میرا تن من دھن پاکستان : گوگل کی شاندار جاب چھوڑ کر پاکستان آنیوالی ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کی سربراہ تانیہ ایدروس کے حوالے سے چند ایسے حقائق جو ابھی تک آپ کے علم میں نہیں آئے ہونگے

لاہور (ویب ڈیسک) اکیسویں صدی کے آغاز میں دنیا میں ایک نئے ڈیجیٹل انقلاب کی بنیاد رکھی گئی اور ہر ملک نے نہ صرف اپنی معیشت کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا بلکہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں اس کو بروئے کار لایا گیا۔

نامور کالم نگار شاہد رشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔گزشتہ برس انتخابات میں کامیابی کے بعد عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت نے پاکستان کو ڈیجیٹل بنانے کا اعلان کیااور اسی سلسلے میں عمران خان نے وزارت انفارمیشن و ٹیکنالوجی کو ’ڈیجیٹل پاکستان‘ کے منصوبے کا ٹاسک سونپا ۔ اسی ڈیجیٹل پاکستان وژن کے منصوبے کا افتتاح چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران کیا۔ اس منصوبے کے تحت پانچ اہم مرحلوں میں کام مکمل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے نمایاں خد و خال میںیہ شامل ہے کہ ہر پاکستانی کی رسائی انٹرنیٹ تک ممکن بنائی جائے، پائیدار ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا قیام عمل میں لایا جائے اور روزمرہ کے کاموں کو سمارٹ فونز اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے تکمیل تک پہنچایا جائے۔اس کے علاوہ ای گورنمنٹ کا فروغ، حکومتی و دفتری کاموں کو کاغذات کی بجائے ڈیجیٹل طریقے سے کرنے کی اہلیت پیدا کی جائے۔ ڈیجیٹل صلاحیت کے ذریعے روزگار کے مواقع اور نوجوانوں کے لیے نئے اور جدید منصوبوں کا فروغ۔

اس کا اہم پہلو ادائیگیوں کا ڈیجیٹلائز بنانا بھی ہے۔ فری لانسنگ کو مقبول بنا کر لوگوں کو روزگار فراہم کیا جائے۔یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں ڈیجیٹلا ئزیشن ایک اہم کردار ادا کرتی ہے اور ڈیجیٹلائزیشن کاموں میں شفافیت اور تیز رفتاری کا سبب بھی بنتی ہے۔ پاکستان کی سات کروڑ سے زائد آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے۔ لہٰذا پاکستان بھی بھارت، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش کی طرح ڈیجیٹلائزیشن کو اختیار کر کے ڈیجیٹل اکانومی کے ذریعے انقلاب لانے کا خواہاں ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن نے بنگلہ دیش، بھارت اور انڈونیشیا کی اکانومی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انڈونیشیا میں ایک دہائی قبل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ای گورننس اور آن لائن ٹیکنالوجی کا آغاز ہوا اور اب ڈیجیٹل اکانومی میں انڈونیشیا کی سرمایہ کاری پانچ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس سے انڈونیشیا کی معیشت بہت مستحکم ہوئی۔ بنگلہ دیش نے گزشتہ چند برسوں میں اپنی معیشت اور روزمرہ کاموں کو ڈیجیٹلائز کرنے کو خاص اہمیت دی۔ اسکے نتیجے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے فری لانسنگ ایک مقبول پیشے کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، جس سے بنگلہ دیش میں آمدنی کے نئے ذرائع پیدا ہوئے اور روزگار میں اضافہ ہوا۔

انڈویشیا، بھارت اور بنگلہ یش اس وقت دنیا میں آوٹ سورسنگ فراہم کرنے والے بڑے ممالک بن چکے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کے ڈیجیٹل پاکستان منصوبے کی سربراہی گوگل میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والی تانیہ ایدروس کریں گی، جو کہ گوگل کمپنی میں سینئر ایگزیکٹو کے عہدے سے استعفیٰ دے کر پاکستان آئی ہیں۔ اس سے قبل تانیہ ایدروس گوگل سنگاپور کے ’نیکسٹ بلین یوزرز پروگرام‘ کی سربراہ رہ چکی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ تانیہ گوگل میں کام کرتی تھیں اور وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ کتنے پیسے کما رہی تھیں لیکن انھوں نے گوگل کو چھوڑنے کا مشکل فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے انکے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ وقت ثابت کرے گا کہ آج جو فیصلہ انھوں نے کیا ہے وہ ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔ تانیہ ایدروس کے مطابق انھیں پاکستان چھوڑے ہوئے 20 برس ہوگئے ہیں۔ میں نے اپنی تعلیم ایم آئی ٹی سے حاصل کی ہے۔ مجھے جب ایم آئی ٹی کے پلیٹ فارم سے موقع ملا تومیںنے پاکستان پر ایک کیس سٹڈی بھی کی تھی۔ سات برس پہلے مجھے گوگل کی جانب سے پاکستان بزنس یعنی گوگل کی پاکستان میں پروڈکٹس لانچ کرنے کا موقع ملا تو میں امریکہ سے سنگاپور چلی گئیں۔ یہ سب کرتے ہوئے مجھے احساس ہوتا تھا کہ میں پاکستان کے لیے جو کر رہی ہیں وہ کافی نہیں ہے۔

میرے ایک جاننے والے شخص نے چھ سات ماہ قبل وزیر اعظم کو ایک ای میل بھیجی کہ اگر وہ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹائزیشن کی طرف جانا چاہ رہے ہیں تو تانیہ سے بات کریں۔ مجھے اس وقت اس ای میل کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔وزیر اعظم کی ریفارم ٹیم نے مجھ سے رابطہ کیا اور ایسے میرا جہانگیر ترین سے تعارف ہوا جنھوں نے میرے آئیڈیاز سنے اور مجھے پاکستان آنے پر راضی کیا اور پھر وزیر اعظم سمیت کابینہ کے دیگر لوگوں سے ان کی ملاقاتیں کروائیں۔ وزیراعظم عمران خان نے پہلی ملاقات میں مجھ پر ایک بات بڑی واضح کی کہ ’تانیہ مسائل کی فہرست یہاں بہت لمبی ہے لیکن تم نے گھبرانا نہیں ہے۔‘ تانیہ کا کہنا ہے کہ سب کا اعتماد دیکھ کر انھیں لگا کہ وہ پاکستان آکر اس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں۔ گذشتہ برس اس حکومت کے آنے کے بعد مجھے اعتماد ملا کہ شاید میرے جیسا بندہ واپس آ کر حکومت کے ساتھ مل کر کچھ کر سکے۔

کیونکہ مجھے اعتماد ہے کہ اس حکومت کو عام آدمی کی فکر ہے۔جو لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ میرا سیاسی ایجنڈہ کیا ہے تو میں انھیں بتانا چاہتی ہیں کہ میرا سادہ سا ایجنڈہ ہے کہ مجھے صرف پاکستان کی ترقی دیکھنی ہے۔اس پروگرام کا مقصد ڈیجیٹل ہنر مندی اور خواندگی پیدا کرنا ہے۔ ان کے بقول ’ہمیں اگر سائنس اور ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہونا ہے تو اسے کم سے کم عمر میں شروع کروانا ہوگا۔ ہمیں بچوں میں بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم عام کرنا ہوگی۔ پاکستان میں یونیورسٹی سے چار سال بعد بھی نوجوان جو نصاب پڑھ کر نکل رہے ہیں وہ دیگر دنیا کے مقابلے میں پرانا ہو چکا ہے جس کی وجہ سے وہ عالمی معیشت میں حصہ لینے کے قابل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر اس مسئلے کو ابھی سے ٹھیک نہ کیا گیا تو اس کے اثرات ہمیں دس سے بیس سال میں نظر آئیں گے۔ انھوں نے زور دیا کے نصاب کو بہتر بنائے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں۔ انھوں نے زور دیا کہ اس کے لیے ملک میں سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ نئی ٹیکنالوجی کمپنیاں کھولنے کے آسانی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم جو کہتے آئے ہیں روٹی کپڑا اور مکان اس کو تبدیل کر کے اب روٹی کپڑا مکان اور انٹرنیٹ کہنا ضروری ہے۔ اب حکومت نے اس کو ہر پاکستانی کا حق سمجھ کر آگے بڑھانا ہے۔ حکومت میں شفافیت کا سب سے آسان طریقہ حکومتی کاموں کو ڈیجیٹلا ئز کرنا ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر اس منصوبے کی کامیبابی کو مشکوک سمجھنے والوں کو مخاطب کر کے انھوں نے کہا کہ ہم سے یہ سوال نہ پوچھیں کہ پاکستان میں یہ ہو سکتا ہے یا نہیں بلکہ یہ پوچھیں کہ ہم اسے کتنا جلدی شروع کریں گے۔ترقی کی رفتار تیز کرنے میں بلاشبہ ڈیجیٹئلائزیشن کا اہم کردار ہے۔ ڈیجیٹل پروگرام کے تحت پاکستان نے ای گورننس کی جانب ایک اہم قدم بڑھایا ہے۔ ایک ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس میں کامیابی کس حد تک ملتی ہے۔ بہر حال ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ یہ پروگرام اپنے مقاصد کے حصول میں ضرور کامیاب ہو گا۔اسی کے طفیل ہماری نئی نسل جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی ملک بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے گی۔