بریکنگ نیوز:ن لیگ کے بعد پی ٹی آئی کو بھی بڑا جھٹکا۔۔۔۔اہم ترین رہنما کی گرفتاری کی خبر آ گئی

لاہور(ویب ڈیسک) سینئیر صحافی رانا عظیم نے کہا ہے کہ احسن اقبال کی گرفتاری پر مسلم لیگ ن کے تین سب سے بڑے لیڈروں کی طرف سے جارحانہ انداز دیکھنے میں نہیں آیا۔باقی رہنماؤں کے چیخنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔کچھ سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا جا رہا ہے تو کچھ کو رہا کیا

جا رہا ہے۔مسلم لیگ ن میں دو گروپ ہیں۔ایک گروپ گرفتاریوں پر خوش ہوتا ہے تو ایک گروپ کی چیخیں نکلتی ہیں۔ رانا عظیم نے مزید کہا کہ احسن اقبال کے بعد دو بڑی گرفتاریاں ہوں گی۔ جن میں سے ایک کا تعلق لاہور سے ہے جب کہ ایک کا تعلق شیخوپورہ سے ہے۔جب ایک گرفتاری گجرانوالہ سے بھی ہو گی۔ان شخصیات میں سے ایک کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔اداروں نے ان تینوں شخصیات کے حوالے سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، رانا عظیم نے مزید کہا کہ پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ نیب نے ان لوگوں پر ہاتھ ڈالا ہے جن کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ نیب کے پاس کچھ نہ کچھ شواہد ہوتے ہیں تبھی وہ گرفتاری عمل میں لاتے ہیں۔جب کہ دوسری جانب ن لیگ کے دو سینئر رہنما ایف آئی اے کے گھیرے میں آگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے عظمیٰ بخاری اور پرویز رشید کو 30 دسمبر کو طلب کرلیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کی نیب میں گرفتاری کے بعد مزید دو سینئر رہنماء ایف آئی اے کے ریڈار میں آگئے ہیں۔ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دونوں رہنماوں کو جج ارشد ملک کیس میں انکوائری کیلئے طلب کیا گیا ہے، ن لیگ کے سینیٹر پرویز رشید اور سیکرٹری اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کو30 دسمبر کو طلب کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کو دونوں رہنماوں پر جج ارشد ملک کی ویڈیو لیک کرنے کا شک ہے۔واضح رہے کہ نیب نے 23 دسمبر کو مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کو بھی اسپورٹس سٹی کمپلیکس اسکینڈل میں گرفتار کرلیا ہے۔ احسن اقبال کو نیب راولپنڈی نے انکوائری کیلئے طلب کیا تھا۔ احسن اقبال بروز پیر نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے روبرو پیش ہوئے تھے۔ جہاں پر سوالات کے غیرتسلی بخش جوابات دینے پر نیب ٹیم نے ان کو گرفتار کیا۔