بریکنگ نیوز: غیر ملکی فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کو بڑا جھٹکا لگ گیا ، تازہ ترین فیصلے نے پی ٹی آئی والوں کے چھکے چھڑا دیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سکروٹنی کمیٹی کے ذریعے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کے آڈٹ پر حکمراں جماعت کی جانب سے کیے گئے اعتراضات کی 4 اپیلیں مسترد کر دی گئیں جب کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا، تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمیشن سردار رضا خان کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے دونوں فریقین کو 14 اکتوبر کو اسکروٹنی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کیس کا جائزہ لینے کے لیے الیکشن کمیشن کا اجلاس 18 ماہ بعد یکم اکتوبر کو ہوا تھا۔ جس میں ان درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان سے پارٹی میں اندرونی کرپشن اور سیاسی فنڈنگ سے متعلق قوانین کے غلط استعمال پر اختلاف کے بعد پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابرکی جانب سے 2014 میں الیکشن کمیشن میں غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق کیس دائر کیا گیا تھا۔فیصلے میں کہا گیا کہ اسکروٹنی کمیٹی اپنے فرائض جاری رکھے۔ خیال رہے کہ اکبر ایس بابر کی درخواست پر اسکروٹنی کمیٹی پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات کررہی ہے اور حکمران جماعت نے کمیٹی کی کارروائی لیک کرنے سے روکنے کی درخواستیں دی تھیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے منحرف بانی رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر نے 2014ء میں الیکشن کمیشن آف پاکستان میں غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق کیس دائر کیا تھا اور الزام لگایا کہ پارٹی نے غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں پیسے اکٹھے کیے گئے۔ بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تاخیر کا شکار ہوگئی کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اکتوبر 2015ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے الیکشن کمیشن پاکستان کو روکا جائے۔ یاد رہے کہ مارچ 2018ء میں پاکستان تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔