : عثمان بزدار کو ہٹانے کے لیے مخالفین نے انگلی ٹیڑھی کر لی ، کب کیا ہونیوالا ہے ؟ صابر شاکر نے بریکنگ نیوز دے دی

لاہور (ویب ڈیسک) تحریکِ انصاف کی حکومت کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ سے کیسے فارغ کیاجائے؟عثمان بزدار کو گھر کیسے بھیجا جائے؟اِن ہاؤس تبدیلی یا نئے انتخابات؟وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں شہباز شریف‘شاہد خاقان عباسی ‘ خواجہ آصف‘ شاہ محمود قریشی ‘محمد میاں سومرو یا پھر کسی چھوٹے صوبے سے کوئی بے ضرر سا وزیراعظم؟

نامور کالم نگار صابر شاکر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے چوہدری پرویز الٰہی ہاٹ فیورٹ ‘ پوراملک انہی افواہوں کی لپیٹ میں ہے۔جونہی کوئی سیاسی تحرک پیدا ہوتاہے یا غیرسیاسی تجارتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ ہو‘ اتحادی ناراض ہوں یا اپنے ہی وزرا ناخوش‘سب کا نتیجہ ایک ہی نکالا جاتا ہے کہ حکومت کے جانے کا وقت آچکا ہے اور آج گئی یا کل‘لیکن پھر کہیں سے کوئی آکسیجن ملتی ہے اورکچھ ملاقاتیں ہوتی ہیں ‘کچھ باتیں مان لی جاتی ہیں‘ کچھ کا وعدہ کیا جاتا ہے اور کچھ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فی الحال ان کو رہنے دیں‘ ان کو میں ہینڈل کر لوں گا اور معاملات کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہوتا ہے۔سروسز ایکٹ میں ترامیم کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان قدرے بہتر ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہوگئی تھی اور متعدد امور پر قانون سازی کرنے پر اتفاق ہوگیا۔ الیکشن کمیشن کے ارکان اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر مثبت پیش رفت جاری ہے۔اتحادی جماعتوں کے ناز نخرے تو فطری ردعمل ہے‘ اپوزیشن کا حکومت کے خلاف چارج شیٹ بھی اس کا اصل ہدف تصور کیا جاتا ہے‘ لیکن اگر وزیراعظم عمران خان کی اپنی کابینہ کے وزرا وزیرعظم کی حکومت کو اوروزیراعلیٰ عثمان بزدار کی کابینہ کے وزرا انہیں چارج شیٹ کرنا شروع کردیں تو کوئی بھی ذی شعور شخص یہ اندازہ باآسانی لگا سکتا ہے کہ اس بغاوت اور سرکشی کی دو ہی وجوہات ہوسکتی ہیں‘ پہلی یہ کہ ان باغیوں کو وزیراعظم سے بھی طاقتوروں کی پشت پناہی حاصل ہے ‘

دوسری وجہ یہ کہ سیاسی وانتظامی بدنظمی انتہا درجے کو پہنچ چکی ہے اور وزیراعظم عمران خان کی اپنی ہی حکومت میں اپنے ہی وزرا اور ارکان پر گرفت کمزور پڑ چکی ہے۔دونوں ہی صورتوں پر اگر قابو نہ پایا گیا تو نقصان وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو ہی ہوگا۔فیصل واوڈا کے اپوزیشن کو بوٹ چاٹنے کے طعنے نے صورتحال کو کافی بگاڑ دیا تھا۔فواد چوہدری جو وزیراعظم عمران خان کے بہت قریب ہیں اور کابینہ کے اہم رکن ہیں‘ لیکن انہوں نے وزیراعظم سے براہ راست بات کرنے کے بجائے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف ایک خط لکھا اور پھر وہ خط سوشل میڈیا پر بھی یکایک پھیل گیا‘ جو حکومت کیلئے کافی سبکی کا باعث بنااور پھر پنجاب کے صوبائی وزرا وفاقی وزیر کے خلاف پریس کانفرنسز کرتے ہوئے نظر آئے۔گویا اب پی ٹی آئی کو باہر سے اپوزیشن کی ضرورت نہیں رہی‘ یہ کردار بھی پی ٹی آئی کے وزرا اور ارکان نے اپنے ذمے لے لیا ہے۔فواد چوہدری کے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں ایک تیر سے دو شکار ہدف معلوم ہوتے ہیں؛پہلا عثمان بزدار اور دوسرا ‘جو زیادہ خطرناک لگتا ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو یہ کہنا کہ امورِ مملکت آئین اور قانون کے مطابق نہیں چلائے جارہے ‘انتہائی خطرناک اور باریک سیاسی واردات ہے۔ماضی بعید میں جھانکیں تو صدر غلام اسحاق خان کی نوازشریف سے ان بن شروع ہوئی تو حکومت کے چل چلاؤ کی خبریں آنا شروع ہوگئیں۔تب نوازشریف کابینہ کے رکن وزیرمملکت حامد ناصر چٹھہ نے ایک روز استعفیٰ دے دیا اور صدر غلام اسحاق خان کو ایک خط بھی لکھ دیا۔جب مسئلہ سیدھی انگلی سے حل نہ ہورہا ہو تو پھر ٹیڑھی انگلی کا استعمال کیا جاتا ہے۔باقی رہا پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کا وزیراعلیٰ بننے کے امکانات کا معاملہ تو یہ واقعہ پہلے بھی پنجاب میں وقوع پذیر ہوچکا ہے۔وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں اورسپیکر میاں منظوراحمد وٹو تھے۔بغاوت ہوئی اور چند ووٹوں کے حامل میاں منظور وٹو پی پی پی کے اکثریتی ووٹوں سے وزیراعلیٰ بن گئے‘ پھر منظور وٹو فارغ ہوئے تو سردار عارف نکئی وزیراعلیٰ بنے‘ جس کے بعد شریف فیملی نے پنجاب کسی اور کے حوالے نہیں کیا۔موجودہ نمبرز گیم بھی وہی ہے‘ سپیکر میاں منظور وٹو اورسپیکر چوہدری پرویز الٰہی میں نمبر گیمز کے ساتھ ساتھ کافی مماثلت پائی جاتی ہے اور خاص طور پر جب پی ٹی آئی کے ناراض ارکان پنجاب اسمبلی بھی اپنے الگ اجلاس شروع کردیں۔وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو ہٹانے کیلئے شاید ٹیڑھی انگلی کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دیکھتے ہیں کپتان وسیم اکرم کو مائنس ہونے سے بچا پائیں گے یا نہیں؟ (ش س م)