بریکنگ نیوز: بابری مسجد کی جگہ پر مسجد تعمیر ہو گی یا مندر ۔۔۔۔؟ بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا ، پورے ملک میں حالات خراب ہونے کا خدشہ

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے بابری مسجد کی متنازع زمین ہندوؤں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنانا شروع کر دیا، کورٹ نے سنی،

شیعہ وقف بورڈز اور نرموہی اکھاڑے کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے خارج کر دیں اور اتفاقِ رائے سے فیصلہ سنایا۔ بھارتی عدالتِ عظمیٰ نے فیصلے میں کہا ہے کہ 1949ء میں بابری مسجد گرانا بت رکھنا غیر قانونی ہے، مسلمانوں کے بابری مسجد اندرونی حصوں میں نماز پڑھنے کے شواہد ملے ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ عدالت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مذہب یا عقیدے پر بات کرے، عبادت گاہوں سے متعلق ایکٹ تمام مذاہب کے عقیدوں کی بات کرتا ہے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ بابری مسجد کو خالی پلاٹ پر تعمیر نہیں کیا گیا، بابری مسجد کے نیچے تعمیرات موجود تھیں جو اسلامی نہیں تھیں، تاریخی شواہد کے مطابق ایودھیا رام کی جنم بھومی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ ایودھیا میں بابری مسجد اور رام مندر کے طویل تنازع کا فیصلہ آج سنایا، جس سے پہلے ایودھیا سمیت پورے بھارت میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے مندر مسجد کے اس طویل تنازع کا فیصلہ سنایا، رنجن گوگئی 17 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پانچوں ججز نے ایک ایک کر کے اپنا فیصلہ پڑھ کر سنایا، جسٹس نذیر اس بینچ میں واحد مسلمان جج ہیں۔ 6 دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا تھا، سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کی سماعت 16 اکتوبر 2019ء کو مکمل کی تھی۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس موقع پر عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔