بریکنگ نیوز: لندن یاترا راس نہ آئی۔۔۔ میاں نواز شریف کے حوالے سے آنے والی خبر نے (ن) لیگیوں کو افسردہ کردیا

لندن (ویب ڈیسک) شریف فیملی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ نواز شریف کو امریکا منتقل کیا جا سکتا ہے۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ گردن سے دماغ کو خون سپلائی کرنے والی شریان میں رکاوٹ ہے، جسکا علاج برطانیہ میں موجود نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق شریف فیملی کا کہنا ہے کہ

نواز شریف کی صحت میں ابھی تک کوئی بھی بہتری نہیں آئی ہے،ڈاکٹرز دن رات صحت کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں،پلیٹ لیٹس بڑھانے کی ادویات مسلسل استعمال کرائی جا رہی ہیں۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ گردن سے دماغ کو خون سپلائی کرنے والی شریان میں رکاوٹ ہے،شریان میں رکاوٹ دور کرنے والی ٹیکنالوجی برطانیہ میں موجود نہیں ہے ،جسکے علاج کے لیے امریکا بھی جانا پڑ سکتا ہے ۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم کے خاندانی ذرائع نے اس سے قبل کہا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف لندن میں 4 ہفتے سے زیادہ قیام کریں گے، شہباز شریف کے وکلانے طبی بنیادوں سے درخواست بنا کر ہائیکورٹ میں جمع کروانے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق نواز شریف نے طبی وجوہات پر بیرون ملک قیام میں توسیع کا فیصلہ کیا تھا، نوازشریف چار ہفتوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد بھی ملک واپس نہیں آسکتے تھے۔ برطانوی ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے طبی معائنے اور ٹیسٹ مکمل ہونے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے طبی بنیادوں پر کیس کی تیاری کیلئے اپنے وکلاءکو ہدایت کردی تھی۔ طبی صورتحال کی دستاویزات حکومت کیساتھ ہائیکورٹ میں بھی جمع کرائی جانی تھیں۔ اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ نواز شریف کا علاج برطانیہ کے بجائےامریکا میں کرایا جائیگا۔ یاد رہے کہ شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کے بڑوں کی لندن میں اہم بیٹھک ہوئی ہے جس میں پاکستان کی سیاسی صورتحال اور نئی قانون سازی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔لندن میں ایج ویئر روڈ پر ایک ریستوران میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی صدارت میں ن لیگ کے بڑوں کی اہم بیٹھک ہوئی جس میں مریم اورنگزیب، پرویز رشید، امیر مقام، احسن اقبال، خواجہ آصف ، اسحاق ڈار، رانا تنویر، ایاز صادق اور خرم دستگیر نے شرکت کی۔