تحریک انصاف کو تقسیم کرنے کی کوششیں ۔۔۔۔۔ یہ کون کررہا ہے اور اصل مقصد کیا ہے ؟ معتبر صحافی کی دھماکہ خیز رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے نومبر کے آخر میں چیف آف آرمی سٹاف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حکومتی فیصلے پر گرفت کی۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس ضمن میں حکومتی اقدام میں موجود نقائص کی بہترین انداز میں نشاندہی کرتے ہوئے اس اہم ترین قومی معاملے کو قانون سازی کیلئے پارلیمان بھجوا دیا

نامور کالم نگار کنور دلشاد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور دسمبر کے پہلے ہفتے میں حکومت چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری اور مراعات پر قانون سازی کیلئے کابینہ میں مشاورت کا آغاز کرچکی ہے۔ یہی نہیں پارلیمنٹ میں نئے چیف الیکشن کمشنر اور ارکانِ الیکشن کمیشن کی تقرری جیسی اہم ترین آئینی ذمہ داریوں پر بھی بحث کا آغاز ہو چکا ہے‘ تاہم مسلم لیگ (ن) نے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے‘ جبکہ صدرِ مملکت نے آئینی تقاضوں کے مطابق جسٹس گلزار احمد کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے‘ وہ 21 دسمبر سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔اس میں دو رائے نہیں کہ مقننہ‘ انتظامیہ اور عدلیہ ریاستی نظام کے ایسے بنیادی ستون ہیں جو نظامِ مملکت کو کسی رکاوٹ کے بغیر چلانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ مقننہ یا پارلیمنٹ قانون سازی سے قوانین کی تشکیل اور امورِ ریاست کو انجام دینے کی حکمت عملی جیسے فرائض انجام دیتی ہیں جبکہ انتظامیہ آئین اور قانون کی روشنی میں انتظامی معاملات کو چلانے کی ذمہ دار ہے۔

اسی طرح عدلیہ ملک میں انصاف کی بروقت اور شفاف فراہمی کے ساتھ آئین کے تحفظ‘ قوانین کی تشریحات اور قومی معاملات میں ابہام کو دور کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ عدلیہ‘ انتظامیہ اور پارلیمنٹ مل کر سیاسی و جمہوری نظام کی حدود کا تعین کرتی اور اسے بہتر انداز میں آگے بڑھانے کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ پوری قوم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ بسا اوقات جب اقتدار میں اُلجھ کر بعض سیاسی عناصر ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوئے‘ جن کے باعث جمہوری نظام کی بقا کو خطرات لاحق ہوئے‘ توایسی صورتحال میں اعلیٰ عدلیہ‘ فوجی قیادت اور پارلیمنٹ میں موجود دوراندیش سیاسی رہنماؤں کی کاوشوں سے سیاسی و جمہوری نظام فروغ پذیر رہا۔ رواں ماہ مقننہ کے اندر وسیع تر بحث کے ذریعے چیف آف آرمی سٹاف اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے بارے آئینی پیش رفت ہوتی ہے تو یقینی طور پر اس سے جمہوری نظام میں بہتری آئے گی اور داخلی سطح پر سیاسی ماحول میں موجود کشیدگی کم ہوگی۔ قومی اور ریاستی معاملات کی بہترین انجام دہی کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ مقننہ‘ انتظامیہ اور عدلیہ اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے مشاورت کے ساتھ آگے بڑھنے کی حکمت عملی طے کریں

اور وزیراعظم عمران خان اپنی آئینی ماہرین کی ٹیم سے کنارہ کشی کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے اندر سے ماہرینِ قانون کی حوصلہ افزائی کریں ‘ کیونکہ وہ موسمی پرندے جو دیگر سیاسی جماعتوں سے وارد ہوئے ہیں انہوں نے پارٹی کے حقیقی خیر خواہوں کو اپنی سازشوں سے نظر انداز کردیا ہے‘ اور انکی وجہ سے حکومتی اداروں کے درمیان ایک طرح سے ذاتی مفادات کی جنگ جاری ہے۔سپریم کورٹ کی طرف سے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع پر قانون سازی کے لیے چھ ماہ کے مہلت دی گئی ہے۔ حکومت متعلقہ معاملات کو دیکھ رہی ہے‘ اس حوالے سے دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم کی بات ہورہی ہے۔ سادہ اکثریت بھی مذکورہ قانون سازی کے لیے زیر بحث ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے آئینی ماہرین آرڈیننس کے ذریعے کام چلانے کی بھی رائے رکھتے ہیں؛تاہم وزیراعظم اگراپنے قانونی ماہرین کے مشورے سے آرڈیننس کا سہارا لیتے ہیں تو اندیشہ ہے کہ آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج ہو جائے گا‘ جس سے پاکستان کی عسکری قوت مزید بحث مباحثہ کی زد میں آجائے گی اور ادارے کو بلاوجہ زک پہنچنے کا احتمال بڑھ جائے گا۔

اس بحث سے قطع نظر کہ آرمی چیف کی توسیع کے حوالے سے پارلیمنٹ میں وسیع تر اتفاق رائے کی ضرورت ہو گی‘ شائبہ یہ گزرتا ہے کہ حکومت کے اند ر مخصوص کی سوچ کے حامل کچھ قانونی ماہرین اور وزرا محاذ آرائی اور کشمکش پیدا کرنے کے لیے اندرونی طور پر سازش کر رہے ہیں ‘لہٰذا بہتر یہ ہو گا کہ آرڈیننس لانے کی سوچ کے حامل اشخاص پر نظر رکھی جائے اور حکومت یا اپوزیشن اس حوالے سے قطعاً یہ مد نظر نہ رکھیں کہ آج ان کا کیا مفاد ہے اور کل کیا ہو سکتا ہے۔ اقتدار پر کسی بھی پارٹی کا مستقل براجمان رہنا ممکن نہیں‘ لہٰذا پالیسیاں دور رس نتائج کی آئینہ دار ہونی چاہئیں۔آرمی ایکٹ میں ترمیم آئین کے آرٹیکل 243 سے لنک ہے اور آگے بڑھنے سے پہلے سپریم کورٹ آف پاکستان کا تفصیلی فیصلہ آنے کا انتظار کرنا ہوگا اور ہمارے حکمران طبقے کو نواز شریف خاندان‘ زرداری خاندان اور پرویز مشرف کی صورتحال کو ضرور سامنے رکھنا چاہیے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ حکمرانوں کو ایف اے ٹی ایف کی یاد دامن گیر تھی۔اطلاعات کے مطابق پاکستان نے سال کی آخری سہ ماہی میں عملدرآمد رپورٹ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو جمع کرادی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف اس رپورٹ کے جائزے کے بعد پاکستان کو مفصل سوال نامہ ارسال کرے گا۔ رپورٹ اور سوالنامہ پر بحث اگلے ماہ کی میٹنگ میں کی جائے گی‘

بہرکیف حکومت نے گرے لسٹ سے نکلنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف پاکستان کی عملدر آمد رپورٹ کا ابتدائی جائزہ لے گا اور امید ہے کہ حکام اس آزمائش سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔شنید یہ بھی ہے کہ وزیراعظم کے بعض دوستوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت تحریک انصاف کے بانی رہنما حامد خان کو شو کاز نوٹس بھجواکر عمران خان کیلئے مشکلات اور پریشانیوں کے دروازے کھول دیے ہیں‘ تاہم حامد خان نے پارٹی کے سیکرٹری جنرل عامر محمود کیانی کی جانب سے جاری کردہ اظہارِ وجوہ کے نوٹس کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بے بنیاد الزامات لگا کر کوئی موقع پرست انہیں پارٹی سے نہیں نکال سکتا اور اظہارِ وجوہ کے نوٹس کے عمل کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ میرے خیال میں وزیراعظم کو حامد خان ایڈووکیٹ کے حوالے سے غالباً غلط انداز میں بریف کرتے ہوئے پارٹی کے اندر ایک ایسی کشمکش شروع کر دی گئی ہے جس نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں تحریکِ انصاف کے ارکان کو ناقابل تلافی صدمے سے دوچار کر دیا ہے اور شنید یہ بھی ہے کہ اسمبلی کے وہ ارکان جو وزیراعظم کی پالیسیوں سے نالاں ہیں اور ان کے ناروا سلوک سے تنگ آئے ہوئے ‘حامد خان ایڈووکیٹ سے یکجہتی کا اظہار کرنے والے ہیں‘جس سے متحدہ اپوزیشن کے مشن کو تقویت پہنچے گی اور ان ہاؤس تبدیلی کیلئے خطرے کی گھنٹی بج جائے گی۔حامد خان مدبر اور دانشور ایڈووکیٹ اور تحمل مزاج سیاستدان ہیں اور اب میڈیا ان کے نظریات‘ خیالات اور حکومتی کمزوریوں کے بارے میں اظہارِ خیال کے لیے مدعو کرے گا۔ اسی طرح پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے تحریک انصاف کو ساڑھے پانچ سال سے اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے اور اب الیکشن کمیشن آف پاکستان کو غیر فعال کرنے کے تانے بانے اسی فارن فنڈنگ کیس سے ملائے جا رہے ہیں ۔

متحدہ اپوزیشن عوام کو باور کرا رہی ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو غیر فعال کرنے کی حکمت عملی کا منصوبہ کامیاب ہوگیا ہے‘ گزشتہ 16 ماہ سے حکومت اور اپوزیشن میں جاری محاذ آرائی اور عدم رابطوں نے اس بحران اور خلا کو جنم دیا ۔الیکشن ایکٹ 2017 ء اور اٹھارہویں ترمیم کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کو انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہیں‘ فیصلے چیف الیکشن کمیشن نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کرتا ہے۔ ان معروضی حالات میں بظاہر لگتا یہ ہے کہ حامد خان کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کرنے والے سازشی کردار کے حامل ہیں جو وزیراعظم عمران خان کو مردِبحران بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ذوالفقارعلی بھٹو کو بھی مردِ حر بننے کا بڑا جنون تھا۔حامد خان ایڈووکیٹ کی پشت پر ملک کے وکلا کی بھاری تعداد کھڑی ہے۔ملک میں وکلا کے دو بڑے گروپ ہیں‘ عاصمہ جہانگیر گروپ اور حامد خان گروپ اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میں ان دونوں گروپوں کے درمیان ہر سال مقابلہ ہوتا ہے۔ میرے خیال میں حامد خان کو شوکاز نوٹس جاری کرکے عمران خان کو وکلا میں متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس طرح مسٹر بھٹو سازشی عناصر کے دباؤ کے تحت جے اے رحیم‘ ڈاکٹر مبشر حسن‘ غلام مصطفی کھر اورحنیف رامے کو نکلوانے کے بعد عوامی حمایت سے محروم ہوگئے تھے ‘وہی منظر اب یہاں ہے۔ میرااندازہ ہے کہ حامد خان کو پارٹی سے خارج کروا کر تحریک انصاف کو تقسیم کرنے کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔